سر ورق / مضامین / عمران اینڈ کمپنی یتیم ہو گئی وسیم بن اشرف

عمران اینڈ کمپنی یتیم ہو گئی وسیم بن اشرف

عمران اینڈ کمپنی یتیم ہو گئی
وسیم بن اشرف
جاسوسی ناول نگار ی کا معتبر نام اور عمران سیریز کے سینکڑوں ناولوں کے خالق مظہر کلیم اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ان کی عمر 76برس تھی اور وہ ایک عرصہ سے علیل تھے ،مرحوم کی نماز جنازہ ملتان کی ابدالی مسجد میں اداکی گئی، جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی، مظہر کلیم نے ایم اے کے علاوہ قانون کی تعلیم بھی حاصل کی اور ناول نگاری کے علاوہ وہ قانون د ان بھی تھے ، ان کا اصل نام مظہر نواز خان تھا ،تاہم جاسوسی ادب انہوں نے مظہر کلیم ایم اے کے قلمی نام سے لکھا ، اپنے قلمی نام کے ساتھ ایم اے کا سابقہ انہوں نے ماسٹر ڈگری ہولڈر ہونے کے ناطہ سے جوڑا تھا ، ان کی شہرت کا باعث برسوں سے اپنے سحر میں جکڑ نے والے عمران سیریز کے ناول تھے ، جنہوں نے ان کی شہرت کو دوام بخشا ،عمران سیریز پران کی قلمکاری کو ان کے پیشروجاسوسی ادب کے بڑے نام ابن صفی کے بعد سب سے زیادہ مقبولیت ملی،انہوں نے ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کی ’عمران سیریز ‘ کو اپنے نئے کرداروں کے ذریعے متعارف کروایا تھا،مظہر کلیم 22 جولائی 1942ء کوملتان میں پیدا ہوئے اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے اور ایل ایل بی کیا۔اس کے بعد وہ ملتان بار کونسل کے نائب صدر بھی منتخب ہوئے ،مظہر کلیم ریڈیو ملتان کے مشہور سرائیکی ٹاک شو ’جمہور دی آواز‘ کے اینکر پرسن بھی رہے ۔مظہر کلیم کے 2 لڑکے اور 4 لڑکیاں ہیں۔ لیکن سب سے بڑا بیٹا فیصل جان 31 سال کی عمر میں وفات پاگیا اور دوسرا لڑکا فہد عثمان خان ایک بینک میں ملازم ہے۔، پیرانہ سالی کے باوجود وہ اپنے کرداروں کی طرح خود کو مضبوط و توانا رکھتے تھے ، تاہم چند برس پہلے ان کے ایک جواں سال صاحبزادے کی حادثاتی موت نے ان کی کمر توڑ دی ۔ مظہر کلیم کے انتقال کی خبر ان کے قارئین ،ادیبوں اور ادبی حلقوں کے لئے زلزلے کا جھٹکا ثابت ہوئی ، ماحول نے یکدم اداسی کی چادر او ڑھ لی ،حلقوں میں اداسی بکھیر گئی ،ملتان ٹی ہائوس کے جنرل سیکرٹری خالد مسعود خان ، جنرل سیکرٹری شاکر حسین شاکر ،شاعر و ادیب قمر رضا شہزاد رضی الدین رضی ، ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر وسیم ممتاز اور معروف براڈ کاسٹر آصف کھتران نے مظہر کلیم کی جاسوسی ادب میں خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جاسوسی ناول نگاری میں ان کے پیشرو ابن صفی کا طوطی بولتا تھا خاص کر عمران سیریز میں ابن صفی کے مقبول کرداروں کی دھوم مچی تھی ، مظہر کلیم کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ابن صفی کے انتقال کے بعد عمران سیریز کی پوری سیکرٹ سروس کو نئی شناخت عطا کی ، تاہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ مظہر کلیم کی وفات کے ساتھ عمران سیریز کے تمام تخلیقی کردار بھی دم توڑ گئے ہیں ، انہوں نے عمران سیریز کےجاسوسی تخلیقات کے پس منظر میں مظہر کلیم کی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے جس کونے میں بھی اردو پڑھی اور سمجھی جاتی ہے ، وہاں مظہر کلیم کی عمران سیریز کی گونج سنائی دیتی ہے ، انہوں نے کہا کہ شہرت پانے کے باوجود مظہر کلیم کی شخصیت کا خاصہ عاجزی اور انکساری تھی ، انکا طرز زندگی درویشانہ رہا اور گوشہ نشینی میں ہی وہ زندگی کے روز و شب گزار گئے۔ ۔مظہر کلیم بچوں کے ادب کا بھی ایک بڑا نام تھے، ان کے کردار چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو اور آنگلو بانگلو بچوں کے ادب کے درخشندہ ستارے ہیں۔ انہوں نے ہزاروں ناول لکھے،بچوں کے لئے لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ انہوں نے بچوں کے لئے داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوشربا کے کردار عمرو عیار پر بھی لکھا،ابن صفی کی عمران سیریز کے برعکس مظہر کلیم کی عمران سیریز میں پلاٹ کی پیچیدگی سے زیادہ مار دھاڑ پر زور دیا جاتا تھا، انہوں نے عمران کو ایک مافوق الفطرت ہیرو بنا کر پیش کیا ، جو ایک جینیئس ہے ، اور پیچیدہ سے پیچیدہ سائنسی مسئلہ چند لمحوں میں سلجھا کر بہت بڑے بڑے سائنسدانوں کو حیران کر دیتا ہے۔ ابن صفی کے کرداروں تنویر اور جوزف کو بھی مار دھاڑ کا شوقین دکھایا گیا ہے۔ مظہر کلیم نے چند نئے کردار جیسے جوانا، ٹائیگر، صالحہ اور کیپٹن شکیل وغیرہ بھی متعارف کرائے۔ بعد کے برسوں میں عمران سیریز میں روحانیت کا عنصر بھی شامل ہو گیا اور عمران کے مقابلے شیطان، اس کے پجاریوں اور جادوگروں سے بھی ہونے لگا، مظہر کلیم صاحب نے ملتان اسلامیہ ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی اور ایمرسن کالج سے بی اے کیا ا س کے بعد جامعہ زکریا سے اردو ادب میں ایم اے اور ایل ایل بی کیا ، ان کا شمار پاکستان کے کامیاب قانون دانوں میں ہوتا تھا لیکن ان کی وجہ شہرت معروف جاسوسی ناول عمران سیریز تھی۔ وہ طویل عرصے سے بیمار تھے ، عمران سیریز کے مصنف اور نامور ادیب مظہرکلیم کو فخر رہا کہ انہوں نے اپنی قلمکاری کے ذریعے بچوں کو سائنس فکشن کی طرف راغب کیا ،روز نامہ دنیا کی ملتان سے اشاعت اور مختلف ادبی نشستوں میں اظہار خیا ل کے موقع پر انہوں نےاپنی جاسوسی ادب نگاری کی مقصدیت کے بارے میں کہا کہ آج کےبچے کتاب سے دورہورہے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ بچے انٹرنیٹ اور ٹی وی کارٹونز کے باوجود ایک بارپھر کتاب کی طرف آئیں گے ،شرط یہ ہے کہ نئے لکھنے والے بچوں کے لیے جو بھی ادب تخلیق کریں اس میں جدید دور کے تقاضوں کو مدنظررکھا جائے وہ فخریہ کہا کرتے کہ میں نے بچوں کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ ناول لکھے اور انہیں روایتی کرداروں سے باہر نکالا۔مجھ سے پہلے بچے جنوں، پریوں کی کہانیاں پڑھتے تھے۔ میں عمران سیریز کے ذریعے انہیں جاسوسی کہانیوں کی طرف لایااوراس میں سبق یہ تھا کہ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔یہ کہانیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتی تھیں اوربچے شدت کے ساتھ نئی ناول کا انتظارکرتے تھے میری جاسوسی کہانیوں کے علاوہ سائنس فکشن بھی بچوں میں دلچسپی کاموضوع بنی۔میں نے آج سے کئی برس پہلے سائنس فکشن میں جن ایجادات کا ذکر کیاتھا وہ اُس زمانے میں کسی کے خوابوں خیال میں بھی نہیں تھیں۔لیکن آج یہ ایجادات اور ہلاکت خیز ہتھیار ہمارے سامنے استعمال ہورہے ہیں۔ایک بار انہوں نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ میں نے ہزاروں ناول لکھے لیکن آج میرے پاس ان میں سے ایک ناول بھی موجودنہیں۔ میں خود چاہتاہوں کہ میرے ناولوں کی کلیات شائع ہو لیکن یہ کام اب میرے لیے ممکن نہیں بلکہ ایسے کام ادارے کیا کرتے ہیں، میرے ناولوں کی ڈرامائی تشکیل یا فلم بندی اس لیے نہیں ہوسکی کہ میں لاہور یا کراچی جیسے مرکزی شہر میں نہیں رہتا۔میری ساری عمر ملتان میں گزری اور یہیں بیٹھ کر میں نے پوری دنیا میں اپنے ناولوں کے ذریعے بچوں میں مقبولیت حاصل کی۔ جاسوسی ادب عمران سیریز فیم ناول نگار مظہر کلیم کا پہلاناول’’ ماکا زونگا ‘‘تھا اور آخری ’’ ناول ایکشن ایجنسی‘‘ کے نام سے 29مارچ 2018ء کو منظر عام پر آیا ، عمران سیریز کے خالق ابن صفی کی رحلت کے بعد بہت سے ناول نگاروں نے اس مقبول سیریز میں اپنا نام بنانے کیلئے طبع آزمائی کی ، لیکن نام ،مقام ،سمان،شان ، شہرت اور بلندی صرف مظہر کلیم کے حصہ میں آئی ، عمران سیریز کے پس منظر میں شہرت پانے پر مظہر کلیم نازاں بھی تھے اور اس کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ میں نے صرف ابن صفی کی عمران سیریز کے کرداروں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نئے کردار بھی متعارف کرائے جو میری عمران سیریز کے قارئین میں مقبول بھی ہوئے ، ان کرداروں میں کیپٹن شکیل ،ٹائیگر ،جونانہ، صالحہ ،ناٹرن اور چیف سہگل شامل ہیں ۔
گورنرسندھ محمد زبیر نے ابن صفی کے بعد عمران سیریز کو دوام بخشنے والے معروف مصنف ، ناول نگار اور ادیب مظہر کلیم ایم اے کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ عمران سیریز کو پڑھنے والے لاکھوں افراد اپنے پسندیدہ قلم کار ، مصنف اور ادیب سے محروم ہوگئے ہیں لیکن مظہر کلیم ایم اے کی تحریریں ہمیشہ زندہ رہیں گی ، خصوصاً نا ول نگاری میں ان کی گراں قدر خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔ گورنرسندھ نے مرحوم کی مغفرت ،
درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال … خرم شہزاد

پبلیشرز کے جھوٹ اورکچھ سوال خرم شہزاد                 ’ارے بھائی صاحب اب کون کتابیں پڑھتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے