سر ورق / مضامین / انداز اپنا اپنا کائنات بشیر

انداز اپنا اپنا کائنات بشیر

 

 

ایک صاحب بچپن میں ہی مجھ سے خائف ہو گئے تھے۔

 انجانے میں ہی ۔۔۔!

 آج خیال آتا ہے تو بے اختیار مسکرا دیتی ہوں۔

میرے بچپن، قریب لڑکپن کا وقت تھا۔والد صاحب کے ایک رشتے کے ماموں ہوا کرتے تھے۔ اللہ جانے، ان کے ساتھ کیا مسئلہ تھا کہ تب ان کے نہ داڑھی تھی نہ مونچھ ۔۔۔!

 بھائی اور میرے لیے وہ ساری زندگی ایک مسٹری بنے رہے۔آج کے دور کے مطابق یہ اتنی حیران کن بات نہیں کہ شاہ رخ خان، سلمان خان تک کو بھی ان چیزوں سے فراغت ہے لیکن آپ اس زمانے دور کے حساب سے سوچیں ذرا۔۔۔ جب دلیپ کمارکا دور رہا اور گلوکار کندن لال سہگل جیسی نایاب مونچھیں ہوا کرتی تھیں ۔ ان سے بھی بڑھ کر اونچی ناکوں کا مسئلہ ہوا کرتا تھا اور مونچھوں کو تاؤ دینے کا دور تھا تو وہ بچارے ان لوازمات کے بغیر تھے۔

یقینا ان کو بھی اس بات کا احساس کمتری تو ہوتا ہو گا ، تبھی تو وہ اپنے کندھوں پرایک بڑا چار خانوں والا رومال رکھا کرتے تھے۔ مجھے اور بھائی کو پورا یقین تھا کہ موقع محل دیکھ کروہ اس رومال سے اپنا منہ چھپا لیتے ہوں گے۔۔ بہت بعد میں جا کر پتہ چلا کہ واقعی وہ اس کا یہ فائدہ بھی اٹھا لیتے تھے کہ رومال سر پر ڈال لیتے تھے اور نادانستگی میں اسی رومال کا ایک کوناپکڑ کر ہاتھ کی ہتھیلی منہ پر رکھ لیتے تھے یا کبھی رومال کا کونا دانتوں میں دبا لیتے تھے۔ اوپر سے ان کا جسم بھی قدرے بھاری تھا۔ جس کی وجہ سے بغیر داڑھی ، مونچھ کے وہ ایک موٹی ، بھاری عورت کی طرح دکھائی دیتے تھے۔اور جب کبھی وہ سر پر رومال ڈال کر عورتوں کی محفل میں بیٹھتے ہوتے اور اپنا ہاتھ سوچنے کے انداز میں منہ پہ رکھ لیتے تو ان عورتوں میں ایسا گھل مل جاتے تھے کہ دیکھنے والوں کو وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے تھے۔۔

ایک بار وہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کسی کے گھر فوتگی کا پُرسہ دینے جا رہے تھے۔ بیل گاڑی پہ عورتوں کے درمیان چوکڑی مارکر وہ راجہ اِندر بنےبیٹھے تھے ۔ مٹی سے بچنے کے لیے انھوں نے اچھی طرح چادر اوڑھ رکھی تھی۔حسبِ معمول سر پر چار خانے کا رومال تھا جو  پہلے سے زیادہ اہتمام سےلے رکھا تھا۔ جس سے ان کا ماتھا بھی ڈھکا ہوا تھا۔ رومال کا ایک کونا اوپر نیچے کے دو دانتوں میں دبا رکھا تھا۔راستے میں پیدل جاتی دو عورتوں نے بھی بیل گاڑی میں بیٹھنا چاہا۔ تو ایک عورت نے بیل گاڑی پہ سوار ہوتے ہوئےماموں کے چوکڑی مارے گھٹنے کو بری طرح ہلا کر کہا،

” اے بھین، ذراتمیز سےتھوڑی جگہ روک کر بیٹھو نا،یہ کیا پوری گڈ مل کے بیٹھی ہو۔”

اس بات پہ ماموں بری طرح گڑبڑا گئے۔ اور باقی افسردہ بیٹھی عورتوں کو اتنی ہنسی آئی جو انھوں نے موقع محل کے حساب سے بڑی مشکل سے روکی۔ بس اپنی نم آنکھیں پوچھنے لگیں۔۔

ویسے ماموں کو اس چیز کے فائدے بھی ہوا کرتے ۔ انجان عورتیں بے تکلفی سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتی تھیں یا انھیں بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ لیتی تھیں اور کبھی کبھار دھول بھی جما دیا کرتی تھیں۔ ۔بلکہ سننے میں آیا تھا کہ ایک ، دو نے تو بے تکلفی سے انھیں چٹکی بھی کاٹ لی تھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں حقیقت پتہ چلنے پرانھی عورتوں کو ایک دم کرنٹ لگتا تھا اور وہ 220 وولٹیج کی بجلی کھا کر پیچھے کو گرتی تھیں۔

ایک بار بس میں ان کے ساتھ ایسا ہوا تھا۔ وہ مزے سے ایک خالی بڑی سیٹ پر بیٹھے تھے اور حسب عادت سر پر اپنا رومال ڈالا ہوا تھا اور اپنا ہاتھ اپنے اسی مخصوص روما ل سمیت منہ پر رکھا ہوا تھا ۔ بس میں کچھ عورتیں سوار ہوئیں اور خالی سیٹ کی تلاش میں ان تک پہنچ گئیں اور ایک عورت نے بڑی بے تکلفی سے انھیں کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور اس ڈائیلاگ کے ساتھ ان سے مخاطب ہوئی۔۔،

” اے بہن ، پیچھے ہٹو اتنی بڑی سیٹ پہ اکیلی بیٹھی ہو۔۔”

 اور ایسے موقعوں پر وہ بچارے اپنے آپ کی صفائی بھی پیش نہیں کر پاتے تھے البتہ اگر فیملی کا کوئی اور ممبر ان کے ساتھ ہوتا تو اسے تپ چڑھ جاتا اور وہ اتنا بڑا تکا لگانے اور غلط سمجھنے والوں کو اچھی خاصی ڈانٹ پلا دیتا تھا کہ،

” نظر نہیں آتا یہ بھائی ہیں، بہن نہیں۔۔”

 اور ڈانٹ کھانے والے اپنی نظروں پر شبہ کر کے رہ جاتے تھے۔

مجھے یاد ہے ایک بار جب وہ میرے ہوش سنبھالنے پر پہلی بار ہمارے گھر آئے تھے تو میں نے پہلے منہ کھول کر انھیں دیکھا تھا اورپھر والد صاحب کو بتانے بھا گی تھی۔ والد صاحب اپنا کوئی کام کر رہے تھے اور میں جب تک ان تک پہنچی تو بھاگنے سے کم اور شدتِ جذبات سے میرا سانس پھول رہا تھا اور میں بار بار کہے جا رہی تھی۔ ،

"وہ آئے ہیں، وہ آئے ہیں، وہ آئے ہیں۔۔”

  والد صاحب میرے اتنے ایکسائٹڈ ہونے پر پوچھ رہے تھے،

” بھئی ، کون آئے ہیں ؟ کون آئے ہیں آخر۔۔”

 اور میں نے بالآخر جواب دیا تھا۔،

” اباجی، پتہ نہیں وہ کون ہمارے گھر آئے ہیں جو نہ تو مرد نظر آتے ہیں نہ عورت، جن کے نہ داڑھی ہے نہ مونچھ”

 اور اتنی دیر میں وہ ماموں دروازے میں آ کھڑے ہوئے تھے اور انھوں نے بھی یہ سن لیا تھا۔۔ والد صاحب کی شرمندگی اپنی جگہ تھی اور وہ ماموں بھی اپنے کھسیانے پن میں والد صاحب سے کہہ رہے تھے،

” بچی،بڑی شرارتی ہے۔ "

پھر میں نے نوٹ کیا کہ اس واقعےکے بعد وہ مجھ سے تھوڑا خائف ہی رہتے تھے، شائد میں نے ان کے بارے میں کچھ زیادہ ہی سچ بول دیا تھا یا ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔ وہ کبھی کبھی دوسرے بچوں کو خوب ڈانٹ لگایا کرتے تھے لیکن مجھے ان سے کبھی ڈانٹ نہيں ملی۔ تو آپ سمجھ جائیے نا مجھ پر ان کی اس نظرِعنایت اور کرم کی وجہ۔۔!

آپ لوگ کچھ اور ادھر ادھر کی نہ سوچنے لگ جائے گا۔ وہ واقعی ابو کے رشتے کے ماموں ہی تھے۔ انھوں نے شادی بھی کی تھی لیکن اولاد سے محروم تھے۔میں اور بھائی کبھی کبھی ان کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ اُس زمانے کے حساب سے بہت ۔۔۔ مس فٹ ۔۔۔ تھے۔ اگر وہ آج کے دور میں پیدا ہوتے تو یقینا ان کو اتنا زیادہ سفر نہ کرنا پڑتا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"امرت کور“  …خلاصہ۔۔۔ حمید اختر

"امرت کور“ تحریر۔۔۔ امجد جاوید خلاصہ۔۔۔ حمید اختر بلال احمد انگلینڈ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی ہاسٹل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے