سر ورق / کہانی / سوز عشق ۔ وسیم بن اشرف

سوز عشق ۔ وسیم بن اشرف

مصنف کا تعارف:

علامہ راشدالخیری کے فرزند ایک قدیم علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ صادق الخیری 1915ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے۔ 1989ءمیں کراچی میں وفات پائی۔ ”نشیمن“ صادق الخیری کا شاہکار ہے۔ اس میں ان کا کمال فن نظر آتا ہے۔

یہ طویل رومان…….. اپنی انفرادیت کی وجہ سے آرٹ کا اچھوتا نمونہ ہے۔ یہ ایک خوش آئند نغمہ ہے جو زندگی کے ساز سے ایک خاص سوز کے ساتھ بلند ہوا ہے۔ اس نغمے میں راگ کی جملہ نزاکتیں اور باریکیاں نمایاں ہیں۔ مگر یہ راگ دیپک ہے جس کے سروں سے شعلے لپکتے ہیں اور موسیقار کو جلا کر بھسم کر دیتے ہیں۔ یہ افسانہ سوز عشق کا ہے جس نے عشق کے ساتھ حسن کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا۔ مگر یہ جلی ہوئی خاک، غبار راہ نہیں بنتی۔ سرمہ چشم بنتی ہے اور بصارت کے ساتھ بصیرت کو بھی نور بخشتی ہے۔صادق الخیری نے کئی ناول اور متعدد افسانے بھی تخلیق کئے، اور ایک جاپانی ناول کا ترجمہ بھی کیا، اس ناول کو بھی بے حد سراہا گیا۔

صادق الخیری کی دیگر تصانیف:

گنجینہ گوہر کھلا    نایاب ہیں ہم             آسماں کیسے کیسے؟

بہترین افسانے:

انکشاف حقیقت        دھنک                      شمع انجمن

لب پہ آ سکتا نہیں   اے عشق کہیں لے چل (ترجمہ)

صادق الخیری کے شاہکار ناول ”نشیمن“ کی تلخیص

”سوزِ عشق“

تلخیص:۔ وسیم بن اشرف،

ایک فنا کا جھونکا آیا اور وہ شمع شبستان حیات جھلملا کر گل ہو گئی۔ پرویز چپ چاپ دیکھتا رہ گیا۔ سب کچھ سہنا پڑا اور سوائے ہاتھ مل کر رہ جانے کے کچھ نہ کر سکا۔ وہ اس کی ہمدم و غمگسار تھی۔ صحیح معنوں میں شریک زندگی اور رفیق حیات تھی۔ اس نے اس کے آرام کی خاطر اپنے سکھ کو ہمیشہ قربان کیا اور پرویز کو اعتراف تھا کہ اس کی نیک نامی و عزت، اس دولت و عظمت کا باعث اس کی مرحوم بیوی ہی تھی جواس کی ناکامیوں اور مایوسیوں کے لئے فتح و نصرت کا پیام لائی، جس نے اسے بارہا گرتے ہوئے سنبھالا اور جس نے اپنی سعی ¿ پیہم سے اسے بام عروج پر پہنچایا۔ لیکن یہ جلوہ ¿ مختصر کیوں؟ کیوں وہ اس قدر جلد رخصت ہو گئی؟ اس کا کوئی کیا جواب دے! ساری دوڑ دھوپ بیکار ثابت ہوئی۔ یہاں تک کہ موت اس کے سر پر رقص کرنے لگی۔ پرویز کو یقین ہو گیا کہ اب ڈاکٹر اسے نہیں بچا سکتے۔ اور کوئی دم میں وہ لحد کی آغوش میں جا سوئے گی۔یہی ہونا بھی تھا۔ وہ دھان پان، نازک سی دلہن، وفاکیش و جانہار، جس کی پالکی ایک دن بڑی دھوم دھام سے اس کے ہاں آئی تھی، اس کی میت بصد حسرت و رنج اس روز اس کے گھر سے نکلی۔

پرویز ہنس کی طرح زخم کھا کر خاموش ہو گیا۔ اسے اس کا بڑا ملال تھا کہ جاتے جاتے رعنا نے مجھ سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔ کوئی وعدہ نہیں لیا۔ وہ صرف اسے تکتی رہی، ٹکڑ ٹکڑ دیکھتی رہی۔ شاید وہ زبان خموش سے کچھ کہہ رہی تھی لیکن وہ ان نظروں کو نہ پہچان سکا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ دم واپسیں زبان کا کام نگاہ دیتی ہے۔ اسی لئے وہ اس کا پیغام سمجھنے سے قاصر رہا، حالانکہ وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں بہت کچھ کہتی رہی۔ وہ اب بھی اسے دلاسا دے رہی تھی۔ کہہ رہی تھی ”میرے غم میں یوں آنسو نہ بہانا…. میری روح کو یوں رنج نہ پہنچانا“ لیکن پرویز نے کچھ نہیں سنا۔ کچھ نہیں سمجھا بلکہ اس کی طرف اشکبار نگاہوں سے یوں دیکھے گیا، جیسے وہ انسانی بے بسی بیان کررہا ہو کہ ہم اب تمہیں نہیں روک سکتے۔ نہیں ٹھہرا سکتے۔ اور تم ہم سے بچھڑ کر موت کے اندھیرے میں چلی جا ¶ گی۔ تن تنہا۔ اکیلی! لیکن وہ بالکل خوف زدہ معلوم نہیں ہوتی تھی۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار قطعی نہیں تھے۔ البتہ اس کی نظروں میں ترس اُمڈ آیا تھا اوروہ گویا بیچارگی سے کہہ رہی تھی ”پرویز…. میرے پرویز! تم اپنا دل یوں میلا نہ کرو۔ مردیوں نہیں روتے…. تمہیں میری جان کی قسم! میرے بعد تم ہمیشہ خوش و خرم رہنا….“ اشارے اور کنائے تو خود شراروں کی طرح آن واحد میں گم ہو جاتے ہیں۔ اس پر جانکنی طاری ہو گئی۔ اس کا تعلق دنیا اور دنیا والوں سے قطع ہو گیا۔ جانے دو، جانے دو اسے، بلند، اور بلند، تاریکی اور نور…. نور اور تاریکی…. نہ جان کہاں؟…. اور یہاں پہنچ کر تخیل بھی عاجز ہے۔

٭………………..٭

رعنا کی موت سے پرویز کی زندگی نے ایک نئی کروٹ لے لی تھی۔ اس کی جدائی سے اس کے دل پر ایک گہرا داغ لگا تھا اور دنیا اس کی نظروں میں اندھیر ہو گئی تھی۔ لیکن وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ ہرے ہرے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی کیفیت اس کی بھی جاتی رہی۔ البتہ کبھی کبھی مرحومہ کا خیال اسے بری طرح ستانے لگتا تھا۔ جیسے اس کی عزیز ترین شے اس سے چھن گئی ہے، اور وہ پہروں اس کی یاد میں کھو جاتا۔

ایک دفعہ اس کے دل میں آئی کہ اگر کسی طرح مجھ پر خود فراموشی طاری ہو جائے تو بہت اچھا ہو۔ یہ دکھ کا احساس تو نہ رہے گا۔ یہ روح کی خلش تو نہ رہے گی۔ پر یہ خود فراموشی کیسے ہو؟ کیونکر وہ اپنے آپ کو بھول جائے؟ اور یہ سوچتے سوچتے اسے اوہنری کے فسانے (A ramble in aphasia)کا خیال آ گیا۔ الوین بلفورڈ پر بھی تو بھول کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ اسے تو اپنا نام تک یاد نہ رہا۔ اپنے آپ کو ایڈورڈ، پنک ہیمر کہا کرتا تھا۔ لیکن نہیں۔ وہ تو بنتا تھا۔ اس نے تو خود فراموشی کا ڈھونگ رچایا تھا۔ مگر اس کے دل نے کہا کہ”کاش مجھے سچ مچ نسیان ہو جائے! میں اپنے وجود تک کو بھول جا ¶ں۔ اپنی ہستی سے منکر ہو جا ¶ں۔ مجھے اپنے بیتے ہوئے حالات اور نام تک یاد نہ رہے….“ پھر اس نے توبہ کر لی، نہیں، نہیں، مجھے خود فراموشی نہیں چاہیے مجھے (aphasia) نہیں چاہیے۔

کم از کم ایک بات کا اسے بڑا اطمینان تھا، اوروہ یہ کہ دانستہ اس سے مرنے والی کو کبھی کوئی رنج نہیں پہنچا۔ اس کی کبھی کوئی حق تلفی نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ ہمیشہ اس کی قربانیوں کو سراہتا رہا، اس کی خوبیوں کی داد دیتا رہا اور اس کی والہانہ محبت کی قدر کرتا رہا۔ وہ بھی یہ سب کچھ جانتی تھی۔ پرویز کی محبت اور قدرشناسی کا اسے اچھی طرح علم تھا۔ چنانچہ وہ اس سے خوش گئی۔ شاید اسی لئے وہ اسے خواب میں پریشان نہیں دکھائی دی اور نہ اس کے کسی خواب نے پرویز کو آزردہ خاطر کیا بلکہ وہ ہمیشہ مطمئن نظر آتی اور اس کا خواب ایک حکایت شیریں کی مانند دل پسند اور تشفی آمیز ہوتا۔

پرویز کو اس سے جو قلبی تعلق تھا اس کی بناءپر اس پر اب بھی کبھی کبھی اداسی طاری ہو جاتی تھی اور وہ ایسا محسوس کرتا کہ اس کے بغیر وہ اس بھری پری محفل میں بے سہارا اور تن تنہا ہے۔ ایک دن جب وہ پھر اس کی یاد میں اچانک بے قرار ہو گیا تو وہ اس سے ملنے چلی آئی۔ اس نے دیکھا کہ وہ سپید اور نازک کپڑوں میں سر تا پا ملبوس اس کے قریب مسہری پر بیٹھی ہوئی مسکرا رہی ہے۔ پرویز متحیر رہ گیا۔ یہ خواب ہے یا اصلیت؟ بیداری اور روز روشن میں خواب تو نہیں دکھائی دیتے۔ ضرور میری وارفتگی اور کشش اسے بہشت سے کھینچ لائی ہے۔ اور اس خوف سے کہ کہیں اس کی ذرا سی حرکت یہ ظلم درہم برہم نہ کر دے، وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ یہ خواب بھی تھا تو اصلیت سے بہتر تھا کیونکہ اس کے اس وجود میں زندگی کے تمام آثار تھے، اوروہ اس سپنے کو کسی طرح ٹھیس لگانا نہیں چاہتا تھا۔

رعنا کے مسکراتے ہوئے لب غنچہ ناشگفتہ کی طرح بند ہوگئے اور اس نے ایسی آواز میں جو بہت دور سے آ رہی ہو، آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا ”پرویز…. تمہارا نالہ فراق مجھے ہمیشہ تڑپاتا رہا۔ تمہاری خاموش محبت مجھے رلاتی رہی۔ آخر آج میں تم سے ایک بات کہنے چلی آئی….“ یہاں اس کا لہجہ غمناک ہو گیا…. ”تمہیں یوں بے حال دیکھ کر میں ہر وقت کڑھتی ہوں…. مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ تم میری یاد میں یوں ہلکان ہوتے رہو۔ اچھے پرویز! اپنی طبیعت کو سنبھالو! وہ تمہارا وائلن کہاں ہے؟ اور تمہیں سیر و سیاحت کا جو شوق تھا، تم اسے پورا کیوں نہیں کرتے….؟“ یہ کہتے کہتے اس کے نقوش، اس کی آواز کی طرح، دھندلے ہوتے گئے۔ گویا اسے جو بات کہنی تھی، وہ ختم ہو گئی ہے اور دروازے کے پاس پہنچ کر وہ سفید لباس اور نورانی شکل نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

پرویز تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ ”ذرا ٹھہرو۔ ذرا ٹھہرو۔ ٹھہرو رعنا…. رعنا“۔ وہ دروازے کی طرف لپکا مگر طلسم خیال ٹوٹ چکا تھا۔ خواب کی تاثیر ختم ہو گئی تھی۔ البتہ اس کی نگاہیں ابھی تک دروازے میں لٹکے ہوئے ریشمی پردے پر جمی ہوئی تھیں جواس طرح ہل کر ساکت ہو گیا تھا جیسے کوئی وہاں سے گزرا ہو۔ ”نہیں“ وہ ازخود کہنے لگا۔ ”مجھے دھوکہ نہیں ہوا۔ میری آنکھوں نے فریب نہیں کھایا۔ رعنا بذات خود میرے پاس آئی تھی، خود، بہ نفس نفیس۔ یہ اسی کی مخصوص خوشبو ہے جو اس کے اجلے بدن اور اس کی دل پسند خوشبو ¶ں سے مل جل کر پیدا ہوتی تھی، ہاں، یہ ساری فضاءاسی خوشبو سے مہک رہی ہے“ اور وہ فضاءمیں اس طرح سانس لیتے ہوئے ٹہلنے لگا جیسے وہ ساری خوشبو اپنے آپ میں جذب کر لے گا۔

”میری رعنا مجھے تسلی دینے آئی تھی۔ وہ اب بھی مجھے بچوں کی طرح سمجھاتی ہے۔ اس نے مجھے سیاحت اور وائلن کی یاد دلائی ہے۔ واقعی مجھے وائلن بجائے ایک عرصہ گزر گیا ہے….“ اور بہت دیر تک اسے ایسا معلوم ہوتا رہا کہ رعنا ابھی ابھی اس کمرے سے گئی ہے، بلکہ اس کی آواز ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ پھر، آہستہ آہستہ اس کی بے چینیاں اور بے قراریاں ماضی کے دھندلکے میں تحلیل ہو گئیں اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کی طبیعت ہلکی ہو گئی ہے اور اس کا دل اس ہلال نو کی مانند ہو گیا ہے جس میں ابھی ابھی تابانی اور درخشندگی آنے والی ہے اور جو ایک دن بدر کامل بن کر چمکے گا۔

٭………………..٭

پرویز نے سیاحت کے لئے بمبئی کو منتخب کیا جس کی تفریحوں اور سیرگاہوں کی اس نے بارہا تعریف سنی تھی۔ چنانچہ ضروری سامان کے ساتھ وہ ایک دن ہندوستان کے اس مشہور اور عظیم الشان شہر میں آوارد ہوا جس کی ادائیں عروسانہ اور جلوے بے حجابانہ ہیں۔

کولابے میں جو خاصے امیر لوگوں کا علاقہ ہے، اس نے ایک چھ منزلہ عمارت میں خوبصورت سا فلیٹ کرایہ پر لیا اور دن رات کا بیشتر حصہ وہ سیروتفریح میں گزارنے لگا۔ وہاں کی ریت کے مطابق وہ کھانا عموماً ہوٹلوں میں کھایا کرتا تھا اور چونکہ بمبئی فاصلوں کا شہر ہے اس لئے کبھی ٹیکسی اور بجلی کی ریلوں میں اور کبھی بسوں اور وکٹوریہ میں آیا جایا کرتاتھا۔ کیا ملکی اور کیا غیر ملکی، بلکہ خود ملکیوں میں بیسیوں مقاموں اور صوبوں کے لوگ بکثرت یہاں نظر آتے ہیں۔ اسی لئے کئی زبانیں اور کئی لباس رائج ہیں۔ البتہ ایک چیز مشترک ہے۔وہ یہ کہ ایک کا مافی الضمیر دوسرا کسی نہ کسی طرح ضرور سمجھ لیتا ہے، نیز یہ کہ ننگا کوئی نہیں پھرتا۔ یہاں کے رہنے والوں کی اس نے ایک خصوصیت یہ دیکھی کہ وہ بہت تیز چلتے ہیں، اور اکثر کاروباری ذہنیت کے مالک ہیں۔ کہیں کا راستہ پوچھیے تو بجائے فاصلے کے، وقت کے پیمانے میں ناپ کر بتائیں گے۔ علاوہ ازیں یہاں ہر شخص دوسرے سے بے نیاز ہے۔ کسی کا پڑوسی کروڑپتی ہے تو کسی کو حسد یا جلن نہیں۔ اور اگر کوئی حاجت مند ہے تو کسی کو اس سے ہمدردی نہیں۔

اس نے وہاں کی مشہور تفریح گاہوں اور خیال افروز مقامات کی خوب سیر کی۔ چوڑے چوڑے کھلے بازاروں کے ساتھ ساتھ تنگ و تاریک گلیوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ امیروں کے قہقہوں میں غریبوں کی آہوں کو بھی ڈوبتے ہوئے دیکھا۔ نور کی کرنوں میں ظلمات کی چھینٹیں بھی چھپتی دیکھیں۔ ان علاقوں میں بھی پھرا جہاں دولت مندوں نے سربفلک اور بیش قیمت محل کھڑے کر رکھے ہیں، اور ان مقامات پر بھی نظر کی جہاں غرباءنے مل کر اپنی گندی اور تاریک بستیاں بنا رکھی تھیں۔

سہ پہر کے قریب پرویز اپنی قیام گاہ پر واپس آیا تو زینے پر چڑھتے ہوئے اس فلیٹ کے سامنے سے گزرا جس میں وہ گجرات کی دوشیزہ رہا کرتی تھی۔ اس نے دیکھا کہ دروازے کا ایک پٹ کھلا ہوا ہے، اور وہ رہزن تمکین و ہوش، لوہے کے اسپرنگ دار پلنگ پر عجیب انداز دلربائی سے لیٹی ہوئی ہے۔ اور عین اس لمحے جب پرویز کی نظریں بلاکسی قصد کے اس کی تکیوں کے سہارے ٹکی ہوئی نیم عریاں کمر پر پڑیں، اس گجراتن نے اسے دیکھ لیا۔ اور پھر جب ایک ثانیہ کے لئے ان دونوں کی نگاہیں چار ہوئیں تو وہ پارہ ¿ برق کی مانند اس انداز سے اٹھ کر بیٹھ گئی گویا اسے اندر آنے کی دعوت دے رہی ہے۔ اور ایکاایکی اس نے اپنے رس بھرے ہونٹوں کو جو جوانی کی دمک سے گلنار ہو رہے تھے، اس طرح جنبش دی جیسے شباب سے لبریز لب اس وقت حرکت کرتے ہیں، جب ان پر نہایت جوشیلے اور والہانہ طور پر مہر محبت ثبت کی جائے…. لیکن پرویز نے یہ سب کچھ نظرانداز کر دیا، اور ان اشاروں کے متعلق جو وقت کے کم سے کم حصے میں کئے گئے تھے، کوئی خیال آرائی کے بغیر، وہ چشم زدن میں اپنے فلیٹ کی سیڑھیوں کی طرف مڑ گیا۔ اور جونہی وہ اوپر چڑھا اس نے نچلی منزل میں دروازے کے بہت زور سے بند ہونے کی آواز سنی۔

یہ وہی گجراتن تھی جس نے جھنجھلا کر دروازہ بند کیا تھا۔ دراصل پرویز کے اس طرح چلے جانے سے اس کے پندار شباب کو ٹھیس لگی تھی اور اس کی اس بے رخی نے اسے ضد اور خلجان میں مبتلا کر دیا تھا۔ ویسے بھی اسے اس بات کی بڑی خلش تھی کہ اس نووارد نے، اس بانکے نوجوان نے، آج تک اس کی بارگاہ حسن میں اپنا خراج بے قراری ادا نہیں کیا۔ اس سے اس درجہ بے نیازی! اور آج اس کی دعوت شوق کی اس قدر بے قدری! اس کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ مگر وہ کیا کر لیتی؟ کیا کر سکتی تھی؟ اس نووارد اور اجنبی نوجوان پر اس کا بس ہی کیا تھا؟ آپ ہی آپ پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔

آہستہ آہستہ اس کا شعلہ غضب سرد پڑ گیا اور اس نے اپنے دل میں سوچا شاید یہ نوجوان بمبئی میں بالکل نیا ہے۔ کہیں باہر سے آیا ہے۔ اس میں ہمت نہیں ہوئی…. اور اس خیال کے آتے ہی اس نے رسوئی میں جا کر اپنے خدمت گار کو آواز دی۔

دروازے پر دستک سن کر پرویز نے اسے اندر بلا لیا۔ یہ گجراتن کا ملازم تھا۔ کہنے لگا ”سیٹھانی جی آپ کو بلاتی ہیں“۔

”کون سیٹھانی؟“ پرویز نے اسے تعجب سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

ملازم بولا۔ ”وہ جو نیچے کی منزل میں رہتی ہیں۔ زینے کے سامنے والے فلیٹ میں“۔

معاً پرویز کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آ گیا، جو کچھ دیر ہوئی اس نے نچلی منزل میں دیکھا تھا۔ اس گجراتن کے معنی خیز تبسم، اور لبوں کی جنبش، نقش تازہ بن کر اس کے ذہن میں واضح ہو گئے، اور اس نے حیرت سے کہا ”میں تو انہیں نہیں جانتا۔ انہوں نے مجھے کیوں بلایا ہے؟“

ملازم مسکرایا ”یہ آپ ان سے چل کر پوچھ لیجئے نا!“

”نہیں….“ پرویز نے لاپروائی سے جواب دیا ”میں یہاں کسی سے واقف نہیں اور نہ کسی سے ملنا چاہتا ہوں“۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا وائلن اٹھا لیا اور تاروں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے ان کے پیچوں کو کسنے لگا۔

ملازم کو گئے ہوئے کوئی آدھا گھنٹہ گزرا ہو گا کہ پھر کسی نے دروازے پر دستک دی۔ پرویز نے کھٹکا کھول دیا اور اس دفعہ اس نے دیکھا کہ وہی گجراتن سولہ سنگھار کئے اپنے جلو میں حسن و شباب کی بے شمار ادائیں لئے، بے جھجک اور اس انداز سے آئی ہے جیسے اسے یہاں کوئی تکلف نہیں۔ کوئی اجنبیت نہیں۔

پرویز چند لمحات اسے استعجاب سے دیکھتا رہا اور پھر اخلاقاً اسے اپنے مقابل والے صوفے پر بیٹھے کا اشارہ کیا۔ اور جب وہ بصد ناز و انداز وہاں تشریف فرما ہو گئی تو وہ خود، وائلن اور اس کے گز کو کیس میں رکھنے لگا۔

گجراتن نے محسوس کر لیا کہ یہ شخص، جس کا رواں رواں شباب اور صحت سے دمک رہا ہے، میری طرف متوجہ نہیں۔ شاید وہ وائلن کے بہانے وقت ضائع کر رہا ہے۔ آخر اس نے مسکرا کر کہا ”ذرا میری طرف دیکھئے“ اور یہ اس نے اس لب و لہجے میں کہا، جس میں نرمی اور شگفتگی کے علاوہ مخاطب کو اپنے طرف مائل کرنے کی قوت پوشیدہ تھی۔ پرویز نے نظر اونچی کی اور دیکھا کہ گجراتن کی سیاہ اور چمکیلی آنکھیں اس پر اس طرح جمی ہوئی ہیں جیسے وہ کوئی جادوگرنی ہے اور اس کی بے پناہ نظر اسے آناً فاناً مسحور کرلے گی، اپنے قابو میں کر لے گی، اور وہ کسی معمول ِسحر کی مانند بالکل اس کے بس میں ہو جائے گا۔

پرویز نے اس کا سر تا پا جائزہ لیا۔ وہ خوبصورت ہے، جوان ہے اور اس قدر، گویا جوانی کا سورج حسن کی انتہائی لطافتوں کے ساتھ نصف النہار پر پہنچا ہوا ہے۔ اس نے اس کی کشادہ پیشانی کو دیکھا جس پر سرخ چندن کی بندی لگی ہوئی تھی جیسے کسی عاشق کا دل خون ہو کر اس ایک قطرے میں سمٹ گیا ہو۔ پھر اس نے اس کے چمپئی بازو ¶ں اور بانہوں کو دیکھا جن میں جذبات کی شعاعیں ابھرتے ہوئے آفتاب کی طرح مچل رہی تھیں۔ اس کی ساڑھی گجرات کی مخصوص بندش کے مطابق اس طرح بندھی ہوئی تھی کہ اس کی پنڈلیوں کا بالائی حصہ برہنہ نظر آ رہا تھا، اور ان پنڈلیوں پر خفیف سنہری روئیدگی اس طرح دمک رہی تھی جیسے کسی منور جسم میں سے ہلکی ہلکی شعاعیں نکل رہی ہوں۔

گجراتن بولی ”میرا نام نشی ہے۔ میں تیسرے مالے میں رہتی ہوں“یہ کہہ کر وہ ذرا آگے جھکی اور اس نے پرویز کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا گویا وہ مصافحہ کرنا چاہتی ہے۔ مگر اس نے اس کا ہاتھ پھر نہیں چھوڑا، اور بولی ”میں آپ کو کئی دن سے دیکھ رہی ہوں…. آپ نے مجھے رام کر لیا ہے“۔

نشی نے اپنے دوسرے ہاتھ کی بھی مٹھی بنا لی اور اپنے دونوں ہاتھوں میں پرویز کا ہاتھ اس مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے کسی نوآموز شکاری کو ڈر ہو کہ اس کا نوگرفتہ پنچھی ذرا ڈھیل ملنے پر اڑ جائے گا۔ اس کے ہاتھ جل رہے تھے اور اس کی آنکھوں کی سیاہ چمک سے اس کی جوشیلی طبیعت کا اظہار ہو رہا تھا۔ اور عین اس لمحے ابلیس پرویز کے کانوں میں اپنا نغمہ ¿ شباب سنانے لگا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، کوئی مضائقہ نہیں! آخر تم مرد ہو…. جوان ہو! بمبئی کے عشرت کدے میں جہاں حسن و شباب کی شمعیں ازخود فروزاں ہوتی ہیں، ایک بار، صرف ایک بار، عیش و طرب کا لطف اٹھانے میں ایسا کون سا نقصان ہو جائے گا؟ ایسا کون سا ستم ہو جائے گا؟

…. اور جونہی وہ نشی کے کھینچنے پر اس کے پاس صوفے پر جا کر بیٹھنے والا تھا اس کی نظر نشی کے پا ¶ں پر پڑی جو بے دھیانی میں چپل سے نکل کر دوسرے پا ¶ں پر آ ٹکا تھا۔ اوراسے دیکھ کر اسے اپنی مرحومہ بیوی کا پا ¶ں یاد آ گیا جس کی ساخت اور رنگت اس سے بہت ملتی جلتی تھی، اور اچانک کسی نے اس نغمہ ¿ شیطانی کو منتشر کرتے ہوئے، ٹھہر ٹھہر کر کہا ”سنبھل، اے دل! سنبھل! یہاں جبیں نہ جھکانا۔ یوں سرنیاز خم نہ کرنا۔ یہ سجدہ ¿ شوق روا نہیں“۔

پرویز نے ایکاایکی اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فیصلہ کن آواز میں بولا ”جی نہیں! مجھے معاف کیجئے….“ اور یہ کہتے کہتے وہ رُک گیا،کیونکہ نشی غصے میں کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کا غیض و غضب شعلے کی طرح بھڑک اٹھا تھا اور اس وقت وہ اس بوالہوس سلومی کی مانند معلوم ہوتی تھی جو یوحنان کے انکار پر برا فروختہ ہوگئی تھی۔ اس کی جان کے درپے ہو گئی تھی۔ اور صرف اس لئے…. اس لئے کہ اس پرہیزگار پیغمبر نے اسے اپنے لب چومنے کی اجازت نہیں دی، وہ اس کا سر کٹوا کررہی۔

پرویز اپنے پریشان خیالات کو یکسو کرنے کے لئے باہر نکل آیا اور میرین ڈرائیو کی اس طویل اور چکلی دیوار پر آ کر بیٹھ گیا۔ پھر پرویز ایک عزم مستقل کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ نشی کی زد، اور بمبئی کی زہد شکن فضاءسے بچنے کے لئے کل ہی یہاں سے چلا جائے گا اور ان جزیروں میں سکون تلاش کرے گا جو اس کے آس پاس ہیں مگر بمبئی کی آلودگیوں سے یقینا محفوظ ہوں گے۔

٭………………..٭

پہلے اس نے ان جزیروں کی سیاحت کی جو زیادہ معروف تھے اور جہاں مسافروں کو اسٹیمر لے جاتا تھا۔ ایلی فیسنٹا، مروڈ، ارن اور حبشاں کے پرفضاءجنگلوں، لہلہاتی گھاٹیوں اور ہرے بھرے میدانوں سے وہ بے حد محظوظ ہوا۔یہاں کی خوبصورتی واقعی روح کی تروتازگی کا باعث تھی۔ ان کی سیر کے بعد اس نے ان چھوٹے چھوٹے جزیروں کا رخ کیا جن کے لئے بادبانی کشتی میں بھی سفر کیا جا سکتا تھا اوراس طرح عرصہ دراز تک وہ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے میں، ایک وادی سے دوسری وادی میں پہنچتا رہا۔ لیکن اس کی طبیعت سیراب نہیں ہوئی اور ہر نئی جگہ پہنچ کر اس کا دل چاہا کہ یہ سفر جاری رہے۔ صبح سے شام تک، زندگی کے اختتام تک، یونہی چلتا رہوں۔قدرت مجھے بھی اپنا ایک حقیر سا ذرہ سمجھ لے اور مجھے وہ سرمدی اور انوکھی مسرت عطا کر دے جو شہروں اور ان کے شوروغل سے کوسوں دور، دوشیزہ ¿ قدرت کے ملکوتی لبوں پر ہمیشہ رقصاں رہتی ہے۔

حبشاں سے وہ ایک چھوٹی سی بادبانی کشتی میں روانہ ہوا۔ اس کشتی میں وہ پہلے بھی کسی جزیرے کی سیر کر چکا تھا اور اس کے باتونی ملاح سے اس کی خاصی جان پہچان ہوگئی تھی۔ اس حریص ملاح نے اپنی جانب سے اس سے ایک بہت بڑی رقم طلب کی تھی جس کے عوض اس نے وعدہ کیا تھا کہ ایک ماہ تک، جہاں آپ کہیں گے، لے جا ¶ں گا۔ نیز آپ کے ملازم کا کام بھی کروں گا۔ پرویز نے یہ رقم بخوشی منظور کر لی اور ایک سفری خیمہ، وائلن، بستر اور کچھ مزید سامان لے کر اس نے اپنا بحری سفر شروع کر دیا، جیسے خانہ بدوش منزل بہ منزل اپنی مسافت طے کیا کرتے ہیں۔

سورج اب اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا اور اس کی درخشاں کرنیں سمندر کے بے چین سینے پر اس طرح ناچ رہی تھیں جیسے اتھاہ گہرائیوں میں رہنے والی ننھی ننھی جل پریاں سیم و زر کا کوئی البیلا کھیل دیکھنے اپنے عقیق وزبر جد کے محلوں سے نکل آئی ہوں۔ دور دور سے بڑی بڑی موجیں آہستہ خرامی سے آ کر کشتی سے ٹکراتی تھیں اور باتونی ملاح ازراہ تفنن ان کو اپنے چپو ¶ں سے ہوا میں اچھال دیتا تھا۔

پرویز کو اس کی باتوں سے معلوم ہوا کہ جنجیرے کے شمال مغرب اور جزیرہ شبنم کے مشرق میں ایک وادی ہے۔ خوبصورت اور ساز فطرت سے ہم آہنگ۔ وہاں طلوع و غروب کی سنہری وروپہلی جھلکیاں دیدہ حیراں کو اپنا انوپ روپ دکھاتی ہیں، اور وہاں پھولوں اور پھلوں کی اس قدر کثرت ہے کہ ہوائیں ہزار ہا قسم کی خوشبو ¶ں میں بسی ہوئی چلتی ہیں۔ اس کی زمین نرم و نازک اور زرخیز ہے جس پر سبزہ و گل کا ایسا دبیز اور دلکش فرش بچھا ہوا ہے کہ راہگیر کو یہ احساس نہیں رہتا کہ وہ پیدل چل رہا ہے یا کسی نامعلوم فرشتے نے اس کے بازو ¶ں کو قوت پرواز عطا کر دی ہے…. اور اس سرزمین جمال، اس کرہ ¿ خواب، اس محراب طلسم کا نام وادی نشیمن ہے۔

پرویز نے پراشتیاق لہجے میں کہا ”بس تو ملاح! نا ¶ کا رخ ادھر ہی پھیر دو۔ میں وادی نشیمن جا ¶ں گا“

بادبان ذرا ترچھے کر دئیے گئے اور کشتی منزل مقصود کی جانب تیزی سے چلنے لگی۔ دن ڈھلتے وہ ایک تنگنائے میں سے گزرے جس کے تھوڑے فاصلے پر کائی سے ڈھکی ہوئی چٹانوں اور بادامی پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور دور سے وہ ایسی معلوم ہوتی تھیں جیسے یہ ساحل کی حفاظت کرنے والی رفیع و مستحکم دیواریں ہیں جو مونگے اور مرجان کی بنی ہوئی ہیں۔ ایک جگہ پہنچ کر ملاح کھڑا ہو گیا اور اس نے لالہ فام ڈھلانوں کی طرف منہ کر کے، ہوا میں ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا ”یہی وہ وادی ہے سیٹھ…. جہاں کہئے کشتی ٹھہرا دوں“۔

پرویز نے تاحد نظر پھیلے ہوئے علاقے پر ایک نگاہ رندانہ ڈالی اور یہاں کی محیر کن اور نشہ آور شادابیوں سے متاثر ہوتے ہوئے بولا ”بس یہیں، ملاح یہیں!“

کشتی کو رسیوں سے باندھنے کے بعد ملاح اور پرویز نے مل کر خیمے کو صنوبر کے سدابہار درختوں کے سائے میں نصب کر دیا۔ اور پھر اندر سب ٹھیک ٹھاک کر کے پرویز باہر آ گیا۔ دورو نزدیک طلسم کی سی کیفیت طاری تھی اور سمندر کا وہ ٹکڑا جو تنگنائے میں سے ہوتا ہوا اس وادی کے پہلو میں آ نکلا تھا اپنی موجوں کے ترنم سے اس کیف سرمدی میں اضافہ کر رہا تھا۔ خیمے سے کافی فاصلے پر، وادی کے نشیب میں آبادی کے آثار ہویدا تھے۔ اور پہاڑیوں کی چوٹی کی طرف وہ خاموشی مسلط تھی جس میں انسان کے لطیف احساسات اجاگر ہوتے ہیں۔ قریبی ڈھلانوں پر سبز رنگ کے پس منظر میں سرخی سی پھیلی ہوئی تھی۔

تھوڑی دیر میں ملاح بستی سے کھانے پینے کی چیزیں لے آیا اور پرویز اسے وہاں بٹھا کر چہلم قدمی کے لئے پہاڑیوں کی بلندیوں کی طرف نکل کھڑا ہو گیا۔ چلتے چلتے اس کا راستہ مختلف شکلیں اختیار کرتاجاتا تھا۔ کبھی تنگ، اور بھی تنگ، جیسے کسی درے میں سے گزر رہا ہو۔ کبھی چوڑا کہ دو آدمی ساتھ ساتھ نکل سکیں اور کبھی کافی کشادہ۔ کوئی نصف فرلانگ چلنے کے بعد وہ ایسی جگہ آیا جہاں کھلا میدان تھا اور رہگزار کے دونوں جانب چھوٹے چھوٹے کھیت لہلہا رہے تھے۔ کہیں کہیں کسان اپنے کاموں میں مگن نظر آتے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی عورتیں اور بچے بھی شامل تھے اور وہ سب مل کر زمین کے خزینے سے اپنا اپنا حصہ سمیٹنے میں مصروف تھے۔ ان سے آگے پھر چڑھائی شروع ہو گئی تھی۔ بائیں جانب تھوڑے فاصلے پر نیلی نیلی پہاڑیوں کی بلند چوٹیاں فردوسی محلوں کے حسین میناروں کی طرح مالک ارض و سما کی طرف منہ اٹھائے کھڑی تھیں۔ ان کی ڈھلانوں میں لمبی لمبی پہاڑی گھاس اور خودروکاسنی، اودے، سنہری اور سفیدپھول بادجنوب کے جھونکوں سے لہرا رہے تھے اور وادی کی نازک اندام دوشیزائیں انہیں درانیتوں اور قینچیوں سے اپنی بھیڑ بکریوں کے لئے کاٹنے میں محو تھیں۔ پرویز ان اوزاروں سے پیدا شدہ سرر سرر کی موسیقانہ آواز کو سنتا ہوا آگے بڑھ گیا اور سوچنے لگا، اس جلوہ زار قدرت کو دیکھنے کی کس کو تمنا نہ ہوتی ہو گی۔

…. اور دفعتاً اسے یوں محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پاس سے تیر کی طرح نکل کر برابر کے گھنے درخت کے پیچھے غائب ہو گیا ہے۔ یہ درخت اس قدر کہن سال تھا کہ اس کے بڑے بڑے تنوں سے موٹی موٹی لٹیں نکل کر زمین سے اس طرح آملی تھیں جیسے وہ ایک درخت کی موٹی لٹیں نہیں بلکہ وہ درخت، کئی درختوں کا مجموعہ ہو۔ اس کے تکونے پتے بنگلہ پانوں کے مانند چوڑے چوڑے تھے اور اردگرد سے چڑھنے اور پھیلنے والی بیلیں کثرت سے اس کی جڑ پر رینگتی ہوئی اس کی ڈالوں تک چھا گئی تھیں۔ اس درخت کے پاس راستہ نہایت دشوار گزار تھا اور پرویز کو یقین ہو گیا کہ جو شخص اس کے قریب سے بچ کر اس درخت کے پیچھے غائب ہو گیا ہے وہ کہیں اور نہیں جا سکتا ضرور وہیں چھپا ہوا ہے، اور اس کے دل میں تجسس پیدا ہو گیا۔ ایسا کیوں؟ آخر کیوں یہ مجھ سے بچ کر اس کے پیچھے چھپا ہے۔ اور جب وہ اسی سمت سے درخت کے جھنڈ میں گھس گیا جہاں سے وہ نادیدہ ہستی غائب ہوئی تھی تو اس نے دیکھا کہ وہ…. عورت…. آزاد ہرنی کی طرح، جس کا کوئی شکاری تعاقب کر رہا ہو، ایک سالوں پرانی شاخ کے سہارے، غوط دے کر درخت کی دوسری طرف سے نکل بھاگی ہے…. اور پرویز ششدر و حیران، وہیں کے وہیں کھڑا رہ گیا، کیا یہ واہمہ ہے؟ کیا میں چلتے چلتے خواب دیکھنے لگا ہوں؟ اور اس نے درخت کو چھو کر دیکھا۔ اپنے آپ پر غائر نظر ڈالی۔ یہ سب حقیقت ہے اور وہ جاگ رہا ہے! پھر وہ…. عورت بھی حقیقت ہو گی لیکن یہ کیا؟ یہ کیا؟ وہ رعنا نہیں ہو سکتی۔ مگر اس کی شکل و شباہت رعنا جیسی ہے۔ ہوبہو وہی! اور معاً وہ اس کی جستجو میں اسی رہگزار پر آ گیا جو کھیت میں بل کھائی ہوئی پگڈنڈی کی طرح پہاڑیوں کی آغوش میں گم ہو جاتی تھی۔ وہ تیزی سے چلا جا رہا تھا کہ دفعتاً اسے کسی نے آواز دی۔ پرویز نے مڑ کر دیکھا کہ ایک گڈریا اپنی بھیڑوں میں گھرا ہوا اسے حیرت سے تک رہا تھا اور جب پرویز متوجہ ہوا تو اس نے کہا ”آپ کو کہاں جانا ہے؟ اس طرف مت جائیے۔ بستی کی راہ تو پیچھے رہ گئی“۔

پرویز اپنا اشتیاق چھپاتے ہوئے بولا ”نہیں میں ادھر ہی جا ¶ں گا۔ اسی راستے پر“۔

گڈریا کھڑا ہو گیا اور اس کے نزدیک آ کر کہنے لگا ”نہیں سیٹھ۔ اس دوراہے کے آگے کوئی نہیں جاتا۔ وہ راستہ بڑا خطرناک ہے اور وہاں آدمی اسی وقت جاتا ہے جب اسے خودکشی کرنی ہو“۔

یہ سن کر وہ اور بھی مضطرب ہو گیا اور گڈرئیے سے مزید کچھ کہے سنے بغیر، اپنی پوری طاقت سے پھر اسی راہ ممنوعہ پر گامزن ہو گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس مفرور راہی کو پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ اس کے روپ میں رعنا کا درشن کر لے اور جان لے کہ وہ کیوں اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتی ہے؟

یکایک وہ راستہ اسے ایک کشادہ اور مربع نما میدان میں لے آیا جسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ زلزلے کے جھٹکوں نے ٹیڑھا کر دیا ہے۔ اس کے ایک طرف چپٹی اور دیوآسا چٹانیں تھیں جن کے دامن میں مہیب غار تھے اور دوسری طرف ایسی پرخطر ڈھلان کہ دیکھنے سے خوف آئے۔ اس نے چاروں طرف بے تابانہ نظریں دوڑائیں اور یک لخت دیکھا کہ وہی عورت ڈھلان تک پہنچ گئی ہے اور کوئی دم میں شاید اس اتھاہ گہرائی میں جا گرے گی جہاں گم ہو کر کوئی نہیں ابھر سکتا۔ اور جیسے بجلی سی چمک جائے۔ وہ انتہائی پھرتی اور سرعت کے ساتھ اس طرف لپکا۔ اور عین اس لمحے جب وہ بلبل ناشاد کی مانند شاخ حیات سے پرواز کرنے والی تھی۔ پرویز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کھینچ لیا ”ٹھہرئیے“۔

دختر کوہسار نے اسے مڑ کر دیکھا اور کچھ نہیں بولی۔ وہ خود ہی وہاں سے ہٹ گئی اور ایک خاموش راہب کی طرح سنگ خارا کے اس چبوترے پر آ کر بیٹھ گئی جو وسطی غار کے دہانے پر بنا ہوا تھا۔ پرویز بھی اس کے پاس آ گیا اور غور سے اسے دیکھنے لگا۔

وہ سوچ رہا تھا کہ اگر میرے عقیدے کے مطابق تدفین کے بعد حیات و حرکات ناممکن نہ ہو جاتیں تو مجھے یقین آ جاتا کہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ رعنا یہاں دوبارہ نمودار ہوئی ہے۔ اس روز خواب میں جو اس نے مجھے سیر و سیاحت کی ترغیب دلائی، اس کا مطلب یہی ہو گا کہ میں اس کو تلاش کر لوں۔ شاید وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ میں موت کے جزیرے سے واپس آ جا ¶ں گی مگر میری واپسی اب کے اس وادی میں ہو گی اور تم اس سرخاب کی مانند جو اپنی منزل اور راہ سے بھٹک کر ہراساں و افسردہ ہو جاتا ہے مگر ہمت نہیں ہارتا، مجھے وادی نشیمن میں ڈھونڈ نکالنا۔ اور پھر، یکایک وہ اپنے خیالات سے چونکا اور اس نے دیکھا کہ وہ سیاہ پوش عورت سسکیاں لے رہی ہے۔

پرویز نے پوچھا ”کیا آپ خودکشی کر رہی تھیں؟“

اس نے اپنی آنکھیں پونچھیں، اور قدرے توقف کے بعد گردن اٹھا کر پرویز کو دیکھتے ہوئے بولی …. ”ہاں، آپ نے مجھے روک لیا“۔

پرویز کو اب معلوم ہوا کہ اس کا اندازہ غلط تھا۔ وہ پوری عورت نہیں تھی۔ اس کے مکھڑے کے بھولپن اور کمسنی سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ابھی غنچہ نورس ہے، درناسفتہ ہے۔ اٹھان اور صحت کی وجہ سے وہ ذرا زیادہ عمر کی ضرور معلوم ہوتی تھی، لیکن درحقیقت وہ ایسا پھول ہے، جو ابھی پوری طرح نہیں کھلا۔ اس کا شباب دوشیزگی کا امین اور اس کا حسن معصومیت کا نقیب ہے۔

پرویز نے سوال کیا ”آپ خودکشی کیوں کرنا چاہتی تھیں؟“

دختر کوہسار نے اسے نظر بھر کر دیکھا اور رازدارانہ انداز میں بولی ”پہلے یہ بتا دیجئے کہ آپ کون ہیں؟ کیا آپ یہاں نووارد ہیں؟“

پرویز نے پہلی بار اس کی شفاف اور نرگسی آنکھیں دیکھیں اور وہ ان سے بڑا متاثر ہوا۔ خصوصاً ان کی سبز پتلیاں اسے بڑی پرکشش معلوم ہوئیں۔ اس نے جواب دیا ”میں سیاح ہوں اور میرا نام پرویز ہے۔ اس پہاڑ کے جنوب میں، آبادی کی مخالف سمت جو راستہ چٹانوں کی طرف جاتا ہے، وہیں ساحل کے قریب میرا خیمہ ہے اور میں آج ہی یہاں آیا ہوں“

سبز چشم، سروقد کھڑی ہو گئی اور ڈھلان کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی ”وہاں نیچے سمندر بہتا ہے اور اس کا بہا ¶ آبادی کی جانب ہے۔ ابھی چند دن ہوئے ایک چرواہے نے یہاں آ کر خودکشی کی تھی۔ اس کی لاش بہتی ہوئی آبادی میں پہنچ گئی اور لوگ سمجھ گئے کہ یہ کیسے ہلاک ہوا۔ اس وادی میں یہ ریت چلی آتی ہے کہ جسے خود دنیا سے جانا ہو، وہ یہاں آ کر جان دیتا ہے…. کبھی کبھی یہ بھی ہوا ہے کہ کوئی نوجوان یا دوشیزہ اپنی جان دینے یہاں آئی مگر کسی اجنبی اشارے نے اسے روک دیا اور وہ آبادی میں واپس آ گئی…. آپ نہ آتے تو اب تک میری لاش سمندر میں تیرتی ہوتی“

پرویز نے اسے خوابناک آنکھوں سے دیکھا اور یہ خیال کیا کہ شاید یہ مایوس محبت ہے لیکن اس کے مزید پوچھنے سے پہلے وہ بولی ”آپ نے میرا پیچھا کیوں کیا تھا؟ میں نے تو کوشش کی تھی کہ آپ سے بچ کر نکل جا ¶ں؟“

پرویز نے جواب دیا ”اس کی ایک وجہ ہے…. لیکن آپ یہی سمجھ لیجئے کہ آپ کے چھپنے سے میرا تجسس بڑھ گیا تھا۔ اور پھر اس دوراہے پر مجھے ایک گڈرئیے نے ادھر آنے سے منع کیا تو میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں آپ کو ضرور اس اقدام سے روکوں گا“۔

سبز آنکھوں والی بے بسی کے لہجے میں بولی ”آپ کی آمد میرے لئے غیبی اشارہ ہے۔ میں نے چاہا تھا کہ زندگی سے چھٹکارا مل جائے مگر شاید یہ خدا کو منظور نہیں۔ میں اب واپس چلی جا ¶ں گی۔ اسی ظالم کے پاس چلی جا ¶ں گی“۔

وہ آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ پرویز نے اس کا راستہ روک لیا اور عاجزی سے کہنے لگا ”ذرا ٹھہر جائیے“ وہ رُک گئی اس نے اس کی طرف اشتیاق اور حیرت سے ملی جلی نگاہوں سے دیکھا اور بھولپن سے بولی ”آپ مجھے یوں کیوں دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے مجھے کیوں روکا ہے؟“

پرویز سے ضبط نہ ہو سکا۔ اس کی اداس آنکھیں پرنم ہو گئیں اور اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا ”آپ کو دیکھ کر مجھے کوئی یاد آ رہا ہے…. خیر، آپ مجھے اپنا نام بتائیں گی؟“

سبز چشم نے اسے ایسی نظر سے دیکھا جس میں تسلی اور دلاسہ تھا۔ اور ہمدردانہ لہجے میں کہنے لگی ”میرا نام نغمانہ ہے۔ کیا میں کسی کی ہم شکل ہوں؟“

پرویز اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہا تھا۔ جیسے اس وقت رعنا اس کے سامنے کھڑی ہے۔

نغمانہ نے کہا ”آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا؟“

وہ بولا ”جی ہاں۔ مگر آپ جس کی ہم شکل ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے، اور اسی لئے میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کو جی بھر کے دیکھے جا ¶ں۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زیادہ دیر تو نہیں ٹھہر سکتیں! اچھا…. معاف کیجئے میں نے آپ کو ناحق روکا“۔

اور جب وہ راستے سے ہٹ گیا تو سورج تھکے ہارے جواری کی طرح، جو جیت کی امید پر اپنا سب کچھ لٹا چکا ہو، چپکے چپکے غروب ہونے لگا اور چاروں طرف افسردگی سی چھا گئی۔ ڈھلان کے دامن میں بہتے ہوئے سمندر کی سائیں سائیں سے دور تک پھیلے ہوئے سکوت کا احساس دم بہ دم زیادہ ہو رہا تھا اور جگہ جگہ چھالیہ اور دارچینی کے طویل قامت درخت اپنی ہلکی ہلکی جنبشوں سے روز روشن کے انجام کو اور بھی حسرت فزا بنا رہے تھے۔ پرویز بولا ”اب آپ جائیے ایسا نہ ہو اندھیرا چھا جائے“

نغمانہ دو قدم چل کر رُک گئی اور اس نے مڑ کر پوچھا ”آپ یہاں کیا کریں گے؟ چاند نکلنے سے پہلے یہاں بڑی خوفناک تاریکی ہو گی۔ آپ نووارد ہیں، ایسا نہ ہو آپ راستہ بھول جائیں“ اوراس کے چلنے کا اشارہ کرنے پر وہ اس کے ساتھ ہو لیا۔

ان دونوں کو چلتے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ آفتاب نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اور ستارہ شام کے نمودار ہوتے ہی چمگادڑیں وحشت زدہ درختوں سے اڑ اڑ کر فضاءمیں منڈلانے لگیں۔ اب وہ دشوار گزار راستے پر چل رہے تھے۔ کہیں کہیں گھاٹیاں اور ڈھلانیں بھی آ جاتی تھیں، جن کی وجہ سے اندیشہ تھا کہ کہیں پا ¶ں نہ پھسل جائے۔ دفعتاً نغمانہ نے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ”یہ بڑا خطرناک راستہ ہے۔ آپ میرا ہاتھ پکڑ لیجئے۔ یہ زمین میرے پا ¶ں کو لگی ہوئی ہے“۔ پرویز نے فوراً اس کے ہاتھ کا سہارا لے لیا اور اس اتصال سے، جیسے ان دونوں کے جسم ایک دوسرے کے ہمراز بن گئے۔ ان کی زبانیں خاموش تھیں مگر ان کے دل ایک دوسرے کی دھڑکن کو بخوبی سن رہے تھے۔

موڑ پر پرویز کو ٹھوکر لگی مگر نغمانہ نے اپنے قوی ہاتھ سے اسے سنبھال لیا اور ذرا شگفتہ آواز میں بولی ”دیکھا آپ نے!“

اس کو اس وقت احساس ہوا کہ اس کی ہم سفر طاقتور ہے، اور باوجود حزن و ملال کے اس کے لب و لہجہ میں شیرینی اور دلنوازی ہے۔ وہ جواباً بولا ”آپ نے مجھے بچا لیا، ورنہ میں شاید کھڈ میں جا گرتا“۔

کچھ دیر دونوںخاموش چلتے رہے، اور جب پرویز سے نہ رہا گیا تو اس نے سکوت توڑا ”میں نے آپ سے ایک بات پوچھی تھی، اس کا آپ نے جواب نہیں دیا“

”کون سی بات؟“ نغمانہ نے اندھیرے میں اس کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا۔

”آپ وہاں کیوں گئی تھیں؟ آپ کو ایسا کون سا صدمہ پہنچا ہے؟“

اس نے آہ سرد بھر کر جواب دیا ”اس پر آپ اصرار نہ کیجئے تو بہتر ہے“۔

وہ دونوں پھر خاموش ہو گئے اور چپ چاپ اپنا راستہ طے کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ملکہ شب کانورفگن آویزہ غوش، آسمان کے آنچل پر پوری تابانی سے جگمگانے لگا اور ظلمات کی بلائیں غول بیابانی کی طرح وادی نشیمن سے روپوش ہو گئیں۔ آخر وہ پہاڑی کے جنوب میں اس مقام پر آ کر رُک گئے جہاں سے ایک راستہ آبادی کو جاتا تھا اور دوسرا اس کی مخالف سمت میں، ان چٹانوں کی طرف جہاں پرویز کا خیمہ نصب تھا۔

پرویز نے ساحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”وہ دیکھئے…. وہاں سفید سفید! وہی میرا خیمہ ہے….“

نغمانہ نے بصد شوق ادھر دیکھا۔ چاندنی رات میں خیمے کی سفیدی الگ نظر آ رہی تھی۔ پھر اس نے اپنی صراحی دار گردن کو نزاکت سے جنبش دی، جیسے وہ رخصت ہونا چاہتی ہے، اور پرویز اس کا عندیہ پا کر بولا ”میں کل صبح آبادی میں آ ¶ں گا، آپ کہاں رہتی ہیں؟ کیا آپ سے ملنا ہو سکے گا؟“

جیسے وہ اب تک کچھ بھولی ہوئی تھی، یہ سن کر اسے سب کچھ یاد آ گیا اور ایسا معلوم ہوا کہ کسی خیال نے اسے ڈرا دیا ہے۔ پریشان کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ جلدی جلدی یہ کہتی ہوئی ”میں…. میں باغ والے سرخ مکان میں رہتی ہوں“ نشیب کی طرف روانہ ہو گئی۔ پرویز اسے جاتا ہوا دیکھتارہا، اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو وہ اس کے خیالات میں کھویا ہوا، آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا، اپنے خیمے میں داخل ہوا اور سونے کیلئے لیٹ گیا۔

٭………………..٭

ساحلی گلستانوں میں طائران خوش گلو کے شیریں نغمات نے حسینہ سحر کا خیرمقدم کیا اور پرویز نے کروٹ لے کر آنکھیں کھول دیں۔ کہیں دور، کسی م ¶ذن کی پرتاثیر دعوت نماز وادی کی پہاڑیوں سے ٹکرا ٹکرا کر فضائے بسیط میں ایک عالم سرمدی پیدا کر رہی تھی۔ اور ”الصلوٰة خیر من النوم“ کا نعرہ ¿ مقدس صدائے بازگشت بن کر قلب کی پہنائیوں میں جذب ہو رہا تھا۔ پرویز کو ایسا معلوم ہونے لگا جیسے اس کا دل، عرصہ دراز بعد خدائے عزوجل کے آگے سربسجود ہونے کی طرف مائل ہے۔ اس کا باطن اس گوشہ تنہائی میں، مالک دوجہاں سے لو لگانے کے لئے بے قرار ہے۔ اس کی روح منبع انوار کے حضور، سرعبودیت خم کرنے کے لئے بیتاب ہے۔ چنانچہ جب وہ قادر حیات و ممات کے دربار میں اس خلوص قلب سے حاضری دے چکا، جو اپنے معبود کی بارگاہ میں، عابد نیک نفس کے لئے ضروری ہے، تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ فرحت و اطمینان کی دولت سمیٹ لایا ہے۔ اس کا بار غم ہلکا ہو گیا ہے اوراس کی طبیعت میں بشاشت آ گئی ہے۔

٭………………..٭

ناشتے سے فارغ ہو کر وہ آبادی کی طرف چلنے لگا کہ اچانک ایک اودبلا ¶ اس کے پاس سے سر سے نکلا اور غڑپ سے سمندر میں کود گیا۔ اس کی چال اسے بے حد دلچسپ معلوم ہوئی جو خرگوش کے پھدکنے اور کنگرو کے پھلانگنے سے ملتی جلتی تھی اور وہ تفریح طبع کے لئے اس کے پیچھے پیچھے ساحل تک چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ ہرے بھرے درختوں کی ٹھنڈی چھا ¶ں اور چٹانوں کی اوٹ میں بے شمار بطخیں، مرغابیاں، قاز اور دیگر آبی پرندے برات کی طرح قطار اندر قطار بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کا جی چاہا کہ کاش میرے پاس اس وقت بندوق ہوتی تو میں نہایت شوق سے ان کا شکار کرتا۔ لیکن فوراً ہی اس کے اشتیاق پر غبار سا چھا گیا۔ شکار کوئی ایسی مردانگی تونہیں جس سے خوشی حاصل کی جائے۔بے زبان جانوروں پر بندوق چلانا اور ان کے گلے پر چھری پھیرنا ایسے بہادری کے کارنامے تو نہیں جن پر جی جائز طور پر خوش ہوا۔ اس شوق خونریزی پر موپسان نے بھی تو ایک جگہ تنقید کی ہے۔ مگر کہاں کی ہے؟ کیا کی ہے؟ اور اسے یاد آیا کہ اپنے افسانے جنونی میں جو انسانیت اور تہذیب پر نہایت لطیف طنز ہے، وہ کہتا ہے کہ نہ صرف جانور دوسروں کو پھاڑ کھاتے ہیں بلکہ انسان بھی دوسرے کو بے رحمی سے قتل کر دینے کا دلدادہ ہے۔ اس میں یہ عادت ابتدا ہی سے پڑی ہوئی ہے۔ البتہ تہذیب اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے اس ازلی عادت میں تھوڑی سی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے۔ اب ایک انسان دوسرے انسان کو قانون کے ڈر سے جان سے نہیں مارتا مگر دیویوں اور دیوتا ¶ں کے نام پر بھینٹ تو چڑھا دیتا ہے۔

ناگہاں اس کی نظر سمندر کے اس پار، خورشید خاور پر پڑی جو سطح آب سے آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا، اس کی درخشانی اس وقت اس بت سیمیں کی نورانی پیشانی کی مانند معلوم ہوتی تھی جس کے لبوں سے مئے گلگوں سے لبریز جام لگا ہوا ہو۔ اور اس کی زرنگار کرنیں کرہ ارض کی جانب اس طرح آمادہ سفر تھیں، جیسے کسی کے رخ آتشیں سے حسن کی چمکتی ہوئی شعاعیں چھوٹ رہی ہوں۔ پرویز کا دھیان بٹ گیا۔ قطاروں میں بیٹھے ہوئے بے ضرر اور خوبصورت پرندوں پر اس نے ایک پررحم نگاہ ڈالی، جیسے وہ ان سے کہہ رہا ہو ”مجھ سے نہ ڈرو، میں تمہیں ذبح نہیں کروں گا۔ مجھے تو شکار سے نفرت ہے“۔ اور وہ انہیں اپنے ہم جلیسوں میں خوش و خرم دیکھتا ہوا، وہاں سے مڑا اور آبادی کی جانب روانہ ہو گیا۔

پرویز جلدی راہ طے کرنا چاہتا تھا مگر اس گل و عنبر فشاں ماحول میں اس قدر کشش تھی کہ اس کے قدم سست رفتار ہو گئے تھے۔ اس نے اپنی آنکھیں اور ان کے ساتھ اپنا دیدہ ¿ دل پوری طرح وا کر دیا۔ گویا وہ اس ساری فضاءمیں جذب ہو جانا چاہتا ہے یا خود اس سارے گردونواح کو اپن اندر سمو لینے کا متمنی ہو۔

اب پگڈنڈی میدان میں اتر آئی تھی جہاں کہیں کہیں کوئی مصفا ندی یا نالہ لااُبالی نوجوان کی طرح اٹھلاتا چلا جاتا تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر کھپریلوں اور چھپروں سے ڈھکے ہوئے مکان نظر آ جاتے تھے اور پرویز کی نگاہیں ان گھروں کا بے چینی سے جائزہ لے رہی تھیں۔ حتیٰ کہ عام رہگزر سے ہٹ کر اسے مغربی سمت میں ایک وسیع و عریض باغ کے بیچوں بیچ سرخ رنگ کا خوبصورت مکان دکھائی دیا اور وہ بے محابا اس راستے پر آ گیا۔ صدردروازے پر پہنچ کر وہ ذرا دیر کے لئے رکا۔ پھاٹک سے عمارت تک ایک چھوٹا سا سرسبز قطعہ زمرد کے نگینے کی مانند آراستہ و پیراستہ تھا جس کے گرداگرد گل اشرفی، شاخ شبو اور گلاب کے پھولوں کی گوٹ لگی ہوئی تھی اور اس کے سروں پر سر وو شمشاد کے گھنیرے درخت سنتریوں کی طرح سر اٹھائے کھڑے تھے۔ اس قطعے کے دونوں جانب گھریلو کھیت اور کیاریاں تھیں جن میں تخم ریحان، کوکنار اور کپاس کے علاوہ متفرق پھلوں کے پودے اور درخت لگے ہوئے تھے۔ ان کی آبیاری کے لئے چھوٹے پیمانے پر ندیاں سی بنی ہوئی تھیں جن میں قریب کے مترنم جھرنے سے پانی کو کاٹ کر لایا گیا تھا۔

ہر طرف خاموشی مسلط تھی اور پرویز منتظر تھا کہ کہیں سے اس کے مکینوں کا نشان ملے۔ آخر تھوڑی دیر بعد باد مشرق کا ایک جھونکا آیا اور اس کے جلو میں وہ آواز سنائی دی جو دودھ دوہنے اور تھنوں کی نکلی ہوئی دھاروں کے بالٹی سے ٹکرانے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ اندر داخل ہو گیا اور دائیں ہاتھ کی روش پر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ سامنے ساون بھادوں میں وہی دختر کوہسار، وہی دوشیزہ بہار، وہی سبز پتلیوں والی نغمانہ ایک موٹی تازی گائے کا دودھ دوھ رہی تھی۔ اس کے آس پاس پلی ہوئی بھیڑ بکریاں جگالی کر رہی تھیں، اور وہ گاہے گاہے ان کی آوازوں کے جواب میں محبت بھرے جملے کہہ دیتی تھی۔ جانے ایک بھیڑ کے بچے کے جی میں کیا آیا کہ وہ پیچھے سے آ کر اس کا پیٹ اپنے سر سے سہلانے لگا۔ نغمانہ اس گدگدی سے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کے اس قہقہے میں لحن دا ¶دی کی شیرینی تھی۔ نغمہ بربط کی دلنوازی تھی، اور رقص ناپید کی بے ساختگی تھی۔ پرویز نے اس کے حسن معصوم سے متاثر ہو کر اسے ہولے سے پکارا۔ وہ ایک دم مڑ گئی اور اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ کر حیران رہ گئی پھر اس کے پتلے پتلے یاقوتی لبوں پر تبسم آ گیا اور وہ سب کچھ بھول کر کہنے لگی ”آپ یہاں؟…. آئیے“

اس کے اشارہ کرنے پر، پرویز وہیں گھاس کے مخملیں فرش پر بیٹھ گیا۔ نغمانہ ڈونگے میں دودھ بھر کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ”یہ میری نرگس کا دودھ ہے۔ اسے پیجئے“

پرویز نے دودھ کا پیالہ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور نغمانہ، اس کی متشکرانہ نگاہوں سے نظر بچا کر اپنی گائے کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ”مجھے اس سے بڑی محبت ہے، اور یہ بھی مجھے بے حد چاہتی ہے۔ چکھیئے نا…. یہ دودھ بڑا لذیذ ہے۔ اس ساری وادی میں کوئی بھی گائے اس کی برابری نہیں کرسکتی“

پرویز نے نہایت شوق سے پیالہ منہ کو لگا لیا اور نغمانہ اسے پراشتیاق نظروں سے دیکھنے لگی۔ اس کا دل اس خوبصورت اجنبی کو دیکھ کر خودبخود کوئی نامعلوم سی خوشی، کوئی انجان سی تسلی اور کوئی ان دیکھی امید محسوس کررہا تھا لیکن وہ ابھی دودھ ختم کرنے نہیں پایا تھا کہ کسی نے پیچھے سے نہایت کرخت لہجے میں نغمانہ کو پکارا۔ وہ طائر نوگرفتہ کی طرح افسردہ و خائف ہو گئی، اور پرویز کو یوں محسوس ہوا کہ کسی نے شیش محل پر پتھر کھینچ مارا ہے۔ اس نے پیالہ منہ سے ہٹا کر الگ رکھ دیا اور اس کریہہ آواز کو غور سے سننے لگا۔

وہ شخص تیزگامی سے قریب آ گیا اور اس نے اس لہجے میں جس میں ”ایک ہی راستہ“ کا ولن شیخ مختار کسی سے مخاطب ہو، درشتی سے پوچھا ”کون مردود ہے یہ؟“

پرویز کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے کلے پر طمانچہ مارا ہے۔ غصہ سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور جب تک وہ شخص اس کے سامنے آیا، وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو بغور دیکھا۔ سرے سے پا ¶ں تک معائنہ کیا۔ اور اپنے اپنے پیمانے میں وہ ایک دوسرے کو تولنے لگے۔ اوراس فسانے کا مصنف اپنے تصور میں ان کو اس طرح آمنے سامنے دیکھنے لگا جیسے وہ الگ الگ انسان نہیں بلکہ ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائڈ کی طرح ایک ہی کردار کی دو شخصیتیں ہیں۔ پرویز نے ایک نظر میں اس کے بشرے اور جسمانی حالت سے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص بدزبان اور کمینہ ہے۔ اسے ہر شے میں برائی اور ہر جذبے میں بدی نظر آتی ہے۔ یہ حسن اور نیکی سے محروم ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ شائستگی اور اخلاق کسے کہتے ہیں۔ اس کی عمر تیس پینتیس سال کے لگ بھگ تھی مگر اس کی صورت سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ اپنی صحت کھو چکا ہے۔ اس میں خون کی کمی ہے اور شاید آپ ہی آپ سلگنے کی عادت نے اس میں ضبط اور استقلال زائل کر کے اسے چڑچڑا اور بدتمیز بنا دیا ہے۔ یا پھر یہ مغرور ہے۔ سینے میں جھکا ¶ اور ٹانگوں میں خم ہونے کے باوجود اس کے سر میں تکبر اور برتری کا سودا سمایا ہوا ہے۔

مسٹر ہائڈ نے نغمانہ کی طرف مڑ کر کہا ”تو اس سے کیا باتیں کر رہی تھی؟…. کون ہے یہ؟“

نغمانہ نے پرویز کو گھبرائی ہوئی نگاہوں سے دیکھا اور لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی ”یہ…. یہ….“

پرویز اپنے آپ کو سنبھالے رہا اور اس نے بمشکل، نرم لہجے میں کہا ”آپ کی گفتگو کا یہ انداز کیا ہے؟ کیا شرفا اسی طرح باتیں کرتے ہیں؟“

”تم اس بنگلے میں کس کی اجازت سے گھسے؟ تمہیں ایک غیر عورت سے دودھ لے کر پیتے ہوئے شرم نہیں آئی؟…. اور مجھ سے پوچھتے ہو کہ گفتگو کا یہ انداز کیا ہے؟“

پرویز کے جواب دینے سے پہلے وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا اور احساس برتری نے اس کی آواز میں اور بھی بلندی پیدا کر دی“ چلے جا ¶ یہاں سے۔ میں لفنگوں سے ہمکلام نہیں ہوتا۔ تم شاید اس لئے آئے تھے کہ مجھ سے چیکو اور موسمیوں کا سودا کرو۔ جا ¶، مجھے کچھ منظور نہیں۔ میں آوارہ لوگوں سے تجارت کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں“

پرویز آگ بگولا ہو گیا مگر اس کا شعور اسے بے قابو ہو جانے سے برابر روکے رہا کیونکہ…. کیونکہ اس سے چند ہی قدم کے فاصلے پر نغمانہ یوں کھڑی تھی جیسے وہ اس سے شرمسار اور مسٹر ہائڈ سے خوفزدہ ہے۔ چنانچہ اس کی خاطر وہ اپنی زبان بند رکھنے پر مجبور تھا۔ آخر جاتے جاتے اس نے اسے رحم آلود نظروں سے دیکھا اور خاموشی سے وہ اس باغ والے سرخ مکان کے احاطے سے باہر نکل گیا۔

اندر سے ابھی آواز آ رہی تھی ”یہ مجھے اس طرح گھور رہا تھا جیسے مجھے جان سے مار دے گا اور تجھ پر اس کی نگاہیں اس طرح پڑ رہی تھیں گویا وہ تیرا عاشق ہے۔ ادھر آ، بتا تو نے اسے اندر کیوں آنے دیا….؟“

٭………………..٭

پرویز اپنے خیالات میں غلطاں و پیچاں آہستہ آہستہ چڑھائی کی طرف جا رہا تھا۔ جب وہ خیمے کے پاس پہنچا تو اس نے باغ والے سرخ مکان کو مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔آسمان پر چاند نکل آیا اور پروردہ ¿ ماہتاب پھول بصد ناز و انداز ہوا کے جھونکوں سے اٹھلانے لگے۔ خیمے کے بالائی جالی دار دریچے سے نکہت بیز چاندنی، دریا کے دھارے کی طرح اندر آ رہی تھی اور پرویز وائلن کے زیریں حصے پر اپنا رخسار ٹکائے اس کو بجانے میںمحو تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں سفید نرم بالوں کا گز ماہرانہ انداز میں چل رہا تھا، اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں وائلن کے چاروں تاروں پر اس قدر چابکدستی سے ناچ رہی تھیں گویا وہ موسیقی کی دیوی کو مشخص کر کے روئے زمین پر بلا لینا چاہتا ہے۔ اس ساز سے جو نغمے نکل رہے تھے ان میں سحر کا سا اثر تھا اور وہ اس میں اس قدر مدہوش تھا کہ اسے خبر بھی نہیں ہوئی کہ ایک لڑکی کب خیمے کے اندر آئی اور کب سے وہ اس کی موسیقی سے متاثر و متحیر ایک کونے میں ساکت کھڑی ہے۔ اچانک وائلن کا باریک تار، ایک مہین سی چیخ کے ساتھ ٹوٹ گیا۔ وہ خواب موسیقی سے چونکا، اوراس شعلہ رو کو خیمے میں دیکھ کر بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا ”نغمانہ!“

نغمانہ نے چند لمحات اسے خمار آلود نگاہوں سے دیکھا۔ پھر جیسے جاگ کر، وہ اس کے قریب آ گئی اور عاجزی سے کہنے لگی ”مجھے معاف کر دیجئے۔ میری وجہ سے صبح آپ کی بھی توہین ہوئی“

پرویز نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی پراشتیاق نگاہیں نغمانہ کی سبز اور خوبصورت آنکھوں پر جم گئیں۔

اسے یوں خاموش دیکھ کر وہ پھر بولی ”میں جانتی ہوں کہ توہین کا زخم کس قدر گہرا ہوتا ہے۔ اس لئے مجھے احساس ہے کہ دل میر کی سخت کلامی سے آپ کو کس قدر تکلیف ہوئی ہو گی…. اور آپ کی یہ توہین میری وجہ سے ہوئی، میں آپ سے اسی کی معافی مانگنے آئی ہوں“

پرویز نے اس کا ہاتھ آہستہ سے پکڑ کر، اسے اسٹریچر پر بٹھا دیا اور خود فرش پر بیٹھا رہا۔ نغمانہ کی نظروں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ پرویز کا جواب سننے کی منتظر ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا وہ درگزر کر سکتا ہے یا نہیں۔ اسے اس قدر حساس اور منتظر دیکھ کر پرویز نے آہستگی سے کہا ”مجھے واقعی صبح اذیت ہوئی“۔

”آپ سیاح ہیں“ نغمانہ نے یہ اس طور سے کہا جیسے وہ اسے سمجھا رہی ہو۔

”چند روز بعد آپ تو یہاں سے چلے جائیں گے۔ لیکن میرے دل میں ہمیشہ یہ خلش رہے گی کہ میری وجہ سے آپ کی توہین ہوئی۔ یقین مانیے مجھے اس کا بے حد رنج ہے۔ اسی لئے شام کو جب وہ اپنی کشتی میں کہیں چلا گیا تو میں آپ کے پاس معذرت کرنے چلی آئی۔ آپ اس کا کچھ خیال نہ کیجئے۔ وہ تو اپنی عادت سے مجبور ہے“

پرویز اسے یوں گویا دیکھ کر بے قرار ہو گیا اور اس کے دل میں یہ خیال اچھی طرح بس گیا کہ اس معصوم چڑیا کو کسی صیاد نے قفس میں بند کر رکھا ہے۔ اسے پر پھڑپھڑانے کی بھی اجازت نہیں، اور یکایک اس نے سوال کیا ”مجھے بتا دیجئے کہ وہ شخص کون ہے…. کیا وہ آپ کا شوہر ہے؟“

نغمانہ نے گردن جھکا لی اور آہستگی سے بولی ”میری اس سے ابھی تک شادی نہیں ہوئی…. مگروہ کہتا ہے کہ بچپن میں اس سے میری منگنی ہو چکی ہے“

پرویز تھوڑا سا آگے سرک آیا ”لیکن وہ گھر تو شاید اسی کا ہے۔ آپ اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتیں؟“

نغمانہ کی آواز میں اداسی جھلک آئی اور وہ اس طرح باتیں کرنے لگی گویا آج عمر میں پہلی بار کسی نے اس سے دلی ہمدردی ظاہر کی ہے اور وہ اس کو سب کچھ بتا دینے میں بالکل نہیں جھجھکی۔ اس نے کہا ”میرے ماں باپ کا انتقال ہو گیا ہے۔ باپ کی شکل میں نے نہیں دیکھی اور ماں اس وقت اﷲ کو پیاری ہوئی جب میں سات آٹھ سال کی تھی۔ یہ باغ والا سرخ مکان ہمارا ہی ہے لیکن میری ماں کے مرنے کے بعد دل میر کے باپ نے اس پر اور ہمارے کھیتوں پر قبضہ کر لیا۔ میری ماں کے پاس جواہرات کے بڑے خوبصورت زیور تھے، وہ بھی اس نے لے لئے۔ مگر وہ مجھے بے حد چاہتا تھا۔ اپنی بیٹی کی طرح اس نے میری پرورش کی اور جب تک وہ زندہ رہا مجھے کوئی دکھ نہیں پہنچا۔ ابھی چند مہینے ہوئے کالی پہاڑی پر سے گر کروہ مر گیا اور اس وقت سے اس کا بیٹا دل میر مجھے دق کیا کرتا ہے۔ اس کے لچھن اچھے نہیں ہیں۔ تجارت کے لئے وہ آئے دن جزیروں میں جایا کرتا ہے ۔ مگر لوگ کہتے ہیں وہاں یہ آوارگی کرتا ہے“

پرویز نے نیم وا آنکھوں سے خیمے کے باہر دیکھتے ہوئے نہایت رسان سے پوچھا ”تو آپ اس سے شادی کریں گی؟“

نغمانہ نے ٹھنڈا سانس بھرا اور اس لہجے میں جس سے مجبوری ظاہر ہوتی تھی، جواب دیا ”شاید اور کوئی چارہ بھی نہیں۔ لیکن مجھے اس سے نفرت ہے، جب تک اس کا باپ زندہ تھا اس میں پھر بھی کبھی کبھی آدمیت آ جاتی تھی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ کبھی کبھی کشتی کی سیر کرانے لے جاتا تھا۔ اس نے مجھے نا ¶ کھینچنی بھی سکھائی۔

پرویز بولا ”صبح وہ آپ کے ساتھ جس بدتمیزی سے پیش آیا اسے تو کسی کی محبت برداشت نہیں کر سکتی“

نغمانہ غمناک آواز میں کہنے لگی ”اس کی انہی باتوں سے تو مجھے اس سے نفرت ہو گئی ہے۔ وہ مجھے اپنی زرخرید لونڈی تصور کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میری تمام جائیداد اپنے قبضے میں کر کے اس نے مجھے بالکل محتاج کر دیا ہے۔ مجھے سر چھپانے کا بھی کہیں آسرا نہیں۔ ایک دن وہ اُرن سے واپس آیا تو نشے میں تھا۔ اس نے مجھے کھینچ کر زبردستی اپنے سینے سے لگا لیا اور میں نے اس کی نظروں سے ڈر کر جب مدافعت کی تو اس نے میرے بازو کو پیار کیا اور جوش میں اپنے دانت اس میں پیوست کر دئیے۔ اس وقت سے میں اس سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتی ہوں جس کی مجھے طرح طرح کی سزا دی جاتی ہے۔ کبھی وہ مجھے سخت سست کہتا ہے۔ کبھی خواہ مخواہ گالیاں دیتا ہے۔ کبھی کھانے پینے کی بھی پابندی عائد کر دیتا ہے“۔

پرویز نے نغمانہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور ہولے ہولے اسے اپنا فسانہ حیات سنانے لگا۔ رعنا کی محبت اور جدائی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی۔ پھر اس نے اسے خوش کرنے کے لئے ان جزیروں اور وادیوں کا حال، جن کی اس نے پچھلے دنوں سیاحت کی تھی، اسے ایسے دلکش پیرائے میں سنایا جیسے واشنگٹن ، رونگ، الحمرا کے دلفریب افسانے بیان کر رہا ہو یا وارک ڈیپنگ حسن و رومان کی کوئی محیرکن داستان سنائے۔

نعمانہ اس کی باتیں نہایت غور سے سنتی رہی اور اس کے تخیل پر رعنا کا ان دیکھا سراپا چھا گیا۔اچانک پرویز بولا ”آپ رعنا کی ہم شکل ہیں اور مجھے آپ میں ان کی بہت سی خوبیاں نظر آتی ہیں“

….یکایک کشتی میں ملاح نے اپنی پرزور آواز میں لہک لہک کر گانا شروع کر دیا، اور نغمانہ چونک کر کھڑی ہو گئی ”اب میں جاتی ہوں“ اور خیمے میں سے نکلتے ہوئے وہ بولی ”میں بیان نہیں کر سکتی کہ آپ سے مل کر مجھے کس قدر مسرت ہوئی ہے، اس کے علاوہ آپ نے مجھے ایک اور چیز عطا کی ہے، اور وہ ہے عزم! میں اب زندگی کی آندھیوں سے بچ نکلنے کی سعی کروں گی۔ رنج و غم بگولے کے ذروں کی طرح میرے لئے حقیر ہو جائیںگے“۔

پرویز اسے دور تک پہنچانے گیا۔ راستے میں اس نے پوچھا ”دل میر کب واپس آئے گا؟“

نغمانہ نے جواب دیا ”کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ عام طورپر آٹھ دس روز تو لگ جاتے ہیں …. اچھا، اب آپ بہت دور آ گئے ہیں۔ میں یہاں سے اکیلی جا ¶ں گی خدا حافظ“۔

پرویز اسے الوداع کہنے سے پہلے پھر بولا ”آپ نے میرے پاس آنے کی تکلیف اٹھائی ہے اس کا شکرگزار ہوں، اور…. میری جسارت کو معاف کیجئے۔ میں آپ کے پاس کل صبح آ ¶ں گا۔ آپ ملیں گی؟“

نغمانہ ایکاایکی خاموش ہو گئی اورکچھ سوچ کر بولی ”انکار کرنے کو میرا دل نہیں چاہتا، لیکن آپ وہاں نہ آئیے میں خود ہی آپ کے پاس آ ¶ں گی“۔

٭………………..٭

علی الصبح وہ بیدار ہو گیا۔ تمام وادی میں جیسے کسی نے جلوے اور سائے، تنویر اور ظلمات، روشنی اور تاریکی کو آپس میں حل کر کے بکھیر دیاتھا۔ اوراس سمت میں، جہاں اگلے وقتوں کی ایک ٹوٹی پھوٹی خانقاہ تھی۔ خانقاہ کی شکستہ دیواروں اور بوسیدہ محرابوں کو دیکھ کر اس کے بحرتخیل میں گرداب پڑنے لگے اور وہ سوچنے لگا، یہاں کیسے کیسے بوریا نشین زہد و عبادت میں مصروف رہے ہوں گے۔ انہوں نے دنیا اور اس کی رنگینیوں سے منہ موڑ لیا ہو گا۔تمام آرام و آسائش کو تج دیا ہو گا۔ ہاتھ کے تکیے اور خاک کے بستر میں مگن رہتے ہوں گے۔ انہیں کسی بات کا رنج نہ ہو گا۔ کسی چیز کا غم نہ ہو گا۔ بس ان کے دل میں ایک ہی لگن ہو گی کہ اپنے مالک سے لو لگائے رہیں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ساری عمر پرہیزگاری میں گزار دیں۔

پرویز سیر سے واپس آیا تو نغمانہ اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ ان دونوں کے لبوں پر ایک دوسرے کو دیکھ کر تبسم آ گیا۔ وہ تبسم جو سچی خوشی کا مظہر ہوتا ہے۔ تصنع اور دنیاداری کا عکاس نہیں۔ نغمانہ اس کے لئے چسٹ نٹ اور لال کیلے لائی تھی۔ پرویز نے اس تحفے کی بڑی قدرکی، خصوصاً چسٹ نٹ اور لال کیلے نہایت شوق سے کھائے۔ اس کے جانے سے پہلے اس نے اسٹو جلایا اور بڑی احتیاط اور جلدی سے اس کے لئے سبز چائے بنائی۔ نغمانہ نے اسے بیکولائٹ کی پیالی میں پیا اور اس کے مزے سے بے حد خوش ہوئی۔

پھر، وہ اس کے پاس روزانہ آنے لگی، صبح، دوپہر یا شام۔ ایک آدھ دفعہ رات کو بھی وہ اس کے پاس آئی اور اس نے دیکھا کہ پرویز ہمیشہ اس کا منتظر رہتا تھا۔ راستے میں کسی ٹیلے پر بیٹھ کر یا کسی درخت کا سہارا لئے اس کا انتظار کیاکرتا ہے۔ اور جب دیکھ لیتا ہے تو گویا اسے کوئی نعمت مل جاتی ہے۔ اس کے چہرے سے بشاشت ٹپکنے لگتی ہے اور وہ اس سے اس طرح ملتا ہے جیسے وہ اسے عرصہ دراز سے جانتا ہے۔ اسے اچھی طرح پہچانتا ہے۔ پھر ان دونوں میں گھنٹوں باتیں ہوتی رہتیں اور وہ دور دور تک سر گوشیاں کرتے ہوئے چلے جاتے۔

ایک روز صبح وہ خانقاہ والی ڈھلان کے دامن میں ساحل پر آ گئے۔ سمندر کی چمکیلی سطح پر موجیں ناچ رہی تھیں۔ نغمانہ نے ایک پتھر پر بیٹھ کر اپنے پا ¶ں پانی میں ڈال دئیے اور رنگ برنگی چکنی مچھلیاں، نازک ادا جل پریوں کی مانند کبھی اس کی خوبصورت ہلتی ہوئی پنڈلیوں سے ڈر کر بھاگ جاتیں اور کبھی ان کو ساکت دیکھ کر اور ان کو اپنے ہی جیسے دو ماہ پارے سمجھ کر ان سے آ لپٹتی تھیں۔ پرویز بہت دیر تک مچھلیوں کے اس خواب آور مشغلے اور نغمانہ کی سراپا جمال پنڈلیوں کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ان پنڈلیوں کی نازک اور سفید جلد میں سے خون کی لالی اس طرح لہراتی ہے، جیسے مینائے بلوریں میں چھلکتی ہوئی شراب ناب۔

یکایک نغمانہ بولی ”آئیے تیریں“

پرویز کی طبیعت سمندر کے شوریلے پانی میں غسل کرنے کو اکثر چاہتی تھی مگر وہ تیرنا نہیں جانتا تھا۔ نغمانہ کو پانی میں اترئے ہوئے دیکھ کر اس نے فوراً کہا ”مجھے تیرنا نہیں آتا…. آپ تیرئیے“

نغمانہ واپس آ گئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی ”توہم یہیں کنارے پر رہیں گے، آئیے تو سہی، موجوں کے ہلکوروں میں بہت لطف آتا ہے“

نغمانہ کے اصرار سے وہ راضی ہو گیا۔ اس نے اپنی خاکی قمیض اتار دی اور نکر پہنے پہنے، اس کے سہارے سمندر میں اتر گیا۔ اسے اس پر اس قدر بھروسہ تھا کہ بے دھڑک اس جگہ تک پہنچ گیا جہاں گھٹنوں سے اوپر پانی تھا، اور جب از راہ مذاق نغمانہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو پرویز کو ایسا معلوم ہوا کہ پانی کے زور نے اس کے پا ¶ں کے نیچے سے زمین سرکا دی ہے، اور وہ بے سہارا ہو کر گرنے لگا…. مگر نغمانہ نے ہنستے ہوئے اسے تھام لیا اور کہنے لگی ”قدم جمائے رکھیے، یوں! آئیے ذرا اور آگے چلیں۔ وہاں موجوں کا خوب زور ہے“

پرویز کچھ ڈرتا، کچھ نغمانہ کی معیت میں ایک نیاکیف محسوس کرتاکمر کمر تک پانی میں چلا گیا۔ ایک بڑی اونچی موج آئی۔ پرویز خوفزدہ ہو گیا اور جب موج کا شامیانہ اس کے اوپر چھانے لگا تو اس کے منہ سے چیخ نکل گئی مگر دفعتاً نغمانہ نے اس کی کمر میں حلقہ ڈال کر اسے تھوڑا سا اچھال دیا۔ موج اوپر سے گزر گئی اور اس اچھلنے میں اسے بے حد لطف آیا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ تو یہ ہیں موجوں کے ہلکورے! ایک اور موج آئی اور پھر نغمانہ نے اس کی کمر تھام کر اشارہ کیا۔ اس دفعہ اس کی مدد سے کم اور اپنی قوت سے زیادہ وہ خود اچھلا۔ موجیں لگاتار آتی رہیں۔ نغمانہ ہر بار اسے سہارا دے دیتی اور وہ دونوں شوریدہ سرموجوں کی گود میں اچھلتے کودتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد پرویز کو تھکن سی محسوس ہونے لگی اور نغمانہ کا ہاتھ پکڑ کر کنارے کی طرف واپس آیا اور جب پانی گھٹنوں تک رہ گیا تو نغمانہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر اس پر پانی اچھالنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی بچنے کی کوشش کرتا، کبھی خود پانی ہاتھوں میں لے کر اس پر پھینکنے لگتا، اور اس کش مکش میں وہ لڑکھڑا گیا۔ نغمانہ نے فوراً اسے سنبھالا اور اب کے اس کے ہاتھ اس طرح اس کے گرد حمائل ہوئے کہ پرویز اس کی آغوش میں آ گیا۔ اس کے گورے گورے بازو، اس کے اجلے بدن سے چمٹ گئے۔

نغمانہ اس سے علیحدہ ہو گئی اور جلدی جلدی اسے سہارا دے کر پانی سے باہر نکل آئی۔ پھر وہ دونوں سمندری ریت پر بیٹھ گئے اور نغمانہ اپنے بھیگے ہوئے بالوں کو درست کرنے لگی۔ نغمانہ رات کو آنے کا وعدہ کر کے صبح ساحل سے رخصت ہو گئی تھی۔

٭………………..٭

 پرویز اسی کے انتظار میں خیمے کے اندر بے چین بیٹھا ہوا تھا۔ وقت گزارنے کے لئے اس نے وائلن کا کیس کھولا اور چوکور لفافے میں سے ایک نیا باریک تار نکال کر اس کا ٹوٹا ہوا تار بدلا۔ پھر وہ گز کو بروزے پر ملنے لگا کہ اچانک نغمانہ اندر داخل ہوئی۔ اس کے گھنے دراز بال دو سیاہ چوٹیوں میں گندھے ہوئے اس کے شانوں پر مچل رہے تھے۔ اس کی صراحی دار گردن میں لٹکی ہوئی ایک ننھی سی الماس نما سیپ ایسی معلوم ہوتی تھی جیسے ماہتاب کے قریں ستارہ ثریا چمک رہا ہو۔ اور اس کا سرخ پوش جسم یاقوت تراشیدہ کی طرح دنیائے حسن و جمال کا انمول رتن معلوم ہوتا تھا۔

پرویز چند لمحات کچھ نہ بول سکا۔ چپ چاپ اسے تکتا رہا۔ کوئی پراسرار آواز کہہ رہی تھی ”ہاں اے دل! اے دل! یہ بارگاہ حسن ہے۔ یہ آستان عصمت ہے۔ یہاں سجدہ عشق جائز ہے۔ یہاں نذر عقیدت روا ہے“۔

نغمانہ آگے بڑھتی آئی اور مسکراتے ہوئے کہنے لگی ”آئیے باہر چلیں، وائلن بھی لے چلیے“۔

خیمے سے نکل کر اس نے بھولپن سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور وہ ایک گوشہ تنہائی کی طرف مڑ گئے۔ تھوڑی دور جا کر وہ ٹھہرے اور پرویز الائچی کے ایک شگوفہ بار درخت کا سہارا لے کر بولا ”آپ میری ایک درخواست منظور کریں گی“

نغمانہ نے بیٹھتے ہوئے جواب دیا ”نہایت خوشی سے…. فرمائیے!“

”وہ ناچ! جو آپ نے خانہ بدوش رقاصہ سے سیکھا تھا“ جس کے بارے میں آپ نے بتایا تھا۔

نغمانہ کے لبوں پر ایک دلکش تبسم آ گیا اور وہ ذرا شرما کر بولی ”پہلے آپ ہمیں وائلن پر کوئی گانا سنائیے“ اور جب اس نے زیادہ ضد کی تو پرویز مجبور ہو گیا اور اس نے بغیر گز کے، وائلن کے تاروں کو دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے چھیڑنا شروع کیا۔ کچھ دیر میں فضاءمدھ بھری ہو گئی

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے