سر ورق / کہانی / عشوقہ۔۔۔ یاسین صدیق

عشوقہ۔۔۔ یاسین صدیق

چونکا دینے والے انجام کی ہمارے معاشرے کی تلخ سچ بیانی۔

عشوقہ!

 یاسین صد یق

اس کہانی کی ابتدا ایک شادی سے ہوئی تھی ۔کاش میں محمد لطیف کی شادی میں شرکت کے لیے شمس آباد نہ گیاہوتا۔محمدلطیف میری خالہ زینب کے جیٹھ محمد الیاس کا بیٹا تھا ۔ہمارے خاندان کے ان سے کوئی خاص تعلقات نہ تھے ۔میرے والد ان کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ اس کی وجہ ان کی جاگیردانہ رعونت اورتکبرتھا ۔خالہ زینب نے امی جان کو پیغام بھیجا۔

”میرے سسرال کیا کہیں گے کہ تمہارے خاندان سے کوئی بھی شادی میں نہیں آیا ۔میری بڑی سبکی ہوگی “

امی نے ابو کو مجبور کیا اور میں نے ساتھ جانے کے لیے امی ابو دونوں کو۔اس طرح ہم ماں بیٹے کاخانیوال کے ایک قریبی گاوں شمس آباد میں جانا ہوا ۔ شمس آباد کا نام محمد الیاس کے والد شمس دین کی وفات کے بعد اس کے نام پر رکھا گیا تھا ۔جو اس علاقے کے بااثر زمیندار تھے ۔میں ان دنوں کلاس پنجم کا نالائق طالب علم تھا۔ میری عمرقریباً دس سال تھی ۔یہ اتنی عمر نہ تھی، لیکن میں نے یہ بات جلد محسوس کر لی کہ خالہ زینب کی نندشمیم ،جیٹھانی رقیہ وغیرہ بات بے بات پر امی کو طنز کا نشا نہ بناتی تھیں ۔خود کو بہت اعلی خیال کرتی تھیں ۔کسی حد تک ان کی ہاں میں ہاں خالہ جان بھی ملا رہی تھیں ۔اس کی وجوہات کا مجھے جلد ہی علم ہو گیا ۔ ہمارا خاندان مالی حیثیت میں ان سے کم تر تھا ۔ چودھری محمد الیاس ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن میں کھڑا ہوا تھا اور ہار گیا تھا ۔لیکن معاشرے میں اس کا اثر و رسوخ اورشان و شوکت تھی ۔خالہ کا خاوند چودھری سلیم زمیندار تھا ۔دو مربع زمین تو ان کی اپنی تھی جن میں سے آ دھی زمین میں باغات تھے ۔

انکل سلیم سے چھوٹا بھائی کلیم چھوٹا چودھری کہلاتا تھا ۔اس کا اٹھنا بیٹھنا ہر طرح کے لوگوں سے تھا ۔میں نے پہلی بار اسے چند پولیس والوں کے ساتھ دیکھا تھا جو اس شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے ۔میرے ابو ایک سکول ٹیچر تھے ۔ہم سیالکوٹ کے ایک گاوں میں رہتے تھے اور جس مکان میں رہتے تھے صرف وہی اپنا تھا ۔یہ ہی وجہ تھی جب چودھری الیاس کی بیوی رقیہ بی بی نے امی سے کہا۔

” اکمل کیا کماتاہو گا ایک سکول ٹیچر روٹی پوری کرنے سے بڑھ کر کیا کما سکتا ہے ۔“

امی نے کہا تھا ”اللہ کا شکرہے بھوکے کبھی نہیں سوئے “

خالہ نے لقمہ دیا ۔” اللہ کا کرم تو ہم پر ہے ۔ اللہ نے سب کچھ دیا ہے ۔سلیم نے اس شادی پر میرے لیے دس سوٹ سلوائے اور زیور کا یہ دیکھو نیا سیٹ لے کر دیا ہے ۔“

اس نے باقاعدہ اپنے زیور دکھاتے ہوئے کہا تھا ۔امی جان خاموش رہیں تو آنٹی شمیم رعونت زدہ لہجے میں بولیں۔

” زبیدہ بے چاری نے ایسا سیٹ کہاں پہنا ہو گا ۔شائد دیکھا بھی پہلی بار ہو ۔اللہ نے ایک بہن ہم جیسے کھاتے پیتے گھرانے میں بھیج دی، اور دوسری ۔۔بس کیا کہیں اپنے اپنے نصیب کی بات ہے ۔“

امی سے اب چپ نہ رہا گیا ۔وہ مدبرانہ اندازمیں بولیں۔

”میرے نصیب کو کیا ہوا؟ میں اپنے گھر میں خوش ہوں ۔اللہ کادیاسب کچھ ہے ۔اولادہے ،سکون ہے ۔دووقت کی عزت سے مل رہی ہے ،اورانسان کوچاہیے بھی کیا،یہاں کاسب کچھ یہیں رہ جاناہے ۔“امی کے ایسا کہنے پروہ چپ سی ہوگئیں۔ایسی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔امی اکثر خاموش رہتی۔اس دن میں نے سوچا تھا ”کیا اللہ کا کرم ہم پر نہیں ہے ؟“

میں نے محسوس کیا امی شادی پر آ تو گئیں ہیں لیکن اندر سے خوش نہیں ہیں ۔ایسے ہی دو دن گزر گئے ۔ تیسرے دن بارات لے کر فیصل آباد کے ایک گاوں میںگئے ۔دو بسیں اور درجنوں کاروں پر بارات گئی۔ میں دولہا کے ساتھ ساتھ تھا ۔امی نے مجھے سب سے بہترین سوٹ بنواکردیاتھا ۔قد میں لطیف بھائی مجھ سے چند انچ ہی زیادہ ہوگا ۔لیکن عمر میں پندرہ سال بڑا تھا۔شام کو ہم دلہن لے کر واپس آگئے ۔رات گئے دلہن کی منہ دکھائی کی رسم ہوئی جب میں نے پہلی بار دلہن دیکھی تھی ۔دلہن اور دلہا دونوں صوفوں پر بیٹھے تھے خاندان کی عورتیں اور مرد ایک ایک دو دو کر کے آتے تھے ان کے ساتھ بیٹھتے ان کو منہ دکھائی کے لیے پیسے دیتے اور اٹھ جاتے ۔میں عین دلہن کے سامنے کھڑا یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا ۔میں نے اتنی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔مجھے وہ ایک پری ہی لگی تھی ۔اس کے دلگداز لب و رخسار ،کشادہ پیشانی ،گول چہرہ ،غزالی آنکھیں ،لمبے سیاہ بال،میں محویت سے اسے دیکھتا رہا ۔اس کی صورت میرے دل کے نہاں خانوں میں اترتی چلی گی،عورت اور زیورت ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ ہی سے لازم وملزوم رہے ہیں،زیور کے بغیر عورت ادھوری سی لگتی ہے ۔ اس کے پورے جسم پر زیور ہی زیور تھے اور وہ تو خود بھی تونایاب وانمول زیور تھی ۔

اس کے سر پر ٹیکہ،جھومر اورماتھے پر ایک پٹی تھی ۔ناک میں نتھ ،کانوں میں بالیاں،گلے میں سات لڑا گلوبند،ہاتھوں میں چوڑیاں ،انگوٹھیاں جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نفاست کا تاثر بھی دیتی تھیں ۔

اس کی جھکی جھکی پرکشش آنکھیں میری آنکھوں میں بس گئیں۔

اس لمحے کسی کو علم نہیں تھا کہ دلہن کے سامنے جو ایک دس سال کا بچہ کھڑا اسے والہانہ انداز سے دیکھ رہا ہے ۔ وہ مستقبل میں طوفان اٹھا دے گا ۔مجھے نہیں معلوم کتنی دیر یہ تقریب جاری رہی جب دلہن اور دولہا اٹھ کر جانے لگے تو میں جیسے خواب سے بیدار ہوا ۔اب تک میں جیسے کہیں پریوں کے دیس میں رہا تھا ۔پھر ایک زندگی بدل دینے والا واقعہ ہوا ۔میں مچل گیا کہ ”میں نے دلہن سے شادی کرنی ہے “سب اس پر ہنس دیئے ۔میں نے جب محسوس کیا کہ کوئی میری بات کو اہمیت نہیں دے رہا تو زور سے رونا شروع کر دیا ۔دلہن اور دلہا اپنے کمرے میں جا چکے تھے ۔جب میری ضد سے مجبور ہو کر خالہ زینب نے آنٹی شمیم کے ہمراہ مجھے اس کمرے میں بھیج دیا ۔آنٹی شمیم میرا بازو پکڑکے لائی اور دلہن کے نزدیک بٹھا دیا ،اور اسے استہزائیہ اندازمیں بتایا کہ ”شہباز تم سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔“

اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔دولہا نے مجھے اپنے پاس بٹھایا ۔تب دلہن نے مجھے دیکھا ۔اس کی مسکراہٹ اور دیکھنے کا انداز مجھے سرتاپا سرشار کر گیا ۔میں وہاں کافی دیر بیٹھا رہا ۔پھر امی بہلا پھسلا کر وہاں سے لے آئی تھی ۔لطیف بھائی کا سب سے چھوٹا بھائی شا ہ زیب اور میری خالہ زینب کی بیٹی کلثوم میری ہی عمر کے تھے ۔ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے دن گزرتے رہے ۔ہم دلہن کے آگے پیچھے رہتے ۔شائد ان کو بھی میری طرح دلہن بہت پسند آئی تھی ۔ہم مزیدتین دن وہاں رہ کر واپس اپنے گاوں آگئے تھے۔

 ؟ ؟ ؟

دوسرے دن اکتیس مارچ رزلٹ کادن تھا ۔میں پانچویں کلاس سے پاس ہو گیا تھا ۔مجھے مڈل سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔یہ سکول دوسرے گاوں میں تھا۔اسی سکول میں میرے ابو پڑھایا کرتے تھے اب میں اور ابو ایک ساتھ گھر سے نکلتے اور ایک ساتھ واپس آتے ۔ شمس آباد سے واپسی کے بعد مجھے چپ لگ گئی تھی ۔اس کی وجہ کا مجھے علم نہیں تھا ۔یہ ایک حقیقت تھی کہ مجھے شاذیہ بہت اچھی لگی تھی ۔میں اسے دیکھنا چاہتا تھا ۔اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا ۔لیکن تب میری عمر ایسی نہیں تھی جس میں شیطانی سوچ کا عمل دخل ہوتا ۔میری اس محبت میں پاکیزگی تھی ۔بچوں کی شفاف سوچ جیسی سچائی تھی۔کوئی منفی پہلوکارفرمانہیں تھا۔میں جب بھی اکیلا ہوتا اسے سوچا کرتا ۔اس کے خیالوں میں مگن ہو جاتا ۔مجھے اپنے ارد گرد کا ہوش نہ رہتا ۔رفتہ رفتہ ایسا ہونے لگا کہ میں اس کے تصور سے باتیں کرنے لگا ۔دل کی ساری باتیں اس سے کرتا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عادت بنتی چلی گئی ۔اب میں تنہا ہوتا لیکن تنہا نہیں ہوتا تھا ۔اس تصور میں پختگی آتی چلی گئی ۔وقت گزرتا چلا گیا ۔میں نے مڈل کر لیا ۔اس دوران مجھے بعض دفعہ خالہ زینب ،آنٹی رقیہ کی باتیں بھی یاد آتیں ۔طبقاتی تقسیم اوراورسٹیٹس کاامتیازاحساس کوکچوکے لگاتاتھا۔ان کی وہ طنزبھری باتیں اورمسموم لہجے ذہن کی غلام گردشوں میں گردش کرتے رہتے تھے ۔ رفتہ رفتہ ان کی باتیں توذہن سے محوہونے لگیں ,لیکن ان کے چشمِ تحقیرکاانداز۔زہرمیں بجھے ہوئے لفظ لوح دل پرثبت ہوکررہ گئے تھے ۔وہ کیسے چبا چبا کر باتیں کرتی تھیں۔اپنی امارت کے قصیدے پڑھتی تھیں ۔

مجھے جماعت نہم میں داخلے کے لیے شہر کے سکول میں داخلہ لینا پڑا ۔شہرسیالکوٹ ہمارے گاوں سے زیادہ دورنہیں تھا تاہم اس کے لیے بس پر جانا پڑتا تھا ۔ہم گاوں کے لڑکے اور لڑکیاں بس سٹاپ پر آتے ،اورکسی نا کسی بس پر سوار ہو کر سکول جایا کرتے ۔گاوں سے باہر کی ہوا لگی ۔ تو دنیا وسیع نظر آنے لگی ۔ سکول سے بھاگ کر ان دنوں میں نے چند دوستوں کے ساتھ پہلی بار فلمیں دیکھیں ۔شہر میں میرے بہت سے دوست بنے صابر،یاسین ،جہانگیر،عبد الغفور وغیرہ ۔ صابر کے رشتہ دار خانیوال شہر میں تھے ۔اس لیے اس سے میری دوستی گہری ہوتی چلی گئی ۔اس دن ہم ایک مزار پر گئے تھے ۔سب نے اپنی اپنی منتیں مانگیں ۔میٹرک کے امتحانات سر پر تھے ۔صابر اور جہانگیر نے پاس ہونے کی جبکہ میں نے شاذیہ سے ملاقات کی دعامانگی تھی۔

اس دن پہلی مرتبہ میں نے صابرکو شاذیہ کے بار ے میں بتایا ۔ اس نے میری مکمل کہانی غور سے سنی تھی ۔میرا مقصد یہ تھا کہ وہ میرے ساتھ خانیوال جائے ۔ کیونکہ اس کے رشتے دار وہاں رہتے تھے ۔اور شمس آباد خانیوال سے تھوڑی ہی دور تھا ۔ہم دونوں مزار سے واپس پیدل ہی آ رہے تھے ۔میں نے پرامیدلہجے میں کہا-’

’ خانیوال میں میٹرک کے امتحانات کے بعد جائیں گے ۔تم بھی ساتھ چلو اپنے رشتہ داروں سے مل آنا ۔“

”میرے ماموں تو شہر میں ہی رہتے ہیں ۔میں تیرے ساتھ شمس آباد کیا کرنے جاوں گا؟“اس کی چہرے پر الجھن تھی۔

”مجھے تیری ضرورت ہے ۔دوستی کا امتحان ہے “میں نے گویاالتجاکی۔

”میں سمجھا نہیں تم کیا کہ رہے ہو “

اس نے الجھن زدہ لہجے میں کہا۔

”میں شاذیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔اسے وہاں سے بھگا کر لے جاوں گا۔اس میں تم میری مدد کرو۔“

میں نے جھجھکتے ہوئے کہہ دیا۔

” بے غیرت ۔تمہیں شرم نہیں آتی“ وہ غصیلے اندازمیں بولا۔”وہ ایک شادی شدہ عورت ہے ۔اس کاشوہر،گھر،بچے اورذمے داریاں ہیں،اوروہ اتناکچھ تمہارے لیے کیوں چھوڑے گی۔ہوش کے ناخن لو۔“

میں خاموش رہا ۔اس بات کا کیا جواب دیتا ۔جس تن لاگے سو تن جانے ۔تھوڑی دیر بعد میں نے کمزورسی دلیل دی ۔

”محبت کاشادی سے کیاتعلق ۔۔۔میں اس سے محبت کرتاہوں ،اورشایدوہ بھی ۔“

”اپنے دل سے اس کی محبت نکال دو “اب وہ قدرے نرم لہجے میں بولا۔”اگراس سے سچی محبت کرتے ہوتواسے بھول جاو ¿،ورنہ اس کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔وہ اپنے شوہراورمعاشرے کی نظروں سے گرجائے گی۔“

”جو حالات کو اپنی خواہش کے مطابق نہ ڈھال سکے وہ مرد نہیں ہوتا ۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے ۔شادی کروں گا تو صرف شاذیہ سے “ میں نے حتمی لہجے میں اسے اپنا فیصلہ سنایا ۔

”یعنی وہ تمہاری خاطراپنے شوہرسے طلاق لے گی“وہ درشت لہجے میں کہہ رہاتھا۔”بچوں کوچھوڑے گی،اورتم سے شادی کرے گی۔تمہاری محبت کی خاطر،وہ محبت۔۔۔جوابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ اسے تم سے ہے بھی یانہیں۔“

اس کی بات سن کر میرے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا تھا ۔یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اسے مجھ سے محبت ہے یا نہیں ہے ۔میں نے بکھرے ہوئے لہجے میں کہا۔

”شادی شدہ سے عشق کرنا بے غیرتی اور کنواری سے عشق کرنا ثواب کا کام ہے ۔شادی شدہ نہ ہوتی تو کیا عشق جائز ہوجاتا ؟“

”تم کرنا کیا چاہتے ہو“آخر اس نے پوچھ ہی لیا۔

”میں اسے بھگا کر لے جاوں گا ۔راضی خوشی نہ گئی تو اغوا کر لوں گا ۔میں اس کے بغیرنہیں رہ سکتا “

”تم تو پاگل ہو“

”ہاں میں پاگل ہوں “وہ چند ثانیے شش و پنج کے عالم میں مجھے دیکھتا رہا،پھربولا

”ٹھیک ہے میں خانیوال تک تیرے ساتھ جاوں گا آگے تم خود چلے جانا “ اتنی دیر میں ہم بس اسٹینڈ تک پہنچ گئے تھے ۔میری بس آئی تو میں اس میں بیٹھ گیا ۔اس کا گھر دوسری طرف تھا ۔اسے دوسری بس میں جانا تھا ۔

اس بات کو تو کہنے کی کوئی ضرورت نہیں فلموں نے اور شہر کے ماحول نے میرے اندر کیا کیا تبدیلیاں کیں ۔اب میں شاذیہ کو حاصل کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی محبت کا ذکر کسی سے نہیں کروں گا ۔ورنہ سب ایسی ہی باتیں کریں گے جیسے ابھی صابرنے کی تھیں ۔ہمارے گھررشتے دار آتے جاتے رہتے تھے ۔خبریں ملتی رہتی تھیں ۔اس بات کا بھی علم ہوا کہ شاذیہ ماں بن چکی تھی۔ اس کی ایک بیٹی تھی میں نے دل کو ٹٹولا لیکن اس کی محبت ویسی ہی تھی ۔چودھری الیاس نے سیاسی پارٹی بدل لی تھی۔اس کا اعلان تو اخبارات میں بھی شائع ہوا تھا ۔خالہ زینب اس دوران دو بار ہمارے گھر آئی تھی ۔میں نے خالہ زاد کلثوم سے دلہن شاذیہ کے متعلق ڈھیروں سوال کیے تھے ۔ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم بہن بھائی امی کے میکے جاتے ۔ وہاں انہی دنوں خالہ زینب آئی ہوتی تھی ۔اس لیے شازیہ کا ذکر کسی نا کسی طرح ہو ہی جاتا ۔میں نے میٹرک کے پیپرز دئیے اور شمس آباد جانے کا پروگرام بنا لیا ۔صابر کو اطلاع دی ۔وہ ہمارے گھر آیا ۔ہم نے مل کر امی کو راضی کیا جس نے ابو سے اجازت لینے میں مدد کی ،اوریوں ہم خانیوال پہنچ گئے ۔مجھے صابرکا ایک کزن عمران موٹر سائیکل پر شمس آباد چھوڑ گیا تھا۔صابر شہر میں اپنے رشتے داروں کے گھر ہی رک گیاتھا۔جسے واپسی پر میں نے ساتھ لینا تھا ۔

 ؟ ؟ ؟

مجھے شمس آباد میں چوتھا دن تھا۔یہاں آنے کا مقصد محض شازیہ سے دل کی باتیںکرنا تھی ۔میں مسلسل اس کوشش میں تھا ۔مجھے شازیہ سے تنہائی میں دل کی بات کہنے کاموقع نہیں مل رہاتھا۔ویسے تو اس سے اب تک دوسرے فیملی ممبران کی موجودگی میں ڈھیروں باتیں ہو چکی تھیں ۔میں نے باتوں باتوں میں اس سے بہت کچھ پوچھ لیاتھا۔اس کی امی ابو اس کے بھائیوں ،بہنوں گھر کا ایڈریس ،پسند نا پسند وغیر ہ لیکن دل کی بات دل میں لیے پھرتا تھا ۔میں جو شاذیہ سے کہنا چاہتا تھا ۔مجھے احساس تھا کہ یہ بات انتہائی نامناسب تھی ۔ ایک شادی شدہ عورت جو کہ عمر میں دس سال بڑی بھی ہو اس سے اظہار عشق کرنا ۔ سب گھر کی خواتین خاص کر خالہ زینب اور آنٹی شمیم اس بات کو جانتی تھیں ،کہ پہلے دن سے ہی میں شاذیہ کو پسند کرتا تھا ۔

اس کا ذکر میرے سامنے ہی شاذیہ سے کر کے ہمارا مذاق بھی اڑایا گیا ،کہ چھ سال قبل اس کی شادی پر میں اسے دیکھ کر کیسے مچل گیا تھا۔ میں نے کیسے رو رو کر کہا تھا۔” میں بھی دلہن سے شادی کروں گا “

اور اس کے بعد مجھے بڑی مشکل سے سمجھا یا گیا تھا ۔شاذیہ کو بھی یہ سب یاد تھا اس نے بھی مجھے گود میں بٹھا یا تھا پیار کیا تھا ۔میرے گال چومے تھے ۔سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔اب میں بچہ نہیں رہا تھا ۔وہ دیکھتی تو نظریں جھکا لیتی ۔ میری آنکھوں میں ایسا کچھ ہوتا ہو گا جسے اس کی نسوانی حس محسوس کرتی ہو گئی ۔اکیلے میں وہ کترا کر گزر جاتی ۔

شاذیہ چوکھٹ پر اکڑوں بیٹھی ہوئی تھی ۔اس کی ایک سال کی بیٹی پاس ہی بیٹھی تھی ۔وہ نہایت انہماک سے چاول صاف کررہی تھی۔میں اس کے پاس جا کربیٹھ گیا۔”مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے “ میںنے ہمت مجتمع کرکے کہا۔”کہو“اس نے بے خیالی سے کہا۔

”پھر کہوں گا ابھی تمہارے پتی آ گئے ہیں۔“میں نے گیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جہاں سے لطیف آ رہا تھا ۔اس نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا لیکن خاموش رہی ۔اس وقت تک لطیف ہمارے پاس پہنچ گیا تھا۔ میں نے ننھی زرقا کو اٹھایا ہوا تھا ۔وہ تھوڑی دیر گھر بیٹھے انہوں نے ڈیرے پر جانا تھامجھے کہنے لگے ۔”شہباز آو میرے ساتھ ڈیرے سے سبزی لے آنا “

اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چل پڑا ۔وہاں سے شام کو واپسی ہوئی۔ میں کافی سبزی لے آیا تھا ۔ شاہ زیب اب میرا بہت اچھا دوست بن چکا تھا ۔ہم دن رات ایک ساتھ ہی رہتے شاہ زیب نے مجھے اپنے دوستو سے ملایا ۔میں نے محسوس کیا کہ کلثوم مجھے عجیب سے نظروں سے دیکھتی ہے ، اور بہانے بہانے سے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔میں اسے نظر انداز کرتا رہا ۔

پانچویں دن مجھے موقع مل ہی گیا ۔ بیٹھک میں چودھری کلیم تھا ۔اس کے دو چار دوست آئے ہوئے تھے ۔چھوٹے بچے سکول گئے ہوئے تھے ۔خالہ زینب ،آنٹی شمیم اوررقیہ بازار گئی تھیں ۔شاہ زیب ان کے ساتھ ہی تھا ۔مجھے بھی اس نے کہا تھا،لیکن میں نے جانے سے انکار کر دیا تھا ۔گھر میں اکیلی شاذیہ تھی ۔دن کے دس بج رہے تھے ۔

اسے اکیلا پا کر میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا ۔وہ مہمانوں کے لیے چائے بنا رہی تھی ۔اس کے گھنے سیاہ بال کمر سے نیچے تک ،سرخ رنگت ،اور وہ آنکھیں جن کو آنکھوں میں بسائے صدیاں گزر گئی تھیں ۔میں زرقا کو لیے بیٹھا تھا ۔ نکھری نکھری وہ مسکراتی تو ساری کائنات مسکراتی ہوئی محسوس ہوتی ۔باتوں باتوں میں میں نے پوچھا۔

” آپ کو علم ہے میں یہاں کیوں آیا ہوں “

”ہم سے ملنے کے لیے اور کس لیے ؟ تم کو سکول سے چھٹیاں جوہیں “اس نے دزدیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”اور کسی سے نہیں صرف آپ سے ملنے آیا ہوں “میں نے آہستگی سے کہا-

” صرف مجھ سے ہی کیوں“؟وہ مجھے گھورتے ہوئے بولی۔

”آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں میں ہمیشہ آپ کو یاد کرتا ہوں “میں نے دھڑکتے دل سے دل کی بات کہی ۔

” میں نے تو کبھی تم کو یاد نہیں کیا “وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔

” لیکن میں تو ہر لمحہ یا د کرتا ہوں ۔آپ سے محبت کرتا ہوں،اور آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں “

” مجھ سے شادی “؟وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔ہنستے ہوئے اس کی گالوں میں گڑھے پڑھ رہے تھے ۔”میری تو شادی ہو چکی ہے -“

” میں آپ کے بناں نہیں رہ سکتا ۔میں کیسے بتاوں کہ آپ میرے لیے کیا ہو ۔جان سے بڑھ کر ہو ۔میں ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے ۔بس اتنا کہہ دو آپ بھی مجھے پسند کرتی ہو ۔میں اس چاہت میں زندگی گزار دوں گا “میں نے التجا آمیز لہجے میں کہا۔

”شہباز ۔چائے جلدی لے آو یار“انکل کلیم کی آواز آئی ۔وہ صحن میں کھڑے تھے ۔میں باورچی خانے سے باہر نکلا انہیں بتایا کہ ”ابھی چائے بن رہی ہے ابھی لاتا ہوں “ میں نے زرقا کو اٹھایا ہوا تھا ۔میں واپس باورچی خانے میں آیا ۔

” تم سمجھتے کیوں نہیں ۔میں تم سے بڑی ہوں اور شادی شدہ ہوں ۔اور ایک بچی کی ماں بھی ہوں “

شاذیہ نے آگے بڑھ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ایسے پچکارا جیسے بچے کو بہلایا جاتا ہے ۔میں نے جذبات سے کاپنتے ہوئے کہا۔

” روز اتنے لوگ مر جاتے ہیں ایک دن لطیف مر جائے گا ۔میں اس دن کا انتظار کروں گا “

نہ جانے کیسے یہ بات میرے منہ سے نکل گئی اور اس کے بعد جو ہوا اس کی مجھے توقع نہیں تھی ۔شاذیہ کا ایک تھپڑ میرے گال پر پڑا ۔اس کی آنکھوں میں سرخی آ گئی ۔وہ مجھے گالیاں دینے لگی ۔

” بے غیرت ،کمینے میں تم کو بچہ سمجھ کر سمجھا رہی ہوں ۔۔اور ۔۔تم میرے مجازی خدا کے بارے ایسی بات کرتا ہے ۔منحوس “

اس کے ساتھ ہی وہ رونے لگی ۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ اچانک اس کو کیا ہوگیا تھا ۔وہ روتی جاتی تھی اور مجھے ماررہی تھی ۔گزشتہ چار دن سے اس کا رویہ میرے ساتھ اتنا اچھا تھا ۔اور اب بھی چند لمحے قبل اتنی میٹھی میٹھی باتیں کر رہی تھی ۔میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا ۔ہمارے قریب کوئی نہیں تھا ۔ اچانک وہ خاموش ہو گئی ۔مجھے غور سے دیکھا اور بولی ۔

”میں تمہاری منت کرتی ہوں ۔یہاں سے چلے جاو اور زندگی میں کبھی ادھر نہ آنا ،ورنہ بے موت مارے جاو ¿گے ۔تمہیں معلوم نہیں یہ کتنے ظالم ہیں “

ایک لمحے کیلئے وہ خاموش ہوئی ۔میں اس کا بدلتا روپ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا ۔وہ پھر بولی۔”شہباز تم چلے جاو ¿۔ میں تم سے بڑی ہوں۔میری شادی ہو چکی ہے ۔مجھے بھول جاو۔پھر کبھی ادھر نہ آنا “

میں یک ٹک اسے دیکھتا رہا ۔میری آنکھیں بھر آئیں تھیں ۔میں نے صرف اتنا کہا ۔

” بھول جانا کب اپنے بس میں ہوتا ہے“ ۔وہ حیران نظروں سے مجھے دیکھتی رہی ۔میرے لیے اتنا کافی تھا کہ اسے اپنی محبت کا ،چاہت کا یقین دلا چکا تھا ۔ اپنی آنکھوں کو صاف کیا ۔چائے کے برتن اٹھائے اور بیٹھک میں آ گیا ۔

دوسرے دن میں اور یاسین واپس آگئے تھے ۔مجھے بس اسٹینڈ تک شاہ زیب چھوڑنے آیا تھا ۔ان پانچ دنوں میں وہ میرا اچھا دوست بن چکا تھا ۔ایک تو میرا کلاس فیلو تھا ،ہم عمر تھا ،ہمارے بہت سے شوق بھی ملتے جلتے تھے ۔ان چند دنوں میں میں نے محسوس کیا کہ انکل سلیم تو سیدھے سادے ہیں ۔اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ۔لیکن کلیم ہر کسی کے کام میں ٹانگ اڑاتا ہے ۔پورا شمس آباد اس سے نالاں ہے ۔اس کے لہجے میں رعونت اورخودپسندی ہوتی ۔وہ اکٹر کر چلتاتھا ۔کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا ۔نہ ہی اس کی شادی ہوئی تھی ۔حالانکہ عمر بتیس سال سے زیادہ تھی ۔

 ؟ ؟ ؟

مطلوبہ مکان کے دروازے پر پہنچ کر میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے کے ساتھ دستک دی ۔ تھوڑی دیر بعدایک دس سال کے بچے نے دروازہ کھولا ۔”جی کس سے ملنا ہے ۔؟ “میں نے جواب دینے کی بجائے سوال کیا ۔

”کیایہ گھر سرفراز کا ہی ہے ؟۔ “سرفراز شاذیہ کے بڑے بھائی کا نام تھا۔بچے نے جواب دیا ”ابو تو گھر میں نہیں ہیں ۔“اس کا مطلب تھا یہ سرفراز کا ہی گھر تھا ۔”تمھاری امی اور پھوپھو شاذیہ گھر میں ہیں؟ ۔“ میرے استفسارپربچے نے اقرار میں سر ہلایا۔

”انہیں کہو شہباز آیا ہے “یہ سن کر وہ اندر غائب ہو گیا ۔

 میں سراپا انتظار بن گیا ۔کافی دیر گزر گی۔ میں بلاارادہ ٹہلنے لگا ۔طبیعت میں اضطراب فزوں ترہورہاتھا۔دل گھبرانے رہاتھا۔

”نہ جانے کیا ہوگا ؟۔مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا ۔

میں سوچنے لگا۔”اب شاذیہ اپنی بھابھی سے میرے آنے کی کیا وضاحت کرے گی ؟۔ اور میں کیا بہانہ کروں گا؟۔“

اب تک تو میں جنون میں سوچے سمجھے بغیریہاں چلا آیا تھا ۔میرے دل ودماغ میں صرف شاذیہ سے ملنے کی دھن سوار تھی۔

اسے دیکھے ہوئے تین ماہ گزر گئے تھے ۔یہ تین ماہ میں نے بڑی مشکل سے گزارے تھے ۔مجھے رہ رہ کر شاذیہ کا آخری دن میرے ساتھ رکھا جانے والا اس کارویہ یاد آتاتھا ۔میں جب ان کے گھر سے آ رہا تھا ۔اسے الوداعی سلام کہا تھا ۔ تو اس نے روکھے پن سے جواب دیاتھا ۔ شاذیہ کا یہ روکھا پن مجھے یاد آتا تو میری بے چینی بڑھ جاتی ۔”کیا وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی تھی ؟ “میں جتنا سوچتا میری تشویش بڑھتی جاتی ۔ پھر میں نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا ۔امی ابو سے جھوٹ کہاکہ ”دوستو کے ساتھ لاہور جا رہا ہوں“ ۔بڑی مشکل سے اجازت ملی تھی ۔

میں خانیوال چلا گیا تھا ۔عمران سے میں نے موٹر سائیکل مانگا اورشمس آباد چلا گیا تھا ۔

شاہ زیب گھر پہ تھا۔کلیم اورسلیم ڈیرے پہ چلے گئے تھے ۔لطیف بھی اپنی آڑھت پہ جاچکا تھا۔جبکہ چوہدری الیاس کے بارے پتہ چلا کہ وہ لاہور گیا ہوا ہے ۔

خالہ زینب ،آنٹی رقیہ اور کلثوم وغیرہ نے میری خوب آو بھگت کی تھی ۔آنٹی شمیم کی شادی ایک ماہ قبل ہو چکی تھی ۔میں وہاں دو گھنٹے رہا تھا ۔ میری نظریں شاذیہ کو تلاش کرتی رہیں ۔مجھے پتہ چلا کہ شاذیہ تو فیصل آباد اپنے میکے میں گئی ہوئی ہے ۔میں نے خالہ کے پوچھنے پر بتایا تھا کہ

” میں ایک دوست کے ساتھ خانیوال کسی کام سے آیا تھا ۔سوچا آپ سب سے بھی ملتا جاوں ۔“

شاہ زیب مجھے جب گھر سے باہر تک چھوڑنے آیااس درشت لہجے میں کہا تھا۔”شہباز ۔آئندہ ہمارے گھر نہ آنا “

”کیوں “ ؟میرے منہ سے بلاارادہ یہ لفظ نکل گیا۔

”تیرے بارے میں گھر میں جو باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ان کو مد نظر رکھ کر کہہ رہا ہوں “شاہ زیب کا لہجہ بے تاثرتھا۔

”مثلا کیا باتیں ہو تی رہتی ہیں “میرالہجہ تلخ ہورہاتھا۔

”جب تین ماہ پہلے تم ہمارے گھر آئے تھے ۔تمہارے جانے کے بعد بھابھی شاذیہ نے تمہاری سب باتیں بھائی لطیف کو بتا دیں تھیں ۔دوسری صبح بھائی لطیف نے تمہاری خالہ اور چچا کلیم کو سب کچھ بتا دیا تھا ۔چچا کلیم نے کہا تھا ۔اب جب شہباز آئے تو مجھے ضرور بتایا جائے ۔اس کے سر سے عشق کا بھوت اتار دوں گا ۔“یہ سن کر مجھ پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا میں نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے ۔ چند لمحے اسے گھورتا رہا پھر بولا۔

”مجھ سے خالہ نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی ۔نہ ہی کلثوم یا تمہاری امی نے ۔سب اچھے طریقے سے ملے ہیں مجھے “

”انہوں نے مجھے کہا تھا کہ تم کو سب سمجھا دوں ۔ تا کہ بات نہ بڑھے ۔چچا کلیم کو اگر تم نظر آ گے تو بہت برا ہوگا “

مجھے یقین تھاکہ وہ سچ کہہ رہاہے ۔

”بہتر ہو گا کہ اب سمجھ داری کا مظاہرہ کرو اور یہاں سے چلے جاو ¿۔ ہو سکے تواپنا نفسیاتی علاج کروائیں “

اس کی آخری بات پر میرا دماغ گھوم گیا۔

”اچھا ۔اب بند کرو یہ بکواس ۔میں دیکھ لوں گا تم کو اور تمہارے سارے خاندان کو کہ وہ کتنے پانی میں ہے ۔“میرا لہجہ سخت اور فیصلہ کن تھا۔

”اچھا اب تم جاو ¿ ۔میں بات نہیں بڑھانا چاہتا ۔جب چچا کے ہاتھ چڑھو گے تو ہمارے خاندان کا پتہ لگ جائے گا ۔اور ہاں میرے مشورے پر غور ضرور کرنا ۔میں نہیں چاہتا تم بے موت مارے جاو۔ “

اتنا کہہ کر وہ واپس پلٹ گیا ۔میں اسے جاتے ہوئے کو دیکھتا رہا ۔پھر بائیک اسٹارٹ کی اور وہاں سے چل پڑا تھا۔عمران کی دکان پر آیا تو بہت پریشان تھا ۔میری پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے اس نے کہا۔

”کیابات ہے ۔بڑے پریشان ہو”؟

”کچھ نہیں بس“میں نے ٹالنے والے انداز میں کہا ،مگر وہ کہاں ٹلنے والا تھا ۔

عمران سے یہ میری دوسری ملاقات تھی ۔ اس کی آٹو سپیر پارٹس کی دکان مین بازار میں تھی ۔دبلا پتلا تیس بتیس سالہ ہنس مکھ عمران میرے دوست صابر کا کزن تھا ۔اس کے اسرار پر میں نے ساری صورت حال بتا ئی تو وہ ہنسنے لگا ۔

”اتنی سی بات پر پریشان ہو گئے ہو ۔ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں “میں بھی پھیکا سا مسکرایاتھا ۔ پھر ہم بڑی دیر تک بیٹھے شاذیہ کی باتیں کرتے رہے ۔جس وقت میں وہاں سے روانہ ہوا رات کے بارہ بج چکے تھے ۔ اس دوران میں اپنے ذہن میں ایک پروگرام ترتیب دے چکا تھا میرے خیال میں اب بہترین طریقہ یہی تھا کہ میں جلد از جلدشاذیہ سے بات کروں ۔شاذیہ کے ماں باپ فوت ہو چکے تھے ۔بہنوں کی بھی شادیاں ہوگئی تھیں۔ایک بھائی سرفراز تھا۔جو فیصل آباد شہر میں آڑھت کا کام کرتا تھا ۔روز صبح جاتا اور شام کو واپس گاوں آتا تھا ۔

میں صبح نو بجے سرفراز کے دروازے پر پہنچ گیاتھا ۔

میں نے ایک بار پھر دروازہ پر دستک دی لیکن بے سود۔ اضطراب اور بے چینی کے عالم میں،میں نے اپنے گردو پیش کا جائزہ لیا۔ گلی سنسان تھی۔میں لطیف کی بارات کے ساتھ یہاں آ چکا تھا ۔ بے شک اس بات کو سات برس گزر گئے تھے ۔لیکن میں کیسے اس کا گھر بھول سکتا تھا ۔ان دنوں سامنے خالی پلاٹ تھا آج وہاں مکانات نظرآرہے تھے ۔میں سوچنے لگا”مجھے یہاں نہیں آنا چاہئے تھا ۔اب آ چکا ہوں تو اس سے ملے بغیر واپس جانا عقل مندی نہیں ۔“

امید کی ایک کرن اب بھی میرے ذہن میں موجود تھی۔میں تیسری بار دستک دینے کے لیے بڑھ رہا تھا کہ دروازہ کھل گیا ۔ ایک نوجوان عورت دروازے پر آئی ۔وہ یقیناََ شاذیہ کی بھابھی تھی ۔اس کا چہرہ تاثرات سے یکسر عاری تھا۔وہ بولی تو لہجہ سپاٹ تھا

”گھرآ جائیں “ یہ کہہ کر وہ روازے سے ہٹ گئی ۔میں خود کو سنبھالتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑا ۔کھلا صحن ،چار کمرے ،ایک باورچی خانہ ۔بالکل سامنے ہی برآمدے میں شاذیہ بیٹھی تھی ۔زرقا دو اور بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔شاذیہ بہت غور سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔میں نے بھی خود کو بڑی مشکل سے سنبھالا ہوا تھا ۔وہ تن کر کھڑی تھی ۔جیسے مجھے اٹھا کر باہر پھینک دے گئی ۔بھابھی خاموشی سے باورچی خانے کی طرف مڑ گئی ۔

”تم یہاں کیوں آئے ہو“

شاذیہ کی سرسراتی ہوئی آوازمیری سماعت سے ٹکرائی ۔ میں اس کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا ,اور جواب دینے کی بجائے اسے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے سختی کا اظہار ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر وہ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی ۔اس کی آنکھوں میں لاتعلقی اوربیگانہ پن تھا۔ جبکہ میری بے بسی کا یہ عالم تھا کہ الفاظ میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے ۔میں بے بسی سے پلک جھپکائے بغیر اسے دیکھتا رہا ۔جیسے اس کے الفاظ میرے کانوں تک پہنچے ہی نہ ہوں۔وقت جیسے رک گیا ہو ۔میری زندگی ،میری محبت میرے سامنے تھی ۔

”میں کیسے یقین دلا سکتا ہوں کہ آپ میرے لیے کیا ہو“بہت دیر بعد میں بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔

”بکواس بند کرو۔“ اس کا لہجہ زہریلا تھا۔ اس کی نگاہیں میرے چہرے پر مرکوزتھیں ۔ میرے جسم میں عجیب سی سنسناہٹ دوڑ گئی۔میں خود کو بے وقعت محسوس کر رہا تھا۔

”دونوں بیٹھ جاو- “

بھابھی کی آواز سن کر میں چونکا ۔نہ جانے کب وہ باورچی خانے سے واپس آئی تھی ۔ہم دونوں الگ الگ چارپائیوں پر بیٹھ گئے ۔بھابھی بھی شاذیہ کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔

”مجھے تم دونوں سے ہمدردی ہے ۔مجھے ابھی شاذیہ نے سب کچھ بتایا ہے ۔“بھابھی نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔اس کے لہجے سے خلوص اور سچائی ٹپک رہی تھی۔

”میں سمجھتی ہوں تم دونوں اپنی اپنی جگہ مجبور ہو ۔ “ وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی ہم دونوں کو باری باری دیکھا ۔پھرہمارے درمیان خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا ۔جب خاموشی سے مجھے الجھن ہونے لگی تو میں دھیرے سے بولا۔

”میں شمس آباد گیا تھا“

”وہاں کیوں گئے تھے ؟تم میری زندگی برباد کر دو گئے ۔“شاذیہ نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ۔یہ نگاہیں ہر قسم کے تاثر سے یکسر عاری تھیں۔

”مجھے شاہ زیب نے بتایا کہ آپ نے میری شکایت لطیف اور کلیم کو لگائی تھی “میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ۔

”شکایت ۔“وہ غرائی ”میں نے حقیقت بیان کی تھی ۔وہی جو تم نے کہاتھا “وہ کٹیلے لہجے میں بولی۔

”جھگڑا نہ بڑھاو“بھابھی کا لہجہ بدستور نرم تھا۔

”ہم خود لطیف سے شاذیہ کی شادی کر کے پچھتا رہے ہیں۔“وہ دوبارہ گویا ہوئی ۔اس کی اس بات پر شاذیہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔لیکن بھابھی میری طرف متوجہ تھی ۔

”وہاںانسان کم اور جانور زیادہ ہیں “بھابھی ایک لمحے رکی پھر بولی۔” لیکن ۔اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔تم اس کی زندگی سے نکل جاو۔“وہ مجھے دیکھتی ہوئی التجا آمیز لہجے میں بولی۔

”یہ ۔۔یہ میرے بس میں کہاں ہے “یہ کہتے ہوئے میرا من بھر آیا ۔”میں ۔۔میں اس کے بنا جی نہیں سکتا “میں نے لرزتے ہونٹوں سے کہا۔شاذیہ مجھے دھندلی سی نظر آ رہی تھی ۔”میں نے اسے ہر لمحہ سوچا ہے ۔“بھابھی گم سم سی بیٹھی تھی۔شاذیہ کا سرجھکا ہوا تھا ۔ میرے ذہن میں طرح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے ۔

”تم بیٹھومیں چائے لاتی ہوں “بھابھی نے کہا اور اٹھ گئی ۔اس کے جانے کے فوراَ بعد شاذیہ نے کہا ”تم کس طرح میرا پیچھا چھوڑ سکتے ہو“

” اگر میں بالکل آپ کو پسند نہیں تو میں آئندہ کبھی آپ کی زندگی میں نہیں آوں گا ۔کبھی آپ کو نظر بھی نہیں آوں گا“

”یہ بات نہیں لطیف اور کلیم وغیرہ کو تم جانتے نہیں ہو۔وہ مجھے اور تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔ کلیم انسان کے روپ میں شیطان ہے ‘ ‘میں چپ رہا ۔ وہ دوبارہ بولی۔

”میری ایک بیٹی بھی ہے ۔اور میں اب بھی ماں بننے والی ہوں ۔تم ہی بتاو۔میں کیسے تم سے عشق و پیار کر سکتی ہوں “ ؟

میں نے اس کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔میرے دل میں خواہش ابھری کاش یہ وقت تھم جائے یہ لمحے رک جائیں۔بس وہ اس کے سامنے ایسے بیٹھی رہے اور میں اسے دیکھتا رہوں۔

”کیا سوچ رہے ہو؟“ شاذیہ نے مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر استفسارکیا۔

,,میں نے آپ کو بہت ستایا ہے ۔لیکن یقین کریں میرے بس میں کچھ نہیں ہے “میں نے بے بسی سے کہا ۔”میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ۔معاف کر دینا ۔آج کے بعد آپ کبھی میری صورت نہیں دیکھیں گی ۔“ میں نے یہ کس دل سے کہا تھا اسے دل ہی جانتا تھا ۔وہ الجھن زدہ نظروں سے مجھے دیکھتی رہی- میں نے بات جاری رکھی ”کبھی زندگی میں میری ضرورت پڑے تو مجھے یاد کرنا ۔اپنی زندگی آپ پر قربان کر دوں گا ۔“

میں نے دل فگار لہجے میں کہا۔وہ میری طرف دیکھتی رہی۔”خانیوال میں بازار کی بالکل نکڑ پر عمران آٹو سپیئر پارٹس کی دکان ہے وہاں عمران کو میرے نام پیغام پہنچا دینا ۔“ اس کے بعد میں نے اپنا سیالکوٹ کے گھر کا اڈریس بھی اسے بتایا ۔اسے نہ جانے اچانک کیا ہوا وہ سسک سسک کر رونے لگی۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو کہنے کے لیے کچھ کہنا نہیں پڑتا ۔اس نے کچھ بھی نہیں کہا ۔لیکن اس کے آنسو بتا رہے تھے کہ یہ آگ یکطرفہ نہیں,اور وہ حالات کے ہاتھوں کتنی مجبور ہے ۔اس غیر متوقع صورت حال سے میں سٹپٹا گیا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کہوں ۔میں غیرارادی طورپراس کا شانہ تھپکنے لگا۔وہ مسلسل رو رہی تھی۔

اس وقت بھابھی چائے بنا لائی ۔شاذیہ نے آنسو صاف کیے ۔چائے کے دوران ہم اپنی اپنی سوچوں میں گم رہے ۔ میں نے سوچ لیا کہ مجھے شاذیہ کی زندگی سے نکل جانا چاہئے ۔کیونکہ کسی سے محبت زبردستی نہیں کی جا سکتی ۔نہ ہی محبت بھیک مانگ کر حاصل کی جا سکتی ہے ۔ہمیشہ کی جدائی کا سوچ کر میرا من بھر آیا ۔چائے ختم کر کے میں اٹھ کھڑا ہوا ۔”معاف کرنا میں نے آپ کو بہت پریشان کیا “میں نے ڈبڈباتی آنکھوں سے شاذیہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

”ٹھہرومیری بات سنو “

بھابھی نے مجھے کہا ۔پھر شاذیہ سے مخاطب ہوئی ۔”تم جاو“شاذیہ چائے کے برتن اٹھا کر چلی گئی ۔

شازیہ کے جانے کے بعد بھابھی میرے پاس چارپائی آکر بیٹھ گئی۔وہ عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔اگلے ہی اس کی مترنم آواز ابھری۔لہجہ بدلا ہوا تھا ۔

 ”تم بہت اچھے ہو ۔مجھے بہت پسند آئے ہو ۔کاش کوئی مجھے اتنا پیار کرتا ۔جتنا تم شاذیہ سے کرتے ہو“میں ہکا بکا اسے دیکھتا رہا ۔

”شاذیہ کی زندگی سے نکل کر میری زندگی میں آ جاو ۔میں تیری ہر خواہش پوری کروں گئی ۔“

اس کی آنکھوں میں ہوس کے سائے دیکھے جا سکتے تھے ۔میں نے ایک طویل سانس لے کراسے دیکھا۔ وہ میرون رنگ کے کامدار لباس میں بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی۔ کسے کسے بدن کی مالک ۔سرخ کنارے والا سفید ڈوپٹہ لیے وہ کوئی فلمی ہیروئن ہی لگ رہی تھی ۔

سلمی شاذیہ کی بھابھی تھی ۔اس کا مجھ پر بڑا احسان تھاکہ شاذیہ سے ملاقات کا وقت دیا تھا ۔میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔خاموشی سے باہر کی طرف سے بڑھ گیا ۔اس کی پیش کش کومیں نے خاموش رہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔اس کے غرور کو ٹھیس پہنچی۔ وہ شدید غصے میں آ گئی ۔”بے غیرت اس گھر میں قدم نہ رکھنا ۔آئندہ ادھر نظر آئے تو میں پولیس کے حوالے کر دوں گئی “وہ بلند آواز سے گالیاں دینے لگی ۔اس وقت شاذیہ کمرے سے نکل رہی تھی ۔بھابھی گالیاں دے رہی تھی ۔زرقا اپنی امی کی گود میں تھی ۔جب میں نے دروازے پر رک کر انہیں دیکھا تھا ۔دوسرے لمحے میں گھر سے باہر نکل آیا تھا ۔کافی فاصلے تک مجھے بھابھی کی آواز آتی رہی ۔ گلی میں ایک تانگہ گزر رہا تھا ۔جو گاوں سے باہر بس سٹاپ تک جارہا تھا ۔میں اس میں سوار ہوگیا ۔جب میں گھر پہنچا تو سورج مغربی افق کی طرف جھک گیا تھا۔شام کے سائے دن کے اجالے کو نگل رہے تھے –

 ؟ ؟ ؟

سرد ہوا کی تیز دھار کھڑکی اور دروازے کی درزوں سے گزر کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔

میرا بوڑھا باپ کھانس رہا تھا۔ بڑا بھائی اعجاز ،بہن زرینہ اس کا خاوند نعمان اور امی ہم سب ابوکے پاس بیٹھے تھے ۔

ابو کافی عرصہ سے بیمار چلے آ رہے تھے ۔ان کو ٹی بی تھی اور انہوں نے کسی کو بتایا تک نہیں تھا ۔

ان کی پوری توجہ ہماری تعلیم کی طرف رہی تھی ۔وہ پڑھا لکھا کر ہمیں کچھ بناناچاہتے تھے ۔میں سیکنڈ ائیر میں تھا۔اعجاز بھائی نے بی اے کرنے کے بعد بی ایڈ کر لیا تھا ۔نوکری کی تلاش میں دھکے کھا رہے تھے ۔چھ ماہ قبل ابو نے زرینہ کی شادی کر دی تھی ۔

تب ہمیں علم ہوا کہ ابو کو ٹی بی ہے ۔ دو ماہ قبل ہم ابو کو گلاب دیوی ہسپتال لاہور لے گئے تھے ۔

گلاب دیوی لاہور میں ٹی بی کے علاج کے مشہور ہسپتال ہے ۔ یہ پندرہ سو بیڈز کا ہسپتال ہے جہاں ٹی بی کی تمام اقسام کے علاج کے ساتھ چسٹ سرجری ، ہڈیوں کی ٹی بی اور دل کا آپریشن بھی کیا جاتا ہے ۔ یہ پنجاب کا واحد ہسپتال ہے کہ جہاں دوسرے صوبوں سے بھی ٹی بی کے مریض مرض کی تشخیص اور علاج کے لئے آتے ہیں۔

لاہور میں میرے چچازاد بھائی خلیل احمد کام کرتے تھے ۔ہم نے ان کے ہاں ہی رہ رہے تھے ۔ہمارے مشکل وقت میں انہوں نے بہت ساتھ دیا ۔میں اور امی دونوں لاہور میں ابو کی دیکھ بھال کے لیے رہے تھے ۔ڈاکٹر ز نے تشخیص کے بعد بتایا کہ بیماری اب اس سٹیج پر ہے کہ علاج ممکن نہیں ہے ۔کیونکہ انہیں ٹوٹل ڈرگ ریزیسٹینس نامی ٹی بی ہے ۔یہ سن کر ہم تو سکتے میں رہ گئے تھے ۔ٹی بی کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں جن میں سے عام پائی جانے والی پھیپھڑوں کی ٹی بی ہے ۔ جبکہ دوسری قسم میں ہڈیوں کے گودے کی ٹی بی ہے ۔ یہ دونوں اقسام ہی قابل علاج ہیں۔جبکہ ٹوٹل ڈرگ ریزیسٹینس نامی ٹی بی لا علاج ہے ۔پاکستان میں اس بیماری کے مریض کم ہی ہوتے ہیں۔ دو ماہ ہم لاہور میں علاج کے سلسلے میں مقیم رہے ۔ہسپتال سے پندرہ دن کی دوا ملی ۔ابو کی ضد پر ہم انہیں گھر لے آئے تھے ۔

تپ دق کو غریبوں کی بیماری اس لیے کہا جاتا ہے کہ غربا کو مناسب خوراک ،اچھی اور صاف ستھری رہائش ،معیاری ادویات میسر نہیں ہوتیں ۔پھر ان کو مشقت سے پر زندگی گزارنا پڑتی ہے ۔

رفتہ رفتہ ابو موت کے منہ میں جارہے تھے ۔گھر میں ایک سکوت چھایا رہتا ۔ابو کے کہنے پر میں زرینہ کو اس کے سسرال سے لے آیا ۔

وہ گھر میں آئی تو اس نے جی جان سے ابو کی خدمت شروع کر دی تھی ۔چند دن بعد ہی ابو نے کہاکہ نعمان بھائی کو فون کر دیں ۔میں پی سی او سے جا کر ان کو فون کر آیا تھا ۔

ہم سب ابو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہڈیوں میں اترتی ہوئی سرد ہوا چل رہی تھی ۔ٹی بی کی شدت کا سرد موسم سے بڑا تعلق ہے ۔ہم بار بار ابو کو دوا دے رہے تھے ۔لیکن ان کی زندگی کا سورج بجھ گیا ۔گھر میں صف ماتم بچھ گئی ۔رشتے داروں کو فون کیے گئے ۔آنے والے چند دن ہمارے گھر رشتے داروں کا ہجوم رہا ۔پھر گھر خالی ہو گیا ۔ابا وفات پاگئے تو مجھے یوں لگا کہ میری دنیا ہی لٹ گئی۔جیسے زمین و آسمان ایک ہوگئے ہوں ۔ تین دن میں سکتے کی کیفیت میں رہاتھا۔ بس چپ چاپ ایک کونے میں بیٹھا رہتا ۔کون آیا کون گیا ۔مجھے کوئی علم نہیں تھا ۔پانچویں یا چھٹے دن امی جان نے میرے پاس آبیٹھیں ۔انہوں نے بھرائی ہوئی آوازمیں کہا-

”دیکھ تیرا باپ مرگیا ہے ۔میرا مجازی خدا ۔میں بھی اب زیادہ نہیں جی سکوں گی ۔تم خود کو سنبھالوکیونکہ تمہارے آگے لمبی زندگی ہے -اگرتم ہی حوصلہ ہارجاو ¿گے توہمیں کون سنبھالے گا ۔“

یہ کہہ کر میری امی میرے گلے لگ کر پھوٹ ہھوٹ کر رونے لگیں ۔ اچانک میرا دل بھی بھر آیا اور میری آنکھیں بھی ساون بھادوں کی بارش کی مانند برسنے لگیں۔

ہم کتنے تنہا ،کمزور ہو گئے تھے ۔اس دن پتہ چلا ۔مجھے تو اب تک گھر کی کوئی فکر ہی نہیں تھی۔اپنی دنیا میں مست رہتا ۔سب کے ساتھ ساتھ اپنی سوچوں میں گم صم سب سے الگ ۔ اب نہ ستاروں کی جگمگاہٹ سے مجھے دلچسپی تھی نہ چاندنی کے نور سے ۔میرا تو پہلے بھی کہیں دل نہیں لگتاتھا ۔جب بہن رخصت ہوئی تھی تو گھر سے جیسے خوشیاں رخصت ہو گئی تھیں ۔اب ابو کے جانے بعد تو گھرکاٹ کھانے کو دوڑتا ۔ابو کو دنیا سے رخصت ہوئے چھ ماہ ہوئے تھے جب بھائی اعجاز کی شادی ہوگئ۔ان کی منگنی ابو اپنی زندگی میں ہی کر گئے تھے ۔بھائی کی شادی کے چند دن بعد ہی انہیں سکول میں لیکچرار کی نوکری بھی مل گئی۔بھابھی گھر کے کاموں میں لگی رہتی ۔امی جان کا اب سارا وقت ہی عبادت میں گزرنے لگا ۔میں بھرے گھر میں اکیلا ہو گیا ۔

 ؟ ؟ ؟

بی اے کے امتحان سر پر آ رہے تھے ۔اور میری کوئی خاص تیاری نہیں تھی ۔ لیکن کالج میں پابندی سے جا رہا تھا ۔انہی دنوں امی جان اکثر بیمار رہنے لگیں ۔ابو جان کو فوت ہوئے ایک سال ہونے کو تھا ۔زرینہ کبھی کبھار آ جاتی تو ہمارے گھر میں رونق آ جاتی ۔اللہ نے زرینہ کو ایک چاند سا بیٹا دیا تھا ۔

امی کی طبعیت سنبھل نہیں پارہی تھی ۔مہمان آ جا رہے تھے ۔ڈاکٹر بدل بدل کر امی کا علاج جاری تھا ۔ڈاکٹر کہتے کہ امی کو کوئی خاص بیماری نہیں ہے ۔پھر ایسا ہوا کہ بھابھی اور ان کی والدہ ،میری ایک پھوپھو وغیرہ کے مشورے پر روحانی علاج شروع ہو گیا ۔اب پیروں فقیروں کے ہاں جانے لگے ۔

میں خود سے سوال جواب کرتا رہتا اور الجھتا رہتا۔گرمیوں کا موسم نکلتا جارہا تھا۔ اایک دن میں کالج سے واپس آیا تو گھر میں خالہ زینب ،ماموں زبیر،ممانی ،اور کلثوم وغیرہ امی کی عیادت کو آئے ہوئے تھے ۔گزشتہ کچھ دنوں سے امی کی طبیعت قدرے بہترتھی ۔اس کی وجہ شائد زرینہ تھی جو دس پندرہ دن سے آئی ہوئی تھی ۔دوسرے دن میں کالج جانے کی تیاری کر رہا تھا- کہ کلثوم نے میرے پاس آکررازدانہ لہجے میں کہا۔

”میرے پاس آپ کے نام ایک پیغام ہے “یہ سن کر میرا دل دھڑکنے لگا۔لمبے سے ڈھیلے ڈھالے فراک میں ملبوس کلثوم میری ہی ہم عمر تھی ۔ہماری اچھی دوستی تھی ۔

”آج کالج نہ جاو ¿ ۔کل صبح ہمیں چلے جانا ہے ۔دن بھر باتیں کریں گے “اس کے لہجے میں اصراراوراپنائیت تھی۔میں نے کالج سے چھٹی کر لی ۔ماموں زبیر ،ممانی اور خالہ امی کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔میں اورکلثوم برآمدے میں بیٹھ کر باتیں کر نے لگے ۔ زرینہ سب ک لیے چائے بنا رہی تھی ۔ میں نے تجسس زدہ لہجے میں استفسار کیا۔

”میرے نام کس کاپیغام ہے ؟ اور کیا ہے ۔“

اس نے گہری نظروں سے میری طرف دیکھااورآہستگی سے کہا-”شاذیہ۔تمہیں بہت یاد کرتی ہے ۔“

”اس کا نام نہ لو میرے سامنے “میں نے درشت لہجہ اختیارکیا۔وہ بولی۔

”مجھے شاذیہ نے سب بتایا ہے ۔جب تم فیصل آباد گئے تھے ۔اور اس سے پہلے جو تم نے اس سے اظہار محبت کیا تھا ۔”شاذیہ نے کہا ہے کہ ۔کیا محبت صرف اس کا نام ہے کہ ۔۔“وہ چند ثانیے خاموش ہوئی ،اورنظریں جھکا کر دوبارہ بولی ۔”محبت صرف جسم کو حاصل کرنے کا نام تو نہیں “

”میں نے تو شاذیہ سے کبھی ایسی بات نہیں کی “

میں نے گویاصفائی پیش کی۔

”شاذیہ سے نہیں کی ۔۔لیکن تم نے شاذیہ کی بھابھی سلمی سے تو کی تھی نا“کلثوم کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔

میں ناکردہ گناہ کی وجہ سے شرم سارہورہاتھا ۔اب میں کلثوم کو لاکھ صفائی دیتا ۔اس نے میری بات پر یقین نہیں کرنا تھا ۔میں ابھی سوچ رہا تھا کہ اسے اپنی سچائی کا کیسے یقین دلاوں ۔میری یہ خاموشی بھی میرے مجرم ہونے کے گماں پریقین کی مہرثبت کررہی تھی ۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی ۔وہ دوبارہ گویا ہوئی ۔

”شاذیہ نے کہا ہے ۔شہباز کو ایسی بات اس کی بھابھی سے نہیں کہنی چاہئے تھی ۔وہ آپ کو ایسا نہیں سمجھتی تھی “مجھے شدید غصہ آ رہا تھا ۔میں نے کلثوم کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا ۔

”شاذیہ کی بھابھی سلمی ۔بکواس کرتی ہے ۔۔وہ تو خود مجھے گناہ کی ترغیب دے رہی تھی “اس کے بعد میں نے سب باتیں کلثوم کو بتا دیں ۔

”چلو چھوڑیں اس بات کو ۔۔آپ نے شاذیہ سے شادی کی بات تو کی تھی نا ۔۔ اورشادی انسان جسمانی محبت حاصل کرنے کے لے کرتا ہے “ میں لاجواب ہو کراس کا منہ دیکھنے لگا ۔ اس کی بڑی بڑی نیلگوں آنکھوں میں سمندر کے تلاطم مچل رہے تھے ۔میں نے کہا ۔

”ایک عورت سے سچی محبت کیا ہوتی ہے ۔؟“کلثوم نے سر اٹھا کر میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔میں نے اپنی بات کا خود ہی جواب دیا ۔

۔تم خود سوچو کیا رانجھا ،قیس ،فرہاد ،سچی محبت کرتے تھے ۔۔۔اگر سچی محبت کرتے تھے ۔۔اس میں جسم کا مطالبہ نہیں تھا تو ۔۔۔تو وہ شادی کیوں کرنا چاہتے تھے ؟“

میں نے مسکرا کر مزید کہا ۔”مرزانے تو صاحبہ کو بھگا لیا تھا ۔۔سچی محبت اسی کا نام ہے ۔۔ہمارے سامنے یہ ہی سچی محبت کی مثالیں ہیں ۔۔رانجھا کسی شادی شدہ عورت کو بھگا کر لے جائے تو سچی محبت ۔میں ایسا سوچوں تو محبت سچی نہیں رہتی۔۔آفرین ہے اس سوچ پر “

”محبت تو میں بھی آپ سے کرتی ہوں ۔آپ بھی تو مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔لیکن جیسے آپ شاذیہ کے لیے سوچتے ہیں میرے لیے تو نہیں سوچتے ۔ “

لڑکیوں کی عجب بے ہودہ قوم ہے ۔ الٹا سوچتی ہیں ۔کلثوم ۔۔محبت قربانی مانگتی ہے ۔اگر شاذیہ کو مجھ سے محبت ہے تو اسے قربانی دینی ہوگئی ۔میں منافقانہ محبت نہیں کر سکتا “

جو کلثوم مجھے کہنا چاہتی تھی وہ اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ دیا تھا ۔وہ کھل کر نہیں کہہ رہی تھی کہ میں شادی کلثوم سے کر لوں اور محبت بے شک شاذیہ سے کرتا رہوں ۔لیکن چونکہ میں اس کی بات کو سمجھ کر بھی اسے نظر اندازکر رہا تھا ۔اس لیے غصے کے مارے بالکل خاموش ہوگئی تھی۔میں نے خود ہی بات ختم کرنے کی کوشش کی ۔

”دیکھو جتنے نامور عاشق گزرے ہیں ۔۔۔سب ہی شادی کرنا چاہتے تھے ۔شادی اسی سے کرنا چاہتے تھے جن سے محبت تھی ۔یہ کسی نے نہیں کیا کہ محبت کسی اور سے کرتے ہوں اور شادی کسی اور سے کر لیں ۔۔ان سب کی سچی محبت تھی ۔۔میری بد قسمتی یہ ہے کہ شاذیہ مجھ سے محبت تو کرتی ہے لیکن ۔۔۔“کلثوم نے میری بات کاٹ کر کہا

”شاذیہ بھی آپ سے محبت کرتی ہے لیکن وہ دو ٹوک فیصلہ نہیں کر سکتی ۔۔ ۔خاص کر اس صورت حال میں جب وہ دو بچوں کی ماں بھی ہے “

میں خاموش ہو گیا تو کلثوم نے خود ہی بات ختم کر دی ۔

”ٹھیک ہے میں آپ کی محبت کو سمجھ گئی ہوں ۔آپ شادی کریں گے تو شاذیہ سے نہیں تو کنوارے بیٹھے رہیں گے “

”بالکل“میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

”پاگل ہو“اس نے حیرت سے کہا ”بالکل“میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ۔

”تمہیں اپنے اوپر بڑا مان ہے ۔ پر وہ مان ایک روز ٹوٹ جائیگا۔ جب میں کسی اور سے شادی کر لوں گی۔اور شاذیہ بھی نہیں ملے گئی “

اس نے جھنجھلا کر کہا تھا ۔ فقرے کے آکر تک اس کا لہجہ نرم ہوتا چلا گیا ۔

”مجھ سے امی نے پوچھا تھا ۔کہ میں کس سے شادی کرنی چاہتی ہوں ۔شاہ زیب سے یا آپ سے ۔ میں آپ کو بچپن سے پسند کرتی ہوں اس لیے میں نے آپ کا نام لیا تھا ۔ اب میں گھر جا کر امی کو فیصلہ سنا دوں گی ۔اور شاہ زیب سے شادی کر لوں گی ۔“

بڑی دیر تک ہم محبت ،شاذیہ ،اپنی اور دوسروں کی باتیں کرتے رہے ۔ہماری باتوں میں زرینہ بھی کبھی کبھار شامل ہوتی رہی ۔اس دوران ہماری گفتگو میں کئی ایک وقفے بھی آئے ۔

اس دن ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ رہے ۔میں نے امی ،بھائی ،بھابھی ،زرینہ وغیرہ سے جی بھر کر باتیں کیں ۔رات کا کھانا کھا کر ہم کافی دیر بیٹھے رہے ۔پھر سب سونے چلے گئے ۔ اور سارے گھر میں خاموشی چھا گئی۔لیکن میرے اندر کہرام مچ گیا ۔

 ؟ ؟ ؟

یہ بیس دن بعد کی بات ہے ۔میں شام کو گھر آیا تو بھابھی نے مجھ ایک خط دیا جومیرے نام آیا تھا ۔میں خط پکڑے سوچ رہا تھا ۔

”مجھے کس نے خط لکھ دیا ۔“میں نے متجسس اندازمیں لفافہ چاک کیا،اور ڈرائنگ روم کی طرف جاتے ہوئے اسے کھول کر پڑھنے لگا ۔خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے یہ شاذیہ کا خط تھا۔فل سائز کاغذکے دواوراق لکھے تھے اس نے ۔میں نے بے ساختہ چوم کر سینے سے لگا لیا ۔اس نے لکھا تھا ۔

”میں اپنا حال دل ان الٹی سیدھی سطروں میں لکھ رہی ہوں۔میں نے سوچ لیا ہے گھٹ گھٹ کر اب نہیں جینا ۔زندگی صرف ایک بارہی ملتی ہے ۔اسے ضائع نہیں کرناچاہیے ۔ایسا فیصلہ میں کبھی نہ کرتی ۔اگر میرے ساتھ لطیف کا رویہ انسانوں جیساہوتا ۔پہلے دن سے ہی مجھے محسوس ہونے لگا تھا ۔اس خاندان میں سب سے زیادہ اہمیت دولت کو دی جاتی ہے ۔رشتے ناتے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ غریب انسان کو یہ لوگ کم تر خیال کرتے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جائے گا ۔ لیکن اب میں مایو س ہو چکی ہوں ۔اس لیے یہ فیصلہ کیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ میری والد ہ تو میری اس شادی پر راضی ہی نہیں تھیں ۔لیکن میری بچپن میں منگنی کر دی گئی تھی ۔میں جب تین چار سال کی تھی۔لطیف کے دادا جان چودھری شمس اور میرے دادا جان چودھری شفیق جوکہ کزن تھے ۔انہوں نے خاندان کو ملانے کے لیے ہماری منگنی کر دی تھی ۔اب ہوا یہ کہ چودھری شمس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا ۔میرے دادا جان ایسا نہ کر سکے ۔دولت کا یہ فرق ہمارے والد تک مزید بڑھ گیا ۔ میرے دادا جان تو وفات پاگئے ۔لیکن ان کی دی ہوئی زبان پر مجھے قربان کر دیاگیا ۔

میں نے خود کو بہت سمجھایا ۔لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں ۔مجھے کسی پل چین نہیں ہے ۔ہرلمحہ تمہارا خیال ہے ۔دوسری طرف بچوں کا خیال بھی آجاتا ہے ۔میں بچوں کو نہیں چھوڑ سکتی ۔ان کے ساتھ ہی مجھے بھی اس جہنم سے لے جاو ۔یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے اس کا نتیجہ کیا ہو گا ۔لطیف ،کلیم وغیرہ ہمیں معاف نہیں کریں گے ۔میں خو کو روکنے کی لاکھ کوشش کرتی ہوں ۔خود کوبہت سمجھاتی ہوں ۔ سنبھلنے کی کوشش کرتی ہوں مگر نہیں سنبھل سکتی۔جب سے کلثوم نے بتایا ہے کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو ۔ساری زندگی اکیلے گزار دو گے اور یہ بھی کہ بھابھی سلمی نے آپ پر الزام لگایا ہے ۔ مجھے پہلے ہی علم تھااگر تم ہوس پرست ہوتے تو مجھ سے ضرور ایسی کوئی بات کرتے ۔پھر کلثوم کی محبت کو میرے لیے ٹھکرا کر تم نے ثابت کر دیا ہے ۔سچی محبت کرنے والے آج بھی ہیں۔میں جو تم سے نفرت کا اظہار کرتی تھی ۔وہ بالکل جھوٹ تھا ۔درحقیقت تم سے محبت بڑھتی جارہی تھی ۔ لیکن ۔شہباز ہم بھاگ کر کہاں جائیں گے ؟ہماری شادی کیسے ہو سکتی ہے ۔میں پہلے سے شادی شدہ ہوں ۔ عدالت سے خلع لینا ہو گا ۔ان سب باتوں کو دیکھ لو باقی ساری زندگی پریشانیوں میں گزرے گی ۔چودھری بھی معاف نہیں کریں گے ۔

اچھی طرح ان باتوں پر غور کر لو ۔اور اس کا یقین کر لو کہ میں تمہیں اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی تم کرتے ہو ۔دل میں ایک اضطراب ہے ۔ ایک جوش ہے ۔لیکن ہمیں ہوش سے کام لینا ہے ۔5 فروری کے دن خانیوال آجاو اس دن میں کلثوم کے ساتھ گھر سے نکل آو ¿ں گی ۔اس کے کالج میں یوم کشمیر پر تقریب ہے ۔ٹھیک دس بجے مجھے کالج کے گیٹ سے لے جانا ۔مل بیٹھیں گے فیصلہ کریں گے ۔

خط پڑھ کر خوشی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت مجھ پر طاری ہو گی ۔محبت کرنا تو آسان ہے ۔محبت کی آزمائش کا اب وقت آیا تھا ۔ملک میں خراب حالات چل رہے تھے ۔میرے جیسے بہت سے نوجوان دن دہاڑے پستول کی نوک پر ڈاکے ڈالنے لگ گئے تھے ۔میرے بھی چند ایک دوست ایسے تھے ۔ایک دو بار انہوں نے مجھے ورغلایا بھی تھا ۔لیکن میں ٹال گیا تھا ۔اب مجھے پستول کی ضرورت تھی ۔تو وہ یاد آئے ۔میں نے جب ان سے اپنی ضرورت بیان کی تو انہوں نے صرف دو دن میں بہت اچھی حالت کا تیس بور پستول اور چار میگزین لا دئیے ۔

اب مجھے بہت اہم فیصلہ کرنا تھا ۔یہ فیصلہ مجھ اکیلے کو ہی کرنا تھا ۔آریا پار کا فیصلہ ۔اور میں نے فیصلہ کر لیا ۔کسی کو کچھ بتان کی ضرورت نہیں تھی ۔مقررہ دن س ایک دن قبل جب شام کا دھند لکا پھیل چکا تھا ۔میں خانیوال عمران کی دکان پر بیٹھا تھا ۔اسے اپنے فیصلے کے بارے میں بتا رہا تھا ۔

 ؟ ؟ ؟

دوسرے دن وقت مقررہ سے پون گھنٹا قبل ہی پر میں عمران کے موٹر سائیکل پر گرلز کالج کے گیٹ پر پہنچ گیا ۔یہ ہی میری غلطی تھی ۔کالج کے گیٹ کے سامنے سڑک کی دوسری طرف ایک دکان کے آگے میں نے بائیک گھڑی کر دی ۔اور نیچے اتر کر ماحول کا جائزہ لینے لگا ۔اسی وقت ایک کار گیٹ کے عین سامنے آکر رکی ۔اس سے کلثوم اور شاذیہ اتر کر کالج کی طرف بڑھ گئیں ۔کار نے موڑ کاٹا اور عین میرے سامنے سے گزر گی ۔کار کو لطیف ڈرائیو کر رہا تھا ۔مزید بیس منٹ بعد شاذیہ اپنے دو سال کے بیٹے زریاب کو اٹھائے ہوئے کالج سے نمودار ہوئی ۔اس نے اپنے اوپر ایک بڑی چادر لی ہوئی تھی ۔میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور اس کے پاس جا کر روک دی ۔اس وقت میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔

”کیسی ہیں آپ “

”میں ٹھیک ہوں ۔تم سناو ۔کدھر جا رہے ؟“

”عمر فاروق چوک میں ایک ہوٹل ہے اس میں جا کر بیٹھتے ہیں “میں بائیک کو آہستہ چلا رہا تھا تاکہ ایک دوسرے کی بات سمجھ آ سکے ۔

”نہیں ادھر نہیں جانا۔کہیں اور چلو “ اس نے زور دے کر کہا۔”اور کہاں ؟“میں نے بائیک مزید آہستہ کر دی ۔”شہر سے باہر ۔۔لاہور روڈ کی طرف چلو “میں نے اس کے کہنے پر بائیک اس طرف موڑ دیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم شہر سے باہر نکل آئے ۔ایک پٹرول پمپ نظر آیا تو میں نے سوچا عمران بہت کام آ رہا ہے اس کے موٹر سائیکل کی ٹنکی فل کروا دیتا ہوں کیا یاد کرے گا ۔پٹرول پمپ سے ٹینکی فل کروائی اور چل پڑا۔چندکلومیٹر کا مزید سفر کرنے کے بعد ایک چھوٹے سے بس سٹاپ پر سڑک کنارے بنے ہوئے ایک مسافر خانے میں ہم بیٹھے تھے ۔ بس سٹاپ کسی گاوں کا تھا ۔وہاں صرف ایک چھوٹا سا چھپر ہوٹل تھا ۔میں چھپر ہوٹل پر دو چائے اور بسکٹ کا آرڈر دے کر جب واپس مسافر خانے کی طرف جارہا تھا میں نے دیکھا کہ ایک کار وہاں آ کر رک رہی ہے ۔ذہنی طور پر میں ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا ۔

کار سے لطیف برآمد ہوا ۔میں تیزی سے مسافر خانے کی طرف بڑھا ۔اندر سے شاذیہ حیران حیران باہر نکل رہی تھی ۔اسی وقت چودھری کلیم کار سے نیچے اتر کر میری طرف بڑھا ۔میں نے کوٹ کی جیب کو ہاتھ لگا کر دیکھا پستول میرے پاس موجود تھا ۔

اب صورت حال یہ تھی کہ لطیف شاذیہ کو گالیاں دے رہا تھا ۔اور چودھری کلیم مجھے ۔شاذیہ مجھے آنکھوں سے منع کر رہی تھی کہ میں جذبات میں نہ آوں ۔میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور گہری سانس لے کر سر جھکا لیا ۔اس دوران چودھری کلیم نے مجھے گریبان سے پکڑ کر کھینچا اور مسافر خانے کی دیوار سے دے مارا ”میں نے کہاتھا شمس آباد میں نظر نہ آنا “ میں دیوار سے ٹکرایا میرا سر گھوم رہا تھا ۔چھپر ہوٹل پر بیٹھے ہوئے لوگ ہماری طرف بڑھ رہے تھے ۔غصے سے جذبات سے اپنی تذلیل سے میرا برا حال تھا ۔ لیکن نے میں سر ہلایا جیسے اس کی بات مان رہا ہوں ۔

 اسی لمحے لطیف نے اپنی بیوی کو بازو سے پکڑ کر کار کی طر ف کھینچنا شروع کر دیا ”حرافہ تو چل تجھے تو میں گھر جا کر دیکھتا ہوں “ وہ نہیں نہیں کے انداز میں سر ہلا رہی تھی ۔اس کے ایک بازو سے لگا زریاب چیخ چیخ کر رو رہا تھا ۔کلیم نے اچانک میرے منہ پر مکا جڑ دیا ۔میرے ہونٹ پھٹ گئے ان سے خون رسنے لگا ۔لطیف نے شاذیہ سے زریاب کھینچ کر کار میں بیٹھے ڈرائیور کو پکڑایا ۔اتنی دیر میں شاذیہ بھاگ کر ہماری طرف بڑھی ۔کلیم نے الٹے ہاتھ سے اسے دھکا دیا تو وہ میرے اور کلیم کے درمیان گر گی ۔میں شاذیہ کی طرف بڑھا تو کلیم نے میرے پیٹ میں لات ماری ۔”ہیجڑے میں تیرا خون پی جاوں گا “

اس کے سفاک لہجے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مجھے اپنا انجام نظر آنے لگا۔ مجھے اپنے بچ جانے کی امید نہیں تھی ۔ مرنا تو تھا ہی آسانی سے کیوں مروں ۔مجھے علم تھا وہ مجھے چھوڑے گا نہیں میں نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا ۔ میں اس پر جھپٹ پڑا ۔مارو یا مر جاو ۔میں تو پہلے ہی مرا ہوا تھا۔ نہ زندوں میں شامل تھا نہ مردوں میں ۔ میں نے اس کی اٹھی ہوئی ٹانگ پکڑ کر مزید اوپر اٹھا دی ۔وہ نیچے گرا تو میں نے جا پکڑا پھر اسے رگیدتے ہوئے دیوار تک لے گیا ۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں یوں اس پر اچانک حملہ کروں گا ۔وہ اپنا بچاو نہ کر سکا ۔ میں نے اس کے بال پکڑ کر اس کا سر دیوار سے دے مارا ایک بار نہیں کئی بار ۔وہ دیوار کے ساتھ ہی ڈھیر ہو گیا ۔اسی لمحے میرے سر پرجیسے قیامت ٹوٹ پڑی ۔لطیف نے پستول کا بٹ میرے سر پر مارا تھا ۔

میں نے سر تھام لیا۔ میں نے اپنے ہاتھ پر کسی لیس دار شے کی چپچپاہٹ محسوس کی۔ میرے بال خون میں لتھڑے ہوئے تھے ۔

 میں سر پکڑ کر کلیم کے پاس ہی ڈھیر ہو گیا۔میں نے دیکھا شاذیہ لطیف پر جھپٹی ۔لطیف نے پستول الٹی طرف سے پکڑا ہوا تھا ۔دستے کی طرف سے شاذیہ نے ۔دونوں زور آزمائی کر رہے تھے ۔کہ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ لطیف کی چیخ بلند ہوئی ۔وہ ذبیح کیے ہوئے بکرے کی طرح تڑپ رہا تھا ۔دونوںکے ہاتھ سے پستول گر گیا تھا ۔میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی اور جیسے تیسے کامیاب بھی ہو گیا۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہ رہا تھا۔ شاذیہ خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔اسی لمحے لطیف کا جسم ساکت ہو گیا ۔گولی اس کے عین دل کے مقام پر لگی تھی ۔شاذیہ سے قتل ہو گیا تھا ۔اب وہاں رکنا موت کو دعوت دینا تھا ۔میں نے آگے بڑھ کر زمین سے پستول اٹھا یا ۔ایک نظر چودھری کلیم کو دیکھا ۔وہ مسافر خانے کی دیوار کے پاس بے ہوش پڑا تھا ۔اس لمحے وہاں جو دو چار آدمی کھڑے تھے ۔وہ پیچھے ہٹ گئے ۔میرے ہاتھ میں پستول تھا ۔میں جلدی سے بائیک کی طرف بڑھا ۔اسے اسٹارٹ کیا ۔شاذیہ کو آواز دی وہ بھاگ کر پیچھے بیٹھی۔ایک لمحے میں فیصلہ کیا ۔اورمیں نے سڑک پر خانیوال کی طرف یا میاں چنوں کی طرف جانے کی بجائے گاوں کی طرف موٹر سائیکل موڑ دی ۔

ایک گاوں سے دوسرے گاوں میں جتنی رفتار ممکن تھی بائیک دوڑا رہا تھا ۔شاذیہ مجھے سے چمٹی ہوئی تھی ۔ایک گھنٹے بعد ہم ایک اور سڑک پر نکل آئے ۔میں نے اندازے سے خانیوال کی دوسری طرف کا راستہ اختیار کیا ۔ہماری کوشش تھی زیادہ سے زیادہ دور نکل جائیں ۔ایک جگہ مرغی خانہ بنا ہوا تھا ۔اور سڑک پر ہی ایک نلکا لگا ہوا تھا ۔میں نے وہاں جا کر بائیک روک دی ۔

”شہباز ۔اب کیا ہو گا ۔مم ۔۔میں نے لطیف کو قتل کر دیا “شاذیہ نے کپکپاتی ہوئی آواز میں پہلی بار گویا ہوئی ۔میں نے دلاسہ دیا ”اللہ کرم کرے گا ۔تم نے جان بوجھ کر گولی نہیں چلائی تھی “”لطیف اپنی طرف پستول کھینچ رہا تھا ۔میں اپنی طرف اچانک مجھ سے گولی چل گی “میں نے نلکے سے اپنا منہ ہاتھ دھویا ۔سر سے خون بہ کر جم گیا تھا ۔ہم دونوں نے پانی پیا ۔اور اچانک رونے لگی ۔”وہ زریاب ۔۔۔زرقا۔۔۔“

”میرا وعدہ میں ان کو لے آوں گا ۔۔یہاں زیادہ رکنا مناسب نہیں “۔ایک بار پھر ہمارا سفر جاری ہو گیا ۔”ہم جا کہاں رہے ہیں “ ۔”مجھے خود علم نہیں کوئی شہر آئے گا تو دیکھیں گے “اور ایسا ہی ہوا تھوڑی دیر بعد ایک شہر کے آثار نظر آئے ۔میں نے بورڈ پڑھا لکھا تھا ”ٹبہ سلطان پورا“یعنی ہم وہاڑی اور ملتان کے درمیان میں تھے ۔ایک پی سی او پر جا کر میں نے عمران کی دکان کا نمبر ملایا ۔(ان دنوں موبائل فون عام نہیں ہوئے تھے ) عمران نے فون اٹھایا ۔میںنے ساری صورت حال بتائی ۔تو وہ سکتے میں رہ گیا ۔کافی دیر بعد اس نے کہا ۔”ایسا کرو ٹبہ سلطان پورا میں قائد اعظم سکول میں جاو۔اس کے ساتھ ہی غلام مصطفے ولد حیدر علی کا پوچھ لینا ۔میرا نام بتا کر موٹر سائیکل اسے دے دو ۔اور اس سے دو ہزار مانگ لینا ۔مجھ سے بات کروا دینا ۔پھر سیدھے بہاولپور میرے دوست ولید کے گھر چلے جاو “مزید دس منٹ وہ مجھے سمجھاتا رہا ۔جلد ہی میں نے قائد اعظم سکول ڈھونڈ لیا ۔غلام مصطفے کا گھر تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوئی ۔اس سے دو ہزار لے کر میں اور شاذیہ دو گھنٹے بعد بس میں بیٹھے بہاولپور جارہے تھے ۔ان دو گھنٹوں میں میں نے اپنے لیے ٹوپی ،ایک عینک اور شاذیہ کے لیے برقع خریداتھا ۔ہماری منزل بہاولپور اور منڈی یزمان کے درمیان واقع ایک قصبہ نظام آباد تھی۔دو گھنٹے بعد بس بہاولپور جنرل بس اسٹینڈ پہ پہنچ گئی۔وہاں سے ہم بذریعہ کوسٹر نظام آباد پہنچ گئے ۔عمران کے دوست ولید کا ایڈریس ہم نے آسانی سے تلاش کرلیا تھا۔میں نے دروازہ کھٹکٹایا تو میری ہی عمر کا ایک نوجوان باہر آیا۔

”ولید سے ملنا ہے “ میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔

”میں ولید ہی ہوں ۔“ اس نے کہا اس کے بعد میں نے اپنا تعارف کروایا تو وہ گرمجوشی سے مجھے ملا۔

”دو گھنٹے پہلے عمران بھائی کا فون آیا تھا۔اس نے تمہارے متعلق بتایا تھا ۔“

ہم اس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوئے ۔وہ اپنی ماں اور ایک بہن کے ساتھ رہتا تھا۔

اس کی ماں کا نام بھی زبیدہ تھا مجھے اپنی ماں یاد آئی ۔خالہ زبیدہ نے شازیہ اور میرے سر پہ شفقت سے ہاتھ پھیرا۔

ولید ہمیں کمرے میں بٹھا کر باہر چلا گیا۔”میں ابھی عمران کو فون کر کے آیا “۔تاہم خالہ اور نورین ہمارے پاس بیٹھی رہیں۔تھوڑی دیر بعد ولید کھانے پینے کے لوازمات لے کر آگیا۔

کوک اور بسکٹ سے ہماری تواضع کی گئی۔پھر کھانا کھلایا گیا۔

کھانے کے بعد ولید نے کہا۔

”اسے اپنا ہی گھر سمجھیں ۔اور سب فکر یں ختم کر دیں “

ہم دونوں کمرے میں موجود چارپائیوں پہ لیٹ بیٹھ گئے ۔

ہم آنے والے وقت کے بارے باتیں کرتے رہے ۔ولید کہیں چلا گیا تھا۔وہ شام کو گھر واپس آیا۔خالہ اور نورین رات کا کھانا تیار کررہی تھی۔شازیہ اس کے ناں ناں کے باوجود ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ہم نے رات کا کھانا کھایا۔کافی دیر تک ہم باتیں کرتے رہے ۔نیند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔دوسروں کے آرام کا خیال کرتے ہوئے ۔ہم لیٹ گئے تھے ۔

دوسرے دن ولید کام پر گیا تو واپسی پر اخبار لیتا آیا ۔دوسرے صفحے پر تین کالمی خبر تھی ۔

دو بچوں کی ماں خاوند کو قتل کر کے آشنا کے ساتھ فرار۔

شمس آباد کی رہائشی شاذیہ نامی خاتون نے اپنے آشنا شہبازکے ساتھ مل کر اپنے خاوند محمدلطیف کو گولی مار کرہلاک کر دیا ۔بعد ازاں آشناکے ساتھ فرار ہو گئی۔بتایا جاتا ہے کہ قاتلہ کے دو بچے ہیں۔ پولیس نے متوفی کے والد چودھری الیاس کی درخواست پرملزم شہباز کے خلاف قتل اور اغواءکا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

؟ ؟ ؟

ہمیں نظام آباد آئے ہوئے چار دن ہوگئے تھے ۔شاذیہ نے نورین اور میں نے ولید کے کپڑے جوتے پہنے ہوئے تھے ۔ہم گھر میں اکیلے تھے ۔ولید کا م پر ، خالہ اور نورین منڈی یزمان ہمارے لیے کپڑے جوتے اور دیگر سامان لینے گئی ہوئیں تھیں ۔میں نے ایک بات نوٹ کی تھی کہ شازیہ بجھی بجھی سی رہتی تھی۔

اس وقت بھی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔”شازیہ کیا سوچ رہی ہو؟“میں نے آہستگی سے کہا۔

”شہباز ! میں زرقا اور زریاب کے بغیر نہیں رہ سکتی۔میرے بچوں کو بھی لے آو ¿۔“

وہ نمناک نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔”تم فکر نہ کرو۔میں آج ہی عمران سے بات کرتا ہوں۔“میں اس کی آنکھوں میں اتری نمی دیکھ کر تڑپ گیا تھا۔پھر اسی شام میں نے پی سی او پہ جاکر عمران سے بات کی،اس سے شازیہ کے بچوں کے بارے پوچھا۔اس نے بتایا کہ شازیہ کے دو نوںبچے تو اس کا بھائی سرفراز فیصل آباد لے گیا ہے ۔گھر آکر میں نے یہ بات شازیہ کو بتادی۔رات میں دیر تک جاگتا رہا اور ذہن میں آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیتا رہا۔

ٹھیک دو دن بعد مجھے ایک اینٹوں کے بھٹے پر منشی کا کام مل گیا ۔چند دن بعد میں شاذیہ کے ہمراہ وہاں منتقل ہو گیا ۔مجھے گھر سے آئے ہوئے پندرہ دن ہو چکے تھے ۔میں نے گھر کی کوئی خیر خبر نہیں لی تھی اس دن میں نے بھائی اعجاز کو کال کی وہ بہت فکر مند تھے ۔میں نے حوصلہ دیا ۔اورکہا کہ امی کی صحت بارے بتاتے رہا کریں ۔پولیس والوں نے اب جا کے ان کی جان چھوڑی تھی وہ بھی بھائی اعجاز جس سکول میں پڑھاتے تھے وہاں کے ہیڈ ماسٹر نے ایم پی اے کو لے معاملہ طے کیا تھا ۔

اب پریشانیاں کم ہو رہی تھیں ۔ایک دن میں شاذیہ کو بتا کر بچے لینے فیصل آباد چلاگیا ۔میں جانتا تھا کہ سرفراز دن کو گھر نہیں ہوتا۔میںدن بارہ بجے کے قریب ان کے دروازے پہ دستک دے رہا تھا۔میں ہر خطرناک صورت حال کے لیے ذہنی طور پہ تیار تھا۔میرا ہاتھ نیفے میں اڑسے لوڈڈ تیس بور پسٹل کے اوپر تھا۔

دوسری دستک پہ سلمی نے دروازہ کھولا۔”شہباز تم۔۔۔۔“وہ حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔اتنی دیر میں،میں نے اسے ایک طرف دھکیلتے ہوئے گھر میں داخل ہوکر دروازہ بند کردیا تھا۔

”شہباز تم یہاں کیوں آئے ہو؟“سلمی کے لہجے سے تفکر عیاں تھا۔”میں شازیہ کے بچوں کو لینے آیا ہوں۔“میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔پھر ذرا توقف کے بعد بولا۔”امید ہے کہ آپ تعاون کریں گی۔ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔اور شور مچانے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔“

آخر میں میرا لہجہ سرد ہوگیا تھا۔” میں تو خود چاہتی ہوں کہ شازیہ کے بچے اس کے پاس چلے جائیں۔تم بچے لے جاو ¿۔۔مگرمیں سرفراز کو کیسے مطمئن کروں گی ؟“

وہ ایک لمحہ خاموش ہوئی پھر بولی۔”تم میرے کام آو ۔۔تو میں تمہارے کام آوں گی ۔تم بہت ظالم ہو۔تمہیں میرے احساسات و جذبات کی پرواہ تک نہیں۔تم نے میری تذلیل کی تھی۔“

”اوہ “میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔

”بیٹھ جاو ¿۔“اس نے صحن میں رکھی چارپائی کی طرف اشارہ کیا

میں چارپائی پہ بیٹھ گیا۔سلمی بھی میرے برابر بیٹھ گئی۔

” اگر تم بچوں کو لے جانا چاہتے ہو۔تو شوق سے لے جاو ¿“وہ میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دبا کر بولی

پھر کہا۔

”مگر یہ سب صرف میری اجازت سے ہی ممکن ہے ۔اگر زبردستی کرو گے تو یہاں سے کبھی نہیں جاسکو گے ۔۔۔اور۔۔۔“

”بچے ہیں کہاں ۔“میں نے اس کی بات کاٹی ۔

”وہ کمرے میں سورہے ہیں۔اگر ان کو زبردستی لے جانا چاہو گے ۔وہ راستے میں شور مچاکر تمھارے لیے مصیبت کھڑی کردیں گے ۔“

وہ شاطر عورت مجھے خوفزدہ کررہی تھی۔

میں ایک پل میں سب سمجھ گیا۔وہ ہوس کی ماری عورت میری کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔

وقت بہت کم تھا۔میں اس کے ساتھ چلا کمرے میں چلاگیا۔آدھے گھنٹے بعد وہ اور میں کمرے سے باہر آگئے ۔ایک عورت اپنی عزت گنوا کر فاتح ٹھہری تھی۔

میں نہانے کے لیے واش روم میں جانے لگا توسلمی نے کہا ”میں بچوں کو تیا ر کر دیتی ہوں ۔ان کوگھر سے باہر چھوڑ کر مجھے زخمی کر جانا تا کہ تمہارے جانے کے بعد میں شور کر کے محلہ اکھٹا کر لوں گی ۔اس طرح سرفراز کو میری بات کا یقین آ جائے گا ۔“

جب میں نہاکر نکلا تو وہ بچوں کو تیار کرچکی تھی۔پتہ نہیں اس نے انہیں کیا کہا تھا؟وہ دونوں مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔

میں ان کو گھر سے باہر لایا اور کہا ۔”ایک منٹ رکو میں ابھی آیا ۔زرقا کوئی تانگہ والا آئے تو اسے روک لینا “

میں واپس اندر آیا ۔نیفے سے پسٹل نکالا ۔اس نے یہ کہتے ہوئے اپنا سر میرے آگے جھکایا ۔”صرف اتنی چوٹ لگانا میں برداشت کر سکوں “

لیکن میں نے پوری قوت سے اس کے سر پر پسٹل کا دستہ دے مارا ۔وہ چکرا کر گری اور بے ہوش ہو گی ۔میرے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔پھر میں وہاں نہیں رکا ۔

ایک گھنٹے بعد میں بچوں کو لے کر فیصل آباد لاری اڈے پہ صادق آباد جانے والی بس میں بیٹھ چکا تھا۔بس روانہ ہونے تک میں مضطرب رہا۔آخر تین گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد ہم بہاولپور پہنچ گئے ۔جب ہم نظام آباد پہنچے تو مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔

شازیہ بچوں کو اپنے سامنے پاکر بہت خوش ہوئی تھی۔بچے بھی خوش ہوگئے تھے ۔وقت گزرتا رہا۔آخر چار ماہ بعد میں نے شازیہ کے ساتھ خاموشی سے نکاح کرلیا۔میں اس دن بہت خوش تھا۔اب میں شہباز سے منشی شہباز بن گیا تھا۔دن پر لگا کر اڑنے لگے ۔شادی کے تین سال بعد اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا۔اب میں ایک بیٹی کا باپ بن گیا تھا۔میں نے بیٹی کا نام نور العین رکھا ۔میں نے شازیہ کے بچوں کو بھی ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح سمجھا۔دن ہنسی خوشی گزرنے لگے ۔ماہ و سال بدلتے رہے ۔مجھے نظام آباد آئے آٹھ سال ہوگئے تھے۔اب اپنا گھر تھا۔زندگی میں سکون ہی سکون تھا۔عمران اور میرا رابطہ اکثر ہوتا رہتا تھا۔میں ایک بار چوری گھر سے بھی ہو آیا تھا ۔

وہ بہار کی ایک خوبصورت صبح تھی۔میں بھٹے پہ جانے کے لیے گھر سے نکل رہا کررہا تھا اچانک پی سی او والا لڑکا آگیا۔”منشی چاچو!آپ کے دوست عمران نے کال کی ہے ۔آپ کی امی جان فوت ہوگئیں ہیں۔“

اس لڑکے نے اطلاع دی۔

؟ ؟ ؟

میری شہباز سے دس سال بعد آخری ملاقات اس کی والدہ کی وفات پر ہوئی تھی ۔ جب اس نے میرے اصرار پر اپنی ساری کہانی سنائی تھی۔شہباز گاوں سے شہر میں جب جماعت نہم میں داخل ہوا تو چند دنوں میں ہی میرا دوست بن گیا ۔ہم نے مل اپنی زندگی کی سب سے پہلی فلم سکول سے بھاگ کر دیکھی تھی ۔بی اے تک وہ کلاس فیلو رہا ۔امتحانات سے چند دن قبل غائب ہو گیا ۔کافی دن جب وہ اسکول نہیں آیا تو ہم چند دوست مل کر اس کے گھر گئے ۔اس کی والدہ آنٹی زبیدہ نے بتایا ”شہباز کو غائب ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے ۔اس کے بعد انہوں نے شہباز کی ساری کہانی سنائی تھی کہ وہ شاذیہ کو بھگا کر لے گیا ہے ۔ کہاں چلا گیا ہے کوئی پتہ نہیں ۔اسے زمین نگل گئی یا آسمان کوئی پتہ نہیں چل رہا ۔“

دن ہفتوں میں،ہفتے مہینوں اور مہینے سال میں بدلتے گئے ۔شہباز کی امی کی حالت پاگلوں کی سی ہو کر رہ گئی تھی۔پہلے اس کا خاوند فوت ہوا ۔پھر بیٹا غائب ہو گیا ۔بیٹے کے یوں غائب ہو جانے سے سب کچھ بدل گیا۔جب تک ہم سیالکوٹ رہے ۔میں ہر ماہ دو ماہ بعد شہباز کے گھر جاتا رہا ۔پھر میرے والدین اس علاقے سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے ۔ تو جانا کم ہو گیا ۔

کوئی دو سال بعد میری صابرسے ملاقات ہوئی تو اس نے شہباز کے بارے میں بتایا کہ وہ شاذیہ کو بھگا کر لے گیا تھا اوربہاولپور کے ایک نواحی گاوں میں رہنے لگا ہے ۔اس کے بعدجب کبھی صابرسے ملاقا ت ہوتی تو شہباز کا ذکر ہو جاتا ۔کیونکہ صابر کے کزن عمران کا شہباز سے مسلسل رابطہ تھا ۔

شام ہو رہی تھی جب میں اپنے گھر پہنچا ۔تو بیوی نے اطلاع دی کہ صابر کی کال آئی تھی ۔اس نے شہباز کی والدہ کی وفات کی اطلاع دی تھی ۔میں اسی وقت تیار ہو کر سیالکوٹ شہباز کے گاوںجا پہنچا ۔رات کے تقریبا دس بج رہے تھے ۔وہاں میری صابر ،عمران اور شہباز سے ملاقات ہوئی ۔وہ رات زندگی کی ان راتوں میں سے ایک رات تھی جب ہم چاروں دوست ساری رات بیٹھے ماضی کی باتیں کرتے رہے ۔اس رات شہباز نے اپنی ساری کہانی مجھے سنائی تھی۔شہباز اپنی بیوی اور بچوں سمیت آیا تھا ۔دوسری صبح اس نے شاذیہ اور بچوں سے ملوایا ۔میںصابر اور عمران تو دوسرے دن وہاں سے واپس آ گئے لیکن شہباز وہاں ہی رہا ۔اس نے بتایا کہ وہ والدہ کے سوئم کے بعد واپس بہاولپور چلا جائے گا ۔اس کے کوئی تین ماہ بعد میں نے یہ روح فرسا خبر پڑی تھی ۔میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ ایک خبر پڑھ کر میں ساکت رہ گیا ۔خبر کو میں نے بار بار پڑھا ۔میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔

نامعلوم افراد نے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو قتل کر دیا!

بہالپور کے نواحی قصبے نظام آباد میں نامعلوم افراد نے ایک گھر میں گھس کر میاں بیوی اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو تیزدھار آلے سے قتل کر دیا۔ نامعلوم افراد نے گھر میںگھس کر اہل خانہ کو یرغمال بنالیا،مزاحمت پر شہباز، اس کی بیوی شاذیہ، آٹھ سال کی بیٹی نور العین ،چودہ سال کی بیٹی زرقا ،بارہ سالہ شاہ زیب کو تیزدھار آلے سے گلے کاٹ کر موت کے گھاٹ اتاردیا۔عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد قتل کی واردات کے بعد گھر میں موجود زیورات اور دیگر سامان بھی لے گئے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے ۔تاہم پولیس نے شواہد اکٹھے کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔

؟ ؟ ؟

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    ایک محبت زادے کی خود سے بڑی لڑکی سے محبت اور شادی کی کہانی اچھی لگی.مگر شہباز کو سلمہ کے نزدیک نہیں جانا چاہئیے تھا۔جو شہباز کی سب سے بڑی غلطی تھی.ایک طرف شہباز شازیہ سے پاکیزہ محبت کرتا تھا.مگر دوسری طرف شہباز نے بچے حاصل کرنے کے لئے سلمہ کے ساتھ ناجائز تعلقات بنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے