سر ورق / ترجمہ / بے رَنگ پِیّا ۔۔۔امجد جاوید

بے رَنگ پِیّا ۔۔۔امجد جاوید

 ” بے رَنگ پِیّا “

 خوبصورت اور کامیاب کوشش

رنگ ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ کا رنگ۔اگر کوئی صبغت اللہ میں اپنے آپ کو ڈبونا چاہتا ہے تو اس کے لئے ہر آ لائش سے پاک ہونا ضروری ہے ۔

بے رنگی کا آ غاز اس وقت ہوتا ہے، جب عشق انسان کا محور و مرکز بن جاتا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جو روح کو اصل سے جوڑتا ہے ، فطرت کے راز کھولتا ہے ، غور و فکر کے دریچے وَا کرتا ہے اور فطرت کی طرف یوں مائل کرتا ہے کہ انسان غیر محسوس انداز میں نکھرتا چلا جاتا ہے ۔

بے بہا رنگوں کی دنیا میں رَبّ تعالیٰ کا راستہ اختیار کرنے والے کی راہ میں بہت سی کٹھنائیاں آ تی ہیں۔ ایسے میں اگر ایک مردِ کامل کی صحبت میسّر آ جائے تو زندگی کا عنوان بدلتا چلا جاتا ہے ۔، جینے کا ڈھنگ اور سوچ کا اسلوب تبدیل ہونے لگتا ہے ، ذات میں ایسی کشش پیدا ہوتی ہے کہ دیکھنے والے اسی اُور کھنچے چلے جاتے ہیںاور خود کو بھی اُسی رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں جو تمام رنگ لئے پِیّا سے قریب کر دے ۔

جناب امجد جاوید صاحب نے کچھ ایسا ہی پیغام اپنے ناول ” بے رَنگ پِیّا “ کے مختلف کرداروں کے ذریعے قارئین تک پہنچانے کی بہت خوبصورت اور کامیاب کوشش کی ہے۔ رَبّ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور زورِ قلم کو مزید سوا کرے ۔ (آ مین)

                                                سرفراز اے شاہ

                                                                ۳ فروری ۷۱۰۲ئ

 

 

                ”بے رنگ پیا“

                عشق کی بے رنگ تفسیر

                 امجد جاوید کی تخلیق ”بے رنگ پیا“ عشق کی بے رنگ تفسیر ہے ۔ اس ناول سے نہ صرف امجد جاویدکے ہنر اور ذوق کا اظہار ہوتا ہے ، بلکہ اس سے مجھے یہ لگا کہ ان کے من میں بسا ہوا صوفی کس طرح سے دھونی رمائے بیٹھا ہے ۔ عشق اور تصوف میں رَچی ہوئیں انتہائی سادہ سے انداز میں کہا گیا فکر، ہمارے معاشرے میں موجود حقیقی کرداروں کو لے کر بُنی ہوئی کہانی کا رچاﺅ ،ایک ایسا خوبصورت امتزاج ہے ، جو عام طور پر کم ہی دکھائی دیتا ہے ۔دراصل یہ نام ” بے رنگ پیا “ ہی توجہ لے لیتا ہے ۔پہلا سوال ہی یہ ابھرتا ہے کہ یہ” بے رنگی “ کیا ہے ؟ تصوف کی ایک اصطلاع ہے ۔ جس میں انسان سارے رنگوں کو ایک طرف رکھ کر صرف ایک ہی رنگ میں جانا چاہتا ہے ، وہ رنگ جسے صبغت اللہ کہا گیا یعنی اللہ کا رنگ ۔ (اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے )اللہ کا رنگ کیا ہے ، یہ ناول دراصل اسی بے رنگی کی تشریح اور اس عملی پہلو کا بیان ہے ، جسے انسان اپنا سکتا ہے ۔انتہائی منفرد موضوع کو کہانی کے بیان میں خوب نبھایا گیا ہے ۔

                ”بے رنگ پیا “ کی شروعات، عام سے کرداروں کے ساتھ کیمپس کے ماحول سے ہوتی ہے ۔ بالکل اس طرح سے جیسے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے ۔ کہانی کے بہاﺅ کے ساتھ قاری بڑھتا ہے تو خود بہتا چلا جاتا ہے ۔پھرقاری پرغیر محسوس انداز میں ایک نئی دنیا کُھل جاتی ہے ۔قاری اس کھوج میں لگ جاتا ہے کہ اس کا مطلوبہ بے رنگ پیا ہے کہاں پر ؟ کہاں ملے گا ، کس کردار سے جھانکے گا ؟بنیادی طور پر اس کہانی کے تین کردار ہیں ، آیت النساء،طاہر حیات باجوہ اور سرمد، ان تین کرداروں کی تکون، طلب طالب مطلوب ، عاشق ، معشوق اور عشق پر جا کر منتہج ہوتی ہے ۔ جب تک عاشق معشوق نہیں ہو جاتا اور معشوق عاشق نہیں بن جاتا، تب تک وہ مقام عشق پر فائز نہیں ہوتا۔ یہ سفر بے رنگ ہوئے بنا طے نہیںہوسکتا۔دراصل یہی وہ فلسفہ ہے ، جو”بے رنگ پیا “ کا محور ہے ۔

                ” بے رنگ پیا“ میں عشق کی تفسیر بالکل منفرد ہے ۔آج کے جدید دور میں جب انسان خلاﺅں تک جا پہنچا اور دوسری طرف انسان کے انسان ہی کے باطن تک کو سمجھنے کی تگ و دو میں ہے ۔انسان کے بنائے جدید ترین آلات سے لے کر انسان کے سماجی علوم تک رسائی ، کیا یہ سب کسی کے عشق کی داستان نہیں سناتے ؟ کیا یہ بنا عشق ہی کے ہوگیا؟ضروری نہیںکہ عشق کسی حسین عورت کی مرہون منت ہو ۔عشق جہاں اس کائنات کو سمجھنے کے لئے قوت دیتا ہے وہاں انسان سے انسان کو جوڑنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب انسان ، انسانیت کے لئے کسی بھی منفی جذبے کو اپنے اندر نہیں رکھتا ، وہ بے رنگ ہوتا ہے ۔ تبھی بے رنگ عشق کے ساتھ رسائیاں حاصل کرنے کی استعداد حاصل کر لیتا ہے ۔ عشق وہ نہیں جو دو لوگوں کو جوڑتا ہے ، بلکہ عشق وہ ہے جو مرکز سے جڑ کر کائنات کی وسعتوں میں پھیل جاتا ہے ۔ناول کا ماحول حیات اور کائنات سے نبرد آ زمائی کا حوصلہ عطا کرتا ہے ۔عاشق کہتے کسے ہیں؟عاشق کیا ہوتا ہے ؟معشوق کسے کہتے ہیں ؟ بے رنگی کیا ہے ؟ بے رنگ عشق کیا ہے ؟ اور بے رنگ پیا کی حقیقت بیان کرتا یہ ناول اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے ۔

                اس ناول کا سب سے اہم پہلو سید ذیشان رسول شاہ کا کردار ہے ، جن کے افکار بے رنگی کی تشریح کرتے ہیں ۔عشق کے مراحل ،رنگ، بے رنگ ،صبغت اللہ میں مدغم ہونا ، ذات کا عرفان حاصل کرنا ۔ اس کائنات میں انسان کے ورود کی اہمیت اور مقصد ، اور سب سے بڑی بات انسان سے انسان کا تعلق ۔ ناول کے باقی کردار ان کے افکار کی عملی تشریح کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ ناول کی اصل جان یہی افکار ہیں۔ان افکار کو پیش کرنے کا انداز اور ہنر بہت خوب اور قابل تعریف ہے ۔ زبان و بیان کے گنجلک چٹکارے ، تشریح و تشبہات میں فکرکہیں گم نہیں ہوا ۔سوال اٹھتے ہیں اور جواب بھی ساتھ میں ملتے ہیں۔یوں جیسے کسی بھی زندہ تحریر سے انسپائریشن ملتی ہے ۔ میرے خیال میں فکر کو خاص حلقوں سے نکال کر عوام تک رسائی دینے کی یہ ایک مقدس کوشش ہے ۔نامعلوم سے معلوم تک کا سفر ،کھوج اور بقا کا انسانی سرشت کے ساتھ تعلق ہونا فطری امر ہے ، لیکن اس کا ادراک کیو نکر ممکن ہے اور کیسے ممکن ہے ۔

                ناول یا کہانی کا سب سے اہم عنصر دلچسپی کا آخری لفظ تک برقرار رہنا ، ”بے رنگ پیا “ میں یہ عنصر پوری طرح موجود ہے ۔عشق و محبت کی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ بیان کرتا یہ ناول آج کے دور کی طوفانی محبت والے نوجوانوں کو عشق کا رنگ سمجھا نے اس کی ذہنی سطح کے مطابق عام زبان و الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ میرے خیال میں یہ ناول سنجیدہ طبقے ہی میں نہیں ، ہر اس متلاشی کے دل میں جگہ بنائے گا ، جو حقیقت تک رسائی کی کوشش میں ہے ۔

                یہ ناول مایوسی نہیں حوصلہ دیتا ہے اور حوصلہ ہی وقت کی سچائی ہے۔

جاوید چوہدری

اسلام آباد۔ 21فروری 2017ئ

                ”بے رنگ پِیّا“

  ایک بے رنگ مجسم وجود

                ہر خواہش کاایک جسم ہو تا ہے ۔چہرہ ہاتھ پاﺅں ، پورا ناک نقشہ، یہ سب مل کر ہی اس کا وجودمکمل کرتے ہیں ۔ ہر خیال ، ہر تحریر اور ہر ایک ناول بھی مجھے لگتا ہے ایک وجود ،ایک جسم رکھتے ہیں۔اگر اس بات سے آپ اتفاق کر لیتے ہیں تو یقین مانئے ،اس وقت آپ کے ہاتھوں کے پیالے میں ایک خوب صورت وجود ہے ۔ امجد جاوید کہتے کم ہیں، لکھتے زیادہ ہیں اور سچ کہوںتو خوب لکھتے ہیں۔ عمر خیام نے لکھتے لکھتے اپنی کمر دوہری کروا لی تھی۔ امجد کا بھی ارادہ کچھ ایسا ہی لگتاہے ۔بظاہر اس نے لمبی چوڑی دنیا داری کے لمبے چوڑے جھنجھٹ نہیں پالے ، لاہور سے دور ایک بستی میں گھر بسایا ہے جو صحرائے چولستان کی روہی کنارے آ باد ہے ۔ صوفی شاعرخواجہ غلا م فریدنے اسی روہی کے بارے میں کہا ہے کہ ” روہی رنگ رنگیلڑی“ میں سمجھتا تھا ، صحرا کیسے رنگین ہو سکتا ہے ، لیکن اب سمجھ میں آ تا ہے کہ صحرا اور خاص طور پر روہی ،ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے رنگین ہے ، جو بے رنگی میں بسے ہوئے ہیں اور بے رنگ ہونے کا پیغام عام کرتے ہیں۔ پھر کسی روز ہم پڑھیں کہ امجد، حاصل پور میں بیٹھ کر جے کے رولنگ کی طرح لکھے کہ میرے پاس اندھیرے کمرے ، ٹوٹے ٹائپ رائٹر کے علاوہ اس کمرے میں اتنے بڑے بڑے خواب اور خیال تھے کہ وہاں سماتے ہی نہ تھے ۔وہ پِیّا کے سارے رنگوں کو بے رنگ کر کے دیکھتے تھے۔پیا کے رنگ بہت سُنے تھے ۔ایک کالا دیکھا بھی اور پوچھا بھی کہ یہ پِیّاہی کیسا جو کالا ہو ، کالی تو رات ہوتی ہے ، نصیب ہوتے ہیں، ہاں بعض دل اور چہرے بھی اس رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور اپنی پہچان ہی بھلا بیٹھتے ہیں،دلوں سے اُتر جاتے ہیں۔

                امجد جاوید کو میں کئی برسوں سے دیکھ رہا ہوں کہ خواب اس کی انگلی پکڑ ے ساتھ ساتھ چلتے ہیںاور وہ ان خوابوں کے ساتھ بستا ہے ، ان خوابوں کو لفظ کے ساتھ ایک وجود دیتا ہے ۔یوں جیسے کوئی سفال گر ،مٹی کے ساتھ رہتا ہے ، اسے چاک پر رکھتا ہے اور پھر ایک ایک پیالے بنتے چلے جاتے ہیں،ہر پیالہ اپنی الگ خصوصیت رکھتا ہے ، اس کے ناول گویا وجود ہیں، پیالے ہیں، ابھی ایک پیالے سے سیراب ہوئے زیادہ وقت نہیںہوتا ، وہ مزید ایک خوشنما پیالہ پکڑے کھڑا ہوتا ہے ۔شکر ہے ابھی خوابوں پر کوئی محصول نہیںلگا۔

                جناب مستنصر حسین تارڑ نے ” ایک سفر اچھا لگا“ پر کہا کہ جب تک پڑھ نہیںلیا، سویا نہیں،اور ایک ہی رات میں مکمل کیا۔ اصل پِیّا رنگ ڈھونڈنے میں مجھے چار راتیں لگیں۔ بہت سی کتابوں اور تحریروں کا معاملہ بالکل ایسا ہوتا ہے اسی لئے روز دلوں کا سکھ اور چین چھین لیتی ہیں۔بے یقینی ، بے اطمینانی اور ناخوشی سے پڑھنے والوں کی نگاہوں اور سوچوں کوبھر دیتی ہے ، پڑھنے والے بے چارے وہاں خوشی، اطمینان اور نئے پن کے اُونٹ تلاش کرتے ہیں۔”بے رنگ پِیّا“ پڑھتے پڑھتے یوں لگا ،لفظوں کے جنگل میں کھونے کی بجائے مثبت قدروں سے بنے کسی خوشنما اور خوبصورت باغ کی سیر کا موقع ملا ہے ۔

                آیت النساءاور طاہر باجوہ ، عشق کی رمزیںکھولتے، حیران کرتے بہاول پور سے لاہور کا سفر کراتے رہے ۔اس قدر اور عمدہ اور مضبوط پلاٹ، اور اتنی رواں کہانی کے بیچوں بیچ اتنے مشکل تصورات کو عام فہم ، آ سان اوربا معنی بنانا کب آ سان رہا ہوگا۔ کتنی کتابوںکتنی آ یتوں اور کتنی راتوں نے اس تخلیق کو بُننے کے دوران سینچا ہوگا۔ کوئی خیال ،کوئی تصور، طاقتور دلیل کی بنیاد بنا جڑیں ہی نہیں پکڑ سکتا۔” میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا“ کی اس قدر دل پذیر وضاحت کی میں بالکل توقع نہیںکر رہا تھا۔مسلسل کھوج کا تصور جو آ ج ہے وہ کل سچ نہیںرہتا۔ ایک انسان کی محبت کب اور کیسے پوری کائنات کی محبت میں بدلتی اورڈھلتی ہے، آپ ذرا پڑھ لیں پھر بتائے گا کہ کہانی کسی فیچر فلم کے سے ٹمپو کے ساتھ نہیں چلتی رہی ؟الہی۔! ایسی گرفت، ایسی جاذبیت کہ نگاہوں کو تھام کے رکھے ،وہ بھی چارراتیں مسلسل ، مجھے صفت کے تصور سے خوبی اورخامی کے فلسفے کی تشریح نے بہت مزہ دیا۔اس مثبت اور منفی صفات کا ساتھ ہی پِیّا کو وہ رنگ دیتا ہے کہ وہ صبغت اللہ بن جاتا ہے ۔ محبت ایسی صفت ہے کہ انسان ، انسان سے جڑتا ہے اور بالآخر کائنات سے جو لامحدود ہے اور جڑنے والے بھی محدود نہیں رہنے دیتی، بے رنگ کر دیتی ہے ۔اس ناول میں نہ تو ناخوشی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور نہ ہی بے صبری، بے یقینی ، اور بے اطمینانی سے بھرنے والی کسی کہانی کا راج ہے ۔ کچھ باتیں آپ کے خیالات سے مختلف بھی ہوئیں تو وہ بھی ” اری ٹیٹ“ نہیں کریں گی ، دھیرے سے اپنی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں گی۔

                امجد جاوید ! سلامت رہو، سوچنے، رُکنے ، ٹھہرنے اور غور کر کے زاویہ نگاہ بدلنے کا کیا عمدہ کام کیا ہے ۔ اب چاہے کسی کا پِیّا بے رنگ نہ بھی ہو ، کالا بہر حال نہیں رہے گا، نہیں بنے گا ۔ تمہارے پِیّا کا وجود بے رنگی، چہرہ اور ناک نقشہ مجھے تو کافی دیر یاد رہے گا۔

اختر عباس

3مارچ 2017ء( رات گئے)

 ” بے رنگ پیا

بے رنگ کہانی ، بے رنگ پیغام

جس طرح ایک حقیقی سالک قدم بہ قدم آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے ، اس پر مشاہدہ کے نت نئے انکشافات ہوتے ہیں،زندگی اور زندگی سے متعلق نئے خیالات کا ظہور ہوتا ہے، جس سے نہ صرف عشق دوام پاتا ہے بلکہ حقیقت مزید واضح اور روشن ہو تی چلی جاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح جناب امجد جاوید کا سفر جاری ہے ۔مجھے نہیں اندازہ اسے گیان کہوں ، دھیان کہوں یا عرفان کہوں، تاہم ” بے رنگ پیّا “ ان کا ایسا ہی ناول ہے جس کا مطالعہ کرتے ہوئے سوال بھی اٹھتے ہیں اور جواب بھی ملتے چلے جاتے ہیں۔آخری لفظ پڑھ لینے کے بعد جو کیفیت طاری ہوتی ہے ، اسے بے رنگ کیفیت ہی کہا جا سکتا ہے۔

” بے رنگ پیا “کی کہانی اپنی انفرادیت تو رکھتی ہی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کہانی میں دلچسپی کا عنصر پوری طرح موجود ہے۔ایک طرف اگر اپنا نکتہ نظر پیش کیا گیا ہے تو اس کی عملی تفسیر کو بھی بیان کر دیا گیا۔ یوں یہ کہانی محض لفاظی نہیں رہ جاتی بلکہ اس کے ساتھ اسے عملی صورت کے طور پر بھی پیش کیا گیا، یہ اس ناول کی ایک مزید انفرادیت ہے ۔ کیونکہ اس ناول میں جن کرداروں کے ساتھ کہانی کی بُنت کی گئی ہے وہ ہمارے معاشرے کے وہ حقیقی کردار ہیں، جنہیں ہم پوری طرح جانتے ہیں اور پہچانتے بھی ہیں۔انہی عام کرداروں کے ساتھ ایک خاص کہانی پیش کرنا، موضوع پر گرفت اور ہنر کا غماز ہوتا ہے ۔

 ” بے رنگ پیا “ کا موضوع انتہائی شاندار ہے ۔رنگ ہماری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ہم ان رنگوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ہم اپنی شناخت کی علامت بنا لیتے ہیں۔مختلف قومیں، قبائل ،گروہ اپنی انفرادیت کی حیثیت کو رنگوں سے پیش کر تی ہے۔ لیکن۔! بے رنگی ایک ایسی علامت ہے ، جس سے سارے رنگ ہی پھوٹتے ہیں،وہ بے رنگی کیا ہے ؟ بظاہر یہ موضوع جتنا مشکل دکھائی دیتا ہے ، جناب امجد جاوید نے اسی موضوع کو انتہائی سادہ انداز میں کامیابی سے ناول کی صورت دی ہے ۔

 ” بے رنگ پیا “ آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے میں نہ صرف دلی مسرت محسوس کر رہا ہوں بلکہ ایک بہترین موضوع کے اضافے پر دلی اطمینان بھی حاصل ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس ناول کے مطالعہ کے بعد آپ بھی میری طرح محسوس کریں گے ۔نیک خواہشات ۔

گل فراز احمد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقام ِ جستجو ٹھہرا

”کہانی ۔! علم رکھتی ہے ؟“

” بے رَنگ پِیّاکیوں لکھا؟“

” کیاعشق لاحاصل ہے؟“

یہ وہ سوال تھے ، جن کے باعث ” بے رَنگ پِیّا“ کا ظہور ہوا۔ بے رنگی تصوف میں ایک اصطلاح ہے ۔جس کے اظہار کے لئے میرے نزدیک کہانی کا پیرائیہ سب سے لطیف ترین صورت رکھتا ہے۔ کیونکہ کہانی اور علم لازم و ملزوم حیثیت رکھتے ہیں۔ ”بے رَنگ پِیّا“ لکھنے کی وجہ ایک ایسے فطری انسان کی تلاش ہے جسے کائنات کا حاصل کہا جا سکتا ہے یا وہ انسان جو اس دُنیا میں اپنا حقیقی کردار ادا کرتا ہے ۔عشق ہو اور وہ لاحاصل ہو، ایسا ممکن ہی نہیںہے۔ کیونکہ عشق ہی وہ واحد قوت ہے جو رَبّ تعالی سے جوڑتی ہے ۔رَبّ تعالی کی منشا ءو مرضی کیا ہے ؟اس دنیا کو رنگوں سے کیسے بھرنا ہے ؟انسان کے مصائب و مشکلات کو کس طرح کم کرتے چلے جانا ہے ، یہ اہل عشاق ہی کا وطیرہ ہے ۔

 وہ عشق ہے بے رنگ ،جس کا تعلق پاکیزگی سے ہو۔ فی زمانہ عشق کا حقیقی پن دور حاضر کی نفسانیت کے باعث اوجھل ہوگیا ہے۔اب حقیقی عشق کی معنویت کو واضح کرنا ضروری ہو گیا ہے ۔کیونکہ نفسانیت کے لاحاصل پن کو عشق کا لاحاصل پن قرار دے دیا ہے ۔المیہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ سمجھ بھی لیا گیا ہے کہ عشق لاحاصل ہے ۔جبکہ ایسا ہر گز نہیں۔عشق کی اقدار کو وہی سمجھ سکتا ہے ، جس نے عشق اُوڑھ لیا ہو۔سمندر کنارے بیٹھنے والا ،تیراک کی کیفیات وشعور کو نہیں سمجھ سکتا۔ بعض لوگ جس شے کو عشق سمجھ رہے ہیں، یہ عشق نہیں ہے ۔ بلکہ ”عشق کی سمجھ عشق کی عطا کرتا ہے“ ۔یہ قول ہی بتا رہا ہے کہ عشق کا راز اہل عشق نے بے رنگی ہی میں پایا۔اگر یہ محض ایک معاشرتی مسئلہ ہوتاتو ہر کس و ناکس کو عشق کی بے پایاں قوت میسر ہوتی۔عشق وہ ہے جو توحید کا قائل ہے۔جس عشق میں توحید نہیں وہ عشق نہیں، جو عشق رَبّ تعالی کے محبوبﷺ سے نہیںملاتا وہ عشق نہیں، جو عشق یزیدیت کے سامنے انکار کا پرچم بلند نہیں کرتا ، وہ عشق نہیں۔جو عشق انسانیت کو جوڑتا نہیں وہ عشق نہیں،جس عشق میں بے رنگی کا ظہور نہیں وہ عشق نہیں، جو عشق کائنات سے نہیں جوڑتا وہ عشق نہیں،میں یہ کہتا چلوںکہ نفسانیت کا کاروبار ہر گزعشق نہیں۔

بے رنگی ہے کیا؟اس کسوٹی پر عشق کو پرکھنا، بہت آسان ہے ۔اگر عشق کی میزان پر عاشق عین معشوق نہیںہے اور معشوق عین عاشق نہیںہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عشق خام ہے۔جب عاشق عین معشوق بنتا ہے اور معشوق عین عاشق بنتا ہے تو نا عاشق رہتا ہے نہ معشوق رہتا ہے ،صرف عشق کی ذات باقی رہتی ہے۔ جس میں دوئی کی گنجائش نہیںرہتی اور یک جان و قالب کے مصداق بظاہر عشق معشوق نظر آ تے ہیں لیکن دراصل وہ ماسوائے عشق کے اور کچھ بھی نہیںہوتے ۔عاشقی اور معشوقی کے تقاضے دم توڑ جاتے ہیں۔ اور محض دوسرے کو اپنانے کا جذبہ باقی رہ جاتا ہے ۔اس بات کی تفصیل”بے رَنگ پِیّا “ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔

 ”بے رَنگ پِیّا “ لکھنے میں سب سے زیادہ روحانی معاملات اور مسائل تصوف کے لئے میری جنہوں نے مدد فرمائی ،وہ جناب ضیاءالرحمن ضیاءچشتی قلندر ہیں۔جن کی روحانی معاملات پر دسترس ”بے رَنگ پِیّا “ میں آپ کو پوری طرح دکھائی دے گی ۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کی محافل میں مجھے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا ۔

” بے رَنگ پیا“ ، انسان سے انسان کو جوڑنے کا محبت بھراپیغام ہے ۔

امجد جاوید

میں شکر گزار ہوں

 حضرت سید محمد ذیشان رسول شاہ بخاری صاحب سرکار کا جن سے مجھے بڑا حوصلہ اور جسم و جان کاگداز نصیب ہوا ۔آپ وہ ہستی ہیں ، جنہیں میں نے ہمہ وقت اپنے قریب پایا ۔ان کی بے پایاں محبت میرے لئے سرمایہ ہے ۔میں ان کی محبت، پذیرائی اور شفقت کا شکر گزار ہوں۔

جناب سید سرفراز احمد شاہ صاحب کا جن کے درس و تدرس کے سلسلے میں مجھے بہت کچھ سمجھنے کو اور زیادہ تر سوچنے کو ملا۔ یہ جناب سرفراز احمد شاہ صاحب کا ہی حکم تھا کہ میں حضرت خواجہ نور محمد مہاروی ؒ سرکارکے ہاں حاضری دوں ۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ تعلق ، سلسلہ اور ربط ہے جو جناب سید سرفراز احمد شاہ صاحب سے چلتا ہوا حضرت خواجہ نور محمد مہاروی ؒ سرکار تک جا پہنچا ۔شاید یہی سعادت راہِ سلوک کے مسافر کے حصے میںآ تی ہے ۔

جناب گل فراز احمد بھائی کا جو ہر طرح سے میری حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔ انہی کی بدولت یہ کاوش آپ تک پہنچی ہے ۔ان سے محبتوں کا ایک سلسلہ ہے ۔

محترم ملک محمد حسین صاحب کا، جو میرے بھائی ، محسن اور دوست ہیں۔ جن کا دم میرے لئے ہر لمحہ غنیمت ہے۔

محترمہ رخسانہ بشیر صاحبہ ،جوبڑی بہن کے شفیق انداز میں میرا حوصلہ بڑھاتی ہیں ۔

محترم نیئر صدیقی بھائی کا ،آپ نے خلوص اور محبت سے میری راہنمائی فرمائی ۔

محترم سید علی زین شاہ بخاری، سید حیدر رضا شاہ بخاری، کا، جن کی بدولت ایک پرسکون ماحول ملا ۔

اپنی شریک حیات اور بچوں، سمن فاطمہ، احمد بلال ،احمد جمال ، عائزہ فاطمہ کا جن کے حصے کا وقت بھی میں نے لیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

ایک تبصرہ

  1. ساجد ہدایت

    امجد جاوید صاحب عصر_ حاضر کے عمدہ اور ژرف نگاہی رکھنے والے ناول نگار اور ادیب ہیں ان کے ناولوں کے موضوعات اچھوتے، ماحول و پس منظر اور کردار نگاری عین حقیقی اور نہایت توجہ خیز ہوتی ہے. ان کو پڑھتے ہوئے زندگی اور زندگی کے متعلق بہت سی باریک باتوں کا ادراک حاصل ہوتا ہے جو فکر کو مہمیز کرنے کا باعث ہوتی ہیں. ان کی صحت و سلامتی کے لیے بہت دعائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے