سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 11 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 11 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 11

تحریر: سید انور فراز

گمراہ کا اختتام ہمارے کام کے بوجھ میں کمی کا باعث ہوا تو وصی بدایونی صاحب کے لیے پریشانی کا باعث تھا کیوں کہ ان کی آمدن کا ایک بڑا حصہ اس طرح متاثر ہوا تھا، وہ شوگر کے مریض تھے، اس ٹینشن نے ان کی صحت پر برا اثر ڈالا، مزاج میں چڑچڑاپن آگیا، مزید یہ کہ وہ آمدن میں اضافے کے دوسرے ذرائع پر غور کرنے لگے،بہر حال یہ ان کا حق تھا۔
اس زمانے میں ہاتھ سے کتابت کا زور تھا، کوئی پبلشنگ ادارہ کاتبوں کے بغیر نہیں چل سکتا تھا، جنگ جیسا مضبوط ادارہ بھی کاتبوں کے سامنے اکثر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوتا تھا، کاتبوں کی اپنی یونینز قائم تھیں جس کے سربراہ نسیم الحق عثمانی (مرحوم) تھے، وہ جنرل ضیاء الحق کے بھی بہت قریب ہوگئے تھے،بڑے سرخ و سفید اور بارعب شخصیت کے مالک تھے،خان آصف کے قریبی دوستوں میں تھے،خان صاحب انھیں ’’پوپ‘‘ کہا کرتے تھے۔
جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں بھی کتابت سے متعلق مسائل رہتے تھے،بعض مخصوص کاتب نہایت اہم تھے اور مستقل تھے، جب کہ بعض کچھ عرصہ کام کرکے کسی اور طرف نکل جاتے، اس طرح کتابت خانہ گویا کبوتر خانہ تھا، ادارے کے مستقل کاتبوں میں مرزا رفیع خاصے پرانے ، پڑھے لکھے کاتبوں میں تھے، سنا ہے کہ پنجاب میں ٹیچنگ کرتے رہے تھے،الیاس سیتا پوری کی تحریر پڑھنے کے ماہر تھے، الیاس صاحب بہت باریک الفاظ لکھتے تھے اور تیزی سے لکھنے کے سبب الفاظ آپس میں گڈمڈ ہوجاتے تھے، لائنوں کے درمیان بھی فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا، ان کا لکھا ہوا ایک صفحہ اکثر ڈائجسٹ کے ڈھائی تین صفحے کے برابر ہوتا تھا، ان کی تحریر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت سی چیونٹیاں روشنائی میں ڈبوکر کاغذ پر چھوڑ دیتے ہیں، مرزا رفیع بہت کم کبھی آفس آیا کرتے تھے ورنہ اپنے گھر پر ہی بیٹھ کر کتابت کیا کرتے تھے،نہایت شریف النفس اور وضع دار انسان تھے۔
آفس میں کاتبوں کی جو ٹیم کام کر رہی تھی،ان میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا، عام طور پر وصی صاحب ہی ان سے کام لینے اور ان کا حساب کتاب کرنے کے ذمے دار تھے،وصی صاحب سے پہلے یہ ذمے داری احمد سعید شافع صاحب کی تھی، اس طرح ہمارا کاتبوں پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، وصی صاحب کی صحت کی خرابی اور معاشی پریشانی نے ان کے مزاج پر بہت برا اثر ڈالا، وہ ادارہ چھوڑنے کے منصوبے بنانے لگے لیکن اس کا ذکر کسی سے نہیں کیا، ہم سے بھی نہیں، ایک اور وجہ ایسی تھی کہ وہ ہم سے بھی تھوڑے سے شاکی ہوگئے تھے، دراصل جب انھوں نے گمراہ لکھنی شروع کی تو وہ اعجاز رسول صاحب کے پبلشنگ ادارے کے لیے پیسٹنگ کا کام بھی کیا کرتے تھے،یہ ذمے داری انھوں نے ہمیں دے دی جس کا ہمیں فائدہ ہوا یعنی ہماری آمدن بڑھ گئی اور اس معاملے میں ہم ان کے شکر گزار تھے مگر جب گمراہ بند ہوئی تو شاید انھیں یہ احساس ہوا کہ اب پیسٹنگ کا کام ہمیں چھوڑ دینا چاہیے اور ان کے حوالے کردینا چاہیے،ہم یقیناً ایسا کرسکتے تھے لیکن اب اعجاز رسول صاحب ان سے کام کرانے کے لیے تیار نہیں تھے،اتنے عرصے میں ہمارے ساتھ ان کی اچھی انڈراسٹینڈنگ ہوچکی تھی، ہم نے ایک بار اعجاز صاحب سے اس مسئلے پر بات کی اور ان سے کہا کہ وصی صاحب مالی طور پر پریشان ہیں، آپ پیسٹنگ کا کچھ کام انھیں بھی دے دیں تو انھوں نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا، وہ ان دنوں کتابوں کی زیادہ اشاعت کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے، صرف ایک دیوتا ایسا سلسلہ تھا جس کی مانگ بہت زیادہ تھی لہٰذا ایک دو مہینے میں اس کا ایک حصہ شائع کرتے تھے اور اس کی پیسٹنگ ہم کیا کرتے تھے،قصہ مختصر یہ کہ وصی صاحب کی پریشانیاں بڑھتی چلی گئیں اور وہ ہم سے بھی ناراض ہوتے چلے گئے،ناراضی کا ایک اور سبب ہوا۔
کاتبوں کے تمام معاملات ان کے ہاتھ میں تھے لہٰذا انھوں نے سسپنس کے لیے بہت اچھا لکھنے والے کاتب الگ کرلیے اور جو دوسرے تیسرے درجے کے کاتب تھے، ان سے جاسوسی ڈائجسٹ کا کام لیتے تھے،ہم نے اس پر اعتراض کیا تو انھوں نے اس پر قدرے برہمی کا اظہار کیا اور ہم سے کہا کہ اپنے لیے کاتبوں کا بندوبست خود کرلو اور کاتبوں کو منع کردیا کہ جاسوسی ڈائجسٹ کا کام نہ کریں، صرف سسپنس کا کام کریں۔
ہمارے لیے یہ بڑی پریشان کن صورت حال تھی اور ظاہر ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں معراج صاحب سے بات کرنا ضروری تھا، ہم نے ساری صورت حال سے انھیں آگاہ کیا، وہ نہایت اطمینان سے سب کچھ سنتے رہے اور پھر ہم سے پوچھا ’’تم جاسوسی کے لیے علیحدہ کاتبوں کا بندوبست کرسکتے ہو؟‘‘
ہم نے جواب دیا ’’کیوں نہیں؟‘‘
انھوں نے فوراً کہا ’’بس کرلو‘‘
ہم نے عرض کیا ’’ وصی صاحب ہم سے پھر اور زیادہ ناراض ہوجائیں گے‘‘
’’ہوجانے دو‘‘ معراج صاحب نے دو ٹوک کہا۔
معراج صاحب کے کمرے سے نکل کر ہم سوچ میں پڑگئے کہ معراج صاحب نے یہ طریقہ کیوں اختیار کیا؟ ادارے کے مالک ہیں، وصی صاحب کو بلاکر بات کرسکتے تھے اور سسپنس اور جاسوسی کے لیے کاتبوں کو تقسیم کرسکتے تھے،کسی میں ہمت نہیں تھی کہ ان کے کسی فیصلے کے سامنے کھڑا ہوسکے یا کوئی اعتراض کرسکے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
معراج صاحب تیسری منزل پر بیٹھتے تھے اور ان کے کمرے کے دو حصے تھے،ایک ان کے لیے مخصوص تھا اور دوسرے حصے میں ان کا پی اے اختر بیگ اور اس زمانے میں منیجر اور اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے توصیف احمد کیوں کہ بعض بدعنوانیوں کے سبب پرانے منیجر نفیس احمد خان کو ہٹادیا گیا تھا۔
ہم نے اختر سے بات کی کیوں کہ اس سے زیادہ معراج صاحب کے نزدیک کوئی نہیں تھا، وہ ان کے موڈ مزاج کو سب سے زیادہ سمجھنے والوں میں سے تھا، اختر بیگ بڑا گہرا، سنجیدہ اور ذمے دار انسان ہے،آج بھی ادارے میں موجود ہے،یہ الگ بات ہے کہ اب اس پوزیشن پر نہیں ہے جس پر معراج صاحب کے زمانے میں تھا۔
اختر نے ہماری بات سن کر کہا ’’صاحب جو کہہ رہے ہیں وہی کرلو‘‘
ہم نے کہا ’’وصی صاحب مزید ہمارے خلاف ہوجائیں گے اور ہمارا جینا دوبھر کردیں گے‘‘
اختر نے جواب دیا ’’وہ کچھ نہیں کرسکیں گے، جب معراج صاحب تمھارے ساتھ ہیں تو بات ختم‘‘
مگر ہمارا دل مطمئن نہیں ہورہا تھا،ہم وصی صاحب سے کوئی بگاڑ پیدا کرنا نہیں چاہتے تھے، ہم ان کا ایک استاد کی طرح احترام بھی کرتے تھے، اختر سے ہم نے اپنے خدشات کا مزید اظہار کیا تو آخر اس نے وہ بات اگل دی جو ہمیں بھی معلوم نہیں تھی، اس نے بتایا کہ وصی صاحب ادارہ چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں اور یہ بات معراج صاحب کے علم میں آچکی ہے۔
ہمیں اس کا اندازہ تو تھا کہ وہ پریشان ہیں اور اکثروبیشتر چڑچڑاتے، لوگوں پر غصہ کرتے رہتے ہیں، آمدن میں اضافے کے لیے دوسرے ذرائع بھی ڈھونڈ رہے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ادارے ہی سے رخصت ہونا چاہ رہے ہیں۔
کراچی کے تمام اخبارات و رسائل میں ہمارا آنا جانا ، لوگوں سے ملنا جلنا رہتا تھا اور ہمارے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا کہ کاتبوں کی ایک نئی ٹیم تیار کرلیں، سب سے پہلے ہم نے نوائے وقت کا رُخ کیا جہاں شافع صاحب کے زمانے کے ایک کاتب کام کرتے تھے،وصی صاحب کے ناپسندیدہ تھے، اس لیے اب ان سے کام نہیں لیا جاتا تھا، وہ فوراً کام کے لیے تیار ہوگئے اور پھر اس طرح بالآخر ہم نے اپنی ضرورت کے مطابق ایک نئی ٹیم بنالی، ہماری توقع کے مطابق وہی ہوا جس کا ڈر تھا، وصی صاحب کی ناراضی بڑھ گئی، ان دنوں وہ ہمارے کمرے سے سامنے والے کمرے میں شفٹ ہوچکے تھے، دوپہر کے وقت ہم سب لوگ ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے،جب وصی صاحب دوسرے کمرے میں شفٹ ہوگئے تو کھانا بھی اسی کمرے میں کھانے لگے، اس واقع کے بعد وصی صاحب نے ہمارا داخلہ اپنے کمرے میں بند کردیا اور ایک موقع پر بڑے ہی سخت الفاظ استعمال کیے جن سے ہمیں تکلیف ہوئی لیکن ہم نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔

جنوری 1988 ء میں جو تلخی ہوئی تھی وہ بدستور قائم تھی اور اب وصی صاحب نے اپنی روانگی کا اعلان بھی کھل کر کردیا تھا، انھوں نے کسی ککنگ آئل کی ایجنسی لے لی تھی اور بہت جلد ادارہ چھوڑ کر یہ کام شروع کرنا چاہتے تھے،شاید جولائی کا مہینہ تھا، ان کی بدمزاجی رنگ لائی اور کاتبوں سے شدید جھگڑا ہوا، اگر دوسرے لوگ درمیان میں نہ آتے تو ہاتھا پائی تک نوبت آجاتی، اکثر کاتب زیادہ پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ نہیں ہوتے، ایسے ہی کسی کاتب نے بدتمیزی کی ہوگی اور وصی صاحب نے اسے برا بھلا کہا ہوگا، جواباً سارے کاتب متحد ہوکر معراج صاحب کے پاس پہنچ گئے اور اپنا مقدمہ پیش کردیا، معراج صاحب ہر بات کے لیے پہلے سے شاید تیار تھے اور وصی صاحب کے متبادل کے طور پر کسی دوسرے مناسب آدمی کی تلاش میں تھے لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا اور وہ فوری طور پر وصی صاحب کو فارغ کرنا چاہتے تھے،انھوں نے ہمیں بلایا اور مختصراً صورت حال کی وضاحت کی ، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا دورۂ یورپ و امریکا قریب تھا، انھوں نے ہم سے پوچھا کہ تم میرے واپس آنے تک جاسوسی کے ساتھ سسپنس بھی سنبھال لو گے؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، انھوں نے بتایا کہ واپس آکر میں کسی مناسب آدمی کا انتظام کرلوں گا، ہم نے اس موقع پر سسپنس کے لیے علیم الحق حقی کا نام پیش کیا تو انھوں نے ہماری تجویز کو رد کردیا اور کہا کہ حقی جو کام کر رہے ہیں وہ میرے لیے زیادہ اہم ہے، تم فکر نہ کرو ، میں واپس آکر سب ٹھیک کرلوں گا۔
وصی صاحب رخصت ہوگئے ، ان کی ہم سے ناراضی برقرار رہی لہٰذا جاتے ہوئے سب سے ملے مگر ہماری طرف نہیں آئے ۔
جاسوسی کے ساتھ سسپنس کی ذمے داریاں بھی ہمارے سر آگئی، معراج صاحب نے جاتے ہوئے علیم الحق حقی کو بلاکر کہا کہ فراز کو آپ کی مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے، خیال رکھیے گا، معراج صاحب سے ملاقات کے بعد وہ ہمارے کمرے میں آئے اور نہایت بے تکلفی سے ساری صورت حال پر بات چیت کرتے رہے پھر کہا کہ کسی بھی مرحلے پر کوئی پریشانی محسوس کریں تو مجھے فون کرلیں، ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور حسب معمول دیر تک ایسٹرولوجی کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔

سابقہ اقساط میں بعض احباب کے تذکرے میں جب ہم نے ان کی شخصیت و کردار پر فلکیاتی نقطہ ء نظر سے مختصر گفتگو کی تو بعض پڑھنے والوں نے شکایت کی کہ آپ کو تفصیل سے بات کرنا چاہیے تھی، اس موقع پر ضروری ہے کہ ہم علیم الحق حقی کے زائچے پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ کون سی اہم خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے حقی ایک غیر معمولی تخلیق کار کے طور پر سامنے آئے۔
علیم الحق حقی کی تاریخ پیدائش 21 اپریل 1950 ء تھی اور یہی تاریخ جمال احسانی کی بھی تھی، دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کے درمیان کتے بلّی کا بیر تھا، دونوں ایک دوسرے کو سخت ناپسند کرتے تھے اور اس معاملے میں حقی صاحب کی شدت پسندی نمایاں تھی،جمال تو بڑے کھلے دل کا انسان تھا اور وہ ایسی کسی بات کی پروا ہی نہیں کرتا تھا۔
روایتی طور پر عام لوگ مروجہ ویسٹرن سسٹم کی بنیاد پر اس تاریخ کے مطابق شمسی برج ثور متعین کریں گے لیکن ویدک سسٹم کے مطابق یہ درحقیقت برج حمل ہوگا، البتہ پیدائش کے وقت کے مطابق برتھ سائن ثور ہے اور قمر بھی برج ثور ہی میں موجود ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ برج ثور کا غالب اثر علیم الحق حقی پر تھا۔
ثور شخصیت کے حامل لوگ صابر، ثابت قدم، قابل بھروسا، گرم جوش، محبت کرنے والے، اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے والے،متحمل مزاج، فنکار، نیک، وفادار، گھریلو، اچھے برے کی تمیز کرنے والے اور شہوت انگیز ہوتے ہیں، یہ ان کی مثبت توانائیاں ہیں لیکن اپنی منفی توانائیوں میں یہ لوگ حاسد، جتانے والے، آزردہ خاطر، غیر لچک دار، تنگ نظر، پست حوصلہ اور لالچی بھی ہوتے ہیں۔
آرام طلبی اور عیش پرستی اس برج کا خاصا ہے،بے شک یہ بہت سخت محنتی اور سخت جان بھی ہوتے ہیں ،جب کسی کام کا ارادہ کرلیں تو اسے پایہ ء تکمیل تک ضرور پہنچاتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ اس کام میں کوئی مقصدیت موجود ہو، اس کے بغیر یہ اپنی جگہ سے ہلتے بھی نہیں۔
چاند یعنی سیارہ قمر بھی برج ثور میں ہے اور خیال رہے کہ برج ثور کا حاکم سیارہ زہرہ ہے جسے توازن ، ہم آہنگی اور حسن و عشق کی دیوی بھی کہا جاتا ہے،ثور افراد خوب جانتے ہیں کہ وہ جس انداز کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اس کے لیے دولت بہت ضروری ہے لہٰذا اکثر ثوری افراد دولت کمانے کو ترجیح دیتے ہیں، برج ثور کا عنصر خاک ہے،خاکی برج کو مادّی برج کہا جاتا ہے،گویا یہ لوگ کبھی زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کرتے اور زمینی حقائق میں سب سے بڑی حقیقت فی زمانہ دولت ہے،دولت کی خواہش ثور افراد میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور زائچے کے دسویں گھر میں زہرہ اور مشتری کا ملاپ بھی ہے،حقی صاحب اس ملاپ جسے اصطلاحاً قران کہا جاتا ہے پر بڑا فخر کرتے تھے،اس کے بالمقابل چوتھے گھر میں سیارہ زحل اور مریخ کا قران ہے،اس پر افسوس کرتے تھے، اس زمانے میں ہماری یا حقی صاحب کی علم نجوم سے واقفیت ابتدائی نوعیت کی تھی،ہم ان موضوعات پر مختلف کتابوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں کیا کرتے تھے لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے، اس گفتگو میں اکثر عزیز الحسن قدسی بھی شامل ہوتے تھے، آج جب اس علم پر ہمارا مطالعہ اور تجربہ بہت بڑھ چکا ہے تو حقی صاحب کے زائچے کی صورت حال زیادہ بہتر طور پر سامنے آسکی ہے اور ان کے بہت سے مسائل کو سمجھنے میں بھی آسانی ہوئی ہے۔
عام حالات میں مشتری اور زہرہ کا قران سعد اکبر تصور ہوتا ہے اور زحل اور مریخ کا قران نحس اکبر سمجھا جاتا ہے لیکن جدید علم نجوم میں بہت کچھ بدل چکا ہے یہاں ہم ٹیکنیکل باتوں سے گریز کریں گے جو عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہوگی، مختصراً اتنا سمجھ لیں کہ حقی صاحب کے حالات میں ابتدا ہی سے سختیاں اور پریشانیاں مریخ اور زحل کے قران کے باعث تھی اور اسی قران کی وجہ سے وہ گہری انانیت کا شکار بھی تھے ، اپنی انا کے سامنے انہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا اور وہ ہمیشہ انا گزیدہ ہوکر بڑے بڑے نقصانات کرلیا کرتے تھے،معراج صاحب سے تعلقات میں خرابیاں بھی اسی انانیت کے سبب پیش آئیں جن کا تذکرہ ان شاء اللہ آگے مناسب موقع پر آئے گا۔
فلکیاتی علوم میں منازل قمری کو بہت اہمیت حاصل ہے یعنی جب آپ یپدا ہوئے تو نہ صرف یہ بہت اہم ہے کہ چاند کس برج میں تھا بلکہ کس منزل میں تھا، چاند کی منزلوں کے بارے میں قرآن کریم میں بھی ارشاد باری تعالیٰ موجود ہے،قدیم ویدک یا یونانی ماہرین نجوم نے منازل قمری کے اثرات و خواص پر بہت کام کیا ہے،درحقیقت قمری منزل انسان کی فطری صلاحیتوں، خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالتی ہے، حقی کی پیدائش چاند کی منزل ’’روہنی‘‘ میں ہوئی، اس منزل پر قمر بھی حکمران ہے،اس منزل میں پیدا ہونے والے افراد فنون لطیفہ کی خداداد صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں،یہاں قمر کے ساتھ زہرہ کا مشترکہ اثر تخلیقی کیمسٹری کے لیے ایک عمدہ امتزاج ہے جو تخلیقی اور فنکارانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے،یہ لوگ شیریں کلام، متوازن ذہن، موسیقی، رقص، ڈرامے کی خداداد صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، حسن پرستی اور عشق میں کاملیت کی خوبی بھی اس منزل کا خاصہ ہے، چناں چہ حقی صاحب اسی سمت گئے جو فطری طور پر ان کو مناسب لگی، یہی صورت حال جمال احسانی کی تھی،دونوں ایک ہی روز تھوڑے سے وقفے سے پیدا ہوئے،دونوں کی قمری منزل روہنی ہی تھی ، جمال نے بڑی بڑی شاندار سرکاری ملازمتوں کو لات ماردی اور پوری زندگی شعر و ادب کے لیے وقف رکھی، ان شاء اللہ جب جمال کا تفصیلی ذکر ہوگا تو اس حوالے سے مزید بات ہوگی۔
ایک آخری بات اس حوالے سے مزید کہتے چلیں ، برج ثور کے تحت پیدا ہونے والے افراد عام طور پر ایک سخت اور مشکل زندگی گزارتے ہیں، انھیں ساری زندگی مسائل کا سامنا رہتا ہے،مسلسل جدوجہد کرتے رہتے ہیں، جس قدر وہ آرام و آسائش کے طالب ہوتے ہیں اتنا ہی اس کے برخلاف صورت حال ہمیشہ ان کے سامنے رہتی ہے لہٰذا اکثر دنیا سے شاکی اور کبھی کبھی بے زار نظر آئیں گے، امید ہے کہ ایسٹرولوجی کے حوالے سے شکایت کرنے والوں کی تسلی ہوگئی ہوگی، ہماری زیر طبع کتاب مشہور شخصیات کے زائچوں سے متعلق ہے جس میں ان کی خوبیوں خامیوں کے علاوہ ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

مجاہد اور ایم اے راحت

 

معراج صاحب کی روانگی قریب تھی، جب ہمیں ایک اور مسئلے کا احساس ہوا، مجاہد کی ایڈیٹنگ ہمارے ذمے تھی اور یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ اور دقت طلب کام تھا، اس مرحلے پر ہم نے اور حقی صاحب نے باہم مشورہ کیا اور یہ طے کیا کہ آئندہ مجاہد عزیزالحسن قدسی سے لکھوائی جائے تاکہ ہمیں اس کی کاٹ چھانٹ سے نجات ملے،قدسی ایک سرکاری ملازمت سے وابستہ تھے اور پارٹ ٹائم کہانیاں وغیرہ لکھنے یا ترجمہ کرنے کا کام بھی کرتے تھے، وہ اس ذمے داری کے لیے تیار ہوگئے،چناں چہ ہم نے معراج صاحب سے تفصیلی بات کی اور اس طرح مجاہد قدسی صاحب کے حوالے کردی گئی اور پھر آخر تک وہی اسے لکھتے رہے،گویا ابتدا سے تقریباً ستمبر اکتوبر 1988 ء تک راحت صاحب نے لکھا اور پھر یہ کام عزیز قدسی نے سنبھالا۔

ضروری ہے کہ اس موقع پر راحت صاحب کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوجائے، راحت صاحب نے ناول نگاری کا آغاز غالباً ابن صفی صاحب کے کرداروں سے شروع کیا تھا، صفی صاحب کی بیماری کے زمانے میں بہت سے ’’این صفی‘‘ اور نجمہ صفی وغیرہ پیدا ہوگئے تھے جو کرنل فریدی اور عمران وغیرہ پر لکھ رہے تھے ، راحت صاحب بھی یہ کام کرتے رہے،چوں کہ معراج رسول صاحب کے والد جناب عین، غین شیخ ایک پبلشر تھے، وہ اس نوعیت کے ناول بھی شائع کرتے تھے تو ممکن ہے معراج صاحب سے راحت صاحب کے مراسم اسی دور میں ہوئے ہوں گے،ہمیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، صرف اتنا معلوم ہے کہ جب جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز ہوا تو ایچ اقبال ، ایم اے راحت اور اقلیم علیم بھی ان کے ساتھ تھے اور بعد میں راحت صاحب ادارے کے ایک اہم رائٹر کے طور پر نمایاں رہے،جاسوسی ڈائجسٹ میں ان کی سلسلے وار کہانی صدیوں کا بیٹا شائع ہوتی رہی، خان آصف کے تذکرے میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سلسلے وار کہانی ایک انگریزی ناول سے اخذ کی گئی تھی، بعد میں یہ ناول اصلی صدیوں کا بیٹا ’’فرزند اسرائیل‘‘ کے نام سے داستان ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔
راحت صاحب جاسوسی میں سرورق کی کہانیاں بھی لکھا کرتے تھے اور جب سسپنس کا آغاز ہوا تو اس میں ایک بچگانہ سلسلے وار کہانی طالوت بھی راحت صاحب نے لکھی، چوں کہ وہ دور دنیا بھر میں ہپی ازم کا دور تھا ، طالوت زیادہ پسند نہیں کی گئی لہٰذا ان سے نروان کی تلاش لکھوائی گئی، اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور بالآخر ایک حادثاتی واقع نے معراج صاحب اور ایم اے راحت کو علیحدہ کردیا، اس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ۔
یہ بات ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ معراج صاحب سے علیحدگی کے بعد راحت صاحب پر بہت سخت وقت شروع ہوگیا تھا اور انھوں نے بے تحاشا لکھنا شروع کردیا تھا جس سے معیار بری طرح متاثر ہوا، زیادہ سے زیادہ پیسا کمانے کے چکر میں انھوں نے لکھنے کے کام سے انصاف کرنا چھوڑ دیا، جو شخص ایک ماہ میں چار پانچ سلسلہ وار کہانیاں لکھتا ہو ، وہ معیار کا خیال کیسے رکھ سکتا ہے، ایک اچھے رائٹر کے لیے جو اپنے کام سے مخلص ہو ، ایک کہانی سے زیادہ بھی لکھنا عذاب جاں ہے، تخلیق کا کام بڑا جان لیوا ہوتا ہے،شاعر ہو یا ادیب اسے اپنی تخلیق کو اپنا خون جگر دینا ہوتا ہے،کیا خوب میر تقی میر کہ گئے ہیں ؂

مصرع کبھو کبھو کوئی موزوں کروں ہوں میں

کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں

راحت صاحب کے حوالے سے ایک واقعہ بہت مشہور ہوا جو لوگ بطور لطیفہ ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے،اس واقعے کے راوی خان آصف ہیں، بقول خان آصف ایک روز وہ اظہر کلیم سے ملنے گئے تو راحت صاحب بھی بیٹھے تھے، ماضی میں صدیوں کے بیٹے کے حوالے سے دونوں کے درمیان تھوڑی بہت جھڑپ ہوئی تھی لیکن باہمی تعلقات میں کوئی فرق کبھی نہیں آیا،ہمیشہ جب ملاقات ہوتی تو اچھی طرح تپاک سے ایک دوسرے سے ملتے،اس زمانے میں راحت صاحب تقریباً پانچ چھ قسط وار کہانیاں ہر مہینے لکھ رہے تھے، خان صاحب نے نہایت قابل رشک انداز میں انہیں داد دی اور کہا ’’ راحت صاحب! یہ آپ ہی کا کمال ہے، ہر مہینے ڈھائی تین سو صفحات لکھنے کے بارے میں ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے‘‘

خان صاحب کی اس بات پر اظہر کلیم نے ایک بڑا ہی لطیف طنزیہ جملہ کہا ، وہ بولے ’’خان صاحب! میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انسان اگر بغیر سوچے سمجھے بھی لکھے تو ایک مہینے میں کتنا لکھ لے گا‘‘
خان صاحب نے اس جملے پر زبردست قہقہ لگایا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ راحت صاحب نے بھی اس جملے کا استقبال ایک زبردست قہقہے سے کیا، خدا معلوم وہ اظہر کلیم کے اس طنز کو سمجھے یا نہ سمجھے۔
راحت صاحب زیادہ سے زیادہ کمائی کے چکر میں ایک ایسے کمرشل رائٹر بن گئے تھے جسے صرف پیسے سے غرض تھی، افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں انھوں نے دائیں بائیں غیر معروف ناول نگاروں کے کام پر بھی ہاتھ صاف کیا اور اپنے ہی پرانے لکھے کو بھی دہراتے رہے،ان کے پسندیدہ موضوعات میں ہندودیومالا سرفہرست تھی، یہ سب سے آسان سبجیکٹ ہے،اس حوالے سے آپ کہانی میں کچھ بھی لکھ دیں ، کوئی آپ کو روکنے ٹوکنے والا نہ ہوگا کہ جناب یہ کیسے ممکن ہے ، جادو، آسیب و جنات، اسی طرح خوف ناک کہانیاں نہایت آسان موضوعات ہیں، جو چاہے لکھتے رہیں، راحت صاحب کا زیادہ تر کام اسی حوالے سے ہے۔
دراصل کراچی کے ڈائجسٹوں کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے عالمی ڈائجسٹ نے اس نوعیت کی کہانیوں کا آغاز کیا، چھپکلی ، اگیّا بیتال، لونا چماری ٹائپ کہانیاں عالمی ڈائجسٹ میں شائع ہوئیں اور ان کہانیوں کے خالق مشہور شاعر جناب بہزاد لکھنوی تھے ، عالمی ڈائجسٹ میں وہ ایک مقبول سلسلہ ’’حکیم بڈھن‘‘ بھی لکھا کرتے تھے ، اس طرح انھیں اچھی خاصی آمدن بھی ہوتی تھی، برسبیل تذکرہ ایک اور واقعہ بھی یاد آگیا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے