سر ورق / افسانہ / کٹی ہوئی انگلیاں زارا فراز

کٹی ہوئی انگلیاں زارا فراز

کمرے کے بائیں جانب کھلنے والی کھڑکی  سے چاند  جھانک   کر اندر کی ویرانی کو حیرت سے دیکھتا  پھر بادلوں کے اوٹ میں چھپ جاتا اور پھر  کچھ لمحوں کے بعد  دوبارہ جھانکنے لگتا……. اس کی ٹھنڈی روشنی اسے  بار بار  چھو رہی تھی مگر اسے اس بات کا احساس  کب تھا………… ؟

ایک مدت سے اس نے جانے کیوں اپنے جینے کے انداز ہی بدل ڈالے  تھے…..  خود کلامی چھوڑ دی…. شعر کہنا بھی چھوڑ دیا…  سب سے حیران کن  بات تو یہ تھی کہ اس نے ڈائری لکھنا بھی چھوڑ دیا تھا …….  میں سمجھتی تھی………. یہ لڑکی جینے کے چاہے جتنے طرز بدلے،  لیکن لکھنا نہیں  چھوڑے گی…  مگر میں پہلی  بار حیران تب ہوئی  جب وہ  رات کے  آخری پہر میں،  خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹے ہوئے، سست روی سے  چلتے ہوئے………….. کمرے میں  داخل ہوئی تھی ………اس وقت اس کے چہرے پر بڑی اذیت کے آثار نظر آرہے تھے۔

میں دوڑ کر اس کی جانب لپکی اور اسے تھام لیا.  وہ نڈھال سی بستر پر ڈھے گئی….. اس کی نگاہیں چھت کی دیوار پر ایک لا امتناہی نقطے کو مسلسل تلاش کر رہی تھیں……….. اس کا ذہن کہیں خیالوں میں  الجھا ہوا تھا…… . میں ہوا کی مثل…….. اس کے بکھرے  بالوں کو……… سہلاتی رہی…  میں دیکھ رہی تھی، اس کے چہرے پر کرب کے آثار بڑھتے ہی جا رہے ہیں .

وہ نڈھال سی تھی.  ایسا لگتا تھا کہ میں ایک لفظ بھی کہوں تو وہ اپنا ضبط کھو دے گی…. وہ ٹوٹ جائے  گی…………….. وہ میری گود میں سر رکھے گی اور پھر مر جائے  گی…………. مگر وہ میرے سوال  کا جواب  دے نہ پائے گی……  کیا وہ سچ مچ مر جائے  گی………. ؟

 میں نے بہت قریب سے اس کے چہرے کو دیکھا  اذیت کے آثار صاف واضح تھے…  وہ اندر  سے ٹوٹ رہی ہے………. ؟ اسے کوئی ہمدرد چاہیے، ہم راز چاہئے…….. جس سے وہ دل کی بات کہہ سکے……… لیکن وہ کسے   ہم راز بنائے؟

 ہاں…… وہ ڈائری تو لکھ سکتی ہے شاعری تو کر سکتی ہے……….. ؟  مگر اس نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا……….. ؟  شاید اس نے سوچ لیا ہے،  وہ اپنی زندگی  کی کہانی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دے گی..  اپنے جذبات و احساسات کو عیاں کرنا شاید اسے اچھا نہ لگ رہا ہو. شاید اپنی ہر کہانی اپنی ذات کی قبر میں دفن کر لینا چاہتی ہے ……  نہیں…. نہیں پھر تو وہ زندہ تابوت  بن جائے  گی…………… چلتی پھرتی  لاش…………. اپنے جسم کی میت کو خود اپنے کاندھے پر اٹھا  کر چلے گی………. وہ اتنا حوصلہ کہاں سے لائے گی……….؟ وہ  ایک دن سچ مچ مر جائے  گی……… .

اور تب میں؟  مجھے اس کمرے سے کوچ کرنا ہوگا…   یہاں دوسری ذی روحوں کا قیام ہوگا،  ہنگامہ خیز محفلیں ہوں گی…. میں ایک بار پھر دربدر ہو جاؤں گی…………….

دروازے پر آہٹ ہوئی تھی اس روز وہ    زرا جلدی لوٹی تھی میں نے اسے تھام لیا….   اس کے  چہرے پر پہلے سے بھی  زیادہ تھکن کے آثار تھے.  دکھ تھا بد حواسی تھی…………  وہ خوف زدہ تھی………  مگر کیوں……… ؟ کیا پھر زمانے کے تھپیڑوں سے  ٹکرا کر آئی ہے……؟  کیا پھر اس کے زخموں میں اضافہ ہوا  ہے….؟ کہیں اس کی انا پر ضرب تو نہیں لگی؟

میں نے سوچ لیا تھا کہ  آج پوچھوں گی کہ  سچ کیا ہے………….. ؟ اس کی زندگی کی سچائی  جان کر رہوں گی………… وہ میرے حصار میں  تھی اس کا تھکن زدہ  وجود رفتہ رفتہ نیند کے آغوش میں ڈوب رہا تھا…. وہ سو گئی تھی

سوال  میرے اندر ہی دب کر رہ گیا………………..

چاند نے  رات کا سفر طے  کر لیا تھا ..  آخری ستارہ بھی ڈوب گیا………..

رات یوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی.  یہاں تک کہ سحر کی مسحور کن کرنیں بانہوں میں بھرنے لگی…….. پھر وہ شکستہ حال سی چلتی ہوئی کمرے سے نکل گئی  ہمارا ساتھ صرف کمرے کے دروازے تک کا ہی  تھا اور پھر میں  پلٹ کر اس کمرے میں  محدود ہو گئی……………..

مشرق کی جانب اجالے کا رنگ پھیل رہا تھا میں نے کھڑکی سے باہر سڑک پر  ٹھہرے سناٹے کو دیکھا پھر سہم کر اندر  کی طرف مڑ گئی چڑیوں کی  ایک جھنڈ ابھی ابھی کھڑکی کے بالکل پاس  سے گزری تھی…………

. لوگ بیدار ہو رہے تھے……………… خاموشی کا راج ختم ہو گیا تھا شور و غل شروع……….

 مجھے شور و غل،   ہنگامے اور  اژدہام سے سخت نفرت ہے. سو  اپنے لئے ایسے ہی کمرے کا انتخاب کیا تھا ..  وہ بھی بالکل میری ہی جیسی تھی ،  خاموش سی رہنے والی ، محفلوں سے بھاگنے والی………….. اپنی ذات تک محدود رہنے والی…………. میں سوچتی ہوں  وہ ایسی کیوں ہے……….. ؟  اس نے دنیا والوں سے کنارہ  کشی کی بھی تو کیوں……… ؟  اس نے شعر کہنا کیوں چھوڑ دیا…………؟ ڈائری اب کیوں  نہیں  لکھتی………… ؟

میں نے ٹھان لیا تھا کہ سچ جان کر رہوں گی.. ..   پھر جب وہ کمرے میں بڑی سی سفید  چادر میں خود کو  سمیٹے ہوئے آئی………. تو جانے کیوں  مجھے لگا تھا  کہ اس نے خود ہی اپنے آپ کو اس چادر میں  کفن پوشی کر لی ہے………..

میں نے اس کی جانب دیکھا وہ آنکھیں موندے بے سدھ پڑی تھی…….  میں سوچنے لگی اسے میری موجودگی  کا احساس تو ہوگا……..؟ کیا وہ مجھے پہچانتی ہوگی؟  نہیں  وہ مجھے پہچانتی بھی نہیں ہوگی………… وہ تو مجھے……!!!

میں اپنی سوچوں کے  ساتھ تکرار کر رہی تھی…… جب اس نے آنکھیں کھول کر  مجھے دیکھا.  اس کی آنکھوں میں  شناسائی کی جھلک واضح تھی وہ مجھے پہچانتی ہے………… وہ مجھے جانتی ہے………. میرے اندر  خوشی کی لہر دوڑ گئی……..

 میں نے بہت ہمت جٹا کر  اس کی پیشانی پر بکھرے  بالوں کو  سنوارے……….. سوال  میرے لبوں پر  کانپ رہا تھا

"تم نے ڈائری  لکھنا کیوں چھوڑ دیا…………. ؟   شاعری کیوں چھوڑ دی……….. ؟ ” اسی لمحے اس نے ایسی نظروں سے مجھے دیکھا کہ لگا اس کی سرخ آنکھوں کے شراروں سے ایک ہی پل میں میرا وجود ختم ہو جائے گا

کمرے سے باہر  کہیں برتن گرنے کی آواز  آئی  میں سہم کر سمٹ گئی

” میری درد بھری  کہانی لکھو گی……. ؟  ”  وہ چپ تھی

”  اقرار کرو یا انکار کر دو کچھ تو بولو…….. تم چپ کیوں ہو؟ "

” انکار………؟ ” یک لخت وہ چیخ اٹھی جیسے اس نے میری آواز سن لی ہو..

” میں انکار کروں……… ؟  میری کیا بساط کہ  انکار کروں….  کبھی انکار کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک ہوا ہے…….؟ کس نے دیکھے ہیں میرے زخم……جو میں اپنے ساتھ لئے پھرتی ہوں………..؟ میں نے انکار کیا تھا ان باتوں کا،  ان رسموں کا……. جن کو میرا دل تسلیم نہیں  کرتا تھا…  میرا جرم یہ ہے کہ میں نے قلم کو دوست بنایا…….  میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنی ذات پر گزرنے والے مہیب لمحات کو ڈائری کے سپرد کرنا چاہا ……….  میں نے کائنات کے  درد کو اپنی شاعری کے پیراہن میں ڈھالنے  کا جرم کیا……….جس کی مجھے سزا دی گئی  ہے………… "

میں دکھ و حیرت  سے اسے تکتی جا رہی تھی

اچانک اس نے  چادر کے نیچے سے اپنے دونوں  ہاتھ باہر نکالے….  جسے دیکھ کر میری آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا. سمجھو چند لمحے میری سانسیں رک گئیں ……

اس کے دونوں ہاتھوں کی تمامف انگلیاں  کٹی ہوئی  تھیں……………

اس خود کلامی کے  ٹھیک تین روز بعد وہ یہ کمرا چھوڑ چکی تھی.  اس کے ہجرت کرتے ہی  اس عارضی ٹھکانے میں میرا وجود  پھیلتا گیا……!!!!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شیطان محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

پاکستانعالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 96 محمد نواز۔ کمالیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ انسان نہیں شیطان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے