سر ورق / کہانی / آدھی روٹی آدھا کباب۔ نوشاد عادل

آدھی روٹی آدھا کباب۔ نوشاد عادل

          ”کیا…. کیا کہہ رہے ہو تم ؟ “شرفو صاحب کا منہ پھٹے ہوئے پپیتے کی طرح کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اُن کی نظریں للو کے چہرے پر ایسے جمی ہوئی تھیں، جیسے بلی کی نظریں چھیچھڑے پر لگی ہوتی ہیں۔

          ”میں بالکل درست کہہ رہا ہوں کونسلر صاحب۔ “ للو نے بڑی سنجیدگی سے اپنے پیٹ پر کھجلی کی۔

          ”یعنی تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ چاچا چراندی دولت مند ہوگئے ہیں…. اور وہ بھی اچانک…. لیٹے لٹائے۔“شرفو صاحب نے بے چینی کے عالم میں پہلو بدلا۔

          ”جی ہاں میں پکی رپورٹ لایا ہوں …. بھلے آپ گلابی سے پوچھ لیں۔“ للو نے اپنے برابر کھڑے ہوئے گلابی کی طرف اشارہ کیا ‘ جو کونسلر صاحب کے دفتر کی چھت کو گھور رہا تھا ۔

           للو نے اُسے بڑے ادب سے لات ماری اور کہا ۔”کیوں بھئی گلابی…. بتا کونسلر صاحب کو…. چاچا والی بات ٹھیک ہے یا نہیں ؟“

          گلابی کے منہ سے نکلنے والی چیخ نے دفتر میں تھرتھری سی مچادی تھی۔اُس کی چیخ سن کر دفتر میں داخل ہونے والا لنگڑا فقیر ایک سو ایک میل فی گھنٹہ کی رفتار سے واپس بھاگ نکلا اور شاید کسی پہاڑی کے پیچھے جاکر چھپ گیا تھا۔ وہ سمجھا تھا کہ شرفوکونسلر صاحب کے دفتر مےں کوئی سائنسی مخلوق گھس آئی ہے۔ درد کی شدت سے گلابی کا چہرہ ٹیڑھا میڑھا ہوکر پہلے سے بھی بدتر نظر آنے لگا تھا۔

          ”کیا یہ سچ ہے گلابی کے بچے؟ “شرفوصاحب نے اس کی چیخ اور تکلیف پر کوئی توجہ نہ دی تھی۔

          ”ہاں …. تیت اے…. تاتا امیل ہودے ایں ….اُن تی لاتلی تھل دئی اے۔“ (ہاں …. ٹھیک ہے…. چاچا امیر ہوگئے ہیں …. اُن کی لاٹری کھل گئی ہے )گلابی نے تکلیف کو زبردستی دباتے ہوئے جواب دیا۔

          ”مگر کتنے کی لاٹری کھلی ہے…. کچھ بتاﺅ تو مجھے …. آخر مجھ جیسے بھولے بھالے اور معصوم انسان کو بھی تو لاٹری کی رقم کا پتا چلے۔“ کونسلر صاحب نے اپنی شکل فقیروں کی طرح بناتے ہوئے پوچھا۔

           اُن کے پیٹ میں پٹاخے پھوٹنا شروع ہوگئے تھے۔چاچا چراندی جیسا انسان ،بلکہ انسان نما مخلوق اب امیر ہوگئی تھی۔ وہ اُن کے برابر آگئے تھے۔ کل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چاچا چراندی اپنی دولت کے بل پر اُن کے مقابلے میں الیکشن میں کھڑے ہوجائیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو شرفو ‘کونسلر صاحب کو ہارنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی تھی۔ چاچا ایک ایک آدمی سے چراند کرکرکے ووٹ اپنے حق میں ڈلوا لیتے اور کچھ پتا نہ تھا کہ خود کونسلر صاحب بھی چاچا کے حق میں ہی اپنا ووٹ بھی ڈال آتے۔

          ابھی ابھی کونسلر صاحب نے چاچا کے امیر ہونے کی خبر سنی تھی اور وہ ابھی سے ہی فکر کے کنویں میں غرق ہوگئے تھے۔ اُن کی نگاہوں کے سامنے چاچا کا دہشت ناک چہرہ آگیا تھا۔ اُن کے دو دوانت ڈریکولا کی طرح باہر نکلے ہوئے تھے او روہ انہیں دکھا دکھا کر لال شربت پی رہے تھے۔شرفو صاحب کھڑے کھڑے چاچا کے حسین تصور میں کھو گئے تھے۔ چاچا کا ڈریکولا اب تک انہیں دکھا دکھا کرشربت پی رہا تھا اور شرفو صاحب بوتل پر نیت لگارہے تھے۔

          ”آہ ہ ہ ہ ہ…. “چاچا کے ڈریکولا نے ایک طویل گھونٹ بھر کے چٹخارہ لیا۔” کیا مزے دار بوتل ہے…. مزہ آگیا ایمان سے…. اور تو یہاں کیا کررہا ہے اے ملیچھ انسان…. ندیدے …. نیت لگارہا ہے میری بوتل پر؟“

          ”چاچا …. بس ایک گھونٹ…. اچھا بس تھوڑی سی۔“شرفو صاحب نے ندیدگی کے پہاڑ کی چوٹی پرنیتے پن کا جھنڈا گاڑ دیا۔

          مگر چاچا کا ڈریکولا ہنستے ہوئے بوتل پیتا رہا اور آخری قطرہ بھی پی گیا۔

          ”اب میں اپنی بوتل بھی نہیں پلاﺅں گا….دیکھ لینا ایمان سے۔“ شرفو صاحب ایک دم حقیقت میں واپس آتے ہوئے غصے میں بول رہے تھے ۔ للو اور گلابی چونک کر انہیں ایسے دیکھنے لگے، جیسے شرفو صاحب کے دماغ کی کوئی گراری ٹوٹ گئی ہے۔

          ”کون سی بوتل شرفو صاحب ؟“ للو نے حیرت سے پوچھا ۔” آپ کا حرام مغز تو درست ہے نا؟“

          ”ہاں …. ہاں ….“ شرفو صاحب گڑبڑا گئے۔” وہ تم نے بتایا نہیں ….کتنے کی لاٹری کھلی ہے اُن کی ؟“

          ”شاید دس لاکھ روپے ہیں ۔“ للو نے بتایا۔

          شرفو صاحب پونے تین فٹ اوپر اُچھلے۔” کیا…. دس …. دس لاکھ روپے ۔“ اُن کا چہرہ گوریلے جیسا ہوگیا تھا۔

          ”ہاں ….بہرے…. دس لاکھ روپے …. اور آج شام کو ہی چاچا نے اپنے مغرورانہ تاثرات بیان کرنے کے لےے کالونی کے نامی گرامی لوگوں کوآپ کے اس دفتر میں جمع ہونے کے لےے کہلوایا ہے، یعنی وہ تمام لوگوں سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے ہیں۔“للو نے انہیں بتایا۔” آپ بھی اس پریس کانفرنس میں شرکت کرنا شرفو صاحب …. ہوسکتا ہے ،چاچا نے کوئی کھانے پینے کا آئٹم رکھا ہو۔“

          ” یہ پریس کانفرنس والی خبر کس سے سنی ہے؟“

          ”ایک ہی تو فالتو آدمی ہے پوری کالونی میں ….“ للو نے منہ بنایا۔ ”وہ ہے سخن …. وہی چار گھنٹوں سے کالونی میں ڈولتا پھر رہا ہے اور ایک ایک آدمی کو پکڑ پکڑ کر یہ خبر سنا رہا ہے۔وہ تو ایسا باﺅلا ہوگیا کہ انسان تو انسان …. وہ جانوروں ‘مویشیوں اور پرندوں کو یہ خبر سنا رہا ہے۔“

          ”جانوروں کو بھی؟“ شرفو صاحب حیرت سے بولے اور گلابی کی طرف مڑے۔”کیوں بھئی گلابی….کیا تجھے بھی خبر سنائی تھی سخن نے؟“

          ”ہاں …. اول اُتھ نے تہا تھا تے اپنے بلے توبی جے تھبر تھنا دینا۔“(ہاں …. او راس نے کہا تھا کہ اپنے بڑے کو بھی یہ خبر سنا دینا۔) گلابی بھی للو ‘پنجو کی صحبت میں پونے دو ہوشیار ہوگیا تھا۔

          ”کرالی بے عزتی….“ للو نے عین موقع پر شرفو صاحب کو لتاڑ ڈالا۔ ”بے عزتی کراکے آپ کو کیا مصالحے والا پاپڑ مل گیا؟“

          للو نے یہ کہا تو گلابی اپنے ہاتھ پر تالی مار کر ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوگیا۔

                             ٭٭٭

          وہی روایتی منظر تھا۔ شام کے وقت شرفو صاحب کا دفتر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور دیمک زدہ میز سامنے ہی رکھی تھی۔ کرسیوں پر دڑبہ کالونی کے معززین بیٹھے تھے اور وہاں بچھی ہوئی دری پر سارے خوارین بےٹھے چاچا چراندی کو قربان جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ اب چاچا چراندی کی حیثیت بدل گئی تھی، لہٰذا وہ بہت حقارت سے سب لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ اپنے برابر میں بےٹھے ہوئے معززین اور خاص طور پر شرفو کونسلر صاحب کو دیکھ کر ایک کروڑ مرتبہ ”ہونہہ“ کرکے منہ گھماچکے تھے اور اس قدر سڑیل منہ بنایا تھا کہ سڑیل بھی برامان جائے۔

          شرفو صاحب بھی خوا مخواہ” خَر وِس“ ہورہے تھے،کیوں کہ اُن کی حرکتیں گدھے جیسی لگ رہی تھیں۔ خالو خلیفہ اور انگریز انکل برابر میں ایک ہی کرسی پر آدھے آدھے بےٹھے تھے۔ ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈال کر محبت اور بھائی چارے کی عملی تفسیر بنے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اولمپک گیمز میں تیراکی کے مقابلے میں اول اور دوم آئے ہیں اور اخبارات کے لےے تصویر اُتروارہے اوراُن کے برابر میں چوہدری بشیر صاحب براجمان تھے۔

           شرفو صاحب کی بدنصیبی یہ تھی کہ وہ چاچا چراندی کے برابر میں بےٹھے تھے۔ وہ جیسے ہی چاچا کو دیکھتے…. چاچا” ہونہہ“ کہہ کر اپنی کرسی کا رخ پھیر لیتے ،لیکن شرفو صاحب بھی بالکل گاﺅدی تھے ۔ وہ بار بار جھٹکے سے اپنی گردن گھماکر چاچا کو دیکھتے اور چاچا ہر بار” ہونہہ‘ ‘ کہہ کر دوسری طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ سخن ….چاچا چراندی کے کندھے دبا رہاتھا۔ جب سے اسے یہ علم ہوا تھا کہ چاچا اچانک ہی امیر ہوگئے ہیں ۔ وہ کسی پالتو بلی کی طرح اُن کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا۔ اسے یہ لالچ تھا کہ شاید چاچا اس کی خدمت سے متاثر ہوکر اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ اسے بھی دے دیں، مگر چاچا تو وہ کنجوس تھے کہ اپنے گھر کا کچرا بھی پھینکنے سے پہلے محدب عدسے سے اور مائیکرو اسکوپ سے اچھی طرح چیک کرلیتے تھے کہ اس میں پائے جانے والے جراثیم فائدے مند ہیں یا نہیں ۔اگر فائدے مند ہیں تو انہیں حفاظت سے رکھ لیں۔ سخن چاچا کی ذہنیت سے لاتعلق ان کی خدمت رضا کارانہ طور پر انجام دیے جارہا تھا۔ چاچا اس کی خوشامد سمجھ رہے تھے، مگر وہ اس سے کام کرائے جارہے تھے۔

          اسی وقت سخن نے چاچا کے میلے اور کالے کان میں کہا۔” چمپی کردوں بالوں میں؟‘ ‘

          ”ہاں کردے چمپینزی کے بچے ۔‘ ‘ چاچا نے فوراً منظوری دے دی ۔”اور چمپی ذرا ٹھیک سے کریو…. ورنہ اتنا ماروں گا کہ تیری شکل چمپئی رنگ کی ہوجائے گی فالتو فنڈ میں۔‘ ‘

          اتنے میں استاد دلارے اُٹھ کر زور سے بولے۔” ارے بھئی…. ہمیں کس لےے یہاں بلوایا گیا ہے؟ کتنی دیر سے ہم سارے بھوتنی والے بیٹھے ایک دوسرے کی جوئےں نکال رہے ہیں ۔ چاچا کی چراند فرینس کب اسٹارٹ ہوگی؟‘ ‘

           خوارین عادتاً ہاتھ اٹھاکر چیخے۔” ہاں ہاں اشٹاٹ کرو…. جلدی کرو….‘ ‘

          تب چوہدری بشیر اُٹھے اور ایک گالی بک کر میٹنگ کا آغاز کیا۔ یہ گالی انہوں نے اس چیونٹی کو بکی تھی ،جو اُن کی پتلون کے پائینچے میں گھس گئی تھی اور ابھی ابھی اس نے زور سے کاٹا تھا۔

          ”آئے….‘ ‘ چوہدری بشیر کھڑے ہوکر دُم کٹے بندر کی طرح مچلے۔

          ”کون آئے ….؟‘ ‘ سارے احمق اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔

          چوہدری بشیر نے دو تین منٹ کی مشقت کے بعد چیونٹی مسل دی اور شانت ہوکر سکون کی پانچ لمبی سانسیں لیں۔ دشمن چیونٹی مرنے کے بعد پائینچے سے نیچے گرگئی تھی،مگر مرنے کے باوجود چیونٹی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔اس نے اپنا مشن پورا کر لیا تھا۔

           پھر چوہدری بشیر سنجیدگی سے بولے۔”میرے بھائیو …. میرے سجنو…. آپ لوگوں کو پتا ہوگا کہ آپ سب کو یہاں کیوں بلوایا گیا ہے؟‘ ‘

          ”میں بتاﺅں ….میں بتاﺅں۔‘ ‘ بابو باﺅلا ہاتھ اٹھاکر احمقوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔

          ”آرام سے بےٹھ جا بھوتنی کے …. کیا موت آتی ہے تجھے ؟ہمیشہ بھری محفل میں اونٹ کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے۔‘ ‘ استاد غرائے۔

           بابو باﺅلا” ٹیاﺅں‘ ‘ کرکے مجو قصائی کے اوپر جاگرا۔ مجو قصائی بڑی توجہ سے کچھ بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ بابو باﺅلے کا بدبودار وجود اس پر آپڑا۔ اگر مجو قصائی تازہ اوجڑی کی بدبو کا عادی نہ ہوتا تو بابو باﺅلے کے جسم سے پھوٹنے والی بدبوسے اس کا جنازہ نکل جاتا۔بس مجو قصائی کے اوسان ذرا دیر کے لےے کالونی سے باہر چلے گئے۔

          ”اوئے یہ کیا بدتمیزی ہے؟‘ ‘ خالو خلیفہ سے برداشت نہ ہوسکا تو وہ اُٹھ کر چیخے۔” آرام سے بےٹھو اپنی اپنی دری پر…. ایک تو تم لوگوں کے لئے اتنی ملائم دری بچھائی ہے اور تم لوگ جنگلیوں جیسی حرکتیں کررہے ہو…. یہ پریس کانفرنس ہورہی ہے۔ تم لوگوں نے اسے قومی اسمبلی کا اجلاس سمجھ لیا ہے۔‘ ‘ اُن کی زوردار آواز پر سب لوگ تمیز سے بےٹھ گئے۔

          ”چلو بھئی چوہدری صاحب…. آگے بولو۔‘ ‘ خالو خلیفہ نے خوں خوار لہجے میں خواروں کی طرح کھڑے چوہدری بشیر سے کہا۔

          چوہدری صاحب نے فلمی انداز میں کہا۔ ”کیا بولوں …. کیا بولوں میں …. اب میرے پاس بولنے کے لئے بچا ہی کیا ہے …. صرف یہ ….‘ ‘ انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر نکالا۔” یہ دو روپے بچے ہیں۔‘ ‘

          ”توپھر آپ جاکر دو روپے کی املی کھالو۔‘ ‘ انگریز انکل بھنا اُٹھے۔

          ”چوہدری صاحب، آپ پریس کانفرنس کا مقصد بیان کرنے والے تھے۔‘ ‘ پنجو نے انہیں یاد دلایا۔

          ”ہاں ….ہاں ….‘ ‘ چوہدری صاحب کو بھولی بسری باتیں یاد آگئیں۔” مجھے ہلکے ہلکے سب یاد آتا جارہا ہے…. یہ آج سے کوئی ایک ہزار سیکنڈ پہلے کی بات ہے …. مجھے خالو خلیفہ نے بتایا تھا کہ چاچا کی لاٹری کھل گئی ہے۔‘ ‘

          ”پھر سے بتاﺅ؟‘ ‘سب سے آخر میں بیٹھا ہوا یامین بھوسی ٹکڑے والا زور سے بولا۔ ”یہاں ٹھیک سے آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ آواز کے راستے میں گلابی بےٹھا ہے۔ ‘ ‘

          ”لاٹری کھل گئی۔ ‘ ‘چوہدری بشیر نے بلند آوا زمیں کہا۔” دس لاکھ روپے کی لاٹری…. دڑبہ کالونی کے حسین وجمیل لوگو ‘ ہم سب جانتے ہیں کہ چاچا کے سوکھے سڑے سینے میں رحم سے لبریز دل دھڑکتا ہے۔ امیر ہونے کے بعد چاچا اب یقینا کالونی کے بھیک منگوں اور تم جیسے بھوکے ننگوں کی مدد کریں گے اور کالونی کی ترقی کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ ‘ ‘

          ”سیڑھی میرے گھر کے آنگن میں رکھی ہے ۔ وہ میں چاچا کو لادوں گا، تاکہ یہ بڑھ کر اس پر چڑھ جائیں اور حصہ لیں۔ ‘ ‘ چپٹے نے ہاتھ اٹھاکر کہا۔

          ”کس میں حصہ لیں …. سیڑھی پر چڑھ کر کیا یہ امردو توڑنے میں حصہ لیں گے یا پھر ڈکیتی کی واردات میں حصہ لیں گے….چپٹے پپیتے۔ ‘ ‘چوہدری بشیر کے منہ سے غراہٹ نکلی۔

          ”چپٹے پپیتے“ کہنے پر وہاں بیٹھے بہت سے افراد خوش ہوئے اور خوشی کی اِس انمول گھڑی میں ایک دوسرے کو شاباش دینے لگے۔

          ”چپٹے…. جب تجھ میں عقل نام کی کوئی شے نہیں ہے تو پھر تو بولتا کیوں ہے؟ ‘ ‘دنبے نائی نے اسے لتاڑا۔

          ”بھائیو…. چاچا کو آج تک ہم لوگ ایک خوار اور چراند باز قسم کاچڑچڑا انسان سمجھتے رہے تھے، لیکن آج لاٹری کھلنے کا سن کر معلوم ہوا کہ چاچاتوبہت اچھے انسان ہیں ۔ ‘ ‘چوہدری بشیر نے مسکا لگایا ۔

          ” نہیں …. ‘ ‘چاچاایک دم کھڑے ہوکر بولے۔ ”میں اچھا نہیں ہوں…. میں بہت گندہ ہوں …. آج صبح سے ہی میں نے منہ نہیں دھویا اور کلی بھی نہیںکی…. اور یہ دیکھو۔ ‘ ‘ انہوں نے اپنی چپلیں اُتار کر پیر دکھائے۔ اُن پر میل تازہ پلستر کی طرح چڑھا ہوا تھا۔” کتنے گندے پیر ہیں میرے اور چوہدری بشیر کہہ رہا ہے کہ چاچا اچھے ہیں۔“

          یہ سن کر وہاں ایک مشترکہ قہقہہ لگا اور چوہدری بشیر شرمندگی کے مارے یوگا کرنے لگے۔

          اتنے میں شرفو کونسلر صاحب کھڑے ہوئے اور بولے۔” اب میں دعوت دیتا ہوں …. چاچا چراندی کو کہ وہ یہاں آئیں اور امیر ہونے کے بعد اپنے خیالات سے آگاہ کریں اور یہ بھی بتائیں کہ وہ ان پیسوں سے کیا کیا امدادی اور فلاحی کام کریں گے ….تو آپ لوگوں کی زور دار تالیوں کی گونج میں تشریف لارہے ہیں ….چاچا امیرکبیر…. ‘ ‘

          سب لوگ تالیاں بجانے لگے تھے۔ گلابی منہ میں انگلیاں ڈال کر” سیتی“ بجانے لگا، کیوں کہ اس کے منہ سے توتلی سیتی کی آواز نکل رہی تھی۔

          ” ابے چل ….میں نہیں آرا۔ ‘ ‘ چاچا پھیل گئے۔” سب پتا ہے مجھے…. تم سب پٹارہے ہو مجھے …. کسی کو ایک پائی بھی نہیں ملے گی…. تم لوگ ہو کس خیال میں …. فالتو فنڈ میں۔“

          ” نہیں چاچا ایسا نہ کرو…. ہمارے دل نہ توڑو…. آجاﺅ …. ‘ ‘ دنبے نائی نے سینہ تھامتے ہوئے کہا۔

          ” آداﺅ نا تاتا….‘ ‘(آجاﺅ نا چاچا) ۔گلابی نے بھی کہا۔

          چاچا اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور بولے ۔” گلابی کہہ رہا ہے تو آیا ہوں ،ورنہ میں نہیں آتا۔‘ ‘

          ” توپھر چاچا ہم سب کو بلوایا کیوں تھا؟‘ ‘ انگریز انکل بھنا اُٹھے۔” صرف گلابی کو بلواکر اس سے ہی خطاب فرمادیتے ۔‘ ‘

          یہ سنتے ہی چاچا نے پلٹ کر سخن کے بال مٹھی میں جکڑ کر کھینچے۔ ”میری شان میں گستاخی ہورہی ہے اور تو خاموش کھڑا ہے …. لالچی کوے…. تجھے میں نے ایسے ہی فالتو فنڈ میں بلوایا ہے؟“

          چاچا نے محض چند سیکنڈ میں ہی سخن کے بال بگاڑ کر بکھیر ڈالے تھے۔اب اس کے سارے بال ایسے کھڑے تھے جیسے گنے کے کھیت میں تیار گنے کھڑے ہوتے ہیں۔ سخن نے انہیں درست کرنے پر کوئی توجہ نہ دی اور ایسے ہی غرایا۔

          ”چاچا کی شان میں گستاخی کوئی نہ کرے …. بے عزتی بھلے سے کردے…. مگر گستاخی میں برداشت نہیں کروں گا۔ ‘ ‘

          ”ابے بےٹھ جا…. چاچا کے چمچے…. چاچا کو بولنے دے۔ ‘ ‘کسی نے چیخ کر کہا اور سخن شرمندگی کے مارے اُدھر ہی چاچا کے چرنوں میں بےٹھ گیا۔

          پھر چاچا نے قوم سے خطاب شروع کیا۔” دڑبہ کالونی کے غریبوں اور میری ٹکر کے امیر وں…. میں نے تم سب لوگوں کو یہاں اس لئے بلایا ہے کہ میں اپنے امیر ہونے کے بارے میں بتاسکوں۔ اب میں وہ غریب کیبن والا چاچا نہیں ہوں …. اب میں دس لاکھ روپے کا مالک ہوگیا ہوں …. اوراگر اب کسی نے بھی میری شان میں کوئی گستاخی کی یاتو تڑاق سے بات کی تو پھر اس کی گدی پر تڑاخ کرکے ایک لپڑ پڑے گا۔ ‘ ‘

          ”تو چاچا تم کالونی والوں کی فلاح اور بہبود آبادی کے لئے کچھ نہیں کروگے؟ ‘ ‘انگریز انکل نے اہم سوال کیا ۔ اصل میں وہ چاچا کا باطن جاننا چاہتے تھے۔

          ”مجھے کیا کوئی پاگل کتے نے کاٹا ہے کوئی فالتو فنڈ میں ؟‘ ‘چاچا اپنے مخصوص انداز میں بولے ۔

          ” کسی کتے میں اتنی جرا ¿ت کہاں کہ وہ تمہیں کاٹے۔‘ ‘ مجو قصائی نے افسردگی سے سرہلاتے ہوئے باقی لوگوں پر نظر ڈالی۔                    ”ہاں یہ ضرور ہوسکتا ہے چاچا کہ تم کسی کتے کو کاٹ لو اور وہ پاگل ہوجائے یا پھر یہ دنیا چھوڑ چلے۔‘ ‘

          ”پھر تو کتے کے پیٹ میں چودہ ٹیکے لگیں گے۔‘ ‘ یامین نے لقمہ دیا۔

          ”ابے تو بہت بول ریا ہے بھوسی ٹکڑے والے۔‘ ‘چاچا کے صبر کا مگا بھر گیا۔

          ” او…. بس اوئے بس…. بس بہت ہوگیا۔“ یکایک چوہدری بشیر دونوں ہاتھ اٹھاکر کھڑے ہوگئے۔

          ”چوہدری صاحب آپ کا تہمد۔‘ ‘ سخن نے ہانک لگائی۔

          چوہدری بشیر نے گھبراکر دونوں ہاتھوں سے تہمد پکڑلیا اور پھر خونخوار لہجے میں سخن سے بولے۔” کیا ہوگیا میرے تہمد کو…. ڈراتا ہے مجھے؟‘ ‘

          ”میں تو یہ کہنا چاہ رہاتھا کہ آپ کا تہمد امپورٹڈ لگتا ہے۔‘ ‘سخن نے جلدی سے بات بدل دی۔

          ”ہاں چوہدری صاحب نے تہمد آسٹریلیا سے خریدا تھا۔‘ ‘دنبے نائی نے قیاس کی قینچی چلائی۔

          ”بھئی سب لوگ اپنی اپنی بکواس بند کریں اور میری سنیں۔‘ ‘شرفو کونسلر صاحب کو بیٹھے بیٹھے اچانک خوا مخواہ میں غصہ آگیا ۔ وہ تلملا کر کھڑے ہوئے اور اپنی جیب میں سے گٹکا نکال کر منہ میں رکھا اور پھر بولے ۔” چاچا میں تمہیں صرف یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ہر انسان نے ایک نہ ایک روزمرنا ہے اوراصولاً تو تمہیں دس پندرہ سال پہلے ہی مرجانا چاہےے تھا۔ اب تو تم بونس کا راشن کھارہے ہو،لہٰذا مرنے سے پہلے دنیا میں کوئی ایک تو نیک عمل کرجاﺅ۔ میں تو کہتا ہوں کہ دڑبہ کالونی کو اسپتال کی شدید ضرورت ہے۔ ان پیسوں سے اسپتال بنوالو۔‘ ‘

          ”اسپتال بنوالو۔‘ ‘ چاچا نے شرفو صاحب کی نقل کرتے ہوئے منہ بگاڑ کر کہا۔” کیوں بنوالوں فالتو فنڈ میں….؟ میرا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا…. سارا پیسہ اسپتال میں لگادوں اور خود فقیر کا فقیر رہوں۔‘ ‘

          ”چاچا…. شرفو صاحب ٹھوک بجاکر فرما رہے ہیں۔ اگر آپ نے اسپتال بنوادیا تو سمجھ لینا کہ آپ کو قیامت تک یاد رکھا جائے گا، بلکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو فرعون کی ممی کی طرح امردو کا مسالہ لگاکر چوراہے پر کھڑا کردیا جائے۔‘ ‘سخن نے اپنی دانست میں چاچا کو پٹاتے ہوئے عقل مندانہ بات کہی تھی۔

          ”ابے وہ امردو کا مسالہ نہیں ہوتا ….جہالت کے سر چشمے۔‘خالو خلیفہ نے سخن کو دیکھا۔” وہ چاٹ مسالہ ہوتا ہے۔‘ ‘

          اُن لوگوں کی باتیں سن سن کر غصے کے مارے چاچا چراندی کو پسینے آرہے تھے۔ یہ دیکھ کر شرفو صاحب نے گلابی کو اشارہ کیا اور وہ بھاگ کر کیل سے لٹکا ہوا تو لیا لے آیا۔چاچا نے اس سے تولیا لے کر رگڑ رگڑ کر اپنا چہرہ اور گردن صاف کی اور شرفو کونسلر صاحب کے حوالے کردیا۔ تو لیا ایسا ہوگیا تھا جیسے اس سے کسی نے کالا تو اصاف کیا ہو۔

          شرفو صاحب نے گلابی کو آواز دے کر کہا۔”یہ لو شاباش اور اسے کچرا کنڈی میں ڈال آﺅ…. یہ تو اب پونچا بنانے کے قابل بھی نہیں رہا ہے۔‘ ‘

          چا چانے نزدیک کھڑے چودھری بشیر کے ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی دیکھی اور فکر مندی سے کہنے لگے۔” ابے بہت دیر ہوگئی ہے۔ میں تو چلوں …. تم سب کو سدا کے خوار ہو…. مجھے توبہت ضروری کام کرنا ہے۔“

          ”کیا کام ؟ “انگریز انکل غلطی سے پوچھ بےٹھے۔

          ”اپنی چپل جڑوانی ہے۔“ یہ کہہ کر چاچا پتلی گلی سے باہر نکل لےے۔

          کالونی کے معززین اور خوارین ایک دوسرے کی ناقابل دید شکلیں دیکھتے رہ گئے۔ یہ بے تکی کانفرنس نتیجہ خیر ثابت نہ ہوسکی تھی۔

                                                                   ٭٭٭

          رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ رات ہوتے ہی سردی ایک دم بڑھ گئی تھی۔کتے بھی کونے کھدروں میں لحاف اوڑھے کانپ رہے تھے۔ کہیں سے بھی روشنی کی معمولی رمق بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسے میں ایک ہیولا آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک مکان کی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا ۔ اس ہیولے نے نقاب پہنا ہوا تھا۔ یہ نقاب اصل میں ایک بہت لچک دار موزہ تھا،جو اس نے کھینچ تان کر اپنے بدصورت چہرے پر چڑھالیا تھا اور دیکھنے کے لئے اس میں دوسوراخ کرلےے تھے۔ موزہ اتنا بدبودار تھا کہ اس کا دماغ دو تین مرتبہ اُلٹ کر سیدھا ہوگیا تھا، یعنی چند ہی منٹ میں وہ اس بدبو دار موزے کا عادی ہوگیا تھا۔

          جس مکان کی دیوار سے لگ کر وہ کھڑا تھا۔ وہ چاچا چراندی کا گھر تھا اور وہ ہیولا ،جوکہ مجو قصائی تھا، ان کے گھر ڈکیتی کرنے آیاتھا ،تاکہ چاچا کی انعامی رقم حاصل کرسکے۔ اس نے مکمل منصوبہ بنالیا تھا کہ دس لاکھ روپے ہاتھ میں آتے ہی وہ فوراً یہ کالونی تو کیا صوبہ ہی چھوڑ دے گا اور ہوسکتا ہے کہ یہ ملک ہی چھوڑ دے۔ اس نے یہ بھی سوچا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی جاکر گوشت کی شان دار سی دکان کھولے گا۔ وہاں تک دڑبہ کالونی کا کوئی انسان نہیں پہنچ سکے گا۔

          مجو قصائی نے اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر بوسیدہ دیوار کے رخنوں میں پیروں کی انگلیاں پھنسا کر اوپر چڑھنے لگا۔ اس نے اپنی چپلیں انٹی میں اُڑس لی تھیں۔ منڈیر پر آکر اس نے چاچا کے گھر کے صحن کا جائز ہ لیا۔ اندر مکمل خاموشی اور اندھیرا تھا۔ چاچا تو کب کے سوچکے ہوں گے اور خواب میں بھی کسی نہ کسی معاملے میں اپنی ٹانگ اَڑا رہے ہوں گے۔

          مجو قصائی نے آنکھیں بند کیں اور صحن میں چھلانگ لگادی ۔نیچے اندھیرا تھا۔ وہ صحن کے کچے فرش پر گرنے کے بجائے کسی انسان پر جاگرا تھا، کیوں کہ اس نے ایک گھٹی گھٹی سی چیخ سنی تھی اور دونوں گڈ مڈ ہوکر لڑھک گئے۔

          ”کک…. کو…. کون ہے بھائی؟ “ مجو قصائی دبی ہوئی آواز میں گھگھیایا۔

          ”مم…. مم…. ڈاکو نہیں ہوں ۔ “ کسی کی تکلیف دہ آواز اُبھری۔ مجو نے دنبے نائی کی آواز پہچان لی۔

          ”ابے دنبے تو…. تو یہاں کیا کررہا ہے؟ “ مجو قصائی نے فوراً اسے رعب میں لینا چاہا۔

          ”میں …. میں …. میں اصل میں یہاں پہرہ دے رہا ہوں ۔“ دنبے نائی سے ٹھیک جواب نہ بن پڑا تھا۔ اندھیرے میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے سے قاصر تھے۔ صرف آوازوں سے کام چل رہا تھا۔

          ”اندر کیا گورنر صاحب آئے ہوئے ہیں ،جو تو پہرہ دے رہا ہے ۔“ مجو نے غصے سے کہا اور اپنے چہرے سے موزہ اُتار لیا۔” میں جانتا ہوں تو یہاں کس لئے آیا ہے۔“

          ”چلو…. اچھا سمجھ گئے نا…. لیکن یہ بتاﺅ کیا تم یہاں حلیم کی دعوت دینے آئے ہو ؟ “ دنبے نائی نے سنبھالا لے لیا تھا۔

          مجو قصائی چپ ہوگیا اور چند سیکنڈ بعد بولا۔” دیکھ دنبے …. اپن دونوں کا مشن ایک ہی ہے۔کیوں نا ہم مل بانٹ کر اپنا منصوبہ پورا کرلیں اور پیسے بھی آدھے آدھے کرلیں۔“

          ہاں …. یہ ہوئی نا بات…. اب ٹھیک ہے …. مجھے منظور ہے۔“ دنبے نے پرجوش لہجے میں کہا۔

          دونوں کچھ دیر وہاں ایک دوسرے کی بغل مےں دبکے رہے۔جب انہیں یقین ہوگیا کہ مکان کے اندر اورباہر کوئی خطرہ نہیں ہے تو وہ اپنی جگہ سے نکلے اور چاچا کے مزار جیسے کمرے کی جانب بڑھنے لگے۔ اتنے میں انہیں ایک دھم کی تیز آواز نے چونک کر اُچھلنے پر مجبور کردیا۔

          اس آواز کے ساتھ ہی” ہائے اماں“ کا ایک دل خراش نعرہ بھی بلند ہوا تھا۔ وہ دونوں سمجھ گئے کہ پھر کوئی اور چوری کی نیت سے وہاں آ کودا ہے، مگر کود نے والا اندازے کی غلطی یا اندھیرے کے وجہ سے غلط کودا تھا ، جس جگہ وہ گرا تھا ،وہاں چاچا نے پہاڑی پتھر رکھے ہوئے تھے۔ خدا جانے چاچا یہ پہاڑی پتھر کیوں اور کہاں سے لے آئے تھے۔ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے وہ وہاں پڑے بدبو دے رہے تھے، لیکن مجال ہے ،اب تک کسی کا م میں آئے ہوں۔ چاچا چراندی ان پتھروں کو صرف اس خیال سے لے آئے تھے کہ چلو کسی نہ کسی کام میں آ جائیں گے اور آج وہ کام میں آہی گئے تھے۔ کودنے والا منہ کے بل اُن نوکیلے پہاڑی پتھروں پر گرا تھا۔ اس کے ردعمل کے طور پر دماغ خاصا متاثر ہوا۔ پہلے تو اس نے مچلتے ہوئے رقصِ شرر کیا اور پھر سیدھا مجو قصائی اور دنبے نائی کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے زمین پر لیٹ گیا۔

          تیسرے شخص کے جسم سے پھوٹنے والی بدبو سے انہوں نے پہچان لیا کہ وہ سخن ہے، جو ہر چھ ماہ بعد بڑی پابندی سے نہاتا تھا۔اس کے منہ سے درد میں ڈوبی ہوئی سسکیاں اب تک نکل رہی تھیں۔ دنبے نائی نے غصے کے عالم میں اس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کردیا۔

          ”ابے اُلو کے پٹھے….پورے صحن کو چھوڑ کر ہم دونوں ہی ملے تھے تجھے گرنے کے لئے ۔ کس لئے آیا ہے یہاں …. کیا کام پڑ گیاہے تجھے اتنی رات کو چاچا سے…. کوئی الجبرا کا سوال پوچھنے آیا تھا؟

          ”مم…. میں تو چاچا سے ٹائم پوچھنے آیا تھا۔‘ ‘ سخن کے منہ سے ڈری ڈری آوازیں نکل رہی تھیں۔

          ”چاچا کو کیا راڈو کمپنی والوں نے بنایا ہے ؟“ مجو نے اس کی نرم گدی گرم کرتے ہوئے کہا۔

          ”سیدھی شرافت سے بھونک دے…. تیرا ناپاک مقصد کیا تھا ؟ “ دنبے نے سخن کے بالوں میں انگلیاں ڈال کر اس کی کھوپڑی کھجاتے ہوئے سوال کیا۔

          ”وہ …. وہ قسم لے دنبے بھائی …. میں تو…. ایسے ہی ….اِدھر سے گزر رہا تھا ،سوچا کہ چاچا کی خیریت معلوم کرتا چلوں۔ “ سخن اب بھی اصل بات بتانے سے کترا رہا تھا۔

          ”ابے کیا چاچاکا بائی پاس ہوا ہے؟نہیں بتا رہا نا؟ٹھیک ہے تو ہم چاچا کو بتادیتے ہیں۔ وہ تمہیںپولیس کے حوالے کردیں گے اور پھر پولیس والے تمہیں مار مار کر انسان بنادیں گے۔“ مجو نے اسے خوف کی خیالی خرمی کھلائی۔

          سخن کی آنکھوں کے سامنے دہشت کے بندر خوخیاتے ہوئے اُچھلنے لگے تھے۔ اس نے اگلے ہی لمحے قبول کرلیا۔

          ”ہاں …. ہاں …. میں اقرار کرتا ہوں کہ میں …. میں چاچا کی رقم چوری کرنے آیا تھا…. اب تو تم مجھے ان کے حوالے نہیں کرو گے نا….اب تو اپن تینوں دوست اچھے بن گئے ہیںنا؟“ پھر وہ ایک دم چونک گیا اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اُن دونوں کو دیکھنے لگا۔” مگر…. مگر تم دونوں یہا ںکیا کررہے ہو….؟ا وہ…. آئی سی…. اب سمجھا…. تم دونوں چاچا سے اس خوشی میں مٹھائی کھانے آئے ہو نا…. بچو…. میں بہت سمجھ دار ہوں ۔“

          ”تو سمجھ دار نہیں ہے ،جمعدار ہے …. آواز ہلکی کر اپنی …. مروائے گا ہمیںبھی…. وہ تیرے آدم خور چاچا ابھی آکر ہمیں کچا چبا جائیں گے۔“ دنبے نائی نے سخن کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ”ہم مٹھائی کھانے نہیں آئے۔“

          ”پھرکیا کھٹائی کھانے آئے ہو…. کس لےے آئے ہو…. مجھے بھی تو بتاﺅ آخر…. میں بھی اس دنیا میں کسی نہ کسی لئے آیا ہوں۔“ سخن ننھا بچہ بن گیا۔

          ”اب تو خود بتا…. ہم دونوں رات کے اس سناٹے میں چارپائی پر مٹھائی کھاتے ہوئے اچھے لگیں گے ۔ ابے ہم …. چاچا کی رقم پار کرنے آئے ہیں۔“ مجو قصائی نے اسے بتادیا۔

          ”ہائیں…. اچھا…. افوہ…. تو اصل بات یہ ہے ۔“ سخن اپنے جامے سے باہر ہونے لگا۔

          ”ہاں اور اب ہم تین حصے دار ہیں …. جتنی رقم ہاتھ لگے گی، ہم آپس میںبرابر برابر ایمان داری سے تقسیم کرلیں گے۔“ دنبے نائی نے اسے مزید بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔

          ”برابر برابر میں تقسیم کروں گا۔ میرے پاس ترازو ہے ۔“ سخن نے فوراً ہاتھ اُٹھاتے ہوئے بتایا۔

          ”ابے وہ نوٹ ہیں ….اخروٹ نہیں ہیں، جو ترازو سے تولے گا۔“

          ”اچھا اوئے ….اب ٹائم ضائع مت کرو…. ویسے ہی بہت دیر ہوگئی ہے ۔ میں گھر پے باورچی خانے میں دودھ اُبالنے کو رکھ کر آیا تھا۔“ مجو قصائی نے کہا۔

          پھر وہ تینوں جھکے جھکے انداز میں اپنی جگہ سے نکلے ۔ سخن اُن دونوں کے درمیان میں تھا۔ اس نے آگے چلنے والے مجو قصائی کی قمیص کا پچھلا دامن پکڑلیا اور اپنی قمیص کا پچھلا دامن دنبے نائی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

          ” تم میری قمیص پکڑلو ۔ ریل گاڑی بناکر چلتے ہیں۔“

          ”وہی جنگلیوں والی حرکتیں کرتا رہے گا…. چھوڑ میری قمیص ۔“ مجو نے پلٹ کر سخن کو ڈانٹا۔

          آہستہ آہستہ وہ تینوں چاچاکے کمرے کی طرف بڑھنے لگے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ چاچا کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر چارپائی پر کوئی چادر اوڑھے لیٹا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ایدھی سینٹر کے مرد ہ خانے میں کسی لاوارث کی میت پڑی ہے۔

          ” لگتاہے چاچا نکل لےے….دعا ہے کہ انہیں دوزخ میں بلند مقام ملے…. آمین۔“ سخن نے دل کی گہرائیوں سے کہا۔

          مجو اور دنبہ اس کی بات کی طرف دھیان دیئے بغیر کمرے کی تلاشی لینے لگے۔ سخن نے بھی اُن کی دیکھا دیکھی کمرے میں چکرانا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک گھی کے خالی کنستر سے ٹکرا یا اور زور دار آواز کے ساتھ فرش پر آگرا۔کنستر کی وجہ سے اس قدر تیز اور بھیانک کھڑ کھڑاہٹ پیدا ہوئی کہ گلی کے کونے میں بنے ہوئے کھوکھے کے نیچے سویا ہوا ایک نیستی کتا بھی اپنا لحاف چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلا ۔ آس پڑوس میں رہنے والے اپنے بستروں پر کسمسانے لگے تھے، لیکن مجال ہے جو سوئے ہوئے چاچا میں ذرا بھی جنبش ہوئی ہو۔

          مجو اور دنبے کی توروحیں ہی جسم سے نکل کر کمرے سے باہر چلی گئی تھیں اور پھر دوبارہ جسموں میںآ گئیں۔ دونوں ڈر کے مارے ایک دوسرے سے عید ملنے لگے تھے اورپھر دلی عید مبارک باد دے کر سخن پر پل پڑے، جو گرنے والے کنستر کو گود میں لےے شور مچانے سے منع کرتے ہوئے اسے پچکاررہا تھا۔

          دنبے نے سخن کے منہ پر ہاتھ رکھا اور مجو نے اس کی کمر پر تاک تاک کر کے دو گھونسے مارے۔ گھونسے کھاپی کر سخن کے اندر چیخوں کا آتش فشاں اُبل پڑا۔ اس نے پہلے تو دنبے کے ہاتھ پر زور سے کاٹا اور پھر کنستر میں منہ گھسیڑ کر چیخنے لگا۔ خالی کنستر میںچیخیں ایسی محسوس ہو رہی تھیں جیسے کوئی روبوٹ چلا رہا ہو۔دنبہ اور مجو تو ڈر کے مارے پاگل ہوکر چاچا کے پلنگ کے نیچے گھس گئے اور سانسیں روک کر لیٹ گئے۔ انہیں یقین تھا کہ اب چاچا بیدار ہوکر عقاب کی طرح سخن پر جھپٹا ماریں گے اور اسے بڑے شوق سے نوچ نوچ کر کھاجائیں گے۔لیکن کئی منٹ گزرنے کے باوجود کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا تو وہ دونوں پلنگ کے نیچے سے نکلے اور حیرت سے سوئے ہوئے چاچا کو دیکھنے لگے۔

          ” اب مجھے سو کلو اُمید اور پچاس کلو یقین ہوگیا ہے کہ چاچا کا انتقال بغیر ملال ہوچکا ہے اور چاچا اس وقت دوزخ کے زہریلے سانپ بچھوﺅں سے لڑجھگڑ رہے ہوں گے۔“ سخن نے اپنے یقین کا غبارہ پھلایا۔

          ” ابے اگر چاچا اللہ کرے مرگئے تو بھی اِن کے قتل کا الزام ہم تینوں پر آجائے گا۔ پھر تھانے میں ہماری رج کے منجائی ہوگی ۔“ دنبے نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا اور ان دونوں کو تھوڑا سا کانپ کر بھی دکھایا۔ مجو نے اس کی بات پر توجہ دینے کے بجائے آگے بڑھ کر چاچا پر سے دھیرے دھیرے چادر کھینچ لی اوریہ دیکھ کرپاگل ہوگئے کہ چادر کے نیچے چاچا نہیں، بلکہ آٹے کی بوری سورہی تھی جس میں پرانے کپڑے ٹھونسے گئے تھے۔یہ دیکھتے ہی تینوں کے منہ سے گھگھیائی ہوئی مترنم سی آواز” ای ی ی “نکلی اور وہ دھڑدھڑ کانپتے ہوئے گھوم گھوم کر کمرے میں دیکھنے لگے۔

          ” خطرہ…. بھاگو….“ مجو چلایا۔

          تینوں گرتے پڑتے باہر بھاگے۔ مجو سمجھ داری سے کام لے رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر گلی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔ دنبہ اس کے پیچھے تھا۔

           بدنصیب سخن ابھی ان تینوں کے وسط میں تھا کہ اچانک اس نے کسی کا ہولناک قہقہہ سنا۔”کہاں جاتے ہو بچو…. ٹھہرو ،تمہیں تو میں ابھی بتاتا ہوں …. فالتو فنڈ میں۔“

          چاچا کا بے چین ہیولا پانی کی ٹینکی کے پاس کھڑا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی سخن نے ڈر کے مارے صحن میں پی ٹی شروع کردی اور مخصوص انداز میں ہاتھ چلاتے ہوئے زور زور سے” ون ٹو تھری فور…. ون ٹو تھری فور“ کہنے لگا۔ اچانک سخن کے پیر کسی چیز میں جکڑ گئے اور وہ پی ٹی کرتے کرتے ایک دم صحن میں گرگیا۔ اصل میں چاچا نے وہاں ایک پھندا لگایا ہوا تھا ۔مجواور دنبہ تو پھندے سے بیچ نکلے، لیکن سخن پھنس گیا۔ چاچا ماہر شکاری ی طرح آگے بڑھے اور گرے ہوئے شکار کو مزید جکڑدیا۔ یہ پھندا انہوں نے گھر کے تمام رسیوں سے بنایا تھا۔سخن نے تو باقاعدہ اور باضابطہ رونا شروع کردیا تھا کہ شاید چاچا کے دل میں رحم کا پودا اُگ جائے اور ایسا ہی ہوا تھا۔ چاچا اس کے نزدیک آکر رک گئے۔ انہوں نے روتے بسورتے سخن کو ڈبڈبائی ہوئی نظروں سے دیکھا ،جو مزید منہ ٹیڑھا کرکے رونے لگا تھا ،تاکہ رحم کا پودا جلدی سے بڑا ہوجائے۔چاچا نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور سخن کی طرف بڑھا دیا۔ شاید وہ اس کے آنسو پونچھنے لگے تھے، لیکن رومال آنکھوں سے بہنے والے آنسوﺅں کی طرف جاتے جاتے غوطہ لگاگیا اور سخن کے مردہ مچھلی کی طرح کھلے ہوئے منہ میں گھس گیا۔

          ”تو کیا سمجھتا ہے ‘ تجھے میں بخش دوں گا۔“ چاچا گرجے۔ ”یا نوٹوں سے بھرا ہوا بکس دوں گا ‘ تجھے تو اب میں جنگی قیدی بناکر انپے کنے رکھوں گا۔“

          ”چاچا۔“ سخن کے منہ سے بھونپو جیسی آواز نکلی ۔” میں چوری کی نیت سے نہیں آیا تھا…. اگر میں جھوٹ بولوں تو تم مرجاﺅ۔“

          چاچا اسے ایسے ہی گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے آئے۔ سخن اُن کی عدالت میں رحم کی اپیل کرتا رہا ،مگر چاچا نے اپنا دل مضبوط کرلیا تھا ۔ وہ اسے بھوسی ٹکڑے کی بوری کی طرح کھینچتے ہوئے اندر لے گئے۔

                             ٭٭٭

          آج دوسرا دن تھا سخن کو غائب ہوئے۔کالونی میں حیرانی کا زلزلہ آگیا تھا۔ ہر جگہ سخن کو تلاش کرلیا گیا تھا، حتیٰ کہ خشک نالوں میں بھی اسے ڈھونڈلیا گیا تھا۔

          ”آخر سخن گیا کہاں ؟اسے بلی کھا گئی یا کتا نگل گیا؟“ شرفوکونسلر صاحب اپنے دفتر مےں موجود تھے۔ اُن کے سامنے کالونی کے نامی گرامی معززین اور خوارین کا ریوڑ تھا۔

          ”کتے اور بلیاں ایسی گندی چیزیں نہیں کھاتے۔“ بابو باﺅلے نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور اس کے عقب میں بےٹھے اُستاد دلارے نے جیسے موقع کی تلاش میں تھے ۔انہوں نے جھٹ اسے شلوار سے پکڑ کر کھینچ لیا۔

          بابو باﺅلا بڑی تمیز اور تہذیب سے بےٹھے ہوئے گلابی پر جاگرا۔ گلابی کے منہ سے ایسی عبرت انگیز اور چھت توڑ چیخ نکلی، جیسے اسے پکوڑے کی طرح کھولتے ہوئے تیل کی کڑاہی میں ڈال دیا گیا ہو۔ دونوں گڈ مڈ ہوکر گر گئے تھے۔اُن کے آس پاس براجمان لوگوں نے ان دونوں کو نوچ کھسوچ کر دوبارہ بٹھا دیا۔

          ”اب میں دعوت فکر دیتا ہوں، جناب استاد دلارے کو۔‘ ‘ شرفو صاحب نے باآواز بلند کہا۔” وہ یہاں آکر سخن کی پراسرار گمشدگی پر اگربتی کی روشنی ڈالیں۔‘ ‘

          ”ابے کیا سخن کا عرس منایاجارہا ہے، جو اس میں اگربتی کا ذکر آگیا ہے؟‘ ‘ چپٹے نے اپنی چپٹی ناک کو ایسے ہی بے خیالی میں مزید پچکاتے ہوئے کہا۔

          ” اللہ تمہاری زبان مبارک کرے۔‘ ‘ جمال گھوٹے کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

           وہ آج کی اس ہنگامہ خیز فوری میٹنگ میں خاص طور پر شامل ہو اتھا، حالاں کہ آج اسے ایک نئے گدھے کا سودا کرنے جانا تھا اور اس سلسلے میں وہ خصوصی طور پر تیار ہوا تھا۔ آج اس نے وہ سوٹ پہناتھا، جو اُن کی پچاسویں نسل سے صندوق میں محفوظ چلا آرہا تھا۔ اس کے خاندان کے ایک بزرگ وہ لباس پہن کر فرعون کے دربار میں حاضری لگانے جاتے تھے۔ ہوتے ہوتے وہ لباس جمال گھوٹے تک آ پہنچا تھا۔ اس لباس میں وہ سیارہ زہرا سے آیا ہوا زہریلا جانور لگ رہا تھا۔ شاید اس کے گھر میں آئینہ نہیں تھا۔ اگر وہ آئینے میں خود کو اس لباس میں غور سے دیکھ لےتا تو وہ لعنت دے کر لباس ہی بحرالکاہل میں لے جاکر ڈبو دےتا یا خود ڈوب جاتا۔

          استاد دلارے چہ مگوئیوں کی بھنبھناہٹ کے درمیان آگے بےٹھے لوگوں کے کندھوں پر سے کودتے، پھلانگتے شرفو کونسلر صاحب کے پاس پہنچے ۔ آخری قدم پر کسی نے انہیں لنگڑی ماردی اور وہ ” بھوتنی کے“ کہتے ہوئے شرفو صاحب پر جاگرے۔ شرفو صاحب نے ان سے بچنے کی دو لاکھ کوششیں کیں، مگر استاد دلاے کے ہاتھوں میں اُن کی شلوار کا ایک پائنچا آہی گیا۔ استاد دلارے کا سراُن کے پیر سے جاٹکرایا اور دونوں ایک آواز میں ملی یکجہتی کے ساتھ چیخے۔

          ”یہ کون بھوتنی کا تھا، جس نے مجھے لنگڑی ماری تھی؟‘ ‘ استاد دلارے نے شرفو صاحب کی مجروح ٹانگ پر فوجی بوٹ رکھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔شرفوصاحب بڑی شرافت کے ساتھ مچلے، مگراُف نہ کی۔

          آخر استاد دلارے نے اپنا خطاب شروع کیا ۔”میں بھوتنی والا اس لائق تو نہیں ہوں کہ آپ جیسے لوگوں سے خطاب کروں، مگریہ ہمارے ہر دل لذیذ لیڈر۔‘ ‘

          ”ہر دل لذیذ نہیں …. ہر دل عزی ی ی ی ز۔‘ ‘ شرفو صاحب نے عقب سے انہیں نوچا۔

          ”اوئی ….اچھا….‘ ‘ استاد دلارے نے اُچھل کر مسکراتے ہوئے کہا۔” ہمارے ہر دل عزیز لیڈر شرفو صاحب کی خوامخواہ کی ضد تھی کہ میں سخن کی اچھائیوں پر کم اوربرائیوں پر زیادہ سے زیادہ روشنی ڈالوں، کیوں کہ میں اسے بہت قریب سے جانتا ہوں۔ اس کے قریب سے تو اوجڑی جیسی بدبو آتی ہے۔ سخن کی پراَسرار گمشدگی سے کالونی میں جوکھڈا ہوگیا ہے۔ وہ کبھی پر نہیں ہوسکتا۔‘ ‘

          ”آپ اسی کھڈے کی بات کررہے ہیں نا جو کچرے والے میدان میں تھا؟‘ ‘ للو نے درمیان میں اپنی بات کا بانس اَڑایا۔” وہ تو کل ہی مائیکل بھنگی سے بھروادیاگیا ہے۔‘ ‘

          ” ابے یہ میرے خطاب کے اندر بھنگی کہاں سے آگیا ؟‘ ‘استاد دلارے نے غصیلے انداز میں للو کو دیکھا۔

          اسی لمحے شرفو نے زور سے گلا کھنکھار کر دوبارہ کہنا شروع کیا۔” یہ تھے جناب استاد دُلارے۔ اب میں دعوت فکر دے رہا ہوں، خالو خلیفہ کو…. وہ یہاں آئیں اور سخن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرکے شکریہ کا موقع دیں۔‘ ‘

          ”ٹھہرو…. رک جاﺅ….‘ ‘ اچانک ایک آواز گونجی۔

          سب نے چونک کر دروازے کے جانب دیکھا اور اُچھل پڑے۔ وہاں ایک عجیب سی مخلوق کھڑی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے ۔ بال بکھرے ہوئے اور ایک پیر کی چپل غائب تھی۔ پیاسے کوے کی طرح منہ کھلا ہوا تھا۔

          ”کون ہو تم….؟‘ ‘ شرفو صاحب نے ناگواری سے آنے والے کو دیکھا۔

          ”مجھے ہی بھول گئے۔‘ ‘ آنے والے نے دردیلے لہجے میں کہا۔”ارے میں سخن ہوں۔ ‘ ‘

          ”سخن ….؟؟ ‘ ‘ سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔

          سخن لڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اسے سب نے لاتوں لات لیا۔ اس کی دگرگوں حالت کے پیش نظر اسے آرام کے ساتھ ڈسٹ بن کے پاس بٹھایا گیا۔ سخن پاگلوں کی طرح ایک ایک کی شکل دیکھ رہا تھا۔

          ”تم بولتے کیوں نہیں ہو سخن …. بولو…. کہیں تم گونگے تو نہیں ہوگئے….کہیں تمہاری یادداشت کا کوا تو نہیں اُڑ گیا؟‘ ‘ انگریز انکل نے اسے شانوں سے پکڑ کر دوا کی شیشی کی طرح زور سے ہلاڈالا۔ اس طرح جھنجوڑے جانے پر سخن کی رال نکل کر شرفو صاحب کی قمیص پر جاگری۔

           ”آئے ہائے…. شرفو صاحب آپ کی قمیص گندی ہوگئی۔ چلو جلدی سے اُتادو۔ اب تو اسے تیزاب سے دھونا پڑے گا ۔‘ ‘ پنجو انہیں چڑھانے لگا۔

          ”نہیں اوئے نہیں …. شرفو صاحب، قمیص مت اُتارنا۔ آپ کی باڈی اس قابل نہیں ہے کہ کمزور دل حضرات اسے دیکھ سکیں۔‘ ‘ یامین پہلی بار بولا۔

          ”میرا خیال ہے کہ سخن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باﺅلا ہوگیا ہے…. دیکھو کیسی رال بہہ رہی ہے۔‘ ‘ خالو خلیفہ نے بھی اپنی رائے کی کیل ٹھونکی۔

          ”توبہ ترو تھالو…. یہ بی تو ئی دیھتنے تا مندرا ے۔‘ ‘ (توبہ کرو خالو یہ بھی کوئی دیکھنے کا منظر ہے) گلابی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

          ”یار معلوم کرو…. اس کے ساتھ کیا ماجرا پےش آیا ہے۔ یہ دو دن کون سے غار میں رہا ہے؟‘ ‘ یامین نے سخن کے اُلجھے ہوئے بالوں میں سے ایک جوں پکڑتے ہوئے کہا اور پھر اسے انگوٹھے پر مار کرچپکے سے شرفو صاحب کے قمیص سے ہاتھ صاف کرلےے۔

          شرفو ایسے بے خبر انسان تھے کہ انہوں نے بے دھیانی میںاسی دامن سے منہ پونچھ لیا اور پھر تھوتھو کرنے لگے۔

          ”وہ…. وہ ….چاچا….‘ ‘ آخر سخن کے منہ سے ٹوٹے ہوئے الفاظ نکلے۔ اس وقت اس کی شکل سڑے ہوئے چیکو جیسی لگ رہی تھی، جو پیٹی میں سب سے آخرمیں دبا ہوا رکھا ہوتا ہے۔

          ”کیا ہوا چاچا مرگئے؟ ‘ ‘سب کے دلوں سے ایک ہی آواز نکلی ۔

          ”نہیں بلکہ …. بلکہ …. ‘ ‘یہ کہتے کہتے سخن بھوں بھوں کر کے روپڑا اور انگریز انکل کے کندھے پر کھوپڑی ٹکا کر بلکنے لگا۔

          آخر بہت مشکلوں سے اس نے پورا قصہ سنایا اور آخر میں بتایا۔” اورپھر چاچا نے مجھے پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی دے کر اپنے گھر میں غلام بنا کر رکھا۔ انہوں نے مجھ سے اپنے گھر کی صفائی کروائی، منجن سے برتن منجھوائے،کپڑے دھلوائے…. مکڑی کے جالے صاف کروائے…. پوری چھت دھوئی میں نے اُن کی …. پانی کی ٹینکی صاف کی۔سارے گندے گندے کپڑے دھوئے …. دو دن سے کام کرکرکے میں پاگل ہوگیا ہوں۔ اب جاکر دیکھو ، چاچا کا گھر ایسے چم چم کررہا ہے ۔ وہ سب میری محنت ہے۔اس کے بعد دونوں راتوں کو کام سے فارغ ہو کر چاچا کو گینگنم ڈانس بھی دکھانا پڑا۔‘ ‘

          ”ہاں تو غلطی تمہاری ہی تھی …. تم کیوں اُن کے گھر چوری کرنے گئے تھے۔ سزا تو ملنی ہی تھی تمہیں۔ ‘ ‘خالو خلیفہ نے کہا۔

          ”مگر آگے تو سنو….‘ ‘ سخن نے برابر بےٹھے گلابی کی سوکھی سڑی رانیں پیٹتے ہوئے کہا۔” آخر میں چاچا کہہ رہے تھے کہ انہوں نے دس لاکھ روپے کا انعام کا ڈراما رچایا تھا، تاکہ کوئی اُن کے گھر میں چوری کی نیت سے آئے اور وہ اسے پکڑ کر گھر کے سارے کام کاج کرالیں ۔ بدقسمتی سے میں ہی پھنس گیا۔‘ ‘سخن نے انہیں اپنا فسانہ ¿ غم سنادیا۔

          ”ابے بڑے خبےث ہیں چاچا….‘ ‘ خالو خلیفہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔” اتنی سی بات کے لئے اتنا بڑا ڈراما کھیلا انہوں نے۔‘ ‘

          ”بے چارے سخن کی مٹی تو پلیت ہوگئی نا…. اور یہ نجمو اور دنبہ بھی چالاک نکلے، تمہیں پھنسا کر خود نکل لےے۔‘ ‘چودھری بشیر بولے۔

           سخن ان لوگوں کے درمیان بےٹھا سر پیٹ رہا تھا۔

                   ٭٭٭

          اگلے روز دڑبہ کالونی میں ایک نیا قصہ ہوگیا۔

           دڑبہ کالونی کے مضافاتی علاقے میں کچھ لوگ آگئے۔ اُن کے ساتھ بہت سا سامان عجیب عجیب گاڑیاں اور خیمے بھی تھے۔ان سب لوگوں نے سروں پر پلاسٹک کے ہیٹ پہن رکھے تھے۔دڑبہ کالونی کے چرند پرند تک کو ان لوگوں کی آمد کی خبر ہوگئی۔ سب انہیں دیکھنے آ رہے تھے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کس لئے وہاں آئے ہیں۔ معزیزین و خوارین کو جب اس کا بات علم ہوا تو وہ سب قافلے کی صورت میں کونسلر صاحب کے دفتر کے سامنے سے چل پڑے۔سب بڑے ٹوردکھاتے ہوئے اور تیز تیزباتیں کرتے چل رہے تھے، تاکہ کالونی کے ہر کس و ناقص لوگ انہیں دیکھیں اور ان کی تعریفیں کریں، لیکن ان سب لوگوں کی خواری ہوگئی۔ انہیں دیکھنے کے لئے کوئی راستوں میں کھڑا نہ ملا۔ آگے آگے چودھری بشیر ‘ شرفو کونسلر صاحب ‘ خالو خلیفہ‘ انگریز انکل اور چاچا چراندی تھے۔ ان لوگوں کے بعد دنبہ نائی ‘ مجو قصائی ‘ سخن اور باقی خوارین اکڑے ہوئے آرہے تھے۔

          جب یہ لشکر جرار مضافات کے نزدیک پہنچا تو گلابی ایک دم دبی ہوئی آواز میں تیزی سے بولا۔”لیت داﺅ…. تھب لیت داﺅ…. فولن لیت داﺅ….“ (لیٹ جاﺅ …. سب لیٹ جاﺅ…. فوراً لیٹ جاﺅ)

          اس کی آواز سنتے ہی سارے کے سارے کچھ سوچے سمجھے اور جانے بغیر گندی زمین پر لیٹ گئے۔پھر کوئی ایسا نہ بچا کہ جس کے کپڑے گندی کالی کیچڑ نما مٹی میں لتھڑ نہ گئے ہوں۔ وہاں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر تھے اور جگہ جگہ کالی کیچڑ تھی۔ وہ لوگ نئے کپڑے پہن کر تحقیقی کام سے نکلے تھے۔ چودھری بشیر اور شرفو کونسلر صاحب نے تو خاص آج کے لئے اپنے اپنے ولیمے والے جوڑے کلف لگوا کر پہنے تھے ۔ کلف زدہ کپڑے اتنے کڑک ہورہے تھے ،جیسے انہوں نے اخبار پہن رکھے ہوں ۔دونوں اپنی شلواروں کے پائنچے اٹھا کر برے برے منہ بناتے ہوئے کیچڑ اور گندگی سے بچتے ہوئے آئے تھے ،لیکن گلابی کی توتلی آواز نہ جانے کیسا طلسم تھا کہ وہ گندگی میں ہی لیٹ گئے تھے۔

          ”ابے کیا ہوگیا…. کون نظر آگیاہے تجھے؟“ شرفو صاحب نے اپنے ہونٹوں پر لگی ہوئی کیچڑ ہٹاتے ہوئے کہا۔ ساتھ ساتھ وہ تھوتھو بھی کررہے تھے۔

          ”ابے یال…. میں بی پادل اُوں۔“ (ارے یار…. میں بھی پاگل ہوں) گلابی یہ کہتا ہوا کھڑا ہوگیا۔

          ”کیا ہوگیا آخر….اپنے دادا کے مردے کو آتے تو نہیں دیکھ لیا تھا؟“ خالو بھی غصے میں آگئے تھے۔ اب سب لوگ کھڑے ہوچکے تھے۔

          ”میں تھمداتے دسمن تے جھاج نے حملہ تل دیا اے…. مدروہ تو تیل تھی۔“ گلابی کے چہرے پر شدید جھنجلاہٹ تھی۔

(میں سمجھا کہ دشمن کے جہاز نے حملہ کردیا ہے مگر وہ تو چیل تھی۔)

اس کا جملہ مکمل ہوا اور چاچا چراندی کا حملہ ہوا۔ انہوں نے رکھ کے اس کی کالی گدی پر ہول ناک تھپڑ مارا۔ گلابی کے منہ سے چیل جیسی چیں نکلی اور وہ کالی کیچڑ میں جاگرا۔ کیچڑ اور اس کا کلر آپس میں میچ کرگئے۔پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ گلابی کا منہ کہاں گیا۔ کسی کو اس پر رحم نہیں آرہا تھا۔ اس نے سب کے کپڑے گندے کروادیئے تھے۔

          ”ابے تجھے جہاز اور چیل میں فرق نظر نہیں آیا؟“چودھری بشیر نے گلابی کو کیچڑ میں ایک اور ڈبکی لگوادی۔

          خالو خلیفہ اپنے کپڑوں پر لگی کیچڑہٹا رہے تھے۔

          ”خالو…. کیچڑ کو ہاتھ سے نہیں جھٹکو۔“ سخن نے انہیں منع کیا۔” ہاتھ خراب ہوجائیں گے۔“

          ”پھر کیا کروں ؟ “ خالو نے اسی سے ترکیب پوچھی۔

          ” منہ سے صاف کرو۔ “ سخن نے شان دار مشورہ دیا۔

          ”اوئے بس کرو بس…. اور وہ دیکھو….“ چودھری بشیر نے عادت کے مطابق ہاتھ اٹھاکر کہا اور پھر سامنے اشارہ کیا۔

          سب لوگ اپنے گندے کپڑے اور گندے گلابی کو بھول کر سامنے دیکھنے لگے۔تب انہوں نے پلاسٹک کی ٹوپیاں پہنے ہوئے کئی آدمی دیکھے۔ دو آدمیوں نے ایک بہت بڑا سا کاغذ پھیلا کر پکڑا ہوا تھا۔ تین چار آدمی وہ کاغذ دیکھتے جارہے تھے اور دڑبہ کالونی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کررہے تھے۔

          ”مجھے تو یہ بنجارے لگتے ہیں۔“ سخن نے اندازے کا آلو چھیلا۔” ان غریبوں کے گھر نہیں ہوتے ،اس لئے تو یہ لوگ خیمے لگاکر ان میں رہتے ہیں۔“

          ”پورے ورلڈ میں شاید دو چار منہ ایسے ہوں گے، کبھی اُن میں سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں نکلتی ہوگی۔ سخن کا منہ بھی ان میں سے ایک ہے۔“ انگریز انکل نے سخن کو گھورتے ہوئے کہا۔

          ”چلو آﺅ…. ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں اور ہماری کالونی کی طرف اشارے بازی کیوں کررہے ہیں۔ “ شرفو صاحب کو غالباً یاد آگیا تھا کہ وہ کونسلر ہیں ۔ سب لوگ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔

          اجنبیوں نے ان لوگوں کو دیکھ لیا تھا۔ ایک آدمی ان لوگوں کا باس لگ رہا تھا۔ وہ بہت اکڑ کر کھڑا ہوا تھا، حالاں کہ وہ بالکل دھان پان اور سادہ سا آدمی تھا۔ کمزوری کی وجہ سے اس کا ڈھانچہ باہر جھانک جھانک کر دنیا دیکھ رہا تھا۔ منہ کسی بگ سائز سیپی کی طرح کھلا ہواتھا۔ سب سے دل چسپ بات، جو دڑبہ کالونی کے معزیزین اور خوارین کو ایک ساتھ اور ایک دم سے پسند آئی۔ وہ اس شخص کی اونٹ کے کوہان کی طرح اوپر کی نکلی ہوئی گنجی کھوپڑی تھی۔ اس نے پلاسٹک کا ہیٹ نہیں پہنا تھا۔

          ”اوہو…. معاف کرنا جناب۔“ انگریز انکل نے نزدیک پہنچ کر باس سے مخاطب ہوکر کہا۔ آئم رئیلی سوری….“

          ”کیا مطلب کس بات کی سوری؟ “ گنجا باس حیران ہوکر بولا۔

          ” وہ میں دور سے آپ کی کھوپڑی دیکھ کر یہ سمجھا کہ آپ نے چمک دار ترکی ٹوپی لگارکھی ہے، مگر قریب آکر پتا چلا کہ آپ کی تو کھوپڑی ہی ایسی ہے…. اوپر کو نکلی ہوئی۔“

          باس کا منہ کھوتے جیسا ہوگیا۔ وہ غصیلے انداز میں اپنی کھوپڑی پر اسکیل مارنے لگا۔ یہ اس کی غیر ارادہ حرکت تھی ۔

          ” ویسے آپ اپنی اس انوکھی چندیا سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھاتے۔ اس پر تو نام کا اسٹیکر بھی چپکا سکتے ہیں اورنمبر پلیٹ بھی بنوا سکتے ہیں۔“ سخن نے بھی ان کی چندیا کی تعریف میں دو میٹھے بول بولے۔” آپ کی مفت پبلسٹی ہوتی رہے گی۔ اگر چپکنے والا اسٹیکر نہیں ملے تو گوند، آٹے کی لئی یا پتنگ جوڑنے کی چپکی سے چپکا سکتے ہیں۔ کیوں بھائیو…. میں ٹھیک کہہ رہا ہوںنا؟“

          ”کون…. کون ہو تم لوگ…. ایڈیٹ….“ باس کے صبر کی صراحی گر کر چھلک گئی۔” آتے ہی نہ سلام نہ دعا….بس میری گنجی کھوپڑی کے پیچھے لگ گئے۔“

          باس کے ایک ماتحت نے ادب سے کہا۔” سر میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ اپنی کھوپڑی پر کوئی مفلر ڈال لیں، مگر آپ نے میری بات نہیں مانی ۔“

          ”چپ رہو گدھے۔“ باس پر اُلٹ پڑا۔” اِن سے پوچھو یہ کون لوگ ہیں ۔ یہ تو مجھے مانگنے والے لگ رہے ہیں سب کے سب۔ کپڑے دیکھو ان کے ….کتنے گندے ہورہے ہیں۔“

          ”ابے بات سن بھئی گنجے انسان …. “ چاچا چراندی جو سب سے آخر میں کھڑے تھے، آگے آتے ہوئے بولے ۔” تجھے ہم مانگنے والے نظر آتے ہیں؟“

          ”توپھر کون ہو؟“ باس نے انہیں گھورا۔

          ”ہم اس کالونی کے رہنے والے ہیں۔“ شرفو صاحب نے بارعب لہجہ بناتے ہوئے کہا۔” ہم یہ دیکھنے آئے ہیں کہ تم لوگ یہاں کس لئے آئے ہو….یہ مشینیں اور گاڑیاں کس لئے ہیں …. تم لوگ یہاں سرکس تو نہیں لگاﺅگے؟“

          ”اچھا….“ باس نے فوراً اپنا لب و لہجہ بدل لیا۔” تو آپ لوگ کالونی والے ہیں …. ویری گڈ۔“

          ”اس میں ویری گڈ کی کیا بات ہے …. کیا تم ہماری کاپی چیک کررہے ہو ؟“ انگریز انکل نے منہ بگاڑا۔

          ”یہاں کاپی کہاں سے ٹپک پڑی…. میں تو بتانا چاہ رہاتھا کہ اصل میں ہم لوگ سرکاری آدمی ہیں …. سرکار چاہتی ہے کہ اس پرانی کالونی کو ختم کرکے یہاں نئے سرے سے جدید علاقہ تعمیر کیا جائے اور یہاں تمام سہوتیں میسر ہوں۔یہ ترقیاتی منصوبوں کی ایک کڑی ہے۔ ہم لوگ یہاں کا تفصیلی جائزہ لینے آئے ہیں…. اصل میں ہم انجینئر ہیں۔“باس نے انہیں بتایا ۔

          ” یعنی انجیر بیچنے والے ….؟“ سخن نے ذہین طالب علم کی طرح فوراً سوال کیا۔

          ”اِن جی ی ی ی ی ر…. “گنجے باس نے اپنی کھوپڑی نوچ لی۔ اس مقام پر ایک انجیر جیسا گول نشان بن گیا تھا۔

          ”ارے آپ برا مت مانیں …. یہ تو جاہل گنوار ہے۔ اسے کیا معلوم انجینئر کسے کہتے ہیں۔ “چودھری بشیر نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ پھر وہ سخن کی طرف مڑ کر بولے۔”ابے یہ فٹے منہ بڑی بڑی زمینوں کوفٹے سے ناپتے ہیں اور سارا دن ادھر اُدھر خجل خوار ہوتے رہتے ہیں۔ بڑے کام ہوتے ہیں ان لوگوں کے۔“

          ”اگر ہماری کالونی ختم کردی جائے گی تو پھر ہم لوگ کہاں جائیں گے ؟“ شرفو کونسلرصاحب نے اس موقعے پر مداخلت کی چپل پھنسائی۔

          ”آپ لوگوں کو فی الحال دو ایک مہینے پہاڑوں اور غاروں میں رہنا ہوگا ۔پھر سب کو خےمے دے دیئے جائیں گے۔ جب تک کالونی نئے سرے سے تیار نہیں ہوجاتی، تب تک آپ کو خیموں میں ہی رہنا ہوگا۔“گنجے کے ساتھی نے بتایا۔

          ”تو خیمے کہاں ہیں ؟ “سخن گھوم گھو م کر گردو پیش کا جائزہ لینے لگا۔

          ”وہ ابھی سل رہے ہیں…. درزی کو کل ہی ناپ دیا ہے ۔ “گنجے کے ساتھی نے بتایا۔

          ”بھئی میرا تو کرتے کے کلر والا خیمہ سلنا چاہئے…. اس کے ساتھ تنگ موری والا پاجامہ ہونا چاہئے۔“

          ”ابے تو کیا خیمہ پہنے گا؟“ چاچا ایسے موقعوں پر بھلا کب چوکتے تھے۔ انہوں نے سخن کی گدی پر اچانک ریڈ کر کے اس کا رنگ ریڈ کردیا۔

          ”یہ تو بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔ “خالو خلیفہ بڑی سنجیدگی سے بولے۔” ہم لوگ بھلا کب تک غاروں اورخیموں میں رہیں گے ؟ “

          ”حکومت کا پروجیکٹ بہت جلد مکمل ہوگا…. اس کا ہیڈ ماسٹر پلان بن گیا ہے …. یہ زیادہ سے زیادہ پچیس سے تیس سال کے اندر اندر پورا ہوجائے گا۔ “گنجے نے پہلی بار مسکراتے ہوئے انہیں اچھی خبر سنائی۔

          ”اس وقت تک تو ہمارے ڈھانچے خےموں میں پڑے ہوں گے۔“ انگریز انکل نے منہ بنایا۔

          ”کم از کم چاچا تو نئی کالونی کے تیار ہونے تک یہاں نہیں ہوں گے۔“ یامین نے خواہ مخواہ اُڑتا تیرپکڑلیا۔

          ”کیوں ؟کیا اس وقت چاچا چیکو کھانے چیکو سلواکیہ چلے جائیں گے ؟“ پنجو نے چونک کر پوچھا۔

          ”ابے او بھائی انگریز انکل۔“ چاچا چراندی نے کہا۔ ”یہ تمہارا لونڈا بہت بدتمیز ہوگیا ہے ۔اسے سمجھا لو فالتو فنڈ میں۔“

          ”بدتمیز ہوگیا ہے ؟“ انگریز انکل نہ جانے کن خیالوں میں گم تھے ،ایک دم چونک کر بولے۔”کیامطلب؟ اس نے کپڑے پہننا چھوڑ دیے ہیں؟“پنجو بوکھلا کر ادھراُدھر دیکھنے لگا۔

          ”بہرحال ہم نے آپ لوگوں کو پہلے بتادیا ہے ۔ اب آپ لوگ جاکر یہاں سے نکلنے کی تیاریاں کریں اور اپنے لےے اچھے اچھے گہرے غار بھی تلاش کرلیں۔“ گنجے نے کہا او رمڑ کر اپنے ساتھیوں کو چلنے کا اشارہ کیا۔

          وہ لوگ اپنی جگہ بتوں کی طرح کھڑے انہیں جاتے دیکھتے رہے۔

                                                          ٭٭٭

          سخن اندھیری گلی سے سیٹی بجاتا ہوا گزر رہا تھا کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچا۔ اس موقع پر جتنا کوئی انسان ڈرسکتا تھا، سخن اس سے پچاس ہزار گنا زیادہ ڈر گیا۔ وہ جھول کر کھینچنے والے کی گود میں جاگرا۔ اس کی کھوپڑی کا پچھلا حصہ کھینچنے والے کی ناک سے ٹکرایا۔ پھر گلی میں ایک گالی مکسچر چیخ اُبھری۔

          ”کک…. کو…. کون ؟“ سخن عالم وجد میں بولا۔

          ”ابے تیرا باپ۔“ چودھری بشیر کی آواز گونجی۔ وہ روبوٹ کی طرح ناک میں بول رہے تھے۔

          ”اباجی …. آپ؟“ سخن کی کپکپاتی ہوئی آواز نکلی ۔” کیا دوزخ سے بھی آپ کولوگوں نے نکال دیا۔ گھر بھی نہیں گئے سیدھے ۔ پہلے گھر جاکر اماں سے تو مل لیتے۔“

          ”اباجی کے بچے …. میں ہوں بشیر…. میری ناک پھوڑ ڈالی تو نے۔ اب میں سونگھوں کاکیسے؟“

          ”تو سونگھنا ضروری تو نہیں ہے نا…. ایک کتا خرید لیں ۔ اگر کچھ سونگھنا ہوتو اسے آگے کردیا کریں۔ وہ سونگھ کر آپ کو بتا دیا کرے گا۔“ سخن نے تجویز دی۔

          ” اپنی بکواس بند کر او رمیری سن….“ چودھری بشیر اسے ساتھ لے کر ایک چبوترے پر آبےٹھے، جہاں روشنی ہورہی تھی۔” یار بات سن…. مجھے لگتا ہے، وہ چار سوبیس ہیں …. وہ ہماری کالونی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔“

          ”یہ آپ اُن لوگوں پر شک کررہے ہو؟“ سخن چونکا۔

          ”بس میرا دل ساگھبرا رہا ہے۔“چودھری صاحب اپنا سینہ سہلاتے ہوئے بولے ۔

          ” کھٹائی والا پانی پی لیں یا پھر ہاضمے کا چورن پھانکیں چٹکی بھر…. دو منٹ میں طبیعت سیٹ ہوجائے گی ۔ اصل میں گیس چڑھ گئی ہوگی۔زیادہ ہی ٹھونس لیا ہوگا آپ نے …. کھاتے بھی حیوانوں کی طرح ہیں آپ۔ “سخن روانی میں بولتا چلا گیا۔”اگرپھر بھی دل مالش کرے تو اسپغول کی بھوسی کھالیں….بھوسی نہ ملے تو بھوسہ چبا لینا۔“

          ”ابے میںنے تجھے اپنی بے عزتی کرنے کے لئے نہیں روکا ہے۔“چودھری بشیر نے تھوک کی طرح غصہ نگلتے ہوئے کہا۔’ ’ میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے۔“

          ”بس ایک ترکیب ہے آپ کی کھوپڑی میں ….اور کچھ نہیں ہے…. دماغ نہیں ہے اندر ؟ “سخن حقیقت میں حیران رہ گیاتھا۔

          چودھری بشیر نے دونوں مٹھیاں بھینچ کر زور سے” ای ی ی ی ی ی“ کی آواز نکال کر اپنے غصے کا اظہار کیا، جو رائیگاں گیا۔

           یہ چیزیں سخن کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں ۔ وہ ہمدردی سے بولا۔” آج دوائی نہیں کھائی آپ نے شاید؟“

          ”اُوئے چپ کر جا….“ چودھری چلائے اور سامنے والے گھر کی دیوار سے لگ کر سویا ہوا تھکا ماندہ چمرخ ساکتا گہری نیند سے اُٹھ کر بھاگا۔ اس کی رفتار اُڑن طشتری سے بھی تیز تھی۔ چودھری بشیر کی آواز سے اس کا کلیجا ہل گیا تھا۔

          ” ایک مہینے میں یہ آٹھواں کتا ہے…. جو آپ نے اپنی آواز سے ڈرا کر بھگا دیا ہے۔اگر سارے کتے بھاگ گئے تو کالونی کی پہرے داری کیا آپ کریں گے؟ “سخن نے ناراضی سے کہا۔

          ”ابے میں تیرا خون پی جاﺅں گا….“ چودھری بشیر چبوترے پر بےٹھے بیٹھے غصے کے مارے پھدکنے لگے۔” میں کیا بولنے آیا تھا اور تونے بات کہاں گھمادی ہے۔ اب اپنی تھوتھنی بند رکھ…. اور جو کہہ رہا ہوں غور سے سن۔“

          ”غور سے کیسے سنتے ہیں ۔ اپنا کان کاٹ کر آپ کے منہ میں ڈال دوں۔“ سخن بھلا کیسے چپ رہ سکتا تھا۔

          ”میں نے پروگرام بنایا ہے کہ میں، تم اور گلابی رات کے وقت اُن لوگوں کے خےموں کی طرف جائیں گے اور اُن کے سامان کی تلاشی لیں گے، تاکہ ہمیں حقیقت معلوم ہوسکے کہ وہ لوگ واقعی سرکاری آدمی ہیں اور اُن کا اصل ارادہ کیا ہے۔ میں نے گلابی سے بھی تفصیلی گفتگو کرلی ہے ۔ وہ بھی چلنے کو تیار ہے۔“ چودھری بشیر اس کی بات سنی اَن سنی کرکے تیزی سے بولتے گئے۔

          ”آپ مجھے اس لئے ساتھ لے جانا چاہتے ہوں گے کہ آپ کو اس سلسلے میں ایک سمجھ دار قابل اور ذہین ساتھی کی ضرورت ہے ۔ “ سخن نے ان کی بات کا یہ نتیجہ نکالا۔

          ” چل ایسا ہی سمجھ لے۔“ چودھری بشیر نے اسے راضی اور خوش کرنے کے لئے کہا۔

          ” پھر تو ٹھیک ہے ۔“ سخن نے تالی مارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ میں تیار ہوں۔“

          ”بس تو پھر رات بارہ بج کر ایک منٹ پر بڑے پیپل کے درخت کے نیچے تمہار اانتظار کروں گا۔گلابی کو بھی ٹائم دے دیا ہے۔ پھر تینوں بھائی مشن پر روانہ ہوجائیں گے ۔ “ چودھری صاحب نے تالی مارنے کے لےے اپنا ہاتھ آگے نہیں کیا اور سخن کی خواری ہوگئی۔

          اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا اور بولا۔” ہتھیاروں کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے ہمیں …. وہاں فائٹ بھی ہوسکتی ہے ۔“

          ”اگر تمہارے پاس کوئی ہتھیار ہوتو لیتے آنا۔ ویسے میں نے کچھ ہتھیاروں کا بندوبست کرلیا ہے۔ رسی،ٹارچ اور کچھ اور سامان بھی ایک تھیلے میں تیار رکھ لیا ہے۔ بس رات کو ہمیں نکلنا ہے۔ آخر کالونی کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اگر ہمیں جان بھی دینی پڑے تو دے دیں گے۔“ چودھری بشیر نے پرعزم لہجے میں کہتے ہوئے سخن کا سینہ ٹھونک کر کہا۔

          ”آکھو کھو….“ اسے کھانسی ہوگئی۔ ”میں جان وان نہیں دوں گا…. چاہے وہ لوگ مجھے کتے کی موت ہی کیوں نہ ماردیں۔“

          ”بس اوئے بس۔“ چودھری صاحب نے ایک دم ہاتھ اُٹھاکر کھڑے ہوگئے۔ ”بہت ہوگئی میٹنگ۔ اب طے ہوگیا ۔اب ہم رات کو ملیں گے۔“

          ”چودھری صاحب …. خدا کے واسطے پہلے بتادیا کریں کہ آپ وحشیوں والا نعرہ لگانے والے ہیں…. اگر ایسے میں کوئی دل کا مریض ہوتو وہ غریب تو فوراً ہی ٹیں پٹاس ہوجائے گا۔“

          ”اچھا اب اپنے منہ کو تھوڑاریسٹ دو….بول بول کر گرم ہو گیا ہوگا۔ رات کو تیار ہوکر آجانا۔ “ چودھری بشیر اب جان چھڑانے کے چکر میں تھے۔

          ” تیار ہوکر ….؟“ سخن چونکا۔” کیاعید کا جوڑا پہن کر آنا ہے؟ “

           لیکن چودھری بشیر وہاں سے کھسک لےے تھے۔

                             ٭٭٭

          وقت مقررہ پر چودھری بشیر اور سخن، پیپل کے درخت کے نیچے پہنچ چکے تھے، لیکن گلابی کا دور دور تک پتا نہ تھا۔ وقت کی گدھا گاڑی آگے نکلی جارہی تھی۔

          ”ابے یہ توتلا کہاں مرگیا جاکے ؟ “ سخن غصے میں دانت پیس رہا تھا۔

          ” اوئے …. اس سے بولا بھی تھا میں نے …. کہ ٹیم پر آجانا…. پر وہ اب تک نہیں آیا۔“ چودھری بشیر بھی پیچ و تاب کھارہے تھے۔ ان کے ایک ہاتھ میں کپڑے کا تھیلا بھی تھا، جس میں وہ سبزی لایا کرتے تھے۔

          اسی لمحے انہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دیں۔ ایسا لگتاتھا کہ وہ دوڑتے ہوئے بھونک رہے ہیں۔

          ”شاید گلابی آرہا ہے…. کتے اس کا پیچھا کررہے ہوں گے ۔“ سخن نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا ۔” وہ اُلو کا چرخا کتوں کو اپنے پیچھے لگاکر ادھر ہی لے آئے گا۔“

          اس سے پہلے کہ چودھری بشیر کچھ کہتے ‘ سامنے سے تین کتوں کے ہیولے نمودار ہوئے ۔ چودھری بشیر نے تھیلے میں سے ٹارچ نکال لی تھی او راسے آن کرکے سامنے روشنی ڈال رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ تینوں کتے بری طرح بدحواس تھے۔ اُن کے منہ پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔گلابی چیختا چلاتا اور انہیں ڈراتا ہوا ان کے پیچھے آرہا تھا ۔ اس کی رفتار راکٹ لانچر کے راکٹ سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے چھلانگ لگاکر ایک کتے کی پچھلی ٹانگ پکڑلی۔کتے کی تھوتھنی سے سہمی ہوئی فریاد کناں چیخ نکلی۔ گلابی کتے کی ٹانگ چبانے کی کوشش کررہا تھا۔ یہ دیکھ کر سخن اور چودھری صاحب آگے بڑھے اور گلابی کے ہاتھ سے مظلوم کتے کی ٹانگ چھڑانے کی کوششیں کرنے لگے۔

          ”اوئے چھوڑ اوئے، اس غریب کی ٹانگ…. ہر معاملے میں غریب کی ٹانگ ہی کھینچنے پر اُتر آتا ہے ہر کوئی؟“ چودھری نے پوری طاقت صرف کردی، مگر اپنی کوشش میں ناکام رہے۔

          ”اتھ نے دو تھال پہلے میلی تانگ پے کاتاتا…. اب میلی بالی اے ۔میں بی اتھ تے کاتوں دا۔“ گلابی نے چکھ مارنے کے لےے توتلا منہ آگے بڑھایا۔ کتے کے تو پسینے چھوٹے ہوئے تھے۔ وہ آگے بھاگنے کے لئے زور لگارہا تھا۔

           ”ابے چھوڑ دے…. ورنہ اس بے چار کو چودہ انجکشن لگوانے پڑجائیں گے۔“ سخن نے گلابی کے منہ پر چپل رکھ کر اسے دور ہٹاتے ہوئے کہا۔گلابی کے ہاتھوں اسے کتے کی ٹانگ چھوٹ گئی اور وہ توپ کے گولے کی طرح وہاں سے اُڑ گیا۔اس کے دونوں ساتھی اسے چھوڑ کر شاید ملک کا بارڈر عبور کرچکے تھے۔

          ”ہوش کر دیوانے…. ہوش کر۔“ سخن نے گلابی کو جھنجوڑتے ہوئے جذباتی ڈائیلاگ بولا۔” دنیا بے وفا ہے۔“

          ”تم دونوں نے اُتھے بتالیا۔ والنا آدوہ مد تھے بتانئی۔“گلابی ہانپ رہا تھا۔ (تم لوگوں نے اسے بچالیا ،ورنہ آج وہ مجھ سے بچتا نہیں )

          ”اچھا اب انسان بن جا…. پہلے ہی تیرے چکر میں اتنا ٹائم برباد ہوگیا ہے…. چل اب آگے چل اور غصہ تھوک دے۔“ سخن نے کہا۔ گلابی اتنا فرماں بردار کہ تھوکنے میں ایک ثانیے بھی تاخےر نہیںنہ کی اور بغیر دیکھے سخن کے پیر پر تھوک دیا۔

          ”ابے گندے ملیچھ…. یہ کیا کیا؟ میرے پیر ہی تھوک دیا…. چپل بھی گندی کردی ساری۔“

          ”بس اوئے بس….“ چودھری بشیر نے ہاتھ اٹھائے۔ ”لڑائی لڑائی معاف کرو اور جلدی سے چپل صاف کرو۔“

          تھوڑی دیر بعد تینوں کمانڈوز بڑی ہوشیاری سے اپنے ٹارگٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پھر انہیں سرکاری لوگوں کی گاڑیاں مشینیں اور خیمے دکھائی دینے لگے۔ وہاں ایک جگہ سے ہلکا ہلکا دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔

          ”اوئے …. ابے نیچے ہوجاﺅ۔“ اچانک چودھری بشیر ‘ گلابی اور سخن کو اپنے ساتھ لیتے ہوئے نیچے بیٹھ گئے۔اب صورتِ حال یہ تھی کہ سب سے نیچے سخن دبا ہوا مینڈک کی طرح کلبلا رہا تھا۔ اس پر گلابی اوندھا پڑا تیرنے کے انداز میں ہاتھ پیر چلا رہا تھا اور گلابی پر چودھری صاحب براجمان تھے۔

          ”مم…. میں…. میرا دم گھٹ رہا…. ہے ۔“ سخن کی گھٹی گھٹی آواز اُبھری ۔

          چودھری بشیر نے فوراً ہونٹوں پر انگلی رکھ کر زور دار آواز میں شش کی اور اسے ڈانٹتے ہوئے بولے ۔”اوئے چپ کر جا…. بول مت ذرا بھی …. ابھی کوئی اسی طرف آرہا ہے۔“

          ”کوئی اس طرف آرہاہے اور میں اوپر کی طرف جارہا ہوں…. آئے۔“ سخن واقعی موت سے چھ انچ تین سوت دور رہ گیا تھا۔ اس پر تو گلابی کا وجود تھا اور پھر چودھری بشیر جیسے آدم خور مسٹنڈے کا وزن…. کچو مرتو نکلنا ہی تھا غریب کا ۔پھر چودھری صاحب اُن پر سے ہٹ گئے۔ سخن نے جلدی سے گلابی کو اپنے اوپر سے ایک طرف پھینکا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔

          ”اچھا اب آگے چلو…. ہمیں زیادہ بکواس نہیں کرنی چاہئے۔“ چودھری بشیر نے دونوں کو آگے ہانکا۔

          جلد ہی وہ خیموں کے پاس پہنچ گئے۔ قریب آنے پر انہیں ایسا لگا کہ کئی آدمی کہیں بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔ ان لوگوں کے ہنسنے کی آوازیں انہیں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ تینوں دبے قدموں اس خیمے کے پاس پہنچے، جس کے اندر سے آوازیں ابھر رہی تھیں۔ چودھری بشیر نے تھیلے میں سے قینچی نکالی اور خیمے کے عقبی حصے میں آکر ایک گول سوراخ اپنے لےے اور ایک گلابی کے لےے کردیا۔ پھر وہ تینوں ہی اندر جھانکنے لگے۔ اند رکا منظر ہی عجیب تھا۔اندر ایک بڑی سی چادر بچھی تھی اور اس پر تین آدمی بیٹھے تھے۔ اُن کے درمیان ایک بڑا سا کاغذرکھا تھا، جس پر اس پورے علاقے کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ ان تینوں آدمیوں میں وہ گنجا باس بھی تھا، جو بکرے کی طرح نقشے پر چڑھ کر اپنے دونوں ساتھیوں کو کچھ بتارہا تھا۔ اُن تینوں نے کان لگاکر غور سے سنا۔

          ”یہ سارا علاقہ سترایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ چالیس ایکڑ پر یہ کچی بستی ہے۔ باقی تیس ایکڑ زمین فالتو پڑی ہے۔ سیٹھ بابو جی توندل نے یہ ساری زمین اپنے قبضے میں کرلی ہے۔ وہ یہاں ایک بڑا پروجیکٹ قائم کرنا چاہتے ہیں، مگر مسئلہ ان بستی والوں کا ہے ۔سب سے پہلے ہمیں بستی خالی کرنی ہے ،اسی لئے میں نے بستی سے آنے والوں کو سبز باغ دکھائے ہیں اور خود کو سرکاری آدمی بتایا ہے، تاکہ وہ جلد از جلد بستی خالی کردیں اور ہم یہاں بلڈوزر چلادیں۔“

          ”بس اب میرا خیال ہے کہ ہم لوگ سوجاتے ہیں۔ رات زیادہ ہوگئی ہے۔ کل یہاں صورتِ حال کاجائزہ لے کر ہم اپنی کارروائی شروع کردیں گے۔ “ گنجے کے دوسرے ساتھی نے کہا۔ اس کا چھوٹا ساچوہے جیسا چہرہ تھا اور رنگت ڈامر سے زیادہ سیاہ تھی۔اسے کوئی بھی دنیا کا سب سے کالا انسان کہہ سکتا تھا۔ اسے اس کے ساتھی کلوپیٹرا کہتے تھے۔پھر گنجے کے دو ساتھی خیمے سے نکل گئے۔ گنجے نے اُٹھ کر خیمے کے دروازے کی زِپ لگالی اور منہ پھاڑ کر ایک ہول ناک جماہی لی۔

          ”توبہ ہے یار….کتنا بڑا منہ پھاڑا ہے گنجٹ نے ….“ سخن نے چودھری بشیر کے کان میں سرگوشی کی ۔

          ”ہمیں سب سے پہلے وہ نقشہ حاصل کرنا پڑے گا۔“ چودھری بشیر نے جھٹکے سے گردن گھماکر کہا۔

          ”پھلموں والے ایک چھن مت دیں…. بلتل بی اتھے نئیں لگ رے۔“ گلابی نے انہیں فوراً ٹوک دیا۔ (فلموں والے ایکشن مت دیں۔ بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے)

          ”اچھا اب یہاں سے دور چلو۔ جب گنجا سو جائے گا ۔پھر ہم آئےں گے، ورنہ گنجا شور مچادے گا۔“ چودھری بشیر بولے۔

          وہ تینوں وہاں سے دور ہٹ گئے اور اسی جگہ آگئے، جہاں کیچڑ پڑی تھی۔ جیسے ہی تینوں وہاں پہنچے، اچانک اُن پر کسی نے حملہ کردیا۔ حملہ کرنے والے بھی تین ہی تھے۔ سخن اور گلابی پر حملہ کرنے والوں نے انہیں کیچڑ میں لٹاکر مارنا شروع کردیا۔ چودھری بشیر پر حملہ کرنے والا اُن کی پڈی پر چڑھ کر کندھے پر کاٹ رہا تھا۔

          ”آئے آئے…. اللہ اللہ …. ابے اوئے …. ابے چھوڑاوئے…. ڈریکولا کی اولاد۔ “ چودھری بشیر نے پڈی سوار کے بال پکڑ کر زور سے” ای ی ی ی“ کردی۔

          نتیجہ یہ ہوا کہ حملہ آور بھی چلا پڑا۔”آئے میں مرگیا بھوتنی والا…. او خدا کی قسم چھوڑ میرے بال…. آئی ی ی ی…. “

          ”اوئے …. اَبلے …. استاد دلارے تم؟ “ چودھری صاحب آواز سن کر چونکے۔

          ” چودھری صاحب …. یہ تم ہو …. جبھی میں بولوں کہ یہ پلپلا بدن جانا پہچانا لگ رہا ہے ۔ “ استاد دلاے ابھی تک اُن کی پڈی پر چڑھے ہوئے تھے۔

          ”اچھا نیچے تو اُترو…. باتیں بعد میں کرلینا۔ “

          ”تھوڑا اپنے بھائی کو موجی نہیں کھلاﺅگے؟ “ استا ددلارے اُترنے کے موڈ میں نہیں لگ رہے تھے۔

          ”میرا دم نکل رہا ہے اوئے ۔ “ چودھری صاحب کراہے۔ تب استاد اُترے۔ اُدھر سخن اور گلابی مار کھاتے کھاتے بد سے بدترین ہوگئے تھے۔ اُن کی دھنائی لگانے والے استاد دلارے کے شاگرد بابو باﺅلا اور چپٹا تھے۔ دونوں نے دل کی گہرائیوں سے انہیں مارا تھا۔ اب سخن اور گلابی فریش فریش لگ رہے تھے۔پھر دونوں پارٹیاںلڑائی بھول کر آپس میں گلے ملیں ۔ غلط فہمی پر شرمندگی کا اظہار کیا گیا اور قسمیں کھائی گئیں کہ وہ لوگ مل کر دشمن کو نیستی اور نابود کردیں گے۔ بابو اور چپٹے نے سخن اور گلابی کے کپڑوں پر جمی کیچڑ ہٹانے میں مدد کرائی، البتہ سخن نے اپنے حلق سے کیچڑ خود ہی نکالی اور کسی کو زحمت نہ دی۔ معلوم ہوا کہ استاد دلارے بھی شک کی وجہ سے اپنی ٹیم بناکر ان لوگوں کی حقیقت جاننے کے لئے نکلے تھے۔سخن اور چودھری بشیرنے بتادیا کہ انہو ں نے کیا کیا باتیں سن لی ہیں۔

          ”اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ لوگ کالونی کے دشمن ہیں ۔ “چودھری بشیر نے جوش میں آکر گھونسا گھمایا، جو چپٹے کی عین ناک پر جا لگا۔اسے کچھ بھی نہیں ہوا کیوں کہ اس کی ناک اتنی چپٹی ہوچکی تھی کہ اب مزید چپٹی نہیں ہوسکتی تھی۔

          ”ہمیں گنجے باس کے خیمے سے نقشہ اور دوسرے کاغذات بھی حاصل کرنا ہوں گے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ کالونی کو تباہ کرنے آئے ہیں۔ “ سخن عقل مندانہ باتیں کررہا تھا۔

          ”اب ہماری طاقت بھی بڑھ گئی ہے۔ “ بابو باﺅلے نے جوشیلے انداز میں کہا۔

          ” تونے کیا دودھ میں شہد ملاکر پی لیا ہے ؟ “ استاد دلارے نے اس کی بے عزتی شروع کردی۔” جتنی اوقات ہے…. اتنی بات کر بھوتنی کے۔ “

          ”چلو اوئے آگے چلو…. بہت ٹیم خراب ہوگیا ہے پہلے ہی …. ہمیں اپنا مشن پورا کرنا ہے۔“ چودھری بشیر کے بچے ہوئے دماغ نے گدھا گاڑی کے پہیے کی طرح گھومنا شروع کردیا تھا ۔

          ”ہم سب تیار ہیں۔ “ سب نے یک زبان ہوکر کہا۔

          اب وہ لوگ ایک نئے عزم کے ساتھ خیموں کی طرف بڑھنے لگے۔ جلد ہی وہ گنجے باس کے خیمے کے پاس پہنچ گئے ۔ سخن نے چودھری صاحب کے تھیلے میں سے چھری نکالی اور آہستہ سے بولا۔” سب لوگ خیمے کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ میں ابھی اپنا کام انجام دے کر آرہا ہوں۔ “

          یہ کہہ کر سخن اندھیرے میں غائب ہوگیا۔ وہ سب لوگ خیمے کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے ،جہاں زپ والا دروازہ تھا۔ خیمے سے کچھ دور شاید آگ جلائی گئی تھی، کیوں کہ وہاں کوئلے ابھی تک دہک رہے تھے۔ راکھ کریدنے کی سلاخ بھی اس میں پڑی تھی۔ہلکا ہلکاسا دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ اچانک خیمے کی زپ کھل گئی۔ وہ لوگ بوکھلا گئے کہ شاید گنجا باس باہر آرہا ہے، لیکن وہ گنجا باس نہیں، بلکہ سخن تھا، جو مسکراتا ہوا فاتحانہ انداز سے آرہا تھا۔

          ” ابے تو اندر کہاں سے چلا گیا بھوتنی کے ؟ “ استاد دلاے نے اس سے پوچھا۔

          ” میں خیمے کے پیچھے گیا اور وہاں سے میں نے چھری سے خیمہ چاک کردیا تھا۔ پھر اندر آکر زپ کھول دی، تاکہ آپ لوگ بھی اندر آجائیں۔ بولو…. کتنا سمجھ دار ہوں میں۔ “

          ” سمجھ دار نہیں …. جمعدار ہے تو…. ابے جب تونے خیمے میں سوراخ کرہی دیا تھا تواس سوراخ سے ہم بھی تیری طرح اندر چلے جاتے…. گدھے۔ “ چپٹے نے کہا۔

          ” ابے ہاں ….یہ تو میری عقل میں ہی نہیں آیا۔ “سخن نے ماتھا پیٹ لیا۔

           یہ باتیں وہ لوگ دبی آوازوں میں کررہے تھے۔ پھر وہ لوگ اندر آگئے۔ دونوں پارٹیوں کے پاس تین ٹارچیں تھیں، جن سے خیمہ روشن ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود بابو باﺅلے نے ایک طرف رکھی ایمرجنسی لائٹ روشن کردی۔ انہوں نے درمیان میں گنجے باس کو دیکھا،جو سجدہ کرنے کے انداز میں سورہا تھا۔

          ”ابے یہ بھوتنی والا کیسے انداز میں سورہا ہے؟ “ استاد د لارے ہنس دیئے۔

          ”اسے دیکھ کر تو میرے جوتے میں کھجلی ہورہی ہے۔ “ چپٹے نے بےٹھ کر اپنا جوتا کھجایا۔

          ” چلو اوئے تلاشی لو ادھر کی…. جو کام کی چیز ملے فوراً انٹی کرلو۔ “ چودھری صاحب نے حکم دیا۔

          اتنی آوازوں کے باوجود گنجا نیند میں دھت پڑا سورہا تھا۔ان کے ساتھی خیمے میں پھیل کر چیزوں کی تلاش کرنے لگے۔

          ”چودھری صاحب …. “ سخن نے آواز لگائی۔” یہ کیسے انٹی کروں ؟ “

          چودھری صاحب نے دیکھا۔ وہ گاﺅ تکیہ اپنی شلوار میں ٹھونسنے کی کوشش کررہا تھا۔

          ”ابے جنگلی کے بچے…. یہ تکیہ ہے احمق…. یہ ہمارے کس کام کا؟“ چودھری صاحب سلگ گئے۔

          ”اس پر سر رکھ کر سوتے ہیں اور ٹیک لگاکر ٹی وی بھی دیکھ سکتے ہیں۔ “ سخن نے گاﺅ تکیے کی اہمیت اور افادیت پر ٹارچ سے روشنی ڈالی۔

          اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا…. اچانک کہیں رکھے موبائل فون کی بیل بجنے لگی۔ والیم بھی فل پر تھا۔ وہ لوگ بوکھلا کر فون ڈھونڈنے لگے۔ اچانک گنجا اُٹھ گیا۔ اس نے جیسے ہی اتنے لوگ خیمے میں دیکھے تو چیخنا چاہا۔ اتنے میں استاد دلاے کے ہاتھوں فون لگ گیا تھا۔ انہوں نے لپک کر گنجے کا منہ دبادیااور فون کا بٹن دباکر جاہلوں کے انداز میں زور سے بولے۔

          ”ابے کون ہے بے …. اتنی رات کو کس کے خارش ہورہی ہے بھوتنی کے ؟ “

          ”واٹ نان سنس؟ “ دوسری طرف سے غصے میں کہا گیا ۔ ”کون ہو تم….؟ “

          ”ابے یہ کوئی تندور والے کو فون کریا ہے تو نے …. یہاں نان نہیں ملتی۔“ استاد تو اپنی نسل کے الگ ہی گھوڑے تھے۔

          ”اسے بلاﺅ…. اسے فون دو۔“ دوسری طرف آواز اشتعال میں لرز رہی تھی۔

          ”کسے بلاﺅں؟ اس عجیب سے گنجے کو…. لے بھئی گنجے…. تیرا پھپھڑ بات کررہا ہے…. بول دے…. میں نہیں ہوں ۔“ استاد نے موبائل گنجے باس کے حوالے کردیا۔

          ”ہاں ہلو…. کون ہے …. اوئے با ¶جی توندل…. آپ …. سلام جی …. وہ کوئی پاگل تھا چلا گیا۔ہاں بس کل کام ہو جائے گا ۔ باقی سب خیریت ہے …. بال بچے؟ ہاں بچے خیریت سے ہی ہیں اور بال تو میری کھوپڑی پر ایک بھی نہیں ہے۔ بس ہر طرف امن و امان ہے۔ “ گنجا باتوں کی رو میں بہہ کر اُن لوگوں کو بھول گیا تھا۔ اچانک اس نے اپنے چہرے سے آدھے ملی لیٹر کے فاصلے پر چھ چہرے دیکھے۔ سب کے سب اس کے انتہائی نزدیک آچکے تھے اور دونوں طرف کی گفتگو سننے کی کوشش کررہے تھے۔ سخن اس پر سرپر گاڑیاں چلانے کے انداز میں ہاتھ پھیر رہا تھا اور منہ سے گاڑی کی آوازیں نکال رہا تھا۔

          ”بھم بھم…. پیں پیں…. ڈبلے استاد ڈبلے …. راستہ صاف ہے۔“

          دوسری طرف سے رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ گنجے نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ تم لوگ وہی ہونا…. کالونی والے؟“

          ”ہاں اور تیرے سارے پلید منصوبے سے واقف ہوچکے ہیں ۔ گدھ جیسی کھوپڑی والے…. گنجے ٹکلے۔“

          ”تم لوگ اب یہاں سے اپنے پیروں پر واپس نہیں جاﺅگے۔“ گنجا دھمکانے لگا۔

          ”تو کیا تو اپنی پڈی پر سب کو گھروں پر چھوڑ کر آئے گا بھوتنی والے؟ “ استاد نے اس کے کان میں چھوٹی انگلی گھماکر ایک آنکھ سے اندر جھانکتے ہوئے پوچھا۔

          ”اوئے یہ کیا ہے ؟“چودھری بشیر نے بستر کے نزدیک پڑی اخبار میں لپٹی کوئی چیز اُٹھالی۔ پھر انہوں نے اخبار کھول کر دیکھا۔ اس میں آدھی روٹی اور آدھا کباب رکھا ہوا تھا۔

          ”ابے آدھی روٹی….آدھا کباب۔ “ چودھری نے بشیر ہنسنے لگے۔

          ”گنجے کو مارنا بڑا ثواب…. “ سخن نے نعرہ بلند کرتے ہوئے گنجے کی کھوپڑی پر کرارا ہاتھ مارا۔ پچاک کی آواز شاید کالونی تک گئی تھی۔ گنجا درد کے مارے چیخ کر مچلنے لگا۔

          ”ابے نچلا بیٹھ بھوتنی کے…. اور چل ہمارے ساتھ …. تو ہماری کالونی برباد کرنے آیا تھا…. ایک ہی چپت کھاکر مچل رہا ہے …. جا…. جاکر دیکھ دوسرے گنجوں کو…. روز اتنی چپتیں کھاتے ہیں، مجال ہے، جو اُف بھی کردیں۔“

          ”ابھی میرے بندے آتے ہی ہوں گے….پھر دیکھنا وہ تم لوگوں کی کیا دھنائی کریں گے۔ “گنجے نے دوبارہ دھمکی دی۔

          واقعی ایسا ہی ہوا تھا۔ ایک دم بھرا مارکر کئی آدمی خیمے میں گھس آئے۔ یہ گنجے کے ساتھی تھے اور پھر وہاں گوریلا وار شروع ہوگئی۔ گھونسے اور لاتوں کا بڑا فراخ دلانہ استعمال کیا جانے لگا۔ ”ہائے …. آئے…. امی …. آپاجی…. میں مرگیا“کی آوازیں وہاں گونج رہی تھیں۔گنجا باس بھی بڑا خطرناک لڑاکا تھا۔ اس نے استاد دلارے کو سنبھال لیا تھا۔ وہ انہیں اوندھا لٹاکر کمرپرکہنیاں ماررہا تھا۔ ہر چوٹ کے ساتھ استاد کے منہ سے” بھوتنی کے“ نکلتا تھا۔ ایک جانب ایک موٹا آدمی بےٹھ گیا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے سخن اور دوسرے ہاتھ سے گلابی کے بال جکڑلئے تھے اور دونوں کے سر آپس میں ٹکرا رہا تھا۔ ایک آدمی نے چودھری بشیر کو زمین پر لٹادیاتھا اوران کے پیٹ پر گدگدی کررہا تھا۔یہ لوگ پسپا ہورہے تھے۔گنجے باس والوں کا پلہ بھاری پڑرہا تھا۔ اچانک کوئی ڈائنا سور کی طرح چلایا۔ سارا علاقہ لرز اٹھا اور پھر خیمہ گرگیا۔ یہ تمام لوگ خیمے میں دب کر اُلجھ گئے ۔ باہر کوئی بلند آواز میں جنگلیوں کی طرح چلارہاتھا۔ نا جانے وہ ان جنگلیوں کا ساتھی تھا یا کالونی سے تازہ کمک پہنچی تھی۔گنجا باس اور چودھری بشیر ایک ساتھ گرے ہوئے خیمے کے نیچے سے رینگ کر باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ جہاں کوئلے دہک رہے تھے۔ وہاں اب خوب آگ بھڑک رہی تھی اوراس کے قریب ایک سیاہ پوش ہاتھ میں دہکتی ہوئی سلاخ پکڑے قدیم جنگ جوﺅں کے انداز میں کھڑا تھا۔

          ”ہاہا…. ہی ہی…. یہ میرا ساتھی ہے…. شاباش میرے دوست…. میں جانتا ہوں ،تم میرے ہی جاں نثار اور وفادار ساتھی ہو …. آگے بڑھو اور دشمن کا صفایا کردو۔“ گنجا باس خوشی سے اُچھلا اور اس کی طرف بڑھا۔

          گنجے باس نے سیاہ پوش کے برابر کھڑے ہوکر اس کے کندھے پر بے تکلفی سے ہاتھ رکھا اور بولا ۔” جاﺅ میرے شیر،آگے بڑھو…. وہ کھڑا تمہارا دشمن۔“ بس اس سے آگے وہ بولنے سے قاصر ہوگیا ،کیوں کہ سیاہ پوش نے گرما گرم سلاخ گنجے کے لگادی تھی۔ گنجا باس یا ہو چیخ کر اُچھلا اورچیل کی طرح گول گول چکرلگاتا ہوا وہ اندھیرے میں غائب ہوگیا۔ ویران اندھیرے سے اس کی چیخوں کی آوازیں آتی رہیں ۔پھر معدوم ہوتے ہوتے ختم ہوگئیں۔

          ”اس کا مطلب ہے کہ تم ہمارے ساتھی ہو ۔“ چودھری بشیر نے قہقہہ لگایا۔” کون ہو جلدی سے چہرہ دکھاﺅ…. میرا خیال ہے کہ شرفو صاحب…. آپ ہیں۔“ قریب آکر چودھری نے سیاہ پوش کی چادر ہٹانی چاہی، لیکن سیاہ پوش نے دہکتی ہوئی سلاخ ان کے بھی لگادی۔ چودھری صاحب مقام متاثرہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر کالونی کی طرف بھاگ نکلے۔ اب جو بھی خیمے کے نیچے سے نکلتا، اس کے گرم گرم سلاخ لگادی جاتی تھی اور وہ بجلی کی تیزی کے ساتھ جہاں منہ ہوتا، بھاگ نکلتا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کون ہے اور کس کا ساتھی ہے ۔ اس نے تو کسی کو بھی نہیں بخشا تھا اور سب کے جسموں کے ایک ہی مخصوس حصے پر اپنی کمپنی کا ٹریڈ مارک سلاخ سے داغ دیا تھا۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں رہا تھا ‘ ورنہ وہ آواز سے پہچانا جاسکتا تھا۔

          آخر کارسیاہ پوش نے زور سے کہا۔” اتنا سا مسئلہ اور اتنا بڑا بنا دیا تھا فالتو فنڈ میں…. ایک ذراسی سلاخ نے حل کردیا۔“

                                                          ٭٭٭

          اگلے روز شرفو کونسلر صاحب کے دفتر میں کالونی کے معززین اور خوارین جمع تھے۔ گزشتہ شب دشمنوں سے لڑنے اور سیاہ پوش کی سلاخ سے متاثر ہونے والے چھے کے چھے افراد کھڑے ہوئے تھے،کیوں کہ وہ بیٹھنے سے قاصر تھے۔ اُن کے جھلسنے والی جگہوں پر ہلدی چونے کا لیپ کیا گیا تھا ۔

           چودھری بشیر باقی لوگوں کو قصہ سنارہے تھے۔” اس نے تو ہمیں بھی نہیں بخشا۔“

          ”آخر وہ کون تھا ؟“شرفو صاحب نے بے چینی اور تجسس سے پہلو بدلا۔

          ” پتاہے کون تھا بھوتنی والا۔“ استاد دلارے نے منہ بنایا ۔” ہم تو اسے اپنے ساتھی سمجھے تھے، مگر اس نے تو سب کے سلاخ لگانے کی قسم کھارکھی تھی۔“

          ”اور وہ لوگ کہاں گئے ؟ انگریز انکل نے پوچھا۔

          ”صبح میں نے وہاں جاکر دیکھا تھا…. وہ اپنا بوریا بستر گول کرکے گئے ہیں ۔ گاڑیاں خیمے اور مشینیں سب غائب ہیں ۔“جمال گھوٹے نے بتایا۔

          ”مگر کون تھا، جس نے ہمیں بیٹھنے سے معذور کردیا ہے ؟“

          ”آج تو ویسے ہی مجھے سنیما جانا تھا۔ اب کھڑے ہوکر فلم دیکھتا بھلا میں کیا اچھا لگوں گا۔“ سخن نے رونی صورت بناکر کہا۔”اُس سیاہ پوش کو ہیضہ ہوجائے ….اُس جنگلی کے بچے کی وجہ سے یہ حالت ہوگئی ہے۔‘ ‘

          چاچا چراندی ،جو خلاف معمول خاموش کھڑے تھے۔ ایک دم بھڑک اُٹھے ۔”مجھے جنگلی کا بچہ کہنے والے…. میں تیرا خون پی جاﺅں گا فالتو فنڈ میں۔“

          ”ہائیں….“ استاد دلارے اُچھلے۔ باقی لوگ بھی حیران و پریشان ہوگئے۔” تو چاچا وہ بھوتنی والا سیاہ پوش تم تھے؟“

          ”ہاں …. میں ہی تھا…. اور بھوتنی والا تو…. ٹھہر…. ابھی میں…. ابھی وہی سلاخ گرم کرکے لاتا ہوں …. ابھی تم لوگوں کو ایک ایک خوراک اور دینا پڑے گی۔“ یہ کہہ کر چاچا تیزی سے باہر نکل گئے۔

          ”بھاگو….“ سخن نے نعرہ لگایا۔

          اور وہاں بھگدڑ مچ گئی۔

                                                                                                                             ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے