سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن ۔ نادیہ احمد۔ قسط نمبر 3

ڈھل گیا ہجر کا دن ۔ نادیہ احمد۔ قسط نمبر 3

ڈھل گیا ہجر کا دن
قسط نمبر ۳
(پچھلی قسط کا خلاصہ)
مسٹر اینڈ مسز انصاری بظاہر ایک آئیڈیل ، خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی شہر منتقل ہوچکے ہیں جہاں سالوں کی تگ و دو کے بعد وہ ایک خیراتی ہسپتال احسن طریقے سے چلا رہے ہیں۔ اس کام میں انکی بیوی ڈاکٹر نور انصاری انکی معاونت کر رہی ہیں ۔ مسٹر اینڈ مسز انصاری کے دونوں بچے سمیر اور فریحہ بھی اپنی چھٹیوں میں انکے پاس رہنے آئے ہیں۔ سمیر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پہ فائز ہے جبکہ فریحہ ایک ڈاکٹر ہے جو اسلام آباد سے حال ہی میں اپنی ہاو¿س جاب مکمل کرکے آئی ہے اور دوبارہ اسلام آباد کے ہی ایک بہت بڑے ہسپتال میں اپنی ملازمت جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن ڈاکٹر نور اسے چند دن ہسپتال میں انکی مدد کرنے پہ بخوشی راضی کرلیتی ہیں۔ علینہ ایک کم گو، الجھی ہوئی اور معاشرتی مسائل کا شکار لڑکی ہے۔ وہ مقامی کالج میں زیرِ تعلیم ہے اور امتحانات کے آخری دن مونس کے ساتھ ہونے والے مڈ بھیڑ کے بعد مونس کو ایک تھپڑ رسید کرتی ہے لیکن حواس باختہ ہوکر کالج کی عمارت سے نکلتے ہوئے وہ اچانک سمیر کی گاڑی سے ٹکرانے لگتی پر سمیر وقت پر بریک لگادیتا ہے۔ علینہ بے ہوش ہوجاتی ہے اور سمیر اسے زینب وقار ہسپتال اپنی والدہ کے پاس لے آتا ہے۔ علینہ کو جلد ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے ۔ مونس غصے میں بپھرا پہلے اپنے دوستوں کو باتیں سناتا ہے اور پھر اپنی والدہ رخشندہ سے علینہ کی شکایت کرتا ہے جو اپنے لاڈلے بیٹے سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ خاور علینہ سے ملنے آتا ہے پر وہ اس سے جان چھڑا کر اپنے کمرے مین چلی جاتی ہے۔ شاکرہ اسکی شکایت اسکی ماں سے کرتی ہے پر علینہ کا انداز ہمیشہ کی طرح لاتعلق اور احساسِ کمتری کا مارا ہے۔شہباز سفینہ کو بے دردی سے مارتا ہے ۔ بازو ٹوٹنے کی وجہ سے فاطمہ چارو ناچار اسے ہسپتال لے آتی جہاں ڈاکٹر کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسکے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوا بلکہ اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر کے سوالوں کا گول مول جواب دے کر وہ گھر چلی آتی ہے پر فاطمہ دل ہی دل میں ماں کی بے جا خاموشی پہ شکوہ کناں ہے۔ شہباز گھر اور بیوی سے لاپرواہ جوا کھیلنے چلا جاتا ہے جہاں اسکا اوباش دوست عارف اسے ادھار دیتا ہے۔ڈاکٹر فریحہ بے رحمی سے پیٹی گئی عورت کی بے بسی اور لاچاری پہ جہاں درد محسوس کرتی ہے وہیں اسے اس عورت کی خاموشی پہ کوفت ہوتی ہے ۔ سمیر اور اسکے درمیان اس موضوع پہ ہونے والی بحث ڈاکٹر نور کو انتہائی اپ سیٹ کر رہی ہے اور پریشانی کے سائے ڈاکٹر انصاری کے چہرے پہ بھی نمایاں ہین۔ سمیر اتفاقاََ ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن کر الجھ سا جاتا ہے ۔اسے یقین ہے اسکے والدین کے درمیان کشیدگی ان کے ماضی کے کسی راز سے وابستہ ہے ۔ علینہ کو لے کر عامر اپنی بیوی کو بے نکت سناتا ہے ۔ دونوں کے درمیان دھماکے دار جھگڑا ہوتا ہے جس میں عامر اسے حال اور ماضی کے طعنے دیتا ہے پر وہ خاموشی سے سن کر صبر کرتی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی ایک بار پھر اس کا گھر ٹوٹے اور اس کی اولاد کو خمیازہ بھگتنا پڑے۔ سمیر اور کشمالہ کے درمیان ملاقاتوں کے سلسلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ دونوں کی سالوں پرانی دوستی ایک نئے رشتے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ علینہ کی سہیلیاں آکر اسے مونس کے حوالے سے ڈرا دیتی ہیں ۔ وہ اچھی خاصی پریشانی مین مبتلا ہے کہ کہیں واقعی مونس اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے لیکن وہ خاور سے مدد لینا نہین چاہتی۔ اندھیرے میں چھت کی طرف جاتے گھر کا داخلی دروازہ کھلا پاکر وہ ٹھٹھک جاتی ہے ۔ دروازے میں کھڑے سایے کو دیکھ کر علینہ بے اختیار چیخ مارتی ہے پر اچانک سایہ آگے بڑھ کر مضبوطی سے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتا ہے جس سے علینہ کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
(اب آگے پڑھئیے)
سیاہ کرولا گلی کے نکڑ پہ آکر رکی ۔ بہترین اور جدید تراش خراش کی مہنگی پوشاک پہنے اترنے والی دونوں خواتین کا انداز مہذب تھا۔ تقریباََ ہر ایک کی نگاہ انہی پہ مرکوز تھی۔ گلی میں زیادہ تر دوکانیں تھیں اور چند ایک رہائشی مکان بھی تھے۔بجلی گئی ہوئی تھی۔ سڑک پہ اندھیرا تھا لیکن دوکانوں میں یو پی ایس کی بدولت مدہم بلب روشن تھے ۔ یہاں وہاں نظر دوڑاتے بالآخر وہ دونوںایک دوکان کی طرف بڑھیں جبکہ گاڑی اب دوکان کے سامنے پارک کی جاچکی تھی۔
”السلام علیکم“۔سامنے سے نکلتی ایک ستائیس اٹھائیس سالہ عورت نے پرجوش لہجے میں کہا تو ان دونوں ہی کہ چہرے پہ شناسائی کی جھلک ابھری۔
”وعلیکم السلام حمیرا“۔ فریحہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”ڈاکٹرنی صاحبہ کیسی ہیں آپ؟“ اسکی خوشی دیدنی تھی یوں جیسے اچانک ان دونوں کو اپنے سامنے دیکھ کر اسکے ہاتھ گنجِ قارون لگ گیا ہو۔
”اللہ کا شکر ہے، تم اپنی بتاو¿۔ ٹھیک ہو نا اب؟“یہ وہی عورت تھی جو ابھی چند دن پہلے ان کے ہسپتال میں بری حالت میں لائی گئی تھی اور جس کا علاج فریحہ اور دیگر عملے نے بہت پیار اور دلجمعی سے کیا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں جی “۔ چادر کا پلو مڑوڑتے ہوئے وہ عام سے لہجے مین بولی۔ اسی پل سمیر بھی ان کے پاس چلا آیا ۔ ان دونوں کو یوں کھڑے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں سوال تھا۔
”سچ کہہ رہی ہو نا، پھر تو نہیں مارا تمہارے شوہر نے تمہیں؟“ فریحہ کے سوال پہ جہاں اس عورت کے چہرے پہ شرمندگی ابھری تھی وہیں سمیر کے چہرے کی الجھن کم ہوئی۔ ڈاکٹر نور البتہ خاموش کھڑی تھیں۔
”نہیں جی پہلے بھی کہاں مارتا تھا“۔ نظریں جھکائے اس نے ایک بار پھر دفاع کیا۔ فریحہ نے تاسف سے سر جھٹکا جبکہ پاس کھڑے سمیر کے چہرے پہ بیزاری نمودار ہوئی۔ ایک تو کل رات سے وہ اچھا خاصہ اپ سیٹ تھا۔ آج کا پورا دن وہ خود کو کمرے میں بند کئے بیٹھا رہا ۔ کل رات اپنے والدین کی آدھی ادھوری باتوں نے اسے بے حد ڈسٹرب کردیا تھا۔ ان کے درمیان کشیدگی کی نوعیت وہ نہین جانتا تھا پر جو بھی تھا اسے شاک لگا تھا پھر بھی فریحہ کے مسلسل اصرار اور ڈاکٹر نور کے کہنے پہ وہ شاکرہ کے گھر علینہ کی خیریت دریافت کرنے اور دوسرے لفظوں میں معذرت کرنے جانے پہ رضامند ہوگیا تھا۔
”جھوٹ بول کے اس کا دفاع نہیں اپنا نقصان کر رہی ہو حمیرا ، بلکہ شائد کرچکی ہو۔ اب تو بلا وجہ اس کی طرفداری مت کرو“۔ فریحہ تپ کر بولی ۔ وہ جو اتنے دن کی فرسٹریشن جمع تھی اسے نکالنے کا نادر موقع ہاتھ لگا تھا ۔ سمیر نے امداد طلب نظروں سے ڈاکٹر نور کی طرف دیکھا تو انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں مین تسلی دی۔
”سمیر یہ دوکان کے ساتھ والا چھوٹا گیٹ ہے ‘۔ فریحہ کی بات کاٹ کر انہوں نے کہا تو اس نے منہ بناتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔ بہرحال وہ دروازہ کھٹکھٹانے لگا جو کہ اتفاق سے کھلا ہوا تھا۔
شاکرہ شہر کے وسط میں واقع اس پرانے محلے میں برسوں سے رہتی تھی۔ نیچے چند دوکانیں اور اوپر پرانی طرز کا بنا ہوا یہ مکان اس کا کل اثاثہ تھا۔ دوکانیں کرایہ پہ اٹھا رکھین تھیں جس سے اچھی گزر بسر ہوجاتی تھی اور مکان مین رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔ اب اتنے سالوں بعد شہر میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ لوگون کا رجحان بدل رہا تھا اور رہائشی محلے ، کمرشل علاقوں سے الگ ہوچکے تھے پھر بھی شاکرہ خود کو اس گھر میں محفوظ اور مطمعن محسوس کرتی تھی۔ گو آج اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ چکی تھی اور اگر وہ چاہتی تو اس کے بدلے ایک بہتر مکان اچھے رہائشی علاقے میں خرید سکتی تھی لیکن اسے اپنا پرانا طرزِ زندگی بھاتا تھا۔ وہ برسوں سے ان لوگوں کے درمیان رہ رہی تھی۔ یہ سب اس کے سکھ دکھ کے ساتھی تھے اور اسے انہی لوگوں مین رہنا پسند تھا۔
”تو اور کیا کروں جی، سر کا سائیں ہے وہ مار کے گاڑ بھی دے تو کیا کرسکتے ہیں“۔ حمیرا نے آنسو پیتے ہوئے کہا۔سمیر نے دوسری بار دروازہ بجایا۔ بجلی نہ ہونے کے باعث گھنٹی بجانے کا تو کوئی فائدہ تھا نہیں پر دستک پہ بھی کوئی جواب نہ آیا تھا۔
” یہیں سے سیڑھیاں اوپر جارہی ہین۔ تم چلو ہم آتے ہیں“۔ ڈاکٹر نور کے کان حمیرا کی طرف تو دھیان سمیر کی طرف تھا۔ انہوں نے جلدی سے کہا تو سمیر نے مڑ کر حیرت سے ماں کی طرف دیکھا۔ انہوں نے سر کے اشارے سے اسے اندر جانے کا کہا۔
”شوہر کی عزت کرو، اس کی خدمت کرو پر اسے اپنا آقا مت بناو¿۔ وہ ساتھی ہے ، تمہارے دکھ درد کا شریک ۔ مار کر گاڑنے کا اختیار تو اسے اللہ نے بھی نہیں دیا پھر تم کیوں اسے یہ حق دے رہی ہو۔“ اس سے پہلے کہ فریحہ کچھ بولتی ڈاکٹر نور نے اس کی بات کا جواب دیا تھا۔ سیڑھیاں چڑھتے سمیر نے ان کی آواز سنی۔
”شوہر کی تابعداری ضرور کرو پر خود پہ ظلم نہ اسے کرنے دو نا خود کرو کیونکہ یہ جان اللہ کی امانت ہے اور اسے کسی ظالم کی خاطر ضائع نہیں کرتے۔“ بہت ٹھہرا ہوا انداز اور دل مین اتر جانے والا لہجہ جو ان کا خاصہ تھا ۔ اپنے ہر لفظ پہ زور دیتے انہوں نے بہت اپنائیت سے سمجھایا تو فریحہ کے چہرے پہ دو سو واٹ کی چمک نمودار ہوئی۔ یہی تو وہ کہنا چاہتی تھی جو اس کی ممی نے کہہ دیا۔ پر شائد وہ اس انداز مین کہہ نہ پاتی۔ وہ ابھی اتنی میچور نہین تھی جو سامنے والے کو اپنی بات اتنے پر اثر انداز میں سمجھا پاتی۔ دوسری طرف حمیرا نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا تو اس کے چہرے پہ پہلے والی شرمندگی نہیں تھی بلکہ بات کو سمجھنے والا تاثر تھا جس نے فریحہ کو مطمعن کردیا تھا۔
”میں کوشش کروں گی بڑی ڈاکٹرنی جی آپ کی نصیحت پہ عمل کرسکوں“۔ پہلی بار اس کی مدافعتی ڈھال میں دراڑ پڑی تھی۔
”ہاں بالکل، کوشش ضرور کرنا کیونکہ کوششیں اکثر کامیاب ہوجاتی ہیں“۔ ڈاکٹر نور نے اسکا بازو تھام کر کہا تو فریحہ بے اختیار مسکرا دی۔
”آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں جی آپ یہاں کیسے آگئیں ہیں“؟ بالآخر اس نے ان دونوں کی آمد کا مقصد پوچھ ہی لیا۔
”یہاں ہماری ایک رشتے دار رہتی ہیں“۔ ڈاکٹر نور نے کھلے دروازے کی طرف اشارہ کرکے مختصر بتایا۔ اگلے چند لمحو ں میں الوداعی کلمات کہتیں وہ دونوں بھی سمیر کے پیچھے گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگی تھیں۔
٭٭٭
دونوں ہاتھ گود میں رکھے وہ سر جھکائے کرسی کے کونے پہ ٹکی تھی، یوں جیسے وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی ۔ شاکرہ کے چہرے پہ ان گنت تاثرات ایک ساتھ تھے۔ غصہ ، شرمندگی، تاسف۔۔۔۔۔وہ کبھی پریشانی سے اپنے سامنے بیٹھے تینوں افراد کو دیکھتی تو کبھی کھا جانے والی نگاہوںسے پاس بیٹھی علینہ کو جو اس کی نظروں کی آنچ کو دیکھے بنا بھی بآسانی محسوس کر رہی تھی۔
”شائد کچھ غلط فہمی ہوگئی ہوگی“۔ڈاکٹر نور نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ ایک نگاہ سمیر کو دیکھا جو چہرے پہ سنجیدگی تانے ٹانگ پہ ٹانگ جمائے خاموش بیٹھا تھا۔ نور اور فریحہ تو باتوں مین لگ گئیں جبکہ سمیر کو ڈاکٹر نور نے یہ سوچ کر سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کیا کہ وہ بھی پیچھے پیچھے آ رہی ہیں ۔ وہ اوپر پہنچا تو بجلی نہ ہونے کے باعث وہاں گھپ اندھیرا تھا لیکن اوپر والا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس سے آگے جانا یقینناََ اخلاقیات کی نفی کرتا تھا لہذا وہیں اندھیری سیڑھی کے آخری اسٹیپ پہ کھڑا ہوکر وہ نور اور فریحہ کا انتظار کرنے لگا۔کچھ دیر مین جب نظریں اندھیرے سے مانوس ہوگئیں تو صحن مین کھڑی شبیہہ پہ اسکی نظر پڑی جو رفتہ رفتہ اس کے قریب آرہی تھی۔ وہ محتاط سا ہوکر نیچے دیکھنے لگا جہاں اب بھی اس کی ماں اور بہن کے آنے کے آثار ندادرد تھے۔ دروازے کے قریب پہنچ کر وہ شبیہہ رک گئی اور پھر ایکدم نسوانی چیخ کی آواز بلند ہوئی۔ اس سے پہلے کہ آواز اونچی ہوتی بوکھلا کر سمیر نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پہ رکھ دیا۔علینہ کی چیخ پر اندر کمرے میں نماز پڑھتی شاکرہ کا دل دہل گیا۔موم بتی اٹھائے ہانپتی ہوئی وہ صحن میں آئی۔ اس بیچاری کے تو ہاتھ پاو¿ں ہی پھول گئے تھے۔ اس عمر میں یوں بھی دل کمزور ہوجاتا ہے انسان کا ۔ اسی وقت نور اور فریحہ بھی اوپر آ پہنچیں اور سمیر کو علینہ کا منہ بند کئے دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں۔ علینہ کی آنکھیں خوف کی شدت سے پھیلی ہوئی تھیں اور چہرے کا رنگ زرد تھا جیسے کاٹو تو بدن مین لہو نا ہو۔
”یہ تو عقل سے ہی پیدل ہے“۔ شاکرہ نے دانت پیستے ہوئے علینہ کی طرف دیکھا جو اب ناخنوں کو دانتوں سے چباتی سب سے لاپرواہ بیٹھی تھی۔وہ تو شاکرہ اگر نور کو نہ دیکھ لیتی تو اللہ جانے کیا سے کیا بن جاتا۔ شائد اس کا اپنا ہی ہارٹ فیل ہوجاتا ایسے کسی مرد کو علینہ کا منہ بند کئے دروازے میں کھڑا دیکھ کر پر اب جو ساری صورتحال واضح ہوئی تو مارے ندامت اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔
”آنٹی اسے مت ڈانٹیں“۔ فریحہ کو یہ من موہنی صورت والی چھوٹی سی لڑکی یوں ہی بہت پیاری لگی تھی۔اس پہ یہ خاموشی اور شرمندگی ۔اسے تو ہمدردی ہورہی تھی اسی لئے جلدی سے حمایت میں بولی۔ علینہ نے نا تو شاکرہ کے ڈانٹنے پہ سر اٹھا کر دیکھا نا ہی فریحہ کی حمایت پہ کوئی ردعمل ظاہر کیا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کمرے میں موجود ہی نا ہو جبکہ شاکرہ بدقت مسکرائی تھی۔
”جاو¿ جلدی سے چائے پانی کا بندوبست کرو“۔ شاکرہ کی بات پہ وہ بلا تامل اپنی نشست سے اٹھی اور کسی کی طرف نگاہ کئے بغیر تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ سمیر نے گردن گھما کر اسے کمرے سے نکلتے دیکھا۔ اس کے چہرے پہ ناپسندیدگی نمایاں تھی اور اسی پل ڈاکٹر نور نے اس کی طرف دیکھا ۔ سمیر نے شکوہ کناں نظروں سے ماں کو دیکھا جیسے جتا رہا ہو اس کا یہاں نہ آنے کا فیصلہ درست تھا۔وہ بیچارہ خوامخواہ ولن بن گیا تھا۔ یہ عیادت تو اسکے گلے پڑ گئی تھی۔ وہ تو اپنے سر کا بوجھ اتارنے آیا تھا لیکن یہاں ایک نیا الزام اسکے سر منڈھا جا رہا تھا۔
”اس سب کی ضرورت نہیں ہے آنٹی، ہم تو بس علینہ کی طبیعت پوچھنے آئے تھے“۔ ڈاکٹر نور نے جلدی سے کہا۔ سمیر کے اس موڈ کے ساتھ ان کا وہاں زیادہ دیر بیٹھنا بہرحال مناسب نہین تھا۔
”کتنے سال بعد آئی ہو تو کیا یونہی سوکھے منہ جانے دوں گی“۔ شاکرہ تو ان سب کو اپنے گھر میں دیکھ کر یونہی نہال ہوگئی تھی۔ شروع میں صورتحال ہی کچھ ایسی بن گئی کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار نہ کر پائی لیکن اب جو ذرا اوسان بحال ہوئے تو اندر کا جوش باہر آیا۔
”آپ کا محبت اور خلوص ہی بہت ہے میرے لئے پر بلاوجہ تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اسے واپس بلالیںاور آرام کرنے دیں“۔ ڈاکٹر نور اپنے محبت بھرے انداز میں بولیں تو شاکرہ تو اور بھی وارفتہ ہوگئی۔ اسی پل ٹرالی کھینچتی علینہ اندر داخل ہوئی اور سر جھکائے کھانے پینے کا سامان کافی ٹیبل پہ منتقل کرنے لگی۔ فریحہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سمیر کی طرف دیکھا لیکن اس نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ علینہ میز سجا کر اسی پل واپس پلٹ گئی اور پھر جتنی دیر وہ لوگ وہاں بیٹھے رہے وہ دوبارہ کمرے میں نہیں آئی تھی۔ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں ، بولیں تو بس فریحہ، نور اور شاکرہ ہی۔ سمیر نے نا تو کھانے پینے کی کسی شے کو ہاتھ لگایا نا ہی انکی کسی ڈسکشن مین حصہ لیا گو فریحہ اور نور کو اس کا یہ موڈ اوور ری ایکشن لگ رہا تھا پر وہ اپنی جگہ خود کوحق بجانب سمجھ رہا تھا ۔ علینہ کی حماقت کی بدولت اسے ایک بار پھر اپنے گھر والوں کے سامنے خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
٭٭٭
”میں کہتی ہوں حد ہوتی ہے احمقانہ پن کی“۔شاکرہ ہونٹ چباتی علینہ پہ برس پڑی۔ وہ تو بس اتنی دیر سے خود پہ جبر کئے بیٹھی ان لوگون کے رخصت کی منتظر تھی ورنہ دل تو اسی وقت اس کا دماغ ٹھکانے لگانے کا تھا۔
”غضب خدا کا شریف انسان کا تماشہ بنا کر رکھ دیا“۔ فننانشل اکاو¿نٹنگ کی کتاب پہ نظریں جمائے وہ اسٹڈی ٹیبل کے گرد پرسکون بیٹھی تھی۔ یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو پر جانتی تھی شاکرہ حسبِ عادت واویلا ضرور مچائے گی لہذا کسی ردعمل کے بغیر سر جھکائے نظریں کتاب کے صفحات پہ ٹکائے رکھیں۔ شاکرہ غصہ دکھاتی اس کے بیڈ پہ جا بیٹھی۔ اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا تھا ۔
”شریف انسان تھا تو وہاں چھپ کر کیوں کھڑا تھا“۔ زیر لب بڑبڑاتے اس نے منہ بنایا ۔ آواز اتنی مدہم تھی کہ شاکرہ تک بس بھنبھناہٹ ہی پہنچی۔
”ہیں؟ کیا کہا تم نے“۔ وہ ایکدم ہی چیخی۔ اتنا تو علینہ کو اچھی طرح جانتی تھی وہ کہ ضرور کچھ گل افشانی ہی کی ہوگی۔
”کچھ نہیں“۔علینہ نے چہرے پہ معصومیت سجائے پلٹ کر دیکھا ۔
”علینہ میری برداشت کا امتحان مت لیا کرو“۔شاکرہ غصے سے کھولتے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔اسے تو رہ رہ کر اس سبکی کا احساس ہورہا تھا جو ان کے گھر آنے پہ ان لوگوں کی ہوئی ۔ بھلے رشتے دار ی تھی پر ایسا کوئی قریبی تعلق نہ تھا ۔ نہ ہی لمبی چوڑی ملاقاتیں تھیں ان لوگون سے پھر بھی اپنائیت اور انسانیت کا ثبوت دیتے وہ جو ان کے گھر چلے آئے تو اس طرح شرمندہ کرنا نہین بنتا تھا۔
”آپ کو تو مجھ سے ہمیشہ گلہ ہی رہتا ہے۔ دروازہ کھلا تھا تو کیا میرا قصور تھا؟“وہ بھی سارے قیافے ملا کر بیٹھی تھی۔ پوری ڈھٹائی سے بولی تو شاکرہ کے تلووں میں لگی ۔ اپنی غلطی بہرحال کون مانتا ہے۔ نہ دروازہ کھلا رہتا نہ ایسی صورتحال بنتی۔
”ہاں تو یہ جو کھوپڑی مین پاو¿ بھر دماغ بھراہے ا سے بس کتابیں چٹوانے کو رکھ چھوڑا ہے بی بی“۔اپنے سر پہ دو ہتڑ مارتے شاکرہ نے جذباتیت سے کہا تو علینہ نے بہ مشکل ہنسی دبائی اور اس بدترین کوشش میں اس کی آنکھوں سے پانی نکلا سو نکلا گال سرخ الگ ہوگئے۔
”بوقتِ ضرورت اس کا استعمال بھی تو کیا جاتا ہے نا۔“اس وقت تو واقعی ہنسی آرہی تھی پر وہ شاکرہ کو کیا بتاتی اس وقت اس کے ذہن میں کیا خوف چھایا ہوا تھا۔ اسے تو پورا یقین تھا وہاں مونس یا اس کا کوئی دوست موجود ہے اور آج اس کا اغوا پکا ہے۔
”میں واقعی ڈر گئی تھی“۔وہ شرمندگی سے بولی۔ اب شاکرہ سے اپنے خدشات کہنے کا رسک تو نہیں لے سکتی تھی۔ ورنہ اس وقت تو کھڑے کھڑے اب تک کی دیکھی تمام فلموں کے ایکشن سین یاد آگئے تھے۔
”اف میرے اللہ۔ یہ ڈر گئی تھی“۔اس نے کندھے اچکائے بازو سینے پہ سمیٹے خوفزدہ ہونے کی ایکٹنگ کی۔ شاکرہ کے اندر کی اداکارہ بھی شائد اسی وقت جاگی تھی یا پھر اسے بھی علینہ کی طرح کسی فلم کا سین یاد آرہا تھا ۔ کم سے کم اسکے انداز کو دیکھ کر علینہ نے تو یہی سوچا تھا۔
”ہم کیا جنگل میں بیٹھے ہیں۔ بھرا پرا محلہ ہے خیر سے۔ سب اپنے واقف کار ، جاننے والے ہیں۔ تمہارے آنے سے پہلے میں اکیلی رہتی تھی اور مجال ہے سارا دن دروازہ بند کیا ہو۔ “اگلے ہی پل وہ چمک کر بولی۔ علینہ جو خیالوں میں کھوئی تھی بیٹھی بیٹھی اچھل پڑی۔ کمر پہ ہاتھ ٹکائے شاکرہ لڑاکا عورتون کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر اسے سنا رہی تھی۔ علینہ کے لئے یہ سب غیر متوقع نہین تھا۔ وہ اس رویے کی عادی تھی۔
”یہاں سب فرشتے بھی رہتے ہوں پھر بھی رات کو دروازہ کھلا چھوڑنا کونسی عقلمندی ہے۔ کون سا دور ہے ایسے بے فکری دکھانے کا“۔ وہ بھی چڑ کر بولی۔ ڈرتی تو خیر وہ اپنے باپ سے بھی نہیں تھی یہ تو پھر اس کی نانی تھی۔ اسی کے ہاتھوں میں پلی بڑھی اس کے سب حربے جانتی تھی۔
”واقعی اگر کوئی چور اچکا ہوتا تو“۔تحمل سے اپنی بات کہہ کر وہ دوبارہ گردن جھکائے کتاب کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔ شاکرہ کو تو جیسے پتنگے لگ گئے۔ اسے جب بھی علینہ پہ غصہ آتا بات سوئی کی نوک جتنی ہو یا ہاتھی برابر ، وہ اسے یونہی بے نکت سناتی۔ بڑھتی عمر میں انسان بچہ ہی تو بن جاتا ہے ۔ اس کا ہر ردعمل بچوں جیسا ہوجاتا۔ پھر چاہے محبت ہو یا غصہ، دونون ہی انتہا پہ ہوتے ہیں۔ شاکرہ کا مزاج بھی کچھ ایسا ہی ہوچکا تھا۔ علینہ کے لئے فکر مندی ایک طرف پر اسے غصہ بھی بہت آتا تھا اس پہ ۔ خاص طور پر اس کی ڈھٹائی اور اکھڑے ہوئے رویے سے وہ شدید پریشان تھی۔ مان ہو یا باپ، وہ دونوں سے ہی ہمیشہ خفگی برتتی اور شاکرہ کو اس کی یہی بات بری لگتی تھی۔
”تو تم تھی نا اسے ٹھکانے لگانے کو، وہ شہر کا ڈی سی۔۔۔اسے تم نے چیخ سے ڈرا دیا۔ چور اچکا ہوتا تو مار ہی ڈالتی“۔ اس وقت ان کے درمیان عمر کا فاصلہ سمٹ چکا تھا۔ شاکرہ یوں بدلہ چکا رہی تھی جیسے اسی کی ہم عمر اس کی سہیلی ہو جو موقع دیکھ کر ٹھیک نشانے پہ تیر مارے۔
”اب مجھے کیا پتا تھا نانی وہ اے سی ہے یا ڈی سی۔ چوروں کی شکل پہ تھوڑی نا لکھا ہوتا“۔ علینہ نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے ۔
”ویسے بھی اتنا گھپ اندھیرا تھا۔ ایسے مین کسے نظر آتا ہے “۔شاکرہ ہکا بکا شکل دیکھنے لگی۔
”اندھیرا چھوڑو، تمہیں تو اس وقت بھی دکھائی نہیں دیتا جب سورج سوا نیزے پہ لوگوں کی آنکھیں چندھیا رہا ہوتا ہے۔ یہ تو پھر انسان کا بچہ تھا اس دن یہ بڑی سی گاڑی دکھائی نہ دی“۔نروٹھے پن سے جل کر بولی تو علینہ کے ذہن میں اس دن والے واقعہ کی یاد لہرائی جب وہ مونس کو چانٹا رسید کرنے کے بعد گھبرائی ہوئی کالج سے باہر نکلی اور سمیر کی گاڑی سے ٹکرانے لگی تھی۔ ایک تلخ یاد نے اس کے حلق میں کڑواہٹ گھول دی تھی ۔ موڈ مزید خراب ہوگیا تھا۔
”پر ہائے کیا پیارے لوگ ہیں، اسے کہتے ہیں خاندانی ہونا۔دیکھو تو کیسے اپنی غلطی نا ہوتے ہوئے بھی معذرت اور عیادت کو چلے آئے۔ کوئی اور ہوتا تو یونہی سڑک پہ ٹھوک کر چلتا بنتا“۔ شاکرہ تو واری صدقے ہونے لگی۔ علینہ کو ان سب باتوں میں سرے سے دلچسپی ہی نہیں تھی۔
”شروع ہوگئی ان کی رام کہانی“۔زیرِ لب جل کر کہا پر اس بار شاکرہ کچھ زیادہ ہی قصیدہ گوئی میں محو تھی اس کی سرگوشی کو ان سنا کرتے ہوئے مزید بولی۔
”بھلا میں اکیلی رانڈ بیوہ کہاں ماری ماری پھرتی تمہاری تلاش میں ہسپتالوں کے دھکے کھاتی“۔ علینہ کا صبر جواب دینے لگا تھا۔
”نانی اب آپ جائیں گی پلیز، مجھے پڑھنا ہے؟“ التجائیہ انداز تھا ۔
”تو کیا تمہارے سر پہ پاو¿ں رکھ کر کھڑی ہوں؟“۔ شاکرہ کو ٹالنا کون سا آسان تھا۔ علینہ نے ماتھا پکڑ لیا۔
”نانی اب جائیں۔۔۔۔۔ہونہہ“۔ شاکرہ نان اسٹاپ شروع ہوگئی تھی۔ علینہ ماتھا پکڑے کتاب پہ سر جھکائے خاموش بیٹھی سنتی رہی۔ اب سامنے والا ٹلنے کو تیار ہی نا ہو تو وہ بھی کیا کرے۔
”سب بولا بکا مٹی میں مل جاتا ہے۔ اس لڑکی کے تو مجال ہے جو کان پہ جون بھی رینگ جائے“۔ غصے سے ہاتھ مارتے ہوئے اس نے جل کر کہا پر اب کی بار علینہ نے سن کر بھی ان سنا کر دیا تھا۔
”دیکھا تھا کیسا چھوٹا سا منہ نکل آیا تھا بیچارے کا“۔ علینہ کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی۔ ”سارے زمانے کی فکر تھی، سب کے چھوٹے بڑے منہ کا خیال تھا سوائے ایک اپنی سگی نواسی سے، مجھ سے تو جیسے خدا واسطے کا بیر باندھ رکھا ہے۔ جب جی کیا ڈھول کی طرح مجھے ہی پیٹ ڈالا“۔ گو یہ سب دل میں ہی سوچا تھا۔خیر یہ بھی شکر وہ خاموش ہوگئی تھی۔ اسے گھورتی ہوئی پیر پٹختی کمرے سے باہر چلی گئی ۔
”میں نے کہاں دیکھا اس کا منہ چھوٹا تھا یا بڑا“۔ جیسے ہی شاکرہ کمرے سے نکلی، علینہ نے جلے دل سے بآوازِ بلند کہا۔ اتنا تو یقین تھا شاکرہ تک اس کی آواز نہیں پہنچی ہوگی ورنہ آمد دوبارہ ہوجاتی۔
زندگی میں پہلے کون سے حسین لمحات تھے لیکن آج کی پوری شام اس کی برباد ہوچکی تھی۔ایسا تلخ تجربہ جسے وہ چاہ کر بھی فراموش نہین کرسکتی تھی۔
٭٭٭
”اوہ میرے اللہ۔۔۔“ ہنس ہنس کر فریحہ کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔سمیر نے خفگی سے پہلو بدلا۔
”اچھا پھر آگے کیا ہوا“۔ ڈاکٹر انصاری متجسس ہوئے۔ فریحہ سے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہورہی تھی۔ تمام راستے وہ سمیر اور ڈاکٹر نور کی وجہ سے خاموش رہی لیکن گھر پہنچ کر جو اس پہ ہنسی کا دورہ پڑا تو پھر نا ہی نور کا گھورنا کام آیا اور نہ ہی سمیر کی خفگی کو وہ خاطر میں لائی۔ ڈاکٹر انصاری بھی مزے لے کر سارا قصہ سن رہے تھے۔ ان کی حسِ مزاح آج عروج پہ تھی۔
”میں اور ممی پہلی سیڑھی پہ تھیںجب ہمیں علینہ کی چیخ سنائی دی۔ ہم دونوں گھبرائے ہوئے اوپر بھاگے تو دیکھا بھائی نے اپنا ڈھائی کلوکے ہتھوڑے جیسے ہاتھ سے اس چڑیا کا منہ بند کیا ہوا تھا۔ “۔ ڈاکٹر نور نے بمشکل ہنسی دبائی۔ فریحہ کا انداز بالکل فلمی تھا۔
”یہ ہتھوڑے جیسا ہاتھ اسکے سر پہ مار دیا ہوتا تو شائد کچھ عقل آجاتی اس محترمہ کے دماغ میں“۔ سمیر نے پہلی بار لب افشانی کی۔
”سمیر!“۔ ڈاکٹر نور نے ملامتی انداز میں کہا تو سمیر کو اپنے لہجے کی سختی کا احساس ہوا۔
”سوری مام، لیکن مجھے زہر لگتی ہیں ایسی مخبوط الحواس قسم کی لڑکیاں۔ آپ بتائیں کوئی تک تھی اس کے یوں چیخ و پکار کرنے کی۔ گھر آئے مہمانوں کا استقبال بھلا کوئی اس انداز میں کرتا ہے“۔ اس کا موڈ پہلے ہی خراب تھا اس پہ دوسری بار علینہ کی وجہ سے اسے خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ اچھا خاصا تپا ہوا تھا۔
”میں نے کہا نا اسے غلط فہمی ہوگئی ہو گی۔اسے لگا کوئی چور اچکا کھڑا ہو گا۔“ ڈاکٹر نور نے اپنی طرف سے اس کا دل صاف کرنے کی کوشش میں وضاحت دی پر آخری بات کچھ نامناسب ہی کہہ دی۔ سمیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
”میں چور اچکا لگتا ہوں آپ کو ممی؟“اس نے ناقابلِ یقین حیرت سے سوال کیا۔ فریحہ کی ہنسی کو بھی بریک لگ گیا تھا کیونکہ سمیر بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔
”اس نے تمہیں دیکھا ہی کہا میری جان۔ وہاں تو اندھیرا تھا۔ دیکھ لیتی تو یوں تھوڑی ری ایکٹ کرتی بیچاری“۔ نور نے سمجھانے کی کوشش کی۔ اس ساری صورتحال میں وہ اس سے زیادہ کہہ بھی کیا سکتی تھیں۔ بات تو واقعی عجیب تھی ۔ اس وقت جب انہون نے پہلے علینہ کی چیخ سنی اور پھر اوپر پہنچ کو اسے علینہ کا منہ دبائے دیکھا تو انہیں خود کو بھی شاک لگا تھا۔ پہلی بات جو ان کے ذہن میں آئی وہ تو مر کر بھی اس کا تصور نہین کر سکتی تھین اور اب اس کا اظہار کرنا تو جیسے اپنی ہی تربیت کو گالی دینا تھا۔ پر واقعی ایک پل کو تو وہ بھی لرز ہی گئی تھیں ۔
”پھر بھی یہ سب بہت انسلٹنگ تھا میرے لئے“۔وہ بہت ہنس مکھ اور نرم خو تھا، ہنسی مذاق اور شرارتی انداز۔۔۔لیکن یہ سب اس کے اپنے قریبی رشتوں تک محدود تھا ورنہ باہر کی دنیا میں وہ ایک انتہائی سنجیدہ مزاج اور لئے دینے رہنے والا انسان تھا۔ اپنے کام میں انتہائی مستعد ۔ اس کی شخصیت میں بے حد رکھ رکھاو¿ تھا ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی ایک محدود فاصلے پر رکھتا تھا۔ اتنی پرانی دوستی ہونے کے باوجود اگر اس کے اور کشمالہ کے درمیان فاصلہ تھا تو وہ اس کی شخصیت کا کمال تھا۔ اسے اپنی تذلیل واقعی تکلیف دے رہی تھی۔
”برخودار غصہ تھوک دو ۔ غلط فہمی میں ایسا ہوجاتا ہے“۔ ڈاکٹر انصاری نے مداخلت کی۔ مقصد ماحول کی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
”ویسے آپ نے دیکھا نہیں۔ اتنے زور سے منہ دبایا اس بیچاری کا آنکھیں ابل کر باہر کو آرہی تھیں“۔ ڈیڈ کی شہہ پاکر فریحہ میں ہمت بیدار ہوئی تو فوراََ لقمہ دیا۔ زیرِ لب مسکراتے شرارتی نظروں سے سمیر کو دیکھتے ہوئے بولی تو اس کے تنے ہوئے چہرے پہ نرمی کی رمق آئی۔
”افسوس گلا نہیں دبایا اس نمونے کا “۔ دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے اس نے اپنے لفظوں میں حقیقی تاثر پیدا کرنا چاہا۔ فریحہ کھلکھلا کر ہنسی جبکہ نور ، انصاری صاحب کو دیکھتے ہوئے مسکراہٹ دبائے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ ڈاکٹر انصاری نے اتنے دنوں میں پہلی بار ان کے اداس چہرے پہ سکون کی رمق ریکھی تھی۔ ماحول میں تناو¿ اپنے آپ کم ہوچکا تھا۔
٭٭٭
دو دن سے سفینہ کی دوائی ختم ہوچکی تھی لیکن بازو کا درد کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ فاطمہ کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے راضی نہ ہوئی تھی ۔ فاطمہ کو یہ بھی ڈر تھا کہیں مسئلہ بگڑ ہی نہ جائے گو ہاتھ میں سوجن نہین تھی پر تکلیف پہ ماں کو کراہتے دیکھ کر اسکی جان پہ بن آتی تھی۔ ان دنوں وہ اکیلی کالج آجا رہی تھی کیونکہ وہ زیادہ چھٹیاں نہین کر سکتی تھی ۔ ٹیپو کو اسکول چھوڑ کر وہ کالج چلی جاتی اور واپسی پہ ٹیپو کو اسکول سے لے کر گھر پہنچ جاتی۔ ایسے میں سفینہ کی جان پہ بنی رہتی جب تک وہ گھر لوت نا آتی اسے سکون نہیں آتا تھا۔ شہباز کی زبان سے انگارے تو عام حالات میں اگلتے ہی رہتے تھے پر ان دنوں تو اسے موقع اللہ نے دیا تھا ۔ سفینہ کی مجبوری نہ ہوتی تو وہ کبھی فاطمہ کو اکیلے گھر سے نا نکلنے دیتی۔ اس کی پڑھائی اہم تھی۔
وہ بہت دن سے ماں کو تڑپتا دیکھ رہی تھی ۔ آج اسکے قدم خود بخود ہسپتال کی طرف اٹھ گئے تھے۔ ٹیپو کا ہاتھ تھامے وہ ہسپتال کی عمارت میں داخل ہوئی تو ریسپشن پہ اسکی ملاقات اسی ڈاکٹر سے ہوگئی جس نے چند روز پہلے سفینہ کا علاج کیا تھا۔
”دراصل امی کی دوا ختم ہوگئی ہے“۔جھجکتے ہوئے اس نے اپنا مدعا بیان کیا ۔ ڈاکٹر زبیرنے ایک نگاہ اس ڈری سہمی لڑکی کو دیکھا جو پھولدار چادر اوڑھے انگلیاں مڑوڑتی اسکے سامنے بیٹھی تھی۔ اسے گہری نظرون سے اپنی طرف دیکھتا پاکر فاطمہ کے سفید گالوں پہ سرخی در آئی تو یوں لگا جیسے ویرانے مین چپکے سے بہار آگئی ہو۔ فاطمہ نے مضبوطی سے پاس بیٹھے ٹیپو کا ہاتھ تھام لیا۔
”لیجئے میں نے نسخہ بنادیا ہے“۔ڈاکٹر زبیر نے اسکے دفاعی اقدام پہ زیرِ لب مسکراتے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
”شکریہ“۔بہت احتیاط سے کاغذ کو کونے سے تھام کر اس نے اٹھنا چاہا۔
”اب کیسی طبیعت ہے آپکی والدہ کی؟“ڈاکٹر نے اخلاقاََ پوچھا تو وہ دوبارہ کرسی پہ بیٹھ گئی۔
”اب بھی بازو میں درد شدید ہے“۔اسکے لہجے میں فکرمندی تھی۔ ماں کے لئے بے تحاشہ پریشانی تھی۔ کالج کے اجلے لباس میں وہ اپنی عمر
سے بھی قدرے چھوٹی لگ رہی تھی پر اسکے چہرے پہ سنجیدگی و تفکر اسکی عمر سے دوگنا تھا۔
”ہونا تو نہیں چاہیئے تھا، پلاسٹر کے بعد تھوڑی بہت تکلیف تو بہرحال ہوتی ہے لیکن اگر درد کی شدت زیادہ ہے تو آپ انہیں چیک اپ کے لئے لے آئیں“۔ڈاکٹر زبیر نے سوچتے ہوئے اظہارِ خیال کیا اور ساتھ ہی مناسب حل بھی بتا دیا۔ ظاہر ہے مریض کو دیکھے بغیر کوئی مرض کی تشخیص کیسے کرسکتا ہے۔ فاطمہ کا چہرہ اتر گیا ۔
”یہی تو سارا مسئلہ ہے“۔اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ وہ جانتی تھی سفینہ کس لئے ہسپتال آنے سے گریزاں ہے۔ ہر وہ شخص جو اسے خود پہ ہورہی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنے کو کہتا تھا وہ اس سے یونہی اجتناب برتتی تھی۔
”ویسے درد ایک حد تک ہی برداشت کرنا چاہیئے، اپنی ہمت سے زیادہ تکلیف سہنا بیوقوفی کے زمرے میں آتا ہے“۔ڈاکٹر زبیر کی بات پہ
فاطمہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
”جانتی ہوں“۔ اس کی طرف دیکھے بغیر وہ دھیمی آواز میں بولی۔
”جانتی ہیں تو انہیں سمجھاتی کیوں نہیں۔ “ڈاکٹر زبیر نے نرم لہجے میں کہا۔
”کوشش تو کرتی ہوں ۔۔۔۔لیکن اس میں انکا بھی کیا قصور؟“وہ بہت سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔
”ایک ان پڑھ، گنوار عورت کو سمجھانا مشکل ہے پر مجھے افسوس ہے وہ تو خود شعبہءتدریس سے وابستہ دوسروں کو اچھائی کی سیکھ دینی والی ہیں پھر اپنی ذات کا یہ متضاد پہلو کیوں؟“ڈاکٹر زبیر نے انتہائی محتاط انداز میں، بہت ہی سمجھداری کی بات کی تھی۔
”ایک عام انسان ہو یا استاد، ہوتا تو بہرحال انسان ہی ہے نا ڈاکٹر۔“بہت کم عمری میں اس کے حالات نے اسے وقت سے پہلے بڑا اور سمجھدار بنا دیا تھا۔ سالوں سے اس کے والدین کے درمیان موجود کشیدگی، اپنی ماں کی انتھک محنت اور باپ کی اپنے فرائض سے لاپرواہی کو محسوس کرتے اس نے بچپن سے سیدھا بڑھاپے مین قدم رکھا تھا۔ لڑکپن تو جیسے کھو گیا تھا۔
”تو کیا آپکو انکا رویہ درست لگتا ہے۔ کیا انکا گھریلو تشدد کے سامنے گھٹنے ٹیکنا بجا ہے“؟اس کے سوال پہ فاطمہ کا چہرہ ندامت سے سرخ ہوگیا تھا۔
”جب سے ہوش سنبھالا ہے انہیں خاموش دیکھا ہے“۔ وہ آٹھ سال کی تھی ۔ لڑکیاں اس عمر میں بہت سمجھدار ہوتی ہیں اور ماں کے انتہائی قریب۔ ہر روز سفینہ کے جسم پہ نیا زخم ، وہ اسے درد سے کراہتے دیکھتی اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس کے ٹوٹتے جسم کو دبا کر اس کا درد کم کرنے کی کوشش کرتی۔ پھر جیسے جیسے اسے سمجھ آنے لگی، اسے سفینہ کا دکھتا زخمی وجود ہی نہیں، اس کی روح کے گھاو¿ بھی دکھنے لگے تھے۔ جسم کے گھاو¿ پہ تو مرہم وہ لگا رہی تھی پر روح کے گھاو¿ لاعلاج تھا ۔
”میری ایک بات یاد رکھئے گا فاطمہ، کسی سے اپنی عزت کروانے کے لئے سب سے پہلے خود اپنی عزت کرنا لازمی ہے۔ انسان میں سیلف ریسپیکٹ نہ ہو تو ہر کوئی اسکا استحصال کرتا ہے پھر بھلے وہ شوہر ہو ، دوست ہو یا رشتے دار“۔ ڈاکٹر زبیر نے جو بات کی فاطمہ اس سے سو فیصد متفق تھی۔ جب اسے یہ بات شدید ناگوار گزرتی تھی کہ ان کا باپ ان کی ماں کو بیدردی سے بات بے بات مارتا ہے تو پھر جس کے ساتھ یہ بدسلوکی کی جارہی ہوتی تھی وہ کیسے خود پہ اس جبر کو برداشت کر رہی ہے۔
”کہتے تو آپ بھی ٹھیک ہیں پر ۔۔۔۔“ فاطمہ کو یاد آیا، سفینہ شروع میں روتی پیٹتی تھی ۔ اکیلے کمرے میں جا کر وہ خوب آنسو بہاتی پرا س کے روزمرہ معمولات میں کوئی فرق نہ آتا۔ وہ ملازمت کرتی، بچوں کو سنبھالتی، جب شہباز پیسے مانگتا وہ اسے جوا کھیلنے کے پیسے بھی دیتی۔ پھر آہستہ آہستہ سفینہ خاموش ہوتی چلی گئی، یوںجیسے وہ گوشت پوست کی انسان نا ہو بلکہ پتھر ہو۔ اس کے جذبات مردہ ہوتے گئے اور اس نے رونا بلکنا بھی بند کردیا۔ شکوے شکایات تو خیر پہلے بھی اس نے ماں کو کرتے نہین سنا تھا پر اب جب سے فاطمہ بڑی ہوئی تھی سفینہ کا صبر دیدنی تھا اور فاطمہ کو حیرانی ہوتی تھی اس کے رویے پر۔ وہ اسے خاموش کرا دیتی۔ وہ اندر ہی اندر کڑھتی رہتی پر جانتی تھی سفینہ کو سمجھانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔
”پر کیا؟“ وہ گہری سوچ مین تھی۔ ڈاکٹر زبیر کے سوال نے اسے چونکایا۔
” مجھے چلنا چاہیئے“۔ایک ہاتھ میں دوا ، دوسرے ہاتھ سے ٹیپو کا ہاتھ تھامے، اپنا شولڈر بیگ سنبھالتی وہ مزید کچھ کہے بغیر جلدی سے باہر چلی آئی۔ زبیر دونوں کہنیان میز پہ ٹکائے گہری نظروں سے اسے چپ چاپ جاتا دیکھتا رہا۔
٭٭٭
کمر کے نچلے حصے میں اٹھنے والی ٹیسوں نے اسے بے حال کر دیا تھا۔ بخار سے یون بھی اس کا جسم بہت حساس ہورہا تھا رہی سہی کسر اس درد نے پوری کر دی تھی۔ پین کلر لینے کے باوجود بھی درد کسی طور کم نہیں ہورہا تھا اور اب تو برداشت بھی ختم ہورہی تھی۔ تکلیف اتنی شدید تھی کہ دل متلانے لگا، بے حال سی ہو کر صوفے پہ عجیب سے انداز میں گری تھی۔
”پاپا دیکھیں ماما کو کیا ہوگیا ہے“۔ ننھے حارث نے ماں کو چکرا کر گرتے دیکھا تو گھبرا کر پاس آ بیٹھا۔ اسکی پیشانی پہ پسینے کے قطرے چمک رہے تھے ۔ درد کی شدت سے لب بھینچے اس نے معصوم بچے کے بال سہلائے پر وہ اس غیر معمولی کیفیت کو سمجھ چکا تھا۔ بھاگا ہوا عامر کے پاس گیا اور روتے ہوئے چلایا ۔ وہ جلدی سے لاو¿نج مین آیا تو آسیہ درد سے بے حال سر صوفہ ریسٹ پہ ٹکائے آنکھین موندے پڑی تھی۔
”آسیہ اٹھو، کیا ہوا تمہیں؟“عامر نے اس کا چہرہ تھپتپاتے پریشانی سے پوچھا۔ اس نے بہ مشکل آنکھین کھولیں۔ پیشانی کا پسینہ پونچھتے عامر نے اس کا سر اپنی گود مین رکھا اور نبض ٹٹول کر بخار کا اندازہ لگایا۔ پیشانی تو اس کی ویسے بھی تپ رہی تھی۔ بخار کو تو وہ نظر انداز کر رہا تھا کیونکہ آسیہ دوا لے کر ہشاش بشاش تھی۔ اس نے موسم کا اثر سمجھ کر نوٹس نہیں لیا پر اب اس کی حالت دیکھ کر اس کے اپنے ہاتھ پاو¿ں پھول گئے تھے۔ دونون بچے الگ رونے لگے تھے۔
”پتا نہیں کیوں کل سے بہت شدید درد ہورہا ہے“۔ اس کا ہاتھ تھامے آسیہ نے دھیمی آواز میں کہا۔
”تو بتایا کیوں نہیں مجھے۔ چلو تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں“۔ پریشانی سے کہتے اس نے اسے صوفہ پہ سیدھا کرکے لٹایا اور خود جلدی سے کمرے سے اپنا والٹ اور گاڑی کی چابی اٹھانے چلا گیا۔ رامس اور حارث دونوں اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کا سر دبانے لگے۔ درد میں تڑپتی آسیہ کی نگاہوں کے سامنے ماضی کا ایسا ہی پل لہرایا تھا۔ ایسے ہی ننھے ہاتھوں کا لمس، جب وہ تھک کر بیٹھتی تو اپنے نازک ہاتھوں سے اس کا سر دباتے ہوئے وہ اسکے ماتھے پہ جانے کتنے ہی نرم و ملائم بوسے دیتی تھی۔ آج اگر وہ یہاں ہوتی تو ان دونوں کے ساتھ وہ بھی یونہی متفکر دکھائی دیتی۔ لیکن اب تو وہ اتنی سمجھدار ہوچکی تھی کہ آسیہ کے ساتھ وہ ان دونوں کو بھی حوصلہ اور تسلی دیتی۔ پر وہ یہاں نہین تھی ۔ عجیب سی تشنگی در آئی تھی۔ آسیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ آنکھیں موندیں اس نے لاکھ روکنا چاہا پر یہ کھارا پانی گالوں کو تر کرنے پہ آمادہ تھا۔
”کیا درد بہت زیادہ ہورہا ہے؟“ عامر پریشان سا پاس کھڑا تھا۔ آسیہ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ تیار کھڑا تھا۔آسیہ نے ہاں مین سر ہلایا۔
”بہت“۔پر کہاں۔۔۔۔یہ تو بس وہی جانتی تھی کیونکہ اس پل وہ درد کا نقطہ سمٹ کر دل میں آگیا تھا۔
٭٭٭
ڈاکٹر نے آسیہ کو گردے میں پتھری کا مرض تشخیص کیا تھا۔ علاج اب فقط آپریشن کی صورت ہوسکتا تھا کیونکہ اس اسٹیج پہ ادویات سے افاقہ محض وقتی تھا۔ عامر کے لئے بیٹھے بٹھائے اچھی خاصی پریشانی بن گئی تھی۔ آسیہ کو اس وقت بہترین ٹریٹمنٹ دے کر فی الوقت درد سے نجات دی جاچکی تھی پر مرض کا علاج ہونا ضروری تھا۔ آسیہ کو مکمل آرام کی ضرورت تھی ساتھ ہی ساتھ جلد سے جلد آپریشن کروانا بھی ضروری تھا۔ دو چھوٹے بچوں کے ساتھ یہ سب کس طرح مینیج ہوگا یہ بات عامر کے لئے شدید پریشانی کا باعث بن گئی تھی۔ وہ خود ملازمت کرتا تھا جہاں سے چھٹی لینا اس کی صوابدید پہ نا تھا ۔ ہسپتال مین بچوں کو رکھنے کی اجازت نہ تھی ۔ اسے پہلی بار پردیس کے دکھ کا احساس ہوا تھا۔ جہاں کسی قسم کی سوشل ہیلپ ملنا انتہائی مشکل تھا۔ ایسے میں اس کے دماغ نے جو حل نکالا وہ بس ایک ہی تھا۔
”ہیلو میں عامر بول رہا ہوں“۔عامر کی آواز میں تفکر شاکرہ کے لئے باعثِ تشویش تھا۔ وہ اسے یونہی کال نہیں کرتا تھا ۔ اس کی زیادہ بات تو ہمیشہ بیٹی اور نواسوں سے ہی ہوتی تھی پر اب بہت لمبے عرصے کے بعد عامر کی کال آنے پہ اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکا تھا پھر بھی خود پہ قابو پاتے وہ بہت نارمل انداز میں بات کر رہی تھی۔
”ہاں عامر بیٹا کیسے ہو۔ آسیہ اور بچے کیسے ہیں؟“دعا سلام کے بعد اس نے خیرت پوچھی۔ دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی چھائی رہی جیسے لفظوں کو تولنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ بری خبر دینا کوئی آسان کام نہین ہے اس بات کا اندازہ اسے اب ہورہا تھا۔
”آسیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں امی۔ “بہت سوچ کر اس نے بس اتنا ہی کہا۔ شاکرہ کے سر پہ تو جیسے پہاڑ گرا تھا۔
”اللہ خیر کرے، کیا ہوگیا میری بچی کو؟“حسبِ توقع وہ شدید پریشان ہوگئی تھی۔
”ڈاکٹر نے گردے میں پتھری بتائی ہے۔ درد بہت زیادہ ہے اور آپریشن کرنا پڑے گا“۔عامر نے تفصیلاََ بتایا ۔
”یا اللہ رحم کرنا میری بچی پہ۔ عامر بیٹا کوئی فکر والی بات تو نہیں ہے نا“۔گو مرض چھوٹا تھا اور قابلِ علاج بھی پر ان پڑھ کے لئے کالا حرف بھی بھینس جیسا ہوتا ہے ۔ ایک سنی سنائی تکلیف سے اس کی اولاد کا واسطہ پڑ رہا تھا ۔ اس کے ہاتھ پاو¿ں پھولنا تو ظاہری تھا۔
”نہیں امی فکر والی تو خیر کوئی بات نہیں لیکن آپ تو جانتی ہیں رامس اور حارث کتنے چھوٹے ہیں۔ میری ملازمت کا مسئلہ ہے اور آسیہ کی ایسی حالت نہیں کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کرسکے“۔وہ سیدھا اس بات پہ آیا تھا جو اس کے دماغ کی چولیں ہلا رہی تھی۔ آپریشن لیزر سے ہوتا پھر بھی دو تین ہسپتال مین گزارنے پڑتے۔ دو تین گھنٹے بچوں کو ایمرجنسی روم کے باہر لے کر بیٹھنا پڑا تو عقل ٹھکانے آچکی تھی۔ ہسپتال مین تو ویسے بھی اس عمر کے بچوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ بیوی کو دیکھے، بچوں کو دیکھے یا پھر نوکری کو۔
”وہ بیچاری کہاں کر پائے گی ابھی یہ جوکھم والے کام اسے تو خود ضرورت ہے کہ کوئی اس کا کل وقت خیال رکھے“۔ شاکرہ کو اطمینان ہوا تھا پر عامر کی پریشانی کا سن کر ایک نئی تشویش نے آگھیرا تھا۔
”بس مین بھی یہی سوچ کر پریشان ہورہا ہوں“۔اس نے اپنا مدعا بیان کیا۔
”بیٹا پریشانی کیسی، اسے بچوں کے ساتھ میرے پاس پاکستان بھیج دو۔ میں اور علینہ ہیں نا مل کر سب کر لیں گے“۔شاکرہ کے پاس انتہائی مناسب حل موجود تھا۔ ویسے بھی جب سے علینہ یہاں آئی تھی آسیہ نے تو ایک چکر بھی نہیں لگایا تھا۔ اب علاج کے بہانے ہی سہی اولاد کا منہ دیکھ لے گی۔ اور اس کے پاس ہوگی تو پھر کس بات کی فکر۔لیکن عامر نے اس کی تجویز کو فوراََ مسترد کر دیا تھا۔
”کیسی باتیں کرتی ہیں امی، وہ اس حالت میں سفر کیسے کرے گی؟“اس کی بات بھی درست تھی۔
”ارے ہاں یہ تو مجھے خیال ہی نہیں رہا“۔ شاکرہ نے اتفاق کیا۔اب دوہا اور اس شہر کے علاج اور معیار میں تو زمین آسمان کا فرق تھا۔
”ایسا کریں آپ اور علینہ یہاں آجائیں۔ علینہ سے مل کر اس کا دل بھی بہل جائے گا اور آپ دونوں کے ساتھ کچھ وقت گزار کر اس کی طبیعت بھی سنبھل جائے گی۔“عامر نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ اتنے سال پرانے اپنے فیصلے کو بدل کر اس نے آسیہ کی خاطر یا پھر اپنا دامن بچانے کو ہی سہی، علینہ کو دوہا بلانے کا فیصلہ کیا تھا ورنہ جس لڑکی کی وجہ سے اس کی زندگی عذاب بنی اور اسے اس قدر خفت اٹھانی پڑی اسے یہاں واپس بلانا اسے ہرگز منظور نا تھا۔
”ہاں تو یونہی کرلیتے ہیں۔ میں اور علینہ وہاں آجاتے ہیں۔ بچوں کی فکر کھائے جا رہی مجھے تو ۔معصوم ماں کو بیمار دیکھ کر کیسے پریشان ہورہے ہوں گے“۔ شاکرہ کی جانے بلا اندر کے کیا معاملات تھے۔ آسیہ نے اس سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا تھا اور یہی خاموشی علینہ کے لبوں پہ تھی۔ وہ عامر کی تجویز پہ فوراََ حامی بھر چکی تھی۔
”ٹھیک ہے امی میں پھر ایک دو دن میں آپ دونوں کا ویزہ نکلوا کر بھیجتا ہوں“۔ عامر نے جلدی سے کہتے ہوئے کال بند کی۔ شاکرہ دل ہی دل میں آسیہ کی صحت یابی اور اس کی آسانی کی دعائیں مانگنے لگی۔
٭٭٭
”عامر کا فون آیا تھا“۔علینہ ٹھٹکی۔
”آسیہ کو گردے میں پتھری ہوگئی ہے۔ “ اسے شاک لگا تھا پر کوئی ردِ عمل نا کیا۔ شاکرہ باورچی خانے کے دروازے پہ کھڑی فسردہ لہجے میں اسے تفصیل بتانے لگی۔ اس نے مڑ کر بھی نہین دیکھا تھا۔
ڈاکٹر نے جلد آپریشن کا کہا ہے ۔ اب چھوٹے بچوں کو کہاں چھوڑیں گے وہ دونوں ہسپتالوں میں خود دھکے کھائیں گے یا انہیں سنبھالیں گے“۔وہ سن سی کھڑی تھی۔جیسے کوئی منتر پھونکا گیا ہو۔ چہرے پہ کوئی تاثر تھا نا ہونٹوں پہ حرفِ تسلی۔ بس چپ چاپ باورچی خانے مین کھڑی چائے کو دم دیتی رہی۔
”عامر نے کہا ہم وہاں آجائیں۔ آسیہ بھی خوش ہوجائے گی تمہیں دیکھ کر“۔اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔
”آپ چلی جائین نانی، میں نہین جاو¿ں گی “۔شاکرہ کو لگا اسے سننے میں کچھ غلطی لگی ہے۔جواب حسبِ توقع تھا نا تاثرات۔ چولہا بند کرکے اس نے الماری سے دو کپ نکالے اور چائے ڈالنے لگی۔
”ہیں بھلا کیوں نہیں جاو¿ گی ۔ سنا نہیں ماں بیمار ہے اتنی زیادہ “۔دل پہ ان لفظوں نے گھونسے رسید کئے تھے ۔ شاکرہ کی تلخی کو نظر انداز کرتے اس نے چائے کی پتیلی سنک میں رکھی اور کچن کاو¿نٹر کی طرف واپس پلٹی۔ شاکرہ دروازے میں کھڑی اس کے انداز پہ حیرت زدہ تھی۔ اس کی لاتعلقی سے خائف تھی۔
”مین نے کہہ دیا نا میں نہین جاو¿ں گی۔ “اپنا چائے کا کپ اٹھائے شاکرہ کی چائے وہیں کاو¿نٹر پہ چھوڑ کر علینہ بے انتہا تحمل سے اس کے پاس سے گزری تھی ۔ نا پریشانی تھی نا غصہ۔۔۔۔۔یوں جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔
”کیسا خون سفید ہوگیا ہے آج کل کی اولاد کا، ماں کی اتنی تکلیف کا سن کر بھی دیکھو مجال ہے جو دل دکھا ہو۔ “شاکرہ تڑپ اٹھی تھی۔ وہ ماں تھی اور اولاد کی تکلیف محسوس کر رہی تھی پر اسی اولاد کی اولاد کی ایسی لاتعلقی ۔ اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی۔ اتنا لاتعلق تو کوئی کسی اجنبی کا سن کر بھی نہین ہوتا جتنی اجنبیت علینہ نے اپنی پیدا کرنے والی ماں کی تکلیف کا سن کر برتی تھی۔
”خیر کرتی ہوں میںاس کی ماں سے بات وہی سمجھائے گی اسے تو میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں اب میں اس سے الجھوں“۔ غصے اور تاسف سے کہتے اس نے کاو¿نٹرپہ دھرا اپنا چائے کا کپ اٹھایا اور سر جھٹکتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ واقعی پریشان تھی اور علینہ سے بحث یا جھگڑا کرکے اپنی پریشانی مین مزید اضافہ نہین کرنا چاہتی تھی۔
٭٭٭
شاکرہ نے آسیہ کی طبیعت پوچھنے کو فون کیا تو ساتھ ہی ساتھ علینہ کی شکایت بھی لگا دی۔ یوں بھی وہ کوئی موقع گنواتی نہیں تھی یہ تو پھر معاملہ سیدھا آسیہ سے ہی متعلق تھا۔ آسیہ کے لئے علینہ کے ردعمل سے زیادہ حیرت انگیز اور شاکنگ بات عامر کا علیینہ کو یہاں بلانا تھا۔ اپنے ہی فیصلے میں پڑنے والی دڑاڑ نے اسے حیران کیا تھا۔
”امی آپ علینہ کے ساتھ زبردستی مت کریں“۔ساری بات سن کر اس نے گہرا سانس لیا اور پھر نرمی سے ماں کو منع کردیا۔
”آسیہ تم بھی؟“شاکرہ شکوہ کناں تھی۔ بات ادھوری ہی رہ گئی۔ آسیہ اس سے پہلے ہی سب نتیجے نکال چکی تھی۔
”امی وہ اگر نہین آنا چاہتی تو اس پہ زور زبردستی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ اگر ایسا کہہ رہی ہے تو یقینناََ بہت سوچ سمجھ کر ہی کہہ رہی ہوگی“۔اس لاپرواہی پہ درد اپنی جگہ پر وہ ماں تھی اس کی۔ جانتی تھی اس کا دکھ بھی کم نہیں ۔ اپنی بے بسی پہ رو دھو کر چپ ہوچکی تھی پر ناسور تو اندر تھا جو یوں مندمل ہونے والا نہیں تھا۔ وہ علینہ کو اپنے ہر ری ایکشن میں حق بجانب سمجھتی تھی۔ لیکن شاکرہ کی رائے اس سے الگ تھی۔ شکایت لگانے کا بھی کیا فائدہ ہوا ۔ وہ تو بیٹی ہی کے حق مین بول رہی تھی۔
”کیا خاک سوچ سمجھ کر کہہ رہی ہو گی۔ دو ٹکے کی عقل نہیں ہے تمہاری بیٹی میں۔ شائد ماں باپ پہ ہی چلی گئی ہے“۔ وہ جل کر بولی ۔ آسیہ کو اندازہ تھا اگر اس نے مان کو ٹھنڈا نا کیا تو عتاب کا نشانہ کون بنے گا اسی لئے اس کے طنز کا برا مانے بغیر بہت دھیمے لہجے میں مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
”علینہ بہت سمجھدار ہے امی، وہ اپنا اچھا برا ہم سے بہت بہتر سمجھتی ہے اور مجھے یقین ہے وہ میری طرح بیوقوفیاں کرکے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں عذاب نہین بنائے گی۔“انداز تسلی دینے والا تھا پر شاکرہ کو آگ لگا گیا تھا۔ اس کے نزدیک تو یہ آسیہ کی خوش خیالی ہی تھی ۔ علینہ کا رویہ کم سے کم اس جیسے دو ٹوک سیدھی سادھی عورت کی سمجھ سے تو باہر تھا۔
”یہ بھی خوب کہی آسیہ، اولاد کی نافرمانی اور ہٹ دھرمی پہ سمجھداری کا پردہ ڈال رہی ہو“۔ آسیہ نے ضبط سے سنا اور تحمل سے جواب دیا۔
”میں ٹھیک ہوں، کر لیں گے مینیج ان شاءاللہ بچوں کو بھی میں اور عامر مل کر۔ دو تین دن ہسپتال رہنا پڑا تو کچھ نا کچھ ہوہی جائے گا ۔ آپ بس علینہ کے پاس ہی رکیں“۔ اس سے زیادہ بحث کی ا س میں ہمت بھی نہین تھی۔ بخار نے جسم سے توانائی ختم کی وہ الگ اس درد مین گھلتے جس اذیت سے وہ گزر رہی تھی بس وہی جانتی تھی۔ اس پہ بچوں کے ساتھ ایک پل آرام نہیں تھا پر اللہ پہ توکل تھا یہی سوچ کر اس نے ماں کو سمجھانا چاہا۔
”وہ تمہاری صاحبزادی اتنا دل سخت کئے بیٹھی ہے کہ ماں کی تکلیف پہ بھی ملنا نہیں چاہتی پر اللہ نے مجھ گناہ گار کو یہ حوصلہ نہیں دیا کہ اپنی اولاد کی تکلیف دیکھ کر منہ دوسری طرف کرلوں“۔شاکرہ کو سمجھنا تھا نا سمجھی۔ اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔آسیہ نے سر پکڑ لیا۔
”کہہ رہی ہوں نا امی، اتنا بڑا آپریشن نہیں ہے۔ میں کرلوں گی مینیج“۔التجائیہ انداز میں بولی پر شاکرہ کی بات اپنی جگہ درست تھی۔ وہ ماں ہوکر اپنی اولاد کا بھلا اس کی مرضی سوچ رہی تھی تو وہ بھی تو ایک ماں تھی اور پھر عمر کے اس حصے میں جہاں انسان ضرورت سے زیادہ حساس اور چڑچڑا ہوجاتا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اپنا ردعمل ظاہر کرنا اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسے علینہ سے اسوقت یہ توقع نہیں تھی تو اس کا بولنا حق بجانب تھا۔
”تم کرلو گی مینیج ۔۔۔پر میں کیسے سکون کروں گی بتاو¿؟ میرے دل کو کیسے چین آئے گا میری بچی۔ تم وہاں اکیلی ہسپتال مین پڑی ہوگی تو میں تو یہاں مر ہی جاو¿ں گی“۔اسکا بھیگا ہوا لہجہ آسیہ کو کمزور کر رہا تھا۔ یہ فاصلے بھی کیا ستم ڈھاتے ہیں۔ پاس ہوتی تو سینے سے لگ کر تسلی دیتی۔ ہاتھ تھام کر حوصلہ بڑھاتی۔ یہ یقین دلاتی کہ وہ ٹھیک ہے۔ جسمانی درد تو وقتی ہوتا ہے دواو¿ں سے ٹھیک ہوجاتا ہے اصل دکھ تو وہاں ہے ۔۔۔۔دل میں ، جو غموں سے چھلنی ہے۔ روح میں ۔۔۔۔جو زخموں سے چور ہے۔اور وہ ان فاصلوں کے مرہونِ منت بس لفظوں سے تسلی ہی دے سکتی تھی سو دے رہی تھی۔ سمجھا سکتی تھی لہذا سمجھا رہی تھی۔
”اللہ نہ کرے امی، آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ خود سوچیں نا آپ ہی کے سہارے تو علینہ کو وہاں چھوڑا ہے اب آپ یہاں آجائیں گیں تو وہ کس کے پاس رہے گی“۔وہ آنسو پیتے بولی۔ دل کو کچھ ہوا تھا۔ بہت چھوٹی تھی جب باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا ۔ بس ماں تھی جس نے بیوگی اور تنگدستی میں پالا، مقدر میں جو دھکے لکھے ہوں وہ تو ملا ہی کرتے ہیں۔ آزمائش کے اس دور میں بھی شاکرہ اس کی ڈھال بنی رہی ۔ اس بوڑھے شجر کی شاخوں میں اب بھی اتنی سکت باقی تھی کہ اس کے گھنے سایے میں علینہ کو پناہ مل گئی تھی۔ آج بھی علینہ کی طرف سے یہی سوچ کر پرسکون ہوجاتی تھی کہ وہ اس کی ماں کے پاس ہے۔ وہ اسے لاکھ ڈانٹے، جھڑکیاں دے۔ ان دونوں میں ان بن رہے پر اندر سے وہ علینہ پہ جان نچھاور کرتی ہے کیونکہ وہ اس کی اولاد تھی ۔ اولاد کی محبت ماپنے کا پیمانہ بنا ہی نہیں تو اولاد کی اولاد سے محبت کی حد کا تعین کیونکر ہوتا۔ وہ بھی آسیہ سے سو گنا زیادہ علینہ سے محبت کرتی تھی۔
”اس کا بھی سوچ چکی ہوں میں“۔آسیہ نے آنسو پونچھتے ہوئے حیرانگی ظاہر کی۔
”کیا مطلب؟“سوال کرتے اس کے ذہن نے جواب تلاش کیا ۔ جواب مایوس کن تھا۔
”علینہ ایک مہینہ اپنے باپ کے پاس رہے گی“۔جواب وہی آیا تھا ۔ شاکرہ بے حد سنجیدہ تھی۔ آسیہ کو اس کی خوش خیالی پہ حیرت تھی۔
”وہ رکھ لے گا اسے؟“وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
”کیون نہین رکھے گا، اولاد ہے اس کی۔ سارا ٹھیکہ تمہارا تو نہین تھا نا۔ پیدا کیا، پالا پوسا۔ اچھی تعلیم دلوائی۔ اب چار دن بیٹی کو گھر نہین رکھ سکتا کیا۔“سینے سے ایک سرد آہ نکلی تھی ۔ وہ اگر اسے اپنی ذمہ داری سمجھتا تو سارے دکھ ہی ختم ہوجاتے۔ پھر تو نا اسے اذیت کاٹنی پرتی نا ہی اس کی معصوم بچی کو در بدر کی ٹھوکریں ملتیں۔ باپ کا مان ساتھ ہو تو اولاد اعتماد کی دولت سے مالامال ہوتی ہے۔ بھلے وہ دامن مین موتی و جواہر نہ ڈالے پر محبت سے ان کا دامن تنگ نہیں پڑتا۔
”آپ جانتی تو ہیں اس کے حالات“۔یاد دہانی ضروری تھی۔ طنز نہیں پر انداز جتانے والا تھا۔
”سب حالات ٹھیک ہیں بس کبھی ہم نے ہی پریشر نہین ڈالا تو وہ بلاوجہ پھیل گیا ہے“۔جواب فوراََ آیا تھا۔
”ویسے آسیہ اب وہ بہت بدل چکا ہے۔ بھاگا ہوا آتا ہے علینہ سے ملنے اور دیکھو نا دو سال سے خرچہ بھی اٹھا رہا ہے اس کا۔ سچ پوچھو تو بڑا آسرا ہے مجھے اس کا۔ ورنہ یوں جوان لڑکی کے ساتھ اکیلی بڑھیا کا رہنا مشکل ہوجاتا۔ “یہ وہ بات تھی جس کا اونا پونا ہی آسیہ کو معلوم تھا۔ خرچ کے سوا باقی ہر بات سے آسیہ بے خبر تھی۔ شاکرہ نہین چاہتی تھی خاور کا تذکرہ سن کر وہ ماضی کی تلخ یادوں میں کھو جائے ۔ وہ اس کے حالِ دل سے واقف تھی ۔ اس کی زندگی مین خاور کے مقام سے بہت اچھی طرح واقف تھی ۔ اسلئے حد درجہ اس کے ذکر سے اجتناب برتتی تھی۔ اور شائد ٹھیک ہی کرتی تھی۔ راکھ کریدنے سے فقط سیا ہی ملتی ہے۔
”ٹھیک ہے پھر اگر آپ کو یہی مناسب لگتا تو بھیج دیں علینہ کو اس کے باپ کے گھر۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے“۔ کال فوراََ ڈسکنیکٹ ہوگئی تھی۔
٭٭٭
”آپ کا مسئلہ کیا ہے نانی؟“شاکرہ کے پھوڑے گئے بم پہ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ وہ بڑے آرام سے صحن مین رکھے تخت پہ بیٹھی تھی۔ گرمی عروج پہ تھی پر شام کے وقت موسم بہتر ہوگیا تھا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے اونچی آواز میں کمرے مین بیٹھی علینہ کو اعلانیہ اپنا فیصلہ سنایا تھا۔
”لو بھلا اب میں نے کیا کہہ دیا؟“اس کا اندازہ درست تھا۔ وہ تنک کر کمرے سے باہر نکلی تھی۔ سفید اور گلابی لان کا سوٹ پہنے بالوں کو کیچر مین لپیٹے سرخ چہرہ لئے وہ اس کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی۔ شاکرہ نے ہاتھ کا پنکھا اٹھا کر جھلنا شروع کر دیا۔ علینہ مستقل اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ شاکرہ نے کمالِ بے نیازی سے کندھے اچکا کر کہا تو وہ مزید جل بھن گئی۔
”پہلے آپ مجھے زبردستی دوہا لے جا رہی تھیں۔ اب بابا کے گھر دھکیل رہی ہیں“۔نروٹھے پن سے کہتے وہ تخت پہ اس کے پاس ہی آکر بیٹھ گئی۔ اس کی طرف دیکھے بغیر اس نے شکوہ کیا۔
”ہاں تو اور کیا کروں میں۔ دوہا جانے سے تو تم نے صاف انکار کر دیا۔ اب بس یہی ایک راستہ ہے کہ ایک مہینہ باپ کے گھر چلی جاو¿ تاکہ میں آسیہ کے پاس جا سکوں“۔شاکرہ کا تحمل دیدنی تھا۔ بڑے آرام سے بولی تو علینہ بھی ہلکی پڑی۔
”میں ادھر ادھر کیوں جاو¿ں، یہاں کیوں نہ رہوں؟ “علینہ نے منہ بسورا۔
”کیا یہ میرا گھر نہیں؟“یون جیسے رو ہی دے گی۔
”ارے میری گڑیا یہ بھی تمہارا گھر ہے وہ بھی تمہارا ہی گھر ہے۔ “ اس کے چہرے پہ آئی دو لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے شیریں لہجے میں کہا ۔ علینہ منہ بنائے بیٹھی رہی۔
”لیکن اکیلی چھوڑ کر نہیں جاسکتی تمہیں۔ جوان لڑکی کو یوں تنہا چھوڑ جاو¿ں تو کون عقلمند کہے گا مجھے“۔شاکرہ نے سر پیٹنے والے انداز مین ماتھے پہ دوہتڑ مارے۔
”چھوٹی سی بچی تو ہوں نہیں جو اکیلی نہین رہ سکتی۔ اور پھر آپ خود ہی تو کہتی ہیں کہ یہ محلہ بہت سیف ہے۔ کوئی آنکھ اٹھا کر نہین دیکھ سکتا۔ سب اپنے ہیں دھیان رکھتے ہیں“۔ علینہ نے ایک ہی سانس پہ انگلیوں پہ گن گن کر وہ تمام باتیں بیان کیں جو اس دن شاکرہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے سنائی تھیں۔
”یا اللہ! “دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں اٹھائے شاکرہ نے زور سے پکارا۔
”یا تو اس لڑکی کو تھوڑی سی عقل دے دے، یا پھر مجھے اٹھا لے میرے مولا“۔ دعا کے اختتام پر زیرِ لب آمین کہہ کر اس نے باقاعدہ دونوں ہاتھ منہ پہ پھیرے۔
”یہ فتویٰ بھی آپ ہی کا صادر کیا ہوا کہ مجھے کبھی عقل نہیں آنے والی“۔ جواب ایسا آیا تھا کہ شاکرہ کا سارا تحمل پانی ہوگیا تھا۔
”ہاں تو اب کہہ دے کہ اللہ مجھے ہی اٹھا لے“۔ وہ غصے سے تنک کر بولی تو علینہ نے ہونٹ بھینچ کر ہنسی روکی۔
”بس اب یہی سننا باقی تھا اس عمر میں تم سے“۔ وہ تاسف سے بولی۔ ان دونوں کے درمیان ایسی جنگ تو روز کا معمول تھا۔ پانی کا بلبلا تھا
جو بنتا اور پھر چٹخ جاتا۔ کوئی دن اس توں توں میں میں کے بغیر گزرتا تو لگتا بغیر نمک کا سالن کھا لیا ہو۔ موقعے بھی اللہ دیتا ہی رہتا تھا تو وہ دونوں اس کا پورا پورا فائدہ اٹھاتی تھیں۔
”میں بوڑھی ہڈیاں گھسا کر پال رہی ہوں اس بے فیض کو اور دیکھو تو کیسے زبان چلا رہی ہے کہ اچھا ہے نانی ہی نہ رہے دنیا میں“۔ ایک آہ تھی جو نکلی تھی شاکرہ کے لبوں سے۔
”بہرحال جو بھی ہے، میں تو آسیہ کے پاس جاو¿ں گی ہرحال میں“۔ دوٹوک انداز میں پاس بیٹھی علینہ کا ہاتھ تھام کر سنجیدگی سے کہا تو وہ فوراََ بولی۔
”ہان تو میں نے کب روکا ہے“۔کیا فراخدلی تھی۔ شانے اچکا کر مزے سے بولی پر شاکرہ کی اگلی بات پہ تنک کر کھڑی ہوگئی۔
”تمہیں یہاں اکیلا نہین چھوڑنا۔ کہہ دیا تو بس کہہ دیا“۔انگلی کے اشارے سے دھمکی آمیز انداز میں کہی بات پہ وہ ایک بار ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔
”بابا کے پاس نہین جاو¿ں گی۔ “یہ ضد کی انتہا تھی۔ پیر پٹختی وہ واپس کمرے میں چلی گئی تھی۔
”کہہ دیا تو بس کہہ دیا“۔شاکرہ وہیں بیٹھی جلتی کڑھتی رہی۔ دونون ہاتھوں سے سر تھامے وہ بے بسی سے وہان بیٹھی اپنے مسئلے کا حل سوچ رہی تھی ۔ اپنی سمجھ کے مطابق وہ سارے جوڑ توڑ کر چکی تھی پر وہ علینہ کو قابلِ قبول نہ تھا اور اسے جو منظور تھا وہ حل بہر حال شاکرہ کے پاس تو نہیں تھا ۔
٭٭٭
”منحوس عورت، کس یار کے خیال میں گم تھی جو کھانا جلنے کا پتا بھی نہیں چلا“۔ اس نے گرما گرم سالن کی پلیٹ کو ہاتھ مار گرایا ۔ وہ یکدم پیچھے ہٹی پھر بھی خود کو بچا نہ سکی۔ اسکا دایاں پاو¿ں بری طرح جھلس گیا تھا۔ کمرے میں بچی گلا پھاڑ پھاڑ کے رو رہی تھی پر اس کی اتنی مجال نہ تھی کہ
وہ یہاں سے ہل بھی پائے۔
”صبح سے بچی کو تیز بخار ہے، ایک منٹ گود سے نہیں اتر رہی“۔ وہ سر جھکائے دھیمے لہجے میں بولی پر اسکا غصہ گویا سوا نیزے پہ تھا۔
”اپنی کوتاہیوں پہ پردے ڈالنا بند کر۔ میں ترے سارے ڈرامے جانتا ہوں۔“ وہ بولا نہیں پھنکارا تھا۔ بچی کے رونے کی آواز مسلسل آرہی تھی۔ پتا نہیں گرمی اس بار کچھ زیادہ پڑ رہی تھی یا کوئی اور مسئلہ دو دن سے اسکا بخار اتر چڑھ رہا تھا۔ اس وجہ سے وہ بے تحاشہ چڑچڑی ہورہی تھی۔ ڈاکٹر سے دوائی بھی وہ لے آئی تھی پر بخار جان نہیں چھوڑ رہا تھا۔ آج بھی وہ سارا وقت اسکی گود میں گھسی تھی۔ ذرا دیر اتارتی تو وہ رو رو کر بے حال ہوجاتی۔ کچھ دیر سوئی تو اس نے سوچا جلدی سے کھانا پکا لے ۔ جانتی تھی اسکا خاوند بھوک کا کوڑا ہے۔ کھانے مین دیر سویر ہوجائے تو اسکا دماغ گرم ہوجاتا ہے۔ پر ہائے ری قسمت ہانڈی بھونتے وقت بچی اٹھ بیٹھی اور اسی افراتفری میں سالن جل گیا۔ کوشش کے باوجود وہ جلنے کی مہک ختم نہ کرسکی اور اب وہی سالن ٹوٹی ہوئی پلیٹ سمیت اسکے پیر کو جلا رہا تھا۔
”میں بہانہ نہیں بنا رہی۔ اب بھی دیکھ لیں وہ کس طرح رو رہی ہے۔ اسکو ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔ بخار کی دوائی سے کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔“
ٹوٹی ہوئی پلیٹ کی کرچیاں اٹھا کر کچرا دان میں پھینکتے ہوئے اس نے ڈرتے ہوئے کہا۔ فرش پہ سالن پھیلا تھا جو ابھی صاف کرنا تھا۔ پر بچی۔۔۔۔وہ اب تک رو رہی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا۔ وہ انگارہ آنکھوں سے پالنے میں پڑی منہ پھاڑتی ننھی سی جان کو گھور رہا تھا۔
”جیسی تو منحوس ڈرامے باز، ویسی ہی تیری اولاد۔او تم ساری ماں بیٹیاں منحوس ہو۔ عورت ہوتی ہی منحوس ہے۔ میری طرف سے کل کی مرتی آج مر جائے“۔ وہ دھاڑا تو اسکی آنکھوںسے خوف سے آنسو نکل آئے۔ یہ تو ایک ماں کا دل جانتا ہے کہ اولاد اگر تکلیف میں ہو تو وہ کتنی بار مرتی ہے ۔جو اتنا درد سہہ کر اسے اس دنیا میں لائی تھی وہ بے درد اسکے سامنے اسکے مرنے کی باتیں کررہا تھا۔
”میرے سامنے رونے دھونے کا ڈرامہ نہ کرنا، میں ان مگرمچھ کے آنسوو¿ں کے جھانسے میں نہیں آنے والا۔ تجھے کیا لگتا ہے میں تیرے ان آنسوو¿ں کا اعتبار کروں گا۔ تم عورتوں سے زیادہ ناقابلِ اعتبار چیز بنی ہی نہیں اس دنیا میں“۔ ایک وقت تھا وہ اس کی مردانہ وجاہت اور دل کش نقوش پہ دل و جان سے فدا تھی۔ اس کی صورت دیکھے بناءقرار نا آتا تھا۔ وہ عام لوگوں میں شہزادہ لگتا تھا اور وہ شہزادے پہ جان دیتی تھی پر آج وہ دل کش نقوش ، ماتھے کے بلوں اور غصہ و نفرت کی گہری دھند تلے منہدم ہوچکے تھے۔
٭٭٭
یادِ ماضی گر جہنم تھی تو حال بھی کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ عامر کے لہجے کی تلخی اسے اندر ہی اندر توڑ رہی تھی اور سب سے بڑھ کر وہ سچ اسکی روح میں کرچیاں چبھوتا تھا جسے زبان سے کہنا تو دور کی بات وہ سوچتے ہوئے بھی کانپ جاتی تھی۔خاور کے ساتھ زندگی کسی آزمائش سے کم نہ تھی۔ وہ وقت جو آسیہ نے گزارا بس وہی جانتی تھی ۔ کتنی نفرت اور حقارت ہوتی تھی اس کے لہجے میں ان دونوں کے لئے۔ وہ اگر بیوی سے محبت نہیں کرتا تھا تو بیٹی کو بھی دن میں سو بار دھتکارتا تھا پر آج شاکرہ کہہ رہی تھی علینہ میں جان بستی ہے اس کی۔ حیرت تو اسے اس وقت بھی ہوئی تھی جب دو سال پہلے خاور نے اس کا ماہانہ خرچ اپنے ذمہ لیا تھا۔ آسیہ کے کندھوں سے ایک بڑا بوجھ اتر گیا تھا۔ احسان کا بوجھ بھاری بھرکم چٹانوں سے زیادہ وزنی ہوتا ہے اور پچھلے دس سال سے اس احسان کے بار کو اٹھائے اس کے پرخچے اڑ گئے تھے۔
”تو بیس سال بعدآخر بیٹی کی محبت نے تمہارے پتھر دل کو پگھلا ہی دیا خاور“۔آسیہ نے برستی آنکھوں کو ہاتھوں کی پشت سے بری طرح مسل کر آنسوو¿ں کو پونچھا ۔ جس شخص کے لئے وہ سونے سے مٹی ہوئی تھی اس نے اسے قدموں تلے روند ڈالا تھا۔ کچھ لوگوں کے مقدر میں محبت کی شیرینی قدرت نے لکھی ہی نہیں ہوتی۔ وہ لاکھ اپنا وجود چاہت کی آگ میں جھلسائیں، راکھ بن جاتے ہیں ۔کندن بننا ان کے نصیب مین نہیں ہوتا۔
٭٭٭
آج سفینہ کا پلاسٹر کٹنا تھا۔ آرتھوپیڈیک سے معائنہ کے بعد ڈاکٹر زبیر اسے اپنے کمرے مین لے آیا۔ پچھلی بار کے برعکس وہ آج تنہا تھی۔ ہسپتال میں مریضوں کی بے تحاشہ بھیڑ اور ناقص انتظامات کے باوجود سفینہ کو زبیر کی بدولت اس بار بھی کسی پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑا تھا۔ اس کی باری جلد آگئی تھی ۔ شکریہ تو بہرحال بہت چھوٹا لفظ تھا پھر بھی سفینہ اس کی مدد اور احسانات کے جواب میں بس اتنا ہی کر سکتی تھی۔
”بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب“۔ڈاکٹر زبیر نے مسکراتے ہوئے چائے کی پیالی اس کی جانب سرکائی۔
”زبیر کہیں، آپ کے بچوں جیسا ہوں۔ مجھے اچھا لگے گا“۔سفینہ نے حیرت سے دیکھا۔ وہ قلم انگلیوں مین گھماتا مسکراتی نگاہوں سے اس کی طرف متوجہ تھا۔ بولنے کا دھیما انداز، ذہین اور چمکدار آنکھیں۔۔۔۔۔بہترین لباس میں ملبوس اپنے تازہ تراشیدہ بالوں کے ساتھ وہ ایک پرکشش مرد تھا۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے دیگر عملے اور سرکاری ہسپتالوں کے کلچر کے برخلاف وہ بے حد خوش مزاج تھا۔ مریضوں، ان کے لواحقین اور ہسپتال کے دیگر عملے سے اس کی بات چیت کا انداز ایک سا تھا۔ جس طرح وہ سفینہ کے ساتھ اخلاص سے بات کر رہا تھا بالکل اسی طرح وہ باقی لوگوں سے بھی مخاطب تھا۔ اس چھوٹے سے شہر کے سرکاری ہسپتال میں لگی مریضوں کی بھیڑ میں اکثریت کا تعلق نچلے طبقے سے تھا۔ میلے کچیلے، پھٹے ہوئے کپڑوں سے آتی پسینے کی بو اور مہلک بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے بیچ وہ برانڈڈ بہترین لباس میں گھومتا کوئی آسمانی مخلوق لگتا تھا۔ اس کے لباس سے اٹھتی مہک وہ واحد خوشبو تھی جو اس بوسیدہ ایمرجنسی روم میں فرحت کا احساس دیتی تھی ۔ اس کے ہر انداز سے خاندانی پن جھلکتا تھا لیکن یہ اس کی عاجزی تھی جو اسے سب میں ممتاز کرتی تھی۔ اس کا تبادلہ چند ماہ پہلے ہی ہوا تھا اور اس شہر کے لوگوں کو ڈاکٹر کے روپ میں واقعی مسیحا مل گیا تھا۔ اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر وہ آو¿ٹ آف وے جا کر بھی سب کی مدد کرتا تھا۔ ان کی دلجوئی کرتا تھا۔ اس کی مستعدی، مزاج اور اقدار کی بدولت نا صرف مریض بلکہ ہسپتال کا دیگر عملہ بھی اسے بے حد پسند کرتا تھا۔
”بہت خوش نصیب ہو گی وہ ماں جنہوں نے آپ جیسی بااخلاق اور عزت کرنے والی لائق اولاد کو جنم دیا“ اس کا واسطہ دوسری بار سفینہ سے پڑا تھا اور اتنا تو اس کے متعلق وہ اندازہ کر ہی چکی تھی۔ بے لوث لوگ ہجوم میںبھی یکتا اور منفرد نظر آتے ہیں اور یہاں تو ہر شخص اس کے خلوص کا قائل تھا۔ سفینہ جانتی تھی سرکاری ہسپتالون کے دھکے کیسے ہوتے ہیں۔ غریب کو کون پوچھتا ہے ۔ وہ اس کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوئی تھی۔ اس کی اپنائیت سے قائل ہوئی تھی۔
”کاش ان کی گود بھی میسر آتی۔ اللہ نے بہت جلدی بلا لیا انہیں اپنے پاس“۔ایک اداس سی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ ابھری۔ سفینہ کو شاک لگا تھا۔
”اوہ، بہت افسوس ہوا“۔وہ افسردہ ہوئی۔ زبیر نے محسوس کیا وہ پہلے سے کمزور لگ رہی تھی ۔ چہرہ کملایا ہوا اور آنکھوں کی اداسی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ گو اتنی عمر نا تھی پھر بھی چادر سے جھانکتی سفید لٹیں اس کی مشقت بھری زندگی کی داستان سناتی تھیں۔اس عمر میں بھی اس کا حسن بے مثال تھا۔ سیاہ چادر کے ہالے میں سرخ و سفید چہرے سے جھلکتی پاکیزگی اور شفاف و بے ریا آنکھیں ۔۔۔۔۔خود بخود اس خاتون کو دیکھ کر عقیدت ہوجاتی تھی ۔ پتا نہیں وہ کون ظالم ہوگا جو اتنی سوبر اور سلجھی ہوئی عورت پہ ہاتھ اٹھاتا ہوگا۔ زبیر نے تاسف سے سوچا۔
”میں نے تو بس انہیں تصویروں میں ہی دیکھا ہے“۔ اپنے خیالات سے نکل کر وہ سفینہ کی طرف متوجہ ہوا۔
”پر آپ سے مل کر لگتا ہے بہت اچھے ہاتھوں میں ہوئی ہے آپ کی پرورش“۔یہ compliment تھا ۔ وہ بے تحاشہ مسکرایا۔
”ہمیں ہمارے والد نے ہی پالا ہے آنٹی“۔ اس نے مزید بتایا۔
”والد کی شخصیت بہت اہمیت رکھتی ہے بچوں کی زندگی میں“۔ سفینہ کی مسکراہٹ پھیکی ہوئی تھی۔ اداس آنکھوں کی مایوسی اور بھی بڑھی تھی۔ ”ہیں نا؟“اس نے نظریں چرائیں۔
”ٹھیک کہا آپ نے“۔زبیر کی طرف دیکھے بنا وہ دھیمی آواز مین بولی ۔
”بچوں کی شخصیت میں اعتماد، انکی ذہنی پختگی اور اخلاقی نشونما میں والدہ کے ساتھ ساتھ والد کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے“۔بات برائے بات کہتے اس نے اسے لاجواب کر دیا تھا۔ میز پہ رکھی چائے شائد ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ کپ کے کناروں پہ انگلی پھیرتے وہ دوسرے ہاتھ سے چادر کا کونہ تھامے اپنی تمام قوت مجتمع کر رہی تھی۔
”بلکہ میں تو کہوں گا باپ رول ماڈل ہوتا ہے بچوں کے لئے“۔سفینہ کے کپکپاتے ہونٹوں پہ لفظ اٹک گئے تھے۔ بس ایک ٹک اسے دیکھتی رہی۔اس کے چہرے پہ اذیت و بے بسی کا ہر تاثر اس پل اتنا واضح تھا کہ زبیر اسوقت بآسانی اس کا ذہن پڑھ سکتا تھا۔
”ماں بچوں کو اچھے برے مین فرق بتاتی ہے، اخلاقیات کا درس دیتی ہے، تو باپ اسکا عملی مظاہرہ کرکے دکھاتا ہے۔ اپنے قول و فعل، اپنے بیوی بچوں سے حسنِ سلوک کرکے دراصل وہ اپنی اولاد کو زندگی گزارنے کا درس دے رہا ہوتا ہے۔ “یہ بھی کاو¿نسلنگ کا ایک انداز تھا ۔ سفینہ پچھلی بار اس کی کوئی بات سننے کو رضا مند نا تھی ۔ وہ تو یہ بھی ماننے سے انکار کر رہی تھی کہ اس پر جسمانی تشدد ہوا ہے ۔ لہذا زبیر نے اپنے انداز میں سمجھانے کی کوشش کی۔
” آپ نے Learned behaviorکے متعلق تو پڑھا ہی ہوگا۔ویسے آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں؟ کھانے، پینے ، سونے جاگنے ، سانس لینے جیسے جبلی تقاضوں کے بعد انسان سب کچھ یہیں اس دنیا مین سیکھتا ہے اور سب سے زیادہ سیکھ اسے والدین سے ملتی ہے۔ خاص طور پہ اپنے باپ سے“۔بے حد سلجھے ہوئے انداز میں بہت گہری بات کہہ گیا تھا وہ۔ سفینہ اس کے ہر لفظ کا مطلب بخوبی سمجھ سکتی تھی۔ ان تمام تفاصیل کا پس منظر کیا تھا اسے اچھی طرح معلوم تھا لیکن جب خاموشی اختیار کر لی جائے تو لفظ معنی نہیں رکھتے ہیں۔
”یہ سب کتابی باتیں ہیں اورکاملیت کہاں ہوتی ہے۔ ہر ایک کے حالات مثالی نہیں ہوتے ۔“زبیر کو لگا یہی وہ پل ہے جب وہ سفینہ کو اس کی شخصیت کا کھویا ہوا اعتماد لوٹا سکتا ہے۔ وہ سیلف ریسپیکٹ جسے وہ معاشرتی دباو¿ مین آکر سالوں سے اپنے اندر سلا چکی ہے اسے جگانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہ نہیں جانتا تھا اس نے سیلف ریسپیکٹ کو سلایا نہیں مار ڈالا تھا۔ برسوں پہلے، جب اس نے اس اذیت بھری زندگی سے تنگ آکر اپنے قدم گھر کی چارد دیواری سے باہر نکالے تھے ۔ وہ اپنے ماں جائے کے پاس پناہ لینے گئی تھی۔ بوڑھی ماں کے آگے اپنا دکھڑا رونے گئی تھی۔ اس سے یہ اذیت ناک زندگی نہیں سہی جاتی ہے۔ وہ خود کما سکتی تھی بس اسے باپ اور بھائی کا تحفظ چاہیئے تھا۔ تحفظ تو نہین ملا تھا ہاں سبق ضرور دیا گیا تھا۔
”اس گھر سے رخصت ہوئی ہو اس گھر سے مر کر نکلنا“ ۔ ماں نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔ وہ خود بیٹے کے رحم و کرم پہ تھی۔ جوان بیٹی بچوں سمیت گھر آجاتی تو کون سنبھالتا۔
”عورت کی وفا تو مرد کی غربت میں پتا چلتی ہے آپا“۔ چھوٹے بھائی کی بیوی نے طنز مارا تھا۔ چھوٹا سا محلہ تھا ، آس پڑوس کے گھروں کی چھتوں سے کئی گردنیں صحن میں جھانک رہی تھیں۔ وہ روتے بلکتے ٹیپو کو گود مین اٹھائے باپ کے جواب کی منتظر تھی۔ اسے اس جہنم میں زندگی نہین گزارنی تھی جہاں روز اس کے جسم کے ساتھ روح کو بھی گھائل کیا جارہا تھا ۔ باپ نے امداد طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور سر سے پگڑی اتار کر اس کے پیروں میں رکھ دی۔ دو سال شہباز کے ہاتھوں دن رات مار کھانے کے بعد بھی اس نے اتنی ذلت نہیں سہی تھی جتنی اس ایک پل میں اس نے محسوس کی تھی۔ اس سے بڑھ کر کوئی باپ اپنی بیٹی سے کیا بھیک مانگتا۔ حکیم الدین نے عزت مانگی تھی۔ سفینہ نے اپنی عزتِ نفس کھو کر باپ کے کاسے میں عزت ڈال دی۔ وہ پلٹ کر دوبارہ کبھی اس گھر مین نہیں گئی تھی جہاں اس کے قدم رکھنے سے اس کے اپنے معاشرے مین رسوا ہوجاتے۔ زبان کو تالا لگا لیا تھا۔ شہباز سے شکوے شکایت بند کردیئے تھے ۔اس وقت وہ خود جوان اور خوبصورت تھی ، دو چھوٹے بچوں کے ساتھ انسان نما بھیڑیوں کے بیچ رہنا اس کے بس کی بات نہ تھی اور آج وہ ایک جوان بیٹی کی ماں تھی جسے دنیا والوں کی میلی آنکھ سے بچانا اس کی اولین ترجیح تھی ۔
”یا پھر یوں کہہ لیں سب آپ کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتے“۔اس نے مسکرانے کی سعی کی۔
”یعنی ماں کے سایہ التفات کے بناءکسی بچے کا پروان چڑھنا آپ کے نزدیک خوش قسمتی کی علامت ہے“۔ڈاکٹر زبیر نے ہلکے پھلکے انداز میں شکوہ کیا۔ چہرے پہ مسکراہٹ ہنوز تھی جیسے اسے چھیڑ رہا ہو۔
”میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ میں تو کسی اور حوالے سے کہہ رہی تھی۔“سفینہ نے صفائی دینا چاہی۔زبیر اپنی بات کہہ چکا تھا ، سفینہ سن اور سمجھ چکی تھی۔ بے جا طول دینا بیکار تھا اس لئے بات ختم کرنا زیادہ مناسب تھا۔ جو میسیج وہ دینا چاہتا تھا سامنے والے تک پہنچ چکا تھا۔
”خیر چھوڑیں ان تمام باتوں کو یہ بتائیں اب طبیعت کیسی ہے آپ کی“۔ اس نے ہنستے ہوئے بات بدل دی۔
”طبیعت ٹھیک ہے الحمدللہ“۔سفینہ پرسکون ہوگئی تھی۔
”چلیں یہ تو بہت اچھی بات ہے، طبیعت کو ٹھیک ہی رہنا چاہیئے“۔ ڈاکٹر زبیر نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے ریلیکس انداز میں کہا۔
٭٭٭
جانے کتنا وقت گزر چکا تھا اسے کمرے میں بند ہوئے۔ سوچ سوچ کر دماغ ماو¿ف ہورہا تھا۔ دل الگ مضطرب تھا۔ گھر میں یوں بھی کوئی اس سے بات نہیں کر رہا تھا اور اس کا اپنا دل بھی نہیں تھا کسی سے بات کرنے کا۔ بیٹھے بیٹھے تھک گیا تو اٹھ کر کمرے کے چکر لگانے لگا۔ پچھلے چند روز سے وہ عجیب سی اذیت میں مبتلا تھا گو اپنی اس حالت کا ذمہ دار وہ خود ہی تھا پر اس کی خود غرضی اسے اپنا احتساب کرنے ہی نہیں دیتی تھی۔ ساجدہ سے ہونے والی تلخ کلامی کے بعد بہن اور باپ کا رویہ بھی اکھڑا ہوا تھا ۔ وہ خود بھی دل ہی دل میں شرمندہ تھا اسلئے ان سب سے گریز کر رہا تھا لیکن اندر ہی اندر جو بات اسے کھا رہی تھی وہ فریحہ کا اس سے اجتناب برتنا تھا۔ وہ اس کے بہت قریب تھی، اس کی معصوم نیچر سے وہ بخوبی واقف تھا۔ فریحہ نے اس سے کبھی کچھ راز نہیں رکھا تھا پھر اچانک اس کے رویے میں آئی تبدیلی ، اس کا فارس سے باتیں چھپانا۔۔۔۔وہ یونہی ڈسٹرب نہین ہوا تھا۔ پچھلے دو دن سے فریحہ نے اسے کال نہین کی تھی اور اس دن کے بعد فارس نے بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا لیکن اب اس کا صبر جواب دے چکا تھا۔ وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ میز پہ دھرا اپنا سیل فون اٹھاکر کچھ سوچتے ہوئے فارس نے فریحہ کا نمبر کانٹیکٹ لسٹ مین سے نکالا لیکن اسی پل مخصوص رنگ ٹون کی آواز کمرے میں گونجی، فون کی جلتی بجھتی اسکرین پہ چمکتا نام پڑھ کر فارس پچھلی تما م ٹینشن بھول چکا تھا۔ بے ساختہ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا اور اس نے برق رفتاری سے کال ریسیو کی تھی۔
٭٭٭
انصاری ہاو¿س میں آج سمیر کی آخری رات تھی۔ کل صبح وہ واپس لاہور کے لئے نکل رہا تھا ۔ اگلے ہفتے اسے یہاں جوائن کرنا تھا اور اس سے پہلے اپنے چھوٹے موٹے کام وائنڈ اپ کرنے کے ساتھ سامان وغیرہ بھی یہاں بھجوانا تھا۔ شام کی چائے اس نے فریحہ کے ساتھ لاو¿نج میں ہی پی تھی۔ وہ اپنا شیڈول اس سے ڈسکس کر رہا تھا۔ آنے والے دنوں کی مصروفیات کے متعلق بتا رہا تھا ۔ ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی جاری تھی۔
”پچھلے کچھ دن سے میں ایک بات سوچ رہی ہوں“۔فریحہ کے چہرے پہ اسوقت مکمل سنجیدگی تھی۔
”حالانکہ تمہارے لئے بہت ٹف ہوگا“۔سمیر اسے کبھی سیریس لیتا ہی نہیں تھا۔
”کیا؟“وہ الجھی۔
”سوچنا“۔وہ چوٹ کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔
”بھائی میں سنجیدہ ہوں“۔اس نے منہ بنایا ۔ وہ اس وقت ایک انتہائی اہم بات کرنے کے لئے لفظ اپنے ذہن میں compile کر رہی تھی ۔ دوسری طرف سمیر بے حد غیر سنجیدہ۔
”کل میں بھی سنجیدہ تھا“۔ اس نے بدلا چکاتے ہوئے فریحہ کی پچھلی رات والی حرکت کا حوالہ دیا جب وہ مستقل اس کا مذاق اڑا رہی تھی۔ علینہ کے گھر جو بھی ہوا سمیر اسے یونہی فراموش نہین کر سکتا تھا اس وقت تو اسے فریحہ کی شرارت بھی زہر لگی تھی۔
”میں واقعی آپ سے ایک اہم بات شئیر کرنے جارہی تھی“۔اس نے موضوع کی طرف آنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف ہرگز رحم دلی نا تھی۔ الٹا مزید ٹانگ کھینچنے کا موڈ ہوا تو ایک اور لقمہ دیا۔ فریحہ کو چڑانے کا شاندار موقع ہاتھ لگا تھا۔
”اوہ ۔۔۔اہم بات۔ اس کا مطلب کہیں ڈیزائینر لان کی ایگزیبیشن لگی ہوگی، یا پھر سیل چل رہی ہوگی“۔ فریحہ نے سر پیٹ لیا۔
”جی نہیں“۔وہ نروٹھے پن سے بولی۔
”اسلام آباد جانے کا پروگرام ہوگا پھر“۔سمیر ہنسا۔
”اسلام آباد واپس نہ جانے کا پروگرام ہے“۔سنجیدہ اور دو ٹوک انداز میں کہی بات نے سمیر کی ہنسی کو بریک لگائے تھے۔ وہ یہ امید کھو چکا تھا۔
"Really?”۔ فریحہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اور اس اچانک فیصلے کی وجہ؟“اس نے کریدا۔
”میں یہاں رہنا چاہتی ہوں۔ آپ سب کے ساتھ، آپ سب کے پاس۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔“اپنے ہاتھون کی انگلیوں کو دیکھتے وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی۔ بات نامکمل تھی۔وہ لفظ تلاش کر رہی تھی۔
”اور“؟سمیر نے ابرو اچکائے۔
”اور یہ کہ اسی ہسپتال میں کام کرکے کچھ تجربہ حاصل کرنا چاہتی ہوں“ سوچ میں یہ تبدیلی ۔۔۔۔ اس کی بات نے سمیر کو حیران کیا تھا۔
”پر تجربہ تو تمہیں بڑے شہر میں ملنا تھا“۔ سمیر نے اس کی پچھلی بات کا حوالہ دیا۔ اس دن فریحہ اس سے اسی بات پہ تو الجھ رہی تھی۔
”مین غلط تھی، تجربہ کام کی نوعیت کے مطابق ہوتا ہے۔ کام اگر وہاں ہے تو یہاں بھی اس کی کمی نہیں ہے۔ اور سب سے بڑھ کر حقیقی زندگی سے جڑے جو مسائل یہاں ان لوگوں کے پاس ہیں وہ صحیح معنوں مین توجہ طلب ہیں“۔ اس نے اپنی غلطی کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔
”یہاں معاملات فقط بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ انہیں رہنمائی اور شعور کی بھی ضرورت ہے۔ Frankly speaking ان لوگوں کو کاو¿نسلنگ کی بہت ضرورت ہے“۔ سمیر کو اس کی بات سن کر انتہائی خوشی ہوئی تھی۔ اس کی سمجھداری پہ رشک ہوا تھا لیکن وہ اسے پرکھنا چاہتا تھا ۔ کہیں وہ فیصلہ جذبات مین آکر تو نہیں کر رہی اور چند دن بعد اپنی جاب کھونے پہ افسوس کرے۔
”تمہارا جذبہ قابل ستائش ہے لیکن فری یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔“ اس نے سراہا لیکن ساتھ ہی ساتھ وارن بھی کیا۔
”بھائی میں کوشش کرنا چاہتی ہوں“ ۔وہ اپنی بات پہ مصر تھی۔
”دل میں حسرت نہیں رہنی چاہیئے کہ آپ نے کبھی کچھ سنوارنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی“۔فریحہ کا انداز حتمی تھا۔
”اس کا مطلب پوسٹ گریجویشن کا پروگرام کینسل؟“وہ فکر مند ہوا تھا کیونکہ یہ تو وہ بھی چاہتا تھا کہ فریحہ اسپیشلائزیشن ضرور کرے۔
”میں یہاں رہ کر بھی USMLE کی تیاری کرسکتی ہوں۔ ایگزام دے کر ریزیڈنسی ایپلائی کردوں گی پھر اگر کوئی آفر آئی تو امریکہ بھی چلی جاو¿ں گی لیکن ابھی تو مجھے کچھ وقت یہیں رہنا ہے“۔اس نے تفصیلات شئیر کیں۔ سمیر مطمعن ہوا تھا۔
”پلان تو اچھا ہے ۔ And if you need any help, I’m always with you“خوشدلی سے کہا تو فریحہ بے تحاشہ مسکرائی۔
”Thank you soo much بھائی“۔ سمیر کی باتوں نے اس کے فیصلے کی درستگی پہ مہر ثبت کر دی تھی۔ وہ اپنے فیصلے پہ مطمعن و شاد ہوگئی تھی۔
٭٭٭
”اچانک اس فیصلے کی وجہ جان سکتا ہوں“۔وہ تقریباََ چیخا تھا۔
”جان تو لو، پر شائد سمجھ نہ سکو“۔وہ لب کاٹتے بولی۔
”اتنا بیوقوف سمجھتی ہو تم مجھے فریحہ؟“شکوہ کیا گیا تھا۔
”ایسی بات نہیں فارس، پر فقط میرے بتانے سے تم وہ سب مسائل نہیں سمجھ پاو¿ گے جو میں یہاں دیکھ رہی ہوں“۔ اس نے سمجھانا چاہا۔
”اس ظاہری ترقی سے قطع نظر اس شہر میں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ ایسے لگتا ہے آپ قرون اولیٰ کی بستی میں رہتے ہیں۔“اس امید پر کہ وہ مخلصانہ مشورہ دے گا فریحہ نے تفصیلات بتائیں۔
”بیماریاں، غربت، معلومات کا نا ہونا۔۔۔۔کوئی ایک پرابلم ہو تو تمہیں بتاو¿ں“۔وہ ہرگز متاثر نہین ہوا تھا۔ماتھے پہ بل واضح تھے۔
”اور تم ان غریب، نادار اور کسم پرسی کی زندگی گزارنے والے بیمار لوگوں کی زندگی بدل دو گی وہاں رہ کر۔۔۔رائٹ؟“اس کے طنزیہ انداز پہ فریحہ کی امید کو دھچکا لگا تھا۔
”مدر ٹریسا، یا پھر پاکستان کی نیلسن منڈیلا بن کر ان کی زندگیون میں انقلاب لے آو¿ گی“۔فارس کا تجزیہ ظالمانہ تھا۔
”میں نے ایسا دعویٰ نہیں کیا، میں اپنی زندگی سوچ سمجھ کر گزار لوں یہی بہت ہے، ابھی تو ہمیں خود پختہ سوچ کی ضرورت ہے“۔جواب فوراََ دیا گیا تھا۔
”لیکن میں جس پیشے سے وابستہ ہون اس میں یوں آنکھیں بند کرکے فقط اپنی ذات کے متعلق نہیں سوچ سکتی۔ میرے والدین نے دن رات کی محنت سے ایک ایسا پلیٹ فارم بنا دیا ہے جس کو بنیاد بنا کر میں اور کچھ نہ سہی لوگوں میں شعور ہی بانٹ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔یا کم سے کم عورتوں میں “۔ انداز دو ٹوک اور منہ پہ مارنے والا تھا۔ فارس اگر اسے سمجھنا نہین چاہتا تھا تو پھر اسے اتنی باتیں سنانے کا بھی کوئی حق نہیں تھا۔ محبت کا مطلب عزتِ نفس پہ کمپروپائیز نہیں ہوتا۔
”عورتوں میں؟ “ وہ چونکا۔ فریحہ نے اول تا آخر وہ سارا واقعہ فارس کو کہہ سنایا جس نے اس کے ذہن کو بری طرح متاثر کیا تھا اور وہ جیسے وہیں جا اٹکی تھی۔
”یار Domestic Violence تیسری دنیا کا مسئلہ ہے اور حکومتی سطح پہ ایکشن لیا تو گیا ہے اب تم کیا تیر چلا لو گی اکیلی“۔وہ چڑ کر بولا۔ اسے تو سوچ سوچ کر غصہ آرہا تھا فریحہ اتنا جذباتی فیصلہ کر بھی کیسے سکتی ہے۔ کہان ایک چھوٹے سے شہر کا چند کمروں پہ مشتمل خیراتی ہسپتال، کہاں ملک کے بڑے شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کی بہترین ملازمت اور سب سے بڑھ کر ان دونوں کی مشترکہ پلاننگ۔ وہ تو پاکستان مین رہنے پہ راضی ہی نہیں تھا ۔ اس کا دماغ جیسے بھک سے اڑ گیا تھا۔ فریحہ میڈم کو فلاحِ عامہ کا شوق چڑھا تھا۔
”میرا بھی یہی خیال تھا کہ لوگ قانون کے ہوتے ڈر جائیں گے، اس کے احترام میں ہی سہی عورت کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنانا بند کر دیا جائے گا لیکن ہم غلط ہیں فارس۔۔۔۔۔اس ملک میں اب بھی ایسے بے شمار لوگ بستے ہیں جن تک شعور و آگہی کی روشنی پہنچی ہی نہیں۔ وہ انسانیت کا خوف نہیں کھاتے قانون کا احترام کیا خاک کریں گے۔ “فریحہ نے جیسی آسودہ زندگی گزاری تھی، اس کے نزدیک دنیا جنت تھی۔ سلجھے ہوئے اعلٰی تعلیم یافتہ والدین، بہترین خاندانی بیک گراو¿نڈ کا ٹیگ، ملک کے شاندار تعلیمی اداروں مین جاکر اور اپنی ہی کلاس کے لوگوں سے دوستیاں بنا کر وہ کیسے جان پاتی کہ اس کے ملک کی بڑی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارتی ہے، صحت کا مسئلہ، تعلیم کے مسئلے سے زیادہ خطرناک ہے ۔ شعور کتابیں رٹنے سے نہیں آتا۔ یہ میراث ہوتی ہے جو حالات کے مارے بیشتر لوگوں کے لئے فقط چار حرفی لفظ ہوتا ہے۔ عورت کی حیثیت آج بھی گائے بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جاتی، رشتوں کی بنیاد پہ معاشرتی سطح پہ اس کا استحصال صدیوں سے ہورہا ہے اور آج بھی اس ملک میں جھوٹی انا اور معاشرتی دباو¿ کی وجہ سے عورت کو غلاموں سے بدتر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
”اور تم اب اس علاقے کی عورتوں میں شعور بانٹو گی؟“اس نے باقاعدہ طنز کیا۔
”بحیثیت ایک عورت اتنا تو فرض بنتا ہے میرا۔ آخر مجھے بھی اپنے ضمیر کو مطمعن کرنا ہے“۔ اس کا لہجہ حتمی تھا۔
”جاہل لوگ، کم عقل عورتیں، تمہارا ضمیر۔۔۔۔۔اس سب میں میں کہا گیا فریحہ؟ میرے اور تمہارے تعلق کا کیا ہوگا“۔ فریحہ کے رویے نے اسے واقعی disappoint کیا تھا۔ لاجک کی جنگ ہار کر وہ اب جذبات کے ہتھیار کا سہارا لے رہا تھا۔
”ہمارا تعلق بیچ میں کہان سے آگیا فارس۔ ہم تو ساتھ تھے ۔ہیں ۔اور رہیں گے۔“ وہ حیران ہوئی تھی۔ اس نے اتنا آگے تک نہیں سوچا تھا۔
”اور جو تم نے راستہ بدل لیا ہے؟“شکوہ کیا گیا تھا۔
”راستہ نہیں بدلا۔ detour لیا ہے۔ منزل تو ایک ہی ہے نا۔ میں جہاں سے بھی چلوں میری منزل تم ہی ہو“۔ جواب بردباری اور تحمل سے دیا گیا تھا۔
”اور اگر میں تمہیں یہ سب فضولیات میں وقت برباد کرنے کی اجازت نہ دوں تو؟“اس نے ابرو چڑھا کر سوال کیا۔
”لیکن فارس ہمارا تعلق ابھی اجازت کی حدود و قیود میں نہیں جکڑا۔ میں اپنے کسی بھی عمل کے لئے اس وقت صرف اپنے والدین کی اجازت کی محتاج ہوں جو ۔ “فریحہ نے صاف گوئی سے کہا، وہ جذباتی تھی بیوقوف نہیں۔ وہ اسے جذباتیت کے پھندے میں پھنسانا چاہتا تھا وہ عقل کا استعمال کرکے بآسانی نکل آئی تھی۔
”یعنی دوسرے لفظوں میں تمہاری زندگی میں میری اہمیت دو کوڑی کی بھی نہیں ہے“۔فارس کا لہجہ کاٹ دار تھا۔
” تم میرے لئے بہت اہم ہو فارس۔ بہت محبت کرتی ہوںمیں تم سے ۔بس کچھ مہلت مانگ رہی ہوں۔ تم اپنی جاب پہ توجہ دو میں یہاں کچھ کرتی ہوں۔ اس دوران دونوں USMLE مکمل کرتے ہیں۔ “سمجھانے کی ایک اور سعی کی گئی تھی۔
”ٹھیک ہے فری، اگر تم نے اکیلے چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو یونہی سہی۔ مین تمہارے راستے مین نہین آو¿ں گا لیکن مجھے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے یہ اب میرا اپنا فیصلہ ہوگا ۔ “سب کچھ بے سود تھا۔ فارس اب بلیک میلنگ پہ اتر آیا تھا۔ فریحہ کی بات سچ ثابت ہوئی تھی وہ جان گیا تھا پر سمجھا نہین تھا کیونکہ وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔
”فارس میری بات۔۔۔۔۔“ کال ڈسکنیکٹ کر دی گئی تھی۔
٭٭٭
تھکا گیا ہے سفر اداسی کا
اور اب بھی ہے میرے شانے پہ سر اداسی کا
وہ کون کیمیا گر تھا جو بکھیر گیا
ترے گلاب سے چہرے پہ زر اداسی کا
میرے وجود کے خلوت کدے میں کوئی تو تھا
جو رکھ گیا ہے دیا طاق پہ اداسی کا!

علینہ۔۔۔۔یعنی جنت کا ریشم!
وہ چودھویں کے چاند کی چاندنی میں ڈھلا روپ ، کسی حور کی طرح پاکیزہ، مشک سی معطر تھی۔۔۔۔۔۔
ہاں وہ ریشم ہی تو تھی۔مضبوطی و نزاکت کا حسین امتزاج۔۔۔۔۔۔۔
روح کو گھائل کرتے غم کے چھالوں کو چھپائے، مسکراہٹ کا مگوٹھا چڑھائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر چٹان سی سختی لیکن اپنے اندر نزاکت، نرمی اور محبت کو سب سے چھپائے۔۔۔۔۔
وہ ایک ایسی پہیلی تھی جس کی زندگی دھوپ چھاو¿ں کا امتزاج تھی۔
روتی آنکھوں سے مسکراتی، اپنے آنسوو¿ں کو ہنسی کا لبادہ اوڑھادیتی ۔
فکر و تفکر کو سینے مین چھپائے، بظاہر لاپرواہ دکھائی دینے والی علینہ ۔۔۔۔
کبھی ماں کی جدائی پہ آنسوو¿ں بہاتی تو کبھی باپ کی بے نیازی پہ سسکتی۔ ۔۔۔۔۔
ہر رات یہ بن بادل برسات اس کے کمرے کی تنہائی میں اس کی شریکِ سفر ٹھہرتی ۔ ۔۔۔۔۔
اس پل بھی وہ اپنے کمرے کی تنہائی سے لپٹی آنسو بہا رہی تھی۔ دل مین بے کیف سی اداسی تھی۔ ہاتھ بے اختیار پاس رکھے سیل فون تک گیا ۔
”ہیلو“۔آواز میں حیرانگی و بے یقینی تھی۔
”کیسی ہیں آپ“۔وہ آنسو پیتے بولی۔
”میں ٹھیک ہوں میری جان، تم کیسی ہو “؟آسیہ تڑپی۔
”میں ۔۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں ماما“۔اسکا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
”کتنے دنوں بعد تمہاری زبان سے لفظ ماما سن رہی ہوں، شائد مہینوں بعد“۔اتنے سالوں مین پہلی بار علینہ نے اسے خود کال کی تھی۔
”بہت اچھا لگ رہا ہے“۔وہ خاموش رہی تھی۔چند پل گزرے ۔۔۔سلسلہءکلام دوبارہ شروع ہوا تھا۔
”آپ کا آپریشن ہونے والا ہے؟“اس کی ناراضگی میں ماں کی بیماری نے دراڑ ڈالی تھی ۔ کل سے لے کر آج تک وہ شاکرہ کے ساتھ الجھتی رہی تھی، بحث کرتی رہی تھی۔ اس نے ایک لفظ بھی اس حوالے سے نانی کو نہیں کہا تھا لیکن وہ پریشان تھی۔
”ہاں، پر تم گھبرانا مت، یہ تو آجکل بہت عام سی بات ہے“۔ آسیہ نے تسلی دی۔
”بہت درد ہورہا ہوگا نا“۔اس نے چھوٹے بچوں کی طرح سوال کیا تھا۔ آسیہ دھیرے سے مسکرائی لیکن اس مسکراہٹ مین بھی درد چھپا تھا۔
”اس سے کم جو تمہاری جدائی میں کاٹ رہی ہوں“۔انگلیوں کی پوروں سے آنسو پونچھتے وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی۔
”آپ فکر مت کریں نانی آرہی ہیں آپ کے پاس“۔وہ پھوٹ پھوٹ کے رونا چاہتی تھی لیکن اس پل ماں کی ہمت توڑنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ اسکی بات کو نظر انداز کرکے اس نے تسلی دی۔
”ہاں ۔۔۔۔پر تم تو نہیں آرہی نا ساتھ ؟“ آسیہ کے لہجے میں تشویش تھی۔ علینہ کے اندر شکووں نے سر اٹھایا لیکن وہ اسوقت آسیہ کو اپنی کسی بھی بات سے دسٹرب نہین کرنا چاہتی تھی۔
”نہیں“۔خود کو حتیٰ الامکان نارمل رکھتے ہوئے بولی تو آسیہ نے جیسے سکون کا سانس لیا تھا۔
”تم مت آنا یہاں“۔اس نے مزید کہا۔ وہ تھوڑی اور ٹوٹی و بکھری تھی۔
”جانتی ہوں“۔ اس کا ضبط قابلِ ستائش تھا۔
”مجھے معاف کردینا میری بچی۔ میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر پائی۔ افسوس میری کم نصیبی میری اولاد کی خوشیاں نگل گئی“۔ آسیہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔ وہ خود اتنی اپ سیٹ تھی اس سے زیادہ تسلی و دلاسہ نہین دے سکتی تھی۔ ماں کی جدائی کیا کم سانحہ تھا اور اب اس کی تکلیف کا سن کر تو اس پہ غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا ۔ خود کو سمیٹنا مشکل تھا ماں کو کیسے سنبھالتی۔
”اپنا خیال رکھئیے گا۔ میں اب فون رکھتی ہوں“۔اپنے آنسوو¿ں پہ بند باندھتے بولی تو آسیہ نے بھی رونا ترک کرکے اجازت دے دی۔
”اچھا ٹھیک ہے، تم بھی اپنا خیال رکھنا “۔ کال بند کرتے وقت سکون و بے سکونی کے ملے جلے جذبات اس کو جکڑے ہوئے تھے۔ علینہ کی کال نے جہاں اس کو پرسکون کیا تھا، اپنی کم مائیگی کے احساس نے اس کی تڑپ بڑھا دی تھی۔
”یا اللہ میری بدقسمتی کا سایہ میری بچی کی زندگی سے دور کردے میرے مالک۔ اس نے اپنی عمر سے بڑھ کر دکھ جھیلے ہیں، اپنی بساط سے زیادہ غم دیکھے ہیں اب اس کی زندگی میں خوشیوں کے چراغ روشن کردے۔ یہ درد اور پریشانی کی سیاہی مٹا دے میرے مالک۔ اس کے نصیب روشن کردے“۔ایک ماں تڑپ تڑپ کر بارگاہِ خداوندی میں اپنی اولاد کے حق میں دعا مانگ رہی تھی۔ اس زمین کے خالق سے اس کی مخلوق کے اچھے نصیب کی فریاد کر رہی تھی۔
٭٭٭
پکے فرش پہ بیٹھا وہ اپنی ٹرین سے کھیل رہا تھا۔ سستے اور ناقص پلاسٹک سے بنی یہ چھوٹی سی ٹرین آج کل اس کی پسندیدہ تھی۔ چھوٹے انجن کے پیچھے لگی دو بوگیاں۔۔۔وہ انہیں فرش پہ دوڑاتا نہایت خوش تھا۔ سفینہ سے پڑھنے کے بعد رات کا یہ وقت اس کے کھیل کا ہوتا تھا۔ فاطمہ باورچی خانے کی صفائی کر رہی تھی جبکہ سفینہ صحن میں رکھی چارپائی پہ بیٹھی بچوں کی کاپیاں چیک کر رہی تھی۔ دھڑ دھڑ بیرونی دروازہ بجا تو فاطمہ نے باہر نکل کر شکوہ بھری نگاہوں سے مان کی طرف دیکھا۔ سفینہ نے نظریں چرائیں اور دھیان دوبارہ کاپیوں پہ لگا لیا۔ فاطمہ دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی دروازے پہ لپکی، حسبِ توقع سامنے شہباز کھڑا تھا۔ نشے میں دھت ، لڑکھڑاتا ہوا وہ اندر داخل ہوا۔اسکے لباس سے سگریٹ اور مخصوص مشروب کے بھبوکے اٹھ رہے تھے۔ فاطمہ ناک سکیڑے ایکدم وہاں سے ہٹ گئی تھی۔ اسے کھانے کا آرڈر دے کر وہ خود کمرے مین جا گھسا۔ فاطمہ منہ بناتی باورچی خانے مین چلی گئی جبکہ سفینہ نے تشویش سے کمرے کی طرف دیکھا۔ اندر ٹیپو کھیل رہا تھا۔
ٹیپو اپنے کھیل میں مگن تھا ۔ شہباز نے اسے جا کر دبوچا اور بے اختیار چومنے لگا۔ اس طرح کے دورے اس پہ اکثر پڑتے تھے لیکن ان کا نتیجہ ہمیشہ خوفناک ہی ہوتا تھا۔ وہ اس افتاد پہ چونکا، باپ ہوش میں نہیں تھا اتنا وہ جانتا تھا پر اسکے پیچھے کیا وجہ تھی اس سے غافل تھا۔
”ادھر آ میرے شیر، دو گھڑی میرے پاس بھی بیٹھا کر“۔ اسے بازو سے تھام کر وہ بستر پہ دراز ہوگیا۔ ٹیپو کھلونے کو حسرت سے دیکھتا بے بسی سے اسکے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔
” میں کہتا ہوں چور، ڈاکو، چرسی، بھنگی پہ یقین کرلینا۔ لیکن عورت ذات پہ اعتبار مت کرنا“۔وہ اول فول بک رہا تھا۔ معصوم بچہ خاموش بیٹھا رہا۔ ایسی باتیں اس کے ذہن سے بڑی تھیں۔
”یہ میٹھی چھری، آنسوو¿ں کے جال بچھا کر مردوں کو بیوقوف بناتی ہیں“۔اس کی زبان میں لڑکھڑاہٹ تھی۔
”اسے سر پر چڑھالو نا تو جوتی کی طرح ساری عمر سر پہ پڑتی رہے گی۔ اسلئے اوقات مین رکھنا چاہیئے اسکو، جیسے میں نے رکھا ہوا ہے“۔سفینہ کے کان اسوقت اندر ہی لگے تھے پر اسوقت اس میں اتنی ہمت کہاں تھی جو بچے کو اٹھا لاتی۔
”سمجھ آئی کچھ یا نہیں؟“ایک زوردار دھپ اس کی کمر پہ ماری تو وہ بیٹھا بیٹھا دہل گیا۔ خوف سے سر ہلایا۔
”منہ سے بول نا۔ زبان کو الی لگی ہے کیا تیرے؟“وہ چلایا۔
”سمجھ آئی“۔ٹیپو نے معصومیت سے کہا۔
”شاباش۔ “ایک با ر پھر اس کی نازک کمر پہ دھپ مار کر اب کی بار سراہا گیا تھا۔
”ایک بات تو بتا۔ یہ فاطمہ روز کہاں جاتی ہے؟“تکیے پہ سر جمائے وہ چارو شانے چت لیٹا تھا کہ اچانک کچھ یاد آنے پہ سر اٹھایا۔ ٹیپو اسی حالت میں سر جھکائے بیٹھا خوف سے کانپ رہا تھا۔باپ کی آواز پہ چونکا۔
”کالج“۔معصومیت سے بولا تو شہباز کے ماتھے پہ ناگواری سے بل پڑے۔
”پکی بات ہے“؟ابرو اٹھا کر اس نے سوال۔
”پکی بات ہے“۔بچہ فوراََ بولا۔
”ابے ہٹ۔ تجھے کیا پتہ۔ “ہاتھ سے پرے دھکیلتے وہ پھر بستر پہ دراز ہوگیا تھا۔
”سب سمجھتا ہون مین تیری ماں کی کرتوت۔ کچھ نا کچھ گل کھلائے گی جوان لڑکی کو گھر سے باہر رکھ کر“۔آنکھین موندیں وہ بڑبڑا رہا تھا۔ اسی وقت فاطمہ کمرے مین داخل ہوئی اور بستر پہ شہباز کے پاس بیٹھے ٹیپو کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں واضح ناپسندیدگی نمایاں ہوئی۔
”ٹیپو تمہیں امی بلا رہی ہیں“۔کھانا میز پر رکھ کر اس نے باقاعدہ گھور کر بھائی کو دیکھا۔
”آجاتا ہے ٹیپو کہیں بھاگا نہین جارہا۔ تو جا“۔شہباز نے آنکھیں کھول کر فاطمہ کو دیکھا جو ٹیپو کو گھرک رہی تھی۔ وہ کھا جانے والے انداز میں بولا تو وہ خود بھی سر سے پیر تک کانپ گئی تھی۔
”اس نے ہوم ورک کرنا ہے ابا“۔وہ منمائی۔
”کرلے گا ہوم ورک بھی دو گھڑی اپنے باپ کے پاس بیٹھا ہے تو تم دونوں مان بیٹی کو غش کیوں پڑ رہے ہیں“۔شہباز نے جھڑکا تو وہ سر جھکائے خاموشی سے کمرے سے چلی گئی تھی۔
”کیسا پھر؟“شہباز نے ٹیپو کی طرف دیکھا اور اپنا دایاں ہاتھ سامنے کیا جیسے داد چاہتا ہو، بچے نے ڈر کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
”ایسے رکھتے ہیں ان عورتوں کو ان کی اوقات میں“۔اسکو آنکھ مار وہ انگڑائی لیتا بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ٹیپو خوف اور دہشت کے زیرِ اثر پسینے میں شرابور چپ چاپ باپ کو کھانا کھاتے دیکھتا رہا۔
٭٭٭
بوڑھے معذور باپ کو کھانا کھلانا، اس کے کپڑے تبدیل کرنا ، ناخن تراشنا، نہلانا دھلانا سب کچھ خاور نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا ۔ورکشاپ سے دن مین دو بار وہ اسی کی خاطر گھر چکر لگاتا تھا۔ رخشندہ اس کی کوئی ذمہ داری نہ اٹھائے گی یہ اس کی پہلی شرط تھی لیکن وہ اگر ایسا کرتی بھی تو خاور کبھی اس سے اپنے حصے کی خدمت نا کرواتا۔ یہ وہ واحد بھلائی اور نیکی تھی جسے وہ کسی سے بانٹنے پہ راضی نہ تھا کیونکہ یہ اس کا فرض تھا۔ وہ سوچکا تو آہستگی سے دروازہ بھیڑ کر وہ کمرے سے نکلا ۔ لاو¿نج میں بیٹھی رخشندہ ماتھے پہ بل ڈالے ریموٹ ہاتھ میں تھامے بے دردی سے چینل بدل رہی تھی۔ خاور نے اسے ٹوکنا مناسب نہیں جانا تو خاموشی سے پاس سے گزر گیا۔ اس کا ارادہ کمرے مین جا کر آرام کرنے کا تھا۔
”اگر دو گھڑی فرصت ہو تو مجھے بھی پوچھ لو“۔رخشندہ کی کاٹ دار آواز پہ اس کے قدم رک گئے۔
”کیا ہوا، سب خیریت ہے نا“۔اس خراب موڈ کا پس منظر جاننے کی کوشش کی۔
”یعنی خیریت نا ہوگی تو مجھے منہ بھی نا لگاو¿ گے؟“ٹی وی بند کرکے ریموٹ اس نے سامنے پڑی میز پہ زور سے پٹخا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔
”کیون سارا وقت مرچیں چبائے رکھتی ہو رخشندہ۔ بیٹھ جاو¿ سکون سے اور تحمل سے بتاو¿ ہوا کیا ہے۔“خاور نے داڑھی پہ ہاتھ پھیرا ۔ وہ اس کے تیور سمجھ چکا تھا ۔ہفتے دو ہفتے بعد جھگڑا نا ہو تو اس کا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ خاور نے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔ وہ خود بھی وہیں بیٹھ چکا تھا۔
”میرے منہ پہ تو ڈھکن لگا دو میاں۔ منہ کھولنا زہر لگتا ہے تمہیں میرا“۔وہ تلملا کر بولی۔
”اچھا دھیمی آواز میں بات کرو، ابا جی سو گئے ہوں گے“۔خاور نے ہاتھ اٹھا کر تنبیہہ کی۔
”سارے جہان کا خیال ہے تمہیں خاور ۔ پرواہ نہیں ہے تو بس میری۔ “وہ دھیمی پڑی تھی۔
”تو کیا میں تمہارا خیال نہین رکھتا؟“ہمیشہ کی طرح اپنی تحمل مزاجی سے اس نے رخشندہ کا غصہ کم کر دیا تھا۔
”گھر آتے ہی اپنے باپ کی خدمت میں جت جاتے ہو۔ باہر ہوتے ہو تو اپنی لاڈلی کے دکھ میں ادھ موئے ہوئے جاتے ہو یا پھر اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ہو۔ میں تو انتہائی غیر ضروری اور ناکارہ شے ہوں تمہاری نظر میں“۔اس کا انداز شکایتی تھا۔ چھٹیون کے بعد مونس تو نکل کر اپنے دوستوں کے ساتھ ناران کاغان گھومنے چلا گیا تھا۔ جب ہوتا بھی تو سوائے پیسے مانگنے کے وہ کہاں مان کے پاس پھٹکتا تھا۔ دوسری کوئی اولاد اللہ نے دی نہیں تھی جو دھیان کسی دوسری طرف لگتا۔ سارا دن فارغ بیٹھے اسے ایسے panic attack پڑتے ہی رہتے تھے۔
”اپنے گناہوں کا ازالہ جو کر رہا ہوں“۔وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔
”کیا کہا؟“رخشندہ کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔
”اباجی کی حالت سے تو تم واقف ہو۔ میں نے تم پر تو کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی ۔ میں کچھ وقت انہیں نہین دوں گا تو پھر ان کی دیکھ بھال کون کرے گا؟“اس نے تفصیل بتائی۔
”ہان تو تم اسی شرط پہ لائے تھے انہین یہاں کہ مجھ پہ کوئی بوجھ نہ ڈالو گے“۔رخشندہ نے منہ بنایا۔
”تو تمہیں کہا بھی کب ہے کچھ کرنے کو۔ “وہ گہری سانس لے کر بولا۔
”اور جہاں تک علینہ کی بات ہے وہ میری اولاد ہے پھر بھی تمہاری خوشی کی خاطر میں اسے اپنے گھر میں نہیں لارہا ۔ کبھی کبھار اس کی خیریت ہی پوچھنے چلا جاتا ہوں بس تو اس پہ کیا اعتراض؟“جس دن علینہ کی پاکستان آمد کی اطلاع رخشندہ کے کانوں تک پہنچی تھی، وہ تو بوریا بستر سمیٹ کر جا رہی تھی۔ اسے یقین تھا پچھتاووں کی آگ مین جلتا خاور لازمی بیٹی کی محبت میں کمزور پڑ کر اسے یہان لے آئے گا۔ شادی کے بعد وہ خاور کو اولاد کا سکھ نہین دے سکی تھی ۔ حالانکہ خاور نے اس کو رضائے الہیٰ سمجھ کر کبھی شکایت نہ کی تھی بلکہ وہ تو مونس سے بھی اپنی اولاد کی طرح محبت کرتا تھا۔ اسے اس گھر میں آنے جانے، رہنے، کھانے پینے کی سہولت موجود تھی۔ یہان تک کہ پیسوں کی طرف سے بھی خاور نے کبھی ہاتھ نہ روکا تھا۔ لیکن اپنے احساسِ کمتری کی آگ مین جلتی وہ علینہ کے وجود سے بھی نفرت کرنے لگی تھی۔
”یہ باپ، وہ اولاد۔۔۔۔غیر تو میں ہی ہوں۔ وہ دونوں تو سب سے زیادہ اپنے ہین تمہارے۔ اس بھگوڑی ماں کی بد تہذیب اولاد کا دکھ ہے تمہیں لیکن میری کوئی پرواہ نہیں جس نے اس وقت تمہارا ساتھ دیا جب تمہاری جیب میں دھیلہ نا تھا۔ آج جیب نوٹوں سے بھری ہے تو بیٹی بھیج دی اس نے کہ اڑاو¿ ہر مہینے ہزاروں روپے اس پہ“۔ وہ ہاتھ نچاتے ہوئے بولی۔ خاور نے تاسف سے سر جھٹکا۔
”بس کرو رخشندہ کیوں اس معصوم کے خلاف زہر اگل رہی ہو۔ کسی نے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے خود اسکی ذمہ داری لی ہے۔ سالوں اس سے بے نیاز رہا ۔ اب بھی نہ کرتا تو اللہ کو کیا منہ دکھاتا“۔گھر بیٹھے پتا نہین اسے خبر مل جاتی تھی کہ خاور علینہ سے ملنے گیا ہے ۔ خرچے کا بھی علم تھا پر وہ تو جیسے تیسے برداشت ہو رہا تھا لیکن سب سے زیادہ غصہ اسے خاور کے علینہ سے ملنے پہ آتا تھا۔ بے ساختہ وہ اپنے سے آدھی عمر کی بچی سے اپنا موازنہ شروع کر دیتی تھی یا پھر در پردہ اس کے ذہن میں آسیہ کی شبیہہ بن جاتی تھی۔
”اور میرے بارے مین کیا کہو گے اللہ سے؟ “فرائض بھولے بیٹھی تھی پر حقوق سب یاد تھے۔
”خیر وہ تم سے کیا پوچھے گا۔ اس نے تو خود میرا مقدر کوئلے سے لکھا ہے۔ خوشی کو ترستے ساری عمر گزار دی۔ شوہر کی محبت میرے نصیب میں ہے ہی نہیں“۔آج پھر اس پہ ہسٹریائی دورہ پڑا تھا۔
”ایسی ناشکری کی باتیں نہین کرتے رخشندہ۔ وہ تو اپنی مخلوق سے ستر ماو¿ں سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ بھلا کیوں ہمارے ساتھ زیادتی کرے گا۔ یہ تو بس ہم نادان لوگ ہی سمجھ نہین پاتے۔ اس کی آزمائش کو سزا سمجھ کر بد دل ہوجاتے ہیں۔ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے جو نہیں ملا اس پہ شکوہ و شکایت کا دفتر کھول لیتے ہیں۔یوں دکھی ہونے کی بجائے اس کی عبادت میں وقت گزارا کرو۔ اس کی طرف دل لگاو¿ گی تو زندگی خود بخود سہل ہوتی جائے گی اور تمہارے شکوے بھی کم ہونے لگیں گے“۔خاور نے ٹوکا۔ وہ مزید جل بھن گئی تھی۔
”بس شروع ہوگئی تمہاری تبلیغ، دو گھڑی بیٹھی تھی تم سے دکھ سکھ کرنے، اپنا سمجھ کر دل ہلکا کرنا چاہتی تھی ۔ مگر نا جی۔۔۔۔سارا اسلام تم نے مجھ پہ ہی آزمانا ہے“۔پہلو موڑ کر وہ اب ریموٹ اٹھائے ٹی وی آن کر چکی تھی۔ خاور نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے مین چلا گیا۔
٭٭٭
”تیز تیز ہاتھ چلا یہ کیا لڑکیوں کی طرح نزاکت دکھا رہا ہے“۔ اس نے ایک زوردار لات کمر پہ رسید کی ۔ وہ جو پیروں کے بل بیٹھا تھا بیلنس برقرار نہ رکھ سکا اور گر پڑا۔
”کر رہا ہوں استاد“۔اٹھ کر بیٹھتے اس نے ٹائر ٹیوب کو صابن والے پانی میں جلدی جلدی گھمانا شروع کیا لیکن خوف کے مارے ٹیوب ہاتھ سے نکل کر گر گئی۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھ کالک سے اٹے ہوئے تھے۔ کندھے سے قمیض پھٹی ہوئی تھی۔ چہرے پہ تیل اور گریس سے بنے نقش و نگار کے باعث اس کی اصل رنگ اور صورت واضح نہیں تھی۔
”سالے تیرے باپ کو پورے مہینے کا پیسہ بھرا ہے۔خود تو وہ پڑا ہوگا کمینہ نشہ کرکے اور تو یہاں نخرے دکھا رہا ہے“۔استاد نے منہ میں تیلی گھماتے ایک اور لات رسید کی۔ اس بار وہ سامنے والی دیوار سے ٹکرایا تھا۔
”میرا مال حرام کا نہین جو تم باپ بیٹے پہ اڑاو¿ں۔ سیدھی طرح کام کرے گا تو ہی روپیہ ملے گا ورنہ دھیلا نہین دوں گا تجھے“۔اسے بالوں سے پکڑ کر اٹھاتے وہ مکروہ صورت انسان مسلسل گالیاں بک رہا تھا۔
”چل اب میری شکل مت دیکھ، جلدی سے یہ ٹائر لگا ورنہ چمڑی ادھیڑ دوں گا تیری“۔ اسے زمین پہ پٹخ کر اس نے ٹھڈا مارا۔ وہ گھٹڑی بنا اینٹوں کے فرش پہ پڑا کراہ رہا تھا۔ خوف کے مارے آنسو بھی آنکھوں سے نہیں نکل رہے تھے۔ جانتا تھا اگر رویا تو استاد اس سے زیادہ مارے گا اس لئے کانپتے ہاتھوں سے وہ ایک بار پھر پنکچر تلاش کرنے لگا تھا۔
٭٭٭
وہ مارے دہشت کے بستر سے اٹھا تھا۔ کمرے مین گھپ اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نا دیتا تھا۔ دل خوف کے زیر اثر تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے ٹٹول کر اس نے اپنا بیڈ سائیڈ لیمپ جلایا۔ کمرہ روشنی سے بھر گیا تھا۔ وہ حیرانگی سے اپنے اردگرد دیکھتا خود کو یقین دلارہا تھا کہ وہ اس وقت اپنے آسودہ کمرے کے نرم بستر پہ موجود ہے۔ بے اختیار اس نے اپنا سر بیڈ کراو¿ن پہ ٹکا لیا تھا۔ اس کے اعصاب شل ہورہے تھے۔ اپنی زندگی کے بدترین دنوں کو خواب میں دیکھنا اتنے سالوں بعد بھی اسکے لئے ایک ہولناک تجربہ تھا۔
٭٭٭
(باقی اگلے ماہ ان شاءاللہ)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے