سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے قہقہے ۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے قہقہے ۔ نوید ظفر کیانی

اِس ہفتے کے قہقہے

 

 

اس نے کس درجہ محبت سے بنایا حلوہ

یار لوگوں نے چٹا چٹ میں اڑایا حلوہ

           

صرف تصویر دکھا کے ہی کیا خوش اس نے

کب ستم گر نے بھلا ہم کو کھلایا حلوہ

           

روح پر چھا گیا الفت کا نشہ جب اس نے

اک چمچ بھر کے مری سمت بڑھایا حلوہ

 

ان سے رکھنی تھی بنا کر یہ ضروری تھا بہت

جب بھی مکھن نہ ملا ، ہم نے لگایا حلوہ

 

اس نے دے ڈالی تو  ہے دعوتِ حلوہ لیکن

یہ بنایا ہے نہ جانے کہ چرایا حلوہ

 

کیسے بتلائیں تھا کیا حال ہمارا انور

دور ہی دور سے جب اس نے دکھایا حلوہ

 

منیر انور

 

 

مرغانِ مرغن ہوں کہ بکرانِ گرامی

ہر ڈش پہ نظر رکھتا ہے مہمانِ گرامی

 

نسخہ کوئی ایجاد بھی کر لیں تو لحد میں

لے جاتے ہیں ساتھ اپنے طبیبانِ گرامی

 

اب ڈیٹ بھی ماریں تو لگا رہتا ہے دھڑکا

بروقت پکڑ لیتے ہیں بچگانِ گرامی

 

اب فیس کے بارے میں بتائیگا مسیحا

دم سادھ کے بیٹھے ہیں مریضانِ گرامی

 

کر دیتے ہیں دامادِ موئدب کا کباڑہ

ویک اینڈ پہ جب آجاتے ہیں سسرانِ گرامی

 

پائوں کی طرح ہاتھ بھی میڈم کا تھا بھاری

چنتا ہی رہا اپنے میں دندانِ گرامی

 

درکار ہے ایندھن کے لئے ایک ہی پُڑیا

پر تول کے بیٹھے ہیں جہازانِ گرامی

 

افلاس و فروغت کا نتیجہ ہے یہ خالد

ہر سال ہوئے جاتے ہیں طفلانِ گرامی

 

خالد محمود

 

 

 

اگرچہ ذہن میں اک قافیہ کمال کا تھا

گمان اس پہ مگر ذم و ابتذال کا تھا

 

جنابِ صدر سے پھنیٹی اگرچہ کھانی پڑی

مگر جو شعر ہوا تھا بڑے کمال کا تھا

 

بھلی سی آئی ڈی تھی اور بھلی سی ڈی پی تھی

میں جس کو نار سمجھتا رہا وہ بالکا تھا

 

ستم تو یہ ہے کہ اس نے بھی ہم کو لوٹ لیا

جو ڈاکٹر کسی خیراتی ہسپتال کا تھا

 

عجیب طور کا محبوب مل گیا تھا ہمیں

کہ اس کی آنکھ تھی طوطے کی ، تن غزال کا تھا

 

حرام ہو گیا میری لڑائی کی خاطر

مگر میں خؤش ہوں کہ مرغا مرا حلال کا تھا

 

سو اب مسوڑے میں تنکا چبھا کے روتے رہو

تمہیں بھی شوق بہت دانت میں خلال کا تھا

 

ہمارے باس کی کچھ جایئداد تھی ہی نہیں

بس اک پلاٹ تھاجو صرف سو کنال کا تھا

 

عطائیوں کی دکانوں پہ دھکے کھاتے پھرے

جن اہلِ عشق کو دھڑکا شبِ وصال کا تھا

 

مرے علاوہ بھی سب نے سخن کئے لیکن

بس ایک فرق تھا جو ندرتِ خیال کا تھا

 

نہ جرمِ راہزنی تھا نہ یہ ڈکیتی تھی

عجیب کیس یہ تسخیر با ا لجمال کا تھا

 

رحمان حفیظ

 

 

 

تین برسوں میں "ولَد” پانچ کی تعداد میں ہے

    ایسا ممکن کبھی اِس تھوڑی سی میعاد میں ہے؟

 

    عشق کے پودے کو پروان چڑھانے کے لئے

    ایک ناکام سا عاشق طلبِ کھاد میں ہے

 

    ان کو اْلٹا کرو، پھر بھی ہیں یہ دونوں سیدھے

    اتفاق ایسا ہر اک ساس میں داماد میں ہے

 

    جیسے حالات ہوں، خوش رہتے ہیں "جورو کے غلام”

    ایسا جذبہ کبھی دیکھا کسی آزاد میں ہے؟

 

    آؤ این جی او بناتے ہیں چلو ہم بھی کوئی

    خود کمانے میں کہاں لْطف جو امداد میں ہے

 

    شعر کہتے ہوئے ہر بار اْچھلتا کیوں ہے

    ٹارزن نام کا کوئی ترے اجداد میں ہے

 

    عقدِ ثانی کا ہو، اے کاش! مْیسر موقع

    ایک معصوم سی خواہش دلِ نا شاد میں ہے

 

    دس کلو مْرغِ مْسلّم تو وہ کھا بیٹھا ہے

    دیگ حلوے کی منگائی ہوئی پھر بعد میں ہے

 

 

    عرفان قادر

 

 

ہمت نہیں کسی میں ہے اُس سے سوال کی

’’ وہ تیس سال سے ہے وہی بیس سال کی‘‘

 

کب کہہ دے کیا وہ اس کا کسی کو نہیں پتہ

کرتی ہے بات اپنے وہ جاہ و جلال کی

 

ڈر ہے کہیں نہ کھینچ لے اپنی زبان سے

سب کو لگی ہے فکر فقط اپنی کھال کی

 

طاری ہے اُس پہ ایسا نشہ عز و جاہ کا

کوئی نہیں ہے فکر عروج و زوال کی

 

جو کہہ رہی ہے اُس کا نہ سر ہے نہ پیر ہے

اُس کو نکالنی ہے فقط کھال بال کی

 

سب دم بخود تھے دیکھ کے اُس کا یہ طمطراق

دل میں مجال ہی نہ رہی عرضِ حال کی

 

میرا جنونِ شوق بھی آیا نہ میرے کام

تصویر بن کے رہ گیا حُزن و ملال کی

 

کیسے دوں اس دروغ بیانی کا میں جواب

چھپوادی اُس نے میرے خبر انتقال کی

 

اب آپ اُس کی دیدہ دلیری تو دیکھئے

کہتی ہے اپنی فکر کرو چال ڈھال کی

 

خواب و خیال میں بھی نہ تھا جو گذر گیا

برقیؔ مجھے تو فکر ہے اپنے مآل کی

 

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

 

 

احقر

نویدظفرکیانی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محمودہ۔۔۔سعادت حسن منٹو

محمودہ سعادت حسن منٹو مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے