سر ورق / افسانہ / ملاح۔۔سلمان بشیر

ملاح۔۔سلمان بشیر

ملاح

سلمان بشیر

"وہ اک ملاح کا بیٹا تھا "

دادا کی وراثت سے اسکی باپ کے حصہ میں جو زمین آئی تھی اسے وہ بیچ کر شہر پڑھنے چلا گیا تھا۔۔۔باپ نے بیٹے کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ ساری زمین بیچ دی اور ساری رقم بیٹے کی ہتھیلی پہ رکھ دی تا کہ اسکا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن سکے اور اپنے گھر والوں کو ایک اچھی زندگی دے سکے۔۔۔۔

اسکا گھر دریا کے کنارے کے پاس ہی تھا ۔۔گھر کیا تھا صرف اک جھونپڑی تھی جس میں وہ اپنے باپ اور ماں کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔اسکا باپ ملاح تھا۔۔دریا میں ہی کشتی کے ذریعے وہ تھوڑی رقم بنا کر اپنا گزارا کر لیتا تھا ۔۔۔

کچھ عرصے بعد اسکے باپ کی موت واقع ہو گی اور وہ تعلیم کو خیر آباد کہہ کر واپس گھر لوٹ آیا۔۔۔ملاح کا بیٹا تھا اسی لیے کشتی سے اسکا بچپن کا رشتہ تھا۔۔۔وہ بھی باپ کی طرح کشتی چلا کر اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ بھرنے لگا۔۔۔

دن گزرتے گئے اور اس نے اسی زندگی کو اپنا نصیب مان کر قدرت کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا ۔۔۔۔

ایک شام دریا کے کنارے وہ کشتی پہ بیٹھا مچھلی پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا جب وہاں یونیورسٹی کے کچھ سٹوڈنٹس آگئے۔۔۔وہ کشتی رانی کی سیر کرنے آئے تھے۔۔ دو لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں۔۔۔دو تو شاید کپل تھے لیکن ایک لڑکی شاید سنگل تھی۔۔۔باقی دونوں لڑکیوں نے ماڈرن ڈریس پہنے ہوئے تھے اور بغیر نقاب کے تھیں۔لیکن وہ لڑکی سادہ سے لباس میں ملبوس تھی اور اس نے اپنے چہرے کو نقاب سے ڈھک رکھا تھا۔۔۔

وہ چاروں تو کشتی میں بیٹھ گئے لیکن  وہ لڑکی دریا کی موجوں کو دیکھتے ہوئے کشتی میں بیٹھنے سے ڈر رہی تھی۔۔۔

"کم آن آیت۔۔ڈرو نہیں۔۔۔آجاو ۔۔۔”

ایک لڑکی نے اسکو مخاطب کیا تو اس لڑکے نے اس لڑکی کو دیکھا جسکا نام اس لڑکی نے آیت پکارا تھا۔۔۔

واقعی وہ تھی بھی اپنے نام کی طرح۔۔۔

آیت۔۔۔اپنے نام کی طرح پاک۔۔۔۔

اسے لگا کہ وہ اسکو بغیر وضو کے دیکھ کر کوئی گناہ کر رہا تھا۔ ۔آیت نے بھی ملاح کو اک نظر دیکھا اور ڈرتے ہوئے کشتی میں سوار ہونے لگی ہی تھی کہ اسکا پاوں پھسلا اور وہ گرنے ہی لگی تھی کہ اس ملاح نے اسکو تھام کیا۔۔۔

شاید وہی اک لمحہ تھا۔۔۔محبت کا۔۔۔محبت بس اسی ایک لمحے میں ہی کہیں بھٹک رہی ہوتی ہے۔۔۔

سہمی ہوئی آیت کا سر ملاح کی چھاتی سے لگا ہوا تھا ۔اسکے دل کی دھڑکن بہت تیزی سے چل رہی تھی۔۔۔پھر اس نے آیت کا ہاتھ پکڑ کر اسکو کشتی میں بٹھایا اور خود بھی کشتی میں سوار ہو کر کشتی کو دریا کی موجوں میں گھمانے لگا۔۔۔۔

باقی سبھی تو بہت انجوائے کر رہے تھے لیکن آیت خاموشی سے بیٹھی تھی۔۔اسکی نظریں کشتی کے اندرونی حصے میں لگی کیلوں پر جمی تھیں۔۔ملاح کبھی کبھار اسے نظر بچا کر دیکھ لیتا تھا ۔۔۔

اسکا دل چاہ رہا تھا کہ زندگی یہیں تمام ہو جائے۔۔۔وہ آیت کے ساتھ اسی کشتی پہ بھٹکتا رہے اور انکی کشتی کبھی کنارے پہ نا لگے۔۔۔۔وہ اتوار کی شام تھی۔۔۔پھر وہ سبھی ملاح کو قیمت ادا کر کے چلے گئے۔۔۔

ملاح وہیں پر بیٹھا گھنٹوں اس جگہ کو دیکھتا رہا جہاں کچھ دیر پہلے آیت بیٹھی تھی۔۔۔۔جانے کیوں اس نے وہ جگہ اپنی نظروں میں قید کر لی اور اس پر اپنے دل سے اک حفاتی تالہ لگا دیا۔۔۔اس نے سوچ رکھا تھا کہ اب وہ ساری زندگی اس جگہ پر کسی کو بیٹھنے نہیں دے گا۔۔۔۔

ایک ہفتہ تک وہ آیت کے ہی خیالوں میں گم رہا۔۔۔کشتی پہ بیٹھا اسی جگہ کو دیکھتا رہتا جہاں آیت ایک دن آ کر بیٹھی تھی۔۔۔

اگلے اتوار وہ گروپ پھر سے کشتی رانی کی سیر کرنے کے لیے آ گیا۔۔۔آیت اس دن پھر نقاب کیے ہوئے ڈری ڈری سی کشتی پہ بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن اس دن وہ بھی کبھی کبھار ملاح کو دیکھ لیتی تھی۔۔۔ملاح کے لیے یہ فخر ہی کافی تھا کہ وہ آیت کی نگاہوں میں کچھ پل کے لیے ظاہر ہو جاتا تھا۔۔۔

کشتی سے اترتے ہوئے آیت ایک بار پھر پھسلی ۔تو ملاح نے فورا سے پہلے اسکو پھر تھام لیا۔۔۔

کبھی کبھی یہ گرنے اور تھامنے کا  عمل محبت کی بنیاد بن جاتا ہے۔۔

شاید خدا نے انکی محبت کی بھی بنیاد رکھ دی تھی۔۔۔

وہ واپس لوٹ گئے مگر ملاح وہیں رکا رہا۔۔۔۔جانے کیوں اسکا اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔

اگلے اتوار آیت تو نا آئی مگر وہ چاروں ضرور آ گئے تھے۔۔۔

لیکن ملاح نے انکو کشتی رانی کی سیر کروانے سے انکار کر دیا۔۔اس نے کہا کہ اسکی طبیعت خراب ہے آج اسی لیے آج وہ انکو کشتی کی سیر نہیں کروا سکتا۔۔۔وہ چاروں منہ لٹکا کر مایوسی سے واپس لوٹ گئے۔۔۔

اگلے اتوار آیت پھر نہیں آئی۔۔۔۔مگر وہ چاروں آئے تھے۔۔۔ملاح نے پھر ان چاروں کو انکار کر دیا۔۔۔۔

وہ آیت کے بارے میں پوچھ بھی نہیں سکتا تھا جبکہ اسکا بہت من کر رہا تھا کہ وہ ان چاروں سے آیت کے نا آنے کی وجہ پوچھے۔۔۔ان سے پوچھے کہ وہ اس بے بس انسان کو ساحل کے بیچوں بیچ کیوں تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔

مگر اس نے اپنے جذبات کو کسی طرح قابو میں رکھا۔۔۔

پھر ہفتے کی شام وہ ہوا جسکا اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔

چاند گویا وقت سے پہلے اسکے آنگن میں اتر آیا تھا۔۔۔

وہ آیت ہی تھی۔۔۔۔

وہ اکیلی ہی آئی تھی اور اسکے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔

وہ کشتی میں بیٹھا ہوا اسکو اپنے سامنے کھڑے بڑی حیرت اور محبت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔آیت کی نظریں بھی ملاح پہ تھیں۔۔۔۔

پھر وہ خود ہی آگے بڑھ کر اسکی کشتی میں سوار ہو کر اپنی پہلے والی جگہ سنبھال کر اسکے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔

دونوں میں اک لا محدود خاموشی  بنی ہوئی تھی۔۔۔

ملاح نے آیت کو دیکھ کر کشتی دریا میں چڑھا دی۔۔۔

دریا میں اٹھتی بڑی بڑی موجین آیت کو ڈرا رہی تھیں مگر وہ آج اس ڈر سے بھی نہیں ڈر رہی تھی۔۔۔۔اسے یقین تھا کہ وہ ملاح اسکو پھر سے تھام لے گا۔۔۔

کشتی دریا کے وسط میں پہنچ گئی تھی تبھی دریا میں بہتا اک بڑا سا درخت بہت زور سے کشتی کے ساتھ ٹکرایا اور آیت اپنی جگہ سے اڑ کر دریا میں جا گری۔۔۔۔یہ سبھی بہت اچانک اور بہت جلدی ہوا تھا۔۔۔۔ملاح بھی گرتے گرتے بچا رھا۔لیکن جب اس نے کشتی پہ آیت کو نا پایا تو اسکی  اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔۔۔۔آیت اسے دریا میں ڈوبتی ہوئی دریا کی تیز لہروں میں بہتی ہوئی نظر آئی۔۔۔ملاح اسے بچانے کے لیے دریا میں کود گیا۔وہ تیزی سے تیر کر آیت تک پہنچنا چاہتا تھا مگر جتنا تیز وہ تیر رہا تھا اتنی ہی تیزی سے آیت اس سے دور ہوتی جاتی رہی تھی۔۔۔۔گھبراہٹ اور دکھ کی وجہ سے ملاح کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو دریا کے پانی میں مل کر اپنی پہچان کھو رہے تھے ۔۔۔

پھر آیت اسکی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔وہ دیوانوں کی طرح تیرتے ہوئے آیت کو ادھر ادھر تلاش کر رہا تھا لیکن آیت کو دریا کی زمین نے اپنے سینے سے لگا کر ملاح کا سینہ چیر کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

وہ چلی گئی تھی۔۔۔

اس سے دور۔۔۔۔بہت دور۔۔۔۔

ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔

کبھی نا واپس آنے کے لیے۔۔۔۔وہ دریا کے کنارے پہ اپنی کشتی تو لگائے رو رہا تھا ۔۔۔۔اس کی چیخیں آسمان میں دراڑ ڈال رہی تھیں۔۔۔

آج پہلی بار وہ اکیلی آئی تھی۔۔۔جانے کیا کیا باتیں اسکے دل میں تھیں جسے وہ زبان نہیں دے پائی۔۔۔۔کتنے ہی ارمان اسکے ساتھ ہی دریا میں ڈوب گئے تھے۔۔۔۔

اپنی ساری زندگی اس نے کشتی کی اس جگہ سے محبت کرتے ہوئے گزار دی جہاں آیت بیٹھی تھی۔۔۔۔وہ روز وہاں بیٹھ کر اسکو یاد کر کے روتا تھا۔۔۔

سالوں گزر گئے مگر وہ اسے بھلا نہیں پایا۔۔۔

جب وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچا تو ایک دن اپنی کشتی پہ بیٹھا ہوا آیت کو یاد کر رہا تھا جب اسکے پاس یونیورسٹی کا ایک گروپ کشتی رانی کی سیر کرنے کے لیے آیا۔۔۔

بالکل ویسا ہی ایک گروپ جو اس نے پہلے بھی اپنی زندگی میں دیکھا تھا۔۔۔

دو لڑکے اور تین لڑکیاں۔۔۔۔دو ماڈرن قسم کی لڑکیاں۔۔۔جبکہ ایک سادہ سے لباس میں ملبوس چہرے پہ نقاب کیے معصوم سی لڑکی۔۔۔

وہ چاروں کشتی میں بیٹھ گئے۔۔۔

وہ نقاب پوش لڑکی ابھی تک باہر ہی کھڑی تھی۔۔۔۔

"کم آن آیت۔۔۔ڈرو نہیں۔۔۔آجاو۔۔۔”

بوڑھے ملاح نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا۔۔۔ایک اور آیت کو۔۔۔بالکل اسی کے جیسی۔۔۔معصوم سی۔۔۔ڈری ڈری سی۔۔۔۔

بوڑھا ملاح گھبرا کر جلدی سے کشتی سے اترا اور اپنے گھر کی جانب تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔۔۔

وہ چاروں اس بوڑھے کو پیچھے سے آوازیں دیتے رہ گئے مگر اس بوڑھے نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔۔۔

وہ ایک اور آیت کو ڈوبتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔

کبھی نہیں۔۔۔۔!!!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اختری…نادیہ عنبر لودھی 

اختری نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد —— اختری نے گھر کا کام ختم کیا اور سفید تکیہ پوش پر رنگ برنگے  چھوٹے چھوٹے  پھول کاڑ ھنے لگی – اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔ اسے یہ کام جلدی مکمل کرنا تھا اس کے بعد بستر کی چادر مکمل کر ناتھی – اختری یتیم تھی اس کا بچپن بہت کسمپرسی کے عالم میں گزرا تھا -باپ اس کی پیدائش کے چند ماہ بعد چل بسا ۔ ایک بڑ ی بہن تھی اور ایک ماں -ماں محنت مزدوری کر کے ان دونوں کو پال رہی تھی -اکثر گھر میںکھانے کے لیے صرف روٹی ہوتی جب وہ ماں سے پوچھتی اماں !روٹی کس کے ساتھ کھائیں ؟ ماں جواب دیتی :منہ کے ساتھ ۔ جیسے تیسے کرکے اس کا بچپن گزر گیا -وہ بھی ماں کا ہاتھ بٹانے کو سلائی کڑھائی کرنے لگی -لیکن یہ چادر اور تکیے اس کے جہیز کے تھے ان پر لگے ہر ٹانکے میں اس کے ارمان پروۓ ہوۓ تھے ۔ ان کے رنگوںمیں اس کے خواب سجے تھے ۔کنواری آنکھوں میں  سجے ایک شہزادے کے خواب – جس کا ساتھ اس کی زندگی کو دل کش بنادے گا۔ اس کا تعلق مشترکہ ہندوستان کے گاؤں گورداسپور سے تھا -یہ جنوری ۱۹۴۷کا زمانہ تھا – جنگ آزادی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا -اکثر گلی میں سے گزرتے جلوسوں کے نعرے سنتی اختری مستقبل کے اندیشوںسے لاعلم تھی -اس کی عمر چودہ سال تھی -اس نے ہوش سنبھالنے کے بعد صرف گھر کی چار دیواری دیکھی تھی -سیاست کی موجودہ صورت حال سے وہ بے خبر تھی -کبھی اماں سے پوچھتی کہ جلوس کیوں نکلتےہیں تو وہ جواب دیتی :یہ انگریز سرکار سے آزادی مانگتے ہیں – آزادی کیا ہوتی ہے یہ سوال اس کے لیے عجیب تھا کیونکہ وہ ان پڑھ تھی -قرآن اور نماز کی تعلیم ماں نے دی تھی اس کے نذدیک دین کا علم ہی کل علم تھا -دنیاوی علم سے وہ بے بہرہ تھی – دو ماہ بعد اس کی شادی طےتھی – شادی کا دن آپہنچا -ماں نے اپنی حیثیت کے مطابق اسے رخصت کردیا – سسرال میں ساس ،شوہر اور دیور تھے -نئی نئی شادی میں دہکتے جاگتے ارمانوں کا ایک جہان آباد تھا -یہ دنیا اتنی خوبصورت تھی کہ وہ ماضیکی سب محرومیاں بھول گئی -اس کا شریک ِحیات اس کے مقابلے میں بہت بہتر تھا پڑ ھا لکھا اور وجیہہ-اس کا شوہر سرکاری ملازم تھا -وہ ایف۔اے پاس تھا او ر محکمہ ڈاک میں کلرک تھا -خوابوں کے ہنڈولے میںجھولتے چند ماہ لمحوں کی طرح سے گزر گئے – ملک میں فسادات پھوٹ پڑے -حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے تھے -ان کے سارے خاندان نے ہجرت کی ٹھانی -ضرورت کے چند کپڑے گھٹریوں میں باندھے -وہ جہیزجو اس نے بہت چاؤ سے بنایا تھا حسرت بھری نظر اس پر ڈالی اور رات کی تاریکی میں سسرال والوں کے ساتھ گلی کی طرف قدم بڑ ھا دیے -وہ لوگ چھپتے چھپاتے شہر سے باہر جانے والی سڑک کی طرف قدم بڑھنے لگے – دبے پاؤں چلتے چلتے وہ شہر سے باہر نکلے -آبادی ختم ہوگئی تو قدموں کی رفتار بھی تیز ہو گئی -درختوں کے اوٹ میں ایک قافلہ ان کا منتظر تھا – جس میں زیادہ تر خاندان ان کی برادری کے تھے -قافلےچلنے میں ابھی وقت تھا کیونکہ  کچھ اور خاندانوں کا انتظار باقی تھا – اس کی ماں اور بہن پہلے ہی پہنچ چکی تھی – اگست کا مہینہ تھا ساون کا موسم تھا گزشتہ رات ہونے والی بارش کی وجہ سے میدانی علاقہ کیچڑ زدہ تھا -اسی گرمی ، حبس اور کیچٹر میں سب لوگ ڈرے سہمے کھڑ ےتھے -گھٹریاں انہوں نے سروں پہ رکھی ہوئی تھیں اتنے میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی -اللہ خیر کرے -قافلے والوں کی زبان سے پھسلا -چشم زدن میں گھڑ سوار قافلے والوں کے سروں پر تھے – انکے ہاتھوں میں کرپانیں اور سروں پر پگھڑیاں تھیں یہ سکھ حملہ آور تھے -کاٹ دو مُسلوں کو کوئی نہ بچے -صدا بلند ہوئی -لہو کا بازار گرم ہوگیا مسلمان کٹ کے گرنے لگے ان کے پاس نہ تو ہتھیار تھے نہ ہی گھوڑے- جان بچا کے جس طرف بھاگتے کوئی گھڑ سوار گھوڑے کو ایڑ لگاتا اور سر پہ جا پہنچتا – اختری کا شوہر اور دیور بھی مارے گئے ۔چند عورتیں رہ گئی باقی سب مار ے گئے – ان عورتوں کو گھڑ سواروں نے اپنے اپنے گھوڑوں پہ لادا اور رات کی تاریکی میں گم ہوگئے -شوہر کو گرتا  دیکھ کے اختری ہوشوحواس گم کر بیٹھی اور بے ہوش ہوگئی -رات گزر گئی دن کا اجالا نکلا گرمی کی شدت سے اختری کو ہوش آیا تو چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور وہ اکیلی زندہ تھی -اختری نے واپسی کے راستے کی طرفجانے کا سوچا اور شہر کی طرف چل پڑی -وہ ہندوؤں اور سکھوں سے چھپتی چھپاتی اپنے گھر کی طرف جانے لگی – گلی سے اندر داخل ہوئی تو گھر سے دھواں  نکلتے دیکھا – دشمنوں ے گھر کو لوٹ کے بقیہ سامانجلایا تھا نہ مکین رہے نہ گھر – وہ اندر داخل ہوئی اور ایک کونے میں لیٹ گئی – گزرا وقت آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے وقت نے کھل کے رونے بھی نہ دیا -زندگی کیا سے کیاہوگئی -انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ قدموں کی چاپ سنائی دی -آج یہاں جشن مناتے ہیں – تین ہندو ہاتھ میں شراب کی بوتل لیے گھر میں داخل ہوۓ – اختری نے ارد گرد نظر دوڑائی اپنی حفاظت کے لیے کوئی چیزنظر نہ آئی -وہ برآمدے میں بیٹھ گئے اور شراب پینے لگے اختری اندر کمرے کے دروازے کی درز سے انہیں دیکھنے لگی -ان میں سے ایک اٹھا اور بولا :تھک گیا ہوں آرام کرلوں ۔وہ اختری والے کمرے کی طرف بڑھا اختری پیچھے ہٹی اور کسی برتن سے جا ٹکرائ۔ اندر جانے والے نے چاقو نکال لیا – شور کی آواز سے باقی دونوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے :کوئی ہے -یہاں کوئی ہے – لڑکی ہے :پہلے والا بولا باقی دو کے منہ سے نکلا – لڑ کی پہلے والا ہاتھ میں چاقو لے کر اختری کی سمت بڑ ھا اختری پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی باقی دو بھی پہنچ گئے ایک نے چھپٹا مار کے اختری کو پکڑ نے کی کوشش کی ۔اختری نے چاقو والے سے چاقو چھینااور چشم زدہ میں اپنے پیٹ میں مار لیا ۔خون  کا فوارہ ابل پڑا -اختری نیچے بیٹھتی گئی فرش پہ خون پھیلنے لگا اور اس کی گردن ڈھلک گئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے