سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

 

 

وطن فروشی کا جن ہی پکڑ کے دیکھتے ہیں

یہ اِک چراغ ملا ہے، رگڑ کے دیکھتے ہیں

سنا تھا لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

وہ کل کی بات تھی اب بانہہ پھڑ کے دیکھتے ہیں

بڑی ہی آس تھی ہم کو نئی حکومت سے

بہت ہی پھیل گئے تھے ، سکڑ کے دیکھتے ہیں

لکھا فسانہ تو کہنے لگے مرے کردار

بہت سنبھال چکے اب بگڑ کے دیکھتے ہیں

وہ سربراہ اِسی محکمے کا تھا کل تک

سنا ہے اب اسے سب ہی اکڑ کے دیکھتے ہیں

سناہے سبسڈی ہے میٹرو کرائے پر

سو اپنے شہر سے کچھ دن اجڑ کے دیکھتے ہیں

بہت ہی صلح صفائی سے ہم رہے گھر میں

پروگرام یہی ہے ، جھگڑ کے دیکھتے ہیں

محمد ظہیر قندیل

یوں ٹیکسٹ فیس بُک پر تو گڈ مارننگ کا ہے

پھر اس کے بعد سامنا گھر فائرنگ کاہے

 بیوی سے ڈر کے کرتے ہیں سیٹنگز پرایویٹ

کہتے ہیں پھر یہ وقت میری ڈارلنگ کا ہے

اپ لوڈ پکس کر لی ہیں کترینہ کیف کی

درپیش مسئلہ تو ابھی ہائڈنگ کا ہے

شعروں کو میرے کرتے ہیں لائک کبھی کبھی

پوچھا تو بولے پرابلم اک رایٹنگ کا ہے

دعوی ہے فیس بک پہ بڑا ٹیسٹ میچ کا

حالانکہ کھیل انکا فقط اک اننگ کا ہے

غضنفر علی

یہی اچھا لگا مجھ کو ، ذلالت چھوڑ دی میں نے

 چلن دیکھا شریفوں کا ، شرافت چھوڑ دی میں نے

 عوام الناس کو جس نے گھسیٹا روڈ پر لا کر

 وہی اب کہہ رہا ہے کہ ذلالت چھوڑ دی میں نے

 وہ جس نے لوڈ شیڈنگ کی اسے بیگم نے کوسا ہے

 سو اب گنجی حکومت سے شکایت چھوڑ دی میں نے

 میں جس میں رہ رہا تھا اس کی بنیادیں بھی خود کھودیں

 مگر گرنے سے پہلے وہ عمارت چھوڑ دی میں

حلف اُس نے اُٹھایا تو یہی فرماں کیا جاری

حکومت اب کروں گا میں ، سیاست چھوڑ دی میں نے

 مجھے کچھ بھی نہیں لینا ، حسابوں سے ، کتابوں سے

 سو انگریزی پڑھو ں گا میں ، ریاضت چھوڑ دی میں نے

 مجھے جب اس کے ابے نے پکڑ تھانے میں لترولا

 بشیراں کی محبت میں ، محبت چھوڑ دی میں نے

 اب اس کے گھر ٹیو شن کی لگی ہے نوکری میری

 جو چپکے سے میں کرتا تھا زیارت چھوڑ دی میں

زبیر قیصر

یاد ہم کر کے جن کو روتے ہیں

وہ تو پطرس کو پڑھ کے سوتے ہیں

شعبہ عشق کے بنے ہیں امین

قیس و لیلی کے جتنے پوتے ہیں

جن کے جبڑوں میں ایک دانت نہیں

ان کے گھر میں کئی سروتے ہیں

دل کے ننھے فلیٹ میں عشاق

مہ جبینیں کئی سموتے ہیں

گیدڑوں میں یہ چھڑ گئی ہے بحث

شوہروں میں بھی شیر ہوتے ہیں؟؟

چائے میں بسکٹوں کی طرح عزیز

کب پکوڑوں کو بھی ڈبوتے ہیں

ڈاکٹر عزیز فیصل

پہلے ہوئی جدائی اکیسویں صدی میں

میکے سے لوٹ آئی اکیسویں صدی میں

اُن کی ہے بے وفائی اکیسویں صدی میں

اپنی وہی ڈھٹائی اکیسویں صدی میں

مردوں کے کام سارے کرنے لگی ہے نازک

ہم کیا کریں گے بھائی اکیسویں صدی میں

شادی سے پہلے ہم بھی بس ایک تھے اکیلے

اب ہو گئے ہیں ڈھائی اکیسویں صدی میں

مہنگائی ہے الگ سے اور ٹیکس لینے والے

سب ہو گئے قصائی اکیسویں صدی میں

سید فہیم الدین ہاشمی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محمودہ۔۔۔سعادت حسن منٹو

محمودہ سعادت حسن منٹو مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    سلطان حسام

    بہت زبردست تخلیقات ایک سے بڑھ کر ایک کاوش ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے