سر ورق / کہانی / کھلے آسمان میں جسونت سنگھ وِردی/عامر صدیقی

کھلے آسمان میں جسونت سنگھ وِردی/عامر صدیقی

گرمیوں کے دنوں میں میرے گھر کے پیچھے اکثر ہلچل مچی رہتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ میری بیوی پرندوں کیلئے ڈھیر سارے دانے اور روٹی کے ٹکڑے گھر کے پیچھے پھینک دیتی ہے۔ پر یہ ہلچل کی وجہ سے نہیں ہے۔

بہت سے پرندے خود دانہ چگتے ہیں اور دوسرے پرندوں کو بھی آوازیں لگاتے ہیں۔ لیکن بہت سارے صرف خود دانہ چگتے ہیں اور دوسروں کو پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے۔ پر ہلچل کا سبب یہ بھی نہیں ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جب معصوم چڑیا ئیں دیوار یا باتھ روم کے کونوں میں اپنے گھونسلے بنا لیتی ہیں، تب مینائیں فوراً حاضر ہو جاتی ہیں۔ چڑیائیں جو بھی تنکے اکٹھا کرتی ہیں۔مینائیں ان کو ایک ایک کر بکھیر دیتی ہیں۔ پر چڑیائیں اپنے محاذ پر ڈٹی رہتی ہیں۔

ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے جب میری بیوی دوپہر کے بعد گھر کے پیچھے گئی تو اس نے دیکھا کہ گھونسلے کے نیچے زمین پر ایک انڈا ٹوٹا پڑا تھا۔

’’یہ میناؤں کی شرارت ہے۔‘‘ اس نے غصے سے کہا۔ ’’میں میناؤں کو اس گھر میں نہیں آنے د وں گی۔‘‘

’’تو کیسے روکو گی؟‘‘

’’میں روک لوں گی۔‘‘

’’پرندوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔‘‘

’’پھر انہوں نے چڑیا کا انڈا کیوں توڑا؟‘‘

’’چلو ہمیں کیا۔‘‘

’’کیوں؟ کیوں نہیں؟‘‘ اس نے غصے سے کہا۔’’ چڑیا نے ہمارے گھر میں گھونسلہ بناکر انڈے دیئے ہیں۔ ہمارا فرض ہے اسکی حفاظت کرنا۔ ‘‘

اس دن بات وہیں ختم ہوگئی۔ کیونکہ وہ بہت جذباتی نظر آ رہی تھی اور عورت جب جذباتی ہو تو اس کے ساتھ مقابلہ نہیں ہو سکتا۔

کالج میں چھٹیاں تھیں اور میں سپت سندھو کے لوگوں کے بارے میں اپنا مقالہ پورا کر رہا تھا۔ ویدک دور کے آریہ لوگوں سے لے کر آج تک سپت سندھو یا پنجاب کے لوگوں کو غیر ملکی حملہ آوروں اور فطرت کی بے رحم طاقتوں سے جنگ کرنی پڑی ہے۔ تب کہیں جاکر وہ اپنے آپ کو اس دھرتی پر آباد کر سکے ہیں۔ اب تو اس دھرتی پر چاروں طرف ایسے جذباتی لوگ بکثرت ہیں جو ہر کسی کو ظلم کے خلاف اٹھنے کے لئے بڑھاوا دیتے ہیں۔ میں دوپہر تک لکھتا ہوں اور پھر کھانا کھا کر سو جاتا ہوں۔ سوتے ہوئے بھی میں پرانے بہادر پنجابی لوگوں کے کارناموں کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔

ایک دن دوپہر کے وقت میری آنکھ ابھی لگی ہی تھی کہ میں نے گھر کے پچھواڑے سے پرندوں کی چیخ و پکار اور بہت زور کا شور سنا۔ میں فوری طور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی۔ ’’ان میناؤں نے چڑیا کے بچے کو نہیں چھوڑنا۔‘‘

’’کیا کر لیں گی؟‘‘

’’مار دیں گی۔‘‘

’’کیوں؟ کیا پرندوں میں بھی جلن ہوتی ہے؟‘‘

’’آپ کا کیا خیال ہے؟ آدمیوں میں ہی ہوتی ہے؟‘‘

پل بھر رک کر اس نے پھر کہا۔ ’’پرسوں چڑیا کا بچہ نیچے گر گیا تھا۔‘‘

’’پھر؟‘‘

’’میں نے اس کو اٹھا کر گھونسلے میں رکھ دیا۔‘‘

’’وہ تم سے ڈرا نہیں؟‘‘

’’نہیں ۔۔۔ پرندوں کو بھی اپنے چاہنے والوں کا پتہ ہوتا ہے۔‘‘

ابھی ہم بات کر ہی رہے تھے کہ چڑیوں کی چیں چیں کا بہت بڑا طوفان اٹھا اور میری بیوی فوری طور پر اٹھ کر آگے آئی۔ پر میں نے اس کے بازو کو پکڑ کر اسے روک لیا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

’’ چڑیوں کو اپنی مدد خود کرنے دو۔‘‘ میں نے کہا۔

وہ جلدی سے بولی۔ ’’وہ کمزور ہیں۔‘‘

’’نہیں ۔۔۔ تم ہی ان کو کمزور سمجھتی ہو۔‘‘

’’تو کیا ۔۔۔؟‘‘

’’تم انہیں میناؤں کے خلاف لڑنے دو۔ ہمیں ہر وقت توان کے ساتھ نہیں رہنا۔‘‘میں نے کہا۔ ’’زیادہ سے زیادہ وہ بچہ ختم ہی تو ہو جائے گا ۔۔۔‘‘

’’ ہاں ۔۔۔ ہاں۔۔۔‘‘

’’پر چڑیائیں ڈ ٹ کر لڑنا سیکھ جائیں گی۔‘‘

اس نے تجسس سے کہا۔ ’’میں دیکھ تو لوں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

’’ضرور دیکھو ۔۔۔ پر ان کی جنگ میں دخل مت دو۔‘‘

’’اس طرح برائی کو سہارا ملتا ہے۔‘‘ اس نے نئی بحث چھیڑی۔

میں نے کہا۔ ’’جس کے ساتھ برائی ہوتی ہے وہ بھی تو برائی کے خلاف ڈٹے۔‘‘

’’اچھا پھر ۔۔۔ لڑنے دو۔‘‘ میری بیوی نے بات ختم کر دی۔

گھر کے پیچھے دو پہر کا سورج گرما رہا تھا۔ ہمارے گھر کا منہ مشرق کی طرف ہے ،جس کی وجہ سے ہم گرمیوں میں صبح گھر کے پیچھے مغرب کی طرف بیٹھتے ہیں اور بعد از دوپہر جب سورج مغرب کی جانب جھک جاتا ہے ،تب گھر کے سامنے مشرق میں بیٹھ جاتے ہیں۔

ہم نے پیچھے برآمدے میں جاکر جالی کے دروازے سے دیکھا تو پانچ میناؤں نے چڑیوں کے گھونسلے کو گھیرا ہوا تھا۔ چڑیا اور چڑا دونوں ہی گھونسلے کے آگے بیٹھے شکاریوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ کسی وقت دو مینائیں گھونسلے پر حملہ کرتیں اور تو کبھی تین۔ بچہ گھونسلے کے پیچھے بیٹھا زور زور سے چیں چیں کر رہا تھا۔ پتہ نہیں کیا کہہ رہا تھا۔

’’کل ایک گھونسلے پر منہ بھی مار رہا تھا۔ ‘‘میری بیوی نے گھبراہٹ میں کہا ۔ ’’پر میں نے اس کو بھگا دیا۔ یہ مینائیں تو پیچھے ہی پڑ گئی ہیں۔‘‘

’’کوئی بات نہیں ۔تم ان کا مقابلہ دیکھو۔‘‘

چڑیا کے گھونسلے پر حملہ کرنے والی مینائیں بہت لڑاکا اور پھرتیلی تھیں۔ ان کے سانولے رنگ اور پیلی چونچیں نکیلی تھیں۔ وہ جب بولتیں تو بڑی سریلی آواز نکلتی۔ پر وہ کام کیا کر رہی تھیں؟ ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا۔ ’’ ان کا سانولا رنگ انکی جلن کی وجہ سے ہی ہوا ہوگا۔‘‘

’’کیا کہا جا سکتا ہے؟‘‘

’’یہی بات معلوم ہوتی ہے۔‘‘

’’آپ نے کہیں پڑھا ہے کیا؟‘‘

’’نہیں۔ یہ تجربے کی بات ہے اور تجربے کی گواہی کبھی غلط نہیں ہوتی۔‘‘

پل بھر وہ رک کر بولی۔ ’’میں انہیں اڑانے لگی ہوں۔‘‘

’’روزانہ اڑاؤ گی؟‘‘

’’پھر کیا کروں؟ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔‘‘

’’پھر تم چڑیاؤں کو گھر میں گھونسلے مت بنانے دو۔‘‘

’’مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا۔‘‘

’’پھر اسے برداشت کرو۔‘‘

’’کسے؟‘‘

’’جو کچھ ہو رہا ہے۔‘‘

’’پر یہ تو زیادتی ہے۔‘‘

میں نے جواب نہیں دیا۔

ویسے میں سوچ رہا تھا ۔’’مینائیں کیاسوچ رہی ہوں گی؟ اگر زمین اور آسمان میں چڑیائیں ہی چڑیائیں ہو گئیں تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس لئے ٹھیک یہی ہے کہ چڑیوں کی نسل کو بڑھنے ہی نہ دیا جائے۔‘‘

اس وقت جتنے غصے سے میناؤں نے چڑیوں پر حملہ کیا اور چڑیوں نے جس طرح حملے کو روکا۔ اس طرح اکثر آدمی بھی نہیں کر سکتے۔

دوپہر کا وقت تھا اور پرندے ایک دوسرے کا مقابلہ کرکرکے تھک گئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ مینائیں مایوس ہو گئی تھیں۔ ان کی اڑان میں پہلے جیسا جوش نہیں تھا۔ چڑیا اور چڑا بھی بھی ڈٹے ہوئے تھے۔ بھلے وہ تھکے ہوئے تھے اور ان کی سانسیں تیزی سے چل رہی تھیں۔ پر انہیں لگ رہا تھا کہ اگر آج وہ اپنے بچے کو نہ بچا سکیں تو شرم سے مر جائیں گی۔

’’بات کیا ہے؟ ایک بلی بھی گھونسلے کی طرف جھانک رہی تھی۔‘‘ میری بیوی بولی۔ ’’پر وہ اوپر نہیں پہنچ سکتی تھی۔‘‘

’’ چڑیوں کے دشمن بہت ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’لیکن پھر بھی یہ ہر جگہ ہوتی ہیں۔ کھلے آسمان میں اڑتی ہیں اور کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آتیں۔‘‘

میری یہ بات سن کر میری بیوی کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ ’’آپ کی یہ بات تو ٹھیک ہے۔‘‘

اس وقت ہم نے دیکھا چڑیائیں چیں چیں کرکے میناؤں کو للکار رہی تھیں کہ ہمت ہے تو آؤکرو مقابلہ۔

میں نے کہا۔ ’’حملہ آور میں اس وقت تک ہمت ہوتی ہے جب تک کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرتا۔ کیونکہ ظلم کرنے والے کے پاس اخلاقی قوت نہیں ہوتی۔‘‘

سورج مغرب کی جانب غروب ہو رہا تھا۔ ہم لوگ برآمدے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اب تک بچے بھی اٹھ گئے تھے ،لیکن انکو بالکل معلوم نہ تھا کہ چڑیوں نے میناؤں کا کس طرح مقابلہ کیا۔ میری بیوی مطمئن تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر ظلم کرنے والے کا مقابلہ کیا جائے تو ظلم رک سکتا ہے۔

ابھی ہم نے چائے ختم بھی نہیں کی تھی کہ پیچھے سے پھر پرندوں کا شور اٹھا اور میری بیوی نے گھبرا کر کہا۔ ’’اس بار مینائیں چڑیوں کے بچے کو نہیں چھوڑیں گی۔‘‘

’’پھر گھبرا گئیں۔‘‘

’’بات ہی گھبراہٹ والی ہے۔‘‘

’’پر تم فکر نہ کرو۔‘‘

یہ بات سن کر ہمارا بیٹا ’’کاکا ‘‘ تیزی سے آنگن کی طرف بڑھا اور پھر فوراً واپس آ گیا اور بولا۔ ’’ممی جی بھاگ کر آؤ۔‘‘

’’کیا ہوا؟‘‘

’’بہت دلچسپ نظارہ ہے۔‘‘

ہم سب جلدی سے پچھواڑے کی طرف گئے۔ منظر واقعی بہت دلچسپ تھا۔

چڑیا کا بچہ گھونسلے میں سے نکل کر صحن میں آ گیا تھا اور ساری چڑیائیں اس کو اپنے ساتھ اڑنا سکھا رہی تھیں۔ اس کے پر پوری طرح اڑنے کے لئے تیار تھے اور اس کا جسم بھی طاقتور تھا۔

وہاں ایک بھی مینا نہیں تھی۔

’’یہ تو کچھ ہی دنوں میں اتنا بڑا ہو گیا۔‘‘ میری بیوی نے خوش ہوکر کہا۔’’واہ واہ۔‘‘

’’تمہیں معلوم نہیں۔‘‘میں نے کہا۔ ’’مقابلہ انسان کو طاقتور بنا دیتا ہے۔‘‘

اگلے لمحے ہی ایک زوردار چیں چیں کی آواز گونجی اور وہ بچہ پوری طاقت سے دیوار کے اوپر سے، بجلی کی تاروں کو پار کرتا ہو کھلے نیلے آسمان میں اڑ گیا۔

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے