سر ورق / کہانی / تیسری منزل کا کمرہ۔ راماناتھ رائے۔عامر صدیقی

تیسری منزل کا کمرہ۔ راماناتھ رائے۔عامر صدیقی

تیسری منزل کا کمرہ

رماناتھ رائے/عامر صدیقی

بنگلہ کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین منزلہ مکان۔ پہلی منزل پر تین کمرے۔ ایک باورچی خانہ، ایک بیٹھک اور سونے والا کمرہ۔ سونے کے کمرے میں میری بڑھیا رہتی ہے۔ پوتے پوتیاں رہتے ہیں۔ دوسری منزل پر تین کمرے ہیں۔ ایک کمرے میں بڑا بیٹا اور بڑی بہو رہتی ہے اور دوسرے میں چھوٹا بیٹا اور چھوٹی بہو رہتی ہے۔ اس کے بعد والے کمرے میں میری بیٹی رہتی ہے۔ مگر تیسری منزل پر صرف ایک کمرہ ہے۔ اس کمرے میں ،میں اکیلا رہتا ہوں۔

ہر وقت اکیلا رہنا اچھا نہیں لگتا۔ اپنی بڑھیا سے کبھی کبھار باتیں کرنے کا بہت دل کرتا ہے۔

صبح میری پوتی میرے لئے چائے لے آتی ہے۔ اس کے ہاتھ سے چائے کا پیالہ لے کر میں نے ایک چسکی لیتا ہوں۔ پھر اس سے پوچھتا ہوں،’’ تیری دادی کیا کر رہی ہے؟‘‘

’’ چائے پی رہی ہیں۔‘‘

’’ چائے پی لے تو ذرا بھیج دینا۔‘‘

’’ اچھا۔‘‘

اس کے بعد میری پوتی باہر جانے کے لئے پیر آگے بڑھاتی ہے۔ میں ٹھیک اسی وقت ایک بار پھر اس سے پوچھتا ہوں،’’ تو دادی سے کیا کہے گی ۔۔۔ بتا تو؟‘‘

’’ کہوں گی، آپ بلا رہے ہو۔‘‘

’’ ہاں، کہنا بہت ضروری کام ہے۔‘‘

پوتی چلی گئی۔ میں خاموشی سے چائے پینے لگا۔ چائے پینے کے بعد پیالہ میز پر رکھ دیتا ہوں۔

تھوڑی دیر بات پیالہ لینے پوتی پھر کمرے میں آئی۔ مجھ سے بولی ،’’ دادی اس وقت نہیں آ سکتیں۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ سبزی کاٹ رہی ہیں۔‘‘

’’ وہ کیوں کاٹ رہی ہے؟ تیری ماں کہاں ہے؟‘‘

’’ باورچی خانے میں۔‘‘

’’ چاچی؟‘‘

’’ آٹا گو ند ھ رہی ہیں۔‘‘

’’ پھوپھی؟‘‘

’’ پڑھ رہی ہیں۔‘‘

’’ اور تو؟‘‘

’’ اب میں بھی پڑھنے بیٹھوں گی۔‘‘

میں نے اور کچھ نہیں پوچھا۔ اب کچھ جاننے کی خواہش نہیں رہی۔ بس اتنا کہا،’’ دادی سے کہنا، سبزی کاٹنے کے بعد ذرا ایک بار یہاں آ جائے۔‘‘

پوتی چائے کی پیالی لے کر چلی گئی۔ میں خاموشی سے آرام کرسی پر بیٹھا رہا۔ میرے کمرے کے سامنے چھت تھی۔ دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ میں باہر نہیں نکلا۔ میرے کمرے میں طرح طرح کی کتابیں تھیں۔ بیچ بیچ میں ان میں سے کوئی کتاب لے کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر دیر تک پڑھ نہیں سکتا۔ پڑھنے کی خواہش نہیں ہوتی۔

دن چڑھنے لگا۔ میں اکیلا بیٹھا رہا۔ بڑھیا ابھی تک نہیں آئی۔ اس پر مجھے غصہ آیا۔ وہ ان دنوں نہ جانے کیسی ہوتی جا رہی تھی۔ وہ پہلے ایسی نہیں تھی۔ میری ہر بات وہ سنتی تھی۔ اب اپنے بیٹے بہوؤں، پوتے پوتیوں کے درمیان مصروف رہتی تھی۔ میری بات اب اسے یاد نہیں رہتی تھی۔ وہ مجھے بھول ہی گئی تھی۔

تھوڑی دیر بعد میرا پوتا ایک گلاس دودھ اور آدھی پلیٹ حلوہ لے آیا۔ انہیں اس نے میز پر رکھ دیا۔

میں نے پوچھا ’’ تو نہیں پڑھ رہا ہے؟‘‘

’’ ابھی تک ہی پڑھ رہا تھا۔‘‘

’’ تو پھر پڑھائی چھوڑ کر اٹھا کیوں؟‘‘

’’ دادی نے یہاں بھیج دیا۔‘‘

’’ دادی خود نہیں آ پائی؟‘‘

میرا پوتا اس بات کا جواب نہ دے کر کمرے سے باہر جانے کو مڑا۔ تبھی میں نے اس سے کہا ’’اپنی دادی کو ایک بار یہاں آنے کے لئے کہنا۔ ضروری بات ہے۔‘‘

’’ اچھا۔‘‘

پوتا چلا گیا۔ میں خاموشی سے حلوہ کھانے لگا۔ اس کے بعد دودھ پیا۔ ناشتا کرنے کے بعد دوبارہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد پوتا خالی گلاس اور پلیٹیں لینے کے لئے آیا۔ اس نے خبر دی ’’ دادی اس وقت نہیں آ سکتیں۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ روٹی سینک رہی ہیں۔‘‘

’’ کب تک روٹیاں سینکیں گی؟‘‘

’’ میں کیسے بتا سکتا ہوں!‘‘

میں نے پھر کچھ اور نہیں پوچھا۔ کچھ جاننے کی خواہش بھی نہیں رہی۔ صرف اتنا کہا، ’’ روٹیاں سنک جانے کے بعد ایک بار یہاں آنے کے لئے کہہ دینا۔‘‘

پوتا چلا گیا۔ میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔

دن چڑھنے لگا۔ ٹھیک بارہ بجے مجھے بھوک لگ گئی۔ میں نے اشنان کر لیا۔ چھوٹی بہو چاول کی تھالی اور پانی کا گلاس لے کر آ گئی۔ انہیں میز پر رکھ دیا۔ میں نے پوچھا،’’ تمہاری ساس کی روٹیاں سنک گئیں؟‘‘

چھوٹی بہو ہنستے ہوئے بولی، ’’ ہاں ۔‘‘

’’ اس وقت کیا کر رہی ہے؟‘‘

’’ نہا رہی ہیں۔‘‘

اس کے بعد چھوٹی بہو وہاں سے باہر جانے کو مڑی۔ اس سے میں نے کہا، ’’ نہا لینے پر اپنی ساس کو ایک بار میرے پاس بھیج دینا۔‘‘

’’ اچھا ۔‘‘

چھوٹی بہو چلی گئی۔ میں کھانا کھا کر ہاتھ منہ دھوکر لیٹ گیا۔

دن گزرتا رہا۔ اس دوران میری آنکھ لگ گئی۔ چھوٹی بہو تھالی اور گلاس لینے کمرے میں آئی تھی۔ مجھ سے بولی، ’’ ماں کا اس وقت آنا مشکل ہے۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ وہ آرام کر رہی ہیں۔‘‘

یہ سن کر مجھے اچھا نہیں لگا۔ میری بڑھیا اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ اب وہ کافی بدل گئی تھی۔ اب مجھے دو وقت کا کھانا دے کر مطمئن ہو جاتی تھی۔ میرے پاس ایک بار بھی آنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی تھی۔

چھوٹی بہو ٹیبل پونچھ کر برتن لے کر چلی گئی۔ میری آنکھ دوبارہ لگ گئی۔

جب آنکھ کھلی تو شام ہو چکی تھی۔ ہاتھ منہ دھوکر آرام کرسی پر بیٹھا رہا۔ کچھ دیر بعد میری بیٹی میرے لئے چائے لے آئی۔ میں نے اس کے ہاتھ سے پیالہ لے کر ایک چسکی لی۔

بیٹی نے کمرے کو صاف کر دیا۔ بستر جھاڑکر ٹھیک کر دیا۔

میں نے چائے پیتے پیتے پوچھا،’’ آج کالج گئی تھی؟‘‘

’’ ہاں۔‘‘

’’ کب لوٹی؟‘‘

’’ کچھ دیر پہلے۔‘‘

’’ امتحان کب ہوں گے؟‘‘

’’ ابھی دیر ہے۔‘‘

اس کے بعد میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس سے کیا پوچھوں۔ اسی لیے کچھ لمحے رک کر اچانک پوچھ بیٹھا ’’ تیری ماں کیا کر رہی ہے؟‘‘

’’ ماں گھر میں نہیں ہیں۔‘‘

’’ کہاں گئی ہے۔‘‘

’’ پتہ نہیں۔‘‘

’’ کب لوٹے گی؟‘‘

’’ کچھ بتا کر نہیں گئی ہیں؟‘‘

میں خاموش ہو گیا۔ بیٹی نے کمرے کو صاف ستھرا کر دیا۔ میں نے بھی چائے پی لی تھی۔ اس کے بعد وہ خالی چائے کا پیالہ لے کر باہر جانے لگی۔ تبھی میں نے اس سے کہا ،’’ تیری ماں جب واپس آئے تو ایک بار میرے پاس آنے کے لئے کہنا۔‘‘

’’ اچھا۔‘‘

بیٹی چلی گئی۔ میں اکیلا بیٹھا رہا۔شام ڈھلنے لگی۔ تاریکی ہونے لگی تھی۔ آہستہ آہستہ چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔

میرا بڑا بیٹا شاید اب تک گھر آ گیا ہو گا۔ چھوٹے بیٹے کے بھی گھر لوٹنے کا وقت ہو گیا تھا۔ شادی سے پہلے چھوٹا بیٹا رات گئے گھر لوٹتا تھا۔ کبھی کبھی بارہ بجے بھی بج جاتے تھے۔ اس کی وجہ سے اسے کافی کچھ کہا بھی گیا تھا، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اب شام ہوتے ہی گھر آ جاتا تھا۔ مگر دونوں میں سے کوئی بھی میرے کمرے میں جھانکنے بھی نہیں آتا۔ نہ بڑا بیٹا نہ چھوٹا بیٹا۔ وہ دونوں دفتر جاتے تھے اور وہاں سے سیدھے گھر لوٹتے تھے۔ کبھی کبھی اپنی بیویوں کے ساتھ سنیما چلے جاتے تھے۔ کسی خاص دن کبھی کبھی میرا بھی دل کرتا کہ میں نیچے جاکر ان کی باتوں میں شامل ہو جاؤں۔ مگر میری کون سنے گا؟ میرے پاس کہنے کو تھا بھی کیا؟

دیکھتے دیکھتے رات گہری ہونے لگی۔ میں نے کمرے کی روشنی جلا کر بیٹھا رہا۔ کبھی کوئی کتاب لے کر پڑھنے کی کوشش کرتا، مگر پڑھا نہیں جاتا تھا۔ اب چھپائی کے حروف مجھے اچھے نہیں لگتے تھے۔ مجھے کافی پینے کی خواہش ہو رہی تھی۔ میں نے آواز لگائی، ’’ بڑی بہو ماں۔‘‘

اسے میری آواز سنائی نہیں پڑی۔ میں نے اس بار زور سے کہا، ’’ چھوٹی بہو ماں۔‘‘

اُسے بھی میری آواز سنائی نہیں پڑی۔

اس کے بعد میں نے اپنی بیٹی کو آواز لگائی۔ بیٹوں کو بلایا۔ پوتے پوتیوں کو آواز لگائی۔ مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ کسی کو میری آواز سنائی ہی نہیں دی۔ آخر کار اپنی بڑھیا کو آواز لگائی۔ مگر اس کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ بڑھیا کے کانوں میں بھی میری آواز نہیں پہنچی۔

رات اور گہری ہوتی گئی۔ مجھے اب چپ چاپ بیٹھے رہنا اچھا نہیں لگا۔ میں لیٹ گیا۔ کمرے کی بتی جلائے رکھی۔ پھر بڑی بہو روٹی کی تھالی اور گلاس لے کر کمرے میں آئی اور انہیں میز پر رکھ دیا۔

میں نے اٹھتے ہوئے پوچھا،’’ تم لوگ کیا کر رہی تھیں؟‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ میں نے کتنی بار تم سب کو پکارا۔‘‘

’’ ہمیں تو سنائی ہی نہیں پڑا۔‘‘

اس بات کا میں کیا جواب دیتا؟ جواب دے بھی کیا سکتا تھا۔ چند سال پہلے کی بات ہوتی تو ضرور سب کو سنائی پڑتی۔ ابھی ان سنی کرنے پر بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔ اسی لیے میں کچھ نہ کہہ کر خاموش رہا۔

بڑی بہو نے پوچھا ،’’ کچھ کہہ رہے تھے؟‘‘

’’ کافی پینے کا من کر رہا تھا۔‘‘

’’ اس وقت بنا لاؤں؟‘‘

’’ نہیں اب ضرورت نہیں۔‘‘

بڑی بہو کچھ دیر خاموش کھڑی رہی۔ پھر جانے کے لئے دروازے کی طرف مڑی۔ تبھی میں نے اس سے پوچھا، ’’ تمہاری ساس کیا دن بھر بہت مصروف تھیں؟‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ دن بھر میں اسے ایک بار بھی یہاں آنے کا وقت نہیں ملا۔‘‘

’’ ابھی بھیج دیتی ہوں۔‘‘

بڑی بہو چلی گئی۔ میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ روٹی چباتا رہا۔ کھاتے کھاتے کتنی ہی باتیں یاد آئیں۔ کافی سال پہلے کی باتیں۔ ان دنوں میں اور بڑھیا رات میں ایک ساتھ کھانے بیٹھتے تھے۔ کوئی بھی کسی سے پہلے اکیلے کھانا نہیں کھاتا تھا۔ ہم کھاتے ہوئے آپس میں باتیں کرتے۔ کتنی ہی باتیں۔ ان دنوں یہ مکان ایک منزلہ تھا۔ ان دنوں ہم ایک ہی کمرے میں رہتے تھے۔ اس کے بعد ہمارے بچے ہوئے۔ وہ بڑے ہونے لگے۔ ان کے لئے کمروں کی ضرورت پڑنے لگی۔ ا یک منزلہ مکان دو منزلہ ہوا۔ میں دو سری منزل پر رہنے لگا۔ بڑھیا پہلی منزل میں ہی رہ گئی۔ اوپر نہیں آئی۔ تب بھی ہم دونوں رات میں ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ اس کے بعد دونوں لڑکوں کی شادیاں ہوئیں۔ پھر کمرے کی ضرورت پڑی۔ اس بار بچوں کے لئے نہیں، میرے لئے۔ مجھے تیسری منزل کے کمرے میں جانا پڑا۔ بڑھیا پہلی منزل میں ہی رہ گئی۔ ہم لوگ اس کے بعد سے رات میں ایک ساتھ کھانا کھانے نہیں بیٹھتے تھے۔ اب سیڑھیاں اترنے میں تکلیف بھی ہوتی تھی۔ اتر جانے پر چڑھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ مجھے اس میں کافی تکلیف ہوتی تھی۔ میں ہانپنے لگتا تھا۔

کھا پی کر منہ ہاتھ دھو کر بڑھیا کا انتظار کرنے لگا۔ رات بڑھتی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بڑی بہو میرے کمرے میں آئی۔ اس نے خبر دی، ’’ ماں اس وقت آ نہیں پائیں گی۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ کھانا کھا رہی ہیں۔‘‘

میں نے پھر کچھ نہیں پوچھا۔ مجھے کچھ جاننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ بڑی بہو میز پونچھ کر تھالی گلاس لے کر چلی گئی۔

میں کچھ دیر خاموشی سے اکیلا بیٹھا رہا۔ اس کے بعد کمرے کے دروازے کی چٹخنی لگا دی۔ بتی بھی بجھا دی۔ سرہانے والی کھڑکی کھول کر لیٹ گیا۔ میری آنکھ لگ گئی۔ میری پلکیں موند گئیں۔

اچانک میری نیند ٹوٹ گئی۔ کوئی دروازے کی کنڈی زور سے بجا رہا تھا۔ میں نے ہڑبڑاتے ہوئے جاکر دروازہ کھولا۔ دیکھا اندھیرے میں بڑھیا اکیلی کھڑی تھی۔

اس وقت میں اسے کیا کہتا؟

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے