سر ورق / افسانہ / سناٹا۔۔نشاط پروین

سناٹا۔۔نشاط پروین

سنّاٹا
نشاط پروین

انسان ابھی ہے ،ابھی نہیں ہے۔ سوچ کر کچھ عجیب سا لگتا ہے ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا آدمی بلبلہ ہے پانی کا
مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے کہ بڑی پھوپھی اب نہیں رہیں۔جنہوں نے اپنے بال بچوں کی دنیا آباد کی وہ خود اس دنیاسے منھ موڑ گئیں۔انہیں تو ابھی حج کوجانا تھا ،ا مگر وہ وہاں چلی گئیں جہاں سے لوٹ کر کوئی واپس نہیں آتا۔انسان اپنی زندگی میں کیا کیا پلان بناتا ہے ،کیسے کیسے خواب دیکھتا ہے مگر ہوتا وہی ہے جو خدا کو منظور ہے ۔اور یہ شاید خدا ہی رضا تھی کہ میں نے ان کے انتقال سے بس تھوڑی ہی دیر پہلے انہیں دیکھا تھا ۔میرے نصیب میں شاید ان کا آخری دیدار لکھا تھا۔میں اپنے شوہر کے ساتھ پوجا کی چھٹیوں میںوہاں گئی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح ان کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل گئی۔ ان کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اندر سے اتنی بیمار ہیں۔پچھلے مہینے تو ان کی حالت اتنی بگڑ گئی تھی کہ انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑ گیا تھا۔ میرے دل میں انہیں دیکھنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی مگر میں چاہ کر بھی انہیں دیکھنے نہیں جا سکی کیونکہ میرے ”اُن“ کے پاس چھٹیاں نہیں تھیں۔بس دل مسوس کر رہ گئی۔پھر خبر ملی کہ اب وہ پہلے سے بہتر ہیں اور گھر لوٹ آئی ہیں ہیں۔ دل کو یک گونہ تسلی ہوئی۔
وہ بڑی سے بڑی مصیبت کو خاطر میں نہ لاتی تھیں۔ بڑی ہمت اور حوصلے والی خاتون تھیں۔ان کی زندگی میں کئی حادثے ہوئے، کئی طوفان آئے ،ان کے خِرمن پر کئی بار بجلیاں گریں مگر ان کے چہرے پر شکن تک نہ آئی۔اگر کبھی کوئی افسوس ظاہر کرتا تو کہتیں کہ اس میں کون سی نئی بات ہے۔ دنیا تو غم اور خوشی دونوں کا نام ہے۔ دیکھو فُلان کے ساتھ ایسا ہوا ،فلاں کے ساتھ ویسا ہوا ،اگر میرے ساتھ بھی ہوا تو کیا برا ہوا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ انسان پریشانیوں کی گنتی کرنے میں تو ماہر ہے مگر خدا کی نعمتوںکا حساب بھول جاتا ہے۔
میں جب بڑی پھوپھی کی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں توآنکھوں کے سامنے ایک ایسی عورت کی تصویر آ جاتی ہے جو طوفان میں دیا جلائے کھڑی ہے۔ابھی ان کی شادی کو چند ہی سال ہوئے تھے کہ ان کے شوہر یعنی میرے پھوپھا جان ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان دنوں میں بہت چھوٹی تھی اور ساری باتوں کو ٹھیک طور سے سمجھ نہیں پاتی تھی۔ بہت سی باتیں کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ان میں کچھ سمجھ میں آتی تھیں اور کچھ نہیں ۔گاو¿ں میں ان کا سسرال ہمارے گھر کے پاس ہی تھا۔ بیوگی کے بعد وہ چند مہینوں تک گاو¿ں میں رہیں پھر اپنے بچوں کو لے شہر شفٹ کر گئیں ۔شہر میں بھی ہم لوگوں کا ایک آبائی مکان تھا جس کے ایک حصے میں ان کا فلیٹ تھا اور دوسرے حصے میں ہم لوگوں کا۔ اب ان کی زندگی کا محور و مرکز ان کے بچے تھے۔ سبھوں کی تعلیم و تربیت اور شادی بیاہ کی ذمہ داری اب ان کے سر تھی اور انہوں نے یہ ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائی۔شوہر کی قلیل پنشن اور گاو¿ں سے آنے والی محدود آمدن ہی ان کی زندگی کا سہارا تھی۔اور اتنی کم آمدنی میں بھی انہوںنے اپنے بال بچوں کی پرورش شاندار طریقے سے کی۔ اچھا کھانا عمدہ لباس اور بہترین تعلیم۔
وقت گزرتا گیا اور ننھے ننھے پودے تناور درخت میں تبدیل ہوتے گئے۔ بیٹے پڑھ لکھ کر بر سر روزگار ہوگئے اور غیر ممالک میں جا بسے۔ روپے پیسے کی ریل پیل ہونے لگی لیکن بڑی پھوپھی جیسی تھیں ویسی ہی رہیں۔پیسہ آجانے سے ان کے رہن سہن اور طور طریقوں میں کوئی فرق نہیں آیا ۔وہ پہلے بھی صابر و شاکر تھیں اور ابھی بھی وہ ہر حال میں خدا کا شکر بجا لایا کرتی تھیں۔لیکن انسان کا مصیبت اور پریشانی سے تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔بڑی بیٹی کی شادی انہوں نے بڑی دھوم دھام سے کی اور دل کے سارے ارمان نکالے۔ شادی کے ایک سال بعد جب انہوں نے نواسی کا منھ دیکھا تو خوشی سے پھولی نہ سمائیں۔ کیسی نرم و نازک سی،پیاری پیاری گڑیا تھی ان کی نواسی۔ خوب گورا رنگ،بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں،ستواں ناک اور گلابی ہونٹ۔ نواسی کی آمد نے گویا ان کے جسم میں نئی روح پھونک دی تھی اوروہ اسے ہر وقت گود میں اُٹھائے پھرتیں۔ لیکن ابھی جی بھر کے خوش بھی نہ ہو پائی تھیں کہ تقدیر کا بے رحم طمانچہ اس خاندان کے منھ پر پڑا۔ان کے داماد ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔بیٹی بیوہ اور نواسی یتیم ہو گئی۔ا ن کے چہرے پر غم کی لکیریں نمایاں ہو گئیں لیکن جلد ہی انہوں نے خود پر قابو پا لیا۔ بیٹی کی پہاڑ جیسی زندگی سامنے کھڑی تھی۔انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بیٹی کا گھر ایک بار پھر بسا دیا۔
یادیں بہت ساری ہیں۔ کچھ روشن کچھ دھندلی، کچھ کھٹی کچھ میٹھی۔انہیں قصے سنانے کا بڑا شوق تھا۔ اپنے گاو¿ں کے واقعات،خاندان بھر کی کہانیاں،عورتوں اور مردوں کے ناجائز تعلقات کے قصے۔ اور یہ سب باتیں مزے لے لے کر بیان کرتیں۔ انہیں اس وقت اس بات کا خیال نہ رہتا کہ آس پاس چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں بھی ہیں جو اُن کی باتوں کو غور سے سن رہے ہیں۔اور انہیں خیال بھی کیسے آتا کیونکہ ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے وقت ان کی نگاہیں دور کہیں خلاو¿ں میں بھٹکتی رہتیں ۔وہ سناتی جاتیں اور ہم لوگ سنتے جاتے۔افسوس کہ ماضی کی داستانیں سنانے والی آواز سدا سدا کے لیے خاموش ہو چکی ہے اور دل کے اندر سناٹا پھیلتا جا رہا ہے۔لیکن باہر والوں کے کسی کے دل میں پھیلتے ہوئے سناٹے سے کیا مطلب؟
شہر بھر میں دسہرہ کی دھوم تھی۔سڑکوں پر لوگوں کا ازدحام تھا ۔ ہم لوگ بھی شام سے اس بھیڑ کا حصہ بنے گھوم رہے تھے۔پھر ہم لوگ جب چلتے چلتے تھک گئے تب گھر جانے کے لیے مڑے۔گلی میں داخل ہونے کے بعد پہلے بڑی پھوپھی کا گھر ملتا تھا۔ ہم لوگ ان کے گھر بغیر درواز ہ کھٹکھٹائے داخل ہو گئے۔دروازہ تو غیروں کا کھٹ کھٹایا جاتا ہے،اپنوں کا نہیں۔وہ تو ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے اور میں اندر والے کمرے میں پھوپھی جان کے پاس چلی گئی۔ وہ بستر پر لیٹی تھیں۔معلوم ہوا کہ آج طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔لیکن اس حال میں بھی وہ برابر بولے جا رہی تھیں۔میں نے دیکھا کہ ان کا سینہ زور زور سے چل رہا ہے اور انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔مگر وہ اپنی تکلیف کو چہرے سے ظاہر ہونے نہیں دے رہی تھیں۔ان کی نواسی فاطمہ ان کا بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی۔اس کے چہرے کو دیکھ کر لگا کہ پھوپھی جان کا بلڈ پریشر کافی بڑھا ہوا ہے۔ مگر وہ تو مسلسل دھیرے دھیرے بولے جا رہی تھیں۔ پھر انہوں نے فاطمہ سے کہا کہ وہ خالو جان کو ناشتہ کرائے۔ ان کا اشارہ میرے شوہر کی جانب تھا۔اس وقت گھر میں ان کی بڑی بیٹی اور بہوئیں بھی موجود تھیں۔میں نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ محبت کی گرمی ان کی ہتھیلی سے پھوٹ رہی تھی۔رات کے نو بج گئے تو ہم لوگ اپنے فلیٹ پر چلے گئے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ فاطمہ کا فون آ گیا۔ اس نے بتایا کہ بڑی پھوپھی کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی ہے اور انہیں ہاسپیٹل لے جایا جا رہا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں ان کے لیے دعا مانگی اور پھر کچن میں مصروف ہو گئی۔
ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ کسی کا فون آیا۔بڑی پھوپھی گزر گئیں۔ میرے منھ سے چیخ نکل گئی اور میں گرتے پڑتے پھوپھی کے فلیٹ کی جانب دوڑ پڑی۔یہ کیسے ہو گیا؟ ابھی تھیں ابھی نہیں ہیں۔ کیا ان کی زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی؟ کیا ان کی آنکھیں سدا کے لیے بند ہو گئیں۔ دل ماننے کو تیار نہ تھا مگر حقیقت حقیقت ہے۔ ان کے فلیٹ پر کہرام مچا ہوا تھا ۔ لوگ پریشان تھے۔ یہ اچانک کیا ہو گیا؟ کیسے ہو گیا؟ہر شخص فون لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آس پاس کے لوگ اور رشتہ دار سب جمع ہونے لگے ۔مرد ہاسپیٹل کی طرف دوڑ پڑے اور ادھر میت کا انتظار ہونے لگا۔فاطمہ ان کے ساتھ رکشے پر سوار ہو کر گئی تھی۔ مرد لوگ موٹر سائیکل پر تھے۔ہاسپیٹل میں ان کے ٹیسٹ لیے گئے۔ بی پی اور بلڈ شوگر دونوں بڑھے ہوئے تھے لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ پھر انہیں ایک انجکشن لگایا گیا اور انہیں گھر واپس لے جانے کو کہا گیا۔ فاطمہ نے انہیں سنبھال رکھا تھا۔ ان کی طبیعت کچھ سنبھلی اور وہ پھر فاطمہ سے باتیں کرنے لگیں۔ شہر کی جگ مگ روشنیاں انہیں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ لیکن اچانک باتیں کرتے ان کی گردن ڈھلک گئی۔فاطمہ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔اس نے رکشے والے کو رکنے کو کہا۔ رکشے کے پیچھے پیچھے گھر کے جو لوگ موٹر سائیکل پر دھیرے دھیرے آ رہے تھے وہ بھی رک گئے۔ رکشے کو واپس اسپتال کی جانب موڑ دیا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا اور ان کے چہرے کو چادر سے ڈھک دیا گیا۔ پھر یہ اندوہناک خبر پورے میں بجلی طرح پھیل گئی۔ان کا فلیٹ آدمیوں سے بھر گیا ۔گلی بھی بھر گئی اور ہر شخص کی نگاہیں سڑک پر ٹَک گئیں۔ اسپتال میںخانہ پُری ہوئی اور ان کا تابوت رات کے ایک بجے گھر پہنچا۔آہ و بکا کی صدا بلند ہوئی اور پوری فضا پر غم و اندوہ کے بادل چھا گئے۔گھر کے لوگ تو میت کے ساتھ ساتھ فلیٹ کے اندر داخل ہو گئے۔ہر طرف چیخ پکار کی آواز بلند ہو رہی تھی مگر میرے سناٹا تھا، صر ف سناٹا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے