سر ورق / تصویر کہانی / تصویر کہانی

تصویر کہانی

اس تصویر پر کہانی لکھیں ۔۔۔۔ دیکھیں اپ کی تخلیق کیا رنگ لاتی ہے ۔۔۔

Turn off for: Urdu
 ترجمہ : غلام حسین غازی
"ترجمہ نظم”

 

شب تار، برستی بارش تھی
اور ترے شہر میں، میں شب گزیدہ
کتنی محبت سے تیرے شہر نے
اپنے در، مجھ پر وا کئے تھے
مجھے جانتا تھا- ترا شہر جاں سوز تھا۔۔۔لیکن
اب یہ میرا بھی تھا
پھر اس شہر کی ایک ایک اینٹ
ایک ایک پتھر میری خواھشات کے شاہد ھوے تھے!!!
مجھے پتہ ھے۔۔۔سب جانتا ھوں!
تو نے جلدی میں لائبریرین کی پنسل اٹھائی اور نیلی سطروں پر محبت نامہ میرے نام لکھا تھا۔
جو مجھ تک نہ پہنچ سکا تھا😑
پھر تو نے
تمام شہر کے در و بام
محبت سے بھر دیے تھے۔
مجھ سے بھول ہوئی۔۔۔
جو۔۔۔میں ناداں
معمولی سمجھ کے تیری عنایت
سمندری سپیاں گنوا بیٹھا تھا!!!
رکو! سنو! گردن موڑ کے کان لگا کے سنو!!!
اس نے اک سرگوشی بھیجی تھی
ھوا  بردوش!
نہیں! شاید اس نے صدا بھی لگائی تھی
لیکن! وہ تو رم جھم برستی بارش میں چھتریاں تانے لوگوں کےسمندر میں گم ھو چکا تھا۔
بلکل ویسے ھی جیسے
سرد دریا یخ کے نیچ
ے کہیں کھو جاے۔😥
میں صبح صادق ہی بیدار باھر کھڑا تھا
تیرے شہر کا گگن۔۔۔اس روز۔۔۔سرخ، جامنی اور رنگ طلائی سے مرصع تھا۔
اور میرا من آتش ہجر سے دھکا تھا۔
میں نے بھی ھوا کے دوش سرگوشی کی تھی
میں بھی کچھ چلایا تھا!!!
پر! میری تنہائیوں میں
تیری طرف سے
کوئی صدا نہ آئی تھی!!!
تم نے مجھے ۔۔۔۔ بڑی سنگی سیڑھیوں کے پاس ملنے کا سندیش ہوا کے دوش بھیجا تھا۔
تم نے صدا لگائی تھی۔
” مجھے وہیں ملنا۔۔۔جہاں تم نے
مجھے۔۔۔پہلے پہل اپنے دھکتے ھونٹوں کی مئے سے آشنا کیا تھا”
وہ میرے بتاے رنگوں کے نشان پر چلتی رہی۔۔۔میری تلاش میں ۔۔۔ ہزاروں مردوں کے شانے تھپتھپاے تھے۔۔۔ وہ سبھی اجنبی تھے! پر ان سب میں میں نہ تھا!
وہ خاموش پر جگر فگار رم جھم میں ۔۔۔تنہا ہی گھر واپس لوٹی تھی۔😥
تم بھی! اے میرے دوستو!
کسی روز وہیں رک کر چشم تصور میں تو لائو!!!
ان ہزاروں چھتریوں کو۔۔۔اور ان رنگوں کو مصور کرنے کی کوشش تو کرو۔۔۔جو میرا پیراہن تھا۔
اور پھر تصور کرو
وہ جو شوریدہ سر دریا۔۔۔سرد پڑ کر۔۔۔کہیں یخ بستہ برف زار کے نیچے گم ھوا تھا!!!😣
ٹھٹھرتی ریل کار
برف سے سفید پلیٹ فارم سے آ لگی تھی!
اتنی یخ بستہ ۔۔۔ کہ لیمپ کا شعلہ بھی خود سے ہی برسر پیکار تھا۔
میں نے اپنی چھتری ایک خالی  سرد سنگی بنچ پر رکھ دی تھی۔۔۔وہ میری نشانی تھی!!!
لیکن رکو! کان لگائو!
پھر سے اس کی سرگوشی بر دوش ھوا ابھری ھے۔
"واپس آ جا اے سوختہ جاں!
اس نے صدا لگائی!
پر! اب تو دروازے بند ھو گئے اور
ریل کہیں غائب ھو گئی۔۔۔بلکل ویسے ۔۔۔ جیسے کہ تاریک ٹھنڈا دریا یخ بستہ برف کے نیچے غائب ھوا تھا۔
او! نازنیں!  جب میں تیرا دل ھی چھین لے گیا
تب تم میرے ہی رنگ چہار سو پھیلے دیکھو گی!
ترے شہر کی بھیگی گلیاں، والہانہ بانہیں کھولے کھڑی عمارتیں،
تب تم بھی سرخ، روپہلی اور جامنی رنگوں میں رنگ جاو گی۔
میں جانتا ھوں!
پکارو گی مجھے سرگوشیوں میں
"جہاں تم نے مجھے پہلے جاں فزا بوسے کی خیرات دی تھی۔
انھیں سیڑھیوں پر ملو۔”
لیکن! بہت دیر! صدیاں گزر چکی ہوں گی!
اسی شہر نے فیصلہ سنا دیا ھے۔
تمہیں اب اکیلے ہی چلتے رہنا ھے، سب سفر تنہا ہی تمام کرنا ھے!
اک نرم لیکن دردناک تلخ بارش میں الم کو جرعہ جرعہ پیتے۔۔۔ تمہیں تنہا ہی سفر تمام کرنا ھے!!!

- admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے