سر ورق / کہانی / سنساری ۔۔ گرمیت کڑیاوالی/عامر صدیقی

سنساری ۔۔ گرمیت کڑیاوالی/عامر صدیقی

پنجابی کہانی

سنساری کی موت کی خبر آگ کی طرح پھیلی تھی۔ دسمبر کی کڑاکے دار سردی میں صبح لوگوں نے اس کے جسم کو سڑک کے کنارے پڑادیکھا تھا۔ پل بھر میں ہی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح قصبے میں اور اس سے ملحقہ دیہاتوں میں پھیل گئی تھی۔

ابھی کل ہی تو وہ بڑے آرام سے پیٹ بادشاہ کو رشوت دینے کیلئے سڑک کے کنارے بیٹھا مانگ رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ کوئی پیشہ ور بھکاری تھا۔پیشہ ور بھکاری تو آج کل سرکاری دفتروں، اسمبلیوں، اور پارلیمنٹ میں براجمان ہو گئے ہیں۔ وہ تو ضرورت کے مطابق کبھی کبھی مانگتا تھا۔ وہ بھی دوسرے تمام تاجروں، دکانداروں اور جواریوں کی طرح شہر کا ہی ایک حصہ تھا۔ رات میں کہاں جاتا ہے، کسی نے خیال نہیں کیا تھا۔ کئی کئی بار تو کئی کئی دن غائب رہتا تھا۔

ان دنوں میں سب سے زیادہ تکلیف سٹے والوں کو ہوتی تھی۔ ان کی نظریں سنساری کو تلاش کرتی رہتی تھیں، ان کے چہرے پر پریشانی کی جھلک دکھائی دینے لگتی، کیونکہ سٹے کا نمبر وہ سنساری سے پوچھ کر ہی لگاتے تھے۔ جو نمبر سنساری بتاتا تھا ،وہ لگا دیتے تھے۔ بتانے کا مطلب یہ نہیں کہ سنساری ان کو نمبر بول کر الاٹ کرتا تھا۔ اسکو بولتے ہوئے آج تک قصبے کے کسی آدمی نے نہیں سنا، وہ صرف اُو ۔۔۔ اُو ۔۔۔ با۔۔۔ با ۔۔۔ کرتا تھا۔ جب وہ بولتا نہیں تھا تو پھر سننے والوں کو تکلیف ہونے لگتی تھی۔ سٹے والے سنساری کو کیا کہتے ہیں، سنساری کو بھی پتہ نہیں چلتا، وہ تو صرف ان کے جذبات کو سمجھ لیتا تھا اورجواب میں اُو ۔۔۔ آ ۔۔۔ کرتے ہوئے اپنی انگلی کو اوپر نیچے کرتا۔ ان انگلیوں کی ہی کرامت تھی کہ نمبر لگانے والے ان انگلیوں کے اشارے کو ہی سمجھ لیتے تھے کہ کون سا نمبر بنتا ہے۔ اتفاق سے نمبر آ جاتا تو وہ خوش ہو کر سنساری کو بھی اس کا حصہ دے جاتے۔ جن کا نمبر نہیں آتا وہ اپنی قسمت کو کوستے اور یہ کہتے کہ انہیں نمبر سمجھنے میں غلطی ہو گئی۔ وہ اپنی اس غلطی پر پچھتاتے ہوئے صبر کرتے۔

سنساری سے آشیربادحاصل کرنے والوں میں قصبے اور گاؤں کے کچھ لڑکے بھی شامل تھے۔ ان کو جب بھی کسی’’ مہم ‘‘پر جانا ہوتا تو وہ اس دن کے بارے میں سنساری سے پیشگوئی کروانے آتے۔ سنساری ان سے ملی رقم سے کئی دنوں تک اپنا گزارا چلا لیتا تھا اور پھر کتنے ہی دن سڑک کنارے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بھکاریوں کی مانند پیسہ جمع کرنا، یا دیس بدیس کے بینکوں میں انہیں جمع کروانا، اس کی عادت نہیں تھی۔ سنساری کو اگر ان لڑکوں کے مقصد کا پتہ ہوتا تو وہ کبھی بھی ہاتھ کے اشاروں سے پیشگوئی نہیں کرتا۔ ہاتھ کے اشاروں کو وہ لڑکے ،فقیر بابا سے ملی آشیرباد سمجھتے۔ اگر سنساری کو اسکا علم ہوتا کہ جس دن لڑکوں کی ٹولی اس کے پاس آتی ہے، اس دن کوئی کنواری بچی یا لڑکی کی قسمت ’’سیٹھ غریب داس‘‘ کے شہر کے باہر لگے اڈے میں لکھی جاتی ہے تو وہ کبھی بھی ان کی رقم قبول نہیں کرتا ۔ سنساری تو ان کو اپنا ہمدرد، عقیدت مند اور پیسے دینے والا سمجھتا تھا بس۔

سنساری کے بارے میں ان سٹے والوں اور لڑکوں کے بجائے ایک پھٹیچر ڈھابے والے کو ہی پتہ تھا کہ سنساری شام کو کہاں جاتا ہے، کیونکہ پیٹ بھرنے کیلئے وہ شام کو اس کے پاس کھانا کھانے آتا تھا۔ ویسے تو سنساری کیلئے لنگر شہر کے گرودواروں اور مندروں میں بھی کافی دستیاب تھا۔ کسی نہ کسی مذہبی مقام پر کوئی نہ کوئی اجتماع چلتا ہی رہتا تھا، لیکن کبھی کبھی سنساری کا من’’دس انگلیوں‘‘ کی کمائی سے حسبِ منشا روٹی کھانے کو کرتا تھا۔ کبھی کسی نے اس کی خواہش نہیں سمجھی۔ کتنے بے غرض، سیدھے اور بھولے ہیں یہ لوگ۔ سوائے ان’’چند لوگوں کے ‘‘۔ سنساری سوچتا تھا۔ یہ لوگ تو جیسے اس کیلئے قدرت نے فرشتے ہی بنا کر بھیج دیئے ہیں۔ سب لوگ ان کے جیسے ہی کیوں نہیں ہو جاتے؟ عظیم ہے ایشور، جس نے ایسے نیک انسان بنائے، ورنہ پتہ نہیں اس کے جیسے غریب آدمیوں کا کیا بنتا۔

واقعی سنساری کتنی دور کی سوچتا تھا۔ اگر ایسے نیک انسان نہ پیدا ہوتے تو غریب لڑکیوں کی جوانی بیکار ہی چلی جاتی۔ غریب داس کے اڈے میں لائی گئی ہر نئی’’چیز‘‘ کو ایسے ہی کہا جاتا تھا، یہ مت سمجھنا کہ ہم تمہارے ساتھ زبردستی کرتے ہیں۔ ہمیں تو تمہاری جوانی پر ترس آتا ہے۔ اس جوانی کو جوانی کی ضرورت ہے اور ہم سا جوان اس شہر میں کوئی نظر نہیں دیتا، بہن۔

کتنی سچائی تھی سنساری کی سوچ میں۔ اگر امیر لوگ نہ ہوتے تو غریبوں کو کام کون دیتا، اگر غریبوں کو کام نہ ملے تو وہ کدھر جائیں؟ اگر یہ لوگ حکومت نہ چلائیں تو پھر کیا ہو؟ لوگ تو ایسے ہی پاگل ہیں، ایسے ہی تیسرے چوتھے دن شور مچانے لگ جاتے ہیں، پر یہ لوگ کریں بھی تو کیا؟ خالی بیٹھے ہیں، کام تو ہے نہیں ان کے پاس۔ اگرحکومت چلانی پڑے یا لیڈری کرنی پڑے یا پھر لڑکوں کی طرح غریب لڑکیوں کی شادیاں کرنی پڑیں تو پھر پتہ چلے۔ ایسے ہی ٹیں ٹیں کرتے ہیں یہ لوگ۔ سنساری ہمیشہ یہی سوچتا رہتا۔

سنساری ان ٹولی والوں کو ہی سب سے بڑا نیکوکار سمجھتا تھا اور اگر وہ ایسا سمجھتا تھا تو اس میں غلط کیا تھا۔ دیکھو اس وقت شہر میں سات مذہبی مقامات ہیں، دو عورتوں کے مندربنائے گئے، جہاں دکھی لوگوں کی مشکلات کو دور کیا جاتا ہے، لوگوں پر سے جن وغیرہ بھگائے جاتے ہیں، اگر ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو پورے نو مذہبی مقامات بن جائیں گے۔ یہ نوجوان اور شہر کے نیلی پیلی، سفید سبز، لال گلابی پارٹیوں کے لیڈر ہی تو ہیں جو مذہبی مقامات کو چلا رہے ہیں۔ کوئی کسی مذہبی مقام کا منیجر ہے تو کوئی صدر۔ ایسا کوئی بھی مذہبی مقام نہیں ہے جس کا ہیڈ یا کمیٹی منیجر ان میں سے نہ ہو۔ شہر میں جو رام مندر ہیں، ان میں اکثر رام لیلا چلتی رہتی ہے، لنگر چلتا ہے ، ٹن ٹن کی آواز آتی رہتی ہے، چوبیس گھنٹے منتر تنتر اور پوجا پاٹھ جاری رہتی ہے۔ میلے یا کسی خاص تہوار میں تو اتنے یاتری آتے ہیں کے اس کا کوئی حساب ہی نہیں رہتا۔ اس مندر کا کام کاج ایک دن بھی نہ چلے اگر سیٹھ مراری لال نہ ہو۔ کتنی بھاگ دوڑ کرتا ہے بیچارا مندر کی خاطر۔ جنتاجو ہے نا، کسی کا قرض نہیں رکھتی ۔ہر بار ووٹ مراری لال کو ڈال دیتی ہے۔ ایسے ہی تو نہیں وہ ہر بار میونسپل کمشنر بن جاتا۔ سب ایشور اور جنتاکی خدمت کا پھل ہے۔ قسمت والا ہے، نہیں تو اتنی خدمت کوئی اور کر لے گا۔ مراری لال ایسے ہی سنساری کا عقیدت مند نہیں ہے۔ کیا بولا؟ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، لوگوں کی تو عادت ہے جھوٹ بولنے کی۔ ہر اچھے آدمی میں کوئی نہ کوئی کمی ڈھونڈتے رہنا۔ لال گردھاری مل کی لڑکی کو مندرسے اٹھوانے میں مراری لال کا ہاتھ تھا۔ یہاں دوپہر کو پوجا کرنے آئی تھی اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے جانے والوں میں مراری بھی تھا۔ لو بتاؤ؟ لوگوں کا کیا ہے، لوگ تو ایشور پر بھی کیچڑ پھینک دیں۔ یہ تو پھر مراری ہے۔ دوسری طرف دیکھو، لوگ کیا کیا بولتے رہے مراری کے بارے میں۔ یہ مراری ہی تھا جو گردھاری مل کی لڑکی کو پندرہ دن بعد واپس لے آیا۔ مراری تو مراری ہی ہے، اس کا ان اوٹ پٹانگ باتوں سے کیا واسطہ ہے۔

جُوالی والا گرودوارہ، کچھ سال پہلے جس میں دو کمرے ہوتے تھے۔ اب دیکھو وہاں پر جاکر چاروں طرف بہاریں ہی بہاریں نظر آتی ہیں۔ جب سے سدھو صاحب کمیٹی کے سربراہ بنے ہیں، آئے سال کچھ نہ کچھ بنتا رہتا ہے۔ لوگوں کے بیٹھنے کیلئے بڑا ہال، لنگر کھانے کیلئے بڑا لنگرہال، لوگوں کے رہنے کیلئے ہوٹل، فرشوں پر سنگِ مرمر لگا ہوا، سب سدھو صاحب کی مہربانی ہے۔ اونچی پہنچ والا آدمی ہے۔ کئی بار باہر جا چکا ہے۔ بڑے بڑے وزراء کے ساتھ سیدھی بات ہے۔ کیا کہا، سدھو صاحب کی لاکھوں کی کوٹھی ہے؟ وہ تو میں پہلے کہہ چکا ہوں، لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے۔ یہاں سدھو صاحب کی دو ایکڑ میں بنی لاکھوں روپے کی لاگت سے یہ کوٹھی ، ایشور کی دِین ہے۔ایشور کا نام لے کر لاکھوں روپے’’چندہ‘‘ جمع کر کے ملک میں لایا اور ایشور کے نام سے اپنی کوٹھی پر لگا دیا۔ لوگوں کی لوگ ہی جانیں۔ سنساری کوبس اتنا معلوم تھا کہ سدھو صاحب جیسا مذہبی انسان شہر میں ہے ہی نہیں۔

شہر میں بالمیکی جی کا گھر بھی لیڈروں کی جماعت کی مہربانی ہے۔ اس کمیٹی کے صدر ناجر کو بھی آج کل شہر کے نامی گرامی انسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نامی گرامی لوگوں میں نام کیوں نہ ہو، پورا محلہ اس کی جیب میں ہے۔ ناجر کہے تو اس محلے کے لوگ، سارے شہر کی ناک میں دم کر دیں۔ کسی بات پر شہر کے کرتا دھرتاؤں کے سا تھ ناراضگی ہوئی نہیں کہ شہر میں جہنم کا نظارہ پیش ہو جاتا ہے۔ یہ ناجر ہی تھا جو شہر میں کسی بھی پارٹی کے لیڈر کی طرف سے کی جانے والی ریلی، جلوس، اور دھرنے کیلئے بندوں کا انتظام کرتا تھا۔ لہذا ناجر کو نیوٹرل پالیسی پر چلنے والا سمجھا جاتا تھا۔ پارٹی کوئی بھی ہو، ناجر اس میں آدمی بھیج کر اس پارٹی کی واہ واہ کروانے کیلئے، بڑی محنت سے کام کرتا تھا۔ سنساری کی آنکھوں دیکھی بات ہے کہ کچھ سال پہلے یہ ناجر میونسپل میں جھاڑو لگاتا تھا۔ میونسپل میں آتے جاتے لیڈروں سے اس کو لیڈری کا ایسا شوق جاگا کہ اب تو مانے ہوئے لیڈروں میں اسکا شمار ہونے لگا ہے۔ اب تو لیڈری کے میدان میں ناجر مہاراج کی طوطی بو لتی تھی۔ اچھے اچھے آفیسرز اور عہدے دار، ناجر سے ڈرتے تھے۔ ابھی گزشتہ سال ہی ناجر کے محلے میں مندر کیلئے میونسپل کے سربراہ نے پچیس ہزار اینٹیں، پچاس بوری سیمنٹ اور محلے میں ا سٹریٹ لائٹیں نہیں لگوائیں تھیں، نالی پکی کرنے کے کام میں سے ناجر کا جو حصہ بنتا تھا ،وہ بھی اُس نے اپنی جیب میں نہیں ڈالا۔

ناجرکی میونسپل کے سربراہ کے ساتھ تو تو میں میں ہو گئی۔ ناجرنے اس بہانے کی آڑ میں کہ میونسپل کے سربراہ نے اسکی ذات کے بارے میں غلط الفاظ کہے ہیں، شہر کے تمام صفائی ملازمین کی ہڑتال کروا دی تھی۔ ملازمین نے نالوں کی ساری گندگی شہر کے بازاروں میں اور سربراہ کے گھر کے آگے ڈھیر کر دی۔ ان ملازمین نے شہر میں وبا پھیلانے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ شہر کی ممبر اسمبلی بی بی سرلا کہیں باہر گئی ہوئی تھی۔ جب وہ واپس آئی، تب اس کو ہڑتال کے بارے میں پتہ چلا۔ اس نے فون کرکے فوری طور کمیٹی کے سربراہ کو اپنے’’غریب خانے‘‘ میں بلا لیا تھا۔

’’ تم سربراہ کی کرسی پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہو۔ ‘‘

ممبر اسمبلی بی بی سرلا کے تیور چڑھے دیکھ کر، سربراہ نے خاموش رہنا ہی ٹھیک سمجھا تھا۔

’’الیکشن سر پر ہے اور ہم ان لوگوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ آپ کو پتہ ہے کہ ان کو پٹانے کیلئے اپوزیشن پارٹی والے ان کو ہاتھوں پر اٹھائے گھومتے ہیں ۔‘‘بی بی کی آواز میں آہستہ آہستہ نرمی آنے لگی تھی۔

’’ آج رات تک یہ معاملہ نمٹ جانا چاہیے۔‘‘ بی بی جی کا فرمان لے کر سربراہ وہاں سے چلے گئے تھے۔

اس رات پچیس ہزار روپے ناجر کے پہنچ گئے تھے۔

’’ سربراہ صاحب آپ کی ساری ڈیما نڈیں ماننے کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ جلد ہی ساری ڈیمانڈیں پوری کردی جائیں گی۔‘‘ناجر کے اس حکم کے مطابق ہڑتال ختم کر دی گئی تھی۔

محلے کے اندر اسٹریٹ لائٹیں بھلے نہیں لگیں، لیکن ناجر کے کمرے میں سنگ مرمر ضرور لگ گیا تھا۔ اگر ناجر آگے لگ کر جدوجہد نہ کرے، تو کیا یہ شہر والے اس کو کچھ کہہ رہے ہیں؟

سنساری ناجر کو ایک مثالی شخصیت سمجھتا تھا۔ محلے کے غریب لوگوں کیلئے لڑنے مرنے والا۔ سنساری کچھ غلط تو نہیں سمجھتا تھا۔

دیوی ماتا کے مندر کی کمیٹی کے جوان سیٹھ برہم آنند جی کے شہزادے ’’ستی سوروپ‘‘ کا بھی شہر کے لیڈروں میں اپنا مقام تھا۔ ہر منگل مندر میں جگراتا ہوتا، یہ’’ستی سوروپ‘‘ کی ہمت کے کارن ہی ہوتا تھا نہیں تو پہلے کیوں نہیں ہوا ۔ وہ تو ستی سوروپ جی تھے جو ہر سال مفت میں دو گاڑیاں، دیوی ماتا کے غریب بھگتوں کو لے کر درشن کروانے پہاڑوں پر بھیجتے تھے۔ ستی سوروپ ہی تھے جو لوگوں کی بہن بیٹیوں کو رات کی محفلوں میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع فراہم کرتے تھے۔

اتنے پُن اورثواب کا کام کرنے والا بھلا شخص شہر کے نامور لیڈروں میں کیسے داخل نہ کیا جاتا؟ اگر سنساری’’ستی سوروپ‘‘ کو دھرماتما اور بھلا شخص سمجھتا تھا، تو کچھ غلط تو نہیں سمجھتا تھا؟

بابا دھرم داس کی شہر اور آس پاس کے دیہاتوں میں اچھی خاصی عزت تھی۔ کبھی کوئی انہونی بات نہیں ہوئی۔ یہ بابا جی کی لگن اور نیکی سے ہی تھی۔ بابا جی جیسے نیک، عظیم انسان، مردِصالح کوئی اور بن سکتا ہے؟ اتنا ٹیڑھا ،چکر دار راستہ، اسکا پالن بابا جی ہی کر سکتے تھے۔ وہ سوا سوا مہینے اناج کو منہ نہیں لگاتے تھے، صرف دودھ پی کر گزارا کرتے تھے۔توبہ توبہ، اتنی بڑی قربانی۔ ایسے ہی تو بابا جی نے بڑی بڑی چیزیں بس میں نہیں کی ہوئی تھیں۔ نوجوان لڑکے بھی بابا جی کے چرنوں میں لگے ہوئے تھے، زندگی بہتر بنانے کیلئے۔ باباجی کے ڈیرے میں ہی رہتے تھے۔ دل لگنے کی بات ہے، ورنہ کیا گھر کی محبت کم ہوتی ہے؟ باباجی جو بھی منہ سے بولتے وہ پورا ہو جاتا۔ بابا جی کے ڈیرے سے پتہ نہیں کتنی ہی عورتوں نے دودھ اور بیٹے کی بخشش حاصل کی تھی۔ کئی بار تو کنواری لڑکیوں کو بھی یہ بخشش دی تھی۔ بات تو بابا جی کے خوش ہونے کی ہے، اتنے عظیم اور طاقتور انسان ،جس کی دنیا جے جے کار کرتی تھی۔ سنساری اگرایسے عظیم انسان کو’’ بھگوان‘‘ سمجھتا تھا تو کیا غلط سمجھتا تھا؟

اب جب کے سنساری مر گیا تھا توسبھی مذاہب سے جڑے لوگوں، شہر کی نامور ہستیوں اور رنگ برنگی پارٹیوں کے لیڈروں کا یہ فرض بن گیا تھا کہ سنساری کے جسدِ خاکی کو سنبھالیں۔ پولیس سنساری کو لاوارث سمجھ کر اس کے جسم کو قبضے میں لئے بیٹھی تھی۔ حکومت کے بھاڑے کے ٹٹوؤں کو کیا پتہ تھا کہ سنساری لاوارث نہیں ہے، تمام شہر ہی اسکے وارثوں کا تھا۔

سنساری ہی شہر میں ایک شخص تھا، جو سب کیلئے ایک تھا۔ اکائی کی ایک سچی مثال سنساری ہی تھا۔ سنساری ہی تھا جو روپے پیسوں کی محبت سے پرے سب کا بھلا مانگنے والا تھا۔ ہر وقت شہر اور شہر کے لوگوں کی بھلائی کیلئے ایشور سے دعا مانگتا تھا۔ سنساری جیسے فقیروں کی دعا ہی ہوتی ہے، جس کے سہارے دنیا چل رہی ہے۔ پھر ایسے فقیر کی دنیا سے رخصت ہو جانے پر ان کیلئے اجتماع منعقد کرنا اور اسکو یاد کرنا، کس کا فرض نہیں بنتا؟

سنساری نے اس دنیا سے رخصت کیا لی، شہر کیلئے وہ ایک مقدس ہستی بن گیا۔ اس کا آخری دیدار کرنے کیلئے شہر کے لوگوں میں ایک دوڑ سی مچ گئی تھی۔ سبھی محلوں کے چودھریوں کی اپنے اپنے محلوں میں خفیہ میٹنگیں شروع ہو گئی تھیں۔ محلے اور شہر کے ان چودھریوں کے سر پر سنساری کے کریاکرم کی بھاری ذمہ داری آ گئی تھی۔ شہر کے تمام دھرموں اور مذہبوں کے لیڈر سنساری کے’’مقدس جسم‘‘ کو حاصل کرنے کیلئے اپنے اپنے داؤ پیچ کرنے میں لگے تھے۔ سنساری کے مردہ جسم کے پاس میلے کچیلے ،پھٹے پرانے کپڑوں کو ٹھوس ٹھوس کر بھری ہوئی گٹھری میں سے بھگوان رام کی فوٹو نکلی تھی۔ گٹھری میں بھگوان رام کی نئی فوٹو کس طرح اور کہاں سے آ گئی تھی؟ ۔ اس کے بارے میں لوگ چاہے کچھ بھی کہیں پر مراری اور اسکے ساتھیو ں کا سنساری کے مردہ جسم پر حق ظاہر ہو گیا تھا۔ مراری اور اس کے ساتھی ،سنساری کو’’ دھرم کا فقیر‘‘ ہونے کی اس سے بڑی مثال اور کیا دے سکتے تھے۔ مراری نے اپنے مذہب اور محلے کے لوگوں کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سنساری کے مردہ جسم کو حاصل کرنے کیلئے چاروں جانب سے گھیرابندی کرلی۔ یہی تو ایک موقع تھا، جس سے مراری محلے کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر سکتا تھا۔ سنساری کے مردہ جسم کو حاصل کرنے کیلئے محلے کے لوگوں کا متحد ہونا بہت ضروری تھا، کیونکہ یہ سبھی مذاہب کی حفاظت کی بات تھی۔ ایک رام بھگت، ہندو مرد کو اگر اور کسی مذہب کے رسم و رواج کے مطابق دفنا دیا جائے تو مہاپاپ ہو جائے گا۔ مراری اور اس کے ساتھیوں کے ہوتے ہوئے اس محلے میں ایسا مہاپاپ ہو جائے یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ ساتھ میں مراری کے پاس یہی تو ایک موقع تھا جو وارڈ کے مخالف کو رواج مخالف اور دھرم مخالف ہونے کا فتوی لگوا سکتا تھا۔ لہذا مراری اور اس کے ساتھیوں نے جدوجہد کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

بھائی سنساری سنگھ کے مردہ جسم کو سکھ مذہب کی ریتی رواج کے مطابق ہی انتم کریا کرم کیا جانا چاہیے۔ یہ مقدس کام سدھو صاحب کی قیادت کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتا تھا۔ سنساری کے گلے میں ایک لاکٹ اور گٹھری میں سے مذہب سے متعلق ایک کتاب ملی تھی جو سنساری کے سکھ ہونے کا ثبوت پیش کرتی تھی۔ سکھ مذہب سے تعلق رکھے بغیر سنساری اپنے گلے میں گرو مہاراج کی تصویر والا لاکٹ کس طرح ڈال سکتا تھا؟ چنانچہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک سکھ مذہبی شخص کے جسم کو دوسرے مذہب والے لوگ ادھر ادھر لے جائیں، اس کی ذلت کرانے۔ گرو کا سکھ اپنے جیتے جی ایسا ہوتے کس طرح دیکھ سکتا تھا۔ یہ ہندوؤں کی حکومت اور دوسرے مذاہب کے لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ سکھ مذہب کے عظیم انسان کا جسم ایسے ہی سڑکوں پر لاوارثوں کی طرح پڑا رہے اور ذلیل ہوتا رہے، لیکن سدھو صاحب اپنے جیتے جی یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ وہ تو اپنا انگ انگ کٹوا سکتا تھا۔ اس نے فوری طور پر محلے کے سرداروں کو جمع کر لیا اور اس کام کو تمام کرنے کے لئے ’’جکرا‘‘ بھی لگا دیا تھا۔ طرح طرح کی میٹنگیں ہونے لگیں۔ میٹنگوں کے اندر بھائی سنسار کے ایک سچے صاف ستھرے انسان ہونے کے بارے میں روشنی ڈالی گئی۔ سکھ مذہب میں اس کے مقام کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ سدھو صاحب نے یہ اعلان کر دیا کہ گرودوارے کے ساتھ لگتی ہوئی جگہ پر لائبریری کھولی جائے گی۔ یہ جگہ میونسپل سے حاصل کرنے کیلئے اعلی عہدیداروں سے بات کرنے اور منتریوں سے ملنے کا بوجھ سدھو صاحب نے اپنے نازک کندھوں پر لے لیا۔ اپنے مذہب کے لوگوں کو اس مشکل گھڑی میں اکٹھے ہونے اور جدوجہد کرنے کا اعلان بھی سدھو صاحب نے کر دیا تھا۔ مذہب پر آئے ہوئے اتنے بڑے بحران کے خلاف محاذ لگانے کی نوبت بھی آ سکتی تھی۔

شہر کے ا ونچی ذات والے لوگ ایسے ہی شور مچا رہے تھے۔ سنساری ہر دوسرے چوتھے دن والمیکی کے مندر میں سیوا کرنے آتا تھا، کس کو پتہ نہیں تھا؟ اگر وہ والمیکی کا بھگت نہیں تھا تو والمیکی کے گھر میں آکر سیوا کرنے کا کیا مطلب تھا۔ اگر سنساری اس سماج سے جڑا نہیں تھا تو دوسرے مذہب کے لوگوں نے اسے در در بھٹکنے کیوں دیا؟ اب ان کو اچانک سنساری کی یاد کیوں اور کیسے آ گئی؟ اپنے رشیوں، عظیم لوگوں اور فقیروں کو ناجر اور اس کے ساتھی دوسرے مذاہب والوں کو کیسے سونپ سکتے تھے۔

اب تو قوم جاگ چکی ہے۔ جب سوئی ہوئی تھی، تب سو رہی تھی۔ اب بیداری آ گئی ہے پھر بھلا فقیر درویش کس طرح دوسرے کے ہاتھوں سے بے ادب ہوں گے۔ ناجریہ کیسے ہونے دیتا؟ وہ سنساری کی میت کو کسی دوسرے کے ہاتھ نہیں لگنے دے گا۔ ناجرکا کہنا تھا کہ ان کے بزرگوں کو اب تک ان اعلی ذات کے لوگوں نے اپنے رسم و رواج میں کبھی شامل نہیں کیا، اب درویش کا اپنے رسم و رواج کے مطابق کریا کرم چاہتے ہیں۔ کم سے کم ناجر کے ہوتے تو یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ ناجرکی قیادت میں شہر کی گندگی بازار میں آنے لگی۔ ناجر جی مہاراج نے سنساری کا آخری کریا کرم کرنے کیلئے اپنے گھر کے ساتھ والامیونسپل کا ڈھائی کنال کا پلاٹ کو بھی مقرر کر لیا تھا۔ کریا کرم کے بعد سنساری کی یادگار بنانے کے بہانے خالی پڑے پلاٹ پر قبضے کا اس سے اچھا موقع ناجر کیلئے اورکیا ہو سکتا تھا؟ ناجر نے شہر کی ممبر اسمبلی میڈم کو بھی یہ واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ خود مداخلت کرکے سنساری کی میت انہیں دلوانے میں مددفرمائیں، نہیں تو وہ اس کے جسم کو حاصل کرنے کیلئے کسی بھی طرح کے مناسب یا غیر مناسب اقدام کر گزرے گا ۔ اس کی ذات کے نوجوان لڑکوں نے کوئی ایسا ویسا کام کر دیا تو اس کیلئے ناجر ذمہ دار نہیں ہو گا۔ ناجرنے میونسپل کے پلاٹ کو سنساری کی یادگار بنانے کیلئے ان کو واضح طریقے سے بتاتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ تک بھی اطلاع دی تھی۔

دیوی ماتا کے بھگت سیٹھ برہم آنند کے شہزادے’’ستی سوروپ‘‘ اور اس کے شاگردوں کی منڈلی کے پاس سنساری کے دیوی ماتا کے بھگت ہونے کے ثبوت کم نہیں تھے۔ پھر بھلا یہ منڈلی سنساری کے مردہ جسم پر اپنا حق کیوں نہیں جتاتی؟ سنساری جیسے دیوی ماتا کے سچے بھگت کو سڑک کے کنارے اس طرح پڑے رہنا، سچ مچ میںآنند جی کے شہزادے’’ستی سوروپ‘‘ کیلئے ہی نہیں بلکہ دیوی ماتا کے سبھی بھگتوں کیلئے بڑی شرم کی بات تھی۔ ستی سوروپ اور اس کی منڈلی کے پاس یہی ایک موقع تھا، جس میں وہ سنساری کے آخری کریا کرم کیلئے چندہ جمع کر سکتے تھے۔مندر کے پیچھے عورتوں کے پوجا پاٹ کیلئے ایک مخصوص کمرہ بنانے کا کام کتنے عرصے سے ادھورا پڑا تھا، جو اب مکمل ہو سکتا تھا۔ کتنی تکلیف برداشت کرنا پڑ تی تھی ان عورتوں کو پوجا پاٹ کیلئے ،یہ سب سنساری کی وجہ سے ہی مکمل ہو سکتا تھا۔

بابا دھرم داس کے ڈیرے میں بھی سنساری کے آخری کریاکرم کی خبر پہنچ چکی تھی۔ بابا دھرم داس نے اپنے آس پاس کے گاؤں میں اپنے مبلغین کے ذریعے یہ خبریں پھیلا دیں کہ ڈیرے سے متعلق ایک عظیم انسان اپنے فانی جسم کو ترک کرکے سورگ جا چکے ہیں۔ گاؤں کے اندر جتنے بھی ڈیرے کے شردالو تھے یا جتنی بھی عورتوں نے بابا سے دودھ اور بیٹے کی بخشش حاصل کی تھی ،ان کی طرف سے سنساری کی یاد میں لنگر بانٹنے کیلئے کافی مقدار میں رسد آنے لگی تھی۔ڈیرے کے رہنے والے اور چھوٹی سی عمر میں ایشور کے ساتھ منسلک ہونے پر وہ دنیا ترک کر چکے تھے۔ بابا دھر م داس کے شاگردوں کیلئے سنساری کے جنازے کے یہی دس دن اچھے گزرنے والے تھے۔ ڈیرے کے ساتھ جڑے ہوئے دیہاتوں اور قصبے کی عورتوں کیلئے مسلسل دس بارہ دن بابا دھرم داس کے فضل سے ڈیرے میں خدمت کرنے کیلئے آنے کا موقع اور سبب بنا تھا۔ بابا دھر م داس کے شاگرد یہ موقع ہاتھ سے کس طرح جانے دیتے؟ انہیں سنساری کے مردہ جسم پر جھوٹا دعوی تو کرنا نہیں تھا، سنساری کے گردن میں ڈلی ہوئی مالا سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا تھا کہ وہ پکے بھگت نہیں ہیں۔

سنساری کی موت کے چوبیس گھنٹے بعد بھی شہر کے اندر غیر یقینی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ مذہب سے متعلق ایسا مسئلہ اب سے پہلے کبھی نہیں اٹھا تھا۔ اس طرح کے مذہبی بحران کا سامنا پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ ہر مذہب کے اور مذہبی مقاموں سے وابستہ لوگوں کایہ ماننا تھا کہ سنساری کامقدس جسم ان کو حاصل ہو جائیگا۔ اب محلوں اور مذہبی مقامات پر سنساری کے مردہ جسم کو حاصل کرنے کیلئے خفیہ اجلاس ہونے لگے تھے۔ اب عام شہریوں کے چہرے پر کیا ہوگا، کا سوال نظر آرہا تھا۔ دکان، مکان، گلی، محلے، جہاں کہیں بھی چار آدمی اکٹھے ہوتے یہی بات چلتی سنساری کا مردہ جسم کسے حاصل ہوگا؟ ہر چودھری کی جانب سے یہی یقین دلایا جا رہا تھا کہ بدن انہیں ہی ملے گا، چاہے اس کیلئے انہیں کتنی ہی بڑی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ شہر کے اندر کشیدگی کا ماحول بن گیا تھا۔ شہر کے اندر پیدا ہوئی اس کشیدگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پولیس نے بھی اپنی گشت بڑھا دی تھی۔ شہر کے کشیدگی والے نازک علاقوں میں سخت ڈیوٹی دی جانے لگی۔ ہر موڑ اور چوک پر ناکے لگا دیئے گئے، بیرونی افواج کو اس موقع پر فائدہ اٹھانے کی خبریں بھی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا تھا۔

شہر کی اس سنگین صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے کچھ امن پسند لوگ بھی آگے آگئے تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے شہر میں شانتی کس طرح تحلیل ہو سکتی تھی؟ لوگوں کے اندر کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ان کا آنا ضروری تھا۔ صورتِ حال کو بہتر بنانے کیلئے الگ الگ محلے سے تمام مذاہب کے ذہین لوگ اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے آگے آئے تھے۔ سیٹھ امن چند باغی اس شانتی یونین گروپ کا لیڈر تھا۔

’’امن چندباغی‘‘ شہر میں اپنا راستہ بنائے رکھنے کیلئے کافی دیر سے کوشش کر رہا تھا۔ شہر میں اپنا اثر ڈال کر چندہ جمع کرنا اور خیر سگالی کے اجتماع کرانے کا بیڑا اس نے اپنے سر پر اٹھا رکھا تھا۔ اس کام سے متعلق اس نے کمیٹی بھی بنائی ہوئی تھی، جس کے سربراہ، خزانچی، سیکرٹری کے تمام مشکل عہدوں پر وہ خود اکیلا ہی کام کر رہا تھا۔ انسانی حقوق محافظ کمیٹی کا سربراہ گردیو سنگھ بھی شانتی یونین گروپ کا اہم متحرک شخص تھا۔ اپنی بہو کو مرضی کے مطابق خود کشی کرنے کا موقع دینا، تھانے میں رشوت دے کر مجرموں کو چھڑوانا ،جیسے انسانی حقوق سے متعلق معاملات میں ہیر پھیر کرنے میں اس کی پورے علاقے میں واہ واہی تھی۔

شانتی پسند شہریوں کی تنظیم میں لالہ کوڑچند، سردار مخبر سنگھ، سیٹھ غریب داس سمیت کئی اور لوگ بھی تھے، جو اپنے علاقے کی مانی ہوئی شخصیات تھیں۔ شہر کے بااثر آدمیوں کے اس گروپ نے پولیس کے اعلی حکام اور تمام مذاہب کے رہنماؤں اورممبر بی بی کے ساتھ بھی مختلف میٹنگز کرکے مناسب حل تلاش کرنے کی اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔

آخر ان شانتی اور انصاف پسند شہریوں کے تعاون اور کوششوں سے تمام مذاہب کے محافظ، چودھریوں اور رہنماؤں کی ایک میٹنگ ممبر اسمبلی بی بی جی کے’’غریب خانے‘‘ پر بلا لی گئی۔ غیر ملکی کپ میں چائے پیتے اور قیمتی غیر ملکی پلیٹوں میں طرح طرح کی مٹھائیاں کھاتے اور قہقہے مارتے ہوئے تمام مذاہب کے نسل پرست لیڈروں نے متفقہ طور پر اس بحران کا حل ڈھونڈ نکالا تھا۔

میٹنگ میں اتفاقِ رائے کے ساتھ یہ فیصلہ کیا گیا کہ سنساری کا انتم سنسکار مسٹر ناجر جی کے گھر کے قریب خالی پڑے پلاٹ میں سکھ مذہب کے دستور رواج کے مطابق ہی کیا جائے گا۔ چونکہ سنساری تمام مذاہب کا مشترک شخص تھا، اس لئے اس طرح فقیر پرسب کا برابر کا حق بنتا ہے۔ سنساری کی استھیاں (ہڈیاں)آدھی رام جی کے مندر کی کمیٹی کو اور آدھی گرودوارہ منیجر کمیٹی کو دیئے جانے کا فیصلہ ہوا۔ دیوی ماتا کے گھر میں سنساری کی یاد میں جگراتا رکھا جائے گا اور بابا دھرم داس کے ڈیرے میں تمام مذاہب کی جانب سے اجتماعی لنگر لگائے جانے کا اعلان کیا گیا۔ ایک مذہبی ہم آہنگی ریلی نکالنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، ان تمام مذہب کے ٹھیکیداروں کی طرف سے۔

تمام مذاہب کے محافظ اس فیصلے پر بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ سب کے چہروں پر چمک دکھائی دے رہی تھی اور ممبر اسمبلی بی بی تو خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی، کیونکہ پہلی بار اس نے سارے شہر پر اپنا غلبہ قائم کیا تھا۔ اس کی تندہی اور کوششوں سے ہی شہر پر آیا اتنا بڑا مذہبی بحران ٹل گیاتھا۔ تمام مذاہب کے رہنما اپنے لوگوں کے درمیان جیت کی ڈینگ ہانکنے پرلگے ہوئے تھے۔ اپنی اپنی جیت کی دلیلیں دینے میں جٹھے ہوئے تھے۔

اور ہاں! پولیس کے اہم افسر کو بحران کے دوران شانتی برقرار رکھنے کے بدلے میں اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی رقم جمع کرنے کی ذمہ داری مذہبی ہم آہنگی کمیٹی کے سربراہ سیٹھ امن چند باغی نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ مراری اپنی جیت پر خوشی منا رہا تھا۔پورا محلہ اس بحران کی گھڑی میں اس کی پیٹھ پر آکر کھڑا ہوگیا۔

لیکن بے چارہ سنساری؟ جس کواپنے جیتے جی پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ شہر کا اتنا اہم اور عظیم انسان ہے۔

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے