سر ورق / مضامین / قیلولہ اور جدید سائنس محمد قاسم سرویا

قیلولہ اور جدید سائنس محمد قاسم سرویا


یہ مشہور کہاوت ہم نے بچپن سے سن رکھی ہے کہ "دوپہر میں کھانے کے بعد سونا چاہیے، اگرچہ کانٹوں پر ہی کیوں نہ سونا پڑے اور رات کے کھانے کے بعد لازمی چہل قدمی کرنی چاہیے خواہ دہکتے کوئلوں پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے۔ "

اور یہ بات تو ہم سب کتنے عرصے سے پڑھتے سنتے آ رہے ہیں (لیکن عمل کم ہی کرتے ہیں) کہ "جلدی سونا اور جلدی اٹھنا، انسان کو صحت مند، دولت مند اور عقل مند بنا دیتا ہے۔ "

سیانے کہتے ہیں۔۔۔ نیند، لسی اور لڑائی کو جتنا بڑھا لیں، بڑھ جائے گی۔ لیکن حد سے بڑھی ہوئی ہر چیز بعد میں تنگ ہی کرتی ہے۔ اس لیے میانہ روی بہترین  روش ہے۔ یہ مضمون پڑھ کر اور کسی کو خوشی ہو نہ ہو، ان لڑکوں اور لڑکیوں کا دل خوشی سے ضرور چھلانگیں مارنے لگے گا جن کو نیند بہت پیاری ہوتی ہے۔ ان کے پاس ڈھول، ڈرم یا پیپے بجاتے رہیں، انھیں آس پاس کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور پھر ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ امیوں کو ٹھنڈے پانی کی بھری بالٹی انڈیل کر ان "پاور سلیپرز” اور نیند کے رسیاؤں  کو منجی یا بیڈ کی جان چھوڑنے پر مجبور کرنا پڑتا ہے۔

نیند اور آرام کے لیے سونا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ میٹھی نیند کے مزے لینے کے بعد ہم ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی کو بھرپور انداز سے گزارنے میں ایک بار پھر سے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ اگر اللہ نے رات اور نیند کی نعمت سے نہ نوازا ہوتا تو لوگوں نے "چتّوپہر” کام کر کر کے ہی خود کو ہلکان کر لینا ہے۔

رب نے دن بنایا کام کرنے کو

اور  رات دی آرام کرنے کو

نیند کی اقسام:

عام انسانوں کے لیے تو سونا بس سونا ہی ہے۔ یعنی منجی پر لام لیٹ ہوئے اور نندیا پور کی وادی میں پہنچ گئے۔ ان کے لیے یہ بڑی حیرانی والی بات ہے کہ نیند کی بھی کوئی اقسام ہو سکتی ہیں۔ جی ہاں نیند کو چار مختلف درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1۔ اونگھ یا نیند کا خمار۔ اس حالت میں پلکوں پر ہلکی سی نیند کا خمار ظاہر ہوتا ہے اور نیند سے پلکیں بوجھل ہو جاتی ہیں، لیکن انسان اپنے ماحول سے باخبر رہتا ہے۔ عربی میں اسے اَلسِنۃٌ کہتے ہیں۔

2۔ غنودگی: اسے آدھی نیند بھی کہتے ہیں۔ یہ سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت ہوتی ہے اور تقریباً تمام اعضاء مضمحل ہو جاتے ہیں لیکن جگانے پر انسان آسانی سے بیدار ہو سکتا ہے۔ اسے النُعاس کہا جاتا ہے۔

3۔ گہری اور بے خبری کی نیند: دنیا وما فیھا سے بے خبر ہوکر یا عرف عام میں گھوڑے بیچ کر سونا یا لمبی تان کر سونا یا ‘کڑھاڑے’ مار مار کر سونا اسی کو کہتے ہیں۔ عربی میں اس کے لیے النَومٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

4۔ خواب دیکھنے والی نیند: یہ ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان خوابوں کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ ہم نیند کی حالت میں ایسی بہت سی چیزیں دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں جو بیداری کی حال میں نہیں دیکھ سکتے۔ اسی کو خواب کہتےہیں۔ خوابوں میں کبھی خوشی، کبھی غم اور کبھی خوف والی کیفیات ذہن میں ابھرتی ہیں جو اکثر بیداری کے ساتھ ہی فوراً مٹ جاتی ہیں لیکن بعض یاد بھی رہتی ہیں اور بعض خواب سچے بھی ثابت ہوتے ہیں۔

نیند کا ہماری زندگی میں بہت عمل دخل ہے اور اپنی عمر کا تقریباً آدھا حصہ ہم سو کر گزار دیتے ہیں۔ لیکن آج کا ہمارا موضوع ہے کہ کب اور کتنا سونا چاہیے؟ ایک نارمل بالغ انسان کے لیے چھے سے آٹھ گھنٹے کی نیند روزانہ بہت ضروری ہے۔ جو اس سے کم سوئے گا، اس کی کارکردگی میں کمی آئے گی اور صحت بھی خراب ہوگی لیکن ساتھ ہی یہ بات میں ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو زیادہ سوتا ہے وہ زیادہ کھوتا ہے۔ لیکن اگر رات کی عبادت (تہجد)، سحری میں اٹھنے یا کسی اور وجہ سے نیند پوری نہیں ہورہی تو ایسے میں دوپہر کو قیلولہ (تھوڑا آرام) کر لینا ہمارے جسمانی نظام کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

موسم گرما میں دوپہر کے کھانے (رمضان میں ظہر کی نماز) کے بعد سے عصر تک کا وقت عموماً استراحت اور آرام کے لیے ہوتا ہے۔ اس آرام کو عربی زبان میں "قیلولہ” یعنی تھوڑی دیر نیند لینا یا جھپکی لینا کہتے ہیں۔ اگر اس دوران کوئی اہم ذمہ داری نہ ہو تو دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کرنا انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم سے قیلولہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے اور آج کے یورپی محققین نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ قیلولہ کرنے سے انسانی صحت پر بہت خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہمارے پیارے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "قیلولہ کیا کرو (یعنی دوپہر کو کچھ دیر سو لیا کرو) کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ ” (سلسلہ صحیحہ للالبانی: 1647اخرجہ ابو نعیم والطبرانی)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم جمعہ کی نماز جلدی پڑھ لیتے اور پھر قیلولہ کرتے۔ (البخاری: 940 باب القائلہ بعد الجمعہ)

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے اور پھر تھوڑی نیند لیتے یعنی قیلولہ کرتے اور یہ بھی فرمایا کہ ہم دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کی نماز کے بعد رکھتے۔ ” (صحیح بخاری)

ایک اور روایت میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا۔ ” دن کے روزے میں سحری سے مدد لو اور قیلولہ سے رات کی عبادت میں مدد لو۔ ” (ابنِ ماجہ 1693)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیلولہ کرنے کا صحیح وقت کتنا ہے؟ یہ دورانیہ 20 منٹ سے لے کر ایک ڈیڑھ گھنٹے تک ہو سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں برطانوی یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائر کے ماہرین نے ایک تحقیق میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کو تین گروپس میں تقسیم کیا۔ ایک گروپ کو روزانہ دوپہر کو تیس منٹ یا اس سے کم قیلولہ کرنے اور دوسرے گروپ کو ذرا زیادہ نیند لینے کو کہا، جبکہ تیسرے گروپ کو دوپہر کے وقت سونے سے روک دیا گیا۔ تین ہفتے بعد نتائج میں پتا چلا کہ تیس منٹ یا اس سے کم نیند لینے والے افراد میں خوشی اور بہتری کا معیار دوسروں کی نسبت بہت بلند تھا۔ ان میں 68 فی صد نے کہا کہ وہ خود کو پہلے سے زیادہ خوش اور پرسکون محسوس کر رہے ہیں۔ طویل نیند لینے والوں میں یہ شرح دوسروں سے کم 57 فی صد جبکہ دوپہر کو نہ سونے والوں میں یہ شرح 50 فی صد رہی۔

2016ء میں چین کی ایک کمپنی نے ملازمین کے لیے دوپہر کے کھانے کے بعد آدھے گھنٹے کی نیند لازمی قرار دے دی اور کمپنی ملازمین کے لیے ضروری کر دیا گیا کہ وہ دوپہرکے کھانے کے بعد ملازمت کے اوقات میں آدھا گھنٹہ آرام کریں۔ رپورٹ کے مطابق چینی کمپنی کے اس اقدام کے نتیجے اس کی پیداوار میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چینی کمپنی کا کہنا ہے کہ دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر آرام کرلینا کارکردگی میں حیرت انگیز اضافے کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا دیگر کمپنیوں کو بھی اس انوکھے قانون کا اطلاق کرنا چاہیے۔

جاپان میں دوپہر کو ملازمت یا کام کے دوران سونے کے لیے ایک مخصوص لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جسے ‘انیموری’ کہتے ہیں اور اس کا مطلب ہے موجود ہوتے ہوئے سونا۔ ماہرینِ جاپان کے مطابق قیلولہ کرنے سے رات کی نیند سے زیادہ فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ آپ کو ‘نیپنگ’ کے لیے کسی پرسکون اور کم روشنی والی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ مطلوبہ نتائج مرضی کے مطابق حاصل کیے جا سکیں۔

قیلولہ کے طبی فوائد:

دوپہر کو قیلولہ کرنے سے ہم ایک سنت پر عمل کرنے کا ثواب تو پا ہی لیتے ہیں، اس کے علاوہ ماہرین کی جدید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ۔۔

1۔ قیلولہ کرنے سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

2۔ تھوڑی سی جھپکی لینے سے ذہنی دباؤ میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

3۔ جلدی جاگنے اور اگلے دن کے کام چستی سے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

4۔ انسان کو خوشی فراہم کرنے والی حس تیز ہوجاتی ہے۔

5۔ ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پڑھائی اور کام میں لگن پیدا ہوتی ہے۔

6۔ تعلیم، حافظہ اور یادداشت میں استحکام اور بڑھوتری ہوتی ہے۔

7۔ تھوڑی سی جھپکی سے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

8۔ خون کے نظام میں بہتری اور بلڈ پریشر میں کمی ہو جاتی ہے۔

9۔ جسمانی توانائی بحال اور ذہنی تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔

10۔ قیلولہ سے اگلے کئی گھنٹوں تک آپ چاق چوبند رہ سکتے ہیں۔

11۔ دوپہر کو سونے سے ہمارے جسم کا دفاعی نظام بیماریوں کے خلاف زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔

12۔ قیلولہ سے ذہن تازہ دم ہو جاتا ہے اور کام، پڑھائی اور ڈرائیونگ کے دوران غنودگی محسوس نہیں ہوتی۔

13۔ دن میں کچھ دیر کی نیند سیکھنے کے عمل کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

14۔ جو لوگ دوپہر میں ایک گھنٹہ سونے کے عادی ہوتے ہیں وہ یاداشت، ریاضی کے مختلف سوالات اور دیگر دماغی صلاحیتوں والے کاموں کو زیادہ بہتر طریقے سے کرپاتے ہیں۔

15۔ بوجھل پن دور ہوجاتا ہے اور قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

گرمیوں میں سکول، کالج، یونیورسٹی، دفتر حتٰی کہ کھیتوں سے واپسی کے بعد یا دکان پر اور دورانِ کاروبار دوپہر میں ہمیں ضرور بیس سے چالیس منٹ کا وقفہ کرنا چاہیے اور ظہر کے نماز کے بعد تھوڑا سا آرام کر کے اپنی صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

والدین اولاد کا مزاج سمجھیں!! ﺁﺻﻒ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻧﺼﺎﺭی‏

والدین اولاد کا مزاج سمجھیں!! ﺁﺻﻒ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻧﺼﺎﺭی‏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے