سر ورق / افسانہ / رومال …زرّیں قمر

رومال …زرّیں قمر

اس گلی کا نام اور نمبر تو نجانے کیا تھا مگر اس کے سرے پر جو ایک شانِ بے نیازی سے ایستادہ وہ بوڑھا پیپل کا درخت تھا اسی کی مناسبت سے وہ ’پیپل والی گلی‘ کے نام سے مشہور تھی۔ سرماکی ٹھٹھرائی صبح کچھ ایسی تھی کہ پیپل کی سردشاخیں بھی گویاآفاقی کی طرح اپنے اپنے ہاتھ بغلوں میں دئیے ہوئے تھیں۔وہاں سے اس کے دفتر کا فاصلہ بمشکل پانچ منٹ کا تھا۔اپنے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھوں کو گرمائش فراہم کرنے کی کوشش میں مگن آج وہ حسبِ معمول کافی پہلے ہی گھر سے نکل آیا تھا۔خالی اور اکیلے گھر اپنے اکلوتے مکینوں کو عمومااً سی طرح وقت سے پہلے اپنی دہلیز سے باہر دھکیل دیا کرتے ہیں۔
گلی کا موڑ مڑا تو حسبِ عادت اس کی نظریں دونوں اطراف ایک ترتیب کے ساتھ جمے ہوئے تین تین چار چارمنزلہ فلیٹوں پر جم گئیں جن کی بالکونیاں پر کپڑے سوکھنے کی
ناکام سعی کر رہے تھے ۔گلی میں اِکّا دُکّا موٹر سائیکلوں کے ہارن تھے یا پھرچند پرامیدسبزی اور پھل فروش کی لہرئیے دار آوازیں ۔ آفاقی اس گلی کے آخر تک پہنچا تھا کہ آسمانی رنگ کی اس عمارت سے ایک رومال اوپر سے کٹی ہوئی پتنگ کی طرح لہراتا ہوا عین اس کے قدموں میں آ گرا۔آفاقی نے پہلے اِدھر اُدھر اور پھر اُوپر دیکھا اور جھک کر وہ رومال اٹھا لیا۔
وہ گلابی رنگ کے ریشمی کپڑے کا عجب رومال تھا جس کے ایک کونے پر نازک سا پھول ٹِکا ہوا تھاجسے دیکھ کر آفاقی کے دل میں پہلا خیال یہی آیا کہ ایسا رومال تو صرف کسی محبوب ٹائپ کی ہستی کو تحفے میں دینے کے لئے ہی موزوں تھا ۔اس نے پرانے ناول نگاروں کی کہانیوں میں رومال کے متعلق اتنا کچھ پڑھ رکھاتھا کہ رومال اس کے نزدیک صرف اور صرف محبت کا ہی استعارہ تھا۔آفاقی نے بے اختیار رومال کو سونگھا ۔ اس میں دھلائی سے پہلے کسی تیز مگر خوش گوارخوشبو کے اثرات ابھی تک خوابیدہ تھے۔ اس نے ایک بار پھراوپر نگاہ ڈالی۔ اس آسمانی عمارت کی صرف دو عدد بالکونیاں ایسی تھیں جن پر سکھانے کے لئے ڈالے گئے کپڑے موجود تھے۔ چند لمحے وہ کھڑا اندازہ لگاتا رہاکہ یہ رومال دونوں منزلوں میں سے کس فلیٹ کی بالکونی سے نیچے گرا تھا ۔ اگرچہ آئیڈیا خاصا بے تُکّا اور بے محل تھا لیکن چونکہ آفس لگنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا سو اس نے فیصلہ کیا کہ وقت گزاری کے لیے ہی سہی لیکن اس رومال کو اس کے مالک تک پہنچانے کی ایڈونچر کی جائے۔ آفاقی سیڑھیاں چڑھتا ہوا عمارت کی آخری منزل پر پہنچ گیا اور ابتدا اوپر والے فلیٹ سے کی۔ دروازے پر لگی بیل پر انگلی رکھتے ہی اس کا مترنم موہوم پیغام اسے اندر کہیں دُور سنائی دیا۔ قدموں کی چاپ کا بیرونی دروازے کی طرف سفر بھی کچھ کم مترنم اور متوازن نہ تھا اور پھرجب دروازہ کھلا تو جیسے سب کڑیاں مل گئیں۔
اس کے سامنے ایک متحیر لڑکی کھڑی تھی جس کے بالوں میں کہیں کہیں چاندی کے تار جھانکتے تھے۔وہ عمر کے اس حصے میں تھی جہاں جوانی اور بڑھاپا بغل گیر ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کے چہرے پر کپاس کے پھولوں کی سی اجلی سفیدی اور گلناروں کی سی حیا انگیز معصومیت تھی اوراس کی آنکھوں میں کئی رنگین سوال جگنوؤں کی طرح مسلسل جل بجھ رہے تھے۔بلاشبہ وہ اب بھی وہ اتنی پر کشش اورحسین ضرور تھی کہ اس کے لئے ایک عدد سرشارعمر باآسانی مختص کی جا سکتی تھی !
’’جی فرمائیے!آپ کو کس سے ملنا ہے؟ ‘‘ اس نے اپنی لمبی لمبی گھنیری پلکیں جھپکاتے ہوئے شائستہ لہجے میں پوچھا۔
’’نجانے مجھے کس سے ملنا ہے۔۔۔ اجنبی ہوتے ہوئے مجھے یوں منہ اٹھا کرآپ کے دروازے کی گھنٹی بجانا چاہیئے تھی یا نہیں۔۔۔دراصل نیچے آپ کے فلیٹ کے عین نیچے یہ خوبصورت رومال میرے قدموں میں آ گرا۔۔۔بغیر سوچے سمجھے اس کے مالک تک اسے پہنچانے کے لئے اندازے کی بنیاد پر اوپر چلا آیا۔۔۔کیایہ رومال آپ کا ہے؟ ‘‘ آفاقی نے رومال اس کے سامنے لہراتے ہوئے پوچھا۔
’’جی۔۔۔جی ہاں۔۔۔یہ میرا ہی رومال ہے۔۔۔ میں نے کل رات اسے دھو کر سوکھنے کے لیے بالکونی کی دیوارپر ڈالاتھا ۔۔۔شاید ہوا سے اُڑ کر نیچے گر گیا ہوگا!‘‘ لڑکی کے انداز میں جھجھک اور آنکھوں میں بے یقینی کی عجیب ملی جلی سی کیفیت تھی لیکن آفاقی کواس کی گہری سیاہ آنکھوں سے مزین حیرت کدہ بہتاچھا لگ رہا تھا ۔
’’اندر آ جائیے پلیز ۔‘‘ لڑکی نے پیچھے ہٹ کر دروازہ پورا کھول دیا توآفاقی ایک لمحے کے لئے تو اس اچانک اور غیر متوقع آفر پر گڑبڑا گیا لیکن اگلے ہی لمحے وہ سب کچھ جھٹک کر اندر داخل ہو گیا۔وہ دو کمروں کا بہت صاف ستھرا اور بے حد نفاست سے سجا ہوا فلیٹ تھا۔کمرے کے رنگ کے ساتھ میچ کرتا ہوا صوفہ سیٹ ، ایک جانب دھرا ہوا دیوان، درمیان میں ایک خوشنما سی میز اور ایک جانب چھوٹا سا شوکیس تھا جس میں سجاوٹ کی کئی اشیاء بہت ترتیب کے ساتھ سجائی گئی تھیں۔
’’مجھے رومال بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔ان میں عجیب سی رومانوی کشش محسوس ہوتی ہے۔۔۔یہ خوشنما رومال آپ نے یقیناً بہت محنت سے بنایا ہو گا۔۔۔یا پھر شایدکسی کا تحفہ ہے؟ ‘‘ آفاقی نے اس کے چہرے کا بغورجائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں یہ ایک سہیلی نے مجھے دیا تھا ۔۔۔ ویسے بھی اس سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ کہ میری اتنی قیمتی چیز مجھ تک پہنچائی ۔۔۔ ورنہ کوئی قیمتی شے گم ہو جائے تو وہ ملتی ہی کہاں ہے۔۔۔اچھا چھوڑئیے یہ بتائیں آپ چائے پینا پسند کریں گے یا کافی؟‘‘ لڑکی نے دھیرے سے بات بدل دی۔
’’ارے نہیں نہیں۔۔۔آپ چائے کاتکلف مت کیجئے ۔۔۔میرا فرض پورا ہوا سومَیں اب اجازت ۔۔۔!‘‘ لیکن لڑکی نے اس کی بات مکمل ہی نہ ہونے دی۔
’ ’اتنی سی تو ہوتی ہے چائے کی ایک پیالی۔۔۔ڈیڑھ منٹ میں بن جاتی ہے اور ڈیڑھ ہی منٹ میں ختم ہو جاتی ہے۔۔۔آپ نے اتنی مہربانی کی ہے تو تین منٹ اور سہی۔۔۔اسی بہانے کسی حد تک آپ کا شکریہ بھی ادا ہوجائے گا!‘‘ اس سے پہلے کہ آفاقی کچھ مزید معترض ہوتا وہ جھٹ سے گئی اور واقعی جھٹ پٹ میں چائے کے دو کپ تھامے چلی آئی۔
’’ آپ نے اپنا نام تو بتایا ہی نہیں ؟‘‘ اس نے چائے کا کپ آفاقی کو تھماتے ہوئے پوچھا۔
’’مجھے آفاقی کہتے ہیں۔۔۔یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک پرائیویٹ فرم ہے اس میں کام کرتا ہوں۔۔۔آفس ایڈمنسٹریٹر ہوں۔‘‘ آفاقی نے چائے کے گرد لپٹی اس کی سفیدنازک انگلیوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’آپ یہاں کہیں پاس رہتے ہیں؟ ‘‘ سائرہ نے چائے کا سِپ بھرتے ہوئے پوچھا۔
’’جی آپ کی پچھلی گلی میں رہتا ہوں ۔۔۔ کونے والے مکان میں! ‘‘ آفاقی نے اپنی گھڑی کی طرف ایک نظر دوڑاتے ہوئے جواب دیا۔ ابھی بھی آفس لگنے میں خاصا وقت باقی تھا۔
’’کمال ہے اتنے قریب رہتے ہیں اور آپ کو آج تک نہ دیکھا۔‘‘ سائرہ نے ایک دلفریب مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی۔
’’دراصل میں اس گلی سے کم ہی گزرتا ہوں ۔۔۔اپنے گھر سے بازار کی سمت نکل جاتا ہوں۔۔۔آپ کی گلی سے دفتر کا فاصلہ کچھ زیادہ ہو جاتا ہے۔۔۔ آج گھر سے جلدی نکل آیا تھا اس لیے سوچا کہ ادھر سے ہی چلا جاؤں۔‘‘ آفا قی نے تفصیل بتائی ۔
’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو بار باراپنی رِسٹ واچ کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔جب سے اندر آئے ہیں آپ تین بار وقت دیکھ چکے ہیں۔‘‘ آفاقی حیرت زدہ رہ گیا کیونکہ اس کا مشاہدہ بالکل درست تھا۔
’’اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا مَیں آپ سے آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟۔۔۔گھر میں کوئی اور نظر نہیں آرہا۔۔۔کیا آپ یہاں تنہا رہتی ہیں؟ ‘‘ آفاقی نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔
’’میرا نام سائرہ ہے۔۔۔اور آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔۔۔مَیں اس گھر میں تنہا رہتی ہوں!‘‘ وہ اپنی بے ساختہ ابھرنے والی پھیکی سی مسکراہٹ میں تصنع کی مٹھاس بھرنے میں ناکام رہی۔ اس کا جواب سنتے ہی آفاقی کو اچانک اپنا اس طرح کسی لڑکی کے گھر میں تنہا بیٹھ کر چائے پینا معیوب لگنے لگا۔
’’اوہو۔۔۔پھر تو مجھے اس طرح مخل نہیں ہونا چاہیئے تھا۔۔۔لیکن کیا مَیں پوچھ سکتا ہوں آپ تنہا کیوں رہتی ہیں؟۔۔۔ اتنے بڑے شہر میں ایک لڑکی کا تنہا رہنا آسان نہیں!‘‘ آفاقی نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے پوچھ ہی بیٹھا۔
’’آفاقی صاحب!جس کا کوئی نہ ہو وہ تنہا ہی رہتا ہے۔ ‘‘ سائرہ کے لہجے میں کرب اترتا محسوس کر کے آفاقی کا دل اور آنکھیں دونوں کڑوے دھوئیں سے بھر گئے۔
’’سوری۔۔۔ لیکن آپ کے امی ابو۔۔۔بہن بھائی ۔۔۔اگر شادی شدہ ہیں توکوئی فیملی؟ ‘‘ نجانے کیوںآفاقی کے لئے باقی ماندہ چائے اندر انڈیلنا محال ہوگیا تھا۔
’چند برس پہلے میرے والدین کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ انتقال ہو گیا تھا۔۔۔میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔۔۔بہت چھوٹی تھی جب میرے ابو مجھے اور میری امی کو گاؤں سے یہاں لے آئے تھے ۔۔۔یہاں انھوں نے محنت مزدوری کی ، کچھ رقم جمع کی اور سر چھپانے کو یہ فلیٹ خرید لیا اور اب ان کے بعدیہی میرا سائبان اوریہی میری کُل پونجی ہے۔۔۔ رہا آپ کا دوسرا سوال تو جب میری شادی ہی نہیں ہوئی تو فیملی کہاں سے آئے گی۔۔۔ایک بینک میں کیشئر ہوں اور آج کل ایک ہفتے کی چھٹی پر ہوں!‘‘ اس نے مختصراً اپنا حدودو اربعہ آفاقی کوبتا ڈالا۔
’’اوہو۔۔۔آپ کے والدین کے متعلق جان کر بہت افسوس ہوا۔۔۔شہر میںآپ کا کوئی اور رشتہ دار؟ ‘‘
’’جی نہیں ۔۔۔ اگر ہوں گے بھی تو مجھے نہیں معلوم ۔۔۔میں نے بتایا نا ں کہ میں جب گاؤں سے آئی تھی تو بہت چھوٹی تھی۔۔۔ امی ابو کو کبھی گاؤں میں کسی سے رابطہ کرتے نہیں دیکھاسومیں کسی رشتہ دار سے واقف نہیں۔ ‘‘ سائرہ نے دکھی لہجے میں کہا۔
’’تنہائی سوائے خدا کے کسی کو نہیں جچتی۔۔۔آپ نے کبھی شادی کے متعلق نہیں سوچا؟۔۔۔اچھا جیون ساتھی مل جائے تومیرے خیال میں تنہائی کا شادی سے بہتر علاج کرۂ ارض پر موجود نہیں !‘‘ آفاقی نے معنی خیز انداز میں کہا اور سائرہ شاید سمجھ گئی سو ایک بے ساختہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر تمتمانے لگی۔
’’جی آپ درست کہتے ہیں۔۔۔آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں؟ ‘‘ اس نے بات بدلی۔
’’مجھے ملا کر چار۔۔۔دو شادی شدہ بڑی بہنیں ہیں ۔۔۔ایک بڑابھائی جن کی شادی ہو چکی اورمیری امی ان ہی کے ساتھ رہتی ہیں۔۔۔والد صاحب کا انتقال ہو چکا۔۔۔میں سب سے چھوٹاہوں اور آپ کی طرح مَیں بھی تنہا ہی رہتا ہوں!‘
’پھر تو یہ سوال پوچھنا میرا بھی حق بنتا ہے کہ آپ کیوں تنہا ہیں اور آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟‘ سائرہ نے مسکرا کرمشکل ترین سوال داغ دیا۔
’’خوب گھیرا آپ نے۔۔۔دراصل ابھی تک کوئی ایسی ملی ہی نہیں تھی جس کی وجہ سے شادی کا سوچتا۔۔۔امی بھائی اور بہنیں ہر وقت گھر بسانے کا کہتی رہتی ہیں۔۔۔لیکن لگتا ہے اب سوچنا پڑے گا!‘ نہ چاہتے ہوئے بھی آفاقی کے منہ سے دل کی بات بے ساختہ نکل ہی گئی ۔یہ سن کرسائرہ کے اجلے چہرے پر گلابی سحر پھیلتے دیکھ کر آفاقی کومزید کسی تصدیق یا تفصیل کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اس پہلی اتفاقیہ ملاقات کے دسویں منٹ میں ہی یہ لڑکی آفاقی کے دل کو اس قدربھا گئی تھی کہ اس نے دل میں ایک مصمم ارادہ باندھ لیا تھا کہ آج کے بعد نہ تو وہ خود تنہا رہے گا اور نہ اسے تنہا نہیں رہنے دے گا!
’اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تواپنی امی کو آپ کے گھر بھیجوں ؟۔۔۔ مجھے یقین ہے میری امی سے مل کر آپ کوبہت خوشی ہو گی۔‘‘ یہ سوال دراصل ڈھکے چھپے لفظوں میں شادی کی باقاعدہ پروپوزل تھی۔
ایک لمحے کے لئے مرگ آسا خاموشی چھا گئی!
’’جی ضرور!‘‘سائرہ نے نظریں چراتے ہوئے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ آمادگی ظاہر کر دی۔
آسمان سے جیسے پھول گرنے لگے ۔آفاقی اس قدر خوش ہوا کہ بے اختیار اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’تو پھر مَیں اجازت چاہتا ہوں۔۔۔رومال اپنا کام کر چکا۔۔۔مجھے یقین ہے یہ رومال آپ کی بالکونی سے نہیں آسمان سے گرا تھا۔۔۔ اگلی ملاقات اس سے زیادہ خوبصورت ہوگی!!!‘ خوشی آفاقی کی گالوں سے پھوٹ رہی تھی اور وہ کچھ اور کہے بغیر کمرے سے نکل گیا۔آفاقی کے جانے کے بعد سارہ نے بالکونی سے آفاقی کو دیکھ کر دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ گلابی رومال ہلایا ۔ آفاقی اپنی خوشی دبائے جب گلی سے اوجھل ہوگیا تو سائرہ نے رومال کو مسکرا کر دیکھا، اوپر آسمان کی طرف دیکھا، اسے چُوما، سینے سے لگایا اور نفاست کے ساتھ تہہ کرتے ہوئے نیچے والی منزل کی طرف چل دی۔ اپنی منزل کے عین نیچے واقع فلیٹ کے دروازے کی بیل بجائی۔ دروازہ اداس آنکھوں والی تقریباً اس کی ہم عمرلڑکی اور اتنی ہی خوش شکل لڑکی نے کھولا۔
’’کیا ہوا شائستہ۔۔۔ خیر تو ہے؟۔۔۔ لڑکے والے تمہیں دیکھنے رات کو آئے تھے ۔۔۔کیا بنا؟‘ ‘
’’کچھ نہیں بنا۔۔۔ہر بار کی طرح اس بار بھی بات بنتے بنتے رہ گئی!‘ شائستہ کی آنکھوں ، چہرے اور لہجے سے صاف عیاں تھا کہ ا یک بار پھر اسے مسترد کر دیا گیا تھا!
’’بہت افسوس ہوا۔۔۔لیکن تم فکر نہ کرو ۔۔۔میرا ایمان ہے کہ ایک نہ ایک دن قبولیت کا گلابی رومال آسمان سے ضرور نیچے گرے گا۔۔۔دیکھ لینا تب برسوں کے انتظار کی تھکن لمحوں میں مٹ جائے گی ۔۔۔یہ لو اپنا رومال۔۔۔ہوا سے اُڑ کرتمہاری بالکونی سے گلی میں جا گرا تھا۔۔۔مجھے ملا تو اٹھا لائی!!! ‘‘

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے