سر ورق / ناول / 6کفن باندھ رہا ہے۔ شبہہ مظہر رانجھا قسط نمبر

6کفن باندھ رہا ہے۔ شبہہ مظہر رانجھا قسط نمبر

قسط نمبر 6۔ آخری قسط

ہم سب کا آپس میں رابطہ تھا،پنڈدادنخان والے بھی اپنی گاڑی میں نکلے ہوئے تھے ہم لوگ بھی بھلوال سے روانہ ہوچکے تھے،ادھر

عالم اور ندیم ڈِنگہ (کھاریاں کینٹ سے ملحق نسبتاًقصباتی علاقہ)سے اپنی گاڑی میں تھے کچھ دیر تک تقریباً نو اور دس کے درمیان ہم

موٹروے سے اتر چکے تھے۔کینٹ والی وین میں تھے کہ ادھر ایک عورت جو میرے پاس ہی بیٹھی تھی پوٹھوہاری زبان میں دوسری کو

بتانے لگی کہ آج کوئی فوجی شہید ہوا ہے، کہاں؟ دوسری نے پہلے والی سے پوچھا،تو اس نے بتاےا کہ واہ کینٹ کا کپتان شہید ہوا

ہے،خبروں میں بتا رہے تھے۔ساتھ دو تین اور بھی شہید ہوئے ہیں،میں متوجہ ہوئی اور پوچھا کہ اس کی تصویر بھی دی ہے ٹی وی پہ؟

کہتی دی تو ہو گی پر میں کاموںمیں مصروف تھی دیکھا نہیں،ہاں میرا بیٹا بتا رہا تھا کہ انٹر نیٹ پہ بھی اسکی فوٹو آئی ہے،وہ مجھے دکھائی ہے

اس نے ،خوبصورت جوان تھا،میں نے کہا داڑھی تھی اس کی؟ہاں اس کی کالی سیاہ داڑھی تھی،وہ پہلے والی کو چھوڑ کے مجھ سے باتیں

کرنے لگی،میں نے مزید سوال کئے ،قد کیسا تھا،اورکہاں کی شہادت کا بتایا ہے انھوں نے ،جب مجھے یقین آ گےا کہ وہ ہمارے مون

کے بارے میں بتا رہی ہے تو میں نے کہا وہ میرا بھائی ہے۔ہم ادھراس کے گھر ہی جا رہے ہیں۔ وہ مجھے گھور کے دیکھنے لگی،پھر کہتی

تمھارا بھائی ہے تو کیا علیحدہ رہتا تھا بیوی کے ساتھ؟مجھے اس کے انداز پہ غصہ کی بجائے ہنسی آئی کیونکہ اس بیچاری کو کیا پتہ،میں نے

کہا کہ اسکی امی میری پھوپھو لگتی ہیںاور وہ تو بیچارہ ابھی شادی شدہ بھی نہ تھا،ہماری باتیں سن کے دوسرے مسافر بھی متوجہ ہوئے اور

تصدیق کی کہ واہ کینٹ کا واقعی ایک کیپٹن آج شہید ہوا ہے۔

 میَن بیرئیرپہ پہنچے تو آئی ڈی کارڈ چیک کروانے کے لئے نکالے۔امی جی نے سیکیورٹی کو بتاےا کہ ہم نے کیپٹن جو شہید ہوا ہے ادھر

جانا ہے انھوں نے ہمیں بغیر چیکنگ کے آگے بھیج دیا،ہم سب تقریباً ایک ہی وقت میں شہر میں داخل ہوئے۔مرکزی جامعہ مسجد کے

پاس اترے ۔جس میں لاسٹ ٹائم ہمیں عثمان گھماتا رہا تھاادھر سے ذیلی سڑک پہ آئے اور ساتھ ہی شناسا چہرے

دکھائی دینے لگے سکول کی سڑک پہ آئے تو خواتین کا جمِ غفیر تھا،ہم بھِیڑ چیرتے ہوئے گھر کے داخلی دروازے پہ آئے اور دیکھا

سامنے آنٹی رضیہ بیٹھی ہیں اور عورتیں ان کے گرد جمع ہیںمیری امی نہایت تیزی سے جا کے ان کے گلے لگیں اور ہم سارے بے تحاشا

کُرلانے لگے،میں نے آنٹی کو پُرسہ دیا تو روتے ہوئے کہتیں شبیہہ تمھارا دوست چلا گےا،اس کے دل میں تمھاری بہت عزت

تھی،بیٹا تم اس کے خاص دوستوںمیں شامل ہو۔میرا رونا ہی نہیں رُکتا تھا میں جواب میں کیا کہتی۔ایک کہرام بپا تھا،میں تو ابھی

تک اس حیرت میں تھی کہ کچھ دن پہلے عید پہ میری اس سے بات ہوئی ہے ۔وہ کھلکھلاتی مسکراتی زندگی والا یوں ہم سب کے بِیچ سے

اٹھ کے چلا جائے گا؟فاطمہ ،ممانی،خالہ فردوس،امی سبھی رو رہے تھے ،لیکن آفرین ہے اس ماں پہ جو اپنی ممتا پہ حوصلے کی سِل رکھے

پُرسے لے رہی تھی،عابدہ چپ چاپ میرے گلے لگی رو رہی تھی،میں نے حوصلہ دیا تو روتے ہوئے کہتی باجی ٹھیک ہے وہ شہید ہو

گےا ہے لیکن اس نے بہت جلدی کی،اسے بہت جلدی تھی ہم سے بچھڑنے کی اسے اتنی جلدی تو نہیں کرنی چاہئےے تھی ناں۔روتے

رہے دامن بھگوتے رہے۔۔۔ ان کے ٹاﺅن کے لوگ اور ساتھ والے پڑوسیوں نے ٹینٹ لگا دئے تھے دریاں بچھ گئی تھیں،آنٹی

کہہ رہی تھیں میرے مون کے سب باراتی اکٹھے ہو رہے ہیں۔ہم سب کو کہتیں آج اسکے جی بھرکے شگن کرنا۔اور میں نے کہہ دیا

ہے کہ کھانے میں کوئی کسر نہ ہو۔آج تم ساری لڑکیاں اسکی شادی کے لئے آئی ہو ناں؟بس میرا شہزادہ کچھ دیرمیں پہنچنے والا

ہے۔۔۔ایک ماں کے بیَن سن کے کون چپ رہتا سب رو رہے تھے لیکن جیسے جوان موت پہ لوگ کرتے ہیں وہ سماں نہیں تھا۔

آنسوﺅں سے رونا اور ہے بال کھول کے کمر باندھ کے رونا اور ہے ۔وہ اس سے کیا ہوا وعدہ نبھا رہی تھیں۔انکل سلمان اور عثمان

پشاور نمازجنازہ میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے،اس کے بعد واپسی پہ مون کو بھی لیتے ہوئے آنا تھا۔۔۔کیپٹن احمد رزاق نے

عثمان سے دوبارہ رابطہ کیا اور کہا کہ میں آپ کے ساتھ پشاور جاﺅں گا،جب وہ گاڑی میں بیٹھے تو کیپٹن احمدنے گھائل ہوئے عثمان کو

مخاطب کر کے کہا جانتے ہو کیپٹن عمر مجھے کیوں اچھا لگتا تھا؟عثمان نے بھیگی ہوئی سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا،جب ہم

کاکول میں تھے نا،عمر مجھے احمد بھائی کہہ کے بلاتا تھا،اور مجھے یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی۔خاص طور پہ اس وقت میں شرمندگی

محسوس کرتا جب میں لڑکوںکے ہجوم میں ہوتا تھا۔ایک دن میں نے عمر کو جھاڑ دیا کہ تم مجھے صرف احمد کہا کرو احمد بھائی نہ کہا کرو،میں

کوئی زیادہ بڑا ہوں تم سے؟اس نے میری طرف دکھ سے دیکھا اور کہا میں آپ سے اس لئے ادب کے ساتھ بات کرتا ہوں کیونکہ

آپ میرے بڑے بھائی کے ساتھ پڑھتے رہے ہواور میں عثمان بھائی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کر سکتا تو ان کے کسی دوست یا کلاس

فیلو سے کیسے کر سکتا ہوں۔اس کی اس بات پہ میں شرمندہ ہو گےا اور تب سے دل ہی دل میں اسکی عزت کرنے لگااس بات پہ دونوں

دیر تک روتے رہے۔ ہمم۔۔۔۔۔اچھا بارہ اگست کا نائٹ پاس پکا آپ کے پاس ۔پکا؟ہاں جی بالکل پکا۔اس دفعہ آپ کے پاس

ضرور آﺅں گا۔گاڈ پرامز؟اوباجی یارا مون نے کبھی وعدہ نہیں کیا،اور ایک دفعہ کہہ دے تو بات پوری کرتا ہے۔بارہ اگست کو آپ

کے پاس آﺅں گا تو پھر ضرور آﺅں گامر کے آنا پڑا تب بھی۔۔۔۔اور وہ مر کے ہی آ رہا تھا۔عابدہ کو اسکی محض آٹھ دن پہلے کی باتیں ےاد

آئیں اور وہ گھُٹی ہوئی آواز میں رونے لگی۔

فون پہ رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ رات ایک بجے کے قریب پہنچیں گے۔امی جی کی حالت خراب تھی میں نے انھیں اندر لٹا دیا رش بھی بہت

تھا۔گاڑیاںبھر بھر کے مون کے دیوانے آ رہے تھے ،ہمارے میدانی علاقے ہیں گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے،لیکن یہاںجیسے

جیسے رات بھیگ رہی تھی موسم معتدل ہو رہا تھا۔امی کو ائیرکولر کے آگے لٹایا تو انھیں ذرا اونگھ آ گئی۔میں نے شکر ادا کیا کیونکہ جب مون

نے آنا تھا تب کس نے سونا تھا۔کھانا وغیرہ سب ٹاﺅن کے لوگوں کے ذمے تھا،ہم رشتہ دار تو بے وقت پہنچ رہے تھے اور گھر پہ مرد

نہیں تھے،لیکن ان کے محلے والوں نے بہترین انتظام کر دیا۔۔۔عالم کے ایک دوست بھی آرمی میں ہیں وہ بھی آج ہی کسی آپریشن

میں badly injurdہوئے تھے اور اسلام آباد میں تھے انھوں نے یہاں مون کا انتظار کرنے سے بہتر سمجھا کہ اس کی طرف ہو

آئیں۔میں نے بھی یہ ہی مناسب سمجھاکیونکہ عالم کی طبیعت بھی صحیح نہ تھی یہاں طویل رات تھی جو ہم نے بیٹھ کے گزارنی تھی آرام کا

تو سوچ بھی نہ سکتے تھے،ددھیال،ننھیال،دورنزدیک کے رشتہ دار اور مون کے دوستوں کا تو شمار ہی نہ تھا۔ لوگ سفر صدمے اور

تھکن سے بے حال ہو گئے،زیادہ تر لان میں لیٹ گئے کچھ کمروں میںاور جو پھر بھی بچ گئے انھوں نے کرسیوں پہ بیٹھ کے رات

بِتائی۔ جن میں ایک ہم بھی تھے،کوئی شکوہ نہیں شکائےت نہیں اورہوتی بھی کیوں۔آخر وہ بھی تو سرحدوں پہ ہمارے لئے آرام تےاگتا

تھا۔آخر رات ڈیڑھ بجے وعدے کے مطابق شہزادہ گھر آگےا۔وہ جو وعدہ نہیں کرتا ،صرف بات کرتا ہے،وہ بات بھی کرے تو اس

سے پیچھے نہیں ہٹتا۔قیامتِ صغریٰ پبا تھی بچہ بچہ جاگ پڑا تھا ۔گیٹ کے باہرگاڑی رکی تولوگ لپکنے لگے،ہائے وائے کا شور بلند

ہوا،سب سے پہلے گاڑی میں سے وطن کے بیٹے نکلے،پھر انکل سلمان اورعثمان باہر آئے اور اس کے بعد فوجی جوانوں نے شہید کا

تابوت کندھوں پہ اٹھا کے باہر نکالا ابھی اٹھا کے اندر نہیں لائے تھے کہ عثمان ماں ماں کہتا ہوابھاگتا ہواآیا اور ماں کو بازوﺅں سے پکڑ

کے تابوت کے سامنے لے آیا،ساتھ جذباتی انداز میں کہتا جائے کہ سب سے پہلے میری ماں اپنے بیٹے کو ملے گی،لوگ پیچھے ہٹ

گئے اور ماں بیٹے کو سلامی دیتی ہوئی آگے بڑھتی گئی،سبزہلالی پرچم میں لپٹا تابوت اور تابوت میں پرسکون اور مطمئن کیپٹن عمریوںسویا

ہوا جیسے ماں کی گود میں ہو۔ماں نے جھک کے شیشے کے بکس کے اوپر سے ہی بیٹے کا بوسہ لیا اور بسم اللہ کہا،یوں جیسے وہ مہمان بن کے

چند دن کی چھٹی لے کے آیا ہوماں کی ملاقات صبر کی شاندار مثال تھی آنٹی رضیہ پہ ضبط کے وعدے نبھاتے ہوئے کتنی بار لرزہ طاری

ہوا تھا لیکن اس شیر کی آواز کانوں میں آتی تو دھیرے سے کچھ کہہ کے چپ ہو جاتیں تابوت کے ساتھ کرنل ندیم آئے تھے۔انھوں

نے تابوت ڈرائنگ روم سے باہر والی راہداری میں رکھا اور دنیا شہزادے کا دیدار کرنے کے لئے پروانہ وار آگے بڑھی ،کوئی پودوں

کی باڑیں پھلانگ رہا تھا کوئی موبائل میں تصویر بنانے کو سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا اور وہ بھی تھے جو دیواروں اور ستونوں سے لگ کے

چپکے چپکے آنسو بہا رہے تھے،میں بھی جگہ بنا کے بمشکل تابوت کے پاس پہنچی اور۔۔۔اسے دیکھ کے ساکت سی ہو گئی،وہ چمکتا نکھرتا

رنگ سیاہ پڑ گےا تھا،موٹی آنکھوں والے کی دائیں آنکھ شہید ہو چکی تھی جسے رُوئی سے ڈھکا گےا تھا،سر پہ بھی رُوئی تھی اس شاندار مجاہد کا

خوبصورت کاسہ ¿ سر حرمتِ وطن کے کام آ گےا تھا ۔سچ کہتے ہیں اصل قربانی ہی وہ قبول ہوتی ہے جو خوبصورت اور صحت مندہو،

اللہ پاک کرے تو اس کی قربانی لگتا تھا قبول ہو گئی ہے کیونکہ اس کا سارا چہرہ ہی پیارا تھا اور چہرے پہ بارود کے چھینٹے ایسے پڑے تھے

جیسے پلاسٹک کی گڑیا پہ گرم لوہا رکھو تو وہ گھُلنے لگے،جسم ڈھکا ہوا تھا پتہ نہیں اللہ پاک نے باقی جسم پہ کوئی امتحان رکھا تھا کہ نہیں۔آ گئے ہو آج گھر؟بھلا اپنے گھر غیروں کے کندھوں پہ سوار ہو کے بھی آیا جاتا ہے؟آج بارہ اگست ہے آج یقین آگےا کہ تم بات پہ پورا

اترتے ہو،تم ایک مردِ مومن ہو مون،میرے پیارے بھائی،تم نے میدان میں پیٹھ نہیں دکھائی،تم سینے اور چہرے پہ زخم کھا کے آئے

ہو،آج تمھارا دشمن شائد خوش ہو لیکن تم نے انھیں بتا دیا ہے کہ پاکستان کی مائیں ابھی بھی شیر دل جوانوں کو جنم دیتی ہیں۔

 My tears are saying you MARHABA آج تم قربان ہو گئے،افسوس یہ ہے کہ اب تم کبھی نظر نہیں آﺅ

گے،کبھی تمھاری آواز کی جلترنگ سنائی نہیں دے گی ،پیارے لڑکے تم نے آج جو سرپرائز دیا ہے اس نے ہماری جان نکال لی

ہے،کبھی بھی تمھارا یہ سرپرائز نہیں بھولے گا۔۔۔میں سرگوشیوں میں اس سے باتیں کر رہی تھی اور رو رہی تھی،لگ رہا تھا کہ وہ میری

باتیں سن رہا ہے،بہت جلدی کی تم نے مون،ابھی تو تمھارے سر پہ گھر کی ذمہ داری ڈالنی تھی،تمھارا اپنا گھر بسانا تھا،لیکن تم اس دنیا

کے لئے تھے ہی نہیں،تم بھول کے ہماری دنیا میں آگئے تھے؟یا تمھیں ادراک ہو گےاتھا کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے۔۔۔؟میں الٹی

سیدھی سوچوں میں تھی اتنے میں امی بھی آگئیں۔وہ بھی روتی رہیں،فاطمہ کو یہ بات رلاتی تھی کہ اس نے مون کو کہا تھا آپ لوگوں

میں سے کوئی مجھے فون یا میسج نہ کرے اور تب مون نے مجھے شکائیت کی تھی کہ باجی مجھے فاطمہ نے منع کیا ہے۔۔۔شائد تین بجے تھے

کہ اس کے دوست آئے اور تابوت اٹھا کے سرد خانے لے گئے کیونکہ یہاں رش کی وجہ سے گرمی کافی ہو گئی تھی،ہم سب راہداری میں

ہی بیٹھے ہوئے تھے ،اس کی دادی اور نانی جان دونوں روتی تھیں اورکہتیں تھیں کہ جانا تو ہم نے تھا وقت تو ہمارا تھا جانے کا،لیکن ہمارا

جوان بچہ شہید ہو گےا۔انکل سلمان اپنی ماں کے پاس آ کے بیٹھے اوران کی گود میں سر رکھ کے رونے لگے وہ بھی روتی تھیں،اتنے میں

ایک خاتون بھی آ کے پاس بیٹھ گئیں،سلمان آپ پشاور پہنچے تو کیا عمر آ چکا تھا؟انھوںنے انکل سے سوال کیا تو چہرہ پونچھ کے کہتے

نہیں میڈم،کچھ دیر تک مون کی باڈی آئی تھی۔مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ان کے سکول کی شائد پرنسپل ہیں تبھی نام سے پکار رہی ہیں۔وہ

اشتیاق سے بولی اچھا پھر کیا ہوا؟آپ نے عمر کو تابوت کے بغیر دیکھا؟اسکی حالت کیسی تھی؟نہیں میڈم انھوں نے نہیں دکھایا،اس کو ہسپتال لے گئے تھے،سٹیچنگ ہوتی رہی،بینڈج کی ۔اسے ہمارے سامنے بالکل ریڈی کر کے لائے تھے جیسے آپ لوگوں

نے دیکھا تھا ایسے ہی ہم نے بھی دیکھا،میں نے کہا انکل آپ لوگ اتنی دیر سے کیوں آئے حالانکہ پشاور سے واہ کینٹ کا اتنا سفر نہیں ہے،وہ کہتے بیٹا مون کی باڈی ہی ادھر سے لیٹ آئی تھی،وادی ¿ تیراہ میں مون سے ایک دو دن پہلے دو جوان شہید ہوئے تھے انکو ہیلی میں پشاور لایا گیا لیکن شدید بارش کی وجہ سے کافی مشکل ہوئی تھی اس لئے مون اور اس کے ساتھ کے دوسرے شہید ہونے والے جوانوں کو بائی روڈ پشاور کمبائن ملٹری ہسپتال پہنچایا گےا تھا،بس اس ساری سرکاری کاروائی میں دیر ہوئی۔اس کے بعد سارے اعٰلی افسران اور جنرل راحیل شریف صاحب آئے اور جنازہ پڑھا گےامجھے جنرل صاحب حوصلہ دیتے رہے،انھوں نے تقریر بھی کی اور بتاےا کہ عمر اس آپریشن ضربِ عضب میں نا صرف پاکستان کے لئے بلکہ خود ان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا وہ اس کی شہادت سے ٹوٹ سے گئے تھے،جس کا کہ انھوں نے خود اعتراف بھی کیا تھا۔ہم سبھی انکل کی باتوں میں گم تھے کہ انھیں بلا لیا گےا شائد واہ کینٹ کے کوئی معزز مہمان افسوس کے لئے آئے تھے۔بعد میں پتہ چلا کہ وہ میڈم مون کی بچپن سے ٹیچر بھی تھیں، کہتیں کہ جب عمر کی شہادت کی خبر سکول پہنچی تو جنھوں نے تو اسے دیکھا ہوا تھا ےا جانتے تھے انکے لیکچر تو رستے میں رہ گئے اور جو اسے نہیںجانتے تھے یا نہیں ملے تھے اس سے ،وہ لیکچرہی دیتے رہے ۔انکی بات سن کے سب کی سسکیاں نکل گئیں ۔کیامقام میرے رب نے اسے دیا تھا کہ رات بھیگ گئی تھی اور اتنی بے آرامی میں آج اس کو مون سے کیپٹن عمر بنانے والے اسکے ٹیچر اسے مرحباکہنے کو آئے بیٹھے تھے،وہ ہم سب سے بہت بہت آگے نکل گےا تھا اسکا مقام بلند تھا جس کی آرزو میں دنیا جان جوکھم میں ڈالتی ہے محنت کرتی ہے لیکن کون جانے کہ یہ مقام محنت سے نہیں مقدر سے ملتے ہیں،ایک اور خاتون بیٹھی ہوئی تھیں وہ کہنے لگیں کہ جس دن آخری بارگھر آیا ہے نائٹ پاس پہ،اس دن گھر کی طرف آنے والی سڑک پہ اٹھکیلیاں

کرتا ہوا آ رہا تھا۔میں نے دیکھا اور کہا کہ یہ مون لگ رہا ہے لیکن اس کے پاﺅں کو کیا ہوا ہے؟زمین پہ لگ بھی نہیں رہے اور اچھلتا

کودتا نزدیک بھی آتا جا رہا ہے۔آپ لوگ یقین کریں کہ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا کہ کب اس کے پاﺅں زمین پہ پڑتے ہیں اور کب وہ

قدم آگے بڑھاتا ہے۔مجھے سلام کیا اورمیں نے کہا اب تو عید کا چاند بھی نہیں رہے ہو،وہ بھی سال بعد نظر آجاتا ہے تم تو سال بعد

بھی شکل نہیں دکھاتے،ہنستے ہوئے کہتا آنٹی اب تو دیکھ لی ہے ناں؟بس ایک رات کی چھٹی ہے فجر ٹائم نکل جاﺅں گا،میں نے کہا خیر

سے آﺅ جاﺅ بیٹا،سلامت رہو،وہ آگے بڑھ گےا اور پھر اسی طرح اٹھکیلیاں کرتا جانے لگا۔ بے اختےار میں نے اسے کہا مون بیٹا دھیان

سے چلوگِرجاﺅ گے،ہنستے ہوئے کہتا آنٹی میں بچہ نہیں ہوں،اور میں مُڑ کے دیکھنے لگی لگتا تھا اس میں بجلی بھری ہے،آ ج بھی میری

آنکھوں میں وہی سراپا،مسکراہٹ،کھیل کود اور اسکا بچپنا آتا ہے۔۔۔نیند نہ لینے سے طبیعت بڑی مکدر ہو رہی تھی لیکن جلدی منہ

ہاتھ دھو کے فریش ہونے کی ناکام کوشش کی،مون کی رات کوجو تصویریں بنائی تھیں وہ عالم کوSend کیں اور ساتھ تاکید کی کہ

جلدی آجائیے گا،ناشتہ کیا ،بتایا گےا تھا کہ قل تک جتنے بھی کھانے پینے کے اخراجات ہوں گے وہ آرمی اٹھائے گی، ساتھ ہی بلدیہ

والے صفائی کرنے آ گئے،بڑی بڑی مشینوں سے گھاس کاٹا گےاباہر نکل کے دیکھا تو پورے علاقے میں بلدیہ عملہ سر گرم تھا،مجھے رونا

بھی آئے اور سوچ بھی کہ مون آج تیرے لئے اتنے لوگ مصروفِ کار ہیں،تیری خدا نے اتنی شان بنائی کہ آج ایک تمھاری

خاطربیس سے زیادہ ضلعوں سے لوگ اکھٹے ہوئے اور آرمی کا تو شمار ہی نہیں ،ہر کوئی متحرک تھا۔ہمیںآنٹی نے کہا کہ سب لڑکیاں

سکول چلی جائیںبیٹھنے کا انتظام ادھر ہی تھا ، وہ ہی سکول جہاں وہ پڑھا تھا،کھیلا تھا پلے گراﺅنڈ جہاں بھاگتے دوڑتے اسکا بچپن

گزرا،وہ کلاس روم جہاں چیئرزپہ بیٹھ کے دوستوں کے ساتھ لیکچر کے دوران شرارتیں کرتا،جی ہاں آج اسی سکول میں مون

کے آخری سفر کی تےاری تھی مہمان آتے جا رہے تھے ۔کچھ دیر بعد کمرے بھر گئے اور ساتھ ہی بارش شروع ہو گئی تِل دھرنے کی جگہ نہ

تھی ۔آنٹی رضیہ ساتھ ہی بیٹھی تھیں ،عثمان باہر سے بھیگا ہوا آےا اور ماں کے گھٹنوں پہ سر رکھ کے رونے لگاشائدغیر ارادی طور پہ خواتین

اس میںمون کو دیکھ رہی تھیںتبھی رونے کی آوازوں میںاضافہ ہو گیا۔ آہستہ آہستہ رش بڑھتا گےا،میّت آتے ہی رونا پیٹنا شروع ہو

گےا،بارش ایک دم بنی اوردھواں دھار برسنے لگی،یہ رحمتِ خدا وندی ہے اس بچے پہ خدا بڑا راضی ہے عورتوں کے تبصرے جاری تھے

ہم سب کو سکول چیئرز پہ ہی بٹھاےا گےا تھا،میرے پہلو میں ایک خاتون بیٹھی تھیں ،اچھی بلکہ جدید تراش خراش کا سوٹ پہنے ہوئے

تھیں،وہ بتانے لگیں کہ انکا بیٹا بھی کیپٹن عمر کے ساتھ تیِراہ ویلی میں ہوتا ہے،چھٹی نہیں ملی اسلئے آ نہیں سکا،وہ رات بھر سویا نہیں بار

بار کال کر رہا تھا ماما آپ کیپٹن عمر کے گھر ضرور جانا،وہ میرا بہت اچھا دوست تھاماما میں اس کا ایک ایک پل ےاد کر رہا ہوں مجھے آرام

محسوس نہیں ہو رہا،وہ کہتیں بیٹا کون سا تمھارا دوست عمر؟تب اس نے کہا ماما ےاد ہے آپکوجب میرے دوست گھر آئے ہوئے تھے اور

ہم نے آﺅٹنگ پہ جانا تھا تو آپکی گاڑی گیراج میں کھڑی تھی ہم لوگ وہ لے اُڑے تھے جب واپس آئے تو آپ نے غصے سے

میرے دوستوں کے سامنے ہی مجھے ڈانٹا تھا ،میں نے کہا پلیزماما میرے فرینڈز کے سامنے۔۔۔اور آپ نے کہا تھا گدھے ہو تم

سب،تم بھی اور تمھارے فرینڈز بھی،میں شدید غصے میں آ گےا اور وہ جس دوست نے آپ کو ماںسمجھ کے معافی مانگی تھی ناں۔۔آج

وہ ہی شہید ہو گےا ماما۔۔۔وہ خاتون بتا رہی تھیںاور مجھے اسکی شخصیت کے اتنے پہلوو ¿ں پہ پیارآتا رہابعد میں جو اسکی تصویریں فیس

بک ، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا کی زینت بنتیں رہیںوہ ان خاتون کے سیل میں موجود تھیں اور وہ اسلام آباد سے واہ کینٹ پوچھتی

تاچھتی محض اپنے بیٹے کے اصرار پہ یہاں تک آئیں تھیں،مقصد بتانے کا یہ کہ اس ینگ بوائے کے ساتھ لوگوں کی محبت کا یہ عالم

تھا۔۔۔تابوت لایا گےا تو رات کی نسبت زیادہ کُہرام مچا،عورتوں پہ نظر ڈالیں تو ایک سمندر تھا،مردوں پہ نظر ڈالیں تو اس سے بھی

زیادہ۔کیا موت ہے تیری مون۔میں سوچتی جاﺅں اور عورتوں کو پیچھے کر کے اسے پھر سے دیکھنے کی تمنا میں آگے بڑھتی

جاﺅں،مشکل سے میں پاس پہنچی وہ ایسے ہی آرام کر رہاتھا جیسے رات کو،آنٹی رو رہی تھیں مون تیرا آرام اتنا لمبا ہو گےا ہے،اٹھ نہ

بچے،اتنے مہمان آئے ہیں،تیری بارات کے لئے،استقبال نہیں کرو گے؟اتنا تو پہلے کبھی نہیں سویا،ماں بلا تی ہے تجھے بیٹا۔مجھ سے

آنٹی کے بیَن برداشت نہ ہوئے،میں کچھ دیرکے لئے باہرآ گئی،سکول کی راہداریاں برآمدے بھرے ہوئے تھے لوگوں سے،بارش

رک گئی تھی لیکن پلے گراﺅنڈ میں پانی تھا اس لئے وہاں کھڑا بھی نہیں ہوا جا سکتا تھا۔میرے پاس ایک لڑکی کھڑی تھی،میری آنکھوں

میں نمی دیکھ کے کہتی،آپ شہیدکی کیا لگتی ہیں؟میں نے کہا بہن ہوں۔کہتی سگی بہن؟میں نے کہا نہیں کزن تھا،وہ پھر باتیں کرنے

لگی،میں نے دیر بعد غور کیا تو وہ کہہ رہی تھی ہم کافی دور سے سن سنا کے آئے ہیں،مجھے ان کے ہمت حوصلے کی داد دینا پڑی،پھر کہتی

کہ تین ماہ پہلے میرا بھائی بھی شہید ہوا ہے اس لئے جن کا نقصان ہو وہ ہی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔جی۔میں نے اسکی تائید

کی۔اتنے میں فاطمہ آئی اور مجھے کہتی ادھر کھڑی گپیں لگا رہی ہو،اُدھر وہ جنازہ اٹھانے آرہے ہیں۔میں پریشان ہو گئی کیونکہ عالم

لوگ ابھی نہیں پہنچے تھے میں نے فوراًکال کیا تو انھوں نے بتاےا کہ ہم نزدیک تو ہیں لیکن جام ٹریفک میں پھنس گئے ہیں،میں نے یہ سنا

تو جھنجھلا کے فون بند کر دیا،دوبارہ مون والے کمرے میں گئی،جی بھر کے روئی کیوں کہ اسکو دیکھ کے دردرکھنے والا کوئی انسان ضبط پہ

قابو رکھ ہی نہیں سکتا تھا،کزنز،خالہ،پھوپھیاں،چاچیاں،ممانیاں اوربرادری سے باہر کے لوگ ہر کوئی رو رہاتھا۔ہم سب گلے مل مل

کے روئے کان پڑی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی،آخر ایک کڑیل جوان فوجی مر گےا تھا تو کوئی کیسے چپ رہتا،امی نے کوئی

الودائی سلام پڑھنا شروع کر دیا، ہر کوئی اپنی باتیں اور بین کر کے روتا تھا۔۔۔۔پھر وہ اس کو رخصت کروانے آگئے،مرد آئے انھوں

نے کلمہ ¿ شہادت بلند کیا اور چیخ و پکا ر بھی بڑھ گئی ہم سب اس تصور سے ہی رونے لگے کہ کیا وہ اب ہمیشہ کے لئے جا رہا ہے؟اب اس

 کے ساتھ سلسلہ ¿ ملاقات نہیں رہے گا

      تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا۔۔۔۔

ایک دم کوئی میرے دائیں سائیڈ سے بولا۔۔۔باجی !نو گفٹ نو لفٹ؟باجی میں تو ابھی سٹوڈنٹ ہوں ناں،ابھی تو پڑھتا ہوں

ناں۔۔۔جی ہمارے ادارے زیادہ اچھے ہوتے ہیں،فیڈرل بورڈ کا ایک نام ہے پوری دنیا میں۔۔۔باجی یہ کیا ہے،شرٹ ہے

،امید ہے تمھیں پسند آئے گی،کیوں دے رہی ہیں؟ اوئے تمھاری برتھ ڈے گزری ہے ناں اس لئے۔۔۔۔باجی ہمارے ملک کے

پاس کسی چیز کی کمی نہیں بس ہم میںسے غداری اور لالچ نکل جائے تو فرشتے ہی بن جائیں،نہیں جی فرشتے بن کے کیا کرنا ہے پہلے

سیدھی طرح پاکستانیوں کو انسان بننے دینا پھرکچھ اور بنانا،۔۔۔باجی آپکی دکان پہ آرہا ہوں،مسٹر مون میری دکان نہیں ،پارلر

ہے،ایک ہی بات ہے باجی۔۔۔انکل مظہر آپ نے پریشان نہیں ہونابھائی احتشام ٹھیک ہو جائیں گے،آپ بیٹھیں میں دوائی لے

کے آتا ہوں۔۔۔باجی بارہ بجے تو سارے ہی سالگرہ وش کرتے ہیں تہجداور فجر ٹائم جو آپکو وش کرے گا وہ صرف مون ہو گا۔۔مون

تو دنیا میں ایک ہی تھا اسکا بدل کوئی بھی نہیں۔۔۔اسکی آواز کا آرکسٹرا میری سماعت کے میوزک روم میں دھنیں بناتا رہا اور وہ لوگ

تابوت کو مردانے میں لے گئے تھے ۔ہم سب دیوانوں کی طرح پیچھے پیچھے،آرمی والوںکے پاس چلا گےا تو باقی عوام کو پیچھے ہٹا دیا

گےا،لیکن ہم نسبتاً قریب کے برآمدے میں سے دیکھ سکتے تھے،مردوں کا بھی جھُنڈ ہی تھا، کہ اچانک ماموں رشید کی آواز گونجی،نعرہ ¿

تکبیر،جواب میںاللہ اکبر کی صدا ان کے نعرے سے کہیں بلندی سے گونجی اور پھر اس کا تابوت میں جسدِ خاکی آرمی والوں کے

کندھوں پہ نظر آیا۔ماموں جی کی آواز پھر گونجی پاکستان۔۔۔جواب میں زندہ باد گونج گےا اور وہ تابوت لے کے اسی مسجد کی طرف

بڑھ گئے جس میں وہ سیپارا پڑھنے جاتاتھا اور حفظ بھی کیا تھا۔اس مسجد کا صحن بہت بڑا تھا لیکن اس میں بھی جگہ کم پڑ گئی اطراف کی جگہ

بھی جنازہ پڑھنے کے لئے ٹینٹ لگا کے اندر لی گئی تھی ایک جہان اکھٹا تھاعثمان کے مطابق تقریباً چھے ہزار سے زیادہ افراد کا اکٹھ تھا، جو کہ واہ کینٹ کا ایک تاریخی جنازہ تھا، ہم لوگ اور بہت سی خواتین پیچھے پیچھے مسجد کی طرف آگئیں۔

 بہت بڑا گراﺅنڈ تھا اور بارش کی وجہ سے گھاس میں پانی سا تھا،لیکن اس کی کسے پرواہ تھی،ماموں رشید نے کہا تھا کہ ایک

گاڑی گھر کی خواتین کے لئے مختص کر دیں ،وہ لوگ تا کہ قبرستان پہنچ کے براہِ راست سلامی کی تقریب دیکھ سکیں لیکن اس گاڑی میں

اتنے لوگ ہو گئے کہ جگہ نہ بچی،مون کو carryکے اندر جامعہ مسجد کی پچھلی سائیڈ سے صحن میں لایا گےا۔میں نے ماموں جی کے

لڑکے کو موبائل دیا تھا کہ وہ مووی بنا کے لائے اتنی خلقت تھی کہ لڑکے بالے مسجد کے میناروں کی سیڑھیوں پہ کھڑے ہوئے

تھے۔میڈیا والے بھی میناروں پہ تھے۔کیونکہ وہاں سے بآسانی کوریج ہو سکتی تھی، آرمی والوں کا تو شمار ہی نہ تھا،جگہ جگہ سیکیورٹی

تھی،کیری ڈبے سے مون کا سبز ہلالی پرچم میں لپٹا تابوت باہر نکال کے اونچی جگہ پہ رکھا گےا،اور اس کے ساتھ ہی مولوی صاحب

کی دکھی سی آواز سپیکر پہ سنائی دی،ہزاروں لوگ ،کتنے سو صفیں جو مشرق سے مَین روڈتک پھیلی ہوئی تھیں،مولوی صاحب بتا رہے

تھے کہ کیپٹن عمر فاروق ہمارا بچہ تھا اور اس نے مجھ سے دینی تعلیم حاصل کی ہے ۔ہاں آج کا دن ہراس انسان کے لئے فخر کا باعث تھا

جس سے مون کا ذرا سا بھی تعلق تھا،اسکی نمازپڑھنے کے لئے راہ چلتی گاڑیاں رک گئی تھیں ۔ہم لوگ بہت دُور کھڑے کاروائی دیکھ

رہے تھے۔نمازِ جنازہ پڑھی گئی پھر ایڑیاں بجاتے ہوئے فوجی آئے انھوںنے تابوت اٹھایا اور گاڑی میں رکھا۔آہستہ آہستہ گاڑی

نے موو کیا جس رستے سے آئی تھی اسی رستے سے پلٹی اور میَن روڈ سے ہو کے مون کے گھر کی ذیلی سڑک پہ آئی اورگھر کراس کر کے

سیدھاآگے کی طرف اسے لے کے ہمیشہ کے لئے چلی گئی کیونکہ اب کبھی وہ ان سڑکوں پہ نظر نہیں آنا تھا،یہ آخری بار تھی،اسکا

ماں باپ کے گھر سے رزق تمام ہوا وہ اب شہیدوں کے ساتھ تھا اسکا رزق اسے وہاں ہی کھانا تھا۔

      اور تم شہید کو مُردہ مت کہو بے شک ہم نے انکا رزق جاری کیا ہے۔

کئی سو گاڑیوں کا قافلہ قبرستان کی طرف روانہ ہوا،جن میں اعٰلی فوجی کمانڈ،شہر کے ہر شعبہ ¿ فکر کے لوگ، اور دوسرے شہروں سے

آئے ہوئے آنریبل مہمان شامل تھے۔گھر سے تقریباًآدھے گھنٹے کی مسافت پہ قبرستان تھا،وہاں اسے لحد کے حوالے کر دیا گےا ۔

منوں مٹی اس پہ ڈالی گئی تو باپ بھائی کے ساتھ ساتھ ےار سجن بھی خود پہ قابو نہ رکھ سکے وہ سب تڑپ تڑپ جاتے تھے کیونکہ وہ رخِ

 جمال ا ب دیدار سے ماورا ہوتا جا رہا تھا۔جب اس پہ مٹی ڈالی جا رہی تھی تب مجھے عالم کا فون آیا وہ پہنچ چکے تھے ،میں نے کہا اپنی

 گاڑی لے کے سیدھا قبرستان پہنچ جائیں،انھوں نے ڈرائیور کو ادھر ہی سے گاڑی ٹرن کرنے کا کہہ دیا۔میں نے غصہ کیا کہ آپ

نے دیر کیوں کر دی،تب عالم نے بتاےا کہ جب سے مجھے اطلاع ملی تھی کہ مون شہید ہو گےا ہے تب سے صدمے سے میرا سانس رکتا ہوا

محسوس ہو رہا تھا۔گھر سے لے کے واہ کینٹ آنے تک میں نے کتنی بار گاڑی رکوائی تھی مجھے اس سے ہوئی پہلی اور آخری ملاقات کا

منظر آنکھوں سے نہیں جاتا تھا۔جب لاہورشادی پہ مہندی والی رات ہم چھت پہ سوئے تھے اور رات دیر تک گفتگو کرتے رہے۔وہ بڑا اجلا لڑکا تھا ۔

شبیہہ !اسکا اخلاق و کردار بہت بلند تھا،وہ بول رہے تھے اور میں پشیمان ہو رہی تھی کہ یونہی غصہ کیا،ندیم کہتا چھوڑو بھائی علی(عالم کو

گھر میں علی کہتے ہیں)۔اب ٹینشن مت لو،پہلے طبیعت نہیں ٹھیک،عالم نے آزردگی سے کہا،ندیم بچے تم اس سے ملے جو نہ تھے،انکی

بات سن کے میرے آنسو ڈھلک آئے کیونکہ جو اس سے ملے نہ تھے وہ حیران ہوتے رہے اور جو ملے تھے وہ صدمے سے بیمار ہو کے

ساری رات ہسپتال کے چکر کاٹتے رہے۔جی ہاں عالم جب رات کو مون کے گھر آئے تھے تب آنٹی کارونا،انکی باتیں،عابدہ کا بلکنا،لڑکیوں کا بے انتہا رونا انکی طبیعت کی خرابی میں اضافہ کر گیا،اور وہ دوست کی عیادت کو چلے گئے لیکن مون کوبرابر ےاد کرتے

رہے،صبح جلدی نکل آتے لیکن ڈاکٹر کے پاس چلے گئے تھے،کیونکہ صدمے سے عالم کو vomtingہو رہی تھی۔۔۔قبرستان پہنچے تو

ترتیب سے صفیں لگی ہوئی تھیں،سویلین پیچھے کھڑے تھے اور آرمی والوں کی صفیں آگے تھیں،تدفین کے بعد آرمی میوزک سنّاٹے کو

چیرتا ہوا فضا میں ارتعاش پیدا کرنے لگا۔جوان اٹین شن کھڑے تھے،قبرستان میں لگے گھنے درختوں پہ بیٹھی چڑیاں اتنے رش سے

ذرا پریشان تھیں کیونکہ شہرِ خموشاں میں کبھی کبھار ہی تو ہی تو رش بنتا تھا اور آج شائد اس قبرستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ہجوم ہی

یہ تھا،سلامی دینے والامیوزک ختم ہوا تو فوجی جوانوں نے آنریری فائر داغے تو چڑیوں نے گھبرا کے شجر چھوڑ دئیے اور سارے قبرستان

میں شور مچانے لگیں،انھوں نے بہترین ڈسپلنڈ طریقے سے بندوقیں ہاتھ میں لے کے اوپر اٹھائیں جس کی وجہ سے عجیب سکون آور

اور غمزدہ سا ساﺅنڈ ماحو ل میں پھیل گےا،آہ اس کے بعدفوجی بھائیوں کی ایک ایک صف آگے بڑھتی اور لحد کوسیلوٹ کر کے پیچھے ہٹتی

جاتی،اس کاروائی کے چند منٹ بعد ایک فوجی ہاتھ میں قومی پرچم اور اس پہ دھری آرمی کیَپ لے کے پریڈ کرتا ہواسامنے آیا اور جھک

کر انکل سلمان کو دونوں چیزیں پیش کیں،انھوں نے اس پہ بوسہ کیا اور قیمتی خزانے کی طرح سنبھال لیا،ساتھ ہی ان کے آنسو

آگئے،تب لڑکوں نے انھیں تھام لیا۔۔۔سب گھروں کولوٹ گئے،عالم دیر تک اسکی قبر پہ بیٹھے رہے روتے رہے دل کا غبار نکالتے

رہے جب اٹھے تو دیکھا کہ ندیم بھی آبدیدہ کھڑا تھا،انھوں نے اشارہ کیا چلنے کا تو ڈھیلے ڈھالے قدموں سے واپس جانے کو گاڑی کی

طرف بڑھنے لگا۔جب گاڑی سٹارٹ ہوئی تو دھیرے سے کہتا بھائی علی !۔۔۔اوں ۔وہ ابھی خیالات میں ہی تھے، یارمیں سوچ رہا

ہوں کہ موت ہو تو اس جوان جیسی ہو،کتنی شاندار موت مارا گےا ہے ناں۔میں اس سے ملا تو نہیں لیکن دل کو جا کے چوٹ لگتی ہے۔

ہاں۔۔۔۔عالم کھوئے ہوئے لہجے میں صرف اتنا ہی کہہ پائے۔مون کی تدفین کے بعد کچھ لوگ گھروں کو لوٹ گئے ۔جن میں عالم

بھی شامل تھے اور میری بھابھی کے میکے بھی،جو اسلام آباد میں ہی تھے ،پھربھی بہت سے لو گ مو جود تھے ۔مون کے گھر کے ساتھ

ایک گھر ہے ہم انکی طرف ٹھہر گئے ،اچھے لوگ تھے،کچھ دیر دوپہر کو آرام کیا،سو کے جاگے تو بدن میں چستی آ گئی،ابھی ہم لوگ جاگے

ہی تھے کہ وہ پاس آ کے بیٹھ گئیں اور باتیں کرنے لگیں،ظاہر ہے مون کو ہی سب یاد کرتے تھے وہ غالباً تیس بتیس سالہ خاتون تھیں

کہتیں کہ آنٹی رضیہ نے مون کی آرمی والی وہ تصویر جو کمرے میں ٹی وی کے ساتھ رکھی ہے پہلے سامنے رکھی ہوئی تھی اور کام وغیرہ

کرتے ہوئے ڈرائینگ روم میں سامنے نظر آتی تھی،اور میں آنٹی سے ہنس کے کہا کرتی تھی آنٹی آپ مون بھائی کو یہاںسے ہٹا

لیں میں کام کرتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ مجھے دیکھ رہے ہوں۔۔ہاں جب اعلان ہوا تب ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کون شہید ہوا ہے

کیونکہ ہمیں تو عمر نام کا پتہ ہی نہ تھا سب مون بھائی مون بھائی کہتے تھے۔تبھی میری امی جان(وہ مون کی شہادت سے ابھی تلک

نہیں سنبھل پائی تھیں) نقاہت سے بولیں،شبیہہ جب مون کے حوالے سے ابھی مجھے تمھارا فون آنا تھا ،میں دوا لے کے آنکھیں

بند کر کے ذرا لیٹی ،(میری والدہ پہ خاص کرم ہے اللہ جی کا،انھیں ہر کام سے پہلے اسکا اشارہ دے دیا جاتا ہے )میں کیا دیکھتی ہوں

کہ اونچے اور خوبصورت مینار میری آنکھوں کے سامنے سے گزر رہے ہیں،جیسے بائیں طرف سے موو کرتے ہوئے آئیں اور اُڑتے

ہوئے دائیں طرف چلے جائیںسفید اور سرخی مائل مینار بہت پیارے سے تھے،پھر بہت سی رنگ برنگی روشنیاں جگ مگ کرتی

میرے سامنے سے گزریں،میں ششدر سی ہو کے یہ منظر دیکھوں اور کہوں کہ کیا میں جنت میں آ گئی ہوں؟ اور اسکے بعد میں نے جو

دیکھاوہ تو بہت ہی عجیب سا خوبصورت منظر تھا جو اس سے پہلے نہ تو دیکھا اور نہ ہی سنا،چمکتا ہوا گہرے رنگ کا سبزہ،ایک ترتیب سے

بنی کیاریاں اور ان کیاریوں میں نہایت نفاست سے لگے پودے ۔ان خوبصورت پودوں پہ سفید براق اجلے پھول تھے میں ابھی

 ان پودوں کی خوبصورتی میں محو تھی کہ ان کیاریوں کے ساتھ مون بیٹھا ہوانظر آیا وہ بہت صحت مند اور توانا تھا،اس نے سفید لباس پہنا

ہوا تھا اور پتہ ہے وہ سفید رنگ عام سفید جیسا بالکل نہیں تھا،وہ بہت چمکدار سا تھا اور چمک بھی ایسی کہ جو دل کو بھائے ،سفید لباس اور

اس پہ گلے میںگہری سبز ڈوری،یوں جیسے کوئی میڈل پہنا ہو، کئی کیاریاں تھیں اور ہر کیاری میں مون بیٹھا ہوا تھا،اتنی زیادہ تعداد میں

مون تھے اور سبھی ایک انداز میں،بہت دلربا سا منظر تھا۔ یہ حسِین نظارہ دکھاتے ساتھ ہی مجھے واپس پلٹا دیا گےا اور میں سوچنے لگی کہ

بند آنکھوں سے میںنے جو کچھ دیکھا ہے اسکا کیا مطلب ہو سکتا ہے اور مون اتنی پیاری جگہ پہ اتنے اچھے ڈریس میں کہاں گھوم رہا

ہے ،یا رب العالمین مجھے کیا سمجھانا چاہتے ہو۔میں نے کسی سے شیئر نہیں کیا تھا خود ہی سوچ رہی تھی کہ تمھارا فون آ گےا۔۔۔

میں اپنی ماں کو دئیے گئے اتنے واضح اشارات میں کھوئی ہوئی تھی کہ انھوں نے ایک اور نقطہ بتایا تو میں بہت حیران ہوئی،شبیہہ جب ہم واہ کینٹ اس ایریامیں داخل ہوئے تو پتہ نہیں تم سب نے میری خاموشی کو محسوس کیا یا نہیں،لیکن میں دم بہ خود ہو گئی جب میں نے جامعہ مسجد دیکھی،کیونکہ یہ وہ ہی مینار تھے جو میں نے اس دو پہر کو دیکھے جب مون شہید ہوا تھا،یہ پہلے بھی دیکھ رکھے تھے لیکن ذہن اس طرف گےا ہی نہ تھا ایگزیکٹ یہ ہی مجھے دکھائے گئے تھے۔وہ آہستہ سی آواز میں بتا رہی تھیں تب میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے

قدرت آپکو اشارہ دے رہی تھی کیونکہ اس وقت تک مون تقریباً 12:30پہ شہادت کی منزل پا چکا تھا۔وہ میری بات سن کے

خاموش ہو گئیں،کچھ توقف کے بعد کہتیں اوروہ جو لائٹس میںنے دیکھی تھیں ناں وہ بھی بالکل یہ ہی تھیں جو مسجد کو جگمگا رہی تھیں(یہ

جامعہ مسجد ایک تاریخی مسجد ہے جسکی تفصیل پھر سہی،اور چودہ اگست کی وجہ سے اس کو بھر پور جدید لائٹس کے ساتھ سجایا گےا تھا،بلکہ سارا

شہر ہی برقی قمقموں کے ساتھ کسی دلہن کی طرح سجا تھا)گویا انھیں یہ سارا منظرپہلے ہی دکھا دیا گیا کہ آپ نے آج اس سمت میں اس

نسبت سے سفر اختےار کرنا ہے،اور پھر گہرا سبزہ اور سبزے میں سفید لباس میں مون…..

یہ تو واضح پیغام تھا کہ وہ جنت کا مقیم ہو چکا ہے،واہ رب تیری قدرت کے عجائب خانے۔

مون والے حادثے کے بعد امی جان نے بھی اس کے آنر میںآزاد نظم لکھی تھی (وہ غزل اور نظم میں طبع آزمائی کرتی ہیں)جو ان کے جذبات کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔

       عشقِ شہادت

     میری ہر خوشی ہوتم میری ہر غمی ہوتم

     ہرآنکھ میں تم اور آنسو میں

     سانپوں سے کھیلتے ہوتم

     وادی ¿ تیِراہ میں ظالموں کو چیِر پھاڑتے ہوتم

    میرے بس کی بات نہیں ،

     تم ےاد آتے بے حساب ہو تم

     سبز مخملیں قالیں،سفید براق پھول ہی پھول

     گلے میں ہے ڈوری سبز،گویا میڈل پہنا ہو

     ہر کیاری میں بیٹھے ہو ایک تم

     میرے بس کی بات نہیں

     تم ےاد آتے بے حساب ہو تم

     تم پاکستان کا سہرا گانا

     تیل مہندی ہو دلہن کا تاروں بھرا سرخ آنچل ہو تم

      میرے بس کی بات نہیں

      تم یاد آتے بے حساب ہو تم

      تم پانچ دریا کا بہتا سرگم

      سمندر ساحل کی ٹھنڈی ہوَا ہو تم

      تیرا بلند اقبال یہاں ہے،اور وہاں بھی

      فوجِ حُسینی کے خدمتگار ہو تم

      تم وہاں یہ دعا کرنا کہ ہم یہاں ہو جائیں امر

      تیری طرح ہو موت میری

      استقبال وہاں کرنا میرا تم

      ہاں بس میرے بس کی بات نہیںہے

      تم یاد آتے بے حساب ہو تم

                 (اقبال بانو)

اگلی صبح ہم لو گ پڑوسیوںکے ہاں سے جلدی اٹھ کے آنٹی کی طرف آگئے،وہ صبح صبح مون سے ملنے چلی گئی تھیں،سب اکھٹے ہی بیٹھے

اسے یاد کرنے لگے اور آنٹی کا رونا سن کے سارے جتنے مہمان آئے تھے ادھر ہی آ گئے کل تو جیسے تیسے انھوں نے برداشت کیا تھا آج

انکی حد ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔۔۔اے خونی وادی ¿ تیراہ تُو کتنے پھولوں کا رس چوسے گی،کتنی گودوں کو تُو اجاڑے گی،میں نے کتنی

محنت اور محبت سے اپنا بچہ پالا تھا اسکی کوئی یہ عمر تھی دنیا سے جانے کی؟ہائے میرا لال،ہائے میرا جگر،گواہ رہنا لوگو !میں ایک ماں ہوں

جب تک وہ سامنے تھا تب تک میں صبر کر رہی تھی لیکن میرے اندر دل تو پتھر کا نہیں ہے۔۔۔مجھے وہ سارے mannerسکھایا

کرتا تھا ،امی جب میرے آرمی آفیسرزدوست گھر آئیںتو کیسے کھانا بنانا ہے کیسے برتن لگانے ہیں اور ٹیبل کیسے سجانا ہے،آہ میں اسے

کیسے بھولوں گی۔ہائے جب شہادت کا فون آیا تو میں نے سمجھا کہ کل سانپوں سے کھیلتا رہا ہے ضرور اسے سانپ نے کاٹا ہو گا وہ اتنی

معمولی موت سے ہارے گا؟مجھے یہ سوچ کے ہی عجیب لگتا تھاکیونکہ وہ سانپ جیسے جانووں کے کاٹنے سے نہیں مر سکتا تھا،لیکن

آفرین ہے تجھ پہ مون،تو نے ماں اور باپ کا سر فخر سے بلند کیا،تو ایک مومن کی موت مارا گےا ہے،تو لڑتے ہوئے اس دنیا سے گےا

میرے بچے۔۔۔شہید کی ماں ابھی خراجِ عقیدت کے پھول نچھاور کر ہی رہی تھیں کہ اتنے میں پیغام آیا،مون کے دوست اندر آ کے

ےقیناآنٹی سے ملنا چاہتے تھے،دو تین لڑکے اندر آئے،اور نیچے ہی پاس بیٹھ گئے،ان میں سے ایک کو یہ لوگ زیادہ اہمیت دے رہے

تھے کیونکہ وہ مون کا بیسٹ فرینڈ تھا اور کل رات ہی ارجنٹ دبئی سے اسکی شہادت پہ پہنچا تھا،ابھی سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ لڑکوں

نے کہا ۔ گاڑیاں تےارہیں چلو سب قبرستان ہو آئیں،ہم لوگ چل پڑے ،وہاں پہنچے تو آرمی والوں کی طرف سے پھولوں کی

چادریںقبر پہ رکھی ہوئی تھیں۔بلکہ ساری قبر پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔آج شہرِ خموشاں میں وہ ہی سناٹا راج کررہا تھا جو اس نگر کا

خاصہ ہے فاتحہ پڑھنے کے بعدمیں سیپارہ پڑھنے لگی ،کوئی فاتحہ پڑھ رہا تھا کوئی سیپارہ،کوئی قبر پہ دالیں ڈال رہا تھا کوئی پہلوئے قبر

میں پانی بھر کے رکھ رہا تھا اور کوئی اس کے سرہانے لگا وہ پرچم درست کر رہا تھا جس پہ اس نے جان دی تھی۔ایک اور گاڑی بھر کے

آئی ،ہم کافی لوگ ہو گئے،آنٹی نے روتے ہوئے مون کے کزن سے کہا بیٹا وہ نعت سناﺅ جو میرے مون کو پسند تھی۔۔۔۔

      تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا،کاش مجھ سا نہ دوسرا ہوتا

      پانی ہوتا اداس چشموں کا میں،تیرے قدموں میں بہہ گےا ہوتا

وہ نعت سناتے ہوئے بری طرح سسکنے لگا،ہم سب ایک منہ بند پھوڑے کی طرح تھے بس موقع ملا اور اونچا اونچا رونے لگے،مون

کے آرمی والے ماموں جان بھی ہمراہ تھے ۔(آجکل ریٹائرڈلائف گزار رہے ہیں)اکثر ان میں اور مون میں مذاق چلتا تھا،وہ

ماموں ہونے کی وجہ سے رعب ڈالتے تھے اور مون کو کہتے تھے بیٹا تُو لاکھ افسربنے، اس کے باوجود میں تیرا ماموںہوں،اور وہ

آگے سے ہنستے ہوئے کہتا کوئی بات نہیں ماموں جی ،جب کبھی میں آ پکے سامنے آ گےا تو آپ خودبہ خود مجھے سیلوٹ کریں گے۔اس

کے بعد دونوں اس بات کو دیر تک انجوائے کرتے۔

 اٹین۔۔۔۔۔شن ۔ہم سب روتے روتے اس آواز کو سن کر چونک پڑے۔آنسوﺅں سے بھری آنکھوں سے دیکھا تو ہماری چیخیں نکل

گئیں،آج وہ ہی ماموں قبر سے پھولوں کی ایک چادر اٹھا کے کچھ دور جا کے وہاں سے آرمی والوں کے مخصوص نعرے لگا کر باقاعدہ

پریڈ کرتے ہوئے آ رہے تھے ۔میں اس موت پہ کیوں نہ رشک کروں جس پہ خود آرمی والے بھی نازاں تھے،عابدہ اور عثمان قبر سے

لپٹ کے بری طرح ہُڑک رہے تھے،ان کی ماں انکو کھینچ رہی تھی لیکن وہ بھی آخیر پہ آ گئے تھے،عثمان بس یہ ہی کہہ رہا تھا کہ میں کمزور

ہو گےا،میرے بازو ٹوٹ گئے ہیں،ماموں رشید بری طرح رو اٹھے،اتنے میں وہ انکل قریب آ گئے انھوں نے پھر ایک مخصوصی نعرہ

لگایا اور سیلوٹ کیا،پھر ادب سے چادر دوبارہ قبر پہ چڑھائی،اور روتے ہوئے کہا ،سر عمر ! صوبیدار نذیر آپکو سیلوٹ پیش کرتا ہے۔ہم

سب کو انھوں نے رلایا۔اور خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے،آہ وہ منظر آنکھوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا،کیسے بھول سکتی ہوں،رو رو

کے ہم سب ہوش کھو رہے تھے کیونکہ ہمارا سرمایہ کھو گےا تھاکچھ دیربعد سب کی توجہ عابدہ کی چیخوں کی طرف ہو گئی،وہ دیوانوں کی طرح

قبر کے ساتھ چپکی ہوئی میرا مون،میرا بیٹا،کہہ کہہ کے چیخوں کے ساتھ رو رہی تھی،آنٹی رضیہ ،میری امی جی،عابدہ کی ساس،اور

کتنے لوگ اسے چپ کرا رہے تھے لیکن وہ قابو نہیں آ رہی تھی،فاطمہ اور میں نے پکڑ کر اٹھانا چاہا تو اس نے زور سے جھٹک دیا،دھان

پان سی لڑکی میں عجیب طاقت آ گئی تھی،میں اسکے جذباتی اندازسے لڑھک سی گئی،آنٹی رضیہ ایک دم بولیں عابدہ مجھے مون سرخ سرخ

آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور کہہ رہا ہے اسے منع کریں کیوں رو رہی ہے ،ہم سب چونک گئے آنٹی نے کہا قسم ہے اس ذات کی،جس

نے مون کو لے لیا ہے،مجھے ابھی ابھی نظر آیا کہ اس نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں اور بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا ہے،اور مجھے جانے کا

اشارہ کیا ہے، پھر روتے ہوئے عثمان اورعابدہ کے شوہر کو آنٹی نے کہا کہ اسے اٹھائیں،بمشکل تمام اسے اٹھاےا،اور پھر ہم لوگ ادھر

نہیں ٹھہرے فوراً گھر آ گئے۔مون کو اس چودہ اگست پہ تمغہ ¿ بسالت ملنا تھا،لیکن اب وہ ان انعامات کا مرہونِ منت ہی کب تھا،اب وہ بڑا انعام پا چکا تھا جس کے آگے باقی سب انعام ہیچ تھے (بعد میں تیئس مارچ دو ہزار سولہ کو تمغہ ¿ بسالت مون کے والد اور والدہ نے وصول کیا تھا)قل کے ختم کی تےاری مکمل تھی،ہم سب اسی سکول میں پہنچ گئے،چاندنیاں بچھائیںاور مہمانوں کے

لئے سیپارے رکھ دیئے،خود بھی بیٹھ کے پڑھنے لگے ،آج بھائی احتشام بھی پہنچ گئے تھے،واہ میں انکے ایک دوست ہوتے ہیں وہ بھی

ہمراہ تھے،ماشا اللہ کافی پڑھائی ہوئی اور اس کے بعد کھانا کھایا،پہلے دن سے لے کر اب تک آرمی والوں کا ہی کھانا تھا،اور واقعی

لگ رہا تھا کہ ہم مون کے ولیمے کا کھانا کھا رہے ہیں۔۔اس کے بعد ہم نے واپسی کی تےاری پکڑ لی،آنٹی رضیہ سے اجازت

لی،احتشام نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگیں مون تم دونوں بہن بھائی کو بہت پسند کرتا تھا،اور بہت عزت کرتا تھا،مجھے بھی یہ ہی کہا

کہ تم اس کے خاص دوستوں میں سے تھی،اس بات پہ میں نے آنٹی کی طرف دیکھا۔۔۔آہ ,میری آنکھوں کے سامنے اس کی ڈائری کا ایک ورق جگمگانے لگا جس کو پڑھ کے آپ کو ادراک ہو جائے گا کہ زندگی کی اس کے نزدیک کیا اہمیت تھی ۔۔۔

    :اے انسان

     نہ تم اپنی مدتِ حیات سے آگے بڑھ سکتے ہو،نہ اپنے رزق سے زیادہ حاصل کر سکتے ہو،یاد رکھو کہ یہ

     زندگی دو دن کی زندگی ہے۔ایک دن تمھارے حق میں ہو گی اور ایک دن تمھارے مخالف،جس دن

     تمھارے حق میں ہو گی اس دن غرور نہ کرنا،اور جس دن تمھارے مخالف ہو گی اس دن صبر کر لینا،

     اور یہ دنیا ہمیشہ کروٹیں بدلتی رہتی ہے،لہذٰا جو تمھارے حق میں ہے وہ کمزوری کے باوجود تم تک آ

     جائے گا،اور جو تمھارے خلاف ہے اسے طاقت کے باوجود بھی تم ٹال نہیں سکتے،اسلئے اللہ کے

آگے عاجزی سے جھکو۔

مرجھائے ہوئے سے وہاں سے رخصت لے کے ہم لوگ باہر سڑک پہ آئے،آج چودہ اگست تھا اور سڑکو ںپہ ُہو

کا عالم تھا،اب کے ہم کافی لوگ تھے، کیونکہ بھلوال میں کافی رشتہ دار ہیں جو آئے ہوئے تھے،سٹاپ پہ کھڑے ہوئے تو مجھے یاد آیا

کہ کیسے مون اور عثمان مجھے اور امی جی کو اسی سٹاپ پہ سی آف کرنے آئے تھے،اور مونے کو کیسے شادی کے نام پہ ہم چھیڑ رہے

تھے۔۔۔کافی دیر انتظار کے بعد بھی وین نہ آئی تو احتشام کے دوست نے کہا کہ آج چھٹی ہے اس لئے آپکو کنونس نہیں ملے گی آج

آپ میری طرف رہ لیں،امی نے اسکا شکریہ ادا کیا اوراحتشام کوکہا کہ بیرئیرکی طرف چلتے جاتے ہیں کوئی نہ کوئی وین تو آتی ہو گی ،ہم

چلتے رہے لیکن وین نہیں ملنی تھی نہ ملی،بیرئیر تک پہنچے اوروہاں آس پاس دیکھنا شروع کر دیا کیونکہ عثمان نے بتایا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ

والوں نے مون کے آنر میں شہر کی بڑی شاہراہوں پہ بڑے بڑے فلیکس لگا دیئے ہیں،کچھ آگے بڑھے تو واقعی پینا فلیکس لگے

ہوئے تھے،میں نے مختلف انداز سے چند فوٹو بنائیں اداس بجھے ہوئے دل سے ایک دوست کو آخری الوداع کہا او رگاڑی میں بیٹھ

کے موٹروے پہ آ گئے دل ِ مغموم کے ساتھ اس کے اعزاز میں مجھ پہ شاعری کی آمدہوئی اور چودہ اگست دو ہزار پندرہ کو مون شہزادے

کے لئے نظم لکھی جو اوپر درج ہے۔ ہم لکھتے رہے اور اس کا نگر دور کہیں پیچھے رہ گےا۔۔۔۔

      لکھنے والے لوگ بھی کیا خوبصورت لوگ تھے

       پو پھٹے تک میں حدیثِ دلبراں پڑھتا رہا

        ************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے