سر ورق / افسانہ / تاریخ تحریر ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

تاریخ تحریر ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

ہزاروں سال پہلے جب اونچی اونچی عمارتوں کا رواج ختم ہو چکا تھا۔ ان وقتوں میں اونچی عمارتوں کی جگہہ خلاؤں میں معلق گھروں نے لے لی تھی۔ سائینس اور ٹیکنالوجی کی ترقی زمین سے آسمانوں کے پار جا پہنچی تھی۔ انسانوں کی شکلیں چال ڈھال سب کچھ بدل چکا تھا۔ زبان قوم قبیلے جیسے رشتے تقاضے یا پہچان ختم ہوئے صدیاں گزر چکی تھیں۔ لوگوں کو علم ہی نہیں تھا کہ ڈر کیا ہے خوف کیا ہے موت کیا ہے خواب اور انکی تعبیریں کیا ہیں ۔۔ کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہیں سے ایک داستان جنم لے رہی تھی ۔ داستان کیا تھی” انسان کا سب سے بڑا ہتھیار  مزہب ادیان وغیرہ صدیوں پرانی بھولی بسری کہانیوں میں بدل چکے تھے ۔ گویا دنیا کا ہر انسان اپنے آپ میں ہی خدا بن چکا تھا۔ نوری سالوں کا سفر پل بھر میں کٹ جایا کرتا تھا ۔
تحسین قدیم تہذیبوں زبانوں اور مزاہب سے تعلق رکھنے والا اکلوتا انسان تھا جو اس معجزاتی اور طلسم ہوشربائی دنیا کا حصہ تھا۔ وہ کہا کرتا کہ اسے میری بدقسمتی کہہ لیں یا خوشقسمتی ” مجھے ہرگز فرق نہیں پڑتا جب انسان نے سائینسی بنیادوں پہ انقلابی سطح پہ کام کیا تو بیسویں صدی کا میں آخری نمونہ تھا ۔ جسے بہت زیادہ محنت کے بعد اس احساس سے نجات دلانے میں یہ لوگ کامیاب رہے کہ میری  تخلیق مٹی سے نہیں ہوئی ۔ خیر جیسے تیسے کر کے مجھے بھی اسی دنیا کی عادت پڑ گئی ۔ باوجود تمام حالات و واقعات کے مجھے تسلی و تشفی تب ملتی” جب میں خود کو کم از کم قدیم انسان کے درجے پر لے جاتا شاید اسکے پیچھے ایک ہی وجہ تھی اور وہ وجہ تھی۔
میری فطرت”  ہاں شاید میں فطرتا زمین سے کسی نہ کسی وجہ سے جڑے رہنا چاہتا تھا تبھی تو ” مجھے ہر وقت سرسبز شاداب کھیت کھلیانوں کی کمی محسوس ہوتی کبھی پہاڑوں سے پھوٹتے ٹھنڈے یخ چشموں کا پانی ” جس کی خوبصورتی اور ذائقہ بیمثال تھا۔ میرے دن و رات شام و سہر یاد ماضی میں کھوئے رہتے میں کبھی خود کو چولستان کے صحرا میں گرمی کی شدت سے تڑپتا پاتا تو کبھی فیری میڈو نانگا پربت کے سامنے پاتا ۔ جہاں کبھی میرے سامنے پریاں رقص کرتیں تو کبھی چولستانی لیلہ میرے وجود میں گھس کر میرا اندر کرچی کرچی کیے جاتی ۔ کبھی میں سمندر کے نمکین پانیوں میں غوطہ لگاتا تو کبھی سندھ ساگر کے کنارے موہنجوداڑو کی باقیات میں اپنی سرائیکی قوم کا وجود ڈھونڈنے اور ثابت کرنے میں جتا ہوتا ۔ ایسے میں سبھی قومیں تہذیبیں ادیان میری طرف کھینچے چلے آتے جبکہ زمانہ قدیم میں مختلف قومیں زبانیں ادیان اور ادب مجھ سے تعصب برتتے رہے تھے ۔ مغرب اور مشرق کا گورکھ دھندا عروج پہ رہا تھا۔ لیکن اب ہر آئے دن میری منت سماجت کرتے کہ ہمیں زندہ کرو” پلیز کسی نہ کسی طرح سے۔
تحسین بات کرتے کرتے مجھے یقین دلاتا رہتا اور کہتا ” ہاں ” ہاں ” میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ جبکہ میں اسکی باتوں کو جھوٹ سمجھتا” مگر جب وہ میری طرف دیکھتا تو اسکی آنکھیں مقدس گواہی دے رہی ہوتیں کہ وہ ان حقائق پہ جیسے شاہد رہا ہو ۔۔ وہ کہتا کہ میری باتوں کے متعلق شک میں ہرگز نہیں پڑنا ۔
دیکھو” میں جو جو کہہ رہا ہوں تم اسے ضرور لکھنا ۔ تاکہ پھر سے انسانی تاریخ زندہ ہو سکے ۔ تم نہیں جانتے ” مگر میں جانتا ہوں دیکھتا ہوں کہ ابکی بار انسانی تاریخ دو زمانوں کے ہزاروں سالوں کا مشترکہ نام ہو گی۔۔ جسے لوگ چاہتے نا چاہتے ہوئے ماننے پہ مجبور ہو جائیں گے کہ انسانی المیات اور حادثات کا نام ہی تاریخ ہے۔ تاریخ کا نام لیتے ہوئے اسکے چہرے پہ عجیب سا سکون ہوتا مگر ساتھ یہ بھی کہتا کہ دیکھو میں بھی” کسے لکھنے کا کہہ رہا ہوں . جو لکھنے اور تاریخ جیسے بے نقش حالات سے واقف ہی نہیں ۔ شاید تمہاری فطرت میں یہ سب نہیں ” مگر یاد رکھنا ایک دن فطرت تم پہ بھی حملہ آور ہو گی ۔
میں اس سے پوچھتا کہ فطرت اور تاریخ کیا ہے اور وہ مسکراتے ہوئے کہتا  کہ عجیب بلا ہے ۔ ایسی بلاں جو انسان کا اصل ہے ۔
انسان زمانہ قدیم سے زمین سے جڑے رہنے کے لیے فطرت کا جال اپنے اردگرد بنتا اور اسی جال میں مقید ہو کر رہ جانے عافیت سمجھتا رہا ہے ۔ اور اسی عافیت کو انسان تاریخ کہتا تھا مگر  تاریخ تو المیات اور حادثات کا نام تھی ۔۔ جزوقتی یا عارضی رونما ہونے والی تبدلیوں کا نام تھا ۔۔ وعدہ کرو تم لکھو گے سبھی تبدیلیوں کو ” جوابا میں میں کہتا کہ لکھنے اور سوچنے کی ہماری صلاحیت نہیں ہے یا یوں سمجھ لو کہ یہاں رواج نہیں ہے۔
وہ کہتا کہ ” پنوار ” وہ دور ضرور اور جلد آئیگا یاد رکھنا۔
وہ کیسے ۔۔
جیسے تم لوگوں نے مجھے بچایا ویسے ہی ۔۔
تمہارا مطلب کہ موجودہ زمانے کو زوال لگے گا یا پھر مزید ماڈرن ہو گا ۔
ماڈرن کہہ لو یا زوال کہہ لو ” مجھے نہیں معلوم ” ہاں البتہ مجھے یہ ضرور لگتا ہے کہ ہم لوگ نہ انسان ہیں اور نہ ہی کوئی مخلوق۔۔ شاید ہم لوگ پرزے بن گئے ہیں ۔۔ ہر چیز پہ ہم نے قبضہ کر لیا ۔ ڈر خوف ۔ مزاہب ۔ نفسیات ۔ بیماری ۔ خوشبو بدبو ۔ ذائقہ ۔ تعصب امیری غریبی مزاہب خوشیاں غم پاکی ناپاکی عقائد سب کچھ ختم ہو چکا۔ اور اسکے بعد ہم نے کیا کیا ” کچھ نہیں ” رک گئے ہیں ہم ۔ مزید آگے کیوں نہیں بڑھے ۔۔
تحسین اس سے آگے کیا ہے ” پنوار کے چہرے پہ عجیب سے تاثرات ابھرے ایسے تاثرات ” جن سے وہ پہلے کبھی آشنا نہیں تھا۔ پنوار نے اس سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس سے آگے بھی کچھ ہو سکتا ہے ۔
پنوار ” یہیں پہ رکو ۔۔ سٹل ۔ سٹل ” تحسین نے کہا ۔۔۔ مطلب "
اپنے چہرے پہ اضطراب اور اس پہ ابھرنے والے نقش دیکھو ۔۔۔ کیا ” نہیں ۔۔۔ ناممکنات میں سے ہے یہ تحسین ۔
پنوار” المیے حادثات ناممکنات کی ایجاد ہیں جب تک ناممکن میں ممکن ہے سب ممکن ہے ۔
خیر چھوڑو ” آگے سنو ۔۔۔
ہاں تو سب اقوام تہذیبیں زبانیں ادیان میرے پاس آتے ہیں ۔۔ قلم بھی آتا ہے اور قرطاس بھی سب الگ الگ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی جدائی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں ۔ کہ ہماری حق تلفی ہوئی ہے ہمیں ایک دوسرے سے جدا کیا گیا ۔ زمانہ آدم ع سے ہمارا اٹوٹ ساتھ تھا ہم نے کتنی ترقی کی ۔ کئی منازل ساتھ طے کیں ۔ غار سے ہم پکی اینٹوں سیمنٹ لوہے کے مکانوں تک آئے ۔ درختوں کے پتوں سے جانوروں کی کھال اور پھر ریشمی اور سوتی لباس تک پہنچ کر تہذیب یافتہ کہلائے  ۔ گندم سے سٹرابیری انناس سنگترہ انار سے مشروبات اور پھر وائن وہسکی کا سفر۔ کچے گوشت سے باربی کیو تک کا سفر زبان کے ذائقوں کی ترقی کا سفر کہلایا ۔ یہ سب ہمارے معاشرے کا حصہ تھے ۔۔ باقی معاشرے میں برائیوں کی تلافی کے لیے ہم نے مختلف مزاہب کا وجود نظریہ ضرورت کے تحت بویا۔۔ ہر قوم قبیلے کو من کی شانتی چاہیے تھی آئندہ آنے والی نسلوں کو وہ کچھ دینا چاہتے تھے تاکہ انکی نسلیں بھٹکتی نہ رہیں۔ اشاراتی زبانوں کا قیام وجود میں آیا اور انسان نے اسے لوہے اور پتھروں سے پہاڑوں دیواروں کنندہ کرنا سیکھا۔ اسی رسم نے آگے چل کر عروج پکڑا اور یوں قلم اور قرطاس ایجاد ہوئے ۔ جس نے ہر قوم مزہب قبیلے کی تاریخ کے نقش درج کیے ۔
ہو سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں  قلم اور قرطاس کی آپس میں بلکل نہ بنی ہو ۔۔ وجہ شاید مختلف قوموں کے مختلف انداز اور نظریات ۔ ستم ظریقی یہ بھی کہ ہر قوم کی روشنائی کا رنگ الگ تھا ۔ ایسے میں قرطاس کو کوفت زدہ ہونا ہی تھا ۔ زمانوں کو کرب ” اذیتوں مبتلاء اور انسانی کے بد اور اچھء حالات کو دیکھ کر قرطاس نے خود کو لوگوں کے لیے پھیلا دیا کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ اسکا نصیب ہر حال رنگین ہونا ہے۔۔ یوں لوگوں نے قلم سے قرطاس کو رنگین کرنے کا باقاعدہ رواج منظم کیا ” کبھی سیاح تو کبھی پیلا  کبھی سبز تو کبھی سرخ یوں سمجھ لیں یقینا قرطاس نے ہر زمانے میں کسی عورت کا کردار نبھایا ہے کہ استمعال میں لاؤ اور طرح طرح کے گل کھلاؤ ۔ اپنی مرضی کرو ۔ اور حکومت کیے جاؤ ۔ عورت کی طرح ہی اسے ہر رنگ کی عادت پڑ گئی تھی۔۔ اور عادت بھی ایسی پڑی کہ قلم قرطاس کو آپس میں عشق ہو گیا ۔۔دونوں لوگوں کو بھول گئے اور ایک دوسرے کے لمس سے محظوظ ہوتے رہے قطع نظر اسکے کہ روشنائیاں لوگوں کے لیے تلخ ہوتیں شیریں ہوتیں بعض اوقات تو نتائج حقائق اسقدر اندوہناک ہوتے کہ انسان اور جانور میں تمیز کر پانا بھی مشکل ہو جاتا ۔ لیکن نہ تو قلم رکا اور نہ ہی قرطاس نے اپنی وسعتیں تنگ کیں اور لوگ ” لوگوں کا کیا ہزاروں سال سلسلے یوں ہی چلتے رہے ۔۔ پھر ایک دن اچانک سے سب کچھ ختم ہو گیا ۔ اب نہ قلم ہے نہ قرطاس اور نہ ہی روشنائیاں ۔
چلتا ہوں تحسین میاں تمہاری کتھائیں تم ہی بہتر جانو ۔ جس حال میں ہو اسی میں رہو ۔۔
پنوار وعدہ کرو کے لکھو گے ۔
ٹھیک ہے میں نہیں جانتا کہ کیسے لکھونگا ۔ قلم قرطاس روشنائی کہاں سے لاؤں زمانہ قدیم کی باتیں ہیں سب ۔ پریکٹیکل بنو ۔
پنوار ” پریکٹیکل بنو پہ غور کرنا ۔
اب مزید کسی بات چیز حالات واقعات کی گنجائش نہیں تحسین ۔۔
پنوار” یاد رکھنا ہم لاکھ سائینسی روبوٹ انسان ہی سہی ۔ مگر نظام نہیں رکتا اور نہ کبھی منجمند ہوتا ہے ۔۔
بالآخر ہم انسان ہیں ۔ چاہے مشینوں جیسے سہی وقتی کنٹرول حاصل کیا ہم نے ۔ لیکن مستقل نہیں ۔ ہم نہ پہلے مطمعین تھے اور نہ آگے مطمعین ہونگے کم از کم اسی زمینی دنیا میں ۔۔ ہمارا آگے بڑھنا اور نئی دنیا میں جانا ۔۔ شاید منزل اور مقام کہلائے ۔۔
وہ کیسے ۔۔
دیکھو ختم ہونے میں بھی بڑی راحت ہے ۔ امید خواب خواہشات دکھ سکھ خوشیاں رنج و غم غصہ تکبر انا حقیری فقیری آشنائی ملنساری اور انسان کا ارتقائی اور بقائی عمل بہت معنی رکھتے ہیں ۔ مزاہب ادیان فلسفہ علم مثبت ہونا یہاں تک کے نفرت حقارت منفیت انسان کے لیے ہمیشہ سے معنی رکھتے ہیں ۔ وہ جسم بیکار ہے جسکا سایہ نہیں ۔ کیسے خود کو انسان محسوس کریں ہم ۔۔ یہی معاملہ ہے کہ سبھی آس امیدیں لگائے میرے پاس آ جاتے ہیں ۔ میں اکثر ان سے پوچھتا ہوں کہ اب اتحاد کیوں پہلے تو بغص کینہ عداوت دشمنیاں اور ایک دوسرے کی تضحیک تمسخر تمہارے ہتھیار تھے ۔ قلم قرطاس کا غلط صیح استمعال ۔ زمین کو سرخ کرنا ہی تمہارا خاصا رہا ۔ اب کونسی آفت آ گری ہے تم پہ کہ پھر سے اپنا نظام لانا چاہتے ہو ۔۔ ہر بار جواب ملتا ہے جو تھا نظریہ ضرورت کے تحت تھا ۔ ہم نہیں جانتے کیوں کیا اور کیسے۔ مگر ہم کم از کم مطمعین تھے کہ ہم ختم نہ ہونگے اور کسی اور دنیا میں ضرور پہنچے گے ۔ الگ بات خود کے لیے اچھی ” دوسروں کے لیے بری جگہہ کا انتخاب کرتے رہے ۔۔ ہم خود کے متعلق کبھی تذبذب میں نہ رہے کسی بھی زمانہ میں ۔ بس جیتے رہے اور موت نامی سانپ کے ڈسنے سے موت پا کر کسی اور دنیا میں جا کر بستے رہے ۔ اب وہی دنیا چاہتے ہیں اور اگلا مقام چاہتے ہیں ۔ دیکھنا چاہتے ہیں کس کس نے ” کیا کیا پایا ۔۔
بس ۔ بس ۔ بس کر دو تحسین”
او کے ۔۔ بائے میں چلا ۔۔
پنوار تمہارے چہرے پہ اضطراب کیسا ” سٹرلنگ نے پنوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔
نو ” کچھ بھی تو نہیں ہے ۔
شاید تم بھول رہے ہو کہ ہم ایسی دنیا کے باسی ہیں جس میں آنکھ کی پتلی بھی حرکت کرے تو وجہ سامنے والے انسان کو معلوم پڑ جاتی ہے ۔ کیا کہا قدیم انسان نے جس سے تم مل کر آئے ہو ۔۔ مائی ڈئیر میئر سٹرلنگ آپ بخوبی جانتے ہیں پھر حیرت سے سوال کیوں ؟ ۔۔ لگتا ہے اس قدیم انسان کو ویسا ہی بنانا پڑے گا ۔۔ جیسے صدیوں پہلے تھا ۔
کیا ایسا ممکن ہے ۔
ہاں "
ہمیں نہیں بتایا گیا ” یہ زیادتی ہے ۔
تمہاری پروگرامنگ میں گڑ بڑ ہو چکی ہے ۔ درست کرنی پڑے گی رہا وہ قدیم انسان تو اسکو اسکا اصل لوٹا دیتے ہیں ۔ ختم ہو جائے ۔ اور نت نئے لوگوں کو خراب مت کرے یہی بہتر ہے ۔ رہی بات نہ بتانا تو جب اس جدید دنیا کا عمل ہم وجود میں لائے تجربات کا حاصل ہے ۔ ہمیں بنانے والے تجربات کرنے والے  سائینسی جینز منتقل کرنے والے صدیوں پہلے گزر چکے ۔ ہماری معلومات صرف اتنی ہیں کہ ہماری جدیدیت تربیت اور ترقی سائینسی منطق پہ اول اور آخر منحصر ہے ۔ ہمارے جینز میں جو چیز منتقل ہوئی بے عیب تھی ہم چند لوگ تھے وہی لوگ جو اس دنیا کی ابتداء ہیں اور سب کے سب مختلف حصوں کے میئر ہیں ۔ یہ بات ہم نے چھپا رکھی تھی اور کسی کو نہیں بتایا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں ۔
مسٹر سٹرلنگ انداز بدل گئے مگر وہی طاقتور اور لاچار سسٹم زمانہ قدیم جیسا ” رائج تو یہاں بھی ہے تو یہ جدیدیت اور ترقی کا دعوی کیسا ۔۔ ہاں شاید” تحسین درست کہتا ہے ۔ نظام کبھی نہیں رکتا سب عارضی ہے اصل دنیا کچھ اور ہے ۔۔ شٹ اپ پنوار ۔۔
سٹرلنگ میری طاقتیں ختم ہو رہی ہیں میرے سسٹمز کام نہیں کر رہے ۔ کیا وجہ ہے ۔ میں کمزور ہو گیا ہوں ۔۔ تحسین تم کو سزا دی گئی ہے بغاوت کی اور طرح طرح کے وسوسے پھیلانے کی تمہاری اب ضرورت نہیں ۔ تم بس چند منٹوں کے مہمان ہو ۔۔ چند منٹ ” کہتے ہوئے خوشی کے مارے تحسین کی بانچھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ چند منٹ مطلب کہ زمانہ قدیم کے سو سال ٹھیک ہے ۔ شکریہ
عجیب ہو تم ” ہم نے تمہیں ہماری دنیا سے بے دخل کیا اور تم خوش ہو رہے ہو ۔۔۔ چلتا ہوں ۔  مسٹر سٹرلنگ ” لفظ خوشی کو یاد رکھنا ۔۔
وہ اکیلا تھا بہت اکیلا تھا ۔۔ دن بہ دن اسکی حالت بگڑتی رہی وہ کمزور ہوتا گیا ۔ ایک دن اسکی آنکھ سے چمکدار سی چیز نکلی ۔۔ اس دن وہ بہت خوش ہوا ۔ اکثر وہ کہتا کہ ” کبھی آدم ع بھی آیا تھا اس دنیا میں مگر اس وقت اما حوا ع بھی تھیں یہاں ۔ مگر افسوس میں اسی آدم کا بیٹا ہوں اور حوا ع کی اولاد کی خوشبو کہیں نہیں ۔ اسکا لمس اسکی خوشبو مجھے چاہیے ۔۔کوئی پہاڑ کوئی ندی نالا ہو یہاں ۔ جس کے کنارے چند درخت لگے ہوں ان درختوں پہ پھل ہوں ۔۔ اور پہاڑ کے پتھر سے کوئی چنگاری نکل کر بھڑکے کہ سب کچھ جھلس جائے ۔ عجیب سی ناجانے کتنی آوازیں تھیں جو بیک وقت وہ نکالتا ۔۔ وہ اونچا اونچا دھاڑتا چیختا چلاتا اتنا چیختا کہ اسکی آنکھ سے چمکدار چیز برامد ہوتی ۔۔ اسکے بعد اسکی آنکھوں سے مستقل نوے سال تک وہی چمکدار چیز لگاتار نکلتی رہی ۔ اور پھر وہی چمکدار چیز بہنے لگی جسے ہم ہاتھ میں لیتے تو ہاتھ میں نہ سماتی اور ہاتھ سے فورا نکل جاتی۔۔ مجھے اس وقت لگا شاید یہی چمکدار چیز ہی تاریخ ہے ۔ جو خود کو دوہرا رہی ہے ۔ وہ چمکدار چیز اب بہتے بہتے کسی چشمے کی صورت بدل چکی تھی جس سے یہاں کا نظام بہت متاثر ہوا ہمارے لوگوں کے ذہن دن بہ دن بدلتے رہے۔ ہماری سیٹنگز جتنی بھی درست کرتے ۔۔ مگر یاداشتیں کہاں کمزور پڑتیں ایسا ممکن بھی تو نہ تھا کیونکہ ہمارے ہاں سسٹم امپورونگ کا رواج تھا مگر کمزور کا نہیں تھا ۔ سیٹنگز سے لمحہ بھر بعد پھر وہی آوازیں اور نت نئے بدلے حالات ملتے۔۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ آدم ع آیا تو موت فوت ڈر خوف کچھ بھی نہیں تھا ۔ پھر ایک دن اسی آدم ع کا بیٹا قتل ہوا وہیں سے سب داستانوں نے جنم لیا قلم قرطاس ترقی شعور لباس خوراک زبان قوم قبیلے علم حلم ظرف دشمنی نفرت حقارت محبت عشق ادیان مزاہب اور تاریخ کا جنم ہوا ۔ میں بھی آدم کا بیٹا ہوں مگر یہاں پہلے جیسی آدمیت نہیں ۔ زمین سے کٹے ہوئے لوگ ہیں ۔ شاید یہاں جانور ہیں اور انہی جانوروں سے میرے قتل کے بعد پھر سے تاریخ جنم لے گی ۔
تحسین کو مرے صدیاں گزر گئیں۔۔ اکلوتا قدیم انسان جو مٹی سے جڑا تھا ۔۔ ہم نے کھو دیا ۔۔ وہ اس قدیم و جدید دنیا کا پہلا قتل تھا ۔۔ اس قتل کے بعد سے یہاں کے معاملات بری طرح متاثر ہوئے کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا ۔۔ پھر روزانہ لوگوں کو تحسین کی طرح قتل گاہ میں بھیجا جانے لگا ”  نظام یہاں بھی وہی تھے بس عارضی طور پر رکے پڑے تھے طاقت کا توازن ویسا ہی تھا جیسا تحسین کہتا تھا ۔ منجمند ہوئی برف پگھل پڑی تھی جو ہماری ہی آنکھوں سے نکل کر چشموں اور دریاؤں کو جنم دے رہی تھی ہماری دنیا کے لوگ آگے جانا چاہتے تھے ۔ بغاوت دن بہ دن پھیلتی گئی۔۔ ہر فرد کے الگ سے نظریات بنتے چلے گئے وہی سب کچھ واپس لوٹ آیا جسے کھوئے ہزاروں سال ہو چکے تھے ۔ خود کے متعلق اب کوئی تذبذب میں نہیں تھا مگر ایک دوسرے کے متعلق تذبذب میں ضرور تھے ۔ وہی درخت اگے شجر اگے ۔۔ چمکدار موتیوں نے خلاؤں میں معلق گھروں کو معدوم کیا کوئی ڈوب گیا تو کوئی کسی کنارے پہنچا ۔۔ پانی کی سطح جتنی بھی بلند ہو تحسین کہتا تھا کہ کنارے کے مرہون منت ہوتی ہے ۔ کہیں تو رکتی ہے اور جب رکتی ہے ” تب جا کر پانی فاصلوں کو سمت دینے کے قابل ہوتا ہے ۔۔ اور اپنا راستہ چنتا ہے۔ یوں ہی فاصلے بنتے ہیں ۔۔  پھر سے قومیں بنتی چلی گئیں اور وہ جو میئر تھے الگ الگ اپنے دوستوں کے خطوں پہ پہنچ کر پھر سے کسی نئی دنیا آباد کرنے کی تیاری کر رہے تھے ۔۔ مگر تاریخ لکھی جا چکی تھی ۔۔ میں نے تاریخ میں وہی لکھا جو دیکھا اور دیکھا بھی کیا وہی کچھ جو صدیوں پہلے تحسین کہا کرتا تھا ۔۔ کہ المیات اور حادثات کا نام تاریخ  ہے ۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

لچھی کی کرسی ابصار فاطمہ جعفری سکھر ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر ۔62 لچھی کی کرسی ابصار فاطمہ جعفری سکھر ۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے