سر ورق / قاری سے لکھاری / قاری سے لکھاری۔۔ الفت کا شہباز۔۔ یاسین صدیق

قاری سے لکھاری۔۔ الفت کا شہباز۔۔ یاسین صدیق

الفت کا شہباز !
محمد یاسین صدیق
شاعر ، ادیب شہباز اکبر الفت بنیادی طور پر صحافی ہیں۔ لاہور میں مقیم ہیں اور ایک مقامی اخبار کے مدیر ہیں۔ جبکہ ادب کی مختلف اصناف میں لکھتے ہیں۔ بالخصوص بچوں کیلئے کہانیاں، کالم ، افسانے اور شاعری وغیرہ ۔جن دنوں میرا کیا ہوا نواب محی الدین کا انٹرویوز شائع ہوا تو انہوں نے مجھے کال کی اور خوب داد دی کہ میں شرم سار ہونے لگا ۔بعد ازاںایم اے راحت صاحب سے ملنے کا ہم پروگرام بناتے رہے اور راحت صاحب ہسپتال چلے گئے ۔جہاں سے تھوڑے عرصے بعد اللہ میاں کے پاس۔ اس کا ہم کو شدید صدمہ ہوا ۔کبھی کبھار اس کے بعد بھی ان سے کال پر رابطہ رہا ۔ رابطہ اب بھی ہے ۔جب ہم نے ”قاری سے لکھاری تک“ سلسلے کے انٹرویوز شروع کیے تھے تو ان کی زندگی کا پہلا انٹرویوز کیا تھا ۔لیکن شائع اب ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ان کے دو انٹرویوز شائع ہو چکے ہیں ۔انٹرویوز پینل میں میرا ساتھ دیا شبیر علوی ،خرم شہزاد،عدیل عادی ،یاسین نوناری ،عاصم چتالہ سرفراز قمر ،رومیصہ صاحبہ ،اقصی سحر وغیرہ نے میں ان کا مشکور ہوں ۔
شہباز اکبر الفت گذشتہ پندرہ سال سے ملاحظہ رپورٹ پرنٹ میڈیا نیوز نیٹ ورک میں بطور ایڈیٹر خدمات انجام دے رہے ہیں جن روزنامہ ہم انسان، ہفت روزہ ملاحظہ رپورٹ، پندرہ روزہ کینال ٹوڈے اور ماہنامہ عظمت نسواں بھی شامل ہیں، بچوں کے حقوق کی ایک تنظیم پاکستان تحریک اطفال کے چیئرمین ہیں ، دی راکس انٹرٹینمنٹ کے بینر تلے بطور مصنف، ہدایت کار اور نغمہ نگار اپنی پہلی فلم” ویلکم ٹو لالی ووڈ“ کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ ان کے دو ناول بھی زیر تکمیل ہیں ۔اپنی خوش اخلاقی کے باعث سوشل میڈیا پر خواتین و حضرات میں یکساں مقبول ہیں۔ملک کے صف اول کے ادیب جناب محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب نے انہیں نجمِ ثاقب’ یعنی درخشاں، تاباں اور روشن ترین ستارے کا خطاب دیا ہے ۔

سوال: آپکا پورا نام کیا ہے۔ گھر والے کس نام سے بلاتے ہیں،تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش کیا ہے ؟
جواب: سرکاری دستاویزات کے مطابق میرا نام شہباز علی ہے ، تعلیمی داروں میں شہباز اکبراور اخبارات و رسائل میں شہباز اکبر الفت، 15 جنوری 1979کو پیدا ہوا، لاہور میں رائیونڈ روڈ پر بھوپتیاں سٹاپ کے بعد، لاہور پارک( لاہور وائلڈ لائف پارک) اور اڈا پلاٹ کے سنگم میں چمبرو پور چک 62میری جائے پیدائش ہے۔یعنی پینڈو ہوں اور اس پر فخر بھی ہے ۔
سوال: ما شا اللہ ۔الفت اپنے والدین بارے ایک تعارفی پیراگراف لکھنے کا کہا جائے تو کیا لکھیں گے؟
جواب: میرے والد منشی اکبر علی مرحوم حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ انسان تھے،۔گیارہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور لاڈلے تھے۔ تاہم ساتوں بھائی ان کے ہوش سنبھالنے تک اپنی طبعی عمر پوری کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے ، انہیں ہمیشہ یہ قلق رہا کہ انہیں بھائیوں کا پیار نہیں ملا، اپنے اس احساس محرومی کو انہوں نے اپنی اولاد کا دوست اور بھائی بن کر دورکیا،کرکٹ سے لڈو تک کون سا ایسا کھیل تھا جو ابو نے ہمارے ساتھ مل کر نہیں کھیلا حتی کہ سٹاپو اور کینچے کھیلتے ہوئے بھی ہم انہیں کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لیتے تھے،ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی، محنت میں عار نہ سمجھتے تھے، ہماری بہتر پرورش اوررزق حلال کی فراہمی کے لئے کھیتی باڑی سے لے کر پھیری لگانے تک ان گنت چھوٹے موٹے کام کئے، وہ ہمیں ایک بہتر مستقبل دینے کی جدوجہد میں ہمیشہ سرگرداں رہے ،اپنی وفات کے وقت بھی وہ ایک بڑی ہاﺅسنگ کالونی ( بہار کالونی کوٹ عبدالمالک ) کے مالی معاملات کے نگران اور معاشی معاملات میں خود کفیل تھے ۔وہ مجھے ایک کامیاب انسان بنانا چاہتے تھے ۔جب انہیں علم ہوا کہ میں علم و ادب کی نگری کا مسافر ہوں تو انہوں نے مجھے خار زار میں سفرکرنے کی اجازت دے دی ۔ہمیشہ میری کامیابی کی دعا کرتے رہے ۔
سوال: اپنے بچپن کے چند دوستوں کا تعارف کروائیے ؟
جواب:میری زندگی کے سب سے قریبی اور بچپن کے دوستوں میں ندیم شاہ ( فرزند سید جاوید علی شاہ) اور ڈاکٹر شمشاد رضوی( فرزند سید شمس علی شاہ مرحوم )کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے، سید جاوید علی شاہ نہ صرف ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں بلکہ علم و ادب سے بھی گہرا لگاﺅ رکھتے ہیں اور پنجابی ادب میں تھوڑا بہت لکھ بھی چکے،
سوال: بچپن کا کوئی واقعہ جو آج بھی یاد ہو آپ کو؟
جواب:یہ واقعہ میری آپ بیتی میں ابتدائیہ کے طور پر شامل اور میری وال پر قسمت کی پڑیا کے عنوان سے موجود ہے ، قسمت پڑی سے گیند بلا نکلنے کی امید تھی مگر ٹارزن اور منکو کی کہانی نکل آئی جس نے مطالعہ کی لت لگا دی اور آنے والے دنوں میں زندگی کا سارا منظرنامہ تبدیل ہوگیا۔
سوال:بچپن میں یا ابتدائی دور میں پڑھے جانے والے ادب کی مختصر روداد ۔
جواب:بہت سی کہانیاں جو بچپن سے آج تک دل پر نقش ہیں ان میں سے ایک کہانی ماہنامہ نونہال میں پڑھی جو ایک چینی کہانی کا ترجمہ تھی اور اس کا ہیرو لڑکا رات کو جنگل میں جاکر بنسری بجایا کرتا تھا، اس کی منظرکشی اس قدر عمدہ تھی کہ آج بھی اس کے کردار تخیل کے پرد کسی فلم کی صورت چلنا شروع ہوجاتے ہیں ۔چاند اور چکوری کے رومانس پر پڑھا ایک ناول اور نواب صاحب کے شہ کار دیوتا کی ابتدائی قسطیں، سیارہ ڈائجسٹ میں طارق اسمعیل ساگرکا قسط وار ناول” بھٹکا ہوا راہی“ نیز مختلف ڈائجسٹوں میں انکا، اقابلا، سونا گھاٹ کا پجاری، موت کے سوداگر، مجاہد، شکاری، صدیوں کا بیٹا اور مفرور کا شمار بھی ایسی ہی یادگار کہانیوں میں ہوتا ہے جنہیں بچپن میں پڑھا اور کبھی فراموش نہیں کرسکوں گا۔
سوال: آپ نے کتنی عمر سے ادب کامطالعہ شروع کیا۔
جواب:کیا یاد کروا دیا آپ نے ، لفظوں سے اشنائی کب ہوئی کچھ یاد نہیں، ہوش سنبھالتے ہی ہاتھوں میں بچوں کی کہانیاں، رسالے ، ناول اور ڈائجسٹ دیکھے ۔پہلے بتایا نا کہ قسمت پڑی سے گیند یا بلا کی بجائے ٹارزن کی کہانی نکل آئی تھی ۔عمر یہی کوئی سات سال ہو گی ۔
سوال: آپ نے زیادہ مطالعہ کس قسم رسائل و جرائد کا کیا ہے ۔چند ایک کے نام ؟
جواب:نئے افق، سسپنس، جاسوسی، سرگزشت، سب رنگ، مسٹری، ایڈونچر، اردو ڈائجسٹ، حکایت، سیارہ، پاکیزہ، زیب النساء، خواتین، شعاغ، آنکھ مچولی، انوکھی کہانیاں، نونہال، پھول، تعلیم و تربیت، بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ، جگنو، ذہین، بچوں کا ڈائجسٹ سمیت دیگر بہت سے۔سسپنس، جاسوسی، پاکیزہ اور نونہال کو بہت پڑھا۔
سوال:اسی سے ملتا جلتا سوال کہ آپ زیادہ کن ادباءکو پڑھا ہے ۔
جواب :اشتیاق احمد، اے حمید، مرزا ادیب، امتیاز علی تاج، نسیم حجازی، قمر اجنالوی، اسلم راہی، عنایت اللہ، مینا ناز، ایم اے زاہد، رضیہ بٹ، بشری رحمان، ماہا ملک، اقرا صغیر احمد، عمیرہ احمد،امجد جاوید سمیت بہت سے ناول نگاروں کے ناول پڑھے ۔
پسندیدہ رائٹرز میں بچوں کے ادب سے اشتیاق احمد، مرزا ادیب، طاہر عمیر اور علی اکمل تصور۔
فکشن میں محی الدین نواب، علیم الحق حقی، ڈاکٹر شیرشاہ سوری، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی، ایم اے راحت اور طاہر جاوید مغل کی ہر تحریر نے متاثر کیا، اثر نعمانی کے تراجم بھی بہت پسند رہے ۔
سوال: آپ کی نظر میں زندگی کیا ھے ؟
جواب:زندگی ایک بیش قیمت عطیہ خداوندی ہے ، زندگی کو ہمیشہ مثبت اور متوازن انداز میں لینا چاہئے ، نہ ہمارا یہاں آنا ہمارا کوئی اپنا انتخاب تھا اور نہ یہاں رہ جانے پہ اختیار، جو پل میسر ہیں یہ خالق دو جہاں کی عطا ہیں، انعام ہیں، اس پہ کبھی کسی حال میں شاکی نہیں ہونا چاہئے ، ان سانسوں پہ ہمارا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے ۔
سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں ادیب بننا انسان کے اپنے اختیار میں ہے یا کہ پیدائشی طور پر بندہ ادیب ہوتا ہے ؟
جواب:میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ ادیب بننا بھی ایک طرح سے مشاغل کی طرح سے ہے جسے مطالعہ اور تحریر کی مسلسل مشق سے بہتر بنایا جا سکتا ہے یہ افسانوی سی بات ہے کہ کسی کے اندر قدرتی طور پر ادیب بننے کی صلاحیت موجود ہو جب بچہ پہلی بار اسکول جاتا ہے ، قاعدہ کھولتا ہے تو اس کا ذہن ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے جس پر اسکول کا ماحول، اساتذہ کا رویہ، ہم جماعتوں سے دوستی اور درسی کتب آہستہ آہستہ رنگ بھرتے جاتے ہیں اور شعور کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ان تمام عوامل کی مطابقت سے اس کا ذہنی رجحان بنتا ہے ، ماں کے پیٹ سے تو کوئی مجرم بھی پیدا نہیں ہوتا ادیب کیسے بن سکتا ہے ؟ نوے کی دہائی کے آخر تک بچوں کے پاس پی ٹی وی، ویڈیو گیمز، کرکٹ اور کتب بینی کے علاوہ کوئی تفریح نہیں تھی، لائبریریوں سے کرائے پر کتابوں، ناولوں، ڈائجسٹوں کی عام دستیابی نے مطالعہ کے چسکے کو مسلسل فروغ دیا جس کا نتیجہ ادب اور ادیبوں کی ترویج کی صورت میں نکلتا رہا۔
سوال: لکھنے لکھانے کی جانب کیسے آئے خاص کر کہانیاں لکھنے کی جانب ؟
جواب:غالبا 1989ءکے اوائل میںروزنامہ جنگ کے جمعہ میگزین میں ایک کہانی پڑھتے ہوئے اچانک مجھے احساس ہوا کہ ایسی کہانی تو میں خود بھی لکھ سکتا ہوں،ان دنوں بڑے بھائی رزاق حسین نے گھر کے دگرگوں معاشی حالات کے باعث نئی روشنی اسکول بھی چھوڑ دیا تھا ، ان کا بستہ سے کاپی اور پینسل نکال کر ایک بے ربط سی کہانی لکھی ، لفافے میں ڈال کر پتہ لکھا اور لفافے کو گندھے ہوئے آٹے سے اچھی طرح بند کرکے ڈاکخانے پہنچ گیا، پوسٹ ماسٹر نے لفافہ دیکھ کر کہا کہ اس کی پشت پر اپنا ایڈریس بھی لکھو، فوری طور پر کچھ سمجھ نہ آیا اور اس طرح لکھا کہ فلاں محلے کی فلاں گلی میں فلاں کے گھر کے بعد ہمارا گھر ہے، پوسٹ ماسٹر یہ پڑھ کر دیر تک ہنستا رہا تاہم اس نے مہر لگا کر لفافہ لیٹر باکس میں ڈال دیا ، رزاق بھائی چاچو سید عابد علی شاہ کی دکان پر کام کرتے تھے، اگلے ہفتے انہوں نے جنگ کے جمعہ میگزین میں میری وہی کہانی چھپی ہوئی دیکھی تو اخبار ہوا میں لہراتے ہوئے بھاگے بھاگے گھر پہنچے، شام تک پورے علاقہ میں مشہور ہوچکا تھا کہ ہمارے علاقہ سے کسی لڑکے کی کہانی اخبار میں شائع ہوئی ہے، تعریفیں سن سن کر اور مبارکبادیں وصول کر کرکے ابو کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا، وسائل نہ ہونے کے باوجود اگلے دن وہ مجھے ساتھ لے کر اسکول پہنچ گئے، داخلے کے لئے ٹیسٹ دیا تو پنجم تک نصاب کی ہر کتاب میں فرفر پڑھتا چلا گیا۔
سوال:ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ویسے آپ کی تعلیم ہے کتنی؟
جواب:تعلیم بہت واجبی ہے، گورنمنٹ سردار ہائی سکول کوٹ عبدالمالک سے دوم اور سوم جماعت پاس کی، سوم جماعت میں پورے سکول سے اول آیا تھا، چہارم اسلامک ماڈل سکول حنیف پارک بادامی باغ سے دوم پوزیشن کے ساتھ پاس کیا، اسی سکول میں میری بڑی بھتیجی گلناز افتخار جو مجھ سے صرف آٹھ سال چھوٹی ہے بھی نرسری میں پڑھتی تھی جسے ٹیچر سے زیادہ میں نے پڑھایا ہے، پنجم اور ششم ایم سی بوائز ہائی سکول حنیف پارک سے پاس کیا، پنجم میں بورڈ میں اول آیا، ششم پاس کرنے کے بعد کچھ گھریلو مسائل کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑگئی اور اخبارات و رسائل میں کہانیاں چھپتے رہنے کی وجہ سے مجھے بڑی آسانی کے ساتھ بچوں کے ایک معروف رسالے تعلیمی ڈائجسٹ میں بطور معاون مدیر نوکری مل گئی جس کے باعث تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع نہ کرسکا۔یعنی نصابی تعلیم اتنی ہی ہے ۔لیکن علم حاصل کرنے کا جنون تھا ۔جو اب بھی ہے ۔
سوال: کہانی کیا سوچ سوچ کر لکھی جاتی ہے یا کہانی خود ہی کہانی لکھتی ہے ؟
جواب:میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں، کہانی آپ کے اندر ہی کہیں موجود ہوتی ہے ، آہستہ آہستہ بھٹی میں پکتی رہتی ہے ، پالش ہوتی رہتی ہے اور پھر قرطاس پر لفظوں کے رنگ بکھیر دیتی ہے ، ازہان کو معطر، قلب کو معطر، رگ رگ میں لہو بن کر دوڑنے لگتی ہے ۔
سوال: آپ نے عمر گزار دی دشت ادب کے صحرا میںکبھی دھوپ سے جلے کبھی چھاوں کا لطف پایا ھوگا کوءایسا دلچسپ واقع جس نے آپ کو دھوپ چھاوں کے فرق کی پہچان کرادی ھو؟
جواب:سیدھا کلیجے تے ای ہتھ پالیا جے ویر جی !بہت سارے واقعات ہیں اور ان سے وابستہ کئی لوگ سوشل میڈیا پر میرے ساتھ ایڈ بھی ہیں ، کسی کی دل آزاری نہ ہو، یہ سوچ کر چپ ہوگیا ہوں۔اس سوال پر میرا جواب اے ” نو کمنٹس”
سوال: ہر کوئی فرقہ بندی سے نفرت کرتا ہے لیکن ہر کوئی یا اکثر اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کرتے ہیں ۔آپ کے خیال میں ایک ادیب کے لیے کیا مناسب ہے ۔
جواب:میرے ننھیال اہل تشیع، ددھیال بریلوی سنی، میرا سارا حلقہ احباب دیوبندی اور اہل حدیث مکاتب فکر پر مشتمل ہے ۔میں اہل سنت و جماعت بریلوی مکتبہ سے زیادہ قریب ہوں۔شاید اس کی وجہ تصوف کے رنگ، تصوف کے اسرار و رموز اور صوفی ادب بہت متاثر کرتا ہے ۔اس فرقہ پرستی سے مجھے کہہ سکتے ہیں نفرت ہے اس کی وجہ سے میرا گھر ایک بار برباد ہو چکا ہے ۔گاوں سے جگہ بیچ کر ابو جان لاہور آ گے تھے کوٹ عبدالمالک وہاں کافی عرصہ رہے ۔زندگی ایک ڈگر پر آ چکی تھی کہ ہمارے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد ہونے لگے ۔کوٹ عبدالمالک میں فرقہ ورانہ فسادات اور اس کے نتیجہ میں اپنا گھر جل جانے کے واقعہ نے ابو کو اتنا بددل کر دیا کہ انہوںنے ایک نئی ہجرت کی ٹھانی اور 1990ءمیں ہم سبزی منڈی کے سامنے بادامی باغ میں آگئے، بادامی باغ میں ہم 1990ءسے 1994ءتک رہے، درمیان میں کچھ عرصہ جی ٹی روڈ پر رانا ٹاﺅن کے ساتھ عابد ٹاﺅن میں اپنا گھر بھی بنایا لیکن ذرائع آمد و رفت اور معاش کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی واپس بادامی باغ لوٹ آئے، ویسے تو زندگی ہمیشہ دھوپ چھاﺅں کا تسلسل ہی رہی ہے لیکن بادامی باغ میں گزرا وقت میری زندگی کا بہترین دورسمجھا جا سکتا ہے۔
سوال:بادامی باغ میں گزرا عرصہ کیوں یادگار ہے اور اسے بہترین دور کیوں سمجھا جا سکتا ہے ۔
جواب:ہاہاہاہا۔۔بادامی باغ میں گزرے وقت کا ذکر شیخ محمد اعظم کی محبت کے بغیر بھی ادھورا ہے، لوہے والی پلی پر ان کی مشہور لائبریری کا راستہ کیا دیکھا مجھ پر علم و ادب کا ایک نیا جہان حیرت کھل گیا، اعظم بھائی کی لائبریری سے ناگ عنبر ماریہ سے لے کر انسپکٹر جمشیدسیریز، عمران سیریز، ڈائجسٹوں کے تمام مشہور سلسلے، نسیم حجازی سے قمر اجنالوی تک کے تاریخی ناول، اے حمید، طارق اسماعیل ساگر ، رضیہ بٹ وغیرہ کے ناول غرضیکہ پوری لائبریری چاٹ گیا، ان سے اتنی دوستی رہی کہ خط کتابت کے لئے پتہ بھی ان کی ہی لائبریری کا دیتا رہا۔ان وجوہات کی بناں پر بادامی باغ میں گزارا وقت یادگار ہے ۔
سوال:کس سیاسی جماعت سے تعلق ہے ۔ایک ادیب کو اپنے قارئین کے اندر سیاسی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔آپ کیا کہتے ہیں ؟
جواب:ادب، تاریخ، صحافت اور سیاست کے ایک نالائق طالب علم کی حیثیت سے پاکستان کی سیاست، سو کالڈ جمہوریت، سوکالڈ آمریت،رہنماو¿ں اور کارکنوں کی شخصیت اور طرز عمل کا کسی حد تک قریب سے مطالعہ کرنے کی وجہ سے میں کسی سیاسی جماعت کا گرویدہ نہیں ہو پایا، ملکی ترقی اور اصلاحات کے حوالے سے بھٹو مرحوم کے بعد چودھری برادران کی کارکردگی نے کافی حد تک متاثر کیا، باقاعدہ وابستگی کسی سیاسی جماعت سے نہیں۔ووٹ کا علم نہیں کس کو دوں ۔
سوال: کس موضوع پر کہانیاں آپ کو پسند ہیں ۔کس موضوع پر آپ کے خیال میں زیادہ لکھا جا رہا ہے ۔کیسا ادب وقت کی ضرورت ہے۔
جواب:ہر قسم کی کہانیاں پسند ہے ، ہر اچھی کہانی میرے موڈ پر حاوی ہو جاتی ہے ۔موجودہ ادب پرانے دور کا ہی تسلسل ہے اور عصر حاضر کی ضروریات بھی بخوبی پوری کر رہا ہے تاہم تیز رفتار طرز زندگی کے باعث کتاب سے دوری سے تھوڑا جمود طاری ہوگیا تھا جو اب آہستہ آہستہ ٹوٹ رہا ہے ۔
سوال: سوشل میڈیا پر آپ کب سے ایکٹیو ہیں ۔فیس بک فرینڈ کتنے ہیں .ان میں سے ان کی تعداد کتنی ہے جو آپ کو پرسنل جانتے ہیں ۔سوشل میڈیا پر آپ جو وقت گزارتے ہیں اسے بامقصد یا بے مقصد گزارتے ہیں .
جواب:فیس بک پہ دو ہزار تیرہ سے باقاعدہ ایکٹو ہوں، فرینڈز کی تعداد تین ہزار کے قریب، لگ بھگ دو سو فیس بک فرینڈز مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں جن سے فون پر رابطہ اور ملاقات رہتی ہے کاروان ادب کہانی فورم اور فینز آف سباس گل گروپ کا ایڈمن ہوں پوسٹس ان دو گروپس کے
میرے جیسا مصروف اور مزدور بندا تین چار سے زیادہ گروپس میں ایکٹو رہ ہی نہیں سکتا
سوال: آپ کس موضوع پر زیادہ لکھنا پسند کرتے ہیں ؟اور کس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں لیکن لکھ نہیں پاتے ؟
جواب:میں نے تو محبت کے بارے میں ہی لکھا ہے ۔لیکن معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر دل بہت کڑھتا ہے ، ہماری نئی نسل گمراہی کی عمیق کھائی میں گرتی جا رہی ہے ، میں اپنے ہی معاشرے میں خونی رشتوں کے مابین جسمانی تعلقات اور جنسی زیادتی جیسے روح کو جلا کر خاکستر کر دینے والے واقعات پر لکھنا تو دور، لکھنے کا سوچ کر بھی کانپ جاتا ہوں۔
سوال:کیا ادیب صحافی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ؟
جواب : ایک عجیب سوال ہے ۔مختصر یہ کہ جواب منفی ہے ۔یہاں کوئی بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ۔وہ ادیب ہو یا کچھ بھی ہو ۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا صحافتی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نہیں نبھا رہا، کئی واقعات میں پیشہ ورانہ رقابت، ریٹنگ بڑھانے اور بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش اور ضابطہ اخلاق پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ ہونے سے میڈیا عوام الناس میں اپنا اعتبار کھوتا جا رہا ہے
سوال: اردو فکشن کا کیا مستقبل نظر آ رہا ہے آپ کو جبکہ اردو فکشن ک بڑے بڑے نام نواب صاب کاشف زبیر اقبال کاظمی وغیرہ ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں؟
جواب:اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کاظمی، کاشف زبیر اور نواب صاحب کا انتقال اردو فکشن کے لئے بڑا دھچکا ہیں اور ان کا خلاءکبھی پورا نہیں ہو سکے گا لیکن زندگی بہرحال رواں دواں رہتی ہے ، ادارے اور ادارہ جاتی منصوبہ جات بھی چلتے رہتے ہیں، اردو فکشن کے حال کو تو کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں، بہت سے لیجنڈ رائٹر ابھی بقید حیات اور تسلسل کے ساتھ لکھ رہے ہیں تاہم اس کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے مدیران کو ابھی سے حفاظتی پیش بندی کرنا ہوگی اور دل بڑا کرکے نئے لکھنے والوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی کا ذمہ اپنے سر لینا ہوگا۔
سوال: صحافت میں آنا چاہتے تھے یا حادثاتی انٹری ہوئی ہے اور پاکستان میں صحافت کا مستقبل کیا نظر آتا ہے آپ کو؟
جواب:صحافت کے شعبہ میں آمد بالکل حادثاتی تھی، چودہ سال کی عمر میں جب تعلیمی ڈائجسٹ کا سب ایڈیٹر بنا تو صحافت کی ابجد کا پتہ نہیں تھا لیکن وقت اور حالات نے سب کچھ سکھا دیا میری نظر میں پاکستان میں صحافت کا مستقبل بہت روشن ہے مجھے تو یہاں تک خدشہ ہے کہ لوگ اسے مستقبل میں ریاست کے چوتھے کی بجائے دوسرا یا تیسرا ستون قرار دینے پر مجبور نہ ہو جائیں:
سوال: خود سے عشق کرنا چاہیے ؟یاد رہے یہاں بات عشق کی ہو رہی ہے نہ کہ محبت اور پیار کی.لائف میں خود سے عشق کیسے ضروری ہے ؟؟
یہ بہت گہرا سوال ہے جس کا تعلق براہ راست میری عزت نفس اور ذات کے کرب سے ہے ، یہاں اپنی ایک چھوٹی سی پوسٹ پیش کر دیتا ہوں جس کی روشنی شاید آپ کو اپنے سوال کاجواب مل سکے بڑا اچھا لگتا ہے ، جب میری بڑی بھتیجی مجھے آکر بتاتی ہے "چاچو، پتہ ہے ؟ میں روز اپنے بچوں کو آپ کی لکھی ہوئی کہانیاں سناتی ہوں” کون سی کہانیاں؟” میں جانتے ہوئے بھی انجان بن جاتا ہوں "وہی، جو آپ ہوم ورک کرواتے ہوئے مجھے اخباروں سے پڑھ کر سنایا کرتے تھے ” وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑتی ہے اور میں اپنی آنکھوں میں بے ساختہ بھر آنے والے آنسو چھپانے کیلئے منہ دوسری طرف کر لیتا ہوں بچپن کے دن،کہانیوں سے دوستی، نام وری، شہرت اور کامیابی کے خواب یہ آنسو عمر کی رائیگانی کے احساس پرنکلتے ہیں۔
سوال: اردو ادب میں سرقہ پرانی روایت ہے .لوگ پہلے غزل کی زمین چرا لیتے تھے خیال چرا لیتے تھے آج کل پوری کی پوری غزل اڑا لیتے ہیں.اسی طرح نثر میں بھی پہلے مرکزی خیال چرایا جاتا تھا آج کل بہت کچھ چرا لیا جاتا ہے .عموما ترجمہ کہانیوں کے حوالے سے یہ شکایات زیادہ ہیں.اس ادبی سرقہ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟
جواب:یہ ایک قابل مذمت رویہ ہے اور فروغ ادب کی راہ میں کسی ناسور کی طرح حائل ہے ، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔بے شک تھوڑا لکھیں لیکن سرقہ ،چوری نہ ہو۔
سوال: محبت بارے آپ کیا کہتے ہیں ۔کیا یہ ایک ہی نظر میں ہو جاتا ہے ۔
جواب:پیار ایک احساس کا نام ہے جو کسی ان دیکھے ، ان جانے فرد سے بھی ہو سکتا ہے ، جب پیار ہوتا ہی اندھا ہے تو پہلی نظر کا سوال چہ معنی؟
سوال:اپنی کوئی خاص عادت جو آپ کو خود بھی پسند ہو ؟
میری زندگی میں، میری ڈکشنری میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں، میرے دیرینہ احباب میری ذات کے اس پہلو سے بخوبی واقف ہیں
سوال:پسندیدہ کھیل،اداکار،فلم صرف ایک ایک کا نام بتائیں؟
جواب:کرکٹ، اداکار عامرخان، اداکارہ سلمی ہائیک، مووی اداکار ہدایت کار رنگیلا کی ”امانت، “
سوال: کوئی ایک پسندیدہ ناول جو ہمیشہ سے پسند ہے َ۔
جواب:، ناول ندیم ہاشم کا پری زاد
سوال: فیس بک پر ملنے والے دوستوں بارے آپ کیا کہتے ہیں ۔؟
جواب:فیس بک کی بدولت ہی امجد جاوید، ناصر ملک ، محمود ظفر اقبال ہاشمی ، اختر عباس، اشفاق احمد، عرفان مغل، ابن آس، شوکت علی مظفر، اسد بخاری،نوشاد عادل ، سیما مناف، ماہا ملک ، عشنا کوثر سردار اور سباس گل جیسے بڑے رائٹرز میری فرینڈ لسٹ کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔یہاں بہت اچھے مخلص دوست ملے۔کچھ افراد فیک بھی ہوتے ہیں ۔لیکن میں دیکھ بھال کر دوست ایڈ کرتا ہوں ۔
سوال: آپ کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے ۔؟
جواب:ادب اور صحافت سے وابستگی کو برقرار رکھنے کیلئے گذشتہ دو دہائیوں سے گھر سے دور ہوں، کئی کئی ہفتے گھر نہیں جا پاتا جس کی وجہ سے کئی رشتے واپس ہوئے ، ہنگامہ خیز عشق کے ٹرننگ پوائنٹ پر لڑکی کی ماں کی جذباتی بلیک میلنگ اور اپنا دوپٹہ میرے پاو¿ں میں ڈال کر پاو¿ں پکڑ لینا دوسری وجہ تھی، تیسری وجہ غیر متوازن اور بے ترتیب طرز زندگی کی وجہ سے احساس کمتری کا بھی شکار رہا، چوتھی وجہ محبوبہ سے بچھڑنے کے بعد کوئی لڑکی دل کو اس قدر پسند ہی نہیں آئی ۔
سوال: آپ ادیب ہی کیوں بننا چاہتے تھے کچھ اور بن جاتے ۔حالانکہ آپ جانتے ہیں ادیب ساری عمر خوشحالی کو ترس جاتا ہے ؟
جواب:” معروف ادیب شہباز اکبر الفت“اس ایک جملے کو سننے کی خاطر میں نے برہنہ پا، دشت کی سیاحی اور آبلہ پائی کاایک طویل سفر طے کیا تھا ،یہی جملہ میری داستان حیات کا نکتہ آغاز اور حرف اختتام ہے ۔ نام اور شناخت کے حصول کی جدوجہد آسان نہ تھی۔درحقیقت میں نے ادب اور بالخصوص بچوں کے ادب سے اپنی غیر مشروط محبت کی ایک بڑی قیمت چکائی ہے۔
سوال: کیا آپ اپنے موجودہ حالات اور زندگی سے مطمئن ہیں جو بننا چاہتے تھے بن چکے ہیں یا اس جانب رواں دواں ہیں ؟
جواب:مجھے تسلیم ہے کہ میں کوئی بڑا صحافی یا ادیب نہیں ہوں، ایک معمولی سا اخباری کارکن ہوں اور تھوڑا بہت لکھنے کی بھی سعی کر لیتا ہوں۔درحقیقت میں نوے کی دہائی میں شعور کی آنکھ کھولنے والے اس پسماندہ طبقے کا نمائندہ ہوں جس کے پاس کرکٹ، ویڈیو گیمز اور پتنگ بازی جیسے مہنگے شوق پالنے کے وسائل نہ تھے ۔وقت گزاری کا بہترین ،سستا اور واحدذریعہ صرف مطالعہ تھا۔ زمین پر پڑے اخباری ٹکڑوں سے لے کر ردی سے ملنے والے رسائل اور لائبریریوں سے معمولی کرائے پر ناولوں کے ذریعہ مطالعہ کا شوق پورا کرنے کے عمل نے لکھنے کی تحریک دی اور پھرایک بڑا رائٹر بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے، ایسے انجان راستے پر نکلا جس کی شاید کوئی منزل نہیں تھی۔ گھونسلے سے گرا تو دوبارہ چھت کی اماں نہ ملی۔گو کہ میں نے اب بھی زیادہ نہیں لکھا لیکن درجن بھر بچوں کی کہانیوں بشمول روزے دار، جادو کی چھڑی، قسمت کی پڑیا، نئے جوتے، ہم سب کا پاکستان، عطائے رب کریم پرچم جبکہ رک جا اوئے کرتاریا، کہانی کار، تیری چاہ میں، میری چاہت گلابوں سی، غیرت مند اوربھاگ بھری جیسے چند افسانوں کی بھرپورپزیرائی نے بھی میرے حوصلوں کو خوب مہمیز کیا ہے، ماہنامہ انوکھی کہانیاں، روزنامہ ایکسپریس، فیملی میگزین، بچوں کا پرستان، پیغام ڈائجسٹ، سہ ماہی علم و ادب ، مجلہ قلم کی روشنی اور ماہنامہ نئے افق کراچی میں تحریروں کی اشاعت کے علاوہ خواتین کے معروف ڈائجسٹ ماہنامہ حجاب کراچی نے گزشتہ سال اپنی پہلی سالگرہ کے موقع پر نومبر2016ءکے شمارہ میں سباس گل آپی کے سلسلہ رخ سخن کے تحت میرا تفصیلی انٹرویو بھی شائع کیا
سوال:اگر آپ مصنف اور لکھاری نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟
جواب:شاید کچھ بھی نہ ہوتا، گزر اوقات کیلئے کہیں مزدوری کر رہا ہوتا یا کوئی معمولی فیکٹری، کیونکہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے اب تک میں نے لکھنے کے علاوہ نہ کچھ کے اور نہ ہی مجھے کوئی اور کام آتا ہے
سوال: آپ کی زندگی کا حاصل کیا ہے؟اب اس مقام پر پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے ؟
جواب:ادبی دنیا میں ایک قابل قدر پہچان کا حصول ہی میری زندگی کا حاصل ہوگامیں 19اپریل 2003ءسے مسلسل اپنے موجودہ ادارہ میں ہوں، لاہور میں صدر چھاﺅنی کے عالقہ الفیصل ٹاﺅن میں۔ بچوں کا ایک بڑا رائٹر بننے کا خواب سجائے گھر سے نکلا تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ سفر اتنا طویل ہوجائے گا، صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں اپنے مقصد سے ہٹ کر اتنے سال رائیگاں چلے گئے، اتنا طویل عرصہ قلم سے دوری کا قلق تو ساری زندگی ختم نہیں ہوگالیکن اب خوشی اس بات کی ہے کہ کاروان ادب اطفال کی ہمہ گیر تحریک کا حصہ بن کر بچپن کے بہت سے خواب پورے ہوگئے۔اور میں نے اب ادب کو وقت دینا شروع کر دیا ہے ۔ان شا اللہ بہت جلد میں اپنی منزل پا لوں گا ۔
سوال: اس گروپ (انٹرویوز )بارے آپ کا کیا خیال ہے ۔
جواب:ایمانداری سے بتاو¿ں تو اس گروپ کے حوالے سے میرے جذبات کو شاید آپ بھی آسانی سے نہ سمجھ سکیں، یہ دو طرفہ عشق کا معاملہ ہے ، اس کا قیام قاری اور لکھاری کی ان مول محبت کی راہ میں حائل دیوار برلن کو ہٹانے کی تحریک جیسا اقدام ہے ، آپ اسے بڑی سہولت سے عرب سپرنگ جیسی ہمہ گیر تحریک کا نقطہ آغاز بھی کہہ سکتے ہیں، اس ٹیم کا ہر اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک ادارہ ہے ، خداداد صلاحیتوں سے مالا مال افراد پر مشتمل یہ ایک بہترین ٹیم ہے۔ جو نیک مقاصد، پختہ ارادوں اور خلوص نیت سے قاریئن اور مصنفین کے درمیان روابط کو فروغ دینے کیلئے ایک پل کا کردار کرے گی ۔(انشاللہ)
نوٹ!تین برس قبل جب شہباز اکبر الفت کا یہ انٹرویوز کیا گیا اس وقت اس گروپ کا نام ”انٹرویوز“تھا اور مقصد ابھرتے ہوئے ادباءکے انٹرویوز کرنا تھا۔اس گروپ کے صرف چند ممبران تھے ۔جس کا انٹرویوز کرنا ہوتاصرف اسے ہم ایڈ کرتے تھے۔اس گروپ میں کافی انٹرویوز ہوئے جو ماہنامہ نئے افق کراچی سے شائع ہوئے ۔2018 کے شروع میں جب ”حوصلہ رائیٹر ویلفیر ایسوسی ایشن “کی بنیاد رکھی گی تو اس گروپ کا نام ”حوصلہ انٹرویوز“رکھ دیا گیا ۔انہی دنوں محترم جناب امجد جاوید صاحب نے نئے لکھاریوں کو پروموٹ کرنے کے لیے ”اردو لکھاری“کی بنیاد رکھی ۔تو اس سائٹ پر ”قاری سے لکھاری“کے نئے سلسلہ کا آغاز کیا گیا ۔
سوال: اپنی کوئی نظم غزل یا اشعار نظر قارئین فرما دیں ۔اس کے ساتھ ہی ہم آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے اتنا وقت دیا اور تقریبا سبھی سوالات کے جوابات خندہ پیشانی سے دیے ۔اس سے آپ کے بارے میں جاننے کو بہت کچھ ملا ۔
جواب:آپ سب احباب کا بھی شکریہ یہ میری زندگی کا پہلا انٹرویوز ہے ۔امید ہے آپ سب کو میرے جواب پسند آئے ہوں گے ۔لیکن جہاں تک جاننے کا تعلق ہے میں نے اس انٹرویوز سے خود کو جانا ،اپنے خیالات ،مقاصد کو ،اپنی سمت کواپنے ارادوں کو اور خاص کر اس بات کو محسوس کیا کہ میرا مقصد کیا ہے اور مجھے اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل تگ و دو کرنا ہو گی ۔
سنو!
مجھ کو محبت ہے
تمہارے سرد لہجے سے
بہت بے درد لہجے سے
دسمبر کیا ضروری ہے؟
کیلنڈر کیا ضروری ہے؟
تمہارا درد سہنے کو
تمہیں ہمدرد کہنے کو
ابھی جو پل میسر ہیں
یہی میرا اثاثہ ہیں
سبھی موسم بدلتے ہیں
مگر!
کب ہم بدلتے ہیں؟
وہی بے رحم سے تم ہو
وہی بے تاب سا میں ہوں
٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

قاری سے لکھاری۔۔ ہمافلک۔۔۔ یاسین صدیق

ہما فلک یاسین صدیق اصل نام ہمامالنی وائیں ہے اور قلمی نام ہمافلک سے جانی …

2 تبصرے

  1. Avatar
    زارا رضوان

    بہت اچھا لگا آپکے بارے میں جان کر۔۔ سلامت رہیں شہباز بھائی،۔،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے