سر ورق / سفر نامہ / مسافر تیرے شہر میں ۔۔ساجد فاروق میاں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔ساجد فاروق میاں

سانتا کلاز

                یوں تو یورپی ممالک میں ہونے والی کرسمس کی رونقوں کے بار ے میں بڑے چرچے سن رکھے تھے۔لیکن اس شام حالات بالکل میرے خیالوں کے برعکس تھے۔ سڑکیں یوں ویران تھیں کہ جیسے کسی آدم خور کی آمد کا اعلان ہو گیا ہو۔وہ پچیس دسمبر کی شام تھی اور میں گھر سے اپنے ایک انگریز دوست پال کارٹر کے گھر جا رہا تھا۔اس نے مجھے خاص طور پر عوت دی تھی کہ میں اس کے اپنوں کے سات کرسمس مناﺅں۔مجھے ان کا اس طرح عوت دینا بہت اچھا لگا اس لیئے میں بڑے چاﺅ سے جا رہا تھا۔کرسمس ڈے سے تین چار روز قبل بازاروں میںکافی رونق رہتی ہے۔گورے لوگ اپنے عزیزوں کے لےے تحائف خریدتے ہیں۔ان دنوں اشیاءکی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں مگر کوئی مہنگائی کی پرواہ نہیں کرتا۔ دیسی لوگ کرسمس کے بعد ہونے والی ”لوٹ سیل“ کے مزے لوٹتے ہیں۔ میں ایک سٹور سے ایک تحفہ خریدا تھا جو میرے اپنے ”اعدادوشمار“ کے مطابق مہنگا ہی تھا۔ راستے میںمجھے سرخ و سفید لباس میں ملبوس لمبی داڑھی اور پھندنے والی ٹوپی پہنے ایک بوڑھا شخص چند بچوں میں گھرا کھڑا تھا۔ان سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔میں انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ سانتا کلاز تھا جس کے بارے میں پڑھا سنا تھا۔ وہ میرے ذہن میں رہ گیا۔

                پال کارٹر کا گھر چھوٹا سا تھا میں اطلاعی گھنٹی بجائی تو فوراً ہی اس کا چہر ہ نمودار ہوا۔آنکھوں اور چہرے پر سے خوشی ہویداہوئی اور پھر بڑی نستعلیق قسم کی انگریزی میں بولا۔ ”میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔“

                ”یہ رسمی بات ہے یا وقعی ہی“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ عادت کے مطابو مسکرا دیا اور مجھے ساتھ لیتے ہوئے اندر چلا گیا۔اس نے مجھے اپنی فیملی سے ملوایا۔ سب سے مل لینے کے بعد وہ مجھے کرسمس ٹری کے پاس لے گیا۔یہ مصنوعی روائتی قسم کا درخت خوبصورت رنگ برنگے قمقموں، چمکدار رنگین پتوں اور کاغذوںسے سجا اچھا لگ رہا تھا۔

                ”یہ میں نے اور جینی سے پانچ دن کی محنت سے بنایا ہے۔“ اس نے داد طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔جینی اس کی چھوٹی بہن کا نام تھا۔ کرسمس کی تقریبات میںا یسا مصنوعی روائتی درخت ایک لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔اس لیے میں نے چند تعریفی جملے کہہ دےے۔ میں نے دیکھا اس درخت نیچے کافی سارے تحفوں کے ڈبے رکھے ہوئے تھے۔میں نے جینی نے اپنا لایا ہوا تحفہ لانے کو کہا۔وہ جلدی سے لے آئی تو میں نے وہ تحفے کا ڈبہ وہاں رکھ دیا۔

                ”آپ کرسمس ٹری کیوں بناتے ہو؟“ میں نے یونہی پوچھ لیا۔

                ”یہ درخت دراصل خوشی بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اس لےے بناتے ہیں۔“ پال نے خوشی سے کہا۔”اور دیکھنا رات بارہ بج کر ایک منٹ پر یہ سارے تحائف کے بکس کھولے جائیں گے۔“

                ”کتنا مزہ آئے گا۔“جینی نے آنکھیں بند کرتے ہوئے رسان سے کہا۔ وہ ہمارے قریب کھڑی ہماری باتیں سن رہی تھی۔ میں نے اس کی شدت کا اندازہ کرتے ہوءکہا۔

                ”اس کا مطلب ہے اگلے دن کا انتظار بڑے شدت سے کیاجاتا ہے۔“

                ”بالکل——! اوراس دن کو باکسنگ ڈے کہا جاتا ہے۔ان تحائف کے ڈبوں کو بڑے تجسس سے کھولا جاتا ہے کہ ہمارے پیاروں نے ہمیں کیا کیا دیا ہے“ یہ کہہ کر وہ مڑا اور واپس صوفے پر آن بیٹھا چائے آ چکی تھی۔ تب اچاند میرے ذہن میں خیال آیا اور میں نے پوچھا۔

                ”یار یہ سانتا کلاز کا کردار کیا ہے اور یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؟“

                ”یہ ایک فرضی کردار ہے “پال نے مجھے سمجھاتے ہوے کہا۔”امن و آشتی کے اس فرضی کردار کے بارے میں کہا یہ جاتا ہے کہ اس کا گھر نارتھ پول کے برفیلے علاقوں میں ہے ۔ اور یہ گھر کے اوپر بنی ہوئی چمنیوں میں اندار آ جاتا ہے اور خوش بختوں کے لےے تحائف چھوڑ جاتا ہے۔ پتہ نہیں کہ یہ فرضی روایت کب سے ہے۔لیکن اس فرضی روائت کو پورا کرنے کے لےے آج بھی یہاں کی لوکل کونسلیں خاص کراد ادا کر رہی ہیں۔ان کو نسلوں کے تنخواہ دار ملازم سانتاکلاز کا مخصوص ڈھیلا ڈھالا سرخ و سفید لباس پہن کر کرسمس سے چند دن پہلے ہی سے بازاروں اور پررونق مقامات پر گھومنا شروع کر دیتے ہیں۔من پسند بچوںکو تحائف دے کر اس روائت کو پورا کرتے ہیں۔کرسمس پر سانتاکلاز بچوں کی توجہ کا خاص مرکز ہوتا ہے۔“

                وہ یہ کہہ کر جیسے ہی خاموش ہوا۔ ہمیں کھانے کے لےے بلا لیا گیا۔ میں اس رات کافی دیر ان کے ساتھ رہا اور جیسے ہی ”باکسنگ ڈے“ شروع ہونے والا تھا۔میں نے ان سے اجازت چاہی۔ وہ مجھے آنے نہیں دے رہے تھے۔ مگر میں انہیں اکیلا چھوڑ دینا چاہتا تھا۔

                اکتیس دسمبر کی شام سے ذرا پہلے پال کا فون آ گیا کہ میں اس کا انتظار کروں کہ وہ آ رہا ہے۔ شام پڑتے ہی وہ آ گیا۔اپنی مخصوص مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا”آﺅ وسطی شہر چلیں © ©“

                ”وہاں کہاں جانا ہے۔“ میں نے پوچھا

                ”ٹریفالگراسکوئر……..!“

                ”کیوں؟“

                ”تمہیں پتہ نہیں اکتیس دسمبر کی رات لندن میںمنایا جانے والا ”ہیپی نیوائر“دنیا کے چند برے اجتماعات میں سے ایک ہوتا ہے۔ لوگ شام ہی سے وہاں جمع ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔لاکھوں لوگوں کی تعداد کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بڑے پر جوش انداز میںنئے سال کی آمد کا منتظر ہوتا ہے اور ہر شخص اپنے تئیں اسے خراج عقیدت پیش کرنے حاضر ہوتا ہے۔“ وہ جوش میں کہتا چلا گیا۔

                ”اتنا رش! کیا خاک مزا آئے گا۔“ میں نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

                ”اگرچہ پولیس کا ہزار ہا منع کرنے کے باوجود لوگ وہاں امنڈے چلے آتے ہیں۔ لیکن انتظامیہ کنٹرول کر لیتی ہے۔ آنے جانے کے لےے ٹرانسپورٹ تک کا انتظا م ہوتا ہے“

                ”وہاں ہو گاکیا؟“ میں نے پوچھا

                ”بارہ بجے سے چند لمحے قبل گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ لوگ نیچے کی طرف سے گنتی کرتے چلے جاتے ہیں اور عین بارہ بجے اچانک روشنیاں گل کردی جاتی ہیں۔ زبردست آتش بازی ہوتی ہے۔ اور ….اور……مزا آ جاتا ہے۔ چلو جلدی سے تیار ہو جاﺅ“ اس نے کچھ اس انداز سے کہا کہ میں تیار ہو نے لگا۔

                اچھا خاصا اندھیرا پھیل چکا تھا۔مگر روشنیوں کے باعث دن کا سماں تھا۔ پال صحیح کہہ رہا تھا۔ان گنت لوگ وہاں موجود تھے۔زبردست آتش بازی کے بعد مجھے یوں لگا جیسے لوگوں کو دورہ پڑ گیا ہے۔ رات کا اندھیرا وہاں پر موجود لا تعداد جوڑوں کے لےے جذبات میں ڈوب ڈوب جانے کا باعث بن رہا تھا۔پال بھی اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مصروف ہو چکا تھا۔ وہ ایک ہی بوتل سے باری باری پی رہے تھے اور میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔ان کا کوئی بھی مخصوص دن ہو اور س کچھ کرنے کے ساتھ ساتھ انگور کی بیٹی لازمہ حیات سمجھی جاتی ہے۔لوگوں کو کھانے کے لےے کچھ ملے نہ ملے ، شراب ضرور پئیں گے۔دنیا بھر میں تہذیب یافتہ قوم اب تنزلی کی طرف رواں ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل جو ہر وقت شراب کے نشے میں دھت رہتی ہے۔ اپنے اسلاف کے کارناموں سے بے خبر ہے۔جنہوں نے اپنی فہم و فراست کے باعث پوری دنیا میں اپنی حاکمیت کا سورج غروب نہیں ہونے دیا۔اب یہ لوگ اس جزیرے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ایشاءاور افریقہ کے کئی ممالک تاج برطانیہ سے آزادی حاصل کر چکے ہیں۔ حالات کے بدلتے ہوئے رخ نے انہیں ہانگ کانگ کا عنان اقتدار بھی چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شائد یہ قوم اب ہمیشہ کے لےے اپنے خطے کی حد تک سکڑ جائے گی۔

                اگلی صبح مسیولینی نے مجھے جھنجوڑ کر جگایا۔ رات دیر تک جاگتے رہنے کے بعد سویا تھا۔ میرے جاگنے پر اس نے سب سے پہلی خبر یہ سنائی کہ برف باری ہو رہی ہے۔ میں نے باورچی خانے کی کھڑکی سے نظر باہر دوڑائی تو پتہ چلا کہ برف باری پورے جوبن پر ہے۔ مجھے یہ منظر رومانوی سا لگا۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آسمان سے کوئی روئی دھن دھن کے نیچے پھینک رہا ہے۔روئی کے گالوں کی طرح برف بڑی آہستگی سے نیچے اتر رہی تھی۔برف باری میں ذرا شدت آتی تو یوں لگتا جیسے بہت سارے سفید پرندے اپنے نرم نازک پر جھٹک رہے ہیں اور وہ ہوا کے دوش پر بڑی آہستگی سے نیچے اتر رہے ہیں۔کھڑکی سے ہٹنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔تبھی مسیولینی نے دھیرے سے کہا”آج نئے سال کی پہلی تاریخ ہے۔ کرسمس پر ہزاروں لوگوں نے لاکھوں پونڈ کی شرط لگائی تھی کہ کرسمس پر برف باری ہو گی۔“

                ”شرط کیوں لگائی تھی“ میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا۔”یہ لوگ کرسمس ڈے پر برف باری ہو جانے پر بہت خوش ہوتے ہیں۔اور اسے خدا کی خوشنودی قرار دیتے ہیں۔اس دفعہ کرسمس پر برف باری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خاصے مایوس نظر آ رہے تھے۔آج نئے سال کے پہلے دن برف باری ہو جانے کے باعث لوگ بہت خوش ہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ خدا ابھی اس سے خوس ہے۔“ مسیولینی یہ کہ کر چپ ہو گیا۔ چائے پینے کے دوران ہم میں خاصی خامشی رہی۔ پھر اس نے خاموشی کو توڑا۔”آج کہیں گھومنے چلیں۔“

                ”کہاں“ میں پوچھا

                ”یہیں گھر سے باہر“ اس نے میرا موڈ تاڑتے ہوئے کہا۔

                میں نے کھڑکی سے دیکھا خاصے لوگ گھروں سے نکل آئے تھے۔ میں بھی مسیولینی کے اصرار پر اس کے ساتھ گھر سے باہر نکل آیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ آہستہ آہستہ زمین پر سفیدی چھانے لگی۔ گھروں سے باہر کھڑی گاڑیاں برف سے اٹ رہی تھیں۔ہر چیز پر برف کی خاصی موٹی تہہ بنتی جا رہی تھی۔میں جو سردی کے ڈرسے باہر نہیں نکلنا چاہ رہا تھا اب فرحت محسوس کر رہا تھا۔جس قدر اندازہ لگایا تھا اس سے بہت کم سردی محسوس ہو رہی تھی۔ مسیولینی نے بتایا کہ برف باری کے وقت سردی بالکل نہیں ہوتی بلکہ اس کے بعد چلنے والی تیز ہوا درجہ حرارت میں زبردست کمی کا باعث بنتی ہے۔مسیولینی نے بچوں کے ساتھ برف پر کھیلنا شروع کر دیا۔بچے برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے کا نشانہ لے کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔وہ کسی طرح واپسی کے لےے تیار نہیں تھا۔میں اسے چھوڑ کر واپس فلیٹ میں آ گیا۔اور پھر کھڑکی سے برف باری کا نظارہ کرنے میں محو ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آ گیا اور کہنے لگا ”ایک سرپرائز ہے۔“

                ”کیا…….؟“ میں نے پوچھا

                ”کیمرہ لے کر نیچے آﺅ بتاتا ہوں۔“ میرے تجسس کو ہوا دے کر وہ چلا گیا۔ میں با ادب بچے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ باہر شراب خانے سے ملحقہ کار پارکنگ میں مسیولینی نے ”سنو مین“ بنایا ہوا تھا۔ برف کے اس آدمی کے گلے میں سرخ رنگ کا مفلر اور چہرے پر گہرے رنگ کا چشمہ بھی سجا رکھا تھا۔مجھے احساس ہوا کہ مسیولینی ایک ماہر مجسمہ ساز بھی ہے۔سنو مین کی میں نے دو تصویریں بنائیں۔مسیولینی کو غالباً یہ موسم بہت پسند تھا۔ منچلوں کی طرح سنومین کے گرد چکر لگا رہا تھا۔برف باری بند ہوئی تو یخ بستہ ہوا چلنا شروع ہو گئی۔اس کے ناچاہنے کے باوجود میں اسے واپس فلیٹ میں لے آیا۔پھر وہ مجھے برف باری سے متعلق انگریزی ادب میں سے روائتی نظمیں سناتا ہوا سو گیا۔

                اگلی صبح خاصی سست تھی۔صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے غلط ٹیوب میں بیٹھنے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے برف باری کے باعث زندگی بھی سست ہو گئی ہے۔طے شدہ وقت سے پندرہ منٹ لیٹ تھا۔پروفیسر پازی اپنی توند سمیت یونیورسٹی کی غلام گردش میں ٹہل رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی آگ بگولہ ہو گئے۔ گرج دار آواز سے پوچھا۔”پڑھنا چاہتے ہو یا نہیں“

                گورے رنگ پر سرخی چھائی تو یوں لگا جیسے دسمبر کی اماوس رات میں گھر کے صحن میں رکھی ہوئی انگیٹھی کے کوئلے پوری آب وتاب سے دہک رہے ہوں۔پروفیسر پازی ملنگ آدمی ہے۔تھوڑی دیر بعد خود ہی اپنے آپ کو معمول پر لے آیا۔برف باری کے حوالے سے بڑی دلچسپ گفتگو کرتا رہا۔جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اسے بھی برف باری بہت پسند ہے۔اس کا بھی خیال تھا کہ اگرچہ کوسمس سفید نہیں ہوتی لیکن خداوند کریم نے نئے سال کے پہلے دن برف باری کر کے خوش آئندہ خبر دی ہے۔ان کا مطلب تھا کہ ابھی خدا خوش ہے۔ پروفیسر دیکھنے میں تو الف لیلوی کہانیوں کا کوئی روٹھا ہوا کردار لگتا تھا۔لیکن نہایت ذہین آدمی تھا۔اسے اپنے مضمون پر پوری دسترس حاصل تھی۔فرانسیسی نژاد پروفیسر بازی قانون کی کئی کتابوں کا خالق ہے جو پورے یورپ میں پڑھائی جاتی ہیں۔

                پروفیسر بسا اوقات بڑی منفرد سی تحقیقی رپورٹ (Assignment) دیا کرتا ہے۔ایسے ہی ایک دفعہ اپنے تحقیقی مقالہ کے سلسلہ میں مجھے ایک فرم میںجانے کا اتفاق ہوا۔ ٹیوب کے ذریعے ایلیفنٹ(Elephent) کا سل پہنچا۔ یہ اسٹیشن زمین کی اس قدر گہرانی میں ہے کہ شاید تھوڑی کھدائی اور کی جاتی تو کوئی دوسری دنیا نکل آتی۔ٹیوب سے نکل کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا تو ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی گارڈ نے کہا کہ”جناب لفٹ اس طرف ہے“ لفٹ کے ذریعے اوپر آنے پر پتہ چلا کہ نیچے سے اوپر آنے کے لئے کئی سو سیڑھیاں چڑھنا پڑتیں۔باہر نکل کر پر رونق اور پر شکوہ عمارات دیکھ کر لگا کہ جیسے ابھی چوہے کے بل سے باہر آئے ہیں۔

                اسٹیشن سے باہر لندن روڈ پر چند قدم آگے میری مطلوبہ منزل تھی۔مجھے دور سے ہی اس کا سائن بورڈ نظر آ گیا۔”کیو اینڈفراسر“ میں داخل ہوا تو استقبالیہ پر موجود گوری چٹی میم نے مخصوص انداز میں منہ کو کھینچا اور پھر سکیڑا۔یہ ان کا سلام و دعا ہے۔ وطن میں اگر کوئی ایسی ”حرکت “ کرے تو سمجھا یہی جائے گا کہ یقیناجبڑے،گالوں یا ہونٹوں سے متعلق پٹھوں میں کھچاﺅ سا آگیا ہے۔اور وہ اس کھچاﺅ کو دور کرنے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔مگر یہ یہاں کے دستور کے مطابق ”خوش آمدید“ ہے۔ جواباً میں نے بھی منہ کا ویسے ہی زاویہ بنانے کی کوشش کی۔ جو کہ بالکل صحیح نہیں تھا۔میم صاحبہ کو اپنی یونیورسٹی اور پروفیسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے مقالہ کے لےے سالسٹرز سے ملنا ہے۔اس نے جلدی سے اپنے سامنے دھرے رجسٹر پر نگاہ دوڑائی پھر ناک سکیڑا، معذرت کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہمارے پاس آپ کی کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔میں اپنی طرف سے کوئی بھی بات کرتا، طرح طرح کے دلائل دیتا۔ وہ بڑے غور سے سنتی پھر ایک ہی جواب دے دیتی آپ کی ملاقات طے نہیں ہے لہذا آپ سالسٹرز صاحب سے نہیں مل سکتے۔آخر تنگ آ کر اس نے رجسٹر میری طرف موڑ کر سیدھا کر دیا کہ آج چھبیس تاریخ ہے اور آئندہ ماہ کی تیرہ تاریخ تک صبح نو بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک سالسٹرز صاحب کے پاس وقت نہیں ہے۔آپ چاہیں تو آپ کو آئندہ ماہ کی تیرہ تاریخ کے بعد کا وقت مل سکتا ہے۔یہ کہہ کر پھر اس نے اپنے منہ کو ایک خاص انداز میں پھیلایا اور سکیڑا۔ شاید یہ اس کا الوداعی انداز تھا۔میں کاﺅنٹر سے ہٹ گیا۔ یہ خیال ہی نہ رہا تھا کہ ملاقات کے لےے وقت طے کرنا پڑتا ہے۔وگرنہ آپ ملاقات نہ کر پائیں گے۔خیر منہ لٹکا کر واپس فلیٹ میں آ گیا۔تنہائی پاتے ہی میں آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پھر کتنی دیر تک منہ کھینچے اور سکیڑنے میں محو رہا کہ میں بھی ”خوش آمدید “ کہنا سیکھ لوں۔ میری اس حرکت کو مسیولینی نے دیکھا تو حیرانگی سے پوچھا۔”یہ منہ کے زاوےے کیوں بنا رہے ہو؟“میں شرمندہ ہو گیا اور اپنی شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا”ویسے ہی تھکاوٹ اتار رہا ہوں۔

                مجھے یقین تھا کہ مسیولینی میرے جھوٹ بولنے پر لوٹ پوٹ ہو جائے گا۔ مگر اس نے کہا ”بڑی اچھی بات ہے خوب تھکن اتار لو‘ یہ بولا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔ میرا مذاق نہ اڑانے پر اور تھوڑا وقت مجھے تنہا چھوڑ دینے پرمجھے یوں لگا کہ اس نے مجھے بیش قیمت تحفہ دے دیا ہو۔اس وقت مسیولینی مجھے سانتا کلاز سے کسی طور پر بھی کم نہیں لگا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

۔ گلاسکو سے آئیر لینڈ تک                 لمبا تڑنگا ”فرانکو“شاید نہیں بلکہ یقینا سپانوی ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے