سر ورق / افسانہ / سوکھی ندی اور پیار کا پودا۔ اقبال حسن آزاد

سوکھی ندی اور پیار کا پودا۔ اقبال حسن آزاد

سوکھی ندی اور پیار کا پودا
اقبال حسن آزاد
اسے اپنی بیوی سے محبت نہیں تھی مگر وہ اسے اچھی لگتی تھی۔اس کے بال کالے ،گھنے اور لمبے تھے۔پیشانی سفید اور بلند تھی۔بڑی بڑی سی بیباک آنکھیں،ستواں ناک ،بھرے بھرے سے یاقوتی لب جو پکار پکار کر کہتے آو¿ ہمیں چوس لو۔لیکن جب ان ہونٹوں سے نازیبا کلمات نکلنے لگتے تو اسے بہت برا لگتا مگر پھر بھی وہ اسے بہت اچھی لگتی تھی۔اس کی آواز میں جنسی لپک تھی اور بدن میں لوچ۔ہتھیلیاں بھری بھری نرم اور ملائم تھیں۔باہم پیوستگی کے وقت جب وہ اس کی پیٹھ سہلاتی تو اس کے سارے جسم میں برقی رو دوڑ جاتی اور جب وہ اپنی انگلیاں اس کے بالوں پر پھیرتی تو اس کی آنکھیں خود بخود بند ہو نے لگتیں۔لیکن ہر ہفتے جب وہ گھر پہنچتا تو دونوں میں لڑائی ضرور ہوتی اور اس جھگڑے کی صرف ایک ہی وجہ تھی۔نصرت کو مشترکہ خاندان میں رہنا بالکل پسند نہ تھا۔اسے یہ ہرگز گوارا نہ تھا کہ دس عدد آنکھیں ہمہ وقت اس کی نگرانی کرتی رہیں۔اسے گھٹن سی محسوس ہوتی ۔ وہ اس ماحول سے جلد از جلد نکل جانا چاہتی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں رہے ۔اپنی زندگی آپ جیے۔اپنے فیصلے خود کرے لیکن شاہد ابھی اس کے لیے تیار نہ تھا۔ وجوہات بہت ساری تھیں اور وہ نصرت کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتا رہتا تھا لیکن وہ اس کی ایک بھی سننے کو تیار نہ تھی۔
حق تو یہ ہے کہ وہ کبھی کسی کی نہ سنتی تھی۔اگر کبھی کسی نے اس کی سرزنش کی تو اس کی ناک کے نتھنے پھڑکنے لگتے تھے۔ان دنوں وہ ناک میں ایک چھوٹی سی نتھ پہنے رہتی تھی۔اس نے نتھ اترائی کے تعلق سے بہت ساری کہانیاں سن رکھی تھیں۔وہ جب اس کا تصور کرتی تو اس کے سارے جسم میں خون کی گردش تیز ہو جاتی اورحیا کی لالی اس کے گورے گورے گالوں پر یوں پھیل جاتی جیسے صبح و شام کے وقت شفق کی سرخی پھیلتی ہے۔وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑی خود کو نہارا کرتی۔ ماں کو اس کی یہ ادائیں بالکل پسند نہ تھیں۔وہ اسے ٹوکتی تو فوراً بھڑک جاتی۔ ماں چاہتی تھی کہ شادی سے قبل وہ امور خانہ داری سے واقفیت حاصل کر لے تاکہ سسرال میں اسے خفت نہ اٹھانی پڑے مگراسے ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔وہ اکلوتی تھی اور باپ نے اپنے لاڈ سے اسے بگاڑ رکھا تھا۔ وہ اس کی ہر بڑی چھوٹی خواہش کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔
اس کی تعلیم کا سلسلہ ذرا دیرسے شروع ہوا۔جب وہ لگ بھگ سات برس کی تھی تو ساٹھ برس کے مولوی ہدایت کو اسے قرآن شریف پڑھانے کے لیے رکھا گیا۔ شروع کے چند روز تو مولوی صاحب شرافت کے لبادے میں چھپے رہے لیکن پھر انہوں نے دھیرے دھیرے اپنا دست طمع دراز کرنا شروع کیا۔ اور جب وہ اس کی تندرست رانوں پر چٹکیاں لینے لگے اور اس کے گلاب جیسے گالوں کو وفور جذبات سے چومنے لگے تو اس نے یہ باتیں اپنی ماں کو بتادیں۔ ماں نے باپ کو بتایا اور باپ نے مولوی صاحب کو وہ چار چوٹ دی کہ حضرت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے وطن سدھار گئے۔
مولوی صاحب کی روانگی کے بعد اسے استانی جی کے گھر بھیجا گیا۔ استانی جی پکی عمر کی صحتمند خاتون تھیں۔ لاولد تھیںاور شوہر کے انتقال کے بعد اپنے گھر پر ہی گاو¿ں کی بچیوں کو کلام پاک پڑھایا کرتی تھیں۔ان کا بڑا سا مٹی مکان تھا ۔آنگن میں بیر اور جامن کے پیڑ تھے۔ کنارے کنارے گلاب،گل داو¿دی اور بیلا کے پودے تھے۔پورا گھر ہمہ وقت معطر رہا کرتا۔بڑے سے دالان پر ایک طرف دری بچھی ہوتی جس پر سبھی لڑکیاں ایک لائن سے بیٹھ جاتیں اور زور زور سے تلاوت کرتیں۔استانی جی ایک کرسی پر بیٹھ کر سنا کرتیں ۔جب سبق پورا ہو جاتا تو لڑکیاں ان کے گھر کاموںمیں لگ جاتیں۔ کوئی جھاڑو سنبھالتی،کوئی برتن مانجھتی،کوئی کپڑے دھوتی اور کوئی چولہا سلگاتی لیکن نصرت کوئی کام نہ کرتی۔ادھر پڑھائی ختم ہوئی اور ادھروہ یہ جا وہ جا۔استانی جی کو یہ بات بری لگتی لیکن وہ اسے کچھ نہیں کہتی تھیں کیونکہ اس کا باپ بڑا آدمی تھااور وہ انہیں اچھی خاصی رقم بھجوایا کرتا تھا۔استانی جی کے یہاں جو لڑکیاں پڑھنے کے لیے آیا کرتی تھیں ان میں سے کچھ نصرت سے عمر میں بڑی تھیں۔نصرت ان کے جسم کی گولائیوں کو غور سے دیکھا کرتی اور سوچتی کہ اس کے بدن میں ایسے نقش و نگار کب اُبھریں گے۔ یہ بڑی لڑکیاں قریب قریب بیٹھتیں اور استانی جی سے آنکھیں بچا کر خوب کھسر پسر کرتیں اور پھر دبی دبی ہنسی ہنستیں۔نصرت کا دل اپنی ہم سن لڑکیوں میں نہ لگتا تھا اور زیادہ عمر والی اسے زیادہ لفٹ نہیں دیتی تھیں۔وہ خود کو تنہا محسوس کرتی اور اپنا دل بہلانے کے لیے من ہی من میں باتیں کیا کرتی۔گاو¿ں میں جب کسی کی شادی ہوتی تو دلہن کے بالکل قریب جا کر بیٹھ جاتی اور سوچتی کہ وہ کب بڑی ہوگی اور کب اس کی شادی ہوگی۔وہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی۔ اسے اپنے آس پاس کی دنیا بالکل پسند نہ تھی۔اس نے کبھی شہر نہیں دیکھا تھا مگر شہر کے چرچے ضرور سنے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی شادی کسی شہر والے سے ہو۔اس نے اپنے تصور میں اپنے شوہر کا ایک نقشہ بھی کھینچ رکھا تھااور اکثر تنہائی میں اس تصور سے مزے مزے کی باتیں کیا کرتی۔
اس کے گاو¿ں سے ہو کر ایک چھوٹی سی پتلی کمر والی ،نازک سی ندی لہراتی بل کھاتی گذرتی تھی۔اسے ندی کنارے پیپل کی چھاو¿ں میں بیٹھ کر ندی کو دیکھتے رہنا اچھا لگتا تھا۔کبھی کبھی وہ ندی کے قریب جا کر اس کے کنارے بیٹھ جاتی اور اس سے چپکے چپکے باتیں کرتی۔
ندی رے ندی
تو کہاں سے آتی ہے
کہاں جاتی ہے
تجھے رستے میں کون کون ملا
جنگل، پہاڑ
پیڑ، پودے
بھانت بھانت کے لوگ
ندی!
تو تو بڑی سیانی ہے
بستی بستی گھومتی ہے
مجھے بھی لے چل
اپنے ساتھ
یہاں سے دور
بہت دور
ندی اس کی باتیں سن کر کھلکھلا کرہنستی۔”کل کل کل کل “اور بہتی بہتی آگے بڑھتی جاتی۔کبھی کبھی کوئی ناو¿ کنارے سے لگتی تو اس کا جی چاہتا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس پر سوار ہو جائے اور اپنے گھر، اپنے گاو¿ں سے دور کہیں دور چلی جائے۔ مگر وہ ابھی بہت چھوٹی تھی اور ایک انجان بستی میں جانے کے خیال سے ہی اسے خوف آتا تھا۔
استانی جی پاس جاتے ہوئے اسے تین سال ہو چکے تھے اور اب وہ خوب اچھی طرح سے کلام پاک کی تلاوت کر سکتی تھی۔ اس کی آ واز بہت اچھی تھی اور استانی جی اسے اس بنا پر پسند کرنے لگی تھیں۔وہ چاہتی تھیں کہ وہ اس کے پاس آتی رہے اور اس کا بھی یہ ارادہ تھا لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ جب وہ استانی جی کے یہاں سے اپنے گھر واپس ہو رہی تھی تو ایک سنسان گلی میں رحمتے قصائی کا لونڈا برکتے اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو وہ ٹھٹکی لیکن پھر ذرا کنارے ہو کر نکلنے لگی ۔برکتے پھر جھپٹ کر سامنے آگیا۔ یہ دیکھ کر اس کے نتھنے پھڑکنے لگے اور اس نے ذرا سخت لہجے میں کہا:
”یہ کیا حرکت ہے ؟ جانے دے مجھے۔“
برکتے ایک بیباک ہنسی ہنس کر کہنے لگا۔
”چلی جانا میری جان! بس ایک چمّا دے دو۔“نصرت کا پورا جسم غصے کی شدت سے کانپ اُٹھا اور اس نے برکتے کے گال پر ایک زبردست طمانچہ رسید کیا اور کہا”یہ لے۔“ ضرب اتنی شدید تھی کہ برکتے لڑکھڑا گیا۔جب تک وہ سنبھلتا نصرت اسے ایک جانب دھکیلتے ہوئی کسی ناگن کی طرح سرسراتی ہوئی گلی سے نکل گئی۔ گھر پہنچ کر جب اس نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ یہ بات ماں کو بتائی تو وہ سن سی ہو کر رہ گئی۔ شام کو جب اس کا باپ کام پر سے لوٹا اور ماں نے اسے یہ سب کچھ بتایا تو اسی لمحے فیصلہ ہو گیا۔
”یہ اب گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔“
نصرت سوچتی۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ اس نے کوئی قصور نہیں کیا۔اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ لڑکی ہے اور اس کا باپ بات بڑھانا نہیں چاہتا ہے۔اگر وہ رحمتے کے پاس جا کربرکتے کی شکایت کرتا یا برکتے کو ہی پکڑ کر دو چار ہاتھ لگا دیتا تو کہنے والے کہتے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ہے۔ یقیناً نصرت نے اسے شہہ دی ہوگی۔ لڑکی کا باپ خواہ کتنا ہی شہہ زور کیوں نہ ہو بیٹی کی عزت کا سوال آتے ہی کمزور اور بزدل بن جاتا ہے۔اس روز پہلی بار اسے لڑکی ہونے پر رونا آیا ۔کس کی سزا کس کو دی جارہی ہے؟کیا برکتے جیسوں کے لیے کوئی تادیب نہیں ہے؟؟
اب وہ تنہا گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔ استانی جی کے یہاں جانا موقوف ہو چکا تھا۔ اس کی ماں نے اسے خانہ داری کے کاموں میں لگا دیا۔ کافی دنوں تک اس پر اضحمحلال سا طاری رہا لیکن پھر دھیرے اپنی اس زندگی سے مانوس ہوتی گئی بالکل اسی طرح جس طرح پنجرے میں بند مینا ۔
اس کا مکان دو منزلہ تھا اور اوپر کے کمرے میں مشرق کی جانب کھلنے والی کھڑکی سے ندی صاف دکھائی دیتی تھی۔یہ ندی کبھی ایک سی نہیں رہتی تھی۔ گرمیوں اس کا پانی سوکھ جاتا تھا یا پھر اس میںاتنا تھوڑا پانی بچتا کہ لوگ اسے پیروں پیروں پار کر کے دوسری جانب دیارا میں چلے جایا کرتے تھے۔ لیکن برسات آتے ہی ایسا لگتا جیسے اس پر جوانی چڑھ آئی ہو۔ وہ خوب اچھلتی کودتی،گنگناتی، بل کھاتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں دکھائی دیتی۔ اسے لگتا جیسے وہ گرمیوں والی ندی ہے۔ سکڑی سمٹی، بے جان سی۔ وہ سوچتی نہ جانے اس پر ساون کب برسے گا۔اور کب وہ اسے اس گھٹے گھٹے ماحول سے نجات ملے گی۔
پتا نہیں کتنی گرمیاں بیتیں اور کتنے ساون آئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جسم ثمر دار ہو گیا ۔گھر میں اس کی شادی کے چرچے ہونے لگے اور وہ دروازے کے پیچھے سے کان لگا کر یہ ساری باتیں سنا کرتی۔اس نے اپنے تصور میں ہونے والے شوہر کا نقشہ بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ بہت ساری تصویریں آپس میں گڈ مڈ ہو جاتیں ۔وہ گھبرا کر اپنے ذہن کو جھٹک دیتی اور سوچتی عورت تو گائے ہوتی ہے۔ ماں باپ جس کھونٹے سے باندھ دیتے ہیں وہ اپنی ساری عمر اسی سے بندھ کر گزار دیتی ہے مگر اسے بات بالکل پسند نہ تھی۔وہ چاہتی تھی کہ اس کے والدین اسے جانور نہیں انسان سمجھیں۔
جب اس کا انیسواں ساون شروع ہوا تو ایک جگہ اس کی منسوب طے ہوگئی۔لڑکے کا خاندان تو کسی چھوٹے سے قصبے میں قیام پذیر تھا لیکن وہ خود شہر کے ایک بینک میں ملازم تھا۔ نصرت کو شادی سے زیادہ اس قید سے رہائی کی خوشی تھی۔ساون کا مہینہ ختم ہوتے ہی عیدآنے والی تھی اور اس ماہ کی سترہ تاریخ کو اس کا نکاح ہونا طے پایا۔ اس نے رمضان کے پورے روزے رکھے اور تین بار قرآن ختم کیا۔ ہر نماز کے بعد وہ کافی دیر تک دعائیں مانگا کرتی۔اسے یقین تھا کہ اس کی ساری دعائیں بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت حاصل کریں گی۔
اس کی شادی بڑی سادگی کے ساتھ ہوئی۔گاو¿ں میں ویسے بھی بہت تام جھام نہیں ہوتا۔ ایک کھلے میدان میں قنات باندھ دیا گیا۔ چند چوکیوں کو جوڑ کر دولہے کے لیے ایک اسٹیج بنا دیا گیا۔ دوسرے خیمے میں میز اور کرسیاں لگا دی گئیں۔ ایک غیر آباد مکان کے صحن میں کھانا تیار ہونے لگا۔نکاح کے بعد جب دولہا زنان خانے میں آیا تو نصرت نے اسے ایک عورت کی نظر سے دیکھا۔ وہ اسے پہلی ہی نظر میں پسند آ گیا تھا۔ کھلتا ہوا گندمی رنگ،بڑی بڑی روشن آنکھیں،چوڑی پیشانی، لمبا اونچا قد اور گٹھا ہوا جسم۔اور جب سہاگ رات کو وہ اس کے کشادہ سینے سے لگ کر سوئی،اس کے مضبوط بدن کو اپنی انگلیوں سے محسوس کیا، اس کے ہونٹوں کی حرارت کو اپنے ہونٹوں میں جذب کیا اور جب وہ اس میں پورا کا پورا سما گیا تو اسے اس سے محبت ہو گئی۔سوکھی ندی پر برسات ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جل تھل ہو گئی۔
موسم کبھی ایک سا نہیں رہتا۔نصرت کی زندگی بھی موسموں کی طرح تھی۔ کبھی تو خوشیوں کی بارش میں بھیگ بھیگ جاتی،کبھی سردیوں کے لحاف میں دبک جاتی اور کبھی گرمیوں کی ندی کی طرح سوکھ جاتی۔ شاہد سے اس کا رشتہ کچھ کھٹا کچھ میٹھا تھا۔جب وہ اس کے پاس بیٹھ کر اسے نہار رہا ہوتا اس وقت وہ پورا کا پورا اس کا ہوتا اور جب وہ اپنی ماں بہنوں کے ساتھ ہوتا تو اس وقت وہ اسے پرایا لگتا۔کبھی کبھی شاہد اسے کبڈی کھیلنے والے اس کھلاڑی کی طرح لگتا جس کا ایک پیر نشان کے اِس طرف ہوتا ہے اور دوسرا اُس طرف۔ایک ماں کو یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ جس بیٹے کو اس نے پیدا کیا، اپنا خون جگر پلا کر ، پال پوس کر بڑا کیا ،اسے ایک اجنبی انجان عورت اس سے چھین کر لئے جاتی ہے۔ دوسری جانب ایک بیوی کو یہ بات نا گوار گزرتی ہے کہ جس شخص کے لئے وہ اپنے ماں باپ،بھائی بہن، سکھی سہیلیوں اوراپنے پوری ماضی کو چھوڑ کرآئی ہے وہ سموچا کا سموچا اس کا نہیں ہے۔
نصرت کی زندگی میں اب صرف ایک ہی موسم بچا تھا۔برسات کی حسین رِم جھمِ اور سردیوں کی مستی بھری ٹھٹھرن کہیں گم ہو گئی تھی اور باقی بچ رہی تھیں صرف گرمیوں کی سخت دھوپ۔ اس سخت دھوپ میں چلتے چلتے وہ نڈھال ہو چکی تھی۔ کوئی شجر سایہ دار بھی راہ میں نہ تھا کہ جس کی ٹھنڈی چھاو¿ں میں پل دو پل کے لئے آرام کر لیتی۔پتا نہیں خالق کائنات نے اس کی کوکھ کو سونی کیوں رکھا تھا۔جب وہ غریبوں، مفلسوں اور ناداروں کے یہاں بچوں کی ریل پیل دیکھتی تو خدا کی اس نا انصافی پر کبیدہ خاطر ہو جاتی۔کہتے ہیں کہ کسی میلاد کی محفل میں ایک بڑے مولانا تشریف فرما تھے۔ جب شیرینی تقسیم کرنے کا وقت آیا تو صاحب خانہ نے مولانا سے عرض کیا کہ حضور! شیرینی آپ تقسیم کر دیں۔ مولانا نے ان کی بات مان لی اور پھر دریافت کیا کہ اچھا یہ بتائیں کہ انسانوں کی طرح تقسیم کروں یا خدا کی طرح۔ صاحب خانہ نے جواب دیا کہ بہتر ہوگا کہ آپ اسے خدا کی طرح ہی تقسیم کریں۔ تب حضرت مولانا نے کسی کو ایک، کسی کو دو ،کسی کو تین یا اس سے بھی زیادہ دیا اور کسی کو خالی ہاتھ لوٹا دیا۔ نصرت بھی ابھی تک خالی ہاتھ تھی۔تہی دست اور تہی دامن۔اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی کہ شاہد اسے اپنے ساتھ لے کر شہر جاتا اور کسی بڑے ڈاکٹر سے اس کا علاج کرواتا۔اس نے یہ بات کئی بار اس سے کہی بھی تھی لیکن وہ اس کی باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتا تھا۔کہتا کہ اسے بچے کچھ خاص اچھے نہیں لگتے۔ اگر ہو گئے تو ٹھیک،نہ ہوئے تو کوئی بات نہیں۔مگر ایک ڈر سا نصرت کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ کہیں اس کے سسرال والے اولاد کے لئے شاہد کی دوسری شادی نہ کر وا دیں۔ وہ ہر وقت سن گن لینے کی کوشش کرتی رہتی مگر اسے ایسی کوئی سگبگاہٹ سنائی نہ دیتی۔ وہ اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتی مگر ایک بے کلی تھی کہ اسے کسی پل چین لینے نہ دیتی تھی۔اس کی آنکھوں میں نیند اور دل میں قرار نہ تھا۔ اب وہ شدت کے ساتھ شاہد کا انتظار کر رہی تھی۔ اس بار کوئی دو ٹوک فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ اب وہ اور اس پنجرے میں رہنا نہیں چاہتی۔اسے کھلی ہوا،کھلی فضا چاہئے۔اسے ایک نئی دنیا چاہئے۔ ایک ایسی دنیا جہاں اس کے اور شاہد کے درمیان کوئی تیسرا نہ ہو۔ اور اگر کوئی تیسرا ہو بھی تو وہ صرف ان دونوں کی محبت کی نشانی ہو۔
حسب معمول سنیچر کی شام کو شاہد آن پہنچا۔اسے معلوم تھا کہ رات گیارہ بجے سے پہلے اسے شاہد سے گفتگو کرنے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ اس سے پہلے وہ اپنی ماں اور بہنوں کے درمیان گھرا رہے گا۔وہ خاموشی کے ساتھ گھر کے کاموں کو نپٹاتی رہی۔ بیچ بیچ میں وہ ایک اچٹتی سی نظر شاہد پر ڈال لیتی جس کی بھوکی نگاہیں اسے اپنے پورے جسم میں پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔خیر ! خدا خدا کر کے رات کا کھانا ختم ہوااور سبھی لوگ سونے کے لئے اُٹھ گئے تو یہ دونوں بھی اپنی خواب گاہ میں پہنچے۔جب تنہائی میسر ہوئی اور شاہد نے اس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے درشتی کے ساتھ اسے جھٹک دیا اور کروٹ بدل کر سسکیاں لینے لگی۔شاہد اس صورت حال کے لئے تیار نہ تھا۔ وہ سن سا ہو کر رہ گیا۔کیا اس کے غائبانے میں کوئی بات ہو گئی ہے؟ لڑائی جھگڑا ہوا ہے؟؟اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو کوئی تو اسے فون کر کے بتاتا۔ اور آج بھی کوئی ایسی بات نہیں ہوئی۔ سب کچھ حسب معمول ہی دکھائی دے رہا ہے۔ تو پھر آج یہ بے رخی کیسی؟
وہ کافی دیر تک اندھیرے کمرے میں نصرت کی گونجتی ہوئی سسکیاں سنتا رہا۔ وہ تو بہت مضبوط عورت تھی۔ کچھ کہنا ہوتا تو کھل کر کہہ دیا کرتی مگر کبھی روتی نہیں تھی۔ اس نے اسے کبھی آنسو بہاتے دیکھا ہی نہیں تھا۔ پھر آج کیا بات ہو گئی؟اس نے ہمت جمع کی اور نصرت کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھا۔ اس کا سارا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔
”کیا ہوا نصرت! رو کیوں رہی ہو؟“اس نے اس کے کان میں سر گوشی کی۔ نصرت نے کوئی جواب نہ دیا ،بس روتی ہی رہی۔ اس طرح کافی دیر گزر گئی۔ ان دونوں کے درمیان چپ کی ایک دبیز چادر سی تن گئی تھی۔آخر شاہد اُٹھا اور اس نے بلب جلا دیا۔ کمرے میں روشنی پھیلی تو اس نے نصرت کی جانب مُڑ کر دیکھا۔اس کی ہرنی جیسی آنکھیں سوجی ہوئی اور سرخ تھیں۔پھول جیسے گالوں آنسو شبنم کی طرح چمک رہے تھے۔یاقوتی لب دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے۔اس وقت وہ کسی سنگ تراش کے تخیل سے تراشی ہوئی ایک حسین مورت لگ رہی تھی۔اسے اس پر بے اختیار پیار آ گیا۔آج اسے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ ناری کیول سمبھوگ کی سامگری نہیں ہے بلکہ پیار کرنے کی چیز ہے۔اس کے اندر کا وحشی مرد اچانک جیسے مر گیا ہو اور اس کے دل کی زمین پرپیار کا ایک نازک سا پودا اُگ آیا ہو۔
٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے