سر ورق / افسانہ / سوری دیر ہو گئی ۔۔ بلال شیخ

سوری دیر ہو گئی ۔۔ بلال شیخ

سوری دیر ہو گئی

بلال شیخ

پورا ڈرائنگ روم غباروں سے سجا ہوا تھا اور لائٹنگ بھی کی ہوئی تھی اور کچھ رشتہ داروں کی آمد چل رہی تھی اور کچھ موجود تھے ۔ آج راحت کا جنم دن تھا اور خوشی کیوں نہ ہو زمان سیٹھی صاحب کی اِکلوتی بیٹی جو تھی۔

” چلو سب اکھٹے ہو جائے چلو بچوں شاباش کیک کاٹنے کا وقت ہو گیا ہے” زمان نے اونچی آواز میں کہا ۔سب بچے میز کے قریب کھڑے ہو گے اور والدین پیچھے کھڑے ہو گے اور راحت جو سب کی نظروں کی مرکز بنی ہوئی تھی کوئی شک نہیں تھا وہ ایک خوبصورت پری لگ رہی تھی یہ اس کی دسویں سالگرہ تھی اور وہ بہت پیاری لگ رہی تھی  براؤن آنکھیں گورا رنگ سفید رنگ کی ڈریس پہنی ہوئی تھی اور سر پر ایک تاج سجا ہوا تھا ۔

” چلو راحت بیٹا کیک کاٹوں شاباش” شہنازنے کہا۔

راحت نے کیک کاٹا تو سب کی تالیاں گونج اُٹھی ” ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ، ہیپی برتھ ڈے ٹو راحت ” کیک کاٹنے کے بعد ایک دوسرے کو کیک کھیلایا اور راحت پر انعاموں کی برسات شروع ہو گئی سب باری باری آ کر راحت کو انعام دے رے تھے اور پیار کر رہے تھے ۔

کمال ہاتھ میں تحفہ پکڑے راحت کی طرف آ رہا تھا اور ساتھ میں ماموں ممانی بھی تھے۔” یہ لو راحت تمہارے لئے ” کمال نے بڑے معصوم انداز میں کہا ۔

” رات سے کمال پیچھے پڑا ہوا تھا میں نے راحت کے لئے تحفہ خریدنا جب تک خریدا نہیں تب تک سکون سے نہیں بیٹھا ” ممانی سعدیہ شہناز اور زمان کو بتا رہی تھی۔

” تھینک یو کمال ” راحت نے کمال تحفہ لیتے ہوئے کہا۔

نوفل ایک خوش شکل امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور راحت کی پھپھو کا بیٹا جس پر راحت اپنا وقت ضائع کرنا ثواب سمجھتی تھی ایک ہی یونیورسٹی ایک ہی کلاس اور ایک ہی سبجکٹ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا یہ راحت کی ضد تھی ہم عمر تو تھے ہی مگر راحت کسی نہ کسی بہانے نوفل کے ساتھ جڑی رہتی تھی۔

” راحت کل ماس کمیونیکیشن کی اسائنمنٹ ہے پلیز کچھ سوچوں میرے بارے میں ” نوفل نے مسکینوں والا چہرہ بناتے ہوئے کہا۔

” کیا سوچوں؟ میں نے اپنا کام نہیں کرنا ” راحت نے کہا۔

” کل میں نے دوستوں کے ساتھ اسلام آباد جانا ہے گھومنے اگر نہ گیا تو دوست ناراض ہو جائے گے” نوفل نے کہا۔

” واہ واہ سرکار جائے گھومنے اور ان کا کام کرئے یہ نوکر ” راحت نے منہ بناتے ہوئے کہا مگر دل سے وہ اس کی نوکر ہی تھی یا ایسا کہا جائے نوکر بننا پسند کرتی تھی ۔

” اب تم میرے ساتھ ایسے کرو گی اپنے بیسٹ فرینڈ کے ساتھ ایسے کرو گی راحت تم ایسے کرو گی” نوفل نے احتجاج کیا ۔

” ہاں ایسے کروں گی” راحت نے صاف انکار کر دیا۔

” چلو ٹھیک ہے جاؤ میں نہیں کرتا بات  ” نوفل نے بیگ پکڑتے ہوئے کہا اور اُٹھنے لگا۔

” اچھا اچھا اب رونے کی ضرورت نہیں ہے کر دوں گی” راحت نے ایسے کہا جیسے احسان کر رہی ہو۔

” تھینک یو راحت ایک تم ہی تو ہو جو میرے مسئلے کو سمجھ لیتی ہوں” نوفل نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا اور اُٹھ کر چلا گیا ۔ مگر راحت اُدھر ہی بیٹھی تھی زمین پر اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی تھی تمہاری تو میں سمجھ لیتی ہوں نوفل میری بھی کبھی سمجھو گے

باہر بہت تیز بارش ہو رہی تھی اور راحت یونیورسٹی کے کاموں میں مصروف تھی کہ موبائل پر رنگ ہوئی راحت نے کام چھوڑ کر موبائل کان کے ساتھ لگایا ۔ ” ہیلو” راحت نے پین گھوماتے ہوئے کہا۔

” یہ بارش ، مہکتے پھول ، یہ ہوا اور تیرا ساتھ”       دوسری طرف شاعری کرتے ہوئے ایک لڑکے کی آواز آئی ۔

” اُف کمال تمہاری شاعری مجھے زہر لگتی ہے چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ شاعری” راحت نے چڑ چڑاتے ہوئے کہا۔

” زندگی میں کوئی ایسی چیز ہو جو راحت پہنچائے تو چھوڑی جا سکتی مگر جو روح کو راحت پہنچائے وہ کیسے چھوڑی جا سکتی ہے راحت جی” کمال نے کہا۔

” جو مرضی کرو تم اور تمہاری فلاسفی” راحت نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔

” کیا کر رہی ہو؟” کمال اپنی کھڑکی کے پاس کھڑا بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

” اسائنمنٹ کر رہی ہوں ایک اسائنمنٹ اپنی اور ایک اسائنمنٹ نوفل کی نوفل بھی اپنا کام مجھے دے دیتا ہے” راحت نے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔

نوفل کا نام کمال کو بالکل پسند نہیں تھا اس کا نام سنتے اس کا دل ڈوبنے لگ جاتا تھا ” نوفل نے بھی تمہیں اپنا نوکر بنا لیا ہے جب دیکھو تم اس کے کاموں میں مصروف رہتی ہو کبھی اپنے بارے  میں بھی سوچ لیا کروں” کمال نے کہا۔

” وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے میں نہیں اس کا کام کرو گی تو کون کرئے گا ایسے مت کہو کمال” راحت نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

” اچھا بابا مجھے کیا  جو مرضی کرو "

” اچھا کل یونیورسٹی سے فارغ ہو کر کہی لنچ کرنے چلتے ہے کیاکہتے ہوں اور تمہاری مدد بھی چاہیے مجھے” راحت نے کہا۔

” ہاں کل تمہاری مدد کرنے حاضر ہو جاؤں گا” کمال نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” ہاہاہا ۔۔۔ تم میری مدد نہیں کرو گے تو کون کرے گا اچھا میں چلتی ہوں ابھی نوفل کا بہت کام پڑا ہے خدا حافظ” راحت نے کہ کر فون بند کر دیا۔

کمال نے فون بند کر دیا مگر ابھی بھی وہ کھڑکی کے پاس کھڑا بارش کے قطروں کو زمین کے ساتھ ٹکراتے دیکھ رہا تھا۔ سرد ہوا کمال کو بہت اچھی لگ رہی تھی اس لمحے کو محسوس کرتے ہوئے کمال نے کہا۔

رشک ہے تیری زندگی پر ہمیں

خوش نصیب ہے وہ لمحے جو تیری مصروفیت میں شامل ہے

رزلٹ کا دن تھا سب اپنا رزلٹ چیک کرنے نوٹس بورڈ کے گرد جمع تھے نوفل اور  راحت سٹوڈنٹس کے درمیان سے ہوتے ہوئے آگے گئی راحت کا نام لسٹ میں اوپر ہی نظر آ گیا مگر نوفل لسٹ کے کسی سرے نظر نہیں آ رہا تھا نوفل کے ماتھے پر پسینہ آنے لگ گیا پھر اچانک لسٹ ختم ہونے کے قریب تھی کہ نوفل بھی مل گیا اور اس کی سانس میں سانس آئی ۔

” شکر کرو نوفل پاس ہو گے ” مہوش نے کہا۔

” ہاں ” نوفل نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا ۔  تینوں یونیورسٹی کے خارجی گیٹ کی طرف جا رہے تھے ۔

” اور راحت کا شکریہ ادا کرو جو تمہارے پر اتنی محنت کرتی رہی ورنہ بہت مشکل تھا تمہارے لئے” مہوش نے ،مسکراتے ہوئے کہا ۔

” او ہیلو میری بھی محنت تھی اور راحت نے کیا کیا؟ آخر میری بھی تو محنت تھی راحت نے کچھ بھی نہیں کیا” نوفل نے ذرا سختی سے کہا۔ مہوش نوفل کا رویہ دیکھ کر گھبرا گئی اور اس کو برا لگا ۔

” چھوڑو دونوں کن باتوں میں پڑ گے ہو شکر ہے ہم سب پاس ہوگےختم کرو بات” راحت نے بات ختم نے بات ختم کرنا چاہی مگر نوفل غصے میں تھا۔

” چلو چلتے ہے نوفل” راحت نے کہا۔

” آج مجھے دوستوں کے ساتھ جانا ہے گھر فون کر کے ڈرائیور بلا لو پلیز سوری ہاں اگر کام نہ ہوتا تو ضرور چھوڑ آتا” نوفل نے کہا اور بھاگ کر چلا گیا۔

نوفل کے جانے کے بعد راحت اور مہوش بینچ پر بیٹھ گئی ، ” تم نے دیکھا تم نے جتنی محنت کی اس کا کیا

صلہ ملا اس نے ایک ذرا برابر بھی قدر نہیں کی اور تم ہو کے ہر وقت نوفل نوفل سر پر چڑایا ہوا ہے” مہوش نے راحت کو آنکھیں گھوماتے ہوئے کہا۔

” چھوڑو تم میں نے اس پر کوئی احسان نہیں کیا جو کیا اپنی مرضی سے کیا کوئی داد لینے کے لئے نہیں کیا ” راحت نے کہا۔

” تم جتنا نوفل کو پسند کرتی ہو ہمیں پتہ نہیں کیا تمہاری پھپھو کا بیٹا ہو کر بھی وہ تمہیں لفٹ نہیں کراتا کلاس میں کس کو نہیں پتہ راحت تمہارا” مہوش غصہ میں بول رہی تھی کیونکہ اس کو نوفل پر غصہ تھا۔

” کیا پتہ ہے مہوش میں کہا اس کو سر پر چڑا رہی ہوں وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے  تم تو فضول میں ہی  ” راحت نے آوازاری سے کہا۔

    ” دیکھو راحت میں بھی تمہاری دوست ہوں اور تمہیں غلط مشورہ نہیں دوں گی خوبصورت خواب بالکل ایسا ہی ہے جب بندہ دیکھ رہا ہو تو بہت لطف آتا ہے مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو واپس اُس خواب میں جانا ناممکن ہوتا ہے باقی تمہاری مرضی جو چاہے دیکھوں کوئی نہیں روکے گا مگر جب یہ خواب ٹوٹے گا تو نیند بھی نہیں آئے گی اور راحت بھی نہیں اچھا میں چلتی ہوں” مہوش کہتی ہوئی اُٹھی اور گیٹ کی طرف چل دی مگر راحت نظریں جھکائیں زمین کی طرف کسی گہری سوچ میں گم تھی۔

کمال کافی دیر سے چمچی گھومائی جا رہا تھا اور شائد آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا کہ اچانک راحت سامنے آگئی ” سوری دیر ہو گئی کچھ کام تھا ” راحت نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔

” راحت ٹائم پر کوئی کام کر لے ایسا کبھی ہوا ہے کیا اور ایک ہم ویلے جو وقت سے پہلے آپ کے انتظار میں

بیٹھے ہوئے تھے” کمال نے کہا۔

” اچھا اب معاف کر دو کہا نہ سوری کچھ منگوا لو بہت بھوک لگی ہوئی ہے ”  راحت نے بالوں کو کان کے پیچھے کیا مینیو دیکھنے لگ گئی۔

راحت نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اور بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا ایک طرف سے بال بار بار اس کی آنکھوں پر آ کر گرتے تھے اور وہ بار بار ان کو پیچھے کرتی تھی ۔ جب بھی راحت کو کوئی کام ہوتا یا مشورہ کرنا ہوتا تو اس کو کمال سے زیادہ اعتماد والا شخص اس دنیا میں نطر نہیں آتا تھا۔

” ہیلو کدھر گم ہوں "راحت نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ۔ شائد کمال کسی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا اور اس میں گم ہو گیا تھا

” کہیں نہیں۔ اچھا بتاؤ کیا کھاؤں گی” کمال نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔

” جو مرضی منگوا لوں مگر ذرا جلدی منگوالو ” راحت نے  کہا اور کمال نے ویٹر کو بلا کر آرڈر دے دیا اور دونوں باتوں میں مصروف ہو گے۔

” اچھا میں نے تم سے ایک مشورہ لینا تھا ” راحت نے ایک سائڈ پر پرس رکھا اور چمچی اور پلیٹ ایک طرف کردی کمال سمجھ گیا کوئی خاص بات ہے۔

” ہاں بولو میں سن رہا ہوں ” کمال نے کہا۔

” پتہ نہیں کیسے کہوں سمجھ نہیں آرہی یونیورسٹی کا آخری مہینہ چل رہا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ نوفل کو پتہ چل جائے” راحت کہتی ہوئی رک گئی ۔

” کیا پتہ چل جائے ” کمال کوکچھ عجیب سا لگا ۔

” یہی کہ اس کو پتہ چل جائے گے میں اس سے محبت کرتی ہوں” راحت نے کہتے ہوئے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی کمال نے سنا تو اس کا دل ڈوبنے لگ گیااس نے فوراً گلاس میں پانی ڈالا اور پینا شروع کر دیا۔

” او ہیلو کیا ہوا پریشان کیوں ہو گے” راحت نے ہاتھ کو ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔

” نہیں تمہاری بات سن کر ” کمال نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا۔

” ہاں ٹھیک ہے نہ پھپھو کا بیٹا بھی ہے اور ہم ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہے ” راحت نے کہا۔

” اس نے کہا تم سے کہ وہ تم سے بھی محبت کرتا ہے” کمال نے کہا۔

کہنے کی کیا ضرورت ہے ہم بیسٹ فرینڈز ہے وہ یونیورسٹی میں ایک کام نہیں اکیلے کر سکتا اس کو ہر وقت میری ضرورت رہتی ہے "

” یہ بھی تو ہو سکتا ہے تم اس کی ملازمہ ہو اور کام کے بعد تم بیکار ہو جاتی ہو” کمال کی بات سن کر راحت کو  ایسا لگا  جیسے کسی نے اس کو گالی نکالی ہوں۔

” کیا کہ رہے ہو تم میں تمہیں نوفل کی نوکرانی لگتی ہوں دماغ ٹھیک ہے تمہارا” راحت ایک دم سیریس ہو گئی۔

  ” ہاں ٹھیک ہی تو کہ رہا ہوں مجھے لگتا ہے صرف تم ہی اس سے محبت کرتی ہوں وہ تمہیں نہیں پسند کرتا میں نے کبھی اس کو تمہارے لئے کچھ کرتے نہیں دیکھا جب دیکھا تمہیں ہی گیت گاتے دیکھا ہے اگر وہ پسند کرتا تو تمہیں کہ دیتا” کمال کے اندر کوئی کھلبلی مچ رہی تھی جو کہ اس کے چہرے پر صاف نظر آ رہی تھی اور راحت کو سن کر شوک لگا وہ جب بھی اس کے پاس آتی تھی تو مثبت سننے کو ملتا تھا مگر آج ماجرا کچھ اور ہی تھا۔

” تم سے مشورہ مانگا تھا فلسفہ نہیں اپنا فلسفہ اپنے پاس رکھو میں کوئی نوکرانی نہیں اس کی سمجھے ” راحت اُٹھی اور ریسٹورنٹ سے باہر آ گئی۔ کمال کا دل کر رہا تھا کہ وہ پورے ہوٹل کو آگ لگا دے۔

راحت گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی اور ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا اچانک راحت کے موبائل پر میسیج آیا ” تمہیں نوکر کہا اس کے لئے سوری ” کمال نے لکھا تھا۔ راحت نے میسیج پڑا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی راحت معاف کر دینے والی لڑکی تھی زیادہ دیر کسی سے ناراض نہیں رہتی تھی اس نے فوراً ریپلائی کیا۔ اور موبائل بیگ میں رکھ دیا۔

راحت لیٹی ہوئی نیند کا انتظار کر رہی تھی اور اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ صبح یونیورسٹی میں نوفل  کو سب کچھ کہ دے گی اب وہ زیادہ نہیں رہنے والی تھی ۔ بس صبح ہو جائے اور نوفل کو میں نے سب کچھ کہ دینا ہے میں نوفل کی بہترین دوست ہوں اور وہ بھی تو مجھے اس طرح ہی دیکھتا ہے وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہے کہ دو گی راحت صرف نوفل کی ہے ۔

اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور لائٹ چل گئی راحت نے دیکھا تو اُٹھ کر بیٹھ گئی ” امی آپ” راحت اچانک

اپنی امی کو دیکھ کر حیران ہو گئی شہناز راحت کو خوب جانتی تھی اور جانتی بھی کیوں نہیں اس کی ماں تھی وہ زیادہ ٹائم تو نہیں دیتی تھی مگر پھر بھی راحت کے معاملے میں راحت سے زیادہ جانتی تھی ۔

” ہاں وہ مجھے نیند نہیں آرہی تھی سوچا کچھ دیر اپنی بیٹی کے پاس بیٹھ جاؤں ” شہناز کے چہرئے پر عجیب و غریب کیفیت تھی۔

” ہاں جی ضرور امی” راحت نے کہا۔

شہناز کافی دیر خاموش بیٹھی رہی راحت کو ان کی خاموشی کچھ عجیب لگ رہی تھی جب طبیعت بھاری ہونے لگی تو اس نے پوچھا ” کیا ہوا امی خیریت تو ہے نہ طبیعت تو ٹھیک ہے ” راحت نے شہناز کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

” ہاں بیٹا میری طبیعت کو کیا ہونا اگر اُولاد خوش ہو تو ماں باپ کو خود بخود سکون مل جاتا ہےمگر اُولاد کو کوئی تکلیف ہو تو درد برابر کا ہوتا ہے” شہناز نے راحت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔

” امی کیا ہوا ہے بتائیں تو یہ پہلیاں نہ کہے سیدھے بات کرے” راحت نے کہا۔

” پتہ نہیں کیسے کہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے تو ہر وقت تیری فکر ستاتی رہتی ہے ” شہناز پھر پہلی میں بات کی جس پر راحت کو شدید غصہ آگیا۔

” امی بس اب بات بتائیں کیا مسٔلہ ہے میں سن رہی ہوں” راحت نے شہناز کو دونوں ہاتھوں سے  ہلاتے کہا۔

” تیری پھپھو کا فون آیا تھا ” شہناز نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

راحت کے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ آئی” اچھا کیا کہ رہی تھی پھپھو ؟”

” انہوں نے نوفل کا  رشتہ کسی اور لڑکی کے ساتھ طے کر دیا ہے اور وہ بھی نوفل کی پسند ہے” شہناز نے راحت کے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔ راحت نے سنا تو اسے ایسا لگا جیسے چھت اس پر آ گری ہوں اس کی سانس ایک دم اٹک گئی تھی وہ اپنی ماں کے چہرے کو مسلسل دیکھ رہی تھی خوابوں کا محل پل بھر میں زمین میں دھنس گیا تھا۔

” دیکھ بیٹا میں جانتی تھی اور جانتی ہوں کہ وہ تیرے دل میں کیا جگہ رکھتا ہے مگر جو تمہارا نہیں اس کو پا کر تم جیت بھی نہیں سکتی” شہناز اس کے چہرے کو دیکھ کر گھبرا رہی تھی اور اس کو سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

” امی آپ جائے کوئی مسٔلہ نہیں میں سونا چاہتی ہوں” راحت نے ہاتھ چھوڑ دیا۔

” پر بیٹا” راحت نے ساتھ ہی بات کاٹ دی۔

” امی میں کہ رہی ہوں نہ آپ جائے کوئی مسٔلہ نہیں ہے آپ جائے” راحت کہتی ہوئی لیٹ گئی اور سائڈ بدل کر آنکھیں بند کر لی شہناز اُٹھی اور لائٹ بند کر کے اس کے پاس سے چلی گئی مگر شہناز اس کے پاس سے جانا نہیں چاہتی تھی جب شہناز نے دروازہ بند کر دیا تو راحت کے آنکھوں میں سے آنسو ٹپکنے لگ گےاور اس نے رونا شروع کر دیا اس کی طبیعت بھر چکی تھی ۔ نوفل میرے ساتھ کیسے کر سکتا ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا میں اس کو جتنا چاہتی ہوں اس کو کئی اتنا نہیں چاہ سکتا راحت منہ پر چادر لئے اپنی قسمت کو کوس رہی تھی۔

گھر کے باہر ایک خوبصورت کالے رنگ کی کار آ کر رکی کمال باہر نکل کر تیز قدموں کے ساتھ اندر گیا ۔ لاؤنچ میں شہناز افسردہ بیٹھی تھی ۔” السلام علیکم آنٹی” کمال نے کہا۔

” وعلیکم السلام کیسے ہوں بیٹا آؤ بیٹھو”   شہناز نے کہا اور کمال بیٹھ گیا۔

” بس ٹھیک آنٹی آپ بتائیں اور راحت کدھر ہے اس کی حالت کیسی ہے” کمال نے کہا۔

” بس بیٹا روئی جا رہی ہے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے کسی سے مل بھی نہیں رہی پھر مجھے تمہارا خیال آیا ایک تم ہی ہوں جو اس کو سمجھا سکتے ہوں ہم تو تھک گئے ہے” شہناز نے کہا۔

” آپ فکر نہ کرئے  میں اس کو دیکھ لو گا میں اس کے پاس ہی جا رہا ہوں” کمال نے کہا اور اُٹھ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

راحت بیڈ پر بیٹھی لال آنکھوں کے ساتھ بال بکھرے ہوئے تھے اس کو بس غم تھا نوفل کا غم اس کی محبت آنسوؤں کے ذریعے آنکھوں سے نکلی خشک ہو کر ہوا ہو چکی تھی اس کا اپنے آپ کے ساتھ کچھ کرنے کو دل کر رہا تھا اس کا دل چاہا کہ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دے کوئی چیز اس کو تسلی نہیں دے رہی تھی وہ بہت گہرے خیالوں میں سفر کررہی تھی ۔

” یہ نوفل تمہارے لئے گفٹ ” راحت نے کہا۔

” یہ کیا ہے ” نوفل نے کہا۔

کھولوں گے تو پتہ چلے گا نہ” راحت نے مسکراتے ہوئے کہا۔

نوفل نے گفٹ پیپر اُتارا تو ڈبے میں ایک خوبصورت اور مہنگی گھڑی تھی ” تھینک یو راحت یہ تو بہت پیارا گفٹ ہے ” نوفل نے کہتے ہوئے ہاتھ میں پہنی اور راحت اور نوفل کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ایک دم دروازہ کھلا اور سب کچھ غائب ہوگیا اور راحت ڈر گئی ۔

” اچھا میڈم نے اتنا روگ لے لیا کہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ”  کمال نے راحت کو غور سے دیکھا تو اس کو اندر سے غصہ آ رہا تھا کہ یہ لڑکی ایک ایسے لڑکے پر مرتی ہے جوکہ اِس کو کچھ سمجھتا بھی نہیں ہے ۔ راحت نے اس کو نظر انداز کر دیا مگر وہ جانتی تھی کہ ایک یہ ہی ہے جو اس کو سن سکتا ہے اور وہ اس کو بتا سکتی ہے ۔ کمال آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا ۔

” کیا ہوا؟ ایسا کیوں کر رہی ہوں اتنی بڑھی ہو گئی ہوں مگر بچوں والی حرکتیں کرنے سے باز نہ آنا ” کمال نے کہا مگر راحت اس سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی تھی ۔

” ایک نوفل ہی رہ گیا رونے کے لئے اور کوئی نہیں تمھارے قابل” کمال نے جھڑکنے کے انداز میں کہا راحت معصومانہ چہرے کے ساتھ کمال کو تکنے لگ گئی ۔

” یہ کیسی محبت ہے راحت جس میں تم اس کے لئے رو رہی ہو اور وہ سکون کر رہا ہے جب وہ تمہارے لئے کوئی احساس نہیں رکھتا تو تم رو کر اپنا وقت ضائع کیوں کر رہی ہوں ” کمال بہت شائستگی سے بات کر رہا تھا ۔

” مگر میرا اپنے دل پر قابو نہیں ہے میں کیا کرؤں میں کیسے برداشت کر لوں کہ جس کے بارے میں محبت کا احساس رکھتی تھی جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھتی تھی آج وہ کسی اور کا ہونے جا رہا ہے” راحت نے کہا اور کہتے کہتے اس کی آنکھیں پھر بھیگ گئی۔

” تم نے سوچا  خواب بنایا  اور رزلٹ بھی بنا لیا واہ تم تو سب کچھ سوچ کر بیٹھی تھی تم نے جو جذبات اس کے لئے پال رکھے تھے وہ تمہارے تھے اس کے نہیں وہ تمہاری محبت تھی اس کی نہیں اور اگر تم اس کو پانے میں جیت بھی جاتی تو اس کی محبت کو کیسے پاتی ساری زندگی لگ جاتی مگر و تمہیں کبھی جان نہ سکتا” کمال بولتا جا رہا تھا شائد وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کہ رہا تھا مگر راحت کا چہرہ کچھ بہتر ہو رہا تھا۔   کچھ دیر دونوں میں خاموشی رہی مگر راحت کی آنکھوں سے معلوم ہو رہا تھا کہ کمال کی موجودگی اس کو تسلی دے رہی ہے اور اس اپنے آپ میں شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔

” کبھی کبھی انسان ایسے شخص سے محبت کر بیٹھتا ہے جو شائد اُس کے لئے نہیں بنا ہوتا اور اُس شخص کو نظر انداز کر دیتا ہے جو کہ اُس کا مقدر ہوتا ہے راحت تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو مانا محبت پڑھے لکھے یا جاہل کو نہیں دیکھتی مگر علم انسان کو اتنا تو بتاتی ہے نا کہ کوئی کسی کے جذبوں پر قابض نہیں ہوتا اور تم تو اپنے جذبوں پر قابض نہیں ہو تو نوفل کو کیسے منوا لو گی کہ وہ تم سے محبت کرئے” کمال کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

” دیکھو راحت جدھر تم اُس کو پانے کی دعائیں کرتی وہ بھی کسی کو حاصل کرنے کی دعا کرتا ہوگا اور کوئی تمہیں بھی حاصل کرنے کے لئے دعا کر رہا ہوگا اب دیکھو مانگنے والے بہت ہے اِس دنیا میں مگر ماننے والا صرف ایک ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کس کی ماننی ہے اور کس کو اُس کی خواہش سے بہتر دینا ہے”

کمال بولی جا رہا تھا مختلف دلیلیں دے رہا تھا وہ خاموش اس کا چہرہ اور اس چہرے پر بدلتے تاثرات کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔ آج پہلی بار کمال کی فلاسفی اس کو سمجھ میں آرہی تھی اس کو سمجھ آ رہی تھی کہ وہ ایک ایسی منزل کے پیچھے بھاگ رہی جو کہ اس کی تھی ہی نہیں وہ تو بس اس کی ضد تھی جو کہ محبت میں اندھی ہو گئی تھی اس نے یہ تو جانا کے نوفل کی آواز پر بھاگے جانا اس کے ہر کام پر لبیک کہنا اس کی ہاں میں ہاں اور نہ میں نہ کرنا مگر یہ نہ جانا کہ اس کی آواز پر کون دوڑتا ہے اس کی مدد کے وقت کون آتا ہے اس کو کمال کی شکل میں ایک فرشتہ نظر آرہا تھا جو کہ اس کو ایک بڑے گناہ سے روک رہا تھا ۔

” چلو اب مسکرا کر دیکھاوں اچھے بچوں کی طرح "کمال نے مسکراتے ہوئے کہا تو راحت نے ہلکی سی مسکراہٹ ظاہر کر دی۔

” میں آنٹی کو کھانے کے لئے کہنے جا رہا ہوں تو کھانا کھا لینا کھا لو گی نہ” کمال نے کہا تو راحت نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔ کمال دروازے کی طرف چل دیا کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی  ” کمال” کمال نے مڑ کر دیکھا تو راحت مسکرا رہی تھی  ۔

” سوری دیر ہو گئی” راحت نے کہا ۔ کمال نے راحت کی چمکتی آںکھیں پڑھ لی تھی اور اندر سے اس کا دل خدا کا شکر ادا کر رہا تھا ۔

” وہ تو تم ہر بار ہو جاتی یوں ” کمال کہتا ہوا باہر نکل گیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے