سر ورق / کہانی / چوں کہ چناں چہ۔۔ نوشاد عادل

چوں کہ چناں چہ۔۔ نوشاد عادل

                                        چوں کہ چناں چہ

ڈربہ کالونی کے شاعرو ادیب سخن اکبر آبادی کو کہانیاں لکھنے کا شوق تو پیدائش سے بھی پہلے کا تھا‘یہ بات وہ خود قسمیں کھا کھا کر بتاتاتھا اور پھر اس نے کہانیاں لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ایک روز کسی نے سخن سے کہہ دیا تھا کہ ایسے ہی اپنی کہانیاں لکھ کر ضائع نہ کرو بلکہ رسالوں میں چھپوانا بھی شروع کروا ¶۔تب سے اس کے دماغ میں بائیوگیس بھر گئی تھی کہ اب وہ رسالوں میں کہانیاں چھپوائے گا اور ملک کا نام ورائٹر بنے گا۔اتفاق سے ایک روز اس کی ملاقات دو ایسے اشخاص سے ہوگئی جو کوئی ڈائجسٹ نکالنا چاہتے تھے۔تب سخن نے ان کے آگے اتنی لمبی لمبی پھینکیں کہ وہ سخن کو پارٹنر بنانے پر بضد ہوگئے۔سخن نے انھےں اپنے گھر کا ایڈریس دے دیا کہ وہ اس کے گھر آکر ایک لمبی ،چوڑی اور گول میٹنگ کرلیں،تاکہ تمام معاملات طے کر لیے جائیں گے۔

ان دونوں آدمیوں کے نام تو نہ جانے کیا تھے، لیکن اپنے حلقے میں وہ چنا بھائی اور منابھائی کہلاتے تھے ۔ایک روز وہ دونوں بن ٹھن کرسخن کے بتائے ہوئے ایڈریس پر اس کے علاقے کی جانب چل پڑے، جو دڑبہ کالونی کے نام سے مشہور تھا۔اُدھر سخن نے جلد ازجلد مشہور ہونے کے لیے اپنے سر کے بالوں سے زیادہ کہانیاں لکھ ڈالیں، مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی اس کی ایک کہانی شائع نہیں ہوئی تھی۔اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو بہت بڑا ادیب سمجھتا تھا۔

جس وقت چنابھائی اور منابھائی سخن کے علاقے کی جانب روانہ ہوئے، اس وقت استاد دُلارے اپنی دکان میں بیٹھے شہنائی پر کوئی غم ناک قسم کی دھن بجارہے تھے ۔دھن اتنی غمگین تھی کہ خود استاد دلارے بھی آنسوو ¿ں سے رورہے تھے ۔ان کا شاگرد چپٹا انھےں دلاسے دے رہا تھا ،مگر استاد تھے کہ چپ ہی نہیں ہورہے تھے اور نہ شہنائی بجانا بند کر رہے تھے۔

اتنے میں ان کا دوسرا شاگرد بابوبو و ¿لا سائیکل پر زور زور سے گھنٹی بجاتا ہوا وہاں آیا۔اس نے سائیکل کے کیرئیر پر ٹفن رکھاہوا تھا،مگر ناجانے کیا ہوا کہ اس سے سائیکل کے بریک ہی نہیں لگے ۔سائیکل دکان کے اندر گھستی چلی آئی اور سیدھا استاد دلارے میں جا ٹھکی۔استاد دلارے گوڈزیلا کی طرح منہ پھاڑ کر چلائے۔ان کی چیخ اتنی دردناک اور بھیانک تھی کہ کالونی کی بجلی ہی چلی گئی۔سائیکل کا اگلا پہیہ استاد دلارے کی پھیلی ہوئی ایک ٹانگ پر چڑھ گیا تھا۔کیر ئیر پر رکھا ہوا کھانے کا ٹفن زور دار آواز کے ساتھ فرش سے ٹکرایا اور کھل گیا۔سارے چاول فرش پربکھر گئے تھے۔استاد دھاڑتے ہوئے بابو باو ¿لے کو گالیاں دینے لگے۔انہوں نے شہنائی بابو کی کھوپڑی پردے ماری۔وہ شہنائی کی آواز میں ہی چیخا۔

”ابے اندھے کی اولاد….نظر نہیں آرہا تھا تجھے….میں اِدھر بیٹھا ہوں اور تو سائیکل ہی اندر لے آیا دکان میں….ہائے ہائے…. میری ٹانگ کچل دی بھوتنی کی۔“

”تواستاد تم بھی تو بھکاریو ں کی طرح راستے میں ہی بیٹھے ہو۔“بابو باو ¿لے نے الزام کی گندگی استاد دلارے پر ہی اُلٹ دی۔”یہ نہیں کہ تمیز سے ایک کونے میں بیٹھ جاتے انسانوں کی طرح….سائیکل میں کون سی عقل ہے کہ کس چیز پر چڑھنا ہے اور کس پر نہیں۔“

”تو تجھ میں کون سی عقل ہے خوار کے بچے….“استاد دلارے کے نتھنے لال بتی کی طرح جلنے بجھنے لگے تھے۔

”خوار کا بچہ نہیں ہوں میں….انوار کا بچہ ہوں….میرے ابو کا نام انوار ہے۔“بابو باو ¿لا بھی اکڑ گیا۔

 استاد دلارے اُٹھے اور انہوں نے جیب سے پانچ روپے کا سکہ نکال کر دکان کے دروازے کی طرف اچھال دیا۔ بابوباو ¿لا اور چپٹا حیرت سے انہیں دیکھنے لگے کیوں کہ استاد دلارے تو اتنے کنجوس بلکہ مکھی کھاو ¿ تھے کہ زمین پر تھوکنے سے بھی گریز کرتے تھے‘بھلا پانچ روپے کیسے پھینک دیتے۔

استاد دلارے نے بابو باو ¿لے سے کہا۔”چل….جلدی سے یہ پانچ روپے اُٹھا۔“یہ کہتے ہوئے وہ کسی بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح اپنا ایک کھر زمین پر رگڑرہے تھے۔آج انہوں نے اپنا اسٹیل کی ٹووالا جوتا پہنا ہوا تھا۔بابو تو تھا ہی باو ¿لا۔بڑی سعادت مندی کے ساتھ پلٹ کر سکہ اٹھانے کے لیے جھکا۔وہ رکوع سے بھی زیادہ”ڈیپ “میں چلا گیا تھا۔استاد دلارے نے اپنی آنکھوں کی ٹیلی اسکوپ سے ہدف کو تاکا،شست باندھی اور بھاگ کر ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر نشانے پر ٹھڈار سید کیا۔بابو باو ¿لا گیند کی طرح اچھل کر دکان سے باہر جاگرا۔

استاد نے سکہ اٹھا کر واپس جیب میں رکھ لیا اور گرجنے لگے۔”دفع ہو جاادھر سے بھوتنی والے….اپنی حرام صورت گم کر یہاں سے…. آئندہ اپنی یہ خبیث صورت لے کر میری دکان کے آگے سے بھی گزرا تو تیرے پیچھے کتا لگادوں گا۔“استاد دلارے نے آگے بڑھ کر بابو کے ایک او رلات جمادی۔

بابو باو ¿لا پٹ کر بھی جاتے جاتے ہیکڑی دکھا رہا تھا اور اپنی قمیص کے کالر کھڑے کرتے ہوئے بول رہا تھا۔”جارا ہوں، جارا ہوں…. آرام سے….تمیز سے لات مارو ….تم نیچ خاندان کے ہوتو کیا ہوا….میں بھی کوئی گرے پڑے خاندان کا نہیں ہوں ،جو ایسے ہی عزت تیل کردو گے ….ہاں….ہم بھی کان میلےے ہیں،کان میلےے۔“

”ابے بھنگی کی شکل کے…. جاتا ہے یا دوں ایک اور لات….کھجلی مچ رہی ہے تو بتادے۔“استاد نے ایک ٹانگ اُٹھا کرلوڈ کی۔

بابو باو ¿لا دور جاکر پلٹا اور دونوں ہاتھوں کی لعنت دکھا کر بھاگ گیا۔استاد تلملا کر اندر آئے۔اتنے میں چپٹے نے دکان میں گری ہوئی استاد کی سائیکل اٹھا کر ایک طرف کھڑی کر دی تھی۔شہنائی انہوں نے بابو باولے کے سر پر دے ماری تھی، اس لیے وہ پچک کر رہ گئی تھی۔ استاد پرجنون چڑھا ہوا تھا۔انہوں نے دکان کے سامنے پڑا ہوا ایک بلاک اٹھایا اور اندر لاکر شہنائی پر دے مارا۔شہنائی پچک کر اسٹیکربن گئی۔اس بات کا انہیں غصہ تو تھا ،صدمہ بھی الگ تھا۔یہ شہنائی ان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی،کیوں کہ یہ ان کے دادا جان عبدالعزیز کی واحد نشانی تھی۔اسے بجاتے ہوئے انتقال پر خیال ہوا تھا۔وہ غم ناک صورت بنا کر ایک طرف جابیٹھے ۔

”یہ میرے دادا کی نشانی تھی….اب دادا مجھ سے چراند کریں گے۔“انہوں نے ایک گرم آہ بھرتے ہوئے کہا۔”بڑے بھوتنی کے دادا ہیں میرے۔“

”دادا؟“چپٹا حیران ہو کر بولا۔”مگر استاد آپ کے دادا حضور تو تیلیوں اور قصائیوں کی جنگ میں بے موت مارے گئے تھے؟“

”ابے وہ اب بھی خوابوں میں آتے ہیں….آج تو وہ ہنٹر لے کر آئیں گے….پتا نہیں کیسے دادا ہیں میرے….مرنے کے بعد بھی چین نہیں ہے۔“

اچانک دکان میں دو گاو ¿ دی شکل کے آدمی داخل ہوئے۔انہوں نے غور سے استاد دلارے کو دیکھا اور ایک آدمی نے پوچھا۔”جی…. آپ ہی استاد دلارے ہیں؟“

”ہاں جی۔“چپٹے نے نمبر بناتے ہوئے کہا۔”آپ کو کوئی شک ہے….اب ان کی شکل گورکن سے ملتی ہے تو کیا ہوا ….یہ ہیں تو استاد دلارے ہی۔“

”بھئی بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔“اس آدمی نے بڑی گرم جوشی سے استاد سے زبردستی ہاتھ ملایا۔”بڑا نام سنا ہے آپ کا…. بہت ذکر سنا ہے۔“

 ”اچھا ….“استاد کی سانسیں چڑھ گئیں۔”کہاں ذکر سنا ہے؟“

 ”ایک ہی آدمی سے سنا ہے….و ہ سخن اکبر آبادی ہے نا….وہی آپ کا اکثر ذکربار بار کرتا رہتا ہے۔“دوسرے آدمی نے پیلاجھوٹ بولا، حالاں کہ سخن سے ان کی صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی۔”وہی آپ کے بارے میں اُلٹی سیدھی باتیں کرتا رہتا ہے۔“

 ”اوئے چپٹے…. تو کیا غور سے ہماری باتیں سن رہا ہے؟“استاد نے چپٹے کو ڈانٹا۔”چل وہ کرسیاں اٹھا کر لا….دیکھ نہیں رہا، صاحب لوگ پتا نہیں کہاں کہاں سے کتا خواری کر تے ہوئے آئے ہیں۔بے چارے بھک منگوں کی طرح کھڑے ہیں ۔فٹا فٹ کر سیاں لا۔“

دکان کے ایک کونے میں بوسیدہ اور تباہ حال کر سیاں پڑی تھیں ،جو کسی زمانے میں استاد نے ایک ڈیکوریشن والے کی چرا کر چھپالی تھیں ۔ان پر پتلی پتلی میلی چیکٹ گدیاں رکھی تھیں۔جیسے انہیں جلے ہوئے موبل آئل میں ڈبو کر وہاں رکھ دیا گیا ہو۔

”یہ لیں جی….بیٹھ جائیں اپنی اپنی تشریف رکھ دیںان پر۔“چپٹے نے بڑے احترام سے کہا۔

ایک آدمی تو آرام سے بیٹھ گیا، البتہ دوسرے آدمی کے بیٹھنے کا سلسلہ طویل ہوگیا۔معلوم ہو اکہ کرسی کے عین درمیان میں ایک بڑا گول سوراخ تھا، جس میں کوئی بھی بدقسمت باآسانی پھنس سکتا تھا۔گدی ہونے کی وجہ سے سوراخ چھپا ہوا تھا۔آدمی بغلوں تک اچھی طرح پھنس گیا تو خوف زدہ ہو کر چلا یا۔

”ابے یہ میں کہاں پھنس گیا….یہ کیسی مریضوں و الی کرسی ہے…. باہر نکالو مجھے….اے منا بھائی ….کھڑے کھڑے اِدھر اُدھر کیا دیکھ رہے ہو….باہر نکال مجھے۔“وہ آدمی کرسی میں پھنسا ہوا مکڑی کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔اس کی صرف کھوپڑی اور ہاتھ پیر کرسی پر نظر آرہے تھے۔منا بھائی پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ بے چارہ کرسی میں فولڈ ہو کر رہ گیا تھا۔

استاد نے چپٹے کو ایک بار پھر ڈانٹا”ابے یہ تونے ان لوگوں کو دشمنوں والی کرسی لاکر دے دی….دوستوں والی کرسی لا بھوتنی کے۔“

”مجھے باہر نکالو، ورنہ میں مر جاو ¿ں گا۔میری سانس رک رہی ہے۔“کرسی میں پھنسا ہوا مکڑی نما آدمی چلایا۔

”سانس کو رکنے مت دینا ….کشمیر کی آزادی تک جاری رکھو۔“استاد دلارے نے اسے حوصلہ دیا۔

”میں آرہا ہوں چنا بھائی۔“منابھائی نے کرسی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور آگے بڑھ کر چنا بھائی کے ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچا تو کرسی بھی ساتھ چلی آئی۔چنا بھائی کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔وہ کرسی کے اندر مرغا بنے ہوئے تھے۔

منا بھائی زور لگا لگا کر تنگ آگئے تو انہوں نے جھنجلا کر اپنی کوشش ترک کر دی اور منہ بنا کر بولے۔”ابے چل….میں تو نہیں نکال رہا ….زور لگا لگا کر میرے ہاتھوں میں درد ہو گیا ہے…. خود نکل جا۔“

”ارے لوگو….کچھ کرو ،میری جان خطرے میں ہے۔“چنا بھائی دہائی دینے والے انداز میں چیخے۔

”رکو….دو گھنٹے صبر کرو۔ہم تمہیں نکالنے کی کوئی ترکیب سوچتے ہیں۔“استاد دلارے نے اسے اطمینان دلایا اور سوچنے کے انداز میں گال پر انگلی مارنے لگے۔

”مجھے لگتا ہے میں کرسی میں پھنسے پھنسے ہی مر جاو ¿ں گا۔“چنا بھائی ٹسوے بہارہے تھے۔

”بے فکر رہو….ہم لوگوں کے ہوتے ہوئے اتنی آسانی سے نہیں مروگے….مروگے تو سسک سسک کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر۔“استاد نے دانت نکوستے ہوئے کہا۔چنا بھائی روح فنا ہونے لگی۔

”مگر استاد یہ ایڑیاں کیسے رگڑیں گے….ان کی تو ٹانگیں ہی ہوا میں ہیں۔“چپٹے نے ذہانت کامظاہر کیا۔

”اچھا بکواس بند کر‘کوئی کام کرلے جاکر….وہ سامنے بڑھئی سے آرالے کر آجلدی سے….“استاد نے اسے ڈانٹا۔

”آرا ؟“منا بھائی کے ساتھ چنا بھائی بھی چونک پڑے تھے۔

استاد نے کہا”ہاں آرا….آرے کو آنے دو ،پھر دیکھنا میرا کمال بچو….چنا بھائی کو کرسی میں سے ایسے نکال لوں گا جیسے نالی میںسے کیڑا۔“

چند ہی منٹ میں چپٹا آرا لے آیا۔اس نے آرے کو بندوق کی طرح اپنے کندھے پر رکھا اور پوچھا ۔”استاد….بتاو ¿ اب کیا کرنا ہے؟“

”چنا بھائی کو کرسی سے نکالنا ہے….چل ہو جا شروع ….مگر ذرا ہوشیاری سے آرا چلا ئیو….کرسی پرمعمولی سی خراش بھی آئی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔“استاد نے اسے ہدایت دی۔

”ابے ….ابے استاد….یہ کیا کہہ رہے ہو؟“چنا بھائی چلا اٹھے۔”میرے ہاتھ پیر کٹواو ¿ گے کیا؟“

”چپٹی ناک والے…. دور کر یہ آرا….“منا بھائی بھی آگے آئے۔

”ارے کچھ نہیں ہوگا ۔بس دو منٹ کی بات ہے۔بس دونوں ہاتھ کٹیں گے اور پھر یہ آرام سے نکل جائیں گے۔“استاد نے ہنستے ہوئے آزادی کا مژدہ سنا یا، جو انہیں مژدہ کم اور اژدھا زیادہ لگا۔

”نہیں ….نہیں ٹھیک ہے…. میں پھنسا ہوا ہی ٹھیک ہوں….ایسے ہی مزے میں ہوں….واہ وا….کتنا مزہ آرہا ہے۔“چنا بھائی زبردستی مسکرانے لگے تھے، البتہ اُن کے چہرے پرخوف کے سائے چیل کی طرح منڈلارہے تھے۔

’اچھا تو یہ با ت….لاو ¿ یار بہت ہوگئی….میں نکالتا ہوں اس بھوتنی والے کو۔مجھے دوسرا طریقہ بھی آتا ہے۔“استاد یہ کہہ کر آگے بڑھے اور اپنی شلوار کے پائینچے اوپر چڑھا ئے اورایک جھٹکے سے گردن گھما کر چنا بھائی کو خون خوار نظروں سے دیکھا۔ان کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر چنا بھائی کا حلق خشک ہو گیا۔ استاد نے پاگل ہاتھی کی طرح چنگھاڑیاں ماریں اور لپک کر کرسی کو زور دار دھکا دیا۔وہ پہلو کے بل اُلٹ گئی۔استاد نے اسے مکمل اُلٹا دیا۔اب چنا بھائی کامنہ دکان کے میلے اور بدبو دار کھردرے فرش سے لگا ہوا تھا۔استاد نے کرسی کو اسی حالت میں پوری دکان میں گھسیٹ گھسیٹ کر چنا بھائی کا منہ فرش سے چھیل کر رکھ دیا۔پھر وہ دکان کے ایک کونے میں گئے اور واپس آکر بولے۔

”اب دیکھنا….کرسی میں پھنسا ہوا آدمی کیسے نکلتا ہے۔“انہوں نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔چپٹے اور منا بھائی نے اُن کے ہاتھوں میں لحاف سینے والا لمبا سوا دیکھا اور پھر وہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔استاد فلمی ولن کی طرح سوے کو آنکھوں کے سامنے نچاتے ہوئے خبیث مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھے۔کرسی میں پھنسے ہوئے چنا بھائی سجدے کی شکل میں راکٹ جیسے بنے ہوئے تھے۔پھر استاد کے سوے والا ہاتھ بجلی کی تیزی سے حرکت میںآیا۔منا بھائی اور چپٹے سے یہ منظر دیکھا نہ گیااور دونوں نے بے اختیار آنکھیں بند کرلی تھیں۔

دکان میں ایک تھرتھراتی ہوئی روح کو ٹھٹھرادینے والی چیخ ابھری۔

چیخ کے بعد موت کا ساسکوت چھاگیا۔منا بھائی اور چپٹے نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت اور خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔چنا بھائی کرسی کے چنگل سے آزاد ہو چکے تھے اور استاد سے ہاتھ ملا تے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کر رہے تھے اور استاد شرمندہ ہو کر بول رہے تھے۔

”ارے….جناب….شکریہ کاہے کا….یہ تو انسانیت کے ناتے میرا فرض تھا۔اگر آپ ہزار مرتبہ بھی کرسی میں پھنسو گے تو میں بھی ہزار مرتبہ اسی طرح آپ کی مدد کروں گا۔آخر انسان ہی انسان کے کام آتا ہے ۔آپ فرمائیے….آپ نے کس کام سے آکر یہاں اپنی تشریف پھنسائی تھی؟“

”دراصل ہم آپ کی اس کالونی میں رہنے والے ایک ادیب سخن اکبر آبادی سے ملنے آئے تھے۔اس نے ہمیں آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ آپ ہمیں اس کے گھر کا راستہ صحیح طریقے سے سمجھادیں گے۔“ چنا بھائی کا ایک ہاتھ مقام ِمتاثرہ کو سہلارہا تھا ،جہاں استاد نے سوابازی کی تھی۔

”بالکل ٹھیک بتایا تھا اس نے آپ کو….آئیے، میں راستہ سمجھا دیتا ہوں۔“استاد انہیں لے کر دکان سے باہر آگئے اور پھر ہاتھ کے اشارے سے بتانے لگے۔”یہ جو اُلٹے ہاتھ پر ایک راستہ دیکھ رہے ہیں،بس اسی پر سیدھے سیدھے چلے جائیں۔بالکل سیدھا جاکر آگے بھینسوں کا باڑا آجائے گا۔ وہاں آپ گوبر سے بچتے بچاتے نکلیں گے تو آگے ایک چھوٹی سی پلیا آجائے گی۔ پلیار پار کالونی کی حدود ختم ہو جاتی ہے اور شاید کسی دوسرے ملک کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔پتا نہیں آگے جاپان ہے یاپھر بھوٹان، لہٰذا ادھر جانا فضول ہے۔ ٹائم الگ برباد ہوگا اور دھوپ میںرنگ مزید کالے ہو جائیں گے۔آپ سیدھے ہاتھ والے راستے سے جائیں۔ آگے جاکر راستہ گولائی میں گھوم جائے گا اور ایک قبر ستان دکھائی دے گا۔کالونی کے سارے گناہ گا ر وہاں دفن ہیں۔ان کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ پڑھ کر اگر بتیاں لگا دینا ۔ قبرستان سے چار فرلانگ آگے ایک گاو ¿ں آجائے گا۔ اس گاو ¿ں کا نام کنجڑا نوالہ ہے۔کیا آپ لوگوں نے وہاں جانا ہے؟“اچانک آخر میں استاد نے اُن سے اہم ترین سوال کر لیا۔

دونوں بوکھلا کر احمقوں کی طرح گردنیں نفی میں ہلانے لگے۔

استاد بولے۔”جس گاو ¿ں جانا ہی نہیں تو پھر اس کا پتا کیوں معلوم کر رہے ہو؟“

”ہم کہاں معلوم کررہے ہیں….آپ خود ہی بولے جارہے ہو۔“منابھائی جھنجلا اُٹھے۔

”صحیح راستہ بتادو استاد۔“چنا بھائی بھی جھلس رہے تھے۔”پہلے بولتے ہو اُس راستے جاو ¿، پھر منع کر دیتے ہو۔ پھر دوسرے راستے پر بھیجتے ہو۔ پھر بولتے ہو اِدھر جانا بھی بے کار ہے۔آخر ہم دکھیارے کہاں جائےں؟اصل راستہ کون سا ہے؟سخن کون سی سمت میں رہتا ہے آخر؟“

”صبر بھائی صاحب صبر….ایسی کیا بے چینی ہے آپ کو اس کے گھر پہنچنے کی….اس کے گھر کیا چھولوں کا لنگر ہو رہا ہے۔اب میں آپ کو صراط مستقیم پر ہی لارہا ہوں۔“استاد دلارے نے اپنی قمیص کا پچھلا دامن درست کرتے ہوئے کہا۔”یہ جو ناک کی سیدھ میں راستہ نظر آ رہا ہے نا آپ دونوں کو،جہاں وہ سامنے کچرے کے پاس گدھا بندھا ہوا ہے….نظرآ رہا ہے یا نہیں؟“

”ہاں،ہاں آ رہا ہے۔“ دونوں گردنیں ہلانے لگے۔

”کیا آ رہاہے؟“ استاد ایک دم چونکے۔

”گدھا….ارے بھئی راستہ؟“منا بھائی بوکھلا گئے۔

”واہ ….بھوتنی کے ….میں راستہ دکھا رہا ہوں اور آپ دونوں گدھا دیکھ رہے ہو؟بھئی میری طرف دیکھو۔“

”استاد ….خدا کا واسطہ ….آگے بتا ¶۔“

” ہاں تو بس اسی راستے پر چلتے جاو ¿….پھر کان کی آڑ میں مڑ جانا…. آگے گدھا گاڑی اسٹینڈ آئے گا۔وہاں آپ کو ہر رنگ و نسل کے گدھے دکھائی دیں گے، لیکن گدھوں پر زیادہ توجہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ایک گدھا دیکھ لیا ،آج کے لےے کافی ہے….آپ اپنے کام سے کام رکھو….گدھا اسٹینڈ سے آگے خوف ناک پہاڑی سلسلہ شروع ہو گا۔بس آپ دونوں اﷲ کا نام لے کر پہاڑ پر چڑھ جانا۔پہاڑ کے پار ایک ویرانہ ہے، جہاں سیب کے درخت پر آسیب ہے‘پھر دریا پڑے گا ،اسے تیر کر عبور کرنا ہوگا۔“

بولتے بولتے استاد کی نگاہ ان دونوں پر پڑی وہ دونوں ایک دوسرے کا سرد بارہے تھے۔

”ارے کیا ہوگیا بھوتنی والو….میں تو اتنا آسان سا ایڈریس سمجھا رہا ہوں ۔“ استاد نے حیرت سے کہا۔

”آپ کا بہت بہت شکریہ استاد….اتنے آسان ایڈریس پر تو ہم پہنچے ہی پہنچے ۔اچھا خدا حافظ۔“ منا بھائی نے سوئی سوئی سی نظروں سے انہیں دیکھا اور وہ دونوں تیزی سے آگے بڑھ گئے۔استا د معزز آدمیوں کو بڑی عزت سے آوازیں دیتے رہ گئے۔

”ارے کہاں بھائی بھوتینوں کے ….تھوڑا رکو تو ….ابے رکو اُوے….جا ¶ ….لعنت تمہاری شکلوں پر۔“

                                                          ٭٭٭

سخن نے دفتر میں گھسنے سے پہلے باہر لگے چھوٹے سے بورڈ نظر ڈالی۔اس پر بڑی خوب صورتی سے ماہ نامہ”گنجی کھوپڑی “لکھا تھا۔سخن آج اس ڈائجسٹ کے ایڈیٹر سے ملاقات کرنے آیا تھا۔وہ اس ڈائجسٹ میں بہت سی کہانیاں اور ناولٹ وغیرہ لکھ کر بذریعہ ڈاک بھجواچکا تھا،لیکن اب تک ایک بھی کہانی شائع نہیں ہوئی تھی۔اس کاخیال تھا کہ اس کی کہانیاں ڈائجسٹوں میں شائع ہو کر تہلکہ مچادیںگی۔لوگ اسے روک روک کر ہار پھول پہنائیں گے،آٹو گراف مانگیں گے۔ پورے ملک کے باقی ادیبوں کے چراغ اس کے سامنے بجھ جائیں گے۔ ایڈیٹرز خط لکھ لکھ کراس سے کہانیوں کی فرمائشیں کریں گے۔اس کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس کی رائٹنگ بہت غلیظ تھی۔

وہ اپنی مدد آپ کے زریں اصول کے تحت تختی اور دوات لے آیا ،تاکہ رات کے سناٹے میں وہ اپنی رائٹنگ درست کر سکے، مگر نتیجہ اُلٹ نکلا۔جو تھوڑی بہت رائٹنگ درست تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔آخر اس نے رائٹنگ پرچپلوں کی لعنت بھیجی اور دھڑا دھڑ بے مغز کہانیاں لکھنا شروع کردیں ۔جو خرافات اس کے دماغ میں گیس کی طرح بھرتےں‘انہیں کاغذوں پر منتقل کر دیتا تھا اورہررسالے میں دس دس کہانیں بھیج دیں ۔ ساتھ ہی اپنے گڑ گڑاتے‘عاجزانہ ، فقیرانہ اور خوشامد انہ خطوط ایڈیٹرز کو لکھ مارے۔

ڈھیروں کہانیاں بھیج کر سخن نے بہت انتظار کیا کہ کب اس کی کہانیاں شائع ہوتی ہیں اور کب اسے ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ملتا ہے مگر تین ‘چار ماہ گزر گئے اور کہیں بھی اس کی ایک کہانی بھی شائع نہ ہوئی تو اس کے پیٹ میں فکر کے مارے گڑ گڑ ہونے لگی،جو کالے چورن سے بھی”پھر“نہیں ہوئی۔ایک صبح اس نے اپنے والد مرحوم کا حقہ چرا کر کباڑیے کو بیچ دیا۔کباڑیا حقے کو بحری جہاز کا لنگر سمجھا تھا۔سخن نے بڑی مشکلوں سے اسے یقین دلایا کہ اس کے والد پرانے زمانے میں اس سے کش لگا یا کرتے تھے ۔

بہرحال سخن کرائے بھاڑے کے پیسے آنے کے بعد گھر سے نکل گیا ۔اس نے چلتے وقت اماں سے کہہ دیا تھا کہ وہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے جارہا ہے، لہٰذا رات تک ہی واپسی ہوگی۔اس کی والدہ یہ سمجھیں کہ سخن کے دماغ پر پھر سے نائٹروجن گیس چڑھ گئی ہے، کیوں کہ بقر عید کو گزرے کئی ماہ گزر چکے تھے۔

اب سخن ماہ نامہ”گنجی کھوپڑی“ کے دفتر آیا تھا۔اس نے اپنی شلوار کی عقبی خفیہ جیب سے ایک غلیظ کنگھا نکالا اور بالوں کو سنوار کر کشتی نما پف بنا لیا۔پھرپیر چوڑے کر کے انتہائی بے ڈھنگی چال چلتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔اس کے خیال میں یہ بارعب چال تھی ۔اندر آنے کے بعد اس نے ایک جانب ایک پاگل صورت نوجوان کو دیکھا ،جو کرسی سے نیچے بیٹھا سر کھجا رہا تھااور ساتھ ہی اپنی جوئےں نکال کر چپل سے مار رہا تھا ۔ساتھ ساتھ بولتا جا رہا تھا۔” بہت کاٹ رہی تھی …. ہیں….اب بول ….کاٹے گی؟“

سخن اس کے نزدیک آیا اور بڑی کراری آواز میں بولا۔”ہمیں ایڈیٹر صاحب سے ملنا ہے….اُن کو جاکر اطلاع کرو کہ بہت بڑے ادیب آئے ہیں۔“

پاگل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور کاٹ کھانے والے انداز میں بولا ۔”کیا ہے ….کون ہو تم؟ مو چی تو نہیں ہو؟“

”میںموچی نہیں ہوں۔“سخن نے تیور بگاڑ لیے۔”میں ادیب ہوں۔ جاکر ایڈیٹر سے بول….کوئی ادیب آیا ہے ۔ “

 ”تم….تم ادیب ہو؟“اچانک پاگل سر کھجاتے ہوئے ہنس پڑا۔”شکل سے تو ہڈیاں چننے والے لگ رہے ہو۔“

” کیا بکواس کر رہاہے….ابھی یہ چپل تیرے منہ میں ہی گھسیڑ دوں گا۔“سخن کو غصہ آگیا۔” جلد از جلد ایڈیٹرسے ملواو ¿….مجھے اور بھی بہت سے فالتو کام نمٹانے ہیں‘جلد ی کرو۔“

”وہ سامنے دروازہ کھلا ہے ‘چلے جاو ¿….وہاں ایڈیٹر صاحب بیٹھے ہیں۔“پاگل نے ایک کھلے ہوئے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

سخن برا سا منہ بناکر گھس گیا ۔وہاں ایک شان دار ٹیبل کے پیچھے ایک بارعب شخصیت بیٹھی تھی۔اُن صاحب نے بڑا نفیس سوٹ رکھا تھا ۔ ان کی ٹیبل پر بہت سے کاغذ رکھے تھے۔سامنے غالباً کسی کہانی کا مسودہ رکھا تھا ۔وہ مسودے پر بیٹھی ایک مکھی کوبڑے غور سے دیکھ رہا تھا ۔ اتنے میں مکھی اُڑگئی اور وہاں ایک سیاہ نشان جان بوجھ کر چھوڑ گئی۔سخن نے اپنی موجودی کا احساس دلانے کے لیے زور سے گلا کھنکھارا تو بہت سا تھوک اس کے منہ سے نکل کر ٹیبل پر جا گرا ۔وہ تو شکر ہے کہ ایڈیٹر نے تھوک دیکھا نہیں۔سخن نے آگے بڑھ کر تھوک پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔پھر اس نے چپکے سے تھوک میں لتھڑا ہوا ہاتھ اپنی شلوار سے صاف کرلیا۔

”سلام عرض کررہاہوں حضور۔“اس نے ایسی کراری آواز میں کہا جیسے پاپڑ والے کی آواز ہوتی ہے۔

ایڈیٹر صاحب اُچھل پڑے۔اس نے بڑی ناگواری سے سخن کو دیکھا اور پوچھا۔”کون ہیں آپ؟“

”اجی قبلہ ہم ادیب ہیں….آپ سے ملنے آئے ہیں۔“

”جی فرمائیے….کیا کام ہے مجھ سے؟“ایڈیٹر نے سخن کا بغور جائزہ لیا۔اسے یقین نہیں آرہاتھاکہ وہ اوجڑی فروش جیسی شکل کا آدمی ادیب بھی ہوسکتا ہے۔”تو آپ کہانیاں بھی لکھتے ہیں….اور کیا کیا کرتے ہیں آپ؟“

”اور بھلا کیا کروں گا اور بس وہی کچھ کرتا ہوں، جو انسان کرتے ہیں ۔“سخن نے بڑا دو معنی مختصر اور جامع جواب پھینکا،جو”ٹن“کر کے ایڈیٹر کے دماغ پر لگا۔

”میرا مطلب ہے کام کیا کرتے ہیںآپ؟“ایڈیٹر نے اپنا مغز سابقہ جگہ ایڈجسٹ کرتے ہوئے پوچھا۔

”کام تو بے شمار کیے ہیں،لیکن اب اپنی تمام صلاحیتیں کہانیاں لکھنے پر صرف کردی ہیں۔پورے ملک کے بڑے بڑے ڈائجسٹوں کو کہانیاں بھیج رکھی ہیں….آپ کے رسالے کے لےے بھی بارہ کہانیاں ڈاک سے بھیجی تھیں۔“سخن نے شان بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کی کوشش کی، لیکن وہ پھسل گئی۔ سخن گرتے گرتے بچا۔

”اچھا واقعی ؟“ایڈیٹر نے آنکھیں پھاڑیں۔”وہ کس نام سے بھیجی تھیں۔میرا مطلب ہے آپ کانام کیا ہے؟“

”ہمارا نام سنیں گے تو اچھل پڑےں گے۔“سخن زیر لب مسکرارہا تھا۔

”کیوں آپ کوئی اشتہاری مجرم ہیں؟“ایڈیٹر نے چونک کر پوچھا۔

”ہمار انام سخن اکبر آبادی ہے۔“سخن نے انکشاف کیااور منہ سے سنسنی خیزمیوزک دیا۔”ٹین ٹےن ٹےڑےن۔“

اور واقعی ایڈیٹر اپنی کرسی سے آٹو میٹک ایک فٹ ،تین انچ اور ڈھائی سوت اُچھل پڑا،جیسے کرسی میں سے گرم گرم نیزہ نکل آیا ہو۔سخن کو اس بات کی اُمید تھی ،لہٰذا وہ فخریہ انداز میں کرسی پر پھیل کر بیٹھ گیا اور ٹانگیں ہلا ہلا کر دفتر میں نیستی پھیلا نے لگا۔

”تو….تو تم ہو…. ادیب سخن اکبر آبادی؟“ایڈیٹر کی آواز لرزرہی تھی ۔”ویری گڈ….ویری ویری گڈ۔“

”ہاں ہاں بہرے….میں سخن اکبر آبادی ہوں۔“لگے ہاتھوں سخن نے اسے لتاڑ بھی دیا۔”کانوں میں مٹی کا تیل ڈالا کر۔“

”حامد ۔“ایڈیٹر نے زور سے آواز لگائی ۔شاید وہ باہر بیٹھے پاگل کو بلارہا تھا۔

سخن نے ہاتھ ہلا کر تکلفاً اسے منع کیا۔”نو….نو ….چائے شربت وغیرہ کی زحمت نہ کریں۔کھانا منگوالیں۔دو کلو بریانی کافی رہے گی، اپن دونوں بھائیوں کے لیے….اوپر سے دو کباب بھی بول دیں….اور ہاں، اسے کہہ دینا کہ رائتہ الگ سے بندھوا کر لائے تھیلی میں۔“

اتنے میں حامد نامی پاگل نوجوان اندر چلا آیا۔

ایڈیٹر جمپ مار کر اپنی ٹیبل پر چڑھا اور مگر مچھ کی طرح رینگتا ہوا سخن تک چلا آیا۔اس نے جھپٹا مار کر سخن کا ڈھیلا ڈھالا گریبان پکڑلیا اور اسے جھنجوڑ تا ہوا بولا۔”ابے یہی ہے خبیث کا بچہ….وہ منحوس رائٹر سخن اکبر آبادی….اب کروں گا میں اس کی بربادی….ہاہا….شکار خود بہ خود چل کر پنجرے میں آگیا ہے….کتنی دعائیں مانگی تھیں میں نے اﷲ میاںسے اس کے لیے….آج میری دعائیں قبول ہوہی گئیں ۔ حامد ….ذرا میرا وہ ہنٹر تو لے کر آ….جو میں نے اس منحوس کے لیے خاص طور پرمصر کے بازار سے خریدا تھا۔آج تو میں اس چمار کی چمڑی اُدھیڑ ڈالوں گا اور پھر اس چمڑی سے ڈھول بنواو ¿ں گا ۔“

سخن تو سمجھ ہی نہیں پارہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔وہ بری طرح حواس باختہ ہو گیا تھا ۔اس نے بری طرح گھگھیاتے ہوئے کہا ۔ ”بھائی….بھائی صاحب۔ جناب محترم….یہ کیا کررہے ہیں آپ….با ¶لے پن کا دورہ تو نہیں پڑ گیا؟آخر میرا قصور کیا ہے بھائی؟“

”قصور ؟“ایڈیٹر نے اسے ایک سیکنڈ میں پچیس مرتبہ زور زور سے آگے پیچھے کیا۔”تیرا قصور یہ ہے کہ تو ایک رائٹربن گیا ہے…. بول پہلے کیا کرتا تھا ؟کتر کی مشین چلاتا تھا….گنڈیریاں بیچتا تھا…. غبارے بیچتا تھا ….اوجڑی کا ٹھیلہ لگا تا تھا….کنڈیکٹری کرتا تھا…. کیا کرتا تھا، بول….بول خبیث بول….جواب دے؟“

”پہلے ….پہلے آوارہ گردی کرتا تھا ۔“بوکھلا کر سخن نے سچ بول دیا۔

”آوارہ گردی….بہت اچھا کرتا تھا….چھوڑ کیوں دی آوارہ گردی….وہی کرتا رہتا ….کہانیاں کیوں لکھنا شروع کردیں تو نے ؟وہ بارہ کہانیاں تو نے بھیجی تھیں ….بتا ،آج یہ بتا….وہ کیا تھیں، کیا چیزیں تھیں وہ….بول خبیث ،بک دے….آ ج تو میں تیرا لہو پی جاو ¿ں گا ….بتا وہ کیا بھیجا تھا….جب تیرے سر میں نہیں ہے بھیجہ…. تو وہ تونے ہم کو کیوں بھیجا….بتا ؟“

ایڈیٹر آدم خور بلا لگ رہا تھا۔وہ سخن کے بال پکڑ کر کبھی اِدھرکبھی اُدھر جھکا رہا تھا۔سخن نے بھی تلملا کر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس کے بال پکڑ لیے۔دوسرا ہی لمحہ ہنسا دینے والا تھا۔ایڈیٹر کے بال دودھ پر جمی ہوئی بالائی کی طرح اُتر کر سخن کے ہاتھوں میں آگئے۔معلوم ہوا ایڈیٹر نے وگ لگا رکھی تھی اور اندر سے وہ ایک شان دار گنجا تھا۔

”دیکھا….دیکھا تونے؟“ایڈیٹر نے غصے میں اپنی ٹنڈپر ایک طوفانی چپت لگائی۔ پورا کمرا بھرا کررہ گیا۔”دیکھی میری گنجی کھوپڑی …. اتنے اچھے خاصے گھنے اور چمک دارریشمی بال تھے۔میرے سب تعریفیں کرتے تھے بالوں کی…. تیری کہانیاں پڑھ پڑھ کر میں گنجا ہو گیا ہوں….میں تیری کہانیاںپڑھتا رہا اور بال جھڑتے رہے….اور ….اور اوپر سے تجھے اپنے آپ پرفخر ہے….ابھی تو دیکھ، تیرا فخر کیسے نکالتا ہوں میں….دیکھ ناں میری ٹنڈ….غور سے دیکھ اپنا یہ نرالا کارنامہ۔“

ایڈیٹر اپنی کھوپڑی سخن کے منہ میں گھسیڑے دے رہا تھا۔سخن نے لرزتے ہوئے اس کی کرشماتی کھوپڑی پر عقیدت اور احترام سے بوسہ دیا اور پھر کانپتے ہوئے بولا۔”سلا م ہے اس گنجی کھوپڑی کو۔آپ بے فکر رہو ۔میں اس پر کسی گدھے کی دم کے بال گوند سے چپکا دوں گا۔ پھر آپ ہنسی خوشی رہنے لگوگے۔“

”نہیں نہیں….اب کچھ بھی نہیں ہو گا۔اب صرف یہاں خون کے فوارے اُچھلیں گے۔“ایڈیٹر تو نہ جانے کب سے اپنے نیچے انتقام کے شعلے دبائے بیٹھا تھا ۔”تو نے اس کو دیکھا،حامد کو….یہ اپنی ماں کو اکلوتا بیٹا ہے۔ اس نے تیری کہانیاں پڑھ لیں تو یہ کریک ہوگیا ….تو نے اس کی ماں کے ارمانوں کا خون کر دیا ہے ۔تیری وجہ سے وہ اپنے ہوش و حواس کھوچکا ہے۔حامد….ابے جلدی سے ہنٹر لے کرآ۔“ایڈیٹر زور سے دھاڑا۔

سخن اب سمجھ چکا تھا کہ یہ لوگ اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے، چناںچہ اس نے تیزی سے ایڈیٹر کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر گدگدی کی اور وہ ہی ہی کر کے ہنس دیا۔گرفت ڈھیلی پڑتے ہی سخن ایڈیٹر کے شکنجے سے نکل کر بھاگ نکلا۔وہ جیسے ہی دروازے تک پہنچا، اس کے سامنے وہی پاگل آگیا۔اس کے ہاتھ میں سرسوں کے تیل میں بھیگا ہوا ہنٹر تھا ۔

پاگل ہنٹر لہراتا ہوا بولا۔”اب کہاں جائے بچو؟“

پاگل ضرورت سے زیادہ ٹانگیں کھولے کھڑا تھا ۔یہ کہہ کر پاگل نے ہنٹر لہرا کر زور سے سخن کے مارنا چاہا۔سخن کمالِ پھرتی سے ایک طرف ہٹ گیا۔اس کے عقب میں ایڈیٹر اسے دبوچنے آرہا تھا۔ہنٹر کسی کوچوان کے کوڑے کی طرح بل کھاتا اور شڑاپ شڑاپ کرتا پٹاخ سے ایڈیٹر کی گنجی چندیا پر پڑا۔وہ غریب کھوپڑی مسل مسل کر بلبلا اُٹھا ۔بھلا کہاں وہ سرسوں کے تیل میں بھیگا ہو اچمڑے کا ہنٹر اور کہاں ایڈیٹر کا گنجا سر۔

اس نے ایسی دل دوز چیخ ماری کہ باہر ٹریفک ایک دم جام ہو گیا۔لوگ کھڑکیوں سے سر نکال کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔شاید وہ یہ سمجھے کہ آسمان سے کوئی اُڑن طشتری آرہی ہے یا پھر کسی آدمی پر کوئی لوڈ ڈٹرک چڑھ گیا ہے۔اُدھر سخن نے چیتے کی طرح لمبی چھلا نگ ماری اور دفتر سے نکل کر سڑک کی طرف بھاگا۔اسی لمحے ایڈیٹر نے سر جھٹک کر حواس سنبھالے، البتہ اس کی کھوپڑی پر ایک اورنج کلر کی موٹی سی لکیر نمودار ہوگئی تھی۔وہ طوفانی جھکڑ کی طرح سخن کے تعاقب میں لپکا۔اس نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ سخن کو مکلی کے قبرستان کی کسی پرانی قبر میں دفن کر کے ہی رہے گا۔وہ سخن سے چند قدم ہی پیچھے رہ گیا،یعنی سخن ہنٹر کی رینج میں آچکا تھا۔ایڈیٹر نے ہنٹر لہرا کر سخن کے عقبی دھڑ پر مارا۔ ہنٹر کاسرا سخن کی قمیص کے پچھلے دامن پر پڑا اور پچھلا دامن اُڑکر سڑک پر جاگرا۔قمیص عقب سے شرٹ بن گئی تھی ۔اچانک سخن نے راستے میں ایک پھٹا ہوا کینو پڑا دیکھا، جو شاید کسی موالی کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر اتھا ۔ اس نے جھک کرکینو اٹھایا اور پلٹ کر ایڈیٹر کے دے مارا۔ کینو بھی گنجی کھوپڑی سے جالگا۔کینو کا جوس اس کے گنجے سر پر پھیل گیا اور ساری کھوپڑی کھٹی ہوگئی۔ایڈیٹر ناچ کر رہ گیا۔

موقع ملتے ہی سخن رسی تڑائے ہوئے گدھے کی طرح بھاگ نکلا۔آگے موڑمڑتے ہی سخن نے سڑک کے کنارے درخت کے سائے میں ایک لنگڑے فقیر کو بیٹھے دیکھا۔وہ بے چارہ دونوں پیروں سے محروم ومعذور تھا۔فقیر نے ایک بڑی سی چادر اپنے بدن کے گرد شامیانے کی طرح تان رکھی تھی اور آگے ایک سلور کا پیالہ رکھا ہوا تھا۔عقب سے ایڈیٹر کی چنگھاڑیں سنائی دینے لگی تھیں۔وہ بھاگا چلا آرہا تھا ۔سخن کو اور کچھ نہ سوچا تو وہ غڑاپ سے بغیر اجازت فقیر کی چادر میں گھس گیا۔

لنگڑا فقیر چلانے لگا۔”رے کون اے رے تو….بھار نکل میری چدر سے….رے کاں گھس ریا ئے۔“

سخن نے اندر ہی اندر اسے گھر کی دی ۔”ابے لنگڑے کی اولاد….مر کیوں رہا ہے….دومنٹ برداشت کرلے گا تو کون سی تجھے موت آجائے گی ….بیٹھا رہ آرام کے ساتھ….چپ چاپ اپنا دھندہ کر۔ایسے مر رہا ہے جیسے میں تیری شلوار لے کر بھاگ رہا ہوں۔“

” منے کھوب جانوں….منے کوئی پاگل سمجھے اے….تیں اپڑاںٹھیا چھوڑ کے منے ٹھیے پر قبجا کرنا چاتا اے ۔“ فقیر اسے کسی دوسرے علاقے کا فقیر سمجھ بیٹھا تھا۔دونوں چادر کے اندر ہی اندر باتیں کر رہے تھے۔

سخن نے یہ بات سنی تو اس کے آگ لگ گئی۔اس نے لنگڑے فقیر کو چادر کے اندر ہی اندر ایک ہولناک ٹھڈا مارا۔فقیر چیخاضرور، مگر اپنی جگہ نہ چھوڑی۔ شاید کیلیں ٹھونک کر بیٹھا تھا ۔تب سخن نے اس کے زور سے کاٹ لیا ۔فقیر دوبارہ چیخا او رنا جانے کہاں سے اس کے دونوں پیر نمودار ہوگئے۔وہ اپنا ایک کولہا سہلاتا ہوا فاسٹ فارورڈ میں بھاگا ۔اس کا کولہا کبھی بھائیں بھائیں اورکبھی سائیں سائیں کررہا تھا ۔اسی لمحے وہاں گنجا ایڈیٹر ہنٹر لہراتا ہو ا آپہنچا ۔سخن چادر اوڑھے فقیر جیسی آواز میں صدا میں لگا رہا تھا۔

”جو دے اس کا بھلا….جو نہ دے اس کی شکل پر لعنت ….اوبابو….او گنجے بابو….پھکیر کو کچھ دیتا جا….صبح سے ایک سر گٹ بھی نہیں پی….دے دے ،ورنہ دوزخ میں تیری چھترول ہوگی گنجے بابو۔“

”ابے یہ توبھیک مانگ رہا ہے یا تڑیاں لگارہاہے۔“ایڈیٹر مڑ کر غرایا۔سخن نے اپنا چہرہ جھکالیا تھا اور جھومنے لگا۔

”باتیں نہ بنابابو ….دس کا پتا ڈھیلا کر دے، ورنہ بددعا دے دوں گا….تین تک گنتی میں۔“سخن نے ماہرانہ انداز میں اسے ڈرایا۔

”بکواس نہ کر….“ایڈیٹر نے اسے ڈانٹا ۔”یہ بتا اِدھر سے کسی سورجیسی صورت کے آدمی کو بھاگتے تو نہیں دیکھا؟“

سخن نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے اسے شیطان کی طرح بہکایا۔”وہ ابھی ابھی اس طرف بھاگا ہے ایک فقیر کے روپ میں….اس نے بھاگتے بھاگتے اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔وہ دیکھو ….وہ دور….وہ بھاگ رہا ہے۔“

”ابے وہ کسی بندرکے روپ میں بھی آجائے،مگر مجھ سے نہیں بچ سکتا۔“ایڈیٹر نے دور بھاگتے ہوئے فقیر کو دیکھ لیا اور ہنٹر لہرا کر اس کے پیچھے دوڑ لگادی۔اس کے جاتے ہی سخن نے چادر پھینک کر فقیر کے پیالے سے ریز گاری نکال کر جیب میں ڈالی اور دوسری سمت ہو لیا۔

                                                          ٭٭٭

چنا بھائی اور منا بھائی کسی نہ کسی طرح سخن کے گھر پہنچ ہی گئے۔منا بھائی نے کپڑوں کی شکنیں اور چہرے پر پھٹکار کی موٹی موٹی لکیریں درست کرتے ہوئے دروازے پر دستک دی۔

جواب میں سخن کی اماں کی چنگھاڑ اُبھری۔”ارے کون ہے موا….آرہی ہوں صبر کر….کوئی بھکاری ہوگا….اے معاف کر….کوئی نہیں ہے اندر….گھر خالی پڑا ہے۔“

منا بھائی نے دروازہ دوبارہ بجایا۔

”اَیا خئے ….ایک تو یہ کم بخت مارے آنے جانے والے پیچھا نہیں چھوڑ تے۔ان کا ستیا ناس جائے….ایک آرا ہے، ایک جارا ہے۔گھر نہ ہوا کوئی ہوٹل ہو گیا….اے آرئی ہوں تمہارا ناس جائے۔“سخن کی اماں باآواز بلندان کی پروا کیے بغیر خالی پیلی کوسنے دیئے جارہی تھیں ۔دراصل وہ سخن کودن رات اُٹھتے بیٹھتے اتنے کوسنے دیتی تھیںکہ اب ہر وقت ان کی زبان پرکوسنوں کا ورد رہنے لگا تھا۔

 اماں نے دروازہ کھولا اور ناک بھوں چڑھا کر چڑ چڑاتے ہوئے کہا۔”کیا ہے؟“

چنا بھائی ہمت اکٹھی کرتے ہوئے ہکلائے۔”وہ….وہ اماں جی ہمیں سخن…. “

اماں جی نے درمیان میں سے اس کا جملہ جھپٹ لیا اور دھاڑ کر بولیں۔”اے کالی شکل کے لنگور….تیری ماں اماں ….تیر اباپ اماں ….تیر اسارا خاندان اماں….تیرے ہوتے سوتے اماں….دیدوں میں موتیااُتر آیا ہے تمہارے ….میں تمہیں اماں نظر آرہی ہوں اندھے؟ “اماں جی تالیاں بجا کربول رہی تھیں۔

”معاف کرنا اما….مم….میرا مطلب ہے بڑھیا۔“چنا بھائی کے منہ سے اُلٹے سیدھے الفاظ نکل رہے تھے۔

”اے لو کم بختو….تو اب میں کلمو ہی بڑھیا بھی ہوگئی۔“بڑھیا نے گردن مٹکائی ”ارے تو کہاں سے آگیا کالے کوے….شکل دیکھ جا کے اپنی آئینے میں ….کتنی پھٹکا ر برس رہی ہے۔مجھے بڑھیا کہنے والے….صبح صبح ناشتے سے پہلے تیرا ڈولا جائے …. تجھے قبر نصیب نہ ہو….تو سوتے کا سوتا رہ جائے۔“سخن کی اماں شب برات کے پٹاخے کی طرح پھٹ پڑی تھیں۔

منا بھائی نے اس نازک صورتِ حال کو بڑی خوب صورتی سے ہینڈل کیا۔”ارے آپ کے سننے میں غلطی ہوئی ہے یہ بے چارہ تو آپ کو گڑیا کہہ رہا تھا ۔“

گڑیا سنتے ہی بڑھیا کا غصہ ٹیاو ¿ں کر کے اُتر گیا ۔”ہیں ….اچھا ….اے بھیا معاف کردینا۔نا جانے میں غصے میں کیا کیابول گئی۔“

”ارے دفع کریں۔آپ یہ بتائیں کہ سخن صاحب کدھر ہیں؟“منا بھائی نے جھٹ پوچھا۔

”صبح سے ہی کہیں دفعان ہو گیا ہے۔کسی قبر میں سورہا ہوگا….آجائے آج وہ گھر پہ…. آج میں اس کا جنازہ نکال دوںگی۔“بڑھیا کی تو پ کا رخ اپنے بیٹے کی جانب ہو گیا۔

”اور سخن صاحب کے والد….“چنابھائی نے کچھ پوچھنا چاہا۔

”اُن کا جنازہ نکال چکی ہوں۔“بڑھیانے اطلاع دی۔”پندرہ سال پہلے ناریل توڑتے ہوئے خود ہی ٹوٹ کر گر گئے تھے کم بخت مارے۔سوگواران میں چالیس پچاس قرض خواہ چھوڑ گئے ہیں۔“

وہ دونوں اخلاقاً افسوس میں سر ہلانے لگے۔”ہمیں سخن صاحب کے والد کی ہول ناک اور عبرت ناک موت پر بڑا دکھ ہوا…. اﷲان کو جنت نصیب کرے۔“

”شاید ہی کرے۔“بڑھیا نے یقین سے کہا”مرحوم کے اعمال ہی ایسے تھے ۔سب جانتے ہیں اور پھر اچھا ہے وہ دوزخ میں ہی رہیں ۔ جنت میں تو ناریل کے درخت ہوں گے۔ وہ پھر وہاں بھی ناریل توڑنے چڑھ جائیں گے کم بخت مارے۔“

اس عجیب و غریب بڑھیا کی دماغ گھما دینے والی باتیں سن کر دونوں آدھے سے زیادہ پاگل ہو گئے تھے،لہٰذا منا بھائی نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔”اچھا پھر ہم چلتے ہیں ۔کل پھر حاضر ہو جائیں گے ۔سخن صاحب آئیں تو انہیں بتا دیجےے گا کہ رسالے والے دو آدمی آئے تھے۔“

دونوں جانے لگے تو بڑھیا نے آواز دے کر انہیں روکا۔”اے بھائی…. اب آہی گئے ہو تو ایک کام بھی کرتے جاو ¿۔“

دونوں مجبوراً رک گئے۔”جی حکم….فرمائیے؟“

بڑھیا نے اپنے دوپٹے کے پلو سے بیس روپے نکال کرچنا بھائی کے حوالے کےے” یہ لو پیسے اور بھاگ کر چورا ہے سے چارے کی ایک گٹھی لادو۔سخن نہیں ہے ،ورنہ اسی کم بخت مارے سے منگواتی ہوں۔بے چارہ مینڈھا صبح سے بھوکا ہے….اور ہاں اگر چارا نہ ہو توچھانٹ کے صاف صاف لوسن لے لینا۔“

”یعنی کہ ہم….ہم لوسن اور چارا لے کرآئیں ؟“دونوں گڑبڑانے لگے۔

”اے لو….ایسے نخرے دکھارہے ہو جیسے میں کوئی گوبر منگوارہی ہوں….لوسن کھانے کی چیز ہے…. کوئی خراب چیز تھوڑی ہے….اور خبر دار….کان کھول کر سن لو…. دونوں راستے میں کھاتے ہوئے مت آنا۔“بڑھیا نے پہلے ہی انہیں الٹی میٹم دے دیا۔

دونوں معزز رسالے والے اپنے نصیبوں کو موٹی موٹی گالیاں دیتے ہوئے لوسن لینے چل دئیے۔

                                                          ٭٭٭

سخن زمانے کے ٹھڈے کھاتاہوا آخر ایک اور ڈائجسٹ کے دفتر پہنچ گیا۔یہ زیادہ بڑا دفتر نہیں تھا۔ صرف ایک کمرے میں ایک بڑی سی ٹیبل اورکئی کرسیاں رکھی تھیں۔ہر طرف رسائل اور اخبارات کے ڈھیر نظر آرہے تھے۔ کرسیوں پر دو آدمی بیٹھے ندیدوں کی طرح حلیم کھا رہے تھے۔سخن کو دیکھتے ہی انہوں نے اپنی پلٹیں چھپالیں، کیوں کہ وہ عین موقع واردات پر پہنچا تھا۔

ایک آدمی نے برا سامنہ بنا کر کہا۔”معاف کرو بابا۔سیٹھ گیا ہوا ہے….جمعرات کو آنا۔“

سخن پلٹ کر اپنے عقب میں کسی بابا کو دیکھنے لگا ،مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔وہ حیران ہو کر بولا۔”وہ ہمیں ….“

دوسرا آدمی ڈپٹ کر بولا۔”ابے بول دیا نا معاف کرو ۔ایک تو تم لوگ کھانے کے وقت ہی نازل ہوتے ہو….جاو ¿ معاف کرو۔“

سخن احتجاجی انداز میں زور سے بولا۔”ہم فقیر نہیں ہیں….بہت عظیم ادیب ہیں ….ادیب سخن اکبر آبادی ۔“

ان آدمیوں کے ہاتھوں سے چمچے چھوٹ گئے۔”کک….کیا سخن…. اکبر ….آبادی؟؟“

سخن گردن اکڑاکر بولا۔”ہاں…. ہم ہی سخن ہیں۔“

گرم گرم حلیم کھانے کی وجہ سے اُن آدمیوں کے چہرے پسینے میں شرابور تھے اور ناک بھی وافر مقدار میں بہہ بہہ کر پلٹیوں میں گررہی تھی ۔ ان دونوں نے جلدی جلدی اپنی آستینوں سے منہ اورنا ک صاف کی۔اگلا ہی لمحہ چونکا دینے والا تھا ۔وہ دونوں تیزی سے اپنی پلٹیں ٹیبل پر رکھ کر آگے بڑھے اور سخن کے قدموں میں دیدہ دل فرش راہ کر دئےے۔پہلے تو وہ ڈر گیا کہ کہیں یہاں پہلے جیسا سین نہ ہو جائے، لیکن وہ دونوں سخن پر صدقے واری جارہے تھے۔

”اُف تو آپ ہیں وہ عظیم المرتبت….ادیب مشرق ….جادو نگار قلم کار ….جس کی شہرت ہر ڈائجسٹ کے دفتر میں پھیل چکی ہے۔“وہ دونوں وفور ِمسرت و عقیدت سے لبریز ہو کر سخن کے ناپاک ہاتھ چوم رہے تھے اور اپنی آنکھوں پر لگا رہے تھے۔سخن کی حیرت اور خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

”ارے جناب آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ ہی سخن صاحب ہیں۔ نا جانے ہم نے آپ کی شان میں کیا کیا گستاخیاں کر ڈالیں ۔اُف ہماری ایسی خوش نصیبی کہ آج ہم ایک جادو گر عظیم قلم کار کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں۔اُف اﷲ میاں ….ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں ۔ آپ اس بڑی والی کرسی پر بیٹھ جائیں۔آپ کی شکل سے لگ رہا ہے کہ آپ عرصہ دراز سے بھوکے ہیں….یہ لیں یہ حلیم کھا ئیں ۔“

دونوں آدمی سخن کی خدمت اور خوشامد میں لگ گئے۔سخن حلیم کھانا نہیں چاہ رہا تھا کیوں کہ وہ دیکھ چکا تھا کہ وہ کس گند پن سے حلیم کھارہے تھے ۔اُن کی ناک اب تک بہہ رہی تھیں، مگر اُن دونوں کی بے پایاں اور پرخلوص محبت کے آگے سخن کو ہتھیار ڈالنے پڑ گئے۔پھر اس نے اپنے موروثی ندیدے پن کا وہ حیرت انگیز کمال دکھا یا کہ وہ دونوں آدمی سخن کی جادو گری دیکھ کر انگشت ایک دوسرے کے بدنداں رہ گئے۔ اس نے دونوں پلیٹیں زبان سے چاٹ کر ایسی صاف شفاف کر دی کہ انہیں دھونے کی ضرورت ہی نہ رہی۔حلیم کھاتے ہوئے سخن دنیا و مافیہا سے لاتعلق ہو چکا تھا۔پھر اس نے ایک ویری لونگ اینڈڈ ینجرس ڈکار ماری، جسے سن کر دونوں آدمیوں کے کالر او ر کپڑوں کے رویں بھی کھڑے ہو گئے۔انہیں ایسا لگا جیسے سخن کے پیٹ میں سے کسی جہنمی بلا نے آواز نکالی ہے۔

”واہ بھئی واہ….ایسا مزے دار حلیم تو میں نے زندگی میں اس سے پہلے کبھی نہیں کھایا….مزہ آگیا….واہ۔“سخن اب تک پیٹ پر ہاتھ پھیر تے ہوئے چٹخارے لے رہا تھا ،حالاں کہ وہ دونوں آدمی جانتے تھے کہ وہ اتنا اچھا حلیم تو نہ تھا ‘تب انہوں نے ایک دوسرے کی بہتی ہوئی ناک دیکھی اور اُن پر حلیم کی لذت کا راز کھل گیا۔

”سر ہمارے لائق اور کوئی خدمت؟“دونوں آدمی غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے سخن کے ایک اشارے کے منتظر تھے۔

”ذرا کندھے دبادو….بڑا درد ہو رہا ہے ۔“سخن نے حکم صادر کیا اور دونوں آدمی مل جل کر اس کے کندھے دبانے لگے۔

”سر آپ کیا کمال کا لکھتے ہیں۔آپ تو جادو کرتے ہیں۔یقینا آپ کے قلم میں کوئی غیر معمولی طاقت ہے۔ایک توآ پ کی کہانیوں کے نام ہی اتنے متاثر کن اور پرکشش ہوتے ہیں کہ آدمی خود بخود انہیں پڑھنے پرمجبور ہوجاتا ہے۔ہمارے پاس آپ کی کئی کہانیاں آئی ہیں۔ ان میں خاص طور پرنیبو کا اچار، پرانی چڈی ،گٹر کا ڈھکن ، رحم دل چمار ،نادیدہ شلواراور مرغی کی بیٹ تو کمال کی لکھی ہوئی ہیں ۔دوناولٹ بھی ہمارے پاس ہیں ،ایک خوف ناک ناولٹ چڑیل کی پھپھی اور دوسرا سائنس فکشن پر مبنی اچھے میاں کا لوٹا۔“

”لیکن تم لوگوں نے ان میں سے ایک کہانی بھی نہیں چھاپی۔“سخن نے شکایتی منہ بنایا، جو ناراض بن مانس جیسا تھا۔

”ارے جناب ایسی شاہ کار تحریریں چھپنے کے قابل کہاں ہوتی ہیں، وہ تو چھپنے چھپانے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم نے انہیں بینک کے ایک لاکر میں رکھوادیا ہے ،بڑی حفاظت کے ساتھ۔“دوسرے آدمی نے اپنی بہتی ہوئی ناک صاف کرکے سخن کی قمیص سے ہاتھ پونچھتے ہوئے متانت سے کہا۔

”کیوں بھئی….لاکر میں کیوں رکھوادی ہیں کہانیاں؟“سخن نے ٹیبل پر سے پین اُٹھاکر کان میں گھمایا اور ایک پاو ¿ میل نکال کر اسی آدمی کی قمیص پر چپکے سے چپکا دیا۔یہ عمل کاردعمل تھا۔باقی ان کی باتیں بڑی سنجیدگی پر مبنی تھیں۔

اس بے خبر انسان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔”دراصل جناب….ہم دونوں اس ڈائجسٹ کے ملازم ہیں۔ہمارے ایک مدیر اعلیٰ صاحب بھی ہوتے تھے۔ وہ بھی ہماری طرح تنخواہ دار ملازم تھے۔ وہ ہم دونوں پر بہت سختیاں کرتے تھے۔اس شخص نے ہماری زندگیاں دوزخ کا نمونہ بنا رکھی تھیں۔ہم جمعے کے جمعے نماز کے بعد اس کی موت کی دعائیں مانگا کرتے تھے کہ کسی طرح اس سے ہماری جان چھوٹ جائے۔پھر اﷲ تعالیٰ کو ہم دونوں پر رحم آگیا اور آپ کی کہانیاں فرشتہ رحمت بن کر ڈاک سے نازل ہوگئیں۔ایڈیٹر صاحب جوں جوں آپ کی کہانیاں پڑھتے گئے۔ اُن کی حالت بگڑتی چلی گئی او رپھر آپ کی ایک کہانی رحم دل چمار….جو غالباً آپ کی آپ بیتی تھی، پڑھتے ہی وہ کومے میں چلے گئے اور آج تک وہ کومے کی حالت میں اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے خفیہ کمرے میں پڑے ہیں۔ڈاکٹروں نے اُن کو آئی سی یو میں رکھنے کے بجائے چارجر پر لگایا ہوا ہے۔جناب….آپ نے اپنی تحریروں سے و ہ کام کر دکھایا ہے جو ہم دونوں اب تک نہیں کر سکے تھے ۔بس آج سے آپ ہمارے آقا او رہم آپ کے غلام ہیں۔“

یہ وضاحت سن کر سخن کو اپنی عزت و توقیر کی حقیقت کا علم ہوا۔نا جانے کیوں اسے یہاں مزید ٹھہرنے میں خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔وہ ایک پھیکی سی ہنسی کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور بولا۔”اچھا تو اب میں چلوں۔“

”ارے ارے کیا ہوگیا جناب….ہم سے کوئی گستاخی ہوگئی؟“دونوں آدمی اس کے اچانک کھڑے ہوجانے پربوکھلا گئے۔

”ہم جارہے ہیں۔اصل میں ہمیں ایک بہت ہی ارجنٹ کام یاد آگیا ہے۔ ایک ضروری اسائمنٹ پورا کرنا ہے۔“سخن بولا۔

”ایسا بھی بھلا کیا ضروری اسائمنٹ ؟“دونوں آدمی اب تک حیران تھے۔

”اماں نے بازار سے کچھ سودا منگوایا تھا وہ گھر لے جانا ہے۔“

”ارے سر آپ حکم کریں ،ہم لادیں سودا….کیا لانا ہے آپ کو؟“دونوں جذباتی ہو رہے تھے۔

”اُپلے ….اماں نے کہا تھا،بیٹا باہر جارہا ہے تو وہاں سے میرے لیے اچھے اچھے چھانٹ کر اور تازہ اُپلے لائیو۔“سخن بوکھلا رہا تھا۔

”اُپلے ؟؟“دونوں کے چہروں پرکراہیت کے آثار پھیل گئے۔

”ارے ہاں بھئی وہی….جو کنڈ ے بھی کہلاتے ہیں اور گائے کی پروڈکشن سے بنتے ہیں ۔“سخن نے آنکھ مارتے ہوئے بتایا اور پھر تیزی سے باہر نکل گیا۔دونوں اسے روکتے رہ گئے، مگر سخن پھر کہیں نہ رکا اور گھر آکر دم لیا تھا۔گھر آتے آتے رات ہوگئی تھی ۔دروازہ کھولتے ہی اماں نے چمٹے سے سخن کا مامتا بھرا استقبال کیا۔اُن کے گھر کا مینڈھا سخن کی مار دیکھنے کے لیے اب تک جاگ رہا تھا۔وہ سخن کو پٹتا دیکھ کر بے حد مسرور ہوا اور پھر چین و سکون سے سویا تھا ۔اماں نے جب چمٹے سے سخن کو اچھی طرح ڈوز دے دی تو اُن کا کلیجا ٹھنڈا ہوا تھا۔

اگلی صبح ہی کسی نے زور زور سے دروازہ بجایا۔سخن کی اماں نے ڈیڑھ درجن کوسنے دینے کے بعد دروازہ کھولا دیا ۔ سامنے ہی چنا اینڈ منا بھائی کھڑے دانت نکا ل رہے تھے ۔ لگتا تھا، وہ دونوں بستر سے نکلتے ہی سخن کے گھر کی طرف چل پڑے تھے۔آنکھوں میں میل بھرا ہوا تھا۔ بال پرانے مائیکل جیکسن کی طرح بڑے بڑے اور کھمبی کی طرح لگ رہے تھے۔

”سخن صاحب آگئے؟“چنا بھائی نے بڑی تہذیب سے پوچھا۔

”اے ہاں آگیا،مرگیا….اندر پڑا مستا رہاہے ۔اٹھالو اسے….لے جاو ¿ اسے ہمیشہ کے لیے….گود لے لو۔ “اماں سخن بے زار اور عاجز لگ رہی تھیں۔” گود نہ لو تو ایدھی والوں کے جھولے میں ڈال دو لے جا کے۔“

چنا بھائی اور منا بھائی اماں کی نشان دہی پر سخن کے کمرے میں پہنچے تو دیکھا، سخن اس حال میں سورہا تھا کہ اس کا آدھا دھڑ چار پائی پر اور آدھا نیچے لٹک رہا تھا۔اس کی ٹانگیںہوا میں اٹھی ہوئی تھیں، جیسے مذبح خانے میں کٹا ہوا بکرا اُلٹا لٹکا ہو تا ہے۔چمٹے سے مار کھا کر اسے ہمیشہ پرسکون اور گہری نیند آتی تھی۔اس کے منہ سے رال بھی بہہ رہی تھی۔منا بھائی نے اسے بری طرح جھنجوڑ کر جگایا۔

سخن ایک چیخ مار کر اٹھ گیا اور پاگلوں کی طرح ہاتھ اٹھا کر ادھر ادھر مارنے لگا”کیا ہوا….کیا ہوا؟کون ہے….کون آگیا….کہاں بم پھٹ گیا؟“

”ارے ارے سخن صاحب….ہم ہیں آپ کے دوست اور پارٹنر چنا بھائی اینڈ منا بھائی۔“

تب سخن نے انہیں پہچان لیا اور وہ اُچھل کر چنا بھائی کی گود میں بندر کے بچے کی طرح چڑھ گیا۔”چنا بھائی….میرے چنا بھائی، میرے اچھے سے چنا بھائی …. آپ آگئے۔“اس نے وفور مسرت سے بے قابو ہو کر چنا بھائی کے ایک پپی لے لی۔یہ الگ بات تھی کہ اس کا دماغ زلزلے کی زد میں آگیا تھا ۔باسی منہ پپی لینے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔

”ہاں….بھائی ہاں یقین کرو، ہم پہنچ گئے ہیں۔“منا بھائی نے نوچ کراسے اپنی موجودی کا احساس بھی دلایا ۔

سخن کا دماغ تو اس وقت آسمان کی بلندیوں پر مردار خور گدھ کی طرح پرواز کررہا تھا ۔اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ کسی روز صبح ہی صبح اس کی قسمت گٹر کے ڈھکن کی طرح کھل جائے گی۔خوشی کے مارے وہ رفع ِحاجت محسوس کرنے لگا تھا۔

”مم….میں ذرا….“سخن نے انہیں انگوٹھا دکھایا۔

”ذرا نہیں….زیادہ۔“چنا اینڈ منا بھائی نے اسے فراخ دلی اور پھرتی سے اجازت دے دی ،کیوں کہ سخن کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اس نے ایکسلریٹر پر پورا دباو ¿ ڈال رکھا ہے۔سخن انہیں ٹوٹی ہوئی چار پائی کی پٹی پر بٹھا کر صحن میں آیا اور ”یاہو“کا نعرہ مست لگا کر اپنا نچلا دھڑ دھڑ ادھڑ مٹکانے لگا۔اس نے ایک ہاتھ کولہے پر اور دوسرا سر پر رکھا ہوا تھا۔

اس کی اماں نے باورچی خانے سے اسے تاڑ لیا اور بہت خوش ہوتی ہوئی باہر نکلیں۔”ارے میرا بیٹا پاگل ہو گیا ….اﷲ تیر اشکر ہے تو نے اس بیوہ کی سن لی۔“

”اماں میں نے کہا تھا ناکہ آنے والا وقت میرا ہے،تیرا بیٹا ایک روز بڑا آدمی بن جائے گا۔وہ وقت آگیا ہے ماں….آگیا ہے وہ وقت۔“سخن فلمی اسٹائل میں بول رہا تھا۔

اس کی اماں نے آگے بڑھ کرہاتھ بڑھایا ۔سخن سمجھا کہ وہ اس کی بلائیں لیں گی، لہٰذا اس نے سر جھکا لیا اور اماں نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر مارا۔”ارے تیرا ستیا ناس جائے….ٹریکٹر کے نیچے آکر تومرے….کم بخت مارے….یہ قمیص کہا ں سے پھاڑ لایا۔کہاں گدھے کی طرح لوٹ لگائی تھی….بڑا آدمی کیا بنے گا تو انسان تو بن جا پہلے۔“

سخن بوکھلا کر اپنی قمیص کا پھٹا ہوا پچھلا دامن دیکھنے لگا، جو اس ظالم ایڈیٹر نے ہنٹر مار کر غائب کر دیا تھا۔ وہ جلدی سے باتھ روم میں گھس گیا اور ڈھائی گھنٹے بعد باہر آکر سیدھا اپنے کمرے میں چنا اینڈ منا بھائی کے پاس پہنچا۔وہ دونوں کندھے سے کندھا ملائے خراٹے مار رہے تھے ۔

سخن نے انہیں پوری قوت سے جھنجوڑ کر جگایا۔”اوئے نیستی مت پھیلاو ¿….پہلے ہی ِ یہاںمیری نحوست پھیلی ہوئی ہے ۔میں ناشتا کر کے آتا ہوں ابھی دومنٹ میں۔“

”منہ ہاتھ دھونے سے تمہارا چہرہ صاف کہاں ہو گا….تیزاب سے دھولوتو بہتر رہے گا۔“منا بھائی نے اسے مشورہ دیا۔

سخن نے ہاتھ منہ دھوئے بغیر باورچی خانے میں اکڑوں بیٹھ کر ناشتا کیا۔ پھر چنا بھائی اور منا بھائی کے ساتھ باہر نکل گیا۔

                                                          ٭٭٭

چند ہی دنوں میں پوری ڈربہ کالونی میں یہ خبر کسی متعدی بیماری کی طرح پھیل گئی کہ عظیم ادیب سخن اکبر آبادی نے ایک پارٹی کے ساتھ مل کرایک ڈائجسٹ نکال لیا ہے اور اس میں ان کی کہانیاں دھڑ ا دھڑ شائع ہوں گی۔واقعی سخن کا کارنامہ قابل تعریف تھا۔کالونی والے جوق درجوق اسے مبارک باد دینے آرہے تھے، مگر سخن کے تو ٹور ہی بدل گئے تھے۔وہ کسی سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کر رہا تھا ۔اس نے اپنی شخصیت بہتر بنا نے کے لیے ”بیڑی“ پینا شروع کردی تھی۔منا بھائی نے اسے اپنے دادا کی شامیانے جیسی ڈھیلی ڈھالی پتلون اور شرٹ لادی تھی، جوا بھی تازہ تازہ گھر کے ٹینک میں گر کر مرحوم ہوگئے تھے۔

کئی افراد نے سخن کو بیڑی پینے پرٹوکا۔اماں نے لکڑی سے ٹھوکا ،مگر سخن کا کہنا تھا کہ اب میں ایک بڑا آدمی بن گیا ہوں اور بیڑی پینے سے میری”پس لعنتی“بڑھ گئی ہے۔

 اگلی صبح کا ذکر ہے کہ سخن گھر میں اپنی اماں کی کڑ کڑ کا ناشتا کر رہا تھا اور بڑی بے غیرتی اور بے شرمی سے مسکرارہا تھا ۔وہ اپنے دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔اتنے میں گلی کے دروازے پر دستک ہوئی اور کسی نے چلا کر کہا”پوسٹ مین۔“

یہ آواز سنتے ہی سخن سرکش کھوتے کی طرح اچھل پڑا۔پوسٹ مین کے آنے کا مطلب تھا کہ اسے کسی رسالے کی جانب سے خط یا اعزازی شمارہ بھیجا گیا تھا ۔چنا ں چہ وہ” تگڑگ تگڑگ“ بھاگتا ہوا دروازے تک پہنچا او ر جلدی سے دروازہ کھول دیا۔سامنے ہی ڈاکیا کھڑا تھا ۔اسے دیکھ کر پوچھا۔’تم ہی سخن اکبر آبادی ہو؟“

”ہاں ….ہاں ….لاو ¿ کیا لائے ہو میرے لےے….جلدی کرو حقیر ڈاکیے….میرا ٹائم ویسٹ ہو رہا ہے۔“ سخن نے نخوت سے کہا۔ ”آئی ایم جسٹ کمنگ ابا ¶ٹ ٹن ۔آئی ایم سفرنگ فرام فیور سِنس لاسٹ نائٹ ….یوآر اوبی ڈینٹلی ایکس وائے زیڈ۔“ سخن نے رعب جھاڑنے کے لےے الٹی سیدھی انگلش بکی۔

”یہ آپ کے لیے رجسٹرڈ آیا ہے ۔“پوسٹ مین نے دانت نکالتے ہوئے کہا اور پہلے سخن سے ایک کاغذ پردستخط لیے۔ پھر اپنی سائیکل کے کیریئر سے ایک شیشم کا موٹا سا ڈنڈا نکال کر” تڑاخ“ سے سخن کے سر پر دے مارا ۔سخن کے دماغ کی بتیاں بجھ گئیں۔چند سیکنڈ کے لیے وہ پتھر کے بت کی طرح کھڑا رہا اور پھر ناراضی سے بولا۔”ابے یہ کیا بدتمیزی ہے….یہ ڈنڈا کیوں مارا تم نے؟“

”یہ ایک ڈائجسٹ کی طرف سے آپ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک پرچا بھی منسلک ہے، جس پر لکھا ہے کہ یہ ڈنڈاسخن کے سر پرمارا جائے ۔اب میں چلتا ہوں۔“یہ کہہ کر ڈاکیا چلا گیا۔

سخن ڈنڈا لے کر بوجھل قدموں سے گھر میں آگیا ۔یہ ڈنڈاجس ڈائجسٹ کی طرف سے بھیجا گیا تھا‘وہاں سخن نے اپنی کئی کہانیاں بھیج رکھی تھیں۔جن کی رسید کے طور پر ڈاکیے نے اسے ڈنڈا رسید کیا تھا۔کچھ دیر بعد سخن دفتر کی طرف چل پڑا۔راستے میں اسے ایک دو جگہ جانا تھا ۔پہلے وہ سیدھا چاچا چراندی کے کیبن تک گیا۔چاچا کیبن پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔سخن چپکے سے گیا اور ”بھا ¶“کر کے انہیں چونکا دیا۔

چاچا نے غصے میں سخن کو دیکھا اور بولے۔”انسان کا بچہ نہیں بنے گا تو؟“

”چا چا اب تو میں عظیم رائٹر بن گیا ہوں۔“سخن نے اپنی آوازبارعب بنا نے کانام کوشش کی۔

”رائٹر تو بن گیا ،مگر انسان کب بنے گا؟“

”چاچا….اب دولت میرے قدموں میں جلد آنے والی ہے۔“

”تیرے قدموں میں کبھی نئی چپل نہیں آئی…. دولت کیاخاک آئے گی فالتو فنڈ میں۔“

اتنے میں سامنے سے ایک گاہک آنے لگا تو چاچا نے سخن کے منہ پر لعنت رکھ کر اسے پرے ہٹایا۔”اچھا چل ….ہٹ جاسامنے سے ….ہوا آنے دے۔“

سخن مایوسی کے عالم میں وہاں سے ہٹ گیا اور دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔

                                                          ٭٭٭

بہر حال سخن کی نگرانی میں ”زبردست ڈائجسٹ “پوری آب و تاب کے ساتھ بازار میں آگیا ۔اس کے پہلے شمارے نے ہر طرف ایک ہلچل مچادی۔لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے تھے کہ یہ کن خبیثوں نے ایسا ذلیل ڈائجسٹ نکالا ہے۔اس قدر احمقانہ کہانیاں انہوں نے اپنی پوری لائف میں نہیں پڑھی تھیں۔چند ہی دنوں بعد وہ ڈائجسٹ پکوڑے، سموسے اور چھولوں والوں کے پاس آگیا۔

اس رات تقریبا ڈھائی بجے کا وقت تھا۔چنا بھائی اور منا بھائی اپنے دفتر میں چار پائیوں پر سانپوں کی طرح جلیبی بنے سورہے تھے کہ اچانک چار،پانچ ہیولے دیوار پھلانگ کر اندر گھس آئے۔انہوں نے ڈھاٹے باندھ رکھے تھے اور ہاتھوں میں موٹے موٹے ڈنڈے تھے ۔ انہوں نے بلب روشن کیا اور ان دونوں کی چار پائیاں اُلٹ دیں۔چنا بھائی اور منا بھائی لڑھک کر فرش پرجاگرے اور اس سے پہلے کہ وہ اُٹھ کر شور مچاتے، ان ہیولوں نے ان کے منہ پر ڈنڈے رکھ دئیے۔

”خبردار آواز مت نکالنا، ورنہ یہ ڈنڈے اچھی طرح دیکھ لو۔“

انہوں نے ڈھاٹاپوشوں کو دیکھا تو گھگھی بندھ گئی ۔وہ سمجھ گئے کہ آج ان کی خبر نہیں ہے۔

”تو تم ہو چنا اور منا بھائی ؟“ڈھاٹاپوش نے انہیں گھورا۔

”جی ہاں صوفی صاحب…. ہم ہی ہیں ۔بڑی خوشی ہوئی آپ لوگوں سے مل کر….مگر آپ لوگوں نے ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ اپنے منہ چھپا رکھے ہیں؟“منا بھائی نے ان سے زبرستی فرداً فرداً مصافحہ کیا۔

”یہ بتاو ¿ کہ تم لوگوں کو ایسا خبیث اور منحوس ڈائجسٹ نکالنے کا مشورہ کس کتے کے بچے نے دیا تھا؟“دوسرے ڈھاٹا پوش نے گمبھیر آواز میں پوچھا ۔

”وہ ہم نے ایک دوسرے کے مشورے سے ہی نکالا تھا۔“چنا بھائی نے بتایا۔

”اور یہ تمہارے ڈائجسٹ میں کون کھوتا کہانیاں لکھتا ہے….کہانیاں پڑھ پڑھ کرکئی لوگ ذہنی توازن کھوچکے ہیں‘ایسا گھٹیا ڈائجسٹ اور اس میں تم اتنی گھٹیا کہانیاںچھاپتے ہو ۔“ایک اور ڈھاٹا پوش نے چنا بھائی کے آہستگی سے ڈنڈادے مارا۔

”آئندہ تم اپنا ڈائجسٹ نہیں نکالو گے۔“ دوسرے ڈھاٹاپوش نے ڈنڈا لہرایا۔

”تو کیا فٹ پاتھ پربیٹھ کر فال نکالیں؟“ چنا بھائی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر کھجاتے ہوئے پوچھا۔

”اور اگر نکال لیں تو ؟“منابھائی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

”تو پھر ہم پتا ہے کیا کریں گے ۔“ایک ڈھاٹا پوش سوئچ بورڈ کے پاس گیا اور بلب بند کر دیا۔ اس کے بعد اندھیرے میں ڈنڈے چلنے لگے۔ساتھ میں چنا بھائی اور منا بھائی کی دل دوز چیخیں اُبھر رہی تھیں ۔اُن پر ہر طرف سے ڈنڈے برس رہے تھے۔

                                                          ٭٭٭

چاچا چراندی نے ہاتھ بڑھاکر سخن کے گھر کے دروازے پر ایسے زوردار انداز میں دستک دی، جیسے وہ دروازہ اس کے باپ کا قاتل ہو۔ فوراً ہی سخن کی اماں کی آواز ابھری۔”توڑدے توڑدے ….تیرے باپ نے لگوا کر دیا ہے نا دروازہ…. کیڑے پڑیں تیرے ہاتھوں میں ….اﷲ کرے کسی گدھا گاڑی کے نیچے آکر مرے۔“

مگر چاچا تو جنونیوںکی طرح دروازہ بجاتے رہے۔اسی لمحے دروازہ کھلا اور ایک جھاڑو اندر سے نکل کر چاچا چراندی کے منہ پر لگی ۔چاچا گھبرا کر پیچھے ہٹے۔”ابے ابے ….کون ہے فالتو فنڈ میں؟“

وہاں گدھا گاڑی والا جمال گھوٹا بھی کھڑا تھا۔ وہ بولا ۔”ارے اماں جی….کیا کررہی ہو….جھاڑو گندی ہو جائے گی …. ہٹا ¶ اسے۔“ پھر اس نے زور سے کہا۔”خالہ جی…. ہمیں سخن سے ملنا ہے۔ ایک بہت ضروری کام ہے اس سے۔“

سخن کی اماں نے کمرے میں سے آواز لگائی۔”آجاو ¿ اندر….وہ سخن کم بخت مارا ….فجر سے بھی پہلے باتھ روم میں گھسا تھا ،اب تک نہیں نکلا ۔بیٹھے بیٹھے سوگیا ہوگا۔“

سخن واقعی اندر سورہا تھا او رخواب میں دیکھ رہا تھا کہ وہ باتھ روم میں بیٹھا ہے۔

زوردار دستک سن کر سخن ہڑبڑا کر اُٹھا او رتمام جملہ امور نمٹا کر باہر آگیا۔اس نے باہر آتے ہی چاچا اور جمال گھوٹے سے جوشیلے انداز میں اُلٹا ہاتھ ملایا۔”خیریت تو ہے نا چاچا ….میرے ایسے نصیب کہ آج آپ میرے در پر۔“سخن اُنھےں دیکھ کر خوش ہو گیا۔

”قسمت تو میری ہے کہ میں آج یہاں ہوں تیرے در پر۔“چاچانے کہا۔”اچھا بات سن….میں تیرے رسالے کے لیے ایک خبر لایا ہوں….اسے جلدی سے لگادے۔“

”چاچاوہ رسالہ ہے ،کوئی تنور نہیں ہے، جو میں اندر جاکر خبر کو نان کی طرح لگادوں۔“سخن نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

”ارے بات تو سن لے پوری….فالتو فنڈ میں بکواس کیے جارہا ہے ۔میں خبر مفت میں تھوڑی لگواو ¿ں گا۔پیسے دوں گا۔“چاچا نے کہا۔

”اچھا پھر جلدی سے بتاو ¿…. کیا خبر لگانی ہے؟“

”بڑی دھانسو خبر ہے….لکھیو کہ چاچا کے والد محترم، بلکہ مرحوم کی برسی بہت جلد بڑی دھوم دھام سے منائی جانے والی ہے اور برسی پر برفی کا لنگر بھی ہوگا۔“

”چاچاایک بات تو بتاو ¿؟“سخن نے سوال کیا۔”تمہارے والد میںایسی کیا خاص بات تھی کہ اُن کی برسی کی خبر رسالے میں لگوانا چاہ رہے ہو؟وہ کسی ملک کے صدر رہ چکے ہیں….انہیں نشان حیدر مل چکا ہے یا پھر انہوں نے کوئی صلیبی جنگ لڑی تھی؟“

چاچا نے شلوار کے نیفے میں سے سو روپے کا بتی بنا ہوا نوٹ نکال کر سخن کے حوالے کر دیا۔”یہ لے اورفالتو فنڈ کے سوال مت کر۔“

”اور سخن بھائی….مجھے ایک تصویر چھپوائی ہے۔“جمال گھوٹا، جو بڑی دیر سے خاموش کھڑا تھا، بول اٹھا۔

”کس کی ….تیر ے والد کی؟“سخن نے پوچھا۔

”والد کی نہیں۔“جمال گھوٹے نے برا سا منہ بنایا۔”میرے گدھے کی ہے….یہ دیکھو ۔“

سخن تصویر دیکھنے لگا ،جو کسی اسٹوڈیومیں اُتروائی گئی تھی۔اس میں جمال اپنے گدھے کو لمبس کے گلے میں بڑی برادرانہ محبت سے ہاتھ ڈالے کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔کولمبس کو اس نے ہیٹ پہنایا ہوا تھا ۔جمال سے زیادہ کولمبس ہینڈسم لگ رہا تھا۔

سخن نے پوچھا او ر سر ہلا کر کہا۔”تصویر تو بہت اچھی ہے….لیکن تم نے یہ ہیٹ کیوں پہن رکھا ہے؟“

”میں نے ؟“ جمال گڑ بڑا گیا۔”بھائی ہیٹ میں نے نہیں ،گدھے نے پہنا ہوا ہے۔“

”ہیں….اچھا…. تو کولمبس یہ ہے، ہیٹ والا….کمال ہو گیا یار۔“سخن ہنسنے لگا۔”بڑی مشابہت ہے دونوں میں….بھائی بھائی لگ رہے ہو دونوں ….چلو ٹھیک ہے ،یہ تصویر بھی لگ جائے گی ۔پیسے تو لائے ہونا؟“

”ہاں ہاں کیوں نہیں۔ “جمال گھوٹے نے چپکے سے اس کی مٹھی گرم کردی۔

سخن نے چاچا کو بھی تسلی دی۔”چاچا تم بھی بے فکر ہوجاو ¿….میں تمہارے والد کی ایسی خبر لگاو ¿ں گا کہ انشاءاﷲان کی بدروح بھٹکتی …. میرا مطلب ہے خوش ہوتی پھرے گی۔“

چاچا اور جمال گھوٹا باہر چلے گئے۔سخن نے رشوت کی کمائی ماں کے ہاتھ پر رکھ دی اور ماں کی بددعاو ¿ں میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ اسے نجمو سبزی فروش مل گیا۔”ارے بھئی ادیب صاحب…. وہ ہمارا اشتہار کب چھپے گا؟ میں نے تو مسجد سے اعلان بھی کروادیا ہے۔ سب لوگ بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔“

”ہاں ہاں…. اچھا ٹھیک ہے….بعد میں بات کرنا۔“سخن نے افسرانہ شان سے ہاتھ ہلائے ۔”کام ہو جائے گا….ایک تو میں اس شہرت سے تنگ آگیا ہوں….ہر جگہ میرے پرستار آجاتے ہیں ۔ابھی مجھے دفتر جاکر جھاڑو لگانی ….مم….میرا مطلب ہے خبر بھی لگانی ہے ۔“بے اختیار سخن کے منہ سے سچ بات نکل گئی ۔نجمو حیرت سے اسے گھورتا رہ گیا۔

سخن خوشی کے مار ے ہوا میں دو لتیاں مار تا ہوا دفتر چلا جارہا تھا۔راستے میں بازار بھی پڑتا تھا ۔سخن بازار کے راستے ہو لیا۔تب اسے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی۔”یہ پٹر کے پکے پپیتے ….پکے پپیتے….یہ کالے ہی کالے شربت والے….یہ فالسے کالے….ابے او کالے ….یہ فالسے کھالے ۔“

سخن نے گردن گھما کردیکھا تو اسے ایک ٹھیلہ دکھائی دیا ،جہاں اسے ایک منحوس و مانوس صورت دکھائی دی۔وہ سر پر کپڑا باندھے پپیتے اور فالسے بیچ رہا تھا ۔اس کے ساتھ ہی دوسرے ٹھیلے پرایک اور جانا پہچانا آدمی شکر قندیاں فروخت کررہا تھا۔

”آجابابو شکر قندی حلوے….تیس روپے کلو حلوے….یہ لے جاکلو ے۔“

یک لخت سخن کو کرنٹ سالگا اور بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔”چنا بھائی ….منابھائی ….“وہ تیزی سے ٹھیلوں کے پاس پہنچا۔

”یہ کیا منا بھائی ….چنا بھائی ؟یہ سب کیا ہے ….وہ دفتر ….رسالہ…. میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔یہ کیا ہے….یہ ٹھیلا …. فالسے کالے کالے….پپیتے اور یہ شکرقندی؟“سخن کی حالت قابلِ دید بلکہ قابلِ بھیک ہو گئی تھی۔

”چالیس روپے کلو پپیتا….سو روپے کلو فالسے ۔“منا بھائی نے بتایا۔

”کیا بول رہے ہو منا بھائی…. مجھے پہچانو….میں سخن ہوں ،سخن اکبر آبادی ۔“سخن اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا ہو ا بولا ۔اس کا چہرہ سوکھی خوبانی جیسا ہو گیا تھا ۔اسے اپنا مستقبل فالسے کی طرح کالا لگ رہا تھا۔”یہ سب کیا چکر ہے آخر….یہ ٹھیلے یہ تمہارے حلیے….یہ ترازو ….ڈائجسٹ کاکیا ہوا؟“

”کیسا ڈائجسٹ؟ کون سا ڈائجسٹ…. اور کون ہو تم، جنگلی جلیبی کی شکل کے….دفع ہو جاو ¿ ادھر سے۔“چنا بھائی نے جھاڑن لہرا کرسخن پر ماری۔

”منا بھائی…. تم ہی کچھ بولو۔“سخن منا بھائی کی طرف گھوم کر گڑگڑایا۔

”بول تو رہا ہوں ….یہ پیٹرکے پکے پپیتے ….یہ شربت والے فالسے ۔“منا بھائی نے بولنا شروع کر دیا۔

اب تو سخن کو چکر آنے لگے ۔اس کی نگاہوں کے سامنے اُن خوار لوگوں کے خون خوار چہرے آگئے، جن سے اس نے اشتہار چھاپنے کا کہہ کر ایڈوانس رقوم لے رکھی تھیں ۔سخن نے تصور کی آنکھ سے دیکھا کہ تمام لوگوں نے اسے چار پائی سے باندھ رکھاہے او رمل جل کر اس کی پھینٹی لگا رہے ہیں ۔اِدھر منا بھائی اور چنا بھائی نے اچانک ہی اپنا بزنس تبدیل کردیا تھا۔

غم کے مارے سخن ایک پپیتا اُٹھا کر کھانے لگا۔

”ابے ….ابے رکھ یہ۔“منا بھائی ٹھیلے پر سے کود کر اُترے اور سخن کے ہاتھ سے پپیتا چھین لیا۔”پھوکٹ کانہیں آرہا ہے۔چل کلٹی ہو جا اِدھر سے….سارا پپیتا گندا کر دیا۔اب تو یہ کوئی جانور بھی نہیں کھائے گا۔“

سخن نے ڈبڈبائی ہوئی نظروں سے اُن دونوں کو دیکھا ،مگر انہوںنے بے رُخی سے منہ پھیر لیے ۔سخن تھکے تھکے قدموں کے ساتھ گھر کی جانب چل پڑا۔اسے یقین تھا کہ جو کچھ اس نے ابھی تصور میں دیکھا تھا، وہ پورا ہونے کا مبارک وقت آگیا ہے۔

                                                                              ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے