سر ورق / افسانہ / کامیابی۔۔۔ ام عمارہ

کامیابی۔۔۔ ام عمارہ

”کامیابی“ وہ انسان جو اپنے شعبے کے پہاڑ کی بلند ترین چوٹی پر پہنچا ہے۔۔اُس نے اپنے راستے میں آنے والے ہر پتھر کو چوم کر خراشیں قبول کیں ہیں۔۔۔۔پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ وہ قسمت کا دھنی تھا۔۔۔حقیقت میں یہ فقرہ کسی گالی سے کم نہیں ہوتا۔۔۔ کامیاب بننے کے لیے ناکامیوں اور الجھنوں کی تمام سرحدیں پار کرنی پڑتی ہیں۔۔۔ حقیقت میں انسان کی کامیابی کا حصار وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں وہ درد کو سہنا اور کامیابی تک سہنےکا فیصلہ کر لیتا ہے۔۔۔۔ آگے بڑھنے کے لیے زیادہ کچھ درکار نہیں ہوتا صرف فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔اور پھر لاکھ طوفاں ہوں۔۔۔۔اُس فیصلے سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹنا ہی کامیابی ہے۔۔۔ ”میں ایک عمدہ انسان کو ایک عمدہ قلم سے تشبیع دیتی ہوں۔۔اس لیے نہیں کہ یہ عمدہ لکھتی ہے۔اِس لیے کہ یہ بہتر لکھنے کے لیے بار بار تراشے جانے کے عمل سے نہیں گھبراتی۔۔“۔۔۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے۔۔۔ ۔۔۔۔”درد عارضی ہوتا ہے اور کردار مستقل“ آپکا کردار آپکو ڈیفاٸن کرتا ہے۔۔۔ ۔۔”ہمت شدت سے اپنی صلاحیتوں پر یقین کا نام ہے۔۔“میرا ماننا ہے کہ اپنی منزل کی تصویرکشی کے لیے انسان کو یقین جیسے مضبوط قلم کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔ایک مصنف جِسے اپنے قلم پر یقین نہیں وہ کبھی بھی کچھ نہیں لِکھ سکتا۔۔ایک ساٸنسدان جِسے خود پر اعتماد نہیں وہ کبھی بھی کچھ اعجاد نہیں کرسکتا۔۔اِسطرح ایک تحقیق دان جِسے خود پر بھروسہ نہیں وہ کبھی بھی کچھ دریافت نہیں کر سکتا۔۔۔اِنسان کی سب سے بڑی کامیابی خود کو خود تک محدود رکھنا ہے۔۔آپ کسی بھی کامیاب انسان کی مثال لے لیں وہ پہلے پہل اپنی ذات کو اپنی منزل سے آشنا کرواتا ہے۔اور پھر اُس کے حصول کے لیے جان وار دیتا ہے۔۔ آگے بڑھنے کی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔اِس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جاۓ ۔مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔۔۔۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے اُلجھے بغیر خود کو کامیاب بنانے پر توجہ دی جاۓ۔۔۔۔ دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا ،ترقی کا صیح طریقہ ہے۔۔یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔۔۔ مسٸلہ یہ ہے کہ ہم اپنی قابلیت کو ترجیح دینے کی بجاۓ اپنی قابلیت پر خود ہی شک کرتے ہیں۔۔اور یہی شک ہمیں پستی کی طرف دھکیلنے میں ذرا سی دیرنہیں لیتا۔۔۔۔دُنیا کے اگر کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جاۓ تو معلوم ہوگا کہ اُنھوں نے زندگی کی الجھنوں کا بڑے حوصلے سے سامنا کیا ہے۔۔کامیاب لوگ ہمت نہیں ہارا کرتے بلکہ وہ اُنہی چیزوں کا سامنا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جن سے اُنہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔وہ ناہموار راستے کو ہموار کرکے ہی کامیاب منزل کے کامیاب مسافر بن جاتے ہیں۔۔۔”جو خوددار انسان عمل میں پکا اور تجربہ کار ہوتا ہے۔۔زمانہ خود اِس کے مزاج کے مطابق چلتا ہے۔۔۔“ زندگی تخلیق کرتی ہے اور اپنے تخلیقی مراحل میں تحلیل بھی ہوتی رہتی ہے۔۔اِس طرح زندگی ہونے اور نا ہونے کے درمیان ہی رہتی ہے۔۔یہ انسان پر مضمر ہے کہ وہ ہونے کو ترجیح دیتا ہے یا پھر نا ہونے کو۔۔۔ انسان کو کبھی بھی کسی بھی حالت میں ہار نہیں ماننی چاہیے۔۔۔کیونکہ بعض و اوقات ہماری منزل ۔۔۔ہماری اپنی ذات سے جنگ تک دور ہوتی ہے۔۔ تحریر ۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے