سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔۔ رضا الحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ۔۔ رضا الحق صدیقی

فڈلر لین،سلور سپرنگ۔میری لینڈ

عدیل کے ساتویں منزل پر واقع فلیٹ کی دیوار گیرکھڑکی سے باہر کا منظربہت حسین لگ رہا تھا۔میں نے ایک نظر ادھر ڈالی،پاس کھڑے عدیل نے ہمارا سامانفرش پر رکھتے ہوئے کہا کہ پاپا وہ سامنے سڑک کے اس پار جوسفید سی بلڈنگ نظر آ رہی ہے وہ دنیا کے مشہور ومعروف چینل ڈسکوری کا ہیڈ کوارٹر ہے،اس کے دائیں جانب والی بلڈنگ میں میرا دفتر ہے۔میرے اس فلیٹ سے چند منٹ کی دوری پر۔

سلور سپرنگ ایک بہت چھوٹا سا شہر تھا اب سے دس بارہ سال پہلے یعنی سن2003 تک پھر اسی سال جب ڈسکوری چینل نے اپنا ہیڈ کوارٹر یہاں بنانے کا فیصلہ کیا تواس کے چار ہزار ملازمین کو بسانے کے لئے رہائش گاہوں کی ضرورت بھی محسوس ہوئی یوں یہ شہر پھیلتا چلا گیا۔

میں نے بتیس(32) گھنٹے کے سفر کی تھکان سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ ایک بار پھر باہر کی جانب دیکھا اور اس کی ہاں میں ہاں ملا دی۔

میری بہو رابعہ نے تھکان میری آنکھوں میں پڑھ لی تھی اس نے کہا کہ ابو آپ تھوڑا آرام کرلیں،جیٹ لاگ سے نکلنے میں کچھ ٹائم لگے گا۔

—0—0—

جہاز کی رفتار کچھ کم ہونے لگی اور وہ بلندی سے نیچے آنے لگا، ساتھ ہی پہلے عربی اور پھر ساتھ ہی انگریزی میں اناﺅنسمنٹ ہوئی کہ ہم چند منٹ میں ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے ہیں۔اسی کے ساتھ ہی جہاز میں ہلچل شروع ہو گئی۔لوگ اپنا اپنا سامان ہاتھوں میں پکڑنے لگے۔ اوپر والی کیبنٹ سے بیگ،بریف کیس اور بنڈل اتارنے لگے،نجانے ہمارے لوگوں میں اتنا اتاولا پن کیوں ہے؟

اب جہاز ابوظہبی کے رن وے پر اتر گیا تھا اور تیزی سے دوڑ رہا تھا۔کچھ لوگ ابھی سے باہر نکلنے کی بےتابی میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے جبکہ کچھ آرام سے بیٹھے جہاز کے رکنے کا انتظار کر رہے تھے۔

ابو ظہبی کا ہوائی اڈہ کافی بڑا ہے جگہ جگہ جہاز کھڑے تھے۔رن وے بھی خاصا بڑا لگتا تھا۔آج جہاز میں سے اس کی وسعت کا اندازہ ہو رہا تھا،اس سے پہلے متحدہ عرب امارات آنا ہوا تھا،دبئی سے میرا بھانجا اویس عزیز ہمیںایک روز ابو ظہبی اپنے گھر لے گیا تھا،وہاں ابو ظہبی دیکھا تھا،لیکن ایئرپورٹ اب دیکھ رہے تھے۔

ابوظہبی ، متحدہ عرب امارات کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا شہر اور امارات کا دارالخلافہ ہے۔اس کے علاﺅہ امارات میں شامل7ریاستوں میں سے سب سے بڑی ریاست بھی ہے۔ابوظہبی ٹی شکل کے ایک جزیرے پرشین گلف کے ایک سرے پر واقع ہے۔اس خطے میں یہ شہر چوتھا اور دنیا میں 68واں مہنگا ترین شہر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بقول فارچون میگزین اور سی این این،ابوظہبی دنیا کا امیر ترین شہر ہے جس کی فی کس آمدنی 61ہزار امریکی ڈالر ہے۔یہاں تیل کی دریافت کا کام سن 1930میں شروع ہوا لیکن تیل کے کنوﺅںکی کھدائی کا اصل کام1939 میں ایک 75سالہ معاہدے کے تحت ہوا۔یہاں کے ریگستانوں میں تیل کے ذخائر کی دریافت نے ابوظہبی کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔خلیج کے قیمتی(Pearls)موتی یہاں کی مصنوعات ہیں جو دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور قیمتی ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔تیل کی دریافت سے پہلے ابوظہبی کی آمدن کا یہی ذریعہ تھا۔

یہاں موسم گرما مئی سے شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہتا ہے جس میں درجہ حرارت40ڈگری سے42ڈگری تک رہتا ہے،ان دنوں کے علاﺅہ موسم بہتر ہی رہتا ہے۔یہاں کی کرنسی درھم،زبان عربی اور مذھب اسلام ہے۔

ہمارا جہاز اب آہستہ آہستہ جیٹی کی طرف بڑھ رہا تھا۔جب جہاز کا دروازہ جیٹی کے دروازے میں فٹ ہو جاتا ہے تو جہاز کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔جیٹی اس ٹنل کو کہتے ہیں جس میں جہاز کا دروازہ کھلتا ہے اور مسافر اس ٹنل میں سے گذر کرلاﺅنج میں پہنچتے ہیں۔

جہاز جب رن وے پر اتر کر جیٹی کی جانب بڑھ رہا تھا تو میں نے بھی اٹھ کر سامان نکالنے کے لئے اتاولا ہونے کی کوشش کی لیکن ساتھ بیٹھی ہماری بیگم نے ہمیں اٹھنے سے روک دیا کہ جہاز رک جائے تو اتاریں گے لیکن تقریباََسارے ہی مسافراس وقت تک سامان اتار کر کھڑے ہو چکے تھے حالانکہ جہاز کے کپتان کی جانب سے بار بار اناﺅنسمنٹ ہو رہی تھی کہ جب تک جہاز مکمل طور پر رک نہ جائے مسافر اپنی سیٹوں پر ہی بیٹھے رہیں۔

جہاز رکنے پر ہم نے بھی سامان اوپر کیبن سے اتارا اور لائن میں کھڑے ہو گئے،کچھ ہی دیر میں جہاز کا دروازہ کھول دیا گیا،ہمارے آگے لائن بنائے کھڑے لوگ آگے کو چلے تو ہم بھی چل دئیے اور کچھ ہی دیر میں جیٹی سے ہوتے ہوئے لاﺅنج میں آگئے۔ہمارا جہاز ابوظہبی کے وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے پہنچا تھا،وقت کی گنتی کے لحاظ سے اگلا دن شروع ہو چکا تھا۔

لاﺅنج بہت بڑا سااور کافی لمبا تھا۔صاف ستھرا۔ہرچیز چمک رہی تھی۔ لاﺅنج میں کافی چھوٹی بڑی ڈیوٹی فری شاپس تھیں،جہاں چاکلیٹس اور دیگر سویٹس عام پڑی نظر آ رہی تھیں اس کے علاوہ ہر طرح کی اشیائ،گھڑیاں،کرسٹل کے ڈیکوریشن پیسز،الیکٹرونک کا سامان،کاسمیٹکس،غرضیکہ ہر قسم کا سامان اسٹوز میں موجود تھا،پرفیومز کی تو بہت ساری دکانیں تھیں۔میں کم اور ہماری بیگم دکانوں میں پڑی چیزوں کو بغور دیکھ رہی تھیں

میں نے پوچھا،،لبینہ،،

،، جی،،

،،کچھ خریدنا ہے،، میں نے پوچھا

،،نہیں کچھ نہیں،،

تو چلو گیٹ نمبر60کی طرف چلتے ہیں جہاں پری کلیرنس ہونی ہے۔ہم گیٹ 60کی تلاش میں چل دیئے۔

—0—0—

ابوظہبی کے ایئرپورٹ پر گذرے ساڑھے گیارہ گھنٹے بڑے بورنگ تھے۔بیٹے نے یہ سوچ کر آگے امریکہ تک کی فلائیٹ گیارہ گھنٹے بعد کی لی تھی کہ ابوظہبی ایئرپورٹ پر پری کلیرنس میں کہیں ہماری فلائیٹ چھوٹ نا جائے، ایک لحاظ سے ہماری عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے صحیح ہی سوچا تھا لیکن ابوظہبی ایئرپورٹ پر امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن کے دفتر میں فلائیٹ کی روانگی سے تین سے چار گھنٹے سے پہلے چیکنگ شروع نہیں ہوتی۔اس چیکنگ کا ایک فائدہ ہوتا ہے کہ امریکی ایئر پورٹ پر کسی قسم کی چیکنگ نہیں ہوتی۔ہم رات ساڑھے بارہ بجے ابوظہبی پہنچے تھے جبکہ ہماری امریکہ کی فلائیٹ دن میں ساڑھے گیارہ بجے تھی،ہمارا بھی اور عدیل کا بھی یہی خیال تھا کہ پری کلیرنس سے فارغ ہو کر ہم لاونج میں وقت گذار لیں گے،اسی خیال کے تحت ہم گیٹ 60کے سامنے لگی لائن میں جا لگے،اپنی باری پر جب ہم اتحاد ایئرلائن کے ہیلپ کاونٹر پر پہنچے جہاں موجود افسر امریکی پری کلیرنس کی جانب رہنمائی کر رہا تھا،نے ہمارے بورڈنگ کارڈ دیکھتے ہی کہا کہ ہم صبح سات بجے کاونٹر پر آئیں۔میں اور میری اہلیہ واپس آ گئے اور گیٹ 60 سے تھوڑے فاصلے پر پڑے ایک صوفے پر دراز ہو گئے،نیند آنکھوں سے غائب تھی،رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ کر ہم ساڑھے چھ بجے ہی ہیلپ کاونٹر پر جا کر کھڑے ہو گئے۔

—0—0—

 شیشے کے گھر میں براجما ن امریکی امیگریشن آفیسرنے ہم سے پاسپوٹ لے لئے اور اپنے کمپیوٹرمیں کھو گیا،اس کے اس انداز سے مجھے لوگوں سے سنے ہوئے ان کے رویے کی توقع ہونے لگی لیکن کچھ بھی نا ہوا،مسکراتے چہرے کے ساتھ اس نے چند سوال کئے۔

،،آپ کی عمر کیا ہے،،اس نے پوچھا

،،باسٹھ(62)سال

،،امریکہ کس لئے آئے ہیں،،اس نے سوال کیا۔

،،اپنے بیٹے سے ملنے جو امریکہ میں سافٹ ایئر انجینئر ہے،،میں نے بڑی رسانت سے جواب دیا۔

،،وہ کب سے یہاں ہے،،

،،چار،پانچ سال ہو گئے ہیں،میں نے جواب دیا۔

،،آپ کیا کرتے ہیں،،

،،میں ایک ریٹائرڈ افسر ہوں،،میرا جواب تھا۔

،،یہ سامان آپ کا ہے،،اس نے ہمارے سوٹ کیس سکرین پر دکھاتے ہوئے کہا۔

،،جی ہاں،،یہ دو براﺅن،ایک گرین اور ایک ریڈ سوٹ کیس ہمارے ہی ہیں،میں نے اپنے سامان کی تصدیق کی۔

،،یہ گرین سوٹ کیس میں کچھ بکس نما چیزیں نظر آ رہی ہیں یہ پیکٹس کیا ہیں؟اس نے پوچھا

،،یہ میری کالموں اور مضامین پر مبنی کتاب ہے،میں نے جواب دیا۔

،،اوہ، تو آپ رائیٹر ہیں،،

،،جی ایک چھوٹا سا لکھاری ہوں،،میں نے جواب دیا۔

،،اوکے سر،،میں آپ کے پاسپورٹ کسٹم آفیسر کو دینے جا رہا ہوں،آپ اس سامنے والے کمرے میں تشریف رکھیں،،

وہ ویٹنگ روم سادہ سا کمرہ تھا جس میں صوفے بچھے ہوئے تھے،پانی کی بوتلوں کے کریٹ پڑے تھے،اخبارات کا ایک ریک تھا اور ہم چند مسافر۔

سوال و جواب میں کچھ نہیں تھا لیکن ایک ڈر تھا،ایک امریکی امیگریشن افسر کے پاس بڑے اختیار ہوتے ہیں،وہ بغیر کسی وجہ کے باقاعدہ ویزہ ہونے کے باوجود آپ کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے،سوال و جواب کا یہ سلسلہ اگرچہ پانچ چھ منٹ سے زیادہ کا نہیں تھالیکن اس سوال جواب کے سلسلے نے میرا حلق خشک کر دیا تھا،میں نے پانی کی بوتل کھولی اور ایک ہی سانس میں پوری بوتل پی گیا۔

ابھی میں نے بوتل ختم کرکے خالی بوتل ڈسٹ بن میں ڈالی ہی تھی کہ کسٹم آفیسر نے اپنے کمرے میں بلا لیا۔وہ وہاں تنہا ہی تھا،ہمارے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے پوچھا،

،،کتنے عرصے کے لئے آئے ہیں،،

،،میں نے فوراََ کہا کہ تقریباََ دو ماہ رہیں گے،،

،،پکی بات،،

،،جی،، میں نے مختصر سا جواب دیا

،،سامان میں کھانے پینے کی تو کوئی چیز نہیں ہے،،اس نے پوچھا۔

،،جی نہیں،، میرا پھر مختصر سا جواب تھا

،،اوکے،، انجوائے یور سٹے ان یو ایس اے،،یہ کہتے ہوئے اس نے ہمارے پاسپورٹ ہمارے حوالے کئے اور دوسری جانب کا دروازہ کھول دیا جس سے گذر کر ہم ڈیپارچر لاﺅنج میں آ بیٹھے۔

لوگوں سے بہت کچھ سنا تھا،ایئرپورٹ پر بدسلوکی ہوتی ہے لوگوں کے کپڑے اتروا کر تلاشی لی جاتی ہے لیکن میرا آج کا تجربہ تھوڑا مختلف تھا،شاید ہمارے ساتھ ان کا سلوک کچھ اس وجہ سے بھی بہتر تھا کہ انہیں چہرہ شناسی کا ملکہ حاصل ہے،تجربہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

اس پری کلیرنس کے بعد ہم ایک طرح سے امریکی حدود میں داخل ہو گئے تھے اگرچہ ابھی ہمیںپندرہ گھنٹے کا اورسفر کرنا تھا۔

—0—0—

جہاز ابوظہبی ایئرپورٹ سے بلندہوا تو مجھے باہر نیچے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا کیونکہ ہماری سیٹیں جہاز کے پر کے نزدیک والی تھیں،کھڑکی سے باہر جہاز کا طویل و عریض پر نظر آ رہا تھا،میں نے باہر سے نظر ہٹا کر جہاز کے اندر نظر ڈالی،میرے ساتھ والی سیٹ پر جو صاحب براجمان تھے انہوں نے جہاز کے اڑتے ہی اپنے سامنے لگی سکرین پر تلاش کر کے کوئی انڈین فلم لگا لی اور ہیڈ فون کانوں پر چڑھا لئے جس کا شاید یہ مطلب تھا کہ ڈونٹ ڈسٹرب۔میں نے تھوڑی دیر بعد ان کی جانب دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے نیند کی آغوش میں جا چکے تھے، فلم کے میوزک نے انہیں لوری دے کر سلا دیا تھا۔

کھڑکی کی جانب سیٹ پر ہماری بیگم آدھی سوئی آدھی جاگتی محسوس ہو رہی تھیں۔میں نے اپنے دائیں،بائیں ایک بار پھر دیکھا پھر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی،سوچا تھا دونوں جانب نیند کی دیوی اپنا اثر دکھا چکی ہے شاید مجھ پر بھی کر جائے لیکن نیند کی دیوی مجھ سے ناراض لگتی تھی گذشتہ ساری رات جاگنے کے باوجود نیند میری آنکھوں سے دور تھی۔

وقت تھا کہ گذرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔میں نے بھی اپنے برابر بیٹھے ہمسائے کی تقلید میںکوئی پاکستانی ڈرامہ یا فلم تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود،وہاں فلم کے نام پر یا انگریزی فلمیں تھیں یا انڈین،مجبوراََ میں نے انڈین فلم لگا لی۔بڑے افسوس کی بات ہے اتحاد ایئر لائن ہمارے برادر مسلم ملک کی ایئر لائن ہے لیکن پاکستان کا وہاں کوئی اثر رسوخ نا تھا،یہ فلم بھی ختم ہو گئی،میں نے ہیڈ فون اتار کر پھرکوشش کی کہ نیند آ جائے لیکن بے سود۔

میں نے کھڑکی کی طرف تھوڑا آگے ہو کر باہر پیچھے کی جانب دیکھا، ادھر جہاز کا پر حائل نہ تھا،نیچے نیلگوں سطح نظر آئی،اوپر کی جانب دیکھا تو وہاں بھی تقریباََویسا ہی منظر تھالیکن نیچے سے تھوڑا مختلف یعنی بادلوں سے آنکھ مچولی کرتی نیلگوں فضا۔میرے لئے اندازہ کرنا مشکل نا تھا کہ جہاز بحراوقیانوس پر سے گذر رہا ہے۔بحراوقیانوس کے پارنیویارک کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا جہاز واشنگٹن ڈی سی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے گا جہاں میرے بچے عدیل،رابعہ اور ننھی سی عنایہ ہمارے منتظر ہوں گے۔

جہاز دھیرے دھیرے نیچے آ رہا تھا،ایک خاص سطح پر آ کر ایسا لگا جیسے جہاز رک گیا ہو،میں نے گھڑی کی جانب دیکھا،ابھی بھی بیس منٹ باقی تھے۔

امریکہ کے تمام ایئرپورٹس پر جہازوں کا ایک سلسلہ لگا رہتا ہے اس لئے جہاز اپنی باری کے انتظار میں فضا میں منتظر رہتے ہیں۔

جہاز جوں جوں نیچے آ رہا تھا،زمین پر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سبزے کے تختے بچھے ہوئے ہوں،انہیں دیکھ کر میں نے بیگم سے بے ساختہ کہا کہ یار امریکہ کتنا سرسبز ہے۔

جہاز سے نکل کر ہم دو منزل نیچے آئے،وہاں سے ٹرین میں بیٹھے جو ہمیں لگیج لاﺅنج تک لے آئی۔سامنے متحرک بیلٹ کے ساتھ میرے بچے کھڑے تھے،ننھی عنایہ ابو،دادی کی آوازیں نکالتی ہماری جانب بھاگتی چلی آ رہی تھی۔

عدیل نے مجھے گلے لگاتے ہوئے پوچھا،،پاپا سفر کیسا رہا،، عنایہ اپنی دادی سے لپٹ گئی اور میں ماضی میں کھو گیا۔عدیل پہلی بار سکول ٹرپ کے ساتھ مری گیا ہوا تھا رات گیارہ بجے ان کی واپسی تھی،میں اور اس کی ماں اسے لینے بہت پہلے سکول پہنچ گئے تھے،جب بس سکول پہنچی اور عدیل بس سے باہر آیا تو میں نے اسے گلے لگاتے ہوئے یہی پوچھا تھا،، عدیل سفر کیسا رہا،، آج برسوں بعد منظر ویسا ہی تھا لیکن میں اسے نہیں،وہ مجھے لینے آیا تھا۔

—0—0—

ڈاﺅن ٹاون

وہ ہفتے کی کھلی کھلی سی شام تھی جب ایئرپورٹ سے عدیل کے ٹوئن ٹاور میں واقع فلیٹ میں پہنچے تو ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔گھر پہنچتے ہی رابعہ نے کہا بھی کہ ابو آپ تھک گئے ہوں گے تھوڑا آرام کر لیں لیکن وہاں وہ تھی جو ہمہ وقت چہچہاتی رہتی ہے اور اس کے دم قدم سے فڈلر لین پر واقع ٹوون ٹاور کا وہ فلیٹ ایسا پارک لگتا ہے جہاں دنیا جہاں کے رنگ برنگے پکھیرو اڑتے پھرتے، اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں،وہ چپ ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ پارک خاموش ہو گیا ہو۔وہ کوئی اور نہیں،ایک چھوٹی سی ننھی سی،عدیل اور رابعہ کی آنکھوںکی ٹھنڈک،ابو(دادا) اور دادی کے دل کا چین،عنایہ ،ہے۔

عدیل کے فلیٹ پر اس ننھی گڑیا کی فقط موجودگی،وہاں زندگی کی روح پھونک دیتی ہے۔دادا ابو اور دادی کے آنے پر تنہائی کا شکار اس ننھی چڑیا کی چہچہاہٹ قابلِ دید تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کرے،آج عدیل کا فلیٹ نئی بہار پیش کر رہا تھا۔

اس کی محبت بھری ایکسائیٹمنٹ نے ہماری طویل مسافت کی تھکن چند لمحوں میں بھلادی تھی۔اگرچہ آنکھیں میں بھری نیند کچھ اور کہہ رہی تھی مگر دل کچھ اور کہہ رہا تھا۔ہم نے دل کا ساتھ دیا اور پڑنے والی رات تک جاگنے کا فیصلہ کیا۔

عدیل کا فلیٹ سنگل بیڈ روم اپارٹمنٹ ہے جس میں ایک جوڑے کی رہائش کی ہر چیز موجود تھی،رابعہ نے بڑے پیار سے اسے سنوارا ہوا ہے۔لاﺅنج کے ساتھ ہی بیڈ روم تھاجس کا باتھ روم ساتھ ہی لیکن کمرے سے باہر تھا۔بیڈ روم میں ایک خاصی بڑی وارڈروب تھی۔لاﺅنج کے ساتھ دیوار کے اندر کی طرف سٹیپ ان وارڈ روب تھی اسے سٹور بھی کہا جا سکتا ہے۔کمرے میں ایک اور الماری تھی جسے بچوں نے ہمارے آنے سے پہلے ہی خالی کر دیا تھا۔لاﺅنج میں ایک صوفہ کم بیڈ موجود تھا،ہم نے بچوں پر زور دیا کہ ہم اس پر سوئیں گے وہ اپنے بیڈ روم میں ہی سوئیں لیکن وہ نا مانے اور ہمارا سامان کمرے میں پہلے سے خالی کردہ الماری میں رکھ دیا۔

عدیل کے ساتویں منزل پر واقع فلیٹ کی دیوارگیر کھڑکی سے باہر کا منظربہت حسین لگ رہا تھا۔میں نے ایک نظر ادھر ڈالی،سامنے ہی ڈاﺅن ٹاون لکھا نظر آ رہا تھا۔امریکہ میں ہر شخص اس اصطلاح کو استعمال کرتا ہے۔جس سے میرا جیسا نیا جانے والا کنفیوز ہو کر رہ جاتا ہے،یہی نہیں برطانیہ میں بھی یہ اصطلاح عام ہے،اس کا ذکر سب سے پہلے میں نے سعید ماموں سے سنا،سعید ماموںہماری بیگم کے ماموں ہیں جو جوانی میں برطانیہ چلے گئے تھے،کسٹم پولیس میں ملازمت کی پہلے لندن میں رہتے تھے،ریٹائر ہوئے تو لندن کے ڈاﺅن ٹاﺅن میں رہنے لگے۔اس سے میرا اندازہ تھا کہ شہر سے ملحقہ علاقے کو ڈاﺅن ٹاون کہتے ہیں۔لیکن امریکہ میںیہ اصطلاح صر ف سمت کا تعین کرنے کے لئے ہی مستعمل نہیں بلکہ شہر کے مرکز کو بھی ڈاﺅن ٹاون کہا جاتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں ای بروک لی اور اس کے بھائی بلیئر لی اول نے لی ڈویلپمنٹ کمپنی کی بنیاد رکھی جس کی بنا پر سلور سپرنگ ڈاﺅن ٹاﺅن کی ترقی کا آغاز ہوا۔اکیس ویں صدی کے آغاز میں سلور سپرنگ میں ترقی کے ثمرات نمایاں ہونے شروع ہوئے اور یہاں سٹی پیلس کے نزدیک نئے بلاک تکمیل پذیر ہوئے۔ایک نیا آوٹ ڈور شاپنگ پلازہ جسے ڈاﺅن ٹاﺅن سلور سپرنگ کا نام دیا گیا،کو دوبارہ تعمیر کیا گیا،سن2002 میں سلور سپرنگ ڈاﺅن ٹاون کی 160سالہ تاریخ کی سالگرہ منائی گئی۔سلور سپرنگ کی تاریخ پربلئیر لی،جالودہ اور بری خاندانوں کے بڑے اثرات ہیں سیاسی تاریخ میںفرینکس پرسٹون بلیئر کی بڑی اہمیت ہے جس نے انیسویں صدی میں جدید امریکن ریپبلیکن پارٹی کی تنظیم میں بڑی مدد کی اور اس کے نواسے فرینکس پرسٹون بلیئر لی کو امریکہ کی تاریخ کا پہلا مقبول تریں منتخب سینیٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دس بارہ سال پہلے یعنی سن2003 تک سلور سپرنگ ایک بہت چھوٹا سا شہر تھا پھر اسی سال جب ڈسکوری چینل نے اپنے ہیڈ کوارٹرز کی تعمیر مکمل کی اوربیتھسڈا (Bethesda)سے اسے یہاں منتقل کیا، تواس کے چار ہزار ملازمین کو بسانے کے لئے رہائش گاہوں کی ضرورت بھی محسوس ہوئی یوں یہ شہر پھیلتا چلا گیا۔

عدیل کے ساتویں منزل پر واقع فلیٹ کی دیوار گیرکھڑکی سے باہر کا منظربہت حسین لگ رہا تھا۔ سامنے ہی ڈاﺅن ٹاﺅن آ وٹ ڈور شاپنگ پازہ نظر آ رہا تھا۔عدیل میرے ساتھ کھڑا ہاتھ کے اشارے سے بتا رہا تھاکہ پاپا وہ سامنے سڑک کے اس پار جوسفید سی بلڈنگ نظر آ رہی ہے وہ دنیا کے مشہور ومعروف چینل ڈسکوری کا ہیڈ کوارٹر ہے،اس کے دائیں جانب والی بلڈنگ میں میرا دفتر ہے۔میرے اس فلیٹ سے چند منٹ کی دوری پر۔

ابھی میں اس خوبصورت منظرنامے میں گم تھا کہ کچن سے رابعہ گرم گرم چائے کی ٹرے اٹھائے لاﺅنج میں آ گئی۔ماں کو چائے لاتے دیکھ کر میری ننھی سی گڑیا زورسے بولی۔

،، ابو ٹی ٹائم،،

میں نے بیرونی کھڑکی سے توجہ ہٹائی،تھوڑا سا جھک کر ننھی گڑیا عنایہ کو گود میں اٹھا کر ڈائنگ ٹیبل کی طرف ہو لیا۔

رات کا کھانا آٹھ بجے کھا لیا گیا۔رابعہ اور عدیل بہے ساری باتیں کرنا چاہ رہے تھے۔لیکن میری لاڈلی چاہ رہی تھی کہ ہم بس اس سے باتیں کئے جائیں۔دس بجنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔دس بجتے ہی رابعہ،عنایہ کو سلانے لے گئی۔عدیل بتانے لگا کہ ہم نے بڑی مشکل سے اسے ٹھیک دس بجے سونے کا عادی بنایا ہے۔تھوڑی دیر بعد رابعہ پھر لاﺅنج میں آ گئی۔جس کمرے میں ہمیں لیٹنا تھا وہیں عنایہ کا بیڈ بھی لگا ہوا تھا،کمرے سے عنایہ کے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں ،میں نے کہا اکیلی ڈر رہی ہو گی،میں نے اسے جواب دینا چاہا لیکن عدیل نے کہا ابھی تھوڑی دیر میں سو جائے گی اور وہی ہوا عنایہ کی آواز آنا بند ہو گئی۔

ہم دیر تک باتیںکرتے رہے۔

پھر

رابعہ نے کہا

،،آپ بہت تھک گئے ہوں گے،جیٹ لاگ بھی ہوتا ہے۔کوشش کریں سونے کی،،

،،ارے نہیں بیٹا تم لوگوں سے مل کر بالکل تازہ دم ہیں ہم دونوں،،

میں نے جواب دیا

،،اور ہاں کمرے میں عنایہ کا بیڈ آپ کے ساتھ ہے ،اب آپ ہی سنبھالئے اپنی لاڈلی کو،،

رابعہ نے کمرے سے جاتے ہوئے کہا

،،تم بے فکر ہو کر جاﺅ،،

میں نے بستر میں گھستے ہوئے کہا

پتہ ہی نہیں لگا کب میری آنکھ لگی

اور

پھر

اس طرح سویا کہ نا تو عنایہ کے صبح سویرے رونے اور اٹھ کر اپنی ماں کے پاس جانے کا پتہ چلا اور نا ہی کھڑکی سے آتی تیز روشنی نے مجھے ڈسٹرب کیا۔

میری جب آنکھ کھلی تو دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔

اور

عدیل اور رابعہ ناشتے کی میز پر میرے منتظر تھے،کیونکہ آج اتوار تھا اور عدیل کی چھٹی تھی۔

—0—0—

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

۔ گلاسکو سے آئیر لینڈ تک                 لمبا تڑنگا ”فرانکو“شاید نہیں بلکہ یقینا سپانوی ہی …

ایک تبصرہ

  1. سفرنامہ بہت اچھا لگا اور معلومات میں بھی اضافہ ہوگیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے