سر ورق / کہانی / بھولا بادشاہ۔۔۔ سید بدر سید

بھولا بادشاہ۔۔۔ سید بدر سید

مائی کا ڈرامہ

سید بدر سعید تحقیق کر کے لکھنے والے نوجوانوں میں ایک نمایاں نام ہے، زیر نظر کتاب کے کئی حوالے، پہلو اور تعارف ہیں، یہ روائتی رپورٹنگ تو نہیں مگر ان کہانیوں کا ماخذ رپورٹنگ ہی ہے، ایک ایسی رپورتاژ جو مشاہدے کی آنچ اور تحقیق کے اسلوب سے نادر ادب پارہ بن گئی ہے، اور یوں ہفت روزہ فیملی کے اشاعتی مرحلے سے گزر کر یہ کہانیاں اور بھی دل کش ہو گئی ہیں، یہ بڑی طلسماتی اور کرشماتی کتاب ہے، آپ بیتی بھی ہے، جگ بیتی بھی اور معاشرے کی عکاس بھی۔
سید بدر سعید نے روحانی آستانوں، ہسپتالوں کے مردہ خانوں، این جی اوز کے سرد خانوں، ڈیروں، بیٹھکوں، تکئے اور کلبوں الغرض ہر شعبہ زندگی پر قلم اٹھایا ہے اور ہر کہانی سے حتی المقدور انصاف کیا ہے، وہ ہر کہانی میں خود بھی دکھائی دیتے ہیں بلکہ کہانیوں کی بنت ہی ایسی ہے کہ قاری خود کو اس سے الگ نہیں کر سکتا، ہر چند کہ زیر نظر کہانیوں میں بھر پور تجسس موجود ہے اور یہی اس کتاب کا حسن ہے مگر بعض واقعات وضاحت طلب ہیں جیسے” خون کے دھبے“ میں جب وہ تینوں دوست گھر پر موجود نہ تھے تو گھر کے صحن میں بچے کا قتل کیونکر ہوا پھر وہ خون کے دھبے کا عقدہ کیوں نہ کھلا، اور جب وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی قتل کے الزام میں سات ماہ تک جیل میں رہے تو ایسے میں شہر کی صحافتی تنظیموں کا کیا رد عمل تھا، کتاب کے دیباچے میں اس پہلو پر روشنی ڈالی جانی چاہئے، ” کالا جادو“ نامی کہانی بھی حیرت کے در وا کرتی ہے، گویا اپنے پیشے سے اس قدر مخلص کہ رات قبرستان میں گزار دی، ”درندہ“ نامی کہانی تو آج کا معاشرتی المیہ ہے۔
سید بدر سعید بعض چھوٹے چھوٹے جملوں میں پوری کہانی بیان کر جاتے ہیں اور پھر ان کا وسیع المطالعہ ہونا رپورٹ کو ادب پارہ بنا دیتا ہے مثلا” عشق دھیمی آنچ پر پکتا رہا“ یا ” گا¶ں میں ایک دوسرے سے ملنا جتنا آسان ہے چھپ چھپ کے ملنا اتنا ہی مشکل ہے “ ، سید بدر سعید جس عمل کو ناپسند کرتے ہیں کہانی میں بھی کچھ ایسے الفاظ کا چنا¶ کرتے ہیں کہ نفرت کا اندازہ ہوجاتا ہے ، دیکھئیے ” بدمعاشی کے ذریعے شہرت پانے کے خواہش مند نوجوان جب کسی بڑ ے بدمعاش کی سر پرستی میں آجائیں تو مزید شیر ہو جاتے ہیں، یہی شیر لڑائی کے وقت میدان میں اتارے جاتے ہیں اور یہی شیر وقت آنے پر کتے کی موت مار دئیے جاتے ہیں“۔
سید بدر سعید کو میں ان خوبصورت مضامین کو کتابی شکل دینے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، یہ کہانیاں ہمار ے معاشرے کا عکاس بھی ہیں، المیہ بھی، اور سنبھل کر چلنے کا پیغام بھی، اس سلسلے میں” مائی کا ڈرامہ“ بہت اہم ہے!!

ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نشان امتیاز اینڈ بار

بھولا بادشاہ

بھولا صرف نام کا بھولا تھا ورنہ شہر کے کئی اشتہاری اس کے ڈیرے پر پلتے تھے۔ یہ ڈیرہ شہر کے گنجان آباد لیکن قدرے بدنام علاقے میں اب بھی موجود ہے۔ اب کا معلوم نہیں لیکن جب میں پہلی مرتبہ اس ڈیرے پر گیا تب وہاں قانون سے بچنے والوں کو نہ صرف پناہ دی جاتی تھی بلکہ قانون کے بعض محافظ بھی وہیں آکر انگور کی بیٹی سے جی بہلاتے تھے۔بھولے نے پولیس اور اشتہاری دونوں ہی کو اپنا احسان مند بنا رکھا تھا اور دونوں سے ہی اپنے مفادات کے لیے کام لیتا تھا۔ اس علاقے کے تھانیدار کو واردات سے قبل ہی معلوم ہوتا تھا بھولے کے ساتھیوں کا ”روٹ“ کیا ہوگا اور کہاں کہاںپولیس اہلکاروں کو موجود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی بلکہ علاقے کے لوگوں کو بھی اس کا علم تھا۔
بھولا ایک ڈیرے دار بدمعاش تھا۔ اس کے ڈیرے پر جوئے کی بازیاں لگتیں اور جواری روپے پیسے، گھر اور زمینوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی اور بیٹیاں بھی جوئے میں ہار کر سر جھکائے واپس چلے جاتے ۔ اسی طرح یہاں ڈرموں میں دیسی شراب پانی کی طرح پی جاتی تھی۔ بھولے کے ماتحت شوقیہ یا مجبوراً مجرمانہ زندگی اختیار کرنے والے نوجوان سر شام ہی نکل کھڑے ہوتے اور آدھی رات کے بعد لُوٹ کا مال اسی ڈیرے پر لاکر بھولے کے قدموں میں ڈھیر کردیتے۔ وہ لُوٹ مار کے مال میں سے ان لڑکوں کو کچھ نہ کچھ انعام دیتا اور باقی مال بھولے کی ملکیت سمجھی جاتی۔ اس کے بدلے یہ لڑکے نہ صرف گرفتاری سے بچ جاتے بلکہ ڈیرے پر آنے والے اسلحہ میں سے بہترین ہتھیار بھی انہیں دئیے جاتے۔ کئی لڑکے گھر بار چھوڑ کر اسی ڈیرے کے ہوگئے تھے۔ وہ دن بھر اونگھتے رہتے یا تاش کھیلتے نظر آتے۔ ان کے اپنے کھانے اور ”پینے“ کا بندوبست ڈیرے پر ہوتا تھا اور یہی لوگ ڈیرے کی رونق تھے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کے کچھ طالب علم صرف دن میں کسی وقت چکر لگا کر خودکو بھولے کا ساتھی قرار دیتے اور شوقیہ طور پر ایک آدھ واردات میں شامل ہوکر اپنے آپ کو شہر کا دادا سمجھنے لگتے۔
میں پہلی مرتبہ بھولے کے ڈیرے پر گیا تو میرے ذہن میں کئی خدشات پل رہے تھے۔ اس ڈیرے سے وابستہ سنی سنائی متعدد کہانیاں میرے سامنے آرہی تھیں۔ مشہور تھا کہ یہاں پولیس اور صحافیوں کو دیکھتے ہی گولی مار دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود اپنے ایک فیچر کے سلسلے میں مجھے وہاں جانا ہی تھا۔ کرائم رپورٹنگ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ پولیس کے ساتھ ساتھ زیر زمین جرائم پیشہ افراد سے بھی جان پہچان ہوجاتی ہے۔ میں نے بھی ایک ’©سورس“ کو درمیان میں ڈال کر بھولے کے ڈیرے تک رسائی حاصل کی تھی۔ جب میں ڈیرے پر پہنچا تو میرا سامنا ڈیرے پر موجود مفت خوروں سے ہوا۔ یہ ایک قسم کے باڈی گارڈ بھی تھے۔ میں نے انہیں اپنا کارڈ تھمایا اور بھولے سے ملاقات کا کہا۔ ایک شخص کارڈ لے کر اندر چلا گیا جبکہ وسیع صحن میں بیٹھے دیگر مسلح افراد مجھے خونخوار نظروں سے گھورنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد بھولا خود باہر صحن میں آیا اور ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیا۔ بھولے کے باہر آنے سے وہاں موجود افراد کے چہروں کے تاثرات بھی بدل گئے۔ اس ملاقات میں بھولا مجھے ان باتوں کے برعکس نظر آیا جو اس کے حوالے سے مشہور تھیں۔ وہ قاتل، ڈکیت، جواری اور جانے کیا کچھ تھا لیکن میرے ساتھ اس کا برتاﺅ ایک دوست کا سا تھا۔ میں نے اسے اپنی مجبوری بتائی اور کہا کہ میں اس ڈیرے کی تصاویر بنانا چاہتا ہوں لیکن اگر وہ چاہے تو نام اور مقام واضح نہیں کروں گا۔ بھولے نے اطمینان سے میری بات سُنی اور پھر قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”شاہ! تم جتنی مرضی تصویریں بناﺅ اور جو چاہے پوچھو۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں، جو کچھ تم اخبار میں چھاپو گے اس سے زیادہ میرے بارے میں پولیس کی فائلوں میں موجود ہے۔ وہ کچھ دیر خاموش ہوا اور پھر کہنے لگا: اچھا ہے علاقے کے لوگوں پر اور بھی رُعب پڑے گا البتہ یہ خیال رکھنا کہ یہاں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی تصویر تمہارے پاس بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے اپنے معاملات ہیں اور میں نہیں چاہتا ابھی پولیس یا کسی اور بدمعاش کو ان کی یہاں موجودگی کا علم ہو۔ میں نے اثبات میں سرہلاکر اس بات کا خیال رکھنے کا وعدہ کرلیا۔ اس نے بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اس کے علاوہ میری دوسری شرط یہ ہے کہ تم تصویریں چھاپنے سے پہلے مجھے دکھاﺅ گے اور اگر میں نے کوئی تصویر چھاپنے سے منع کیا تو تم وہ تصویر نہیں چھاپو گے۔“ میں نے اس کی دوسری شرط بھی تسلیم کرلی کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔مجھے اعتراف ہے کہ میں نے بھولے کی دونوں شرائط پر عمل کیا تھا۔ اس کے بعد میری اس سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور مجھے اس کے ڈیرے سے زیرزمین دنیا کی متعدد خبریں ملیں۔
ایک شام میں اسی ڈیرے پر بھولے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ دو روز قبل اس کا ایک اہم ساتھی کسی مقابلے میں مارا گیا تھا۔ رسم دنیا کو نبھاتے ہوئے میں اس کی تعزیت کے لیے گیا تھا۔ گفتگو کا رُخ جانے کہاں سے ہوتا ہوا بھولے تک آگیا۔ میں نے اس کے ساتھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آخر اس زندگی کا کیا فائدہ جس میں لوگوں کی بددعائیں اور دشمنوں کی گولیاں انسان کا پیچھا کرتی رہیں۔ بھولے کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اپنے شوق سے بدمعاش نہیں بنتا۔ میں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا :کم ازکم تمہارے ڈیرے کے معاملات دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ تم نے اپنی مرضی سے اس دنیا کا انتخاب کیا ہے۔ میں نے یہ بھی کہہ دیا کہ تم نے شاید ہی زندگی میں کبھی حق حلال کی روزی کمانے کی کوشش کی ہو اس لیے تمہیں یہ علم ہی نہیں ہوگا کہ ان چند روپوں میں کتنا سکون ہوتا ہے۔ میرے اسی طعنے پر بھولے نے اپنی زندگی کے وراق اُلٹنے شروع کیے اور ایک نئی داستان سامنے آئی۔
بھولے کاتعلق انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ اس نے زندگی بھر سکول کی شکل نہ دیکھی۔ اگر کوئی اسے مفت پڑھانے کا کہتا تب بھی اس کے لیے سکول جانا ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ روٹی کھانے کے لیے اسے گاڑیوں کی ایک ورکشاپ پر کام کرنا پڑتا تھا۔ چرس کے نشے نے اس کے باپ کو ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل کردیا تھا جبکہ بوڑھی ماں اور بہن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔ اس کے باوجود بھولا اگر ورکشاپ میں دیہاڑی نہ لگاتا تو ان کے گھر کا چولہا نہیں جلتا تھا۔ اُستاد کی جھڑکیاں اور مارپیٹ بھولے کی زندگی کا معمول تھا۔ وہ ورکشاپ میں سلنسر دھونے اورپنکچر لگانے کا کام کرتا تھا۔ اس کے علاوہ استاد کے ”ہیلپر“ کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ اُستاد کی جھڑکیاں تو بھولے کی زندگی کا حصّہ تھیں لیکن ایک روز اُستاد کی گالیاں آرام سے سُنتے دیکھ کر پنکچر لگوانے والے ایک بابا جی نے بھی کسی بات پر مشتعل ہوکر بھولے کو ماں بہن کی گالیاں بکنا شروع کردیں اور ایک آدھ تھپڑ بھی رسید کردیا۔ ان دنوں بھولے کی بہن کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ سُسرال والوں نے جہیز کی جو لسٹ تھمائی وہ بھولے کی طاقت سے باہر تھی اور صورت حال چلّا چلّا کر کہہ رہی تھی کہ اس بار بھی اس کی بہن کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ وہ انہی مسائل میں اُلجھا ہوا تھا جب بابا جی نے اسے ماں بہن کی گالیاں بکتے ہوئے تھپڑ رسید کیا۔ جانے کیا ہوا کہ بھولے کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ اس نے سامنے پھلوں کی ریڑھی سے چھری اُٹھائی اور پوری طاقت سے گالیاں بکنے والے کے پیٹ میں گھونپ دی۔ بوڑھا شخص اس اچانک حملے میں سنبھل نہ سکا اور وہیں دم توڑ گیا۔ بھولے نے خون آلود چھری ہاتھ میں پکڑی اور اسی بازار سے ”جگا ٹیکس“ لینا شروع کردیا۔ بوڑھے کی لاش سڑک پر پڑی تھی جبکہ خون آلود لباس میں چھری اُٹھائے بھولے کی آنکھوں میں بھی خون اُترا ہوا تھا۔ خوفزدہ دکانداروں نے خاموشی سے بھولے کو رقم دینی شروع کردی۔ انہیں یہ خوف بھی لاحق تھا کہ جس بھولے کو وہ کافی عرصہ سے دھتکارتے چلے آرہے تھے کہیں وہ کسی پرانی بات کو یاد کرکے انہیں بھی بوڑھے کے پاس نہ بھجوا دے۔ بھولے نے عالم وحشت میں پورے بازار سے رقم سمیٹی اور گھر چلا گیا۔ دکانداروں میں سے کسی کو جرا¿ت نہ تھی کہ وہ معمولی رقم کی وجہ سے بھولے کی دشمنی مول لیں کیونکہ اس جیسے چند اور دھتکارے ہوئے لڑکے بھی اب ”بھولے کے یار ہیں“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ دکانداروں نے تو لب سی لیے لیکن بوڑھے کے وارثوں نے بھولے کو جیل کی سلاخوں کی دوسری جانب پہنچا دیا۔ دوسری جانب بھولے کے دوست نے اس کے نام پر ”جگا ٹیکس“ لینا شروع کردیا۔ اس کاکہنا تھا کہ اسے بھولے نے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ اسی ”جگے ٹیکس“ کی مہربانی سے بھولے کی ضمانت ہوئی۔ وہ علاقے سے ”جگا ٹیکس“ لیتا رہا اور اپنے مقدمے پر رقم پانی کی طرح بہاتا رہا۔ دوسری جانب اس کے دوستوں نے بوڑھے کے وارثوں کو بھی قتل کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ علاقے میں کوئی ایک شخص بھی قاتل کے خلاف گواہی دینے پر آمادہ نہ تھا۔ تھانیدار کو بھی اس کا ”حصّہ“ باقاعدگی سے مل رہا تھا لہٰذا بھولے کا کیس کمزور ہوتے ہوئے جانے کس فائل میں دب گیا۔
اب بھولا ایک قاتل بدمعاش تھا جس نے اپنے چند دوستوں کو ساتھ ملا کر چھوٹا گینگ بنا لیا تھا۔ ورکشاپ میں کام کرنے اور روز اُستاد سے مار کھانے والے بھولے کو یہ زندگی راس آگئی۔ جو لوگ پہلے گالیاں بکتے تھے اب اسے دیکھ کر سہمے نظر آتے تھے۔ بھتہ یا ”جگّا ٹیکس“ سے اسے اتنی رقم ہر ماہ مل جاتی تھی کہ اس نے اپنی بہن کے لیے جہیز کا پورا ٹرک بھر دیا جبکہ اس کا سالا بھی اس کے گینگ کا اہم رکن بن چکا تھا۔ اس کے بعد بھولے نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس نے ہر ناجائز اور دو نمبر کام کیا۔ قتل، ڈکیتی، قبضے، اغواءجوائے سمیت اس کے گینگ نے ہر وہ ناجائز کام کیا جس سے رقم اکٹھی ہوسکتی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اوپر والوں سے بنا کر رکھی۔ اس کے علاقے کا تھانیدار اس کا احسان مند تھا کیونکہ بھولا اعلیٰ کرپٹ افسروں سے ”دوستی“ رکھنے کے باوجود تھانیدار کو بھی معقول رقم بھیج دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ ”مین سٹریم“ کا حصّہ بن گیا اور زیرزمین دنیا میں اس کا نام گونجنے لگا۔ بھولے نے اپنی داستان سنانے کے بعد پھر اس بات پر اصرار کیا کہ اسے اس راستے پر لانے والے یہی لوگ ہیں جو اب اس کے ڈر سے ہر ماہ بھتہ کی رقم بھیجتے ہیں۔ اگر اسے محنت مزدوری کرنے پر گالیاں نہ بکی جاتیں اور ہر کوئی آتے جاتے تھپڑ رسید کرنا اپنا فرض نہ سمجھتا تو شاید وہ آج بھی محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہا ہوتا۔ بھولے نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ اگر روز آخرت مجھ سے کسی نے کہا کہ حساب دو تو میں کہوں گا میرا حساب معاشرے کے ان عزت داروں سے لیا جائے جنہوں نے مجھے گناہوں کی دلدل میں دھکیلا۔ بھولے اور میرے دلائل اپنی جگہ کہ ہمارے نظریات واضح طور پر آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ اس روز بھولے کے ڈیرے سے اُٹھتے وقت میں سوچ رہاتھا کہ جانے ہم ورکشاپوں پر کام کرنے والے ایسے کتنے ”چھوٹوں“ کے بھولے سے ”بھولا بادشاہ“ بننے کے ذمّہ دار ہیں جن کی بہنیں جہیز کی ڈیمانڈ پوری نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھی رہ جاتی ہےں اور وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی گالیاں، جھڑکیاں اور چند تھپڑ دامن میں سمیٹے بھوکے پیاسے گھر جانے پر مجبور ہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

2 تبصرے

  1. Avatar

    عمدہ افسانہ ہے، معاشرے کی برائیوں کو احسن طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے۔

امواج الساحل کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے