سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔نوید ظفر کیانی

 

 

 

 

لطف سمجھو زندگی کا ہم نے تو پایا نہ تھا

جب تلک تھپڑ تمھارے باپ سے کھایا نہ تھا

شادی اس نے کرلی ہے تائے کے بیٹے سے مگر

وہ تو کہتی تھی کہ اس کا کوئی بھی تایا نہ تھا

یوں ہی سب الو بناتے ہی رہے مجھ کو سدا

میں نے دیکھا سو دفعہ پھل صبر کا میٹھا نہ تھا

اس نے جب گھونگھٹ اٹھایا دل حلق میں آگیا

دیکھ کر ابا کو بھی دل اِس طرح دھڑکا نہ تھا

میں نے سمجھا تھا کہ اس نے پھینک مارا پھول ہے

ہائے رے قسمت مری وہ پھول بھی تنہا نہ تھا

رورہی تھی رات بھر جس سے لپٹ کر ہیر جی

درحقیقت وہ تو کیدو تھا کوئی رانجھا نہ تھا

اسد قریشی

 

 

 

عجیب شخص ہے بولا ہے بکریوں کی طرح

وہ کھاتا رہتا ہے خوراک مرغیوں کی طرح

بزرگ نکلی ہے بےوی مری بڑا دکھ ہے

جو وعظ کرتی ہے ہر لمحہ بوڑھیوں کی طرح

عجب ضعیفہ خضابوں سے نوجوان بنی

لگام لال رکھے بوڑھی گھوڑیوں کی طرح

یہ خاکروبہ بھی مجھ سے فرینک رہتی ہے

وہ جیب کاٹتی ہے میری سالیوں کی طرح

ہے نوکرانی ہماری عجیب شے ٹھہری

دکھاتی ناز ہے ہر دم سہیلوں کی طرح

ہمارے گھر کی ہے پہچان ہے محلے میں

یہاں سے بچے نکلتے ہیں ٹولیوں کی طرح

بہو بیاہ کے لائی تمہاری ماں ہے جو کل

چھلانگیں مارتی ہے وہ تو بندریوں کی طرح

ہوا وہ ماہرِ دشنام اس طرح سے ریاض

ہرایک بات نکلتی ہے گالیوں کی طرح

ریاض احمد قادری

 

 

رخصت اے بزمِ جہاں دفتر کو اب جاتا ہوں میں

دم نکلتا ہے مرا کیوں ؟ خوف کیوں کھاتا ہوں میں ؟

آرہا ہے اب دسمبر کا مہینہ اِس لیے

باس کے بچوں کی ٹیچنگ کے لیے جاتا ہوں میں

میں نے اپنے نام کو رکھا ہے اتنا فلیکسِبل

باس گر ہو شیخ تو پھر شیخ کہلاتا ہوں میں

نام پیدا کر رہا ہوں میں خوشامد کے سبب

اب تو بس مرضی کی اے سی آر لکھواتا ہوں میں

جیب میں دو سو روپے بچتے ہیں دس تاریخ کو

بیوی گر بازار کا کہ دے تو گھبراتا ہوں میں

میں نہیں ڈرتا ہوں بیگم اور ا_±س کے میکے سے

اپنے چھ سالوں کو خاطر میں نہیں لاتا ہوں میں

پڑھتی رہتی ہے رسالے میری بیگم ہر گھڑی

گھر کے سارے کام کرتا کرتا تھک جاتا ہوں میں

محمد عاطف مرزا

 

 

کہہ دو یہ حاکموں سے کہ سائل نہیں ہوں میں

اُن کے کسی بھی فعل میں شامل نہیں ہوں میں

جو پوچھنا ہے‘ مجھ سے دھڑلے سے پوچھئے

ڈگری خرید رکھی ہے، جاہل نہیں ہوں میں

کی اس نے خود کشی، یہ زمانے کو ہے خبر

جاناں تمہارے باپ کا قاتل نہیں ہوں

دکھلا رہا ہے موتیا آنکھوں میں اب بہار

اب تو تمہاری دید کے قابل نہیں ہوں میں

نازاں تو ہونا چاہیے کچھ میرے ساتھ پر

لیکن تمھارے پاؤں کی پائل نہیں ہوں میں

رستہ ہوں یا کہ سیڑھی کا اک پائیدان ہوں

یہ جانتا ہوں‘ آپ کی منزل نہیں ہوں میں

ہر دم رکھا ہے پیشِ نظر آپ کا مفاد

اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ”لائل“ نہیں ہوں میں

تقسیم کا عمل ہوں‘ میں تفریق کا جواب

تم ایسا ضرب و جمع کا حاصل نہیں ہوں میں

قربان شاہِ وقت کرے مجھ پہ تاج و تخت

لیکن عذارِ حسن کا اک تِل نہیں ہوں میں

کیوں مجھ کو دیکھتے ہی پریشاں ہو تم فصیح

بجلی کا‘ آب و گیس کا تو بِل نہیں ہوں میں

شاہین فصیح ربانی

 

 

 

کیا ہے اُس نے یوں ایمان پختہ

کہ سالم کھا گیا وہ ران پختہ

جو اُس کے ہجر میں پیلے پڑے ہم

جگر میں ہو گیا یرقان پختہ

ہماری انتہائے آرزو ہے

ملے دو چمچہ چینی، نان پختہ

کمر ٹوٹے گی اب تو عاشقوں کی

کہ اُس کے گھر کی ہے ڈھلوان پختہ

کہاں سے آئے وہ سوندھی سی خوشبو

ہوئے ہیں اُن کے سب دالان پختہ

ہوا ہے منہ مرا ” تھپڑ رسیدہ“

کیا ظالم نے یوں چالان پختہ

کھلا دے اب مجھے دم پخت دنبہ

کوئی تو ڈش ہو دلبر جان پختہ

پڑھائیں گے نہ اب بچوں کو اپنے

ارادہ ہے یہ ابا جان پختہ

ہمیں پختون سمجھے خان بھائی

غزل میں جب پڑھی گردان پختہ

کھلیں الفت کے کیسے پھول مظہر

کہ ہیں سب اُس کے دل کے لان پختہ

ڈاکٹر مظہر عباس رضوی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آم ۔۔۔سعادت حسن منٹو

آم سعادت حسن منٹو خزانے کے تمام کلرک جانتے تھے کہ منشی کریم بخش کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے