سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ قسط نمبر 10 : سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ قسط نمبر 10 : سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ )قسط نمبر (10

تحریر: سید انور فراز

سال 85 ء تھا یا 86 ء ہمیں صحیح یاد نہیں، یقیناًعزیزم عمران احمد قریشی کو درست یاد ہوگا جب ادارہ نئے افق میں ایک انقلاب آیا، ادارے کے نہایت فعال رکن جناب اظہر کلیم نے علیحدگی اختیار کرلی، اس علیحدگی کی وجوہات کیا تھیں، اس کے بارے میں یقیناًادارے کے سربراہ جناب مشتاق احمد قریشی کا اپنا نقطہ ء نظر ہوسکتا ہے لیکن اظہر کلیم کا اپنا نقطہ ء نظر تھا، ان کا کہنا تھا کہ اب مجھے ادارے پر بوجھ سمجھا جارہا ہے،واضح رہے کہ وہ بحیثیت مدیر خدمات انجام دے رہے تھے، اس کے علاوہ پرچے کے لیے سلسلے وار کہانی بھی لکھ رہے تھے اور مزید طبع زاد یا ترجمہ کہانیاں بھی فراہم کرتے تھے۔

ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ اظہر کلیم دنیا بھر سے فکشن کے میگزین وغیرہ یا ناولز منگوایا کرتے تھے اور انھوں نے مترجمین کی ایک ٹیم بھی بنالی تھی جس میں محمود احمد مودی ، علیم الحق حقی، عزیز الحسن قدسی، ناصر بیگ چغتائی، سید احتشام اور بہت سے لوگ شامل تھے جن میں سے اکثر سے ہم واقف بھی نہیں ہیں، یہ کہانیاں نئے افق پبلی کیشنز اور جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن یا بعض دیگر اداروں میں زیادہ منافع بخش طور پر فروخت ہوتی تھیں، اظہر کلیم نے اس طرح بہت پیسا کمایا اور یقیناًنئے افق سے بھی وہ ہر ماہ ایک خطیر رقم حاصل کرتے ہوں گے،ان کا کہنا تھا کہ میرے بعض مخالفین قریشی صاحب کے کان بھر رہے ہیں اور انھیں یہ باور کرارہے ہیں کہ اظہر کلیم آپ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے، جو کہانیاں وہ آپ کو دے رہا ہے یہ تو بہت کم معاوضے پر دستیاب ہوسکتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

کم از کم ہم نے ان کی زبانی کچھ اسی نوعیت کی باتیں سنیں، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اب کچھ اپنا کام کرنا ہے اور اس سلسلے میں اپنا پرچا نکالنے کے لیے تیار تھے، بالآخر انھوں نے اشارہ ڈائجسٹ نکالنے کا ارادہ کرلیا لیکن اس دوران ایک نیا شگوفہ کھل گیا۔

اچانک انھوں نے داڑھی رکھ لی،لباس اور حلیہ بھی روایتی شرعی ہوگیا اور نہایت سختی کے ساتھ نماز روزے کی پابندی بھی شروع کردی، بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ وہ کسی بزرگ کے ہاتھ پر بیعت ہوچکے ہیں اور اس طرح ان کی زندگی میں ایک بڑا مذہبی و روحانی انقلاب آچکا ہے۔

اس موقع پر ایک اور شخصیت کا تعارف بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں کیوں کہ اظہر صاحب کی زندگی میں اس انقلاب کا باعث شاید وہی صاحب تھے۔

جاسوسی سسپنس ، نئے افق اور نیا رخ کے پرانے قارئین کوشاید یاد ہو کہ ان پرچوں میں ایک چھوٹا سا کوارٹر پیج کا اشتہار چھپا کرتا تھا ’’ایک بہن کا خط‘‘اس خط کے ذریعے کوئی اللہ کی ’’نیک بندی‘‘ اپنی دوسری بہنوں سے مخاطب ہوکر اپنی کسی بیماری کا ذکر کرتی تھی اور پھر کسی خاص دوا سے اپنی صحت یابی کا ماجرا بیان کرتی تھی۔

یہ اشتہار اظہر کلیم صاحب کے برادر نسبتی ڈاکٹر اعجاز الحق علوی دیا کرتے تھے اور اس کے ذریعے ان کی اچھی خاصی آمدن ہوتی تھی، معراج صاحب ایسے اشتہارات کے ہمیشہ خلاف رہے لیکن اظہر کلیم کے اثرورسوخ کی وجہ سے یہ اشتہار شائع ہوتا رہا، اعجاز الحق علوی صاحب نہایت باشرع لباس میں نظر آتے تھے،خاصی طویل داڑھی، سر پر ٹوپی، ماتھے پر نماز کا گٹّا، نہایت خوش اخلاق اور ملن سار، بعض لوگوں کا بیان یہی ہے کہ وہ کسی خاص روحانی سلسلے سے وابستہ تھے اور اظہر کلیم کو بھی اسی طرف لے گئے۔

90 ء کی دہائی کے آخر میں دو نمبر ہومیو پیتھک ڈاکٹروں نے اخباری اشتہارات کے ذریعے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور کروڑوں روپے کمائے، تمام اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات ان ڈاکٹروں کے شائع ہوتے اور طریقہ ء واردات کچھ ایسا ہی تھا کہ مختلف لوگوں کے خطوط اور ان کے جوابات شائع کیے جاتے تھے،انھیں اپنی تیارکردہ پیٹنٹ دوائیں خرید کر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا تھا اور پھر اسی خط میں یہ بھی لکھا ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب میں نے آپ کی فلاں دوا استعمال کی اور اللہ کے فضل و کرم سے اب میں بالکل صحت یاب ہوں وغیرہ وغیرہ۔

اس ساری جعل سازی کے مرکزی کردار ڈاکٹر اعجاز علوی تھے اور ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ وہ تمام بڑے اخبارات کو ماہانہ لاکھوں روپے کے اشتہارات دیا کرتے تھے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی آمدن کیا ہوگی، بعد میں کچھ اور لوگ بھی اس گروہ میں شامل ہوئے اور بعض آج تک یہی دھندا کر رہے ہیں، اب تو ٹی وی چینلز پر بھی شوگر ، بانجھ پن زنانہ و مردانہ، کینسر اور دیگر موذی اور مہلک بیماریوں کا ہومیو پیتھک علاج دریافت کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں،بہر حال اعجاز علوی کا تذکرہ اظہر کلیم کے حوالے سے ہوگیا ہے ورنہ ہمیں ان سے کیا لینا دینا۔

اظہر کلیم صاحب جس مذہبی اور روحانی انقلاب سے دوچار ہوئے تھے اس نے ان کے ڈائجسٹ نکالنے کے پروگرام کو ایک نئی الجھن میں ڈال دیا، ایک بار انھوں نے بتایا کہ جناب میں جس سلسلے سے بیعت ہوں وہاں فکشن لکھنا ، جھوٹ بولنے کے مترادف ہے لہٰذا اس پر پابندی ہے،اسی طرح پرچے کے ٹائٹل پر خوب صورت لڑکیوں کی تصویر شائع کرنے کی بھی ممانعت ہے، ہم نے عرض کیا کہ اظہر بھائی ! یہ تو آپ کے لیے بڑا مسئلہ بن جائے گا ، آپ اس مقابلے کی دوڑ میں اگر عمدہ ٹائٹل نہیں دیں گے یا کہانی لکھنا چھوڑ دیں گے تو پرچا کیسے کامیاب کرائیں گے؟

جواباً وہ مسکرائے اور یہ مسکراہٹ بڑی پراعتماد تھی، یہ بھی حقیقت ہے کہ اظہر کلیم بڑے بااعتماد، حوصلہ مند اور دلیر آدمی تھے، وہ مشکلات سے گھبرانا نہیں جانتے تھے،اپنی ابتدائی زندگی میں انھوں نے نہایت سخت دور دیکھے تھے، ان کا تعلق فیصل آباد کے کسی گاؤں سے تھا، اپنے گاؤں سے آئی ہوئی گندم پر بڑا فخر کرتے تھے،ایک بار ان کے گھر پر ہم اور مودی صاحب کھانا کھارہے تھے ، انھوں نے نہایت فخریہ بتایا کہ یہ زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس پر گندم کاشت ہوتی ہے اور ایسی گندم دنیا کی کسی زمین میں پیدا نہیں ہوتی۔

مسکراتے ہوئے انھوں نے فرمایا ’’پرچا تو نکالنا ہی ہے اور جن چیزوں سے ہمیں منع کیا گیا ہے ان سے پرہیز بھی لازم ہے،البتہ ہمارے بڑوں نے ہمیں کامیابی کی دعا دی ہے،اللہ کامیاب کرے گا۔

اشارہ ڈائجسٹ شائع ہوا اور ٹائٹل پر شاید کسی خوبصورت منظر کا نظارہ تھا لیکن افسوس کہ یہ پرچا کامیاب نہیں ہوسکا، اسی دوران میں علیم الحق حقی نے ان کا ساتھ چھوڑ ااور اپنے ساتھ عزیز الحق قدسی کو بھی اظہر کلیم کے چنگل سے نکال لائے، چنگل کا لفظ ہم نے اس لیے استعمال کیا کہ حقی صاحب کا یہی خیال تھا کہ اظہر کلیم نے ان کا بہت استحصال کیا ہے کیوں کہ انھوں نے جب پہلا خط معراج رسول صاحب کو لکھا تو اس میں کچھ ایسی ہی باتیں تھیں اور درخواست کی گئی تھی کہ میں آپ سے وابستہ ہونا چاہتا ہوں تاکہ اظہر کلیم کی زیادتیوں سے نجات ملے۔

معراج صاحب نے وہ خط ہمیں دیا اور ہم سے کہا کہ خاموشی کے ساتھ علیم سے رابطہ کریں، ان دنوں اظہر کلیم کا دفتر لیاقت آباد نمبر 4 پر واقع ارم سنیما کے برابر ایک فلیٹ میں تھا، قصہ مختصر یہ کہ علیم الحق حقی کی معراج صاحب سے ملاقات ہوئی اور وہ اظہر کلیم سے علیحدہ ہوگئے، انھوں نے جاسوسی سسپنس کے لیے لکھنا شروع کردیا ، اس بات کا علم جب اظہر کلیم کو ہوا تو وہ دفتر آئے اور معراج صاحب سے ملے لیکن ہمیں نہیں معلوم دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی ، البتہ جب وہ معراج صاحب سے مل کر ہمارے کمرے میں آئے تو انھوں نے اس واقع پر خاصی برہمی کا اظہار کیا لیکن یہ برہمی معراج صاحب کے لیے نہیں تھی بلکہ حقی پر تھی اور ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس شخص پر بڑے احسانات کیے ہیں لیکن یہ احسان فراموش نکلا وغیرہ وغیرہ، آخر میں یہ بھی کہا کہ اب معراج صاحب بہت اچھی کہانیوں سے محروم ہوجائیں گے جو میں حقی سے لکھواکر انھیں دیا کرتا تھا، یہ بات کہنے سے ان کی مراد یہ تھی کہ جو اعلیٰ درجے کا فکشن میٹر انگریزی میں ان کے پاس تھا وہ حقی کے پاس نہیں تھا مگر یہ ان کا غلط خیال تھا بعد میں حقی نے خود اپنا خاصا بڑا کتب خانہ بنالیا تھا۔

ماہنامہ اشارہ نہ چل سکا اور دوسری طرف نئے افق پبلی کیشنز میں بھی شاید اظہر کلیم کی کمی محسوس کی گئی،بقول عمران احمد قریشی کے وہ ادارے میں واپس آنے کے لیے تیار تھے لیکن عمر نے وفا نہ کی۔

ایک روز وہ دفتر آئے تو انھوں نے بتایا کہ میں ایک شادی کے سلسلے میں پنجاب جارہا ہوں،واپس آکر کچھ نئے پروگرام ذہن میں ہیں جن پرعمل کروں گا، شاید وہ نیا پروگرام نئے افق میں واپسی کا تھا، چند ہی روز گزرے تھے کہ خبر آئی ، اظہر کلیم کا انتقال ہوگیا، وہ شادی کی تقریب میں شریک تھے کہ اسی دوران ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اس دورے سے جاں بحق ہوگئے۔

اس خبر نے تمام ہی احباب کو افسردہ کردیا، ڈائجسٹ انڈسٹری کے لیے اظہر کلیم کی خدمات ناقابل فراموش تھیں، انھوں نے خود بھی بہت لکھا اور بہت اچھا لکھا، مغرب سے اعلیٰ درجے کی کہانیاں منگواکر برسوں ڈائجسٹوں کا پیٹ بھرا، بہت سے نئے لکھنے والوں کی تربیت کی،انھیں متعارف کرایا ، جہاں تک ان کے کاروباری معاملات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے ہر انسان محنت اسی لیے کرتا ہے کہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا مستقبل شاندار بنائے، وہ کراچی میں بے گھری کا عذاب بھی جھیل چکے تھے پھر انھوں نے پاپوش نگر کے قریب اپنا ذاتی مکان بھی بنایا اور بچوں کو خوش حال مستقبل دیا، افسوس یہی ہے کہ ایک نہایت ذرخیز ذہن کا مالک زبان و بیان پر عبور رکھنے والا کہانی کار بہت کم عمری میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا، ہمیں ان کی درست تاریخ پیدائش نہیں معلوم لیکن اندازہ ہے کہ انتقال کے وقت وہ چالیس بیالیس کے قریب تھے، بظاہر بہت صحت مند نظر آتے تھے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہومیو پیتھی سے بھی انھیں لگاؤ تھا اور محمود احمد مودی کو بھی ہومیوپیتھی کی طرف شاید وہی لے گئے تھے،یہاں تک کہ مودی صاحب نے باقاعدہ طور پر ہومیو پیتھی کالج میں داخلہ لیا اور پھر ڈی ایچ ایم ایس کا امتحان پاس کرکے باقاعدہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بن گئے،ایک زمانے میں انھوں نے ہومیو پیتھک پریکٹس بھی کی۔

ہومیو پیتھی کا تذکرہ ہوا ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہومیو پیتھی نے کیسے کیسے لوگوں کو متاثر کیا،گزشتہ اقساط میں احمد سعید المعروف شافع صاحب کا تذکرہ ہوچکا ہے جوجاسوسی ڈائجسٹ کے مدیر رہے ہیں، وہ بھی ہومیو پیتھی سے شغف رکھتے تھے پھر اظہر کلیم ، خان آصف، معراج رسول اور ہم خود ہومیو پیتھی کے سحر میں گرفتار ہوئے اور آج تک اس فسوں گری سے نجات نہیں ہے،ہمارے بہت عزیز دوست اور مشہور شاعر جمال احسانی کہا کرتے تھے ’’ہومیو پیتھی خود ایک متعدی مرض ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے جو ایک بار ہومیو پیتھک علاج کرالے وہ بعد میں خود ہومیو پیتھک ڈاکٹر بن جاتا ہے‘‘

عشق کا عین

علیم الحق حقی کا دفتر میں آنا جانا شروع ہوا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم سے راہ و رسم نہ ہوتی، ہمیشہ ان کے ہمراہ ہمزاد کی طرح عزیز الحسن قدسی بھی ہوتے،ایک روز وہ آفس آئے تو ہماری ٹیبل پر ’’ایسٹرولوجر‘‘رکھا ہوا تھا، یہ رفتار سیارگان کا ریکارڈ کہلاتا ہے، حقی نے دیکھا اور چونک پڑے اور بڑے اشتیاق سے کہا ’’او ہو، تو یہ شوق بھی ہے آپ کو؟‘‘

ہم نے عرض کیا ’’بہت پرانا‘‘

’’پھر تو آپ ہمارا زائچہ بھی بنائیں‘‘

’’بنادیں گے‘‘ ہم نے جواب دیا۔

واقعہ یہ تھا کہ علیم الحق حقی بھی ایسٹرولوجی سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور کچھ شدھ بدھ ان کی صحبت میں رہ کر عزیز قدسی کو بھی تھی، جب یہ موضوع چھڑا تو بات بہت دور تک چلی گئی، ہم اس وقت تک صرف یونانی علم نجوم تک جسے آج کل ویسٹرن سسٹم کہا جاتا ہے، محدود تھے ، حقی پہلے آدمی تھے جنھوں نے ہماری توجہ ویدک سسٹم کی طرف مبذول کرائی اور اس حوالے سے ایک اور نادر روزگار ہستی ڈاکٹر علیم الدین سے ملاقات بھی کرائی، وہ بھی ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے اور ان کا کلینک لیاقت آباد دس نمبر پر الکرم اسکوائر میں تھا، کلینک کا نام ’’اسٹار کلینک‘‘ تھا،اس کلینک میں حقی اور قدسی کے ساتھ اکثر نشستیں رہیں اور ڈاکٹر صاحب سے ویدک ایسٹرولوجی کے رموز و نکات سمجھنے کا موقع ملا ۔

علیم الحق حقی جب ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستہ ہوئے تو انھوں نے سسپنس اور جاسوسی کے لیے شاہکار کہانیاں لکھیں، ان کا ایک مسئلہ رہائش کا بھی تھا، معراج صاحب نے اس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ اپنا طارق روڈ کا فلیٹ ان کے سپرد کردیا، اس فلیٹ میں انھوں نے اپنا چھوٹا سا کتب خانہ بھی بنالیا تھا اور شاید اس سلسلے میں ان کی مدد ابراہیم جمالی کیا کرتے تھے، اسی فلیٹ میں ہماری پہلی ملاقات انعام راجا سے ہوئی تھی، ہم اکثر فرصت کے اوقات حقی صاحب کے ساتھ شطرنج کھیل کر ، ایسٹرولوجی پر گفتگو کرکے ، شاعری پر بات چیت کرکے گزارا کرتے، حقی عمدہ کھانوں کے بہت شوقین تھے ، ان کی منگنی اور شادی کا تذکرہ ہم پہلے کرچکے ہیں، یہ بھی بتاتے چلیں کہ حقی صاحب کی شادی لو میرج تھی اور ایسی لو میرج جس نے حقی صاحب کو برسوں آتش عشق میں جلایا تھا، گویا یہ شادی ان کے لیے زندگی کا سب سے حسین انعام تھی، ان کی محبوبہ شگفتہ کا تعلق ایک معزز گھرانے سے تھا اور وہ بہت تعلیم یافتہ ، سمجھ دار ، بااخلاق شخصیت کی حامل تھیں، شادی سے پہلے علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد میں جاب کر رہی تھیں مگر شادی کے بعد یہ جاب ختم ہوگئی، اللہ نے انھیں دو بیٹے اور ایک بیٹی کی نعمت سے نوازا۔

علیم الحق حقی بھی ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، ان کے ماموں سطوت میرٹھی شاعر تھے جو مشہور شاعر ندرت میرٹھی کے صاحب زادے تھے،حقی کے والد بہت سخت مزاج تھے، والدہ کا جلد انتقال ہوگیا تھا، علیم الحق حقی کراچی میں 21 اپریل 1950 ء کو صبح کے وقت پید اہوئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تاریخ کو مشہور شاعر جمال احسانی پیدا ہوئے، دونوں نے اپنے کرئر کی ابتدا شاعری سے کی،جمال نے شاعری نے ایک نمایاں مقام حاصل کیا لیکن علیم الحق حقی جو ’’علیم شام‘‘ کے نام سے شاعری کرتے تھے، شعری ادب میں کوئی مقام حاصل نہ کرسکے،قسمت انھیں فکشن کی طرف لے گئی۔

گریجوئشن کے بعد حقی نے جاب کے لیے بہت کوشش کی اور ایک بار وہ کسٹم میں ملازم بھی ہوگئے تھے مگر پھر یہ جاب چھوڑ دی اور بے روزگاری کا عذاب سہتے رہے، شاید اسی دوران میں ان کا رابطہ اظہر کلیم سے ہوا ہوگا اور اس طرح کہانی لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا، یہ سارے واقعات ہم سے ملاقات سے پہلے کے ہیں ، کبھی دوران گفتگو میں کوئی بات انھوں نے بتادی تو ہمارے علم میں آگئی لیکن ہم نے خود سے کبھی تفتیشی انداز میں ان کے ماضی کو کریدنے کی کوشش نہیں کی۔

شادی کے بعد ظاہر ہے کہ اخراجات میں اضافہ ہونا ہی تھا، پہلے رہائش کے بھی ایسے مسائل نہیں تھے جو برداشت نہ ہوسکتے، مثلاًمعراج صاحب نے ان کی رہائش کا بندوبست کردیاتھا لیکن شادی کے بعد تو باقاعدہ طور پر ایک معقول گھر اور گھرکا معقول سامان بھی چاہیے تھا لہٰذا حقی نے بہت زیادہ لکھنا شروع کیا ، ایک ماہ میں کم از کم سو سے ڈیڑھ سو صفحات تک وہ لکھتے رہے،اس طرح خاصی معقول آمدن ہوتی رہی لیکن پاکستان میں مہنگائی کا طوفان سال بہ سال بڑھتا رہتا ہے اور ہم اپنی لگی بندھی آمدنی میں گزارا کرنے کے قابل نہیں رہتے، معراج صاحب بھی اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرتے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ مصنفین کے معاوضے میں اضافہ ہوتا رہتا تھا۔

علیم الحق حقی اب ہمارے ایسے دوستوں میں شامل ہوچکے تھے جو باہم ایک دوسرے سے کچھ بھی نہیں چھپاتے لیکن اپنی اپنی مصروفیات کے سبب ملنا جلنا اس طرح نہیں رہا تھا جیسے حقی کی شادی سے پہلے تھا، جب وہ دفتر آتے تو ملاقات ہوجاتی، ہم بھی زیادہ پابندی سے ان کے گھر نہ جاتے۔

ایک نئی کروٹ

جاسوسی ڈائجسٹ میں بیک وقت تین سلسلہ وار کہانیاں جاری تھیں ، اول گمراہ، دوم شکاری اور سوم مجاہد، تینوں ہی کہانیاں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہی تھیں ، شکاری ہماری بھی پسندیدہ کہانیوں میں سے تھی اور اس کی ایک وجہ احمد اقبال کا طرز تحریر اور زبان و بیان پر بھرپور عبور بھی تھا، شکاری پڑھتے ہوئے ہمیں کبھی اس میں ایڈیٹنگ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، سوائے اس کے کہ دوران تحریر میں کا، کی، کے وغیرہ چھوٹ جاتے ہیں یا کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آتا تو اسے تبدیل کردیا جاتا ہے،اگرچہ احمداقبال کی تحریر بھی بہت سے دوسرے مصنفین کے مقابلے میں نہایت صاف ستھری ہوا کرتی تھی جسے پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی، اہم ترین مسئلہ گمراہ اور مجاہد کا تھا۔

گمراہ میں مرحوم جبار توقیر کا اپنا مخصوص لب و لہجہ اور زبان و بیان تھی ، زبان تو اردو ہی تھی لیکن بیان پنجابی زدہ تھا اور یہ کہانی کا تقاضا بھی تھا، البتہ ان کا لکھنے کا انداز خاصا گھماؤ پھراؤ والا تھا، الفاظ بڑے بڑے لکھتے تھے لیکن تیزی سے لکھنے کے سبب وہ ٹوٹ جاتے تھے، اسی لیے معراج صاحب کو پڑھنے میں دشواری ہوتی تھی، سنسر کی سختیاں سر پر تھیں لہٰذا یہ کہانی ہمارے سپرد کی گئی کہ کوئی ایسی بات یا ایسا منظر جانے نہ پائے جو سنسر بورڈ کی نظر میں بے ہودگی یا فحاشی وغیرہ کے ذیل میں آتا ہو یا ’’قومی مفاد‘‘ کے خلاف ہو، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حوالے سے جبار توقیر صاحب کو معراج صاحب کی طرف سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی کہ جناب مارشلائی سنسر ہمارے سر پر مسلط ہے تو آپ ذرا دیکھ بھال کر قلم چلائیں، ہمارا خیال ہے کہ اگر ایسی کوئی بات کی جاتی تو شاید جبار توقیر گمراہ لکھنا چھوڑ دیتے اور یہ معراج صاحب پسندنہ کرتے لہٰذا بہتر یہی تھا کہ وہ کچھ بھی لکھ کر بھیج دیں ہم خود ہی ضروری کانٹ چھانٹ کرلیں گے۔

شاید 1987 ء کا سال تھا جب اچانک یہ معلوم ہوا کہ جبار توقیر صاحب کا انتقال ہوگیا ہے،یہ بڑی ہی افسوس ناک خبر تھی لیکن کوئی بھی تعزیت کے لیے راولپنڈی نہیں گیا، صرف جاسوسی ڈائجسٹ میں ان کے انتقال پر ملال پر ایک چھوٹا سا باکس شائع ہوا جو عموماً ایسے موقعوں پر شائع ہوتا ہے۔

جبار توقیر صاحب ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے کیسے وابستہ ہوئے اس کے بارے میں درست بات اقبال پاریکھ ہی بتاسکتے ہیں کیوں کہ جب اقبال پاریکھ ادارے سے علیحدہ ہوئے اور انھوں نے اپنا پرچا انداز ڈائجسٹ نکالا تو جبار توقیر انداز میں بھی ایک سلسلے وار کہانی کشکول کے نام سے لکھنے لگے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اقبال پاریکھ سے ان کے مراسم بہت زیادہ تھے، یہ سلسلہ وار کہانی وہ اپنے انتقال کے وقت تک لکھتے رہے ، بعد میں اس کہانی کا کیا بنا ، یہ ہمیں نہیں معلوم۔

ہمارے ادارے میں اب مسئلہ یہ تھا کہ گمراہ کو جاری رکھا جائے یا اسی موڑ پر ختم کردیا جائے، وصی بدایونی صاحب نے معراج صاحب کو یقین دلایا کہ وہ اس کو آگے بڑھاسکتے ہیں، اس طرح یہ کہانی ان کے سپرد کردی گئی اور اختتام تک وصی صاحب ہی لکھتے رہے۔

جیسا کہ ہم ابتدا میں بتاچکے ہیں کہ وصی بدایونی نے ڈائجسٹوں میں اپنے کرئر کا آغاز ایک کاتب کے طور پر کیا تھا لیکن ذہین آدمی تھے اور پھر سب رنگ ڈائجسٹ میں اہل علم کے صحبت یافتہ رہے ، خود بھی پڑھنے کا لکھنے کا شوق رکھتے تھے لہٰذا صلاحیتوں کو جِلا ملتی چلی گئی اور ایک وقت آیا کہ وہ سسپنس ڈائجسٹ کے نائب مدیر کے طور پر خدمات انجام دینے لگے لیکن یہاں بھی مسئلہ وہی تھا جو ان جیسے دیگر افراد کے ساتھ ہمیشہ رہا یعنی کام بہت زیادہ اور معاوضہ بہت کم۔

وصی صاحب ماڈل ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہا کرتے تھے، شاید دو لڑکیاں اور دو لڑکے ان کے نور نظر اور لخت جگر تھے، تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا تھا، اپنی آمدن بڑھانے کے لیے وہ دوسرے کام بھی کیا کرتے تھے، اعجاز رسول صاحب کی کتابیں پیسٹ کردیا کرتے تو اس سے بھی کچھ آمدن ہوجاتی پھرانھوں نے اقبال پاریکھ کے انداز ڈائجسٹ میں ایک قسط وار کہانی لکھنا شروع کردی مگر یہ بات معراج صاحب سے پوشیدہ رکھی، جب گمراہ لکھنے کا معاملہ سامنے آیا تو انھوں نے دونوں کام چھوڑ دیے،اعجاز صاحب کی پیسٹنگ اور اندازڈائجسٹ کی سلسلے وار کہانی، اب وہ صرف سسپنس کی ذمے داریوں کے علاوہ گمراہ لکھنے پر توجہ دے رہے تھے۔

گمراہ کا معاوضہ انھیں خاصا معقول دیا گیا، جس سے وصی صاحب کے دن پھر گئے لیکن ہمیں جس بات کا ڈر تھا بالآخر وہ سامنے آگئی،وصی صاحب نے پنجاب نہیں دیکھا تھا، پنجاب کے ماحول سے بھی ان کی واقفیت اتنی ہی تھی جتنی گمراہ کے قاری کی ہوسکتی ہے،مرکزی کرداروں کی زبان و بیان بھی وہ جبار توقیر کے انداز میں نہیں لکھ سکتے تھے لہٰذا پہلی فرصت میں انھوں نے مرکزی کردار کو کراچی بلالیا اور خاصا لمبا عرصہ کراچی میں ہی گزار دیا، یہ تمام باتیں جبار توقیر کا ذہین قاری نوٹ کر رہا تھا لہٰذا کہانی پر قارئین کے اعتراضات آنے لگے ، وصی صاحب کو اس طرف متوجہ کیا گیا تو انھوں نے مرکزی کردار غلام جیلانی کو امریکا بھیج دیا اور اس طرح کرداروں کی مٹی پلید ہوتی رہی، قصہ مختصر یہ کہ جبار توقیر کی گمراہ وصی بدایونی کے قابو میں نہ آئی اور بالآخر معراج صاحب نے اس کہانی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، متبادل کے طور پر محمود احمد مودی کی سرکش ان کے پاس موجود تھی جو شاید مودی صاحب پہلے سے لکھ رہے تھے ۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے