سر ورق / کہانی / ٹوٹی کہاں کمند ۔۔ وسیم بن اشرف

ٹوٹی کہاں کمند ۔۔ وسیم بن اشرف

کہانی کے مصنف کا اجمالی خاکہ
(Peter Cheyney) پیٹر چینی ایک برطانوی سٹوری رائٹر تھے، وہ 22 فروری 1896ءکو مشرقی لندن میں پیدا ہوئے، 26 جون 1951ءکو لندن میں انتقال کر گئے، انہوں نے جرم و سزا پر بہت کچھ لکھا، طویل کہانیاں، مختصر سٹوریز اور 20 سے زائد ناول لکھے، ان کی کہانیوں کے مجموعے بھی شائع ہوئے، وہ ایک کینیڈین اخبار (گلوب) میں فیچر بھی لکھتے رہے، پیٹر چینی کے نام سے مشہور اس عظیم لکھاری کا مکمل نام (Reginald,Evelyn Peter Southouse Chyney) تھا۔ انہوں نے 1936 سے 1951ءکے دوران بہت نام کمایا، جرم و سزا پر لکھی ان کی کہانیاں اور ناول ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے تھے، سوشل میڈیا پر ان کے قریباً سبھی ناول اور کہانیوں کے مجموعے موجود ہیں، زیر نظر کہانی (ٹوٹی کہاں کمند) ان کی شاندار کہانیوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، وقت ملا تو اُردو لکھاری ڈاٹ کام کیلئے ان کی مزید کہانیوں کے تراجم بھی ارسال کروں گا۔ شکریہ…. وسیم بن اشرف

”منصوبہ بے داغ ہے ہونا چاہیے“
”کوشش پوری کی ہے“
”وہاٹ نانسنس؟ کوشش؟ یہ لفظ استعمال کرنے والوں کا حشر تمہیں بخوبی معلوم ہے‘ صرف یس یا پھر نو“
”اوہ سوری! یس آل از اوکے“
”پھر سے جائزہ لو، غلطی تم سے ہوئی ہے اور اس کا تدارک بھی تمہی نے کرنا ہے“
”اٹس اوکے! میں نے سارا ہوم ورک کر لیا، تمہارے ساتھ مشاورت کیلئے تمام ڈاکومنٹس موجود ہیں، ہم دونوں ہر پہلو کا جائزہ لے لیتے ہیں، کہیں خامی محسوس کرو تو اسے دور کرنے میں میری مدد تو کر سکتے ہو؟“
”تم نے کوئی کمی، کوتاہی، غفلت، بھول یا کوئی ایسا نکتہ یا سراغ تو نہیں چھوڑا کہ شک ہم پر جائے“
”ایسا بظاہر کچھ نہیں ہے، ایک دفعہ میرا پورا پلان سن اور سمجھ لو، جہاں محسوس کرو کہ جھول ہے وہاں مجھے گائیڈ کرو، ساتھی ہونے کے ناطے اتنا تو کر ہی سکتے ہو؟“
”ہاں کیوں نہیں؟ لیکن یہ بات ذہن نشین کر لو ہم دونوں میں سے کسی ایک پر شبہ یا پکڑے جانا دونوں کی موت اور منصوبہ سازوں کیلئے بڑا دھچکہ ہو گا“
”سو فیصد امید ہے ایسا نہیں ہو گا“ تم میرا پلان تو سنو پھر اپنی رائے دینا“
وہ ایک ویران عمارت کے تہہ خانہ میں بیٹھے تھے۔ انتہائی محتاط تھے، صرف شمع جلا رکھی تھی، دونوں نے کچھ کاغذات میز پر پھیلائے اور پھر دھیمے الفاظ میں گفتگو کرنے لگے۔
”اوکے سب ٹھیک ہے، ہمیں اپنے راستے کی ہر رکاوٹ کو دور کرنا ہے اور قیادت کے سامنے سرخرو ہونا ہے“ ہمیں ہر مشکل کا قلع قمع کرنا ہے“
”تم بے فکر رہو میرا کردار ایسا ہو گا کہ کسی کو شائبہ تک بھی نہیں ہو گا“
”تمہاری بقائ، بھلائی اور اجتماعی مفاد اسی میں ہے“
”تو ٹھیک ہے پھر کب پلان پر کام شروع کروں“
”کل سے ہی کمربستہ ہو جا¶‘ تاخیر کسی نئی مصیبت کو جنم نہ دے دے“
دونوں نے ایک بار پھر سارے پلان پر پوری حاضر دماغی سے غور و خوض کیا اور جب مطمئن ہو گئے، تو شمع کی ٹمٹماتی لو میں ان کے سرخ و سفید چہروں پر نظر آنے والا تنا¶ قدرے کم ہو گیا۔
”تو چلا جائے پھر؟“
”ہاں نکلتے ہیں“
دونوں ایک ایک کر کے نکلے، خفیہ راستوں سے ہوتے روڈ پر آ گئے اور پیدل ہی مخالف راستوں پر چل دئیے۔
٭………………..٭
کالگن نے چائے کی پیالی میز پر رکھی اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا ہی تھا کہ اس کے نائب، میک آلیور نے منہ بنا کر کہا:
”لیجئے آئی مصیبت“
کالگن نے گھوم کر دیکھا۔ دروازے میں ایک درازقد عورت کھڑی تھی۔ اس کے قیمتی لباس اور انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اچھے گھرانے کی تعلیم یافتہ عورت ہے، تاہم قدرے پریشان نظر آ رہی تھی۔ ان دونوں کو وہاں بیٹھے دیکھ کراس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نمودار ہوئی اور وہ نپے تلے قدم اٹھاتی میز کے قریب آ گئی۔
”مسٹر کالگن، میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں…. مجھے آپ کے دفتر جانا چاہیے تھا، لیکن اس خوف سے کہ میرا تعاقب کیا جا رہا ہے، میں وہاں نہیں گئی…. مجھے معلوم تھا آپ یہاں موجود ہوں گے….“
کالگن نے اس کی کانپتی ہوئی آواز سے اندازہ لگایا وہ بہت دہشت زدہ ہے اوربمشکل اپنے آپ پر قابو پائے ہوئے ہے۔
”بیٹھ جائیے، مادام“ کالگن نے تیسری کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میک آلیور گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا:
”میں چلتا ہوں، دفتر میں بیٹھوں گا“ اس نے عورت کو گھور کر دیکھا اور پیر پٹختا ہوا باہر چلا گیا۔
کالگن نے مسکراتے ہوئے کہا:
”یہ میرا شریک کار ہے، اپنی شادی کے مسئلے پر بات کرنا چاہتا تھا کہ آپ نے تشریف لا کر اس کا سارا مزہ کرکرا کر دیا“
”مسٹر کالگن، میرا کام انتہائی اہم ہے اور چونکہ آپ کی شہرت سے آگاہ ہوں، اس لئے ادھر ادھر بھٹکنے کے بجائے سیدھی آپ کے پاس چلی آئی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہیں“
کالگن نے نیا سگریٹ سلگایا ”تفصیل سے بتائیے مادام، آپ کا کام کیا ہے اور آپ اتنی خوف زدہ کس لئے ہیں؟“
عورت نے چند لمحے سوچنے کے بعد سرد آہ بھری اور رندھے ہوئے لہجے میں بولی:
”میرا نام مسز زیروس ہے۔ گزشتہ سال سیاحت کے دوران میں میری ملاقات ایک غیر ملکی شخص سے ہوئی، تعلقات بڑھے اور میں نے اس سے شادی کر لی۔ بڑی محبت ہے مجھے اس سے“۔
”معلوم ہوتا ہے اس نے آپ سے بے وفائی کی اور اب کسی اور عورت کے تعاقب میں ہے“ کالگن نے لقمہ دیا۔
”کاش! ایسا ہوتا مسٹر کالگن“ میں اپنے شوہر کی بے وفائی برداشت کرنے کےلئے تیار ہوں، لیکن یہ معاملہ تو بے وفائی سے زیادہ المناک ہے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرا شوہر جاسوس ہے اور ہمارے ملک کے فوجی راز حاصل کر کے جرمنوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہے“
کالگن نے ہاتھ سے پیالی رکھ دی۔ اس کی بھویں، تن گئیں۔
”معاملہ دلچسپ ہے“ اس نے دل میں سوچا اور کرسی پر سیدھا بیٹھ گیا۔
”یقین کیجئے، میرا آرام اور چین برباد ہو گیا ہے“ عورت نے روتے ہوئے کہا۔
”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں، کہاں جا¶ں، کس سے ذکر کروں۔ چند ماہ پیشتر میری ایک سہیلی نے آپ کے چند کارنامے سنائے تھے، اس لئے چلی آئی۔ میں آپ کو منہ مانگی فیس ادا کر دوں گی۔ خدارا مجھے اس عذاب سے نجات دلائیے“ اس کی خوبصورت نیلی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ کالگن کو متاثر ہونے میں دیر نہ لگی۔
”مادام، اگر آپ چاہتی ہیں کہ مفید نتائج برآمد ہوں، تو سب کچھ سچ سچ بتا دیجئے“
”میں کچھ بھی نہیں چھپا¶ں گی“ مسز زیروس نے رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا۔
”مجھے چھ ماہ پیشتر احساس ہوا کہ میرے شوہر کا رویہ پراسرار اور ناقابل فہم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ چپ چاپ رہتا جیسے کسی ذہنی اذیت یا غم میں مبتلا ہے۔ میں نے کئی بار اس سے اس کا سبب دریافت کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ہر بار ٹال جاتا۔ صبح ناشتہ کرتے ہی گھر سے نکلتا اور رات گئے لوٹتا۔ کبھی کبھی آدھی رات کو بستر سے اٹھ کر چپکے سے باہر چلا جاتا۔ ہٹلر کے اعلان جنگ سے چند ہفتے پہلے ایک رات کا ذکر ہے کہ وہ مجھے سویا ہوا سمجھ کر گھر سے نکلا، لیکن کھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور یہ معلوم کرنے کے لئے کہ میرا شوہر کہاں جا تا ہے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ وہ ادھر ادھر یا پیچھے دیکھے بغیر جا رہا تھا۔ آخرکار ویسٹ اینڈ کے ایک چھوٹے سے کلب میں داخل ہوا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دروازے سے لگ کر دیکھا، وہ ایک دوسرے شخص سے رازدارانہ باتیں کر رہا تھا۔ میں دوسرے آدمی کوپہچانتی تھی۔ وہ ایک غیر ملکی سفارت خانے کا ملازم تھا۔ ان دونوں کو یوں ملتے دیکھ کر فوراً یہ خیال آیا کہ میرا شوہر جاسوس ہے۔ نہ جانے وہ کب تک وہاں رہا، میں الٹے پا¶ں گھر واپس آ گئی، لیکن مجھے رات بھر نیند نہ آئی۔ میرے دل و دماغ پر دہشت طاری تھی اور کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کیا کروں۔ میں نے اپنے شوہر سے کچھ نہ کہا۔ مگر چپکے چپکے اس کی پراسرار حرکتوں اور آمدورفت پر نگاہ رکھنے لگی۔ اس دوران میں مجھے بہت سی باتیں معلوم ہوئیں۔ اگر پولیس کو جا کر بتا دیتی تو میرا شوہر یقینا جیل میں ہوتا، لیکن اس محبت کے باعث جو مجھے اپنے شوہر سے ہے، میں نے پولیس کی مدد حاصل نہیں کی، مگر اب معاملہ حد سے گزر چکا ہے“
مسز زیروس ویران نظروں سے چھت کی طرف تکنے لگی۔ کالگن خاموشی سے سگریٹ کے کش لگاتا رہا۔
”آپ کو یاد ہو گا مسٹر کالگن، گزشتہ ہفتے اخباروں میں یہ سنسنی خیز خبر شائع ہوئی تھی کہ ریجنٹ پارک میں کھڑی ہوئی ایک کار میں سے چند اہم ترین سرکاری کاغذ چرا لئے گئے ہیں۔ ان کا تعلق برطانیہ کی خفیہ سروس سے تھا۔ چوری کا سراغ لگانے میں پولیس ناکام رہی ہے، لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ پرسوں رات میں نے یہ تمام کاغذات اپنے گھر میں دیکھے۔ میرے شوہر نے اپنے کمرے میں کتابوں کی الماری کے پیچھے چرمی تھیلے میں انہیں بند کر رکھا تھا“
”پھر آپ نے کیا کیا؟“ کالگن نے پوچھا۔
”کاغذات کو دیکھتے ہی میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ شام کو جب میرا شوہر گھر آیا، تو میں نے اسے الگ لے جا کر پوچھا کہ یہ کاغذات کہاں سے آئے اور ویسٹ اینڈ کلب میں آدھی رات وہ کس سے ملنے جاتا ہے؟ میری باتیں سن کر اس کا رنگ اڑ گیا اور اس نے حسب معمول مجھے بہکانے کی کوشش کی، مگر میں نے سختی سے کہا ”دیکھو، تم مجھے بے وقوف نہ بنا¶، بے شک مجھے تم سے محبت ہے، لیکن وطن تم سے بھی پیارا ہے۔ اگر تم سچ سچ نہ بتا¶ گے تو بخدا ابھی سکاٹ لینڈ یارڈ کو فون کر دوں گی، وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور میرے پا¶ں پکڑ کر التجا کی کہ ذرا صبر کرو، میں سب کچھ بتا دوں گا۔ تم نہیں جانتیں میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ بس اتنا کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے مجھے کاغذات اور اپنے کلب والے دوست کے بار میں ایک لفظ بھی نہ بتایا۔ اس کی حالت سے میں نے اندازہ کیا کہ اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ میری حماقت دیکھیے کہ کاغذات کا تھیلا اسی کے کمرے میں رہنے دیا…. صبح بیدار ہوئی، تو وہ گھر میں نہ تھا۔ میں نے فوراً اس کے کمرے کی تلاشی لی، تھیلا غائب تھا۔ وہ اس روز گھر نہ آیا، البتہ شام کی ڈاک میں اس کے قلم سے لکھا ہوا ایک خط ملا“
مسز زیروس نے اپنا پرس کھول کر کاغذ کا ایک چھوٹا سا پرزہ نکالا اور کالگن کے سامنے رکھ دیا۔ اس پر لکھا تھا:
”تم نے دھمکی دی ہے کہ پولیس کو سب کچھ بتا دوں گی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہو گا۔ اگر تم نے پولیس کو مطلع کیا تو میں وہی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جا¶ں گا جس سے تم آگاہ ہو۔
فرانززیروس“
کالگن نے پرزہ تہہ کر کے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا اور کہا:
”اس میں لکھا ہے: میں وہی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جا¶ں گا جس سے تم آگاہ ہو: اس جملے کا کیا مطلب ہے؟“
”اس کی مراد خودکشی سے ہے“ مسز زیروس نے آنسو بہاتے ہوئے جواب دیا۔
”مجھے یقین ہے وہ اپنے آپ کو ختم کر دے گا۔ آج صبح گھر سے نکلی، تو محسوس ہوا کہ وہ میرا تعاقب کر رہا ہے۔ شاید وہ یہ معلوم کرنا چاہتا تھا میں پولیس اسٹیشن جاتی ہوں یا نہیں۔ یکایک خیال آیا کہ مجھے کسی نہ کسی طرح اپنے شوہر کا پیچھا کر کے پتہ کرنا چاہیے کہ وہ رہتا کہاں ہے: چنانچہ موقع پا کر میں ایک دکان میں گھسی اور پچھلے دروازے سے نکل کر ایک ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔ بعد میں یہ ٹیکسی اس دکان کے صدر دروازے کے سامنے دوسری طرف فٹ پاتھ پر رکوا لی۔ میرا شوہر کچھ فاصلے پر ایک کھمبے کے ساتھ کھڑا میرے باہر آنے کا منتظر تھا۔ پندرہ منٹ بعد وہ دکان کے اندر داخل ہوا، لیکن فوراً باہر آ گیا۔ اس کے مضطرب چہرے سے میں نے اندازہ کیا کہ مجھے وہاں نہ پا کر ہراساں ہے۔ اس نے ٹیکسی پکڑی، میں اپنی ٹیکسی میں اس کے پیچھے پیچھے گئی…. سینٹ جان وڈ کے علاقے میں ایک خالی اور الگ تھلگ مکان کے پاس اس نے ٹیکسی رکوائی اور دروازے پر لگا ہوا قفل کھول کر اندر چلا گیا“
”خوب! بہت خوب“ کالگن نے مسکرا کر کہا ”داستان نہایت دلچسپ ہے مسز زیروس لیکن یہ تو بتائیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں“
”میں چاہتی ہوں آپ سینٹ جان وڈ کے اس مکان میں جائیں۔ مجھے امید ہے وہ اہم سرکاری کاغذات اسی مکان میں کہیں چھپائے گئے ہیں۔ آپ انہیں وہاں سے حاصل کر کے حکومت کے حوالے کر دیں۔ اس کے بعد آپ میرے شوہر سے تمام حالات دریافت کر کے اسے غیر ملکی جاسوسوں کے پنجے سے آزاد کرانے کی کوشش کریں“
مسز زیروس نے پرس کھول کر ایک لفافہ نکالا اور کہنے لگی:
”اس میں دو سو پچاس پونڈ کے کرنسی نوٹ ہیں۔ یہ آپ کی پیشگی فیس ہے، اور یہ ہے وہ کاغذ جس پر سینٹ جان وڈ کے مکان کا پتہ لکھا ہوا ہے“ کالگن کی طرف چند لمحے خاموشی سے دیکھنے کے بعد اس نے خوشامدانہ لہجے میں کہا:
”خدا کے لئے مجھے مایوس نہ کیجئے، یہ میری زندگی اور موت کا سوال ہے“ اس کا رومال ایک بار پھر آنکھوں تک پہنچ گیا۔ کالگن نے لفافہ جیب میں رکھا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”فکر نہ کیجئے مادام، میری خدمات حاضر ہیں“
٭………………..٭
شام کے سات بجے کالگن اپنے دفتر میں داخل ہوا۔ بلیک آ¶ٹ اور کہر کے باعث اس قدر تاریکی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اس نے کوٹ اتار کر ایک طرف پھینکا، ہیٹ کھونٹی پر لٹکایا اور عادت کے مطابق دونوں ٹانگیں میز پر پھیلا کر بیٹھا ہی تھا کہ اس کی سیکرٹری کمرے میں داخل ہوئی۔
”ایک شخص آپ سے ملنے آیا ہے۔ اپنا نام زیروس بتاتا ہے اور بضد ہے کہ اسی وقت ملنا ہے“
”کالگن نے میز سے ٹانگیں ہٹا لیں اور سنبھل کر بیٹھ گیا۔ ”اسے آنے دو“
چند منٹ بعد زیروس داخل ہوا اور کالگن کی میز کے قریب آ کر چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔ وہ پست قامت آدمی تھا۔ پھولے ہوئے چہرے پر موٹے شیشوں کی عینک لگی تھی جس کے پیچھے نیلے رنگ کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں متحرک تھیں۔ جسم کے مقابلے میں اس کا سر خاصا بڑا اور وزنی تھا۔ کالگن اسے ایک نظر دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا:
”فرمائیے مسٹر زیروس، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
زیروس نے دانت پیس کر کہا ”مسٹر کالگن، آج میری بیوی آپ سے ملنے آئی تھی‘ اس نے آپ سے کیا کہا؟ کیا آپ کا تعلق پولیس سے ہے؟“
”میں پرائیویٹ سراغرساں ہوں“
”میں صرف یہ کہنے آیا ہوں کہ آپ میری بیوی کو اتنا سمجھا دیں کہ وہ اپنی سرگرمیوں سے باز آ جائے، ورنہ جو کہہ چکا ہوں، اس پر عمل کروں گا۔ سمجھے؟“
”سمجھ گیا“ کالگن نے جواب دیا۔ ”اور کچھ؟“
”بس“ زیروس نے کہا ۔”اور یہ کہ تم سراغرساں کے بجائے نرے اُلو نظر آتے ہو“
وہ جانے کے لئے مڑا ہی تھا کہ کالگن بولا ”تم نے ٹھیک کہا مسٹر زیروس، میں احمق ہوں، لیکن تم مجھ سے بھی بڑے احمق ہو“ اس نے قہقہہ لگا کر گھنٹی بجائی۔ سیکرٹری کمرے میں داخل ہوئی۔
”ایفی“ اس شریف آدمی کو باہر جانے کا راستہ دکھا¶، بیچارہ اتنے موٹے شیشوں کی عینک لگائے ہوئے ہے کہ اس بلیک آ¶ٹ میں کہیں لڑھک گیا تو ہڈی پسلی برابر ہو جائے گی، بلکہ بہتر یہ ہے کہ فون کر کے کوئی ٹیکسی منگوا لو“
”شکریہ“ زیروس نے جھلا کر کہا۔ ”باہر ٹیکسی میرا انتظار کر رہی ہے“
اس کے جاتے ہی کالگن نے ڈیسک ٹیلی فون پر اپنے نائب، میک آلیور سے کہا:
”میک، ایک شخص ابھی ابھی میرے کمرے سے باہر گیا ہے، اس نے اوورکوٹ پہن رکھا ہے۔ گلے میں سرخ رومال اور آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک ہے۔ باہر ایک ٹیکسی اس کے انتظار میں ہے، ذرا دوڑ کر اس کا نمبر تو نوٹ کر لو“
تین منٹ بعد میک آلیور کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔
”جناب، باہر کوئی ٹیکسی نہیں تھی۔ وہ شخص یہاں سے نکل کر سڑک پر پیدل ہی جا رہا تھا کہ میرے دیکھتے دیکھتے مخالف جانب سے ایک ٹیکسی آ کر رکی اور وہ اس میں بیٹھ کر چلا گیا۔ ٹیکسی مجھ سے بیس تیس گز کے فاصلے پر تھی۔ بلیک آ¶ٹ ہونے کے باعث میں اس کا نمبر نوٹ نہ کر سکا“
کالگن نے سر ہلایا ”اچھا، تو وہاں ٹیکسی موجود نہ تھی اور دوسری سمت سے بعد میں ٹیکسی پہنچی۔ خوب! لیکن تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ ٹیکسی ہی تھی“
میک آلیور، صاحب کی بے وقوفی پر ہنسا“ جناب اس کے اوپر لفظ ”ٹیکسی“ روشن حروف میں چمک رہا تھا اور جب وہ شخص گاڑی میں بیٹھ گیا، تو ٹیکسی ڈرائیور نے لفظ ”ٹیکسی“ کے روشن حروف بجھا دئیے“
”اچھا، تم دفان ہو جا¶“ اس نے سگریٹ سلگا کر پیر دوبارہ میز پر رکھ لئے اور دھوئیں کے چھلے بنانے لگا۔ یکایک اس نے اپنی نوٹ بک جیب سے نکالی، مسز زیروس کا فون نمبر تلاش کیا اور ڈائل گھمانے لگا۔ دوسری جانب گھنٹی بج رہی تھی، لیکن کسی نے ریسیور نہیں اٹھایا۔ اس نے بار بار ڈائل کیا اور پندرہ منٹ بعد جا کرکہیں کامیابی ہوئی۔
”مسز زیروس، آپ کا خاوند تھوڑی دیر پہلے میرے پاس آیا تھا۔ اس نے مجھے اور آپ کو مشورہ دیا ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھیں اور اس کے معاملے میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ آپ کا خیال صحیح ہے کہ جب آپ صبح میرے پاس آئیں، وہ آپ کا تعاقب کر رہا تھا“
”پھر کیا سوچا آپ نے؟ میں تو صبح سے سخت پریشان ہوں اور مارے خوف کے گھر سے بھی نہیں نکلی“ مسز زیروس نے گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
”آپ کی پریشانی بجا ہے، ویسے میں سوچ رہا ہوں اب ہمیں حرکت میں آ جانا چاہیے۔ آپ کا شوہر خاصا ”سخت“ آدمی معلوم ہوتا ہے۔ وہ یقینا فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہا ہے، بہرحال میں چند منٹ کے اندر اندر آپ کے پاس پہنچ رہا ہوں، پھر ہم دونوں سینٹ جان وڈ کے پراسرار مکان میں چلیں گے۔ شاید وہاں سے کچھ سراغ مل سکے۔ آپ اتنی دیر میں تیار ہو جائیے“
”بہت بہتر، میں آپ کی منتظر ہوں“
کالگن نے فون بند کر کے میک آلیور کو بلایا، اسے چند ہدایات دیں اور سیٹی بجاتا ہوا دفتر سے باہر چلا گیا۔
٭………………..٭
آٹھ بج کالگن نے اپنی کار سینٹ جان وڈ کے علاقے میں لے جا کر روک دی۔ ہر طرف دہشت ناک سناٹا اور گھپ اندھیرا تھا۔ چند لمحے آنکھیں پھا ڑ پھاڑ کر دیکھنے کے بعد اس نے چپکے سے کہا:
”مسز زیروس، میرا خیال ہے وہ سامنے والا مکان ہے جس کی سفید سفید چھت نظر آ رہی ہے۔ جاسوسوں کے لئے ایسا ماحول اور موسم بڑا مفید ہوتا ہے“
”آہ! مسٹر کالگن، ایسا نہ کہیے، میرا دل دھڑک رہا ہے“ مسز زیروس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ اس نے کار سے نکل کر کالگن کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ مکان کے گرد ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا۔ کالگن اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتا اور درختوں کو ٹٹولتا ہوا آگے بڑھا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے چھوٹی سی ٹارچ روشن کی اور جیب سے چند اوزار نکال کر قفل کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ مسز زیروس سہمی ہوئی نظروں سے یہ تماشا دیکھ رہی تھی۔ دو منٹ بعد قفل جھٹکے سے کھل گیا۔
”آئیے مسز زیروس“ کالگن نے مدھم آواز میں کہا۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک ہال کمرے میں پایا، سجے ہوئے فرنیچر پر گرد کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔ ہال کے دوسرے سر پر ایک اور کھلا دروازہ ٹارچ کی روشنی میں نظر آیا۔ کالگن دبے پا¶ں اس طرف بڑھا اور دروازے میں سے جھانکا، پھر اندر داخل ہو کر جلدی سے کھڑکیوں پر پردے کھینچ دئیے اور بجلی کا بٹن دبا دیا۔ اس کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
”مسز زیروس، یہاں آئیے“ اس نے آہستہ سے آواز دی۔ عورت ڈرتے ڈرتے کمرے میںداخل ہوئی، لیکن دوسرے ہی لمحے اس کے حلق سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکلی اور ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر بے اختیار رونے لگی۔
آتش دان کے سامنے قالین پر خون میں نہائی ہوئی زیروس کی لاش پڑی تھی۔ اس کی بائیں کنپٹی میں خاصا بڑا سوراخ تھا۔ گولی دوسری جانب سے نکل گئی تھی۔ زیروس کے دائیں ہاتھ میں پستول ابھی تک موجود تھا۔ کالگن نے مسز زیروس کی طرف دیکھا اور افسوس کے کلمات کہے۔
”اُف خدایا! آخر اس نے خودکشی کر ہی لی“ عورت نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔ ”اب کیا ہو گا؟“
”آپ فکر نہ کیجیے مسز زیروس‘ نہایت سکون سے اس کرسی پر بیٹھ جائیے۔ مجھے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ وہ کاغذات یہیں کہیں تو نہیں“ وہ تیزی سے کمرے کا سامان الٹنے پلٹنے لگا۔ ایک گوشے میں پڑے ہوئے پلنگ کا گدا اٹھاتے ہی چرمی تھیلا نظر آیا۔ اس میں کاغذات موجود تھے۔
”کاغذات تو مل گئے“ کالگن نے کہا ”سوال یہ ہے کہ ان کا کیا کیا جائے“
”آپ یہ کاغذات گورنمنٹ کے حوالے کر کے اسے تمام واقعات سے آگاہ کر دیجئے“ مسز زیروس نے مشورہ دیا۔ کالگن نے آتش دان کے قریب کھڑے ہو کر سگریٹ سلگایا اور پرمعنی انداز میں لاش کی طرف تکنے لگا۔ چند لمحے بعد بیرونی ہال کی طرف سے قدموں کی آواز آئی۔ میک آلیور کمرے میں داخل ہوا۔ کالگن نے پوچھا:
”اسے پکڑ لیا گیا؟“
”جی ہاں، پولیس والے اسے سکاٹ لینڈ یارڈ میں لے گئے ہیں“ مسز زیروس کی آنکھیں پھیل گئیں، اس نے کہا:
”میں سمجھی نہیں مسٹر کالگن، کون پکڑا گیا؟ مجھے تفصیل سے بتائیے“
کالگن نے ہنستے ہوئے کہا ”مسز زیروس، تم خوب جانتی ہو کون پکڑا گیا ہو گا۔ میں تمہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں۔ آج تک تم جیسی باکمال ایکٹریس میری نظروں سے نہیں گزری۔ تم نے نہایت چالاکی سے اصل واقعات کو الٹ کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کی، مگر مات کھا گئیں۔ یہ تمہارا بدنصیب خاوند جو مرا پڑا ہے، جاسوس نہیں ہے، بلکہ جاسوس تم اور تمہارا وہ غیر ملکی دوست ہے جسے پولیس پکڑ کر لے جا چکی ہے۔ تم دونوں نے کاغذات چرائے اور اتفاق سے تمہارے شوہر کو ان کا پتہ چل گیا۔ اس نے تمہیں سمجھایا کہ یہ کاغذات فوراً گورنمنٹ کو واپس کر دو، ورنہ وہ پولیس کو اطلاع دے دے گا۔ خاوند کے اس روئیے پر تم عجب مشکل میں پھنس گئیں۔ اس سے نمٹنے کے لئے تم نے بہت اچھا منصوبہ تیار کیا۔ تم جانتی تھیں کہ تمہارا شوہر تم سے محبت کرتا ہے اور وہ کبھی پولیس کو اطلاع نہیں دے گا۔ تم نے اسے دھمکایا کہ اگر وہ پولیس کے پاس گیا تو تم کہہ دو گی یہ کاغذات خود اسی شخص نے چرائے ہیں۔ کیونکہ یہ غیر ملکی ہے۔ پولیس والے تمہارے مقابلے میں غیر ملکی شخص کی بات نہ مانتے، تم نے اپنے شوہر کو یہاں تک ڈرایا کہ تم مجھ سے مل کر مشورہ طلب کرو گی چنانچہ تم میرے دفتر آئیں اور تمہارے شوہر نے تعاقب کیا۔ تم یہ بھی جانتی تھیں کہ وہ بھی میرے دفتر میں آ کر مجھ سے مل سکتا ہے، اس لئے کہ اگر وہ واقعی جاسوس ہوتا تو اتنی احمقانہ حرکت کبھی نہ کرتا۔ تم نے مجھے اپنے شوہر کے ہاتھ کا لکھا ہوا وہ پرزہ بھی دکھایا جس میں بقول تمہارے ”خودکشی“ کی دھمکی دی گئی تھی، حالانکہ اس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ ثابت کر سکتا ہے کاغذات تم نے چرائے ہیں۔ تم اپنے شوہر کی اس کمزوری سے آگاہ تھیں، اس کی نظر بے حد کمزور ہے اور اس بلیک آ¶ٹ میں جب وہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے گا تو ٹیکسی کو باہر رکنے کے لئے ضرور کہے گا۔ تم میرے دفتر کے آس پاس گھومتی رہیں اور جب وہ ٹیکسی سے اتر کر میرے دفتر میں آیا، تو تم نے وہ ٹیکسی کرایہ دے کر رخصت کر دی۔ وہ مجھ سے مل کر باہر نکلا تو ٹیکسی غائب تھی۔ وہ کسی اور ٹیکسی کی تلاش میں پیدل چل پڑا۔ یکایک سامنے سے ایک ٹیکسی آ کر اس کے قریب رک گئی۔ اس کی کمزور نظر کا خیال کرتے ہوئے بلیک آ¶ٹ کے باوجود ٹیکسی کا نشان روشن کر دیا گیا۔ چنانچہ وہ بے جھجک اس ٹیکسی میں ببٹھ گیا۔ اس کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے Taxi کے حروف بجھا دئیے۔ بے چارے زیروس کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ تم ٹیکسی کے اندر پستول لئے بیٹھی تھیں اور تمہارا غیر ملکی دوست گاڑی چلا رہا تھا۔ تم نے اپنے شوہر کی کنپٹی میں گولی مار دی اور پھر فوراً گھر چلی گئیں اور تمہارا دوست لاش کو ”خودکشی“ کی صورت دے کر اس مکان میں چھوڑ گیا۔ البتہ اس نے ایک بات پر غور نہ کیا کہ کوئی شخص خودکشی کرنے کے لئے اتنا تردد نہیں کرتا کہ دائیں ہاتھ میں پستول لے کر اپنی بائیں کنپٹی کو نشانہ بنائے۔ تم نے سوچا میں اس مکان میں ضرور آ¶ں گا اور تمہارے شوہر کی لاش دیکھتے ہی فوراً سمجھ جا¶ں گا کہ اس نے ”خودکشی“ کر لی ہے، پھر یہیں سے مجھے وہ کاغذات بھی مل جائیں گے جنہیں لے کر میں سکاٹ لینڈ یارڈ جا¶ں گا اور زیروس پر جاسوسی کا الزام دھرتے ہوئے انہیں اطلاع دوں گا کہ اس نے اپنے آپ کو گولی ماری ہے، کیونکہ اس کی بیوی نے اپنے ملک سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک پرائیویٹ سراغ رساں کو کاغذات حاصل کرنے کے کام پر لگا دیا تھا، چنانچہ حکومت تمہاری بے حد شکرگزار ہو گی۔ تم اور تمہارا دوست بعدازاں اطمینان سے دشمنوں کے لئے جاسوسی کے فرائض انجام دیتے رہتے اور کسی کو تم جیسی محب وطن خاتون پر شک نہ گزرتا۔ اور ہاں، ایک بات اور ہے۔ تم نے فون پر بتایا تھا کہ مارے خوف کے آج دن بھر گھر سے نہ نکلیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ میں ٹیلی فون کرتا رہا اور پندرہ منٹ تک کسی نے ریسیور نہ اٹھایا۔ غالباً یہ وہی وقت تھا جب تم بے گناہ شوہر کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فرض ادا کر رہی تھیں“
مسز زیروس مسکرائی۔ اب وہ بالکل پرسکون تھی“ مسٹر کالگن، آپ نے جو تھیوری بیان کی، وہ بڑی دلچسپ ہے، لیکن کاغذات چرانے کے بعد انہیں دوبارہ یہیں چھوڑ کر اصل مالکوں کے حوالے کر دینے والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟“
کالگن نے قہقہہ لگایا: ”مسز زیروس، میں اتنا بے وقوف نہیں جتنا صورت شکل سے نظر آتا ہوں“ وہ میک آلیور سے مخاطب ہوا: ”میرا خیال ہے پولیس نے ان کاغذات کی فوٹو کاپیاں اس شخص سے برآمد کر لی ہوں گی؟“
میک نے اثبات میں سر ہلایا۔ مسز زیروس اٹھ کھڑی ہوئی:
”تم جیت گئے مسٹر کالگن۔ اور اب میں صرف اتنی درخواست کروں گی کہ مجھے میرے دوست سے ملنے کی اجازت دی جائے“
کالگن نے دوسرا قہقہہ لگایا: ”آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اسے ابھی تک پولیس نے نہیں پکڑا۔ میک آلیور نے جو کچھ بیان کیا۔ وہ تو ایک چال تھی۔ البتہ اب ہم اس کے گھر جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے وہ مجھے، آپ کو، اور پولیس والوں کو دیکھ کر خاصا خوش ہو گا۔ فوٹو کاپیاں اس کے گھر سے یقینا دستیاب ہو جائیں گی۔
٭………………..٭
رات کے نو بجے میک آلیور اور کالگن آمنے سامنے بیٹھے اس کارنامے پر تبصرہ کر رہے تھے کہ دفعتاً نائب نے کہا:
”ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ تم کہتے ہو اس مسئلے کا سارا حل لفظ ٹیکسی کے روشن حروف میں پوشیدہ تھا۔ آخر کیسے؟
”تم نرے گا¶دی ہو“ کالگن نے کہا۔ ”ارے احمق، تم نے ٹریفک پولیس کے قواعد نہیں پڑھے؟ بلیک آ¶ٹ کی راتوں میں ٹیکسیوں پر ”لفظ ٹیکسی“ روشن کرنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ تم نے خود ہی تو مجھے بتایا تھا کہ زیروس کے سامنے ایک ٹیکسی آ کر رکی اور جب وہ اس میں بیٹھا، تو ڈرائیور نے فوراً یہ لفظ بجھا دیا۔ آخر کیوں؟ محض اس لئے کہ وہ زیروس کو اس نشان سے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ بدنصیب آدمی ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے دیکھ لیتا کہ اس کی بیوی پستول لئے پچھلی سیٹ پر براجمان ہے تو اس کی جان بچ جاتی، مگر افسوس“۔
٭………………..٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے