سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتہ کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتہ کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

لیڈر تو یونہی قوم کی خدمت نہیں کرتا

کرتا ہے سیاست وہ عبادت نہیں کرتا

ہر بار میرے دل نے اسے ووٹ دیا ہے

یونہی تو کوئی مجھ پہ حکومت نہیں کرتا

سکھ چین کے بدلے میں میرا درد لیا ہے

وہ پیار تو کرتا ہے تجارت نہیں کرتا

رکھتا تو ہے کچھ وہ بھی محبت کا سلیقہ

ہاں پیار کے اظہار کی ہمت نہیں کرتا

نا اہل ہے جاہل ہے وہ دنیا کی نظر میں

عالم کہ جو بے وجہ بات پہ حجت نہیں کرتا

مت اس پہ وفاداری کا الزام لگاﺅ

بیوی سے جو ڈرتا ہے بغاوت نہیں کرتا

لوشن وہ لگا رکھا ہے رخسار پہ بینا

مچھر مجھے چھونے کی جسارت نہیں کرتا

روبینہ شاہین بینا

جو ہر برس نیا ماڈل یہاں بناتے ہیں

وہ خاندان نہیں کارواں بناتے ہیں

نری خبر کو خبر جانتے نہیں چینل

لگا کے تڑکے بہت سُرخیاں بناتے ہیں

نقیبِ امن و اماں بھی ہیں اور شکاری بھی

یہی سپر یہی تیر و کماں بتاتے ہیں

یوں استطاعتِ مرلہ بھی وہ نہیں رکھتے

بنانے والے مگر کوٹھیاں بناتے ہیں

سدھارتی ہے کسی دوسرے پیا کے گھر

جسے بھی خواب میں منے کی ماں بناتے ہیں

نوشتہ رکھتے ہیں تردید بھی وہ پہلے سے

جو لیڈرانِ غبی کے بیاں بناتے ہیں

ستم کہ پہئیے بنانے تھے حکمرانوں نے

وہ جس مواد سے بیساکھیاں بناتے ہیں

یہی ہے کام اگر اس کو کام کہتے ہیں

وہ فیس بُک پہ فقط سیلفیاں بناتے ہیں

بہت سے ایسے بھی ہیں میسنے جو دنیا میں

محبتوں کو بھی کارِ ذیاں بناتے ہیں

نویدظفرکیانی

تومِرا قاتل نہیں ہے، باوجود اِس کے، کہ ہے

دلِ مِرا بسمل نہیں ہے، باوجود اِس کے، کہ ہے

جانتے ہیں آپ جس پر آج قابض ہیں جناب

آپ کا وہ دل نہیں ہے، باوجود اِس کے،کہ ہے

رہنمائے قوم کی یہ بات سب پر ہے عیاں

 قوم سے غافل نہیں ہے، باوجود اس کے، کہ ہے

مصلحت کے واسطے وہ اس قدر خاموش ہے

رہنما بزدل نہیں ہے، باوجود اس کے، کہ ہے

قیس کو لیلیٰ یہ کہتی جارہی ہے بار بار

 تو مِرے قابل نہیں ہے، باوجود اس کے، کہ ہے

ہر ادا تیری مجھے منظور لیکن کیا کروں

دِل مِرا مائل نہیں ہے، باوجود اس کے، کہ ہے

منظور قاضی

اُن سے جب تنہائی میں میری ملاقاتیں ہوئیں

بجلی و پانی پہ یا مہنگائی پہ باتیں ہوئیں

شیخ جی کے گھر میں جب سے دو مسماتیں ہوئیں

آئے دن جھگڑے ہوئے، ٹنٹے ہوئے ، گھاتیں ہوئیں

اُن کے کوچے میں ملا جب سے کرائےپر مکاں

دن ہوئے ہیں عید گویا راتیں شبراتیں ہوئیں

پارٹیشن جب ہوا تو آپ ”سید “ ہو گئے

مختلف تب سے ہماری آپ کی ذاتیں ہوئیں

کچھ دنوں کے واسطے میکے میں تھا اُن کا قیام

چین سے وہ دن مرے گزرے، بسر راتیں ہوئیں

کل کچن میں آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر

یوں لگا صحرا میں بھی اِس بار برساتیں ہوئیں

دن تو ہیں سب ایک سے، لیکن گداگر کے لئے

سب سے افضل اور با برکت جمعراتیں ہوئیں

خود تو شوکت انقلابی نظم پڑھ کر چل دیا

دے رہے تھے داد جو اُن کو حوالاتیں ہوئیں

شوکت جمال

دیکھ کر دل میں لڈو لگے پھوٹنے جب وہ آئے تو پوری غزل ہو گئی

ہم کو دیکھا رقیبانِ محفل نے بھی سٹپٹائے تو پوری غزل ہو گئی

اپنی مونچھوں پہ وہ تاﺅ دینے لگے ہم بھی قینچی لئے اُن کی جانب چلے

نصف مونچھیں کٹیں ایک ہی وار میں بڑبڑائے تو پوری غزل ہو گئی

اُن کی باتوں کا انداز کیا تھا عجب منہ سے اُن کے نکلنے لگیں سیٹیاں

ساتھ اُن کا نہیں دے رہی تھی زباں منمنائے تو پوری غزل ہو گئی

اسپِ شیرازی ہیں شاعرِ بے بدل ہر گھڑی آپ کرتے ہیں فکرِ سخن

گھاس کھاتے رہے دُم ہلاتے رہے ہنہنائے تو پوری غزل ہو گئی

اپنے ہونٹوں کو وہ سرخ کرنے لگے پان منہ میں دبائے ہوئے آ گئے

آنکھ چمکا کے کہنے لگے جانے کیا مسکرائے تو پوری غزل ہو گئی

دل کے گوشے میں ہے یاد اُن کی بسی کتنی اچھی تھی وہ رات برسات کی

آ رہے تھے ہمیں مارنے کے لئے لڑکھڑائے تو پوری غزل ہو گئی

کیسا پُرلطف منظر تھا وہ دوستو! سُن رہے تھے سبھی طائرانِ چمن

پھول صاحب تھے ڈالی پہ رطب اللساں گُل کھلائے تو پوری غزل ہو گئی

تنویر پھول

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محمودہ۔۔۔سعادت حسن منٹو

محمودہ سعادت حسن منٹو مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے