سر ورق / ناول / درندہ ۔۔۔ خورشید پیرزادہ۔ قسط نمبر 8

درندہ ۔۔۔ خورشید پیرزادہ۔ قسط نمبر 8

قسط نمبر 8

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

وردا اپنے کمرے کی کھڑی پر کھڑی بارش کا نظارہ کر رہی تھی- بارش کی چھم چھم اسے بہت بھلی لگ رہی تھی- بچپن کی طرح اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ باہر نکل کر بارش میں نہانے کا لطف اٹھائے- مگر سرد موسم اس بات کی اجازت نہیں دے رہا تھا- ہاں گرمیوں کی بارش میں وہ خوب جھوم جھوم کر بارش میں نہاتی تھی- لیکن اس کے باوجود برستی برسات اس کے دل کو جیسے ایک ٹھنڈا سکون پہنچا رہی تھی-

”بیٹا کب سے کھڑکی پر جمی کھڑی ہو— چلو کچھ کھا لو-“ اس کی امی نے کمرے میں جھانکتے ہوئے کہا-

”نہیں امی- ابھی نہیں— آپ جانتی ہیں نا کہ مجھے بارش کتنی اچھی لگتی ہے- ابھی مجھے یہیں رہنے دیں-“ وردا نے جواب دیا-

”جیسے تمہاری مرضی- — میں جانتی ہوں کہ یہ تمہاری بچپن کی عادت ہے کہ تم بارش کو دیکھ کر جیسے باﺅلی ہوجاتی ہو-“ امی نے ہنس کر کہا- یہ کہہ کر امی واپس چلی گئی لیکن وردا یونہی کھڑکی پر جمی رہی-

”آخر میں کب تو خود کو گھر میں قید رکھوں گی- مجھے کل آفس جانا چاہئے- باس سے بھی بات تو ہو ہی گئی ہے- وہ بھی ساری صورتحال سمجھ گئے ہیں- یونہی ڈر کر گھر میں بیٹھنے سے کیا فائدہ– – مجھے اس بارے میں انسپیکٹر چوہان یا پھر راجو سے بات کرنی پڑے گی-“ وردا کا سوچنا بھی ٹھیک ہی تھا کیونکہ نہ صرف اس کے معمولات بلکہ اس کی ملازمت بھی متاثر ہو رہی تھی-اور وہ جانتی تھی کہ ایسی اچھی ملازمت روز روز نہیں ملا کرتی- اور اس جاب کی وجہ سے وردا کے دل کو یہ سکون بھی رہتا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ پر بوجھ نہیں بنی ہوئی-

٭٭٭٭٭٭٭

تھانے پہنچ کر راجو نے چوہان کو اپنی اب تک کی تفتیش اور کے کے کے بتایا- یہ سن کر چوہان نے فوراً سونیا کا نمبر ملایا- جس وقت بیل بجی اس وقت سونیا پھر نوریز کے ساتھ مشغول تھی-

”اف اب کس کی کال آگئی؟-“ وہ جھلا کر بولی-

”لگتا ہے آج سب نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہمارا سکون برباد کرکے ہی رہیں گے-“ نوریز نے ہنستے ہوئے کہا-اور اپنے برابر میں رکھا ہوا فون اٹھا کر سونیا کی طرف بڑھایا- ”یہ لو فون-“

”ہیلو-“ سونیا نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا-

”ہیلو سونیا میں انسپیکٹر چوہان بول رہا ہوں-“

”ہاں بولیں- آہ ہ ہ -“ نوریز کی شرارت سے سونیا بات کرتے ہوئے کراہ اٹھی-

”آپ کراہ کیوں رہی ہیں- طبیعت تو ٹھیک ہے نا-“

”ہاں ہاں میں ٹھیک ہوں- آپ بولیں-“

”کیا آپ سہیل کے کسی ایسے دوست کو جانتی ہیں جو کے کے کے نام سے پکارا جاتا ہوں-“ چوہان نے پوچھا-

”آہ ہ ہ —میں – میں کسی کے کے کو نہیں جانتی- دیکھیں مجھے جو پتہ تھا وہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے- میری درخواست ہے کہ اب مجھے بار بار پریشان نہ کریں- آہ – مجھے کئی ضروری کام ہوتے ہیں-“

”آپ کے ضروری کام مجھے سمجھ آگئے ہیں- سچ بتانا اس وقت نوریز ہے نا تمہارے ساتھ-“ چوہان نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا-

”اس سے آپ کو کیا-“ یہ کہہ کر سونیا نے فون کاٹ دیا-

”کون تھا؟-“ نوریز نے پوچھا-

”وہی انسپیکٹر تھا- اس نے پتہ نہیں کیسے اندازہ لگا لیا کہ تم اس میرے پاس ہی ہو-“

”تمہارے کراہنے سے اندازہ لگالیا ہوگا اس نے-“ نوریز نے کہا اور سونیا مسکرانے لگی-

”تمہیں بھی تو وقت بے وقت چھیڑخانی سوجھتی رہتی ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭

مراد کی حالت اب پہلے سے کافی بہتر ہو رہی تھی- وہ پلکیں بچھائے سحرش کے آنے کا انتظار کر رہا تھا لیکن اسے نہ آنا تھا اور نہ وہ آئی- حالانکہ راجو نے خود اس سے مل کر درخواست کی تھی لیکن اس نے راجو کو بھی ٹکا سا جواب دے دیا تھا کہ اسے مراد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے- مگر مراد پھر بھی امید لگائے بیٹھا تھا کہ وہ آئے گی اور ضرور آئے گی- جس قسم کی زندگی اس نے اب تک گزاری تھی اس کو دیکھتے ہوئے صرف ایک لڑکی کے لئے ایسی تڑپ مراد کے خیالات میں بدلاﺅ کا کھلا اظہار تھی-

راجو اور چوہان کے کے کو ڈھونڈنے کے مشن پر لگ گئے لیکن انہیں کہیں سے بھی اس نام کے کسی شخص کے بارے میں کوئی بھنک نہیں ملی اور اسی بھاگ دوڑ میں ان کا ایک ہفتہ ضائع ہوگیا تھا- لیکن ایک اطمینان بخش بات یہ تھی اس پورے ہفتے میں کوئی بھی ایسی واردات نہیں ہوئی تھی جو سیریل کلر کے کھاتے میں جاتی- یہ سب شاید مراد کی ہمت کا کمال تھا کہ وہ درندہ اس کے ہاتھوں کسی کونے میں دبکا اپنے پیٹ کا زخم چاٹ رہا تھا- وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن اس پورے ہفتے امن رہا- لیکن اس پورے ہفتے بھی شہریوں میں سیریل کلر کا خوف برقرار رہا- سب کے ذہنوں میں یہی خیال تھا کہ یہ سکون عارضی ہے-

ایک ہفتے بعد مراد کو بھی ہسپتال سے چھٹی مل گئی تھی لیکن اس کے زخم بھرتے بھرتے ایک مہینہ گزر گیا- اس دوران اس درندے کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا تھااور نہ ہی ایسی کوئی واردات ہوئی- لیکن پولیس ڈپارٹمنٹ ابھی بھی الرٹ تھا کیونکہ وہ درندہ ابھی بھی قانون کے پنجرے میں نہیں لایا جاسکا تھا-

صبح کے دس بج رہے تھے اور چوہان بے چینی سے ٹہل رہا تھا- اس کے چہرے پر تناﺅ کی کیفیت تھی- راجو تھانے میں داخل ہوا تو اس نے چوہان کی بے چینی کو محسوس کر لیا-

”کیا بات ہے سر— آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں-“ راجو نے پوچھا-

”پوچھو مت برخواردار- یوں سمجھو شامت آنے والی ہے- میڈم صاحبہ نے ارجنٹ میٹنگ بلائی ہے- سمجھ لو آج خوب ڈانٹ پڑنے والی ہے-“

”ہم جو کر سکتے تھے کر رہے ہیں- اب اس کے علاوہ اور کیا کریں؟-“

”ارے ان کے سامنے مت بول دینا یہ بات- زبان کھینچ لے گی تمہاری-“

”نہیں سر- ان کے سامنے کیوںبولوں گا میں یہ سب— میرا دماغ اتنا بھی خراب نہیں ہے—- مگر سر مجھے لگتا ہے کہ فی الحال وہ درندہ انڈر گراﺅنڈ ہوگیا ہے- میں نے کئی انگلش فلموں میں دیکھا ہے کہ ایسے نفسیاتی سیریل کلر اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور اچانک ہی واپس نمودار ہوجاتے ہیں-“

”مگر یہاں فلم نہیں چل رہی ہے برخوردار— یہاں سب حقیقی ہو رہا ہے- یہاں تو اگلے پل کا پتہ نہیں چلتا کہ کیا ہوجائے— اوپر سے اس کے کے کا بھی کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے اب تک-“

”سر ایک بات اور بھی تو ہوسکتی ہے؟-“ راجو نے کہا-

”وہ کیا؟-“

”میرے دوست نے اس کے پیٹ میں خنجر ماراتھا‘ اور سارے ہسپتالوں اور کلینکس کو کھنگالنے کے بعد بھی ہمیں ایسا کوئی مریض وہاں نہیں ملا- ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے گھر پر ہی پیٹ کی سلائی کروالی ہو- اور اگر کوئی اچھا ڈاکٹرنہیں مل پایا ہوگا تووہ بڑی مشکل میں پڑ گیا ہوگا- کہیں وہ درندہ اس زخم کی وجہ سے مر مرا تو نہیں گیا-“

”یہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی- اس بات سے ہمارا کیس تو حل نہیں ہوا نا-“

سب انسپیکٹر وحید ملک ان کی طرف بڑھتا ہوا آیا-

”کیا بات ہے سر- کوئی بہت ہی اہم باتیں ہو رہی ہیں کیا- چلیں میٹنگ کا وقت ہو گیا ہے-“ وحید ملک نے وقت کا احساس دلاتے ہوئے کہا-

”اوہ ہاں- مجھے خیال ہی نہیں رہا- چلو جلدی کہیں وہ اسی بات پر نہ برس پڑے- “ چوہان نے جلدی سے کہا-

جب وہ تینوں میٹنگ روم میں داخل ہوئے تو ڈی ایس پی شہلا احمد پہلے سے ہی وہاںموجود تھی- انہیں دیکھتے ہی چوہان کو اپنا گلا سوکھتا ہوا محسوس ہونے لگا-

”مسٹر چوہان- اس سیریل کلر والے کیس کی کیا رپورٹ ہے؟-“ شہلا احمد نے سیدھا اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے پوچھا-

ان کا سوال سن کر چوہان اپنی بغلیں جھانکنے لگا- اس بیچارے کے پاس کہنے کے لئے تھا بھی کیا – اس سے کچھ بولے ہی نہیں بن پا رہا تھا-

”ہم پوری کوشش کر رہے ہیں میڈم- وہ قاتل شاید انڈرگراﺅنڈ ہوچکا ہے-“ چوہان کو چپ دیکھ کر راجو بیچ میں بول پڑا-

”میں نے تم سے پوچھا کچھ-“ شہلا نے خشمگیں نظروں سے راجو کو گھورتے ہوئے ڈانٹ کرکہا-”جس سے پوچھا جائے وہی جواب دے-“

”میڈم ہم پوری کوشش کر رہے ہیں- ہم دن رات اسی کیس میں لگے ہوئے ہیں-“ چوہان ہمت کرکے بولا-

”کیا فائدہ اس دن رات کی محنت کا- کوئی رزلٹ بھی تو آنا چاہئے- میڈیا والے روزانہ ہمارے محکمے کے لتے لے رہے ہیں- اوپر والوں کو تو مجھے ہی جواب دینا پڑتا ہے نا— اچھا میں تھوڑی دیر میں شہر کا ایک راﺅنڈ لگانا چاہتی ہوں- تم میں سے کون چلے گا میرے ساتھ-“ شہلا بولی-

”سب انسپیکٹر وحید ملک کو لے جائیں میڈم-“ چوہان نے اپنے سر سے بلا اتارتے ہوئے کہا-

”سر وہ مجھے اپنی گھر والی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے- میں نے آپ کو بتایا تھا نا-“ وحید ملک نے چوہان کو آنکھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا-”مجھے وہیں ہونا تھا مگر میٹنگ کی وجہ سے یہاں آنا پڑا-“

میڈم کے ڈر کی وجہ سے چوہان خود بھی ان کے ساتھ جانا نہیں چاہتا تھا-

”تو میڈم ریاض حسین چلا جائے گا آپ کے ساتھ-“ چوہان نے یہ مصیبت راجو کے گلے باندھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

راجو نے فوراً چوہان کو گھورا اور چوہان اسے دیکھ کر مسکرانے لگا-

”ٹھیک ہے- ہم تھوڑی دیر میں نکلیں گے- میٹنگ ختم سمجھیں- اور ہاں ہوسکے تو کچھ زیادہ محنت کرو اس قاتل والے کیس پر-“ شہلا اٹھتے ہوئے بولی-

”بالکل میڈم- ہم آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے-“ چوہان نے کہا-

شہلا اٹھ کر چلی گئی- ان کے جاتے ہی راجو بولا- ”سر آپ نے مجھے کیوں پھنسا دیا ان کے ساتھ-“

”کوئی بات نہیں برخوردار- تمہیں آفیسر کو ڈیل کرنا بھی آنا چاہئے- بس ان کے سامنے اپنی زبان کم سے کم کھولنا- باقی مجھے یقین ہے تم سب سنبھال لو گے-“

٭٭٭٭٭٭٭

مراد اب بالکل صحت یاب ہو چکا تھا لیکن شاید اب اس کا دل بیمار ہوچکا تھا- اس وقت بھی وہ بائیک لئے سحرش کے کالج کے سامنے کھڑا تھا- کئی لڑکیاں اندر باہر آ جا رہی تھیں لیکن اسے سحرش کہیں نظر نہیں آرہی تھی- اس کے چہرے پر مایوسی ابھرنے لگی-

”اوہ سحرش- کہاں ہو تم— ہر وقت کلاس میں ہی بیٹھی رہتی ہو کیا-“ مراد نے اسے دل میں پکار کر کہا-

تب ہی اسے سحرش اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ گیٹ سے نکلتی دکھائی دی اور مراد کا چہرہ کھل اٹھا- اس نے بائیک اسٹارٹ کی اور سحرش کے پاس آکر روکی- اپنے سامنے اچانک بائیک کو رکتا دیکھ کر لڑکیاں ٹھٹھک گئیں- لیکن مراد کو دیکھتے ہی سحرش کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا-

”تم— تم یہاں کیا کر رہے ہو؟-“ سحرش نے غصے سے پوچھا-

”تم جانتی ہو اسے-“ ایک لڑکی بولی-

”ہاں- ہمارے علاقے میں ہی رہتا ہے-“

”کہیں دل میں بھی تو نہیں رہتا-ہی ہی ہی-“ دوسری لڑکی نے چھیڑتے ہوئے کہا-

”یہ اور میرے دل میں- مجھے تو نفرت ہے اس سے-“ سحرش کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی-

مراد سب سن رہا تھا-”ان کی نفرت میں بھی پیار چھلکتا ہے- میں لاکھ سنبھالوں دل کو- یہ اسی جانب کھچتا ہے-“

”واہ یہ تو کوئی شاعر لگتا ہے- ہی ہی ہی-“ دونوں لڑکیاں ہنسنے لگیں-

”چلو یہاں سے- یہ تو پاگل ہے-“ سحرش دونوں کے ساتھ آگے بڑھ گئی- لیکن دونوں لڑکیاں پیچھے مڑمڑ کر مراد کو دیکھتی رہیں-

”ہمیں چھوڑ کر جا رہی ہو- ہم تڑپ کر رہ جائیں گے— تمہارے ساتھ تو دو کلیاں ہیں- ہم اکیلے ہی رہ جائیں گے-“ مراد نے پھر شاعرانہ انداز اپناتے ہوئے کہا-

”واﺅ – رومانٹک-وہ ہمیں کلیاں کہہ رہا ہے- رکو نا یار- اچھا بندہ لگتا ہے-“ ایک سہیلی نے کہا-

ِ”بہت بڑا فلرٹ ہے وہ— چلو ہمیں مووی کے لئے دیر ہوجائے گی-“ سحرش نے کہا-

یہ بات مراد نے بھی سن لی- ان تینوں نے ایک رکشہ روکا اور اس میں بیٹھ کر چلی گئیں- مراد نے بھی اپنی بائیک ان کے پیچھے لگا دی-

”اگر اس کو اپنا نہیں بنا پایا تو زندگی بیکار ہے میری-“ مراد خود سے مخاطب ہوا-

سنے پلیکس پہنچ کر تینوں لڑکیاں اندر چلی گئیں- انہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ مراد ان کا پیچھا کرتا ہوا یہاں تک آگیا ہے- مراد نے بھی ٹکٹ لیا اور ان کے پیچھے داخل ہوگیا-

”ہائے- یہ تو دیوانہ لگتا ہے- تمہارے پیچھے یہاں تک آگیا-“ ایک لڑکی نے مراد کو دیکھ کر کہا-

”تم مذاق کر رہی ہو-“ سحرش بولی-

”مڑ کے تو دیکھ لو- بالکل تمہارے پیچھے بیٹھا ہے-“

ابھی فلم شروع نہیں ہوئی تھی اس لئے ہال میں روشنی ہو رہی تھی- سحرش نے فوراً مڑ کر دیکھا ”تم یہاں بھی آگئے- آخر تم چاہتے کیا ہو-“

”مجھے جو چاہئے وہ تمہیں پتہ ہے- ان کے سامنے کیسے کہوں- سمجھا کرو-“

”شٹ اپ-“ سحرش نے ڈانٹتے ہوئے کہا-

”چپکے چپکے وہ کیا کہہ رہا تھا تم سے؟-“

”کچھ نہیں- تم اس پر زیادہ دھیان مت دو- پاگل ہے وہ-“

تھوڑی دیر بعد ہال میں اندھیرا چھا گیا اور فلم شروع ہوگئی- مراد ‘سحرش کی طرف جھک کر بولا- ”اگر یہ رومانٹک فلم ہم دونوں مل کر دیکھیں تو زیادہ مزا آئے گا- پیچھے آجاﺅ نا میرے پاس- میرے ساتھ والی سیٹ خالی ہے-“

”تم سمجھتے کیا ہو خود کو- تم بلاﺅ گے اور میں آجاﺅں گی- ہونہہ— تمہارے پاس آئے گی میری جوتی- چپ چاپ فلم دیکھو ورنہ سینڈل سے خاطر تواضع کروں گی تمہاری-“ سحرش نے دھمکی دیتے ہوئے کہا-

”نہیں نہیں- ایسی حرکت مت کرنا- آج تک میں نے سینڈل نہیں کھائی- اور یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے-“ مراد سے جلدی سے بولا-

”نہیں کھائی تو اب کھا لو گے اور ذائقہ بھی پتہ لگ جائے گا- دیکھو مجھے غصہ مت دلاﺅ-“

”کیا کروں- یہ تو شعلے اگل رہی ہے-“ مراد نے سوچا-

کچھ دیر بعد سحرش کی ایک سہیلی کرن کو نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر پیچھے مراد کے پاس آکر بیٹھ گئی- اس کی یہ حرکت دیکھ کر سحرش بھی حیران رہ گئی لیکن وہ کچھ بولی نہیں- مراد بیچارہ الگ حیران پریشان تھا-

”تمہارا شاعرانہ انداز مجھے بہت اچھا لگا- میرا نام کرن ہے- کیا آپ مجھ پر کوئی غزل کہیں گے-“ کرن ‘ مراد کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی-

”میں کوئی شاعر نہیں ہوں- وہ تو میں یونہی کچھ تک بندی کر رہا تھا آپ کی سہیلی کے لئے- سحرش سے میری دوستی کروا دو نا-“ مراد نے کہا-

” مجھے لگتا ہے کہ اسے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے- تم کسی اور پر ٹرائی کیوں نہیں کرتے-“ کرن نے مشورہ دیا-

”کس پر ٹرائی کروں- آپ ہی بتادیں-“

”میں ہوں نا- تم شاعر ہو میں تمہاری شاعری بن جاﺅں گی-“ کرن نے فدا ہونے والے لہجے میں مراد کے گھٹنے پر ہاتھ پھراتی ہوئی بولی-

”یہ آپ کیا کر رہی ہیں-“ کرن کی حرکت پر مراد حیران تو تھا لیکن اس نے کرن کا ہاتھ نہیں ہٹایا- اور ہٹاتا بھی کیوں ایسا روز روز تو نہیں ہوتا کسی کے ساتھ-

”اگر آپ کی سہیلی نے آپ کا ہاتھ میرے گھٹنے پر دیکھ لیا تو مصیبت ہوجائے گی-“

”اسے چھوڑیں اپنی بات کریں-“

”آپ تو ستم ڈھانے کی تیاری کر رہی ہیں-کیا آپ پہلی بار کسی سے دوستی کر رہی ہیں-“

”جی نہیں- میرے تین بوائے فرینڈ ہیں-ویسے تم کیا سوچ رہے ہو- مجھ سے دوستی کروگے؟-“ کرن نے کہا-

”میں سحرش کو چاہتا ہوں-“ مراد نے ڈگمگاتے ہوئے انداز میں کہا-

”سحرش کو مارو گولی- اس سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا- دیکھا نہیں کہ وہ تم سے بات تک نہیں کرنا چاہتی- وہ تمہیں پاگل کہہ رہی جبکہ وہ خود پاگل ہے-“ کرن نے ہلکے سے ہنس کر کہا-

سحرش اور اس کے ساتھ والی سہیلی فلم دیکھنے میں مگن تھیں- انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کے پیٹھ پیچھے ایک اور لو اسٹوری شروع ہوچکی ہے-

”میں تمہیں وہ خوشی دوں گی کہ تم سب کو بھول جاﺅ گے-“ کرن بولی-مراد کی قربت سے اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں-”مجھ سے دوستی کرو گے تو مزے میں رہو گے- کوئی شعر سناﺅ نا-“

”تم سمجھ رہی ہو کہ مجھے تم سے محبت ہوجائے گی- اگر سحرش نے دیکھ لیا تو میرے لئے مصیبت ہوجائے گی-“

”یہ کیسی شاعری ہے- تم ہر بات میں سحرش کو بیچ میں کیوں لے آتے ہو-“ کرن نے چڑ کر کہا-

وہ دونوں سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے- سحرش کو کچھ سمجھ تو نہیں آرہا تھا لیکن ان کی کھسر پھسر سے وہ پریشان ہی ہو رہی تھی-

”کیا باتیں کر—–“ سحرش پیچھے مڑکر بولی لیکن بولتے بولتے رک گئی کیونکہ پیچھے کا منظر دیکھ کر وہ حیران تھی- اس کی سہیلی کرن ‘ مراد کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور مراد آنکھیں بند کئے ہوئے تھا- اور یہ بھی اتفاق ہے کہ جب سحرش نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھ بھی کھل گئی-

”ارے ہٹو کیا کر رہی ہو- میں تو اچھا خاصا سو گیا تھا- تم میرے اوپر ہی لد کر سوگئیں-“ مراد نے بوکھلا کر کرن کو خود سے دور کیا-

”کیا بول رہے ہو تم-“ کرن خمار آلود لہجے میں بولی- پھر اس کی نظر بھی سحرش پر پڑی- ”اوہ اچھا- سحرش پیچھے مڑ کر دیکھ رہی ہے- ارے سحرش تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے نا-“

”تم دونوں جاﺅ بھاڑ میں- مجھے کیا-“ سحرش واپس فلم دیکھنے لگی-

”تم نے میرا کام خراب کروا دیا نا- “ مراد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”چلو باہر چل کر باتیں کرتے ہیں-“

”سوری— آپ پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں- مجھے فلم دیکھنی ہے-“

”تم فلم دیکھنے تو نہیں آئے تھے- تم جھوٹ بول رہے ہو-“ کرن بولی-

مراد نے کوئی جواب نہیں دیا اور چپ چاپ بیٹھا رہا- کرن بھی چپ ہوگئی-

پھر مراد سحرش کی طرف جھک کر بولا- ”سوری سحرش- یہ سب کرن کا کیا دھرا ہے- سچ کہہ رہا ہوں-“

”میں نے کہا نا بھاڑ میں جاﺅ-“ سحرش نے غصے میں کہا-

کرن نے یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ مراد اس میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ہے اس کے پاس سے نہیں اٹھی- اور اب اس کی قربت مراد کو پریشان کر رہی تھی- کیونکہ سحرش کی نظروں میں اس کا کردار مزید خراب ہوگیا تھا-

”اب تو لگتا ہے کہ میرا کوئی چانس نہیں ہے- کیا مصیبت ہے— اب کیا کروں-“ مراد اپنی ہی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا-

”تم کہاں کھو گئے— اس سحرش کی فکر مت کرو- یہ ایسی ہی تنک مزاج ہے-“ کرن نے کہا-

”اگر اس کی نہیں تو پھر کس کی فکر کروں؟-“ مراد قدرے تیز لہجے میں بولا-

”مجھ میں کیا کمی ہے—مجھے تمہارا شاعرانہ انداز بہت بھا گیا ہے-“

”دیکھو میں صرف سحرش کے لئے یہاں بیٹھا ہوں‘ ورنہ کب کا چلا جاتا- تم اپنی سیٹ پر چلی جاﺅ پلیز-“

”تم سحرش کی فکر میں مرے جا رہے ہو اور اس کا ایک اور لڑکے کے ساتھ افیئر ہے-تم اس پر اپنا وقت برباد مت کرو- میرا اپنے تیسرے بوائے فرینڈ سے بریک اپ ہوچکا ہے- اور آج کل میں بالکل فری ہوں- مجھے یقین ہے کہ تمہاری اور میری خوب جمے گی-“ کرن نے اسے رجھاتے ہوئے کہا-

”کس کے ساتھ افیئر ہے سحرش کا- وکی کے ساتھ؟-“ مراد نے پوچھا-

”ہاں- مگر تم کیسے جانتے ہو-“

”بس جانتا ہوں کسی نہ کسی طرح- تمہیں اس سے کہا-“ مراد نے روکھے لہجے میں گول مول جواب دیا-

”اف تمہاری یہی بے نیازی کی ادا جان لے رہی ہے- ایک نمبر کے ظالم ہو تم-“

”پلیز تم مجھے اکیلا چھوڑ دو- مجھے سحرش کو اپنا بنانا ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے میری مشکل اور بڑھ رہی ہے-“

”سحرش کے چکر میں تم پکی پکائی کھیر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے-“ کرن مسکرا کر بولی-

”تمہارے جیسی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی- جو بن مانگے خود کو پروس دے-“

”اب پروس تو دی ہے- کھانا نہ کھانا تمہاری مرضی پر ہے-“ کرن واقعی بہت زیادہ بولڈ لڑکی ثابت ہو رہی تھی-”میں جانتی ہوں کہ بھوک تمہیں بھی لگ رہی ہے- لیکن سحرش کی وجہ سے خود کو روک رہے ہو- اس سے پہلے کہ کھانا بالکل ٹھنڈا ہوجائے – اسے کھا لینا چاہئے-“

”مجھے سحرش کا ڈر ہے – وہ پتہ نہیں کیا سوچ رہی ہوگی-“ مراد ابھی بھی سحرش ہی کی فکر میں تھا-

ِِ”میں نے کہا نا اسے مارو گولی— تھیٹر خالی ہے- چلو پیچھے والی سیٹوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں- وہاں تک سحرش کی نظر نہیں جائے گی-“

مراد فوراً کھڑا ہوگیا- اسے لگا کہ اگر وہ کرن کے ساتھ تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا تو بہک جائے گا- وہ سحرش کی طرف جھک کر بولا- ”کیسی کیسی ٹھرکی سہیلیاں پال رکھی ہیں تم نے- مجھے تو پریشان کر کے رکھ دیا ہے- میں یہ اچھی خاصی پکچر چھوڑ کر واپس جا رہا ہوں-“

”تو جاﺅ نا- پرواہ کس کو ہے-“ سحرش نے بے رخی سے کہا-

”اپنے عاشق کی تھوڑی سی تو قدر کر لیا کرو-“

”جہنم میں جاﺅ-“

”ٹھیک ہے وہیں جا رہا ہوں- میں وہاں پھول لے کر تمہارا انتظار کروں گا- تم کب آﺅ گی-“

”وہ جہنم تمہا رے لئے ہے- جاﺅ جاکر جلتے رہو-“ یہ کہہ کر سحرش فلم دیکھنے لگی-

”اتنی تپش—- مجھے تو لگتا ہے کہ اگر مجھے تمہارا ساتھ مل گیا تو جلا کر خاک کر دو گی-“

”اب جاﺅ بھی- مجھے فلم دیکھنے دو-“ وہ بیزاری سے بولی-

کرن کی نظر مسلسل مراد پر تھی لیکن وہ اسے نظرانداز کرکے سیدھا باہر آگیا- اس نے ابھی اپنی بائیک اسٹارٹ ہی کی تھی کہ اسے کرن آتی ہوئی دکھائی دی-

”لو یہ بھی پیچھے پیچھے آگئی- اب اس کا کیا کروں-“

اس سے پہلے مراد اپنی بائیک نکالتا کرن جلدی سے آکر اس کے پیچھے بیٹھ گئی-

”تم نے اچھاکیا جو باہر آگئے- چلو کہیں اور چلتے ہیں جہاں صرف میں اور تم ہوں-“ کرن نے مراد کی کمر کے گرد ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا-

”لگتا ہے تم پیچھا نہیں چھوڑو گی-“ یہ کہہ کر مراد نے بائیک آگے بڑھا دی-”بہت ہی مرد مار قسم کی لڑکی ہوتم-“

”یہ مرد مار کیا ہوتی ہے؟-“ کرن نے پوچھا-

”خود کو سمجھ لو گی تو اس لفظ کا مطلب بھی جان جاﺅ گی-“

”میں کئی دنوں سے بہت اکیلی محسوس کر رہی تھی خود کو- اب تم مل گئے ہو تو اچھا لگ رہا ہے-“

”اور تمہارا بوائے فرینڈ؟-“

”بتایا تو تھا کہ بریک اپ ہوگیا ہے-“

”اوہ ہاں- تو کوئی اور بوائے فرینڈ ڈھونڈ لو-“ مراد نے مشورہ دیتے ہوئے کہا-

”ڈھونڈ تو لیا— تم ہو نا-“

”یہ تو تم اچھی طرح جان لو کہ میں تمہارا بوائے فرینڈ نہیں بن سکتا-“

”کوئی بات نہیں- کم از کم آ ج کے دن تو ہونا-“ کرن ہنستے ہوئے بولی-

”ہاں صر ف آج کے دن کی بات ٹھیک ہے-“

مراد کا کمرہ خالی تھا لیکن وہ کرن کو اپنے گھر نہیں لے جانا چاہتا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ روز ہی نہ ٹپک پڑے- کچھ سوچ کر اس نے بائیک کا رخ مضافاتی علاقے میں جھاڑیوں کے جنگل کی طرف موڑ دیا-

”اوہ تو اس کا مطلب ہے کہ آج جنگل میں منگل ہوگا-“ کرن خوشی سے اچھلتی ہوئی بولی-

”بالکل- تم جیسی بھوکی شیرنی کے لئے یہ جنگل ہی ٹھیک رہے گا-“ مرادنے گھنی جھاڑیوں کے پیچھے بائیک روک دی- ”میرا خیال ہے ہمیں سڑک سے زیادہ دور نہیں رہنا چاہئے-“

مراد نے کرن کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر کچھ اور اندر چلا گیا-

”کتنا خوفناک سناٹا ہے یہاں – تم مجھے اپنے گھر نہیں لے جاسکتے تھے کیا؟-“ کرن نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے کہا-”مجھے تو یہاں ڈر محسوس ہو رہا ہے-“

”ارے ڈرنے کی کیا بات ہے- میں جو ساتھ ہوں-“

”پھر بھی مجھے ڈر لگ رہا ہے- چلو کہیں اور چلتے ہیں-“

”ارے کہا نا میں ہوں ساتھ میں-“

”پتہ نہیں کیوں مجھے احساس ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ گڑبڑ ہے- تم غور نہیں کر رہے کہ یہاں کتنی عجیب سی خاموشی ہے- میری بات مانو اور چلو یہاں سے-“

”سارے جنگل ایسے ہی ہوتے ہیں- اب یہاں تمہارے لئے کوئی بینڈ باجہ تو لے کر گھومنے سے رہا-“ مراد نے تپ کر کہا-

”تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن میرا یقین کرو یہاں کچھ عجیب سا لگ رہا ہے مجھے-“

”ارے کچھ عجیب نہیں ہے- تم تو خواہ مخواہ گھبرا رہی ہو-ہم یہاں بالکل محفوظ ہیں-“ مراد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو تم’“

اس بات کا مراد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

راجو جیپ ڈرائیو کرتے ہوئے کن اکھیوں سے میڈم شہلا کو دیکھ رہا تھا جو اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھی تھی-

”ٹریننگ کیسی چل رہی ہے تمہاری؟-“ شہلا نے پوچھا-

”بہت اچھی چل رہی ہے میڈم- چوہان صاحب بہت توجہ دے رہے ہیں میری تربیت پر-“ راجو نے کہا-

”ویسے وردا شمسی کو میرے پاس لاکر تم نے بہت اچھا کام کیا-“

”جی میڈم- مجھے یقین تھا کہ آپ سچ کو پرکھ سکتی ہیں- اور آپ ہی کی وجہ سے تو مجھے یہ ملازمت مل سکی ہے- میں تو چکر لگا لگا کر تھک گیا تھا- اگر آپ نہ آتیں تو میری جوائننگ کبھی نہ ہوتی-“

”اپنی ڈیوٹی ہمیشہ ایمانداری سے انجام دینا-پولیس میں آکر اکثر لوگ بگڑ جاتے ہیں-“ شہلا نے نصیحت کرتے ہوئے کہا-

”میں کبھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا- آپ نے بتایا نہیں کہ اس وقت کہاں چلنا ہے؟-“

”ویسے ہی چکر لگانے کا دل کر رہا تھا- زیادہ سے زیادہ شہر کا چکر لگانا چاہتی ہوں میں-“

”اوکے- میڈم ایک بات پوچھوں اگر آپ برا نہ مانیں تو-“ راجو نے ڈرتے ہوئے کہا-

”ہاں پوچھو-“

”آپ کیسے آگئیں پولیس میں-“

”کیسے آگئی کیا مطلب- سول سروسز کا امتحان پاس کرکے آئی ہوں-‘ ‘ شہلا نے بتایا-

”میرے پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کو دلچسپی تھی اس محکمے میں یا پھر—-“

”دلچسپی تو نہیں تھی- لیکن کوئی بات نہیں- یہ محکمہ بھی اچھا ہے-“

ِ”میری تو ہمیشہ سے خواہش تھی پولیس میں آنے کی- آپ کی وجہ سے مجھے میرے خواب کی تعبیر ملی ہے-میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا-“ راجو تشکر سے بولا-

”یہ کہاں آگئے ہم- یہاں تو سڑک کے دونوں طرف ہی جنگل ہے-“ شہلا نے چونک کرکہا-

”ہاں میڈم- یہ بہت بڑا جنگل ہے- اسی روڈ پر وردا شمسی کے ساتھ وہ واقعہ ہوا تھا-“ راجو بولا-

ِ”اوہ ہاں یاد آیا- اس طرف میں پہلی بار آئی ہوں-“

”شہر سے نزدیک یہ جھاڑیوں کا جنگل اندر سے بہت گھنا ہے- اور جرائم پیشہ افراد اس کا فائدہ ضرور اٹھاتے ہوں گے-“

”صحیح کہہ رہے ہو- ایسے سنسان جنگل اکثر جرائم کا اڈہ بن جاتے ہیں—- وہ— وہ– کون ہیں جنگل میں-“ شہلا ایک طرف کسی کو دیکھ کر چونک گئی- راجو نے فوراً جیپ روک لی-

”کہاں میڈم- مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا-“

”نہیں- میں نے ابھی اس طرف ایک سائے کو دیکھا ہے- اور شاید اس نے بھی ہمیں دیکھ لیا ہے- چلو چیک کرتے ہیں-“

”کیا دیکھ لیا ان میڈم صاحبہ نے- مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دیا-“ راجو جیپ سے اترتے ہوئے بڑبڑایا-

”کون ہے وہاں- باہر آجاﺅ ورنہ گولی مار دوں گی-“ شہلا اپنا سروس پستول نکال کر للکارتے ہوئے کہا-

”کہیں کسی جنگلی جانور کو نہ مار دے یہ قیامت-“ راجو نے سوچا-

”میڈم شاید کوئی جنگل جانور ہوگا-“

”شٹ اپ یو ایڈیٹ- میری آنکھیں دھوکہ نہیں کھا سکتیں- میں نے دیکھا ہے کسی کو— ہے کون ہو تم- باہر آﺅ-“

باہر تو کوئی نہیں آیا البتہ ایک گولی تیزی سے شہلا کی طرف آئی اور اس کے سر کے عین نزدیک سے ہوتی ہوئی نکل گئی-شہلا فوراً زمین پر لیٹ گئی- راجو کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا – وہ جیپ کے پیچھے چھپ گیا-

”میڈم ٹھیک ہی کہہ رہی تھی- کون ہے یہ بندہ جو سرعام پولیس پر گولی چلا رہا ہے-“

شہلا ہاتھ میں پستول لئے جھکی ہوئی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی- شہلا نے ایک طرف فائر کیا اور فائر ہوتے ہی کسی کے بھاگنے کی آواز سنائی دی- راجو بھی جھکا ہوا شہلا کے پاس آگیا-

”آپ صحیح کہہ رہی تھیں میڈم-“ راجو نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا-

”میں ہمیشہ صحیح ہی کہتی ہوں- آئندہ میرے کسی اندازے پر شک کیا تو سسپینڈ کردوں گی-“

”نہیں کروں گا میڈم- بالکل نہیں کروں گا- مجھے لگتا ہے کہ جو بھی تھا بھاگ گیا ہے-“

”میرے اوپرگولی چلانے والے کو میں چھوڑوں گی نہیں- اسے پکڑنا ہی ہوگا-“ شہلا کا ارادہ پختہ لگتا تھا-

”میڈم ہم صرف دو ہیں- مزید نفری منگوالوں کیا-“

”ہاں- چوہان کو فون کرو—- تب تک ہم اسے پکڑنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں-“ شہلا نے ہدایت دیتے ہوئے کہا-

”میڈم سوچ لیں- جنگل ہے— ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں گھات لگا کر بیٹھا ہوہمیں نشانے پر لینے کے لئے- میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے- مجھے ابھی تک سروس پستول بھی نہیں ملا ہے-“ راجو نے اپنی مجبوری بتائی-

”تم میرے پیچھے پیچھے آﺅ- گھبراﺅ مت-“

راجو نے فون کرکے چوہان کو ساری سچوئشن بتائی- چوہان نے کہا کہ بیس منٹوں میں پولیس کی دو پارٹیاں پہنچ جائیں گی وہاں-

”میڈم- کہیں یہ وہی درندہ تو نہیں-“ راجو نے اپنے اندیشے کے اظہار کیا- ”بنا سوچے سمجھے پولیس پر گولی چلا دی اس نے- ایسا کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے- اسے صرف باہر آنے کو ہی تو کہہ رہی تھیں آپ-“

”شاید تمہارا اندازہ درست ہے کہ یہ وہی درندہ ہے-“ بولتے وقت شہلا کا دھیان راجو کی طرف ہوگیا اور وہ ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر گرنے لگی- راجو اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کا بیلنس بھی بگڑ جاتا ہے اور وہ شہلا کو سنبھالنے کی بجائے خود ہی اس کے اوپر گر گیا- یہ بہت ہی عجیب سی صورتحال تھی کہ ڈی ایس پی صاحبہ نیچے پڑی تھی اور سب انسپیکٹر اس کے اوپر-

”میڈم آپ کو چوٹ تو نہیں لگی-“ راجو نے پوچھا-

”پہلے میرے اوپر سے تو ہٹو-“ شہلا نے اسے دھکیلتے ہوئے کہا- راجو فوراً دوسری طرف لڑھک کر اس کے اوپر سے ہٹ گیا-

”تم یہ کیا حرکت کرنا چاہ رہے تھے-“ شہلا اسے گھورتی ہوئی بولی-

”سوری میڈم- آپ گرنے لگی تھیں تو آپ کو سنبھالنے کے چکر میں ‘ میں بھی گر گیا-“ راجو نے صفائی پیش کی-

”آہ- تم نے تو میری کمر ہی توڑ کر رکھ دی- ویسے تو شاید میں بچ بھی جاتی- بے وقوف کہیں کے-“ شہلا درد سے کراہ اٹھی تھی اور اپنا غصہ راجو پر نکا ل رہی تھی-

”سوری میڈ م میں تو بس-“

”شٹ اپ- مجھے کبھی بھی کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی- سمجھے تم- آئندہ سے ایسا کیا تو معطل کردوں گی-“

”میری نوکری تو لگتا ہے ہر وقت تلوار کی دھار پر لٹکی ہوئی ہے-“ راجو آہستہ سے بڑبڑایا-

”کیا کہا تم نے؟-“ شہلا نے پوچھا-

”کچھ نہیں- میں سوچ رہا تھا کہ آپ پر گولی چلانے والا کس طرف گیا ہوگا- جنگل تو بہت بڑا ہے- ہم اسے کس طرف ڈھونڈیں-“

”جس طرف میں جاﺅں گی تم بس اسی طرف چلتے رہو- باقی باتیں بھول جاﺅ-“

”یہ میڈم تو قیامت سے بھی کچھ زیادہ ہی ہے- ان سے بہت سنبھل کر رہنا ہوگا ورنہ تو نوکری گئی ہی سمجھو راجو میاں-“ راجو نے سوچا-

”کیا سوچ رہے ہو- چلو اب- یا پھر اس کے لئے بھی باقاعدہ دعوت نامہ دینا پڑے گا-“ شہلا تیز لہجے میں بولی-

”چلیئے میڈم- ایسے موقعوں کے لئے آپ میرا سروس پستول ریلیز کروادیں- ضرورت پڑہی جاتی ہے-“

”واپس جاکر دیکھیں گے- ابھی تو چپ چاپ آگے بڑھو-“

اور راجو میڈم کے پیچھے چل پڑا-

٭٭٭٭٭٭٭

”میرا یقین کرو- میں نے گولی چلنے کی آواز سنی ہے-“ کرن نے مراد سے کہا-

”مگر مجھے تو ایسی کوئی آواز سنائی نہیں دی-“

”لگتا ہے تمہارا دھیان ابھی بھی اس سحرش میں اٹکا ہوا ہے- اس لئے تمہیں سنائی نہیں دی وہ آواز-“

”ارے وہم ہے تمہارا- یہاں کوئی ہماری پرائیویسی میں دخل دینے نہیں آنے والا-“ مراد بولا-

جنگل میں کتنی پرائیویسی تھی وہ تو کچھ دیر میں مراد کو پتہ لگنے ہی والا تھا- جو آنکھیں بند کئے کرن کو سینے سے لگائے ہوئے تھا-

”میرے لئے بھی تھوڑی شاعری کرلو- سحرش کے لئے تو خوب کہہ رہے تھے-“ کرن نے فرمائش کی-

”ارے میں نے بولا نا کہ میں کوئی شاعر واعر نہیں ہوں- وہ تو بس سحرش کو پٹانے کے لئے تک بندی کر رہا تھا— تم تو اس کی سہیلی ہو- یار تم ہی کوئی راستہ بتاﺅ نا اس منانے کا-“

”نہیں بابا وہ بہت اکھڑ مزاج لڑکی ہے- میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتی-“

اور کرن کی بات سن کر مراد جیسے مایوس سا ہوگیا-

٭٭٭٭٭٭٭

شہلا پستول تانے آگے بڑھ رہی تھی اور راجو اس کے پیچھے پیچھے تھا-

”کہاں گیا وہ-“ شہلا بولی-

”میڈم اتنا بڑا جنگل ہے- کہیں بھی جاسکتا ہے-“

”تم ہر طرف نظر رکھو- ہوسکتا ہے وہ یہیں کہیں چھپا ہوا ہو-“ شہلا نے کہا-

”ٹھیک ہے میڈم میں نظر رکھے ہوئے ہوں-“

اچانک شہلا کو کوئی آہٹ سنائی دیتی ہے اور وہ رک جاتی ہے- راجو دوسری طرف دیکھ رہا تھا بے دھیانی میں وہ شہلا سے ٹکرا گیا اور شہلا کا ماتھا ایک درخت سے ٹکراتا ہے اور اس کا پارہ چڑھ جاتا ہے- راجو بیچارے کے پیروں کے نیچے سے تو جیسے زمین نکل گئی- اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کہے تو کیا کہے- وہ چہرہ لٹکائے چپ چاپ کھڑا رہتا ہے-

”دھیان کہاں ہے تمہارا- کبھی میرے اوپر گر جاتے ہو کبھی پیچھے سے ٹکراتے ہو- یہ ساری کی ساری گولیاں تمہارے بھیجے میں اتار دوںگی- پتہ نہیںمیں کس گدھے کو لے اپنے ساتھ-“ شہلا نے غصے سے کہا-

”میڈم میرا دھیان دوسری طرف تھا- آپ مجھے جتنا چاہیں ڈانٹ لیں لیکن گدھا مت کہیں مجھے-“

”کیوں نہ کہوں- جب گدھوں جیسی احمقانہ حرکتیں کرو گے تو اور کیا کہوں؟-“

”گدھے مجھے اچھے نہیں لگتے- کسی اور جانور کا نام لے سکتی ہیں-“ راجو سنجیدہ لہجے میں بولا-

”اوہ مائی گاڈ— اب چپ رہو تم— کیا سامنے کی جھاڑیوں میں تمہیں کوئی آہٹ سنائی دی-“ شہلا نے پوچھا‘

”ہاں- سنائی تو دی ہے-“ دونوں آہستہ آواز میں باتیں کر رہے تھے-

”بالکل چپ چاپ دبے پاﺅں چلو- کوئی آواز مت کرنا-“

”کوئی آواز نکالنے لائق چھوڑا ہی کہاں ہے جو آواز کروںگا-“ راجو پھر بڑبڑیا-

”کچھ کہا تم نے-“

”جی نہیں میڈم— چلیں دیکھتے ہیں کیا ہے ان جھاڑیوں کے پیچھے-“ راجو نے دھیرے سے کہا-

شہلا دبے پاﺅں پستول لئے جھاڑیوں کی طرف بڑھتی ہے- راجو بھی اس کے پیچھے ہے- جھاڑیوں کے پیچھے کچھ اور نہیں بلکہ ایک جنگلی بلی تھی جو شہلا کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوئی-

لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ وہ شہلا کے پیروں کے بیچ سے ہو کر بھاگی- یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ شہلا اور راجو کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا- شہلا گھبرا کر تیزی سے گھومی‘ اور راجو پیچھے ہی کھڑا تھا وہ کب اپنی ہی جھونک میں راجو کو لئے زمین پر گر گئی شہلا کو پتہ ہی نہیں چلا- اس بار سب انسپیکٹر نیچے تھا اور ڈی ایس پی صاحبہ اوپر-

”کھڑے کھڑے دیکھ رہے تھے- کچھ کر نہیں سکتے تھے تم-“ شہلا نے جھینپ کر اپنا غصہ راجو پر نکالا اور کھڑی ہوکر کپڑے جھاڑنے لگی-

”میڈم آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے- میں نے اسی لئے نہیں سنبھالا آپ کو کہ کہیں آپ مجھے معطل نہ کردیں-“ راجو معصومیت سے بولا-

”شٹ اپ- آﺅ آگے بڑھتے ہیں-“

”چلئے میڈم-“

ادھر مراد اور کرن پیار بھری باتیں کر رہے تھے اور مراد اسے الٹے سیدھے شعر سناتا ہوا اس کے بدن سے کھلونے کی طرح کھیل رہا تھا- پھر نہ جانے مراد کو کیا سوجھی- شاید اسے اس بات کا غصہ تھا کہ کرن کی وجہ سے ہی سحرش کے سامنے اس کی کرکری ہوئی ہے- اس نے کرن کے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے زور کی چٹکی بھر لی اور کرن کی چیخ نکل گئی-

”اوئی ماں— یہ کیا جنگلی پنا ہے-“

کرن کی یہ چیخ شہلا کو بھی سنائی دی-

”تم نے چیخ کی آواز سنی- لگتا ہے کوئی مصیبت میں ہے-“ وہ بولی-

”ہاں میڈم چیخ کی آواز تو میں نے بھی سنی ہے- کسی لڑکی کی چیخ لگتی ہے- چلیں دیکھتے ہیں کیا ماجرا ہے-“ اور دونوں آواز کی سمت میں بڑھنے لگے-

”اب آوازیں کچھ نزدیک سے آرہی ہیں-“ یہ کہتے ہوئے شہلا نے جھاڑیوں کو ہٹایا تو دنگ رہ گئی – کیونکہ اس وقت تک مراد ساری حدیں پار کرچکا تھا-

مراد کی پیٹھ ان کی طرف تھی اس لئے وہ شکل نہیں دیکھ پائی- راجو بھی مراد کو پہچان نہیں پایا- وہ دونوں یہی سمجھے کہ کسی کا ریپ ہو رہا ہے-

شہلا کوئی وقت ضائع کئے بغیر آگے بڑھی اور پستول کی نال پیچھے سے مراد کے سر پر ٹکا دی-

”چھوڑ دو اسے ورنہ بھیجہ اڑا دوں گی— اپنے ہاتھ اوپر کرلو-“ شہلا نے کڑک آواز میں کہا-

مراد کی تو جیسے سٹی گم ہوگئی- اسے تو گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس ویرانے میں بھی اس کا مزا خراب ہو سکتا ہے- اس نے ہاتھ اوپر کر لئے-

راجو نے کرن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-”آپ گھبرائیں مت- اب ہم آگئے ہیں آپ کی مدد کے لئے-“یہ کہہ کر اس نے اوپر دیکھا تو اسے مراد کا چہرہ نظر آیا جواس سرد موسم میں بھی پسینہ پسینہ ہو رہا تھا-

”استاد تم- تم یہ ریپ کب سے کرنے لگے-“ راجو نے پوچھا-

”تم جانتے ہو اسے-“ شہلا نے حیرت سے کہا-

”ہاں میڈم- یہ میرا دوست ہے- لیکن اب بہت شرمندگی ہو رہی ہے اسے دوست کہتے ہوئے-“

”جو تم سمجھ رہے ہو ایسی کوئی بات نہیںہے- یہ تو یونہی چلا رہی تھی-“

”تم چپ ہی رہو— میڈم کو غصہ آگیا تو گولی مار دیں گی-“

”تم مذاق کر رہے ہو-“

”نہیں- بہت کڑک آفیسر ہیں یہ-“

”ہے لڑکی-“ شہلا کرن سے مخاطب ہوکر بولی- ”سچ سچ بتاﺅ کیا یہ تمہارا ریپ کر رہا تھا- اسے ابھی جیل کی ہوا کھلاتی ہوں-“

”نہیں میڈم- ریپ تو نہیں کر رہا تھا- میں خود اس کے ساتھ آئی ہوں- اپنی مرضی سے-“

”پھر تم اتناچلا کیوں رہی تھیں؟-“

”وہ— یہ کمینہ میرے گال پر چٹکی بھر رہا تھا زور سے اس لئے-“ کرن نے وضاحت کی-

”ٹھیک ہے- ٹھیک ہے- راجو ان دونوں سے کہو دفعہ ہوجائیں یہاں سے- بیکار میں ہمارا وقت برباد کیا-“

”نہیں- “ کرن پھر چلائی- ”اس طرف کوئی ہے جس نے آپ کی طرف پستول تان رکھی ہے-“

یہ سنتے ہی راجو تیزی سے گھوما- ایک نقاب پوش نے شہلا کو نشانے پر لے رکھا تھا- گولی اس کے پستول سے نکل چکی تھی- راجو فوراً شہلا پر جھپٹا اور اسے لیتا ہوا زمین پر آگیا- ایک بار پھر راجو شہلا کے اوپر تھا- شہلا نے بھی وقت گنوائے بغیر فوراً اسی سمت میں فائر کیا- لیکن نقاب پوش بھاگ چکا تھا-

”ہٹو بھی اب- میرے اوپر ہی پڑے رہو گے کیا-“ شہلا نے راجو کو دھکا دیا-

”سوری میڈم- لیکن میں وقت پر آپ کو نہ گراتا تو وہ گولی لگ چکی ہوتی آپ کو-“ راجو نے کہا-

شہلا نے راجو کی طرف دیکھا لیکن کچھ بولی نہیں-

”ایک بار پھر بچ گیا کمینہ-“ شہلا کے لہجے میں غصہ بھرا ہوا تھا-

اسی وقت پولیس کی دو مزید جیپیں بھی وہاں پہنچ گئیں- پورا جنگل چھان مارا گیا لیکن اس نقاب پوش کا کچھ پتہ نہیں چلا-

راجو کے اشارے پر مراد اور کرن بائیک پر بیٹھ کر نکل گئے اور شہلا راجو کے ساتھ تھانے کی طرف چل پڑی-

”ایک دم نکمی پولیس فورس ہے ہماری- ایک تو دیر سے پہنچے اوپر سے جنگل میں کسی کو ڈھونڈ بھی نہیں سکے-“ شہلا ابھی بھی طیش میں تھی-

”اس سے یہ بات صاف ثابت ہوجاتی ہے میڈم کہ وہ نقاب پوش ہی درندہ تھا- وہ واپس آگیا ہے اب- جس بے خوفی سے وہ گولی چلا رہا تھا- اس سے تو لگتا ہے کہ وہ وہی سیریل کلر درندہ ہے-“

”تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو ریاض- مگر آج تم نے مجھ پر ایک احسان کر دیا-“

”احسان— کون سا احسان میڈم-“ راجو کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولا-

”میری جان بچانے کا شکریہ- اس وقت میں ان کے سامنے کچھ بول نہیں پائی تھی-“ شہلا نے احسانمندی سے کہا-

ِِ”میرے ہوتے ہوئے کوئی آپ کا بال بھی باکا نہیں کر سکتا میڈم- اس درندے کو تو مزا چکھانا ہے میں نے-“

راجو کی بات سن کر شہلا کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تیرنے لگی- اس کی یہ مسکراہٹ راجو سے بھی چھپی نہ رہ سکی-

ِ”میڈم- پہلی بار آپ کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا ہوں-“

”میں بھی انسان ہوں – کوئی پتھر نہیں ہوں-“ شہلا بولی-

”میڈم اگر یہ وہی درندہ ہی ہے تو ہمیں اب چوکنا رہنا ہوگا- اگلی بار اسے ہمارے ہاتھ سے نکلنا نہیں چاہئے-“

”یہ کام تو تم لوگوں کو ہی کرنا ہے-“

”میڈم آپ پلیز میرا سروس پستول دلوا دیں- اگر آج میرے پاس بھی پستول ہوتا تو میں بھیجہ اڑا دیتا اس کا-“

”اوکے- آج شام تک تمہیں مل جائے گی-“ شہلا نے کہا-

ًپھر شہلا کے حکم پر شام تک راجو کو سروس پستول دے دیا گیا- شہلا کی یہ خوبی تھی کہ جو کہتی تھی وہ کر بھی دکھاتی تھی- راجو اپنے پستول کو ہولسٹر میں لٹکا کر تھانے سے نکلا- اس کے دماغ میں کچھ الجھنیں تھیں-

”مجھے فوراً وردا میڈم سے ملنا ہوگا- اگر آج جنگل میں ٹکرانے والا وہ نقاب پوش سیریل کلر ہی تھا تو وہ کسی بھی طرح سے وردا کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کر سکتا تھا- کیونکہ صرف وردا ہی جانتی تھی کہ وہ قاتل کون ہے- اور اس جنگل پر بھی مجھے شبہ ہو رہا ہے- کیونکہ زیادہ تر وارداتیں اس جنگل یا اس کے آس پاس ہی ہوئی ہیں- اس رات وردا کے ساتھ جو واقعہ ہوا تھا وہ بھی اسی جنگل کی درمیانی سڑک پر ہوا تھا- اور آج وہ پستول لئے دن میں ہی جنگل میںگھوم رہا تھا-ضرور اس جنگل سے کوئی راز وابستہ ہے- مجھے یہ بات شہلا میڈم کو بھی بتانی ہوگی- مگر پہلے وردا سے مل لیتا ہوں کہیں وہ آفس سے نکل نہ پڑے- اور زیادہ تر وہ اسی جنگل کے راستے ہی گھر جاتی ہے-“

یہ سب سوچتے ہوئے راجو نے اپنی جیپ کا رخ وردا کے آفس کی طرف موڑ دیا- جب وہ وردا کے آفس پہنچا تو وہ بلڈنگ سے باہر آرہی تھی- اس نے بلیو جینز اور وہائٹ ٹاپ پہنا ہوا تھا- راجو تو وردا کو دیکھتا ہی رہ گیا- راجو نے پہلی بار وردا کو جینز میں دیکھا تھا- وہ تو دور سے اس لباس میں وردا کو پہچان بھی نہیں پایا تھا-

”کچھ بھی ہو لیکن خدا نے جو روپ اور خوبصورتی وردا کو بخشی ہے وہ انمول ہے- کہیں میری نظر نہ لگ جائے-“ راجو یہ سوچتا ہوا وردا کی طرف بڑھا-

وردا اس کی آمد سے بے خبر سیدھی اپنی کار کی طرف بڑھی اور دروازہ کھولنے لگی-

”رکئے- وردا جی-“ راجونے آواز دی-

وردا آواز سن کر چونک گئی اور فوراً پیچھے مڑ ی اور راجو کو دیکھ کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی- ”راجو- تم– – تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا-“

”میں تو اس لباس میں آپ کو پہچان ہی نہیں پایا تھا-“ راجونے کہا-

”کیا بات ہے راجو- تم یہاں کیسے؟— سب خیریت تو ہے نا-“

”آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں-“

”کس بارے میں؟-“ وردا نے پوچھا-

”شاید وہ درندہ دوبارہ لوٹ آیا ہے-“ راجو نے جنگل میں ہونے والا واقعہ بتاتے ہوئے کہا- لیکن اس واقعے میں مراد والا واقعہ شامل نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وردا کو ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں-

”اوہ مائی گاڈ- یہ سب کب ختم ہوگا— اتنے دنوں سکون رہا تو میں سمجھی اب سب ٹھیک ہوچکا ہے- لیکن اب پھر وہی-“ وردا پریشان ہوکر بولی-

جب تک وہ درندہ پکڑا نہیں جاتا یا اس کا انکاﺅنٹر نہیں ہوجاتا- تب تک وہ یونہی وارداتیں کرتا رہے گا— میں بس اتنا ہی کہنے آیا تھا کہ آپ اپنا خیال رکھنا اور ہوشیار رہنا- کیونکہ ہر وقت پولیس تو ساتھ نہیں ہوتی- کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے- اور اگر آپ کچھ گڑبڑ محسوس کریں تو فوراً مجھے فون کر دینا-“

”آپ کی اس توجہ کا بہت بہت شکریہ- میں خیال رکھوں گی-“ وردا نے کہا-

”ایک بات اور ہے؟-“

”وہ کون سی؟-“

”آپ کا اس جنگل کے راستے سے آنا جانا ٹھیک نہیں ہے- پتہ نہیں کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ وہاں کچھ گڑبڑ ہے-“ راجو نے اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”مجھے بھی وہ راستہ پسند نہیں ہے- مگر مجبوری یہ ہے کہ میرے گھر کو وہی راستہ جاتا ہے- اسی لئے مجھے وہاں سے تو گزرنا ہی ہوگا-“ وردا نے اپنی مجبوری بتائی-

”آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں- آپ کا اکیلے وہاں سے گزرنا ٹھیک نہیں ہے-“ راجو نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا-

”ارے نہیں- میں چلی جاﺅں گی- تم رہنے دو-“

”ویسے اب تک آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا- آپ مجھ سے دور کیوں بھاگتی ہیں- کیا آپ کو مجھ سے کسی قسم کا کوئی ڈر خوف ہے-“

”نہیں- ایسی تو کوئی بات نہیں ہے-“

اب وردا اسے اپنے خواب والی بات کا راز کیسے بتاتی- وہ تو ہر حال میں راجو سے دور ہی رہنا چاہتی تھی-

”وردا جی- میں روز اس دن کو یاد کرتا ہوں جب آپ آگ بگولہ ہوکر میرے سامنے آئی تھیں اور میری حالت پتلی ہوگئی تھی- اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب پینٹ گیلی ہوگئی- ہی ہی ہی-“ راجو اس دن کو یاد کرکے خود ہی ہنس پڑا – اور وردا کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی-

”تم کیوں یاد کرتے ہو اس واقعے کو- تمہیں تو بھول جانا چاہئے- ہی ہی ہی-“ وردا بھی ہنس دی-

”بس یہ پیاری سی ہنسی دیکھنی تھی آپ کے لبوں پہ- اس لئے یہ سب بول رہا تھا-“

وردا فوراً چپ ہوگئی- ”اچھا میں چلتی ہوں- گھر کے لئے دیر ہو رہی ہے-“

” وردا جی برا مت مانیئے گا- لیکن ان کپڑوں میں آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں-“

”میں فلرٹ پسند نہیں کرتی راجو- دوبارہ ایسی بات مت کرنا میرے سامنے-“

”مگر میں فلرٹ نہیں کر رہا ہوں- میں تو—-“ راجو چپ ہوگیا-

”میں تو کیا راجو— میں خوب جانتی ہوں کہ تمہارا مقصد کیاہے-“

”میں تو بس ایسے ہی آپ کا مزاج خوشگوار کرنا چاہتا تھا- اگر آپ کو میری بات بری لگی ہے معافی چاہتا ہوں-“

”راجو – میں سب سمجھ رہی ہوں- پاگل نہیں ہوں میں- اب میں جا رہی ہوں- تمہارا شکریہ کہ تم نے مجھے خطرے سے آگاہ کر دیا-“ یہ کہہ کر وردا کار میں بیٹھی اور کار آگے بڑھا دی-

”ان کی نظر میں میرا امیج کتنا خراب ہے— پتہ نہیں نغمہ نے کیا کیا بتایا ہوگا وردا جی کو—- غلطی میری بھی ہے- اس دن میں نے بہت ہی گھٹیا بات بول دی تھی وردا جی کے لئے – شاید وہ بھولی نہیں وہ بات— مجھے اپنا امیج بہتر بنانے کے لئے کچھ کرنا ہوگا- فی الحال تو جیپ لے کر اس کے پیچھے ہی چلتا ہوں— وہ سمجھ ہی نہیں رہی ہیں کہ ان کی جان کو کتنا خطرہ ہے-“

راجو نے اپنی جیپ وردا کی کار کے پیچھے لگا دی- نہ ہی وردا نے دھیان دیا اور نہ ہی راجو نے خیال رکھا کہ پاس ہی بلیک اسکارپیو کار میں ایک شخص بیٹھا انہیں گھور رہا تھا-

اس کا ہاتھ برابر والی سیٹ پر پڑے خنجر پر تھا- وہ خنجر پر ہلکے ہلکے ایسے ہاتھ پھیر رہا تھا جیسے اپنی محبوبہ کے بال سہلا رہا ہو-

”کوئی بات نہیں – بس تھوڑا انتظار کرو— تمہیں وردا شمسی کا پیٹ چیرنے کا موقع بھی مل جائے گا- ہی ہی ہی—- ابھی چل کسی اور کو کاٹتے ہیں-“

وردا نے بیک ویو مرر میں دیکھ لیا کہ راجو جیپ لے کر اس کے پیچھے ہی آرہا ہے- ”اس درندے سے زیادہ تو مجھے راجو سے ڈر لگتا ہے- میں نہیں چاہتی کہ وہ گندا خواب کبھی سچ ہوجائے- نہ میں راجو سے پیار کروں گی اور نہ ہی وہ سب ہونے دوں گی-“

وردا بغیر کسی دقت کے اپنے گھر پہنچ گئی- گھر پہنچتے ہی وہ راجو کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے گھر کے دروازے کی طرف لپکی-

”وردا جی ایک منٹ-“ راجو نے آواز لگائی-

ِِ”کیا بات ہے – تم کیوں میر ے پیچھے ہو-“

”میں آپ کو اکیلے کیسے آنے دیتا- کل سے راستے کے لئے بھی دو سپاہی آپ کے ساتھ لگوا دوں گا- گھر پر تو چار پہلے سے ہی ہیں-“

”اتنا خیال رکھنے کا بہت بہت شکریہ- اب میں جاﺅں-“

”وردا جی اب میں اتنا بھی برا نہیں ہو جتنا شاید آپ مجھے سمجھ رہی ہیں- ہاں میں مانتا ہوں کہ میں فلرٹ ہوں‘ لیکن صرف یہی تو میری تعریف نہیں ہو سکتی نا- وہ تو آپ مجھے بہت اچھی لگیں آج اس لئے بول دیا تھا آپ کی تعریف میں- پھر بھی اگر آپ کو برا لگا ہے تو میں ایک بار پھر آپ سے معافی چاہتا ہوں- میں سچ کہہ رہا میرا آپ کے بارے میں کوئی غلط ارادہ نہیں ہے-“ راجو اپنی صفائی میں جو کہہ سکتا تھا کہہ گیا-

”اور ارادہ رکھنا بھی مت-“ وردا نے گھورتے ہوئے کہا-

”آپ کے چہرے پر غصہ اور مسکراہٹ دونوں بہت اچھے لگتے ہیں- اس بات کا بھی کوئی غلط مطلب نہیں ہے- بس آپ کے لئے جو احساس دل میں ابھرا کہہ دیا- اور میں آپ سے فلرٹ کروں گا بھی کیوں‘ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہاں میرا کوئی چانس نہیں ہے- پہلے ہی آپ کے سامنے میری بہت کرکری ہوچکی ہے- اب بس یہی چاہتا ہوں کہ آپ مجھے غلط نہ سمجھیں- آپ کی بہت عزت کرتا ہوں میں- میں نے آپ جیسی عورت بہت کم دیکھی ہیں- آپ بھی خوبصورت ہیں اور آپ کی فطرت بھی خوبصورت ہے- اور یہ دونوں خوبیاں ایک جگہ بہت کم ہی پائی جاتی ہیں-“ راجو تو جیسے چاہتا تھا کہ دن رات وہ وردا کی تعریفیں ہی کرتا رہے-

”تم کچھ زیادہ ہی نہیں کہہ گئے— میرا خیال ہے اب تمہیں جانا چاہئے-“

”اوہ ہاں بالکل-اوکے گڈ بائے-“ یہ کہہ کر راجو چلا گیا اور وردا اپنے گھر میں داخل ہوگئی-

رات کے دو بجے تھے جب وردا ہڑبڑا کر نیند سے جاگ گئی- اس نے پھر خواب دیکھا تھا اور خواب میں وہی راجو- اور وہ راجو کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامے کہہ رہی تھی- ”آئی لو یو- آئی لو یو-“

”اف پھر وہ خواب— مگر یہ سچ نہیں ہوگا- رات کے دو بجے ہیں- اور صبح کے خواب ہی سچے ہوتے ہیں- مگر پہلے والا خواب تو صبح دیکھا تھا— نہیں- نہیں- راجو کے ساتھ میرا افیئر— چھی—-کبھی نہیں- پتہ نہیں یہ راجو میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے- لیکن میں اس کے ارادے کبھی کامیاب نہیں ہونے دوںگی-“ وردا نے جیسے ایک عزم کے ساتھ سوچا-

ادھر بلیک اسکارپیو کار میں موجود شخص کافی دیر تک وردا کے آفس کے سامنے کھڑا رہا- یہاں تک کہ سڑک سنسان ہونے لگی- تب وہ کار سے باہر آیا اور دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا- اس کا ہاتھ جیب میں موجود خنجر پر بے چینی سے گھوم رہا تھا- اس کی حالت سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نشئی کا نشہ ٹوٹ رہا ہو- اور اسے نشے کی بے پناہ طلب ہو رہی ہو– — تھوڑی دیر بعد ایک آدمی گنگناتا ہوا آتا دکھائی دیا تو اس کی بانچھیں کھل گئیں- جیسے اس کے من کی مراد پوری ہوگئی ہو-

جب وہ آدمی اس شخص کے قریب پہنچا تو اس نے آواز دے کر اسے روکا- ”بھائی صاحب – آپ کے پاس ماچس ہوگی-“

اس آدمی نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا پھر اس کے پاس رک کر اپنی جیب ٹٹولنے لگا- پھر جیسے ہی اس نے جیب سے ماچس نکال کر اس شخص کی طرف بڑھائی درد کی شدت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں- ایک لمحے میں ہی اس شخص کا پیاسا خنجر اس آدمی کا پیٹ چیر چکا تھا- وہ نیچے گر کر تھوڑی دیر تڑپ کے ساکت ہوگیا تو اس شخص نے مرے ہوئے آدمی کی شرٹ سے اپنا خنجر صاف کیا اور اسے چوم لیا-

”اب تو خوش ہو نا- میں نے تمہاری آج کی رات ضائع نہیں ہونے دی— چلو اب چلتے ہیں-“

یہ کہہ کر اس نے خنجر واپس اپنے کوٹ کی جیب میں رکھا اور کار میں بیٹھ گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

وردا کو چھوڑ کر راجو سیدھا اپنے گھر پہنچا ہی تھا کہ نغمہ کی کال آگئی-

”پولیس والے بانکے- تم تو بھول ہی گئے مجھے-“ نغمہ البیلے انداز میں بولی-

”نہیں نغمہ- تمہیں بھلا میں کیسے بھول سکتا ہوں- بولو کیا بات ہے-“

”ابا پھر شہر سے باہر چلے گئے ہیں- میں تمہارے پاس آرہی ہوں-“

”نہیں نغمہ- سنو-“ مگر نغمہ فون کاٹ چکی تھی-

راجو کو تو ہر وقت وردا کا ہی خیال ستا رہا تھا- وہ پریشان تھا کہ آخر وردا اس کے اس ساتھ ایسا برتاﺅ کیوں کرتی ہے- جبکہ اس کا مقصد تو ہمیشہ اس کی مدد کرنا ہی ہوتا ہے- بار بار وردا کا چہرہ اس کی آنکھوں میں گھوم رہا تھا- اور اپنی فطرت کو دیکھتے ہوئے وہ حیران بھی تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے-وردا کے روپ کا جادو راجو کے دل و دماغ پر کچھ عجیب سا اثر کر رہا تھا- جبکہ راجو بیچارہ تو ان جذبوں سے تقریباً ناآشنا ہی تھا-

نغمہ نے اس کے کمرے کا دروازہ بجایا تو وہ اور پریشان ہوگیا- پتہ نہیں کیوں وہ اس وقت بالکل اکیلا رہنا چاہتا تھا‘ وردا کی یادوں کے ساتھ-

”کھولتا ہوں بابا-“ مسلسل ہونے والی دستک کے جواب میں اسے کہنا ہی پڑا-

دروازہ کھلتے ہی نغمہ راجو کے گلے لگ گئی- ”اوہ راجو تم سے ملے کتنے دن ہوگئے ہیں-“

”بہت غلط وقت پر آئی ہو- اس وقت میں بہت ڈسٹرب ہوں-“

”کیوں- کیا ہوا میرے راجو کو-“ نغمہ گھبرا کر بولی-

”کچھ نہیں- بس یونہی-“

”تم فکر مت کرو- میں ابھی تمہارا علاج کرتی ہوں-“ نغمہ شرارت سے مسکرا کر بولی-

”نہیں نغمہ- آج تم مجھے اکیلا چھوڑ دو-“

”ایک تو کئی دنوںسے تم نے مجھے اپنی شکل تک نہیں دکھائی اور ابھی بھگا رہے ہو- آج کوئی بہانہ نہیں چلے گا- بتا نا کیا ہوا ہے میرے راجو کو؟-“

”کچھ نہیں- تم نہیں سمجھو گی-“

”سمجھوں گی کیوں نہیں- تم بتاﺅ تو-“

”آج میں وردا میڈم سے ملا تھا- پتہ نہیں کیوں‘ وہ مجھ سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی-“ راجو نے اپنے دل کا حال نغمہ کو بتاتے ہوئے کہا-

”بس اتنی سی بات— ارے وہ ڈرتی ہوگی- تمہارا تصور ہی ایسا قائم ہوچکا ہے نا لڑکی باز قسم کا- تو وہ سمجھتی ہوگی کہ تم اسے بھی بس ایک کھلونا ہی سمجھتے ہو- کھیلا پھر کسی کے آگے پھینک دیا- ہی ہی ہی-“

”کیا— تم نے وردا کو میرے بارے میں کیا کیا بتا رکھا ہے- تب ہی تو کہوں کہ وہ مجھ سے اتنا دور کیوں بھاگتی ہے-“ راجو جیسے ساری بات سمجھتا ہوا بولا-

”اسے چھوڑ— کیوں بیکار میں اس کے لئے پریشان ہو رہے ہو- وہ بھی میرے ہوتے ہوئے-“

”تم نے اسے میرے بارے میں اور کیا کیا بتایا ہے؟-“ راجو نے پوچھا-

”تمہاری جسمانی ساخت- تمہارے پیار کرنے کا انداز – سب بتا رکھا ہے-یہ بھی بتا رکھا ہے کہ تم کن کن باتوں کے ماہر ہو- بس باتوں باتوں میں سب کچھ بتا دیا تمہارے بارے میں-“

”مطلب یہ کہ تم نے ان کے سامنے میری اچھی خاصی مٹی پلید کر رکھی ہے- تمہیں شرم نہیں آئی ان سے ایسی باتیں کرتے ہوئے- مجھے یقین ہے وہ تمہاری بیہودہ باتیں سنتی ہی نہیں ہوگی-“

”تم تو جانتے ہی ہو کہ مجھے بولنے کی کتنی عادت ہے- ایک بار میری کیسٹ اسٹارٹ ہوجاتی ہے تو پھر رکنے کا نام ہی نہیں لیتی- لیکن تم کیوں بلاوجہ ٹینشن لے رہے ہو-“

”ٹینشن لینے کی بات تو ہے نا- ان کی نظروں میں میرا امیج خراب ہوچکا ہے- اب تو وہ مجھ سے سیدھے بات بھی نہیں کرتی- آج ان کے رویئے سے مجھے بہت دکھ پہنچا ہے- لیکن تم کیا سمجھو گی ان باتوں کو-“ راجو افسردہ لہجے میں بولا-

”میں سب سمجھتی ہوں- تمہارا دل اب مجھ سے بھر چکا ہے – اور اب تم میری بجائے وردا کو اپنی رکھیل بنانا چاہتے ہو- یہ ٹھیک ہے کہ وہ مجھ سے بہت زیادہ خوبصورت ہے- لیکن میرے جیسی ماہر وہ کبھی نہیں بن سکتی-“

”نغمہ- بس چپ کرو-“ راجو نے چلا کر کہا- ”کچھ بھی بول دیتی ہو- میں بہت عزت کرتا ہوں ان کی- جیسے غلط خیالات تم سوچ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہے میرے دل میں-“

”بس یہی کمی رہ گئی تھی- اس وردا کے لئے اب مجھے ڈانٹ بھی پڑ رہی ہے- اس نے تم پر ایسا کیا جادو کر دیا ہے- سچ سچ بتاﺅ کہیں تم وردا سے محبت تو نہیں کرنے لگے ہو؟-“ نغمہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا-

”تم یہ بہت اچھی طرح جانتی ہو کہ میں محبت نام کے لفظ سے بھی کوسوں دور رہتا ہوں- میں نے آج تک وردا جیسی لڑکی نہیں دیکھی- ان کے رویئے کے باوجود میرے دل میں ان کی عزت اور بڑھتی جا رہی ہے-“

”راجو مجھے بھی آج تک کسی کی محبت نہیں ملی- کوئی ایسا ملا ہی نہیں جو مجھ سے محبت کرے— جو بھی ملا بس میرے جسم کا پجاری- اس لئے میں نے بھی کبھی محبت پانے کی کوشش ہی نہیں کی- لیکن میں سمجھتی ہوں کہ محبت کا احساس کیسا ہوتا ہے- میں نے فلموں میں بھی محبت کے کئی جلوے دیکھے ہیں- تمہاری باتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ تم وردا سے محبت کرنے لگے ہو- ورنہ تمہیں اس بات کی پرواہ کیوں ہوتی کہ وہ تمہارے بارے میں کیا سوچتی ہے- جس طرح کی باتیں تم کر رہے ہو‘ ان سے کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ تم وردا کے پریم جال میں پھنس چکے ہو- اب یہاں میرا کیا کام- میں چلتی ہوں- اپنا خیال رکھنا-“ یہ کہہ کر نغمہ جانے لگتی ہے-

راجو بڑھ کر نغمہ کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے- ”تم تو ناراض ہوگئیں- بہت بڑی بڑی باتیں کرنے لگی میری پگلی- چلو آﺅ بیٹھو تو سہی-“

”نہیں راجو- اب تمہاری آنکھوں میں مجھے ہوس کی بجائے صرف وردا کا چہرہ نظر آرہا ہے- تم خود سوچو کہ تمہیں اس کی اتنی پرواہ اور فکر کیوں رہنے لگی ہے-“

”شاید انسانیت کے ناطے؟-“ راجو سوچتا ہوا بولا-

”آج تم وردا کے آفس کیوں گئے تھے-“ نغمہ نے پوچھا-

”مجھے ان کی بہت فکر ہو رہی تھی- مجھے ڈر تھا کہ وہ درندہ کہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے-“

”پولیس کے پورے محکمے میں صرف تمہیں یہ خیال آیا- کیا محکمے میں کوئی اور نہیں ہے جسے وردا کی فکر ہو؟-“ نغمہ نے طنز کرتے ہوئے کہا-

”بات کا بتنگڑ مت بناﺅ- مجھے ان کی فکر ہوئی اور میں چلا گیا بس- اب دوسرا کوئی وردا کی فکر کیوں کرے گا بھلا-“

”وہی تو میں بھی کہنا چاہتی ہوں- وردا تمہارے دل میں بس چکی ہے- راجو اب تم اپنے آپ کو مزید دھوکہ مت دو-“

یہ بات سن کر راجو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا- وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامے چارپائی پر بیٹھ گیا-نغمہ اس کے پاس آئی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی- ”کیا ہوا راجو؟-“

”سر گھوم رہا ہے میرا- کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو-“

”میں نے جو محسوس کیا وہ کہہ دیا- میں غلط بھی تو ہو سکتی ہوں- اصلی بات تو تم ہی جانتے ہو-“ نغمہ نے کہا-

”مجھے کچھ نہیں پتہ نغمہ- سچ میں – مجھے کچھ نہیں پتہ-“ راجو عجیب سی الجھن کا شکار ہو رہا تھا-

”کیا میں یہاں رکوں تمہارے پاس– – مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے- بے فکر رہو پریشان بالکل نہیں کروں گی- آﺅ تمہارے سر کی مالش کر دیتی ہوں- ابھی ٹھیک ہوجاﺅ گے-“

”نغمہ- برا مت ماننا- تمہاری باتوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے- میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں-“ راجو معذرت خواہانہ لہجے میں بولا-

”مبارک ہو- میں بالکل صحیح کہہ رہی تھی- تمہیں تو سچ میں محبت ہوگئی ہے- میں نے فلموں اور ڈراموںمیں دیکھا ہے کہ محبت میں ڈوبے عاشق اکثر ایسی باتیں کرتے ہیں- ٹھیک ہے- اپنا خیال رکھنا- کوئی بھی بات ہو تو مجھے فون کردینا‘ میں آجاﺅں گی-“

”میں تمہیں چھوڑآتا ہوں-“

”نہیں- میں چلی جاﺅں گی- ابھی نو ہی تو بجے ہیں-“یہ کہہ کر نغمہ نے ایک نظر راجو پر ڈالی اور باہر نکل گئی-

تنہائی ملتے ہی راجو گہرے خیالوں میں کھو گیا-اور انہی خیالوں میں اس نے تکئے کو اپنے بازوﺅں میں دبوچ لیا- ”وردا جی- میں ٹھیک سے تو کچھ کہہ نہیں سکتا- مگر ہاں شاید مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے- خدا خیر کرے- کہیں محبت مجھے دوبارہ برباد کرکے نہ رکھ دے-“

اس رات راجو کو نیند کا ایک جھونکا تک نہیں آیا- وہ تکئے کو دبوچے دائیں بائیں کروٹیں بدلتا رہا- ”راجو میاں- آرام سے سو جاﺅ- تمہیں اس محبت شحبت میں کچھ ملنا ملانا نہیں ہے— یہ محبت پہلے بھی تو تمہیں بہت گہری چوٹ دے چکی ہے- اب کیا ستم ڈھائے گی- پتہ نہیں- تم یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ وردا جی تمہیں بالکل بھی پسند نہیں کرتی- اور تم ان کے لائق بھی تو نہیں ہو— ایسے میں کیوں سر درد مول لے رہے ہو—- زندگی جیسے چل رہی ہے ‘ چلنے دو— کوئی جان لیوا تجربہ کرنے کی کیا ضرورت ہے- خود اپنی ہی جان پر ظلم کرو گے تم— سوجاﺅ – کل ڈیوٹی پر بھی جانا ہے کہ نہیں- رات کے دو بج گئے ہیں- اف-“

وہاں رات کے انہی دو بجے وردا اپنے خواب سے ڈر کر اٹھی ہوئی تھی-اس کی حالت دیکھنے والی تھی-

”یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ—- ایسے خواب کیوں آرہے ہیں مجھے—- راجو کو تو میں کبھی معاف نہیں کروں گی- بدتمیز کہیں کا- اسے کوئی حق نہیں ہے مجھے چھونے یا چاہنے کا- چاہے وہ حقیقت ہو یا خواب-“ وردا بڑبڑا رہی تھی-

پھر وردا نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا اور اپنے سوکھتے ہوئے گلے کو تر کیا-پانی پی کر وہ کھڑکی پر آکر کھڑی ہوگئی- اس نے باہر جھانک کر دیکھا- وہی بھیانک سناٹا- اسے اپنے گھر کے آگے ایک ہی سپاہی نظر آرہا تھا-

”یہ تو ایک ہی سپاہی ہے- باقی تین سپاہی کہیں دکھائی نہیں دے رہے- پتہ نہیں یہ میری کیسی حفاظت کر رہے ہیں-“

وردا دوبارہ آکر بستر پر لیٹ گئی لیکن اسے پھر نیند نہیں آئی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے