سر ورق / ناول / درندہ۔ خورشید پیرزادہ۔قسط نمبر9

درندہ۔ خورشید پیرزادہ۔قسط نمبر9

قسط نمبر 9

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

رات کے آخری دروازے پر صبح دستک دینے لگی تھی- راجو ایک پل کے لئے بھی سو نہیں پایا تھا- اس نے اٹھ کر غسل کیا اور وردی پہن کر مراد کے گھر کی طرف چل دیا-

جب دل کسی وجہ سے بہت بے چین ہو تو ایسے میں انسان اپنے دوست کی ہمراہی چاہتا ہے جس کے ساتھ وہ اپنا غم بانٹ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے-

”راجو تم- اتنی صبح- آج کیسے یاد آگئی میری-“ مراد نے پوچھا-

”پہلے یہ بتاﺅ کہ کل تم نے جنگل میں کیا تماشہ لگا رکھا تھا- شکرکرو کہ میں ڈی ایس پی صاحبہ کے ساتھ تھا- ورنہ تم جیل میں پڑے ہوتے- کون تھی وہ لڑکی اور اسے جنگل میں ہی کیوں لے گئے تھے تم-“

”مت پوچھ یار- آ بیٹھ— یہ وردی تم پر بہت جچ رہی ہے-“ مراد نے ہنس کر کہا-

راجو بستر کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا- ”ہا ں اب بتاﺅ استاد- وہ کیا معاملہ تھا؟-“

”کل میں سحرش کے کالج گیا تھا کیونکہ اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کے لئے کچھ تو کرنا ہی تھا نا میں نے- اس کے ساتھ دو لڑکیاں اور تھیں- ان میں سے ایک کرن تھی- اسی نے میرا سارا سلسلہ بگاڑ دیا تھا-“ مراد نے پوری بات تفصیل کے ساتھ راجو کو بتاتے ہوئے کہا- ”بس میںاس کرن کو مزا چکھانے کے لئے جنگل میں لے گیا تھا- پھر تم لوگ آگئے اور میری عزت کا جنازہ نکل گیا- میں توکہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہا-“

”شکر کروا کہ کرن نے میڈم کے سامنے کہہ دیا کہ تم اس کا ریپ نہیں کر رہے تھے- ورنہ تم ہماری میڈم کو جانتے نہیں ہو- کسی کو بخشتی نہیں ہیں-“ راجو نے کہا-

”یہ تو ہے- بال بال بچا ہوں میں- تمہارا شکریہ دوست- اچھا یہ بتاﺅ اور کیا چل رہا ہے- کل سے میں بھی جاب پر جا رہا ہوں-“

”ارے واہ- کون سی جاب ہے؟-“ راجو نے فوراً خوش ہوکر پوچھا-

”ایک پرائیویٹ ڈی ٹیکٹو ایجنسی جوائن کر لی ہے میں نے- کل سے میں بھی مصروف ہوجاﺅں گا-“ مراد نے بتایا-

”پرائیویٹ ڈی ٹیکٹو ایجنسی؟—- مگر ہمارے ملک میں تو ایسی ایجنسیوں کا رواج نہیں ہے-“

”ہاں- یہ باہر کا کوئی گروپ ہے- انہوں نے ہی یہ ایجنسی کھولی ہے-“

”پھر تو بہت اچھی بات ہے استاد- میں پولیس ڈی ٹیکٹیو- تم پرائیویٹ ڈی ٹیکٹو- واہ-“

”اور کوئی نئی تازی-“ مراد نے پوچھا-

”پوچھو مت استاد- ایک عجیب سی مصیبت میں پڑ گیا ہوں- کل ساری رات سو نہیں پایا ہوں-“

”ایسی کیا بات ہوگئی- طبیعت تو ٹھیک تھی نا تمہاری؟-“ مراد فکرمند ہوکر بولا-

”لگتا ہے پھر سے محبت ہوگئی ہے مجھے-“ راجو نے ایسے کہا جیسے اپنے کسی گناہ کا اقرار کر رہا ہو-

”واہ میرے پٹھے- کون ہے وہ بدنصیب؟-“

”مذاق مت کرو استاد- یہ مذاق کی بات نہیں ہوں- کیا میں تم کو سنجیدہ نظر نہیں آرہا-“ راجو اپنے چہرے پر دنیا جہان کی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بولا-

”ہسپتال میں جب میں نے اپنی محبت کی بات کی تھی تو تم بھی ایسی ہی باتیں کر رہے تھے نا- کچھ یاد آیا- چلو چھوڑو- اب بتاﺅ کون ہے وہ حسینہ جو تم جیسے فلرٹ کا دل لے اڑی-“

”وردا جی— مگر کسی کو بتانا مت-“ راجو نے ہلکے سے کہا-

”کیا— تمہیں وردا سے محبت ہوگئی ہے— کیوں اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہو میرے دوست-“ مراد نے سنجیدگی سے کہا-

”میں پہلے ہی پریشان ہوں- تم اور پریشان مت کرو-“

”تو ابھی تک تم نے اس سے کچھ کہا؟-“مراد نے تجسس سے پوچھا-

”پاگل ہوگئے ہو کیا— وہ میری زبان کھینچ لے گی— ابھی کچھ نہیں کہوں گا— بس اپنی اس محبت کو اپنے دل تک ہی محدود رکھوں گا-“

”پھر تو پریشانی کی کوئی بات ہی نہیں ہے- اس میں پریشان ہونے کی کیابات ہے؟-“ مراد نے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”ارے بھائی کل رات اسی چکر میں نیند نہیں آئی- تم ہی بتاﺅ میں کیا کروں؟-“

”اگر ایسی بات ہے تو پھر جاکر وردا کے سامنے اپنے دل کا حال کھول کے رکھ دو- پریشانی کیا ہے؟-“

”نہیں استاد- میں انہیں کچھ نہیں بتا پاﺅں گا- بس تمہیں بتا رہا ہوں—- میرا پھر سے محبت کے چکر میں پڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے-“ راجو بولا-

”چکر میں تو تم پڑ ہی چکے ہو- تمہارا دل وردا لے گئی اور میرا دل سحرش- ہم دونوں ہی اس چکر میں بری طرح سے پھنس چکے ہیں یار-“ مراد نے اپنی اور راجو کی مصیبت کا کھل کا اظہار کیا-

”استاد تمہارا تو پھر بھی تھوڑا بہت چانس ہے- لیکن میرا دل تو کم بخت ایسی جا اٹکا ہے جہاں کوئی چانس ہی نہیں ہے- اچھا استاد اب میں چلتا ہوں- ڈیوٹی پر لیٹ ہو رہا ہوں—“ راجو اٹھتے ہوئے بولا- ”ارے ہاں – ایک بات اور کہنی تھی-“

”وہ کون سی؟-“

”مجھے لگتا ہے کہ اس جنگل میں ہی کچھ گڑبڑ ہے- وہ درندہ اپنی زیادہ تر وارداتیںاس جنگل یا اس کے آس پاس ہی کرتارہا ہے- تم اس کی وجہ سمجھ سکتے ہو؟-“

”بات تو تمہاری صحیح ہے- — ہوسکتا ہے وہ جنگل اپنے اندر کوئی راز لئے ہوئے ہو-“ مراد نے کہا-

اسی وقت مراد کے دروازے پر دستک ہونے لگی- مراد نے دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا- ”تم– یہاں کیسے؟-“

”سحرش سے تمہارا پتہ لیا اور پہنچ گئی-“ کرن کمرے میں آتے ہوئے بولی-اندر آکر اس نے راجو کو بھی پہچان لیا- ”اوہ- آپ بھی یہاں ہیں—- کل اگر آپ وقت پر نہ آتے تو یہ مجھے مار ہی چکا ہوتا-“

راجو فوراً بولا- ”اچھا استاد میں چلتا ہوں-“

”راجو رکو یار- مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاﺅ-“

”ہاں رک جائیں نا- میرے آتے ہی بھاگ کیوں رہے ہیں-“ کرن بولی-

”محترمہ ابھی میرا دل ذرا دکھی ہے- ورنہ آپ کا وہ حال کرتا کہ آپ ہمیں کبھی رکنے کا نہ کہتیں- استاد سنبھالو اسے جنجال کو- میں لیٹ ہو رہا ہوں-“ یہ کہتے ہوئے راجو کمرے سے نکل گیا-

”تمہارا دوست تو بڑا عجیب ہے- بات کرنے کی تمیز ہی نہیں اسے-“ کرن بولی-

”اب تم یہاں کیوں آئی ہو- کیا کل کوئی کسر رہ گئی تھی- اور آج تم نے میرا ایڈریس بھی لیا تو کس سے— سحرش سے—- تم آخر میرا کام بگاڑنے پر کیوں تلی ہوئی ہو- تمہیں لڑکوں کی کیا کمی ہے جو میرے پیچھے پڑ گئی ہو-“ مراد چڑکر بولا-

”لڑکے تو بہت ہیں- مگر آپ جیسا شاعر نہیں ملا آج تک-“

”میں کوئی شاعر نہیں ہوں میری ماں— بتایا تو تھا کہ یونہی چند لائنیں بول دی تھیں میں نے-“

دروازہ کھلا ہی تھا اور نغمہ بے دھڑک اندر آگئی-

”ارے نغمہ تم— آﺅ آﺅ- بہت اچھے وقت پر آئی ہو-“ مراد نے نغمہ کو آتا دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا-

”یہ کون ہے؟-“ کرن نے پوچھا- کرن کبھی سحرش کے گھر والوں سے نہیں ملی تھی اس لئے وہ نغمہ کو نہیں پہچانتی تھی-

”یہ میری گرل فرینڈ ہے- نغمہ-“

”گڈ— پھر تو بہت اچھا موقع ہے- چلو مل کر پارٹی کرتے ہیں-“ کرن نے بھی خوش ہوکر کہا-

”کیا بات کر رہی ہو- میری گرل فرینڈ کے سامنے ایسی باتیں مت کرو-“ مراد نے کہا اور نغمہ کے پاس آکر اس کے کان میں کہا- ”اس سے چھٹکارا دلوا دو- پچھل پیری کی طرح پیچھے ہی پڑ گئی ہے-“

نغمہ ‘ کرن کے قریب آئی اور بولی- ”چلی جاﺅ یہاں سے- میرے بوائے فرینڈ کو تنگ مت کرو-“

”تم بھی یہاں موج مستی کرنے آئی ہو نا— تو ساتھ میں موجیں کرتے ہیں- اس میں برائی کیا ہے- ہم آپس میں بھی کچھ-“ یہ کہتے ہوئے کرن نغمہ کی بڑھی-

”ایک ساتھ مستی— یہ کیا بکواس ہے- دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے-“ نغمہ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا-

نغمہ دیوار سے ٹکرا کر رک گئی اور کرن اس کے بہت قریب آگئی- نغمہ کی تو حالت پتلی ہو رہی تھی- اسے بھلا ایسی صورتحال سے کب واسطہ پڑا تھا- اس سے پہلے کہ کرن ایک کے علاوہ کوئی حرکت کرتی- نغمہ نے اسے زور کا دھکا دیااور کرن فرش پر گر گئی-

”اف- مراد یہ کیا بلا ہے- — تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی- ‘ ‘ نغمہ نے کرن کو گھورتے ہوئے غصے سے کہااور کرن پر ٹوٹ پڑی- اس نے کرن کے بال پکڑے اور اس کا سر فرش سے ٹکرانے لگی-

”بچاﺅ— پلیز- آہ ہ ہ ہ-“ کرن ‘ مراد کی طرف دیکھتے ہوئے گڑگڑائی-

”بھگتو اب- میری گرل فرینڈ کو ایسی بیہودہ باتیں بالکل پسند نہیں ہیں-“ مراد لاپرواہی سے بولا-

”چھوڑو مجھے—- آہ — چھوڑو-“ کرن کراہتے ہوئے بولی-

”زندہ نہیں چھوڑوں گی تجھے-“ نغمہ اسے جھٹکا دیتے ہوئے بولی-

نغمہ تو کسی حال میں کرن کو چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی- اور اس سے پہلے کہ معاملہ زیادہ خراب ہوتا مراد نے آگے بڑھ کر نغمہ کو کرن کے اوپر سے کھینچ لیا-

”بس اب چھوڑ دو- سارے بال نوچ کر گنجی کر دو گی کیا بیچاری کو-“

موقع غنیمت جان کر کرن اٹھی اور تیزی سے باہر بھاگ گئی- اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا- اب کرن نام کی بلا شاید مراد کے سر سے ہمیشہ کے لئے ٹل گئی تھی-

”تھینک یو نغمہ- وہ بلا تو میرے پیچھے ہی پڑ گئی تھی-“

”تم نہ ہٹاتے مجھے تو جان سے مار دیتی اس کتیا کو– – سارا موڈ خراب کر دیا میرا-“ نغمہ ہانپتے ہوئے بولی-

مراد نے دروازہ بند کی اور نغمہ کو چارپائی پر بٹھاتے ہوئے بولا- ”بس اب غصہ تھوک دو—پانی دوںکیا-“

”نہیں- میں ٹھیک ہوں- ویسے کون تھی وہ چھنال-“

”چھوڑو اسے- یہ بتاﺅ آج میری یاد کیسے آگئی تمہیں-“ مراد نے پوچھا-

”ابا پھر شہر سے باہر گئے ہیں- — تم سے وعدہ کر رکھا تھا- اس لئے چلی آئی- مگر اس نے سارے موڈ ہی کا ستیاناس کر دیا-“

”آج کل میرا موڈ بھی بہت خراب رہنے لگا ہے- کیونکہ آج کل میرا دل ایک لڑکی میں اٹک گیا ہے-“ مراد بولا-

”راجو کا دل بھی کہیں اٹک گیا ہے- اب تمہارا بھی اٹکا ہے— یہ ہو کیا رہا ہے— راجو تو وردا کے جال میں پھنسا ہے- تمہارا دل کون لے اڑی ہے-“ نغمہ اسے گھورتی ہوئی بولی-

اب مراد کیسے بتاتا کہ وہ لڑکی اسی کی چھوٹی بہن سحرش ہے- مصیبت ہوجاتی- ”چھوڑو نا اس بات کو-“

”لو تم نے کہا اور میں نے چھوڑ دیا-“ نغمہ مسکرا کر بولی-

”ایک بات کہوں-“

”ہاں کہو-“

”کاش تم پر ہی میرا دل آجاتا- تم اچھی لڑکی ہو-“ مراد نے کہا-

”اگر ایسا ہوتا تو تمہارے لئے میں سب کو چھوڑ دیتی- مگر میرے جیسی لڑکی کے نصیب میں پیار و محبت کہاں-میری قسمت میں تو جیسے گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا ہی لکھا ہے-“ نغمہ افسردہ ہوکر بولی-

”شادی کب کر رہی ہو تم؟-“ مراد نے پوچھا-

”شادی اور میں-یہ سوال نہ ہی پوچھو تو اچھا ہے-“

”کیوں کیا ہوا- شادی کی عمر تو ہے تمہاری- شادی کرنا نہیں چاہتی یا یونہی آزاد رہ کر موجیں کرنا چاہتی ہو-“ مراد نے ہنس کر کہا-

”یہ بات تم نہیں سمجھو گے- اس لئے رہنے دو-“

”کیا بات ہے- بتاﺅ تو-“ مراد نے زور دیتے ہوئے کہا-

”ارے میرے جہیز کے لئے ابا کے پاس پیسہ ہی کہاں ہے جو میں شادی کے بارے میں سوچوں— ویسے میرا دل بھی نہیں کرتا شادی وادی کو- میں تو یہ چاہتی ہوں کہ میری چھوٹی بہن سحرش کی کسی اچھی جگہ شادی ہوجائے بس— اسی کے لئے دعا کرتی رہتی ہوں- ابا ہم دونوں کی شادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا مراد- ایک ہی شادی ہو سکتی ہے- اور میں چاہتی ہوں کہ سحرش کا گھر بس جائے- میر اکیا ہے— ویسے بھی اب میں کسی کی بیوی بننے لائق تو رہی ہی نہیں ہوں- پھر کیوں کسی کو دھوکہ دوں-“ نغمہ کے لہجے میں دکھ ہی دکھ تھا-اور اس کی آنکھیں بھر آئیں-

یہ باتیں سن کر مراد تو بس نغمہ کو دیکھتا ہی رہ گیا- پھر وہ اس کے بال سہلاتا ہوا بولا- ”مجھے پتہ نہیں تھا کہ نغمہ ایسی باتیں بھی کر سکتی ہے-“

”میں کیا انسان نہیں ہوں-“ نغمہ نے سوال کیا-

”میرا یہ مطلب نہیں تھا پگلی— مجھے تو تمہاری باتیں سن کر فخر ہو رہا ہے کہ میں تمہارادوست ہوں-“

وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے- کچھ بولے نہیں- شاید اب ان کے بیچ بولنے کے لئے کچھ رہ بھی نہیں گیا تھا-یا شاید انہیں یوں خاموش بیٹھنا اچھا لگ رہا تھا-

”نغمہ-“ مراد ہی کمرے میں چھائی خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا- ”میں تو تمہیں بہت ہی بری لڑکی سمجھتا تھا- لیکن آج تمہاری باتوں نے میرا نظریہ بدل دیا ہے-“

”بری تو میں ہوں— تم ٹھیک ہی سمجھتے تھے- تم میرے بارے میں سب کچھ جانتے تو ہو-“ نغمہ نے کہا-

ِِ”ہاں جانتا ہوں- مگر تمہارا یہ جذباتی روپ آج پہلی بار دیکھ رہا ہوں- تم اتنی بری نہیں ہو جتنا میں سمجھتا تھا- تم اچھی لڑکی ہو-“ مراد کے لہجے میں نغمہ کے لئے ستائش تھی-

” اگر میں اچھی ہوں تو کیا تم مجھ سے محبت کر سکتے ہو-“ نغمہ نے مراد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا-

”میرا دل پہلے ہی سے کسی اور کا ہو چکا ہے- ورنہ تم اس لائق ہو کہ تم سے محبت کی جائے-“

”اس کا نام تو بتاﺅ— کون ہے وہ— کہاں رہتی ہے— کیا کرتی ہے- — کچھ تو بتاﺅ-“

”ابھی کچھ نہیں بتا سکتا— سوری— اچھا یہ تو بتا ﺅ کہ یہ تمہارا ابا بار بار شہر سے باہر کہاں چلا جاتا ہے— کام پر دھیان دے گا تو اچھا کما لے گا-“

”چھوٹی سی پان کی دوکان ہے ابا کی— کیا کمائے گا— گاﺅں میں تھوڑی سی زمین ہے- اسی کی دیکھ بھال کے لئے جاتے رہتے ہیں وہ-“

”چل فکر مت کر- سب اچھا ہوجائے گا-“ مراد نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

راجو نے تھانے پہنچ کر چوہان سے وردا کے لئے دو سپاہی مزیدمانگ لئے- جو وردا کی گھر سے آفس اور آفس سے گھر تک کی حفاظت کے لئے ہوں-

”جن سپاہیوں کی ڈیوٹی وردا کی آفس کے باہر لگائی ہے وہ بھی اس کے ساتھ آجا سکتے ہیں- پرابلم کیا ہے-“ چوہان نے کہا-

”بالکل ٹھیک ہے سر– – میںذرا میڈم سے مل آﺅں-“

”بالکل مل آﺅ— ہم تو دور ہی رہتے ہیں ایسی قیامت سے-“ چوہان ہنستا ہوا بولا-

راجو نے شہلا کے کمرے میں داخل ہوکر سلیوٹ مارا-

”سروس ریوالور مل گئی تمہیں-“ شہلا نے اسے دیکھتے ہی پوچھا-

”مل گئی میڈم- تھینک یو— میڈم آپ سے ایک بات کرنی تھی-“

”کچھ مصروف ہوں— اگر بہت ضروری ہے تو بولو-“ شہلا نے کہا-

”میڈم اس درندے کے بار ے میں بات کرنی ہے-“

”ہوں— ٹھیک ہے بیٹھ کر بتاﺅ کیا بات ہے-“

”میڈم میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اس سیریل کلر نے زیادہ تر وارداتیں جنگل یا اس کے آس پاس ہی کی ہیں-“

”آج کی واردات کا پتہ چلا تمہیں؟-“ میڈم نے ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا-

”نہیں میڈم- کیاہوا-“

”کل وردا شمسی کے آفس کے عین باہر قتل ہوا ہے- کہاں رہتے ہو تم- ایسے کرو گے نوکری؟-“ شہلا نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا-

”کیا—- مجھے کسی نے انفارم ہی نہیں کیا-“ راجو فوراً بولا-

”آس پاس کیا ہو رہا ہے اس کی خبر رکھنا تمہاری ڈیوٹی ہے- یہ کسی اور کی ڈیوٹی نہیں کہ تمہیں انفارم کرتا پھرے- ایسے بے خبر رہو گے تو پولیس کے محکمے میں زیادہ عرصہ نہیں چل پاﺅ گے-“

شہلا کی بات سن کر راجو کا چہرہ اتر گیا-

”مجھے لگتا ہے وہ درندہ وردا کے لئے ہی آیا تھا وہاں- لیکن کسی وجہ سے وہ وردا کو نقصان نہیںپہنچا سکا-“ راجو پرخیال لہجے میں بولا-”اس کا مطلب ہے وردا جی کو پہلے سے زیادہ پروٹیکشن کی ضرورت ہے-“

”بالکل- آج سے تم چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ رہو گے- وردا کی حفاظت کرنا اب تمہاری ذمہ داری ہے- میں نے وردا کو بھی بتا دی ہے یہ بات- — وہ کہہ رہی تھی کہ اس کے ساتھ تمہاری جگہ کسی او رکو رکھا جائے- وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی؟-“ شہلا کی نظریں راجو پر گڑی ہوئی تھیں-”لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے مجھے کسی اور پر بھروسہ نہیں ہے-“

”ایسا کیوں میڈم؟-“

”اس درندے کی جانب سے مجھ پر جو گولی چلائی گئی تھی- وہ پولیس ڈپارٹمنٹ کی ہے- وہ گولی جیپ میں گھس گئی تھی-میں نے اس کی جانچ کروائی ہے-“

”یہ تو بہت گھمبیر بات ہے میڈم- آپ نے اتنی بڑی بات مجھے بتا دی- کیا آپ کو مجھ پر اعتماد ہے -“ راجو نے کہا-

”ہاں- لیکن اگر ایسے بے خبر رہو گے تو جلد ہی میرا اعتماد کھو دو گے- تمہیں بہت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے-“

”سمجھ گیامیڈم-“

”جاﺅ اب- آج سے تمہاری ڈیوٹی بس وردا کی حفاظت ہے- اگر درندے کو پکڑنا ہے تو وردا کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے-“ شہلا نے ہدایت دیتے ہوئے کہا-

”میری زندگی بھی تو اس کی زندگی سے جڑی ہے-“ راجو بڑبڑایا-

”کچھ کہا تم نے؟-“

”نہیں میڈم- اب مجھے اجازت؟-“

”ہاں جاﺅ- اور ہاں وہ سب سپاہی جو وردا کی حفاظت پر مامور کئے گئے ہیں وہ اب تمہارے ماتحت کام کریں گے- اپنی ڈیوٹی اچھے طریقے سے انجام دینا-“

”مجھے معطل نہیں ہونا ہے میڈم- “ راجو نے کہا-

”اوکے – اب جاکر اپنی ڈیوٹی کرو-“

”تھینک یو میڈم-“ راجو شہلا کو سلیوٹ کرکے باہر نکل آیا-

”وردا جی کے ساتھ چوبیس گھنٹے- اس سے اچھی ڈیوٹی اور کیا ہو سکتی ہے میرے لئے- مگر وہ اس بات کو لے کر کیا سوچ رہی ہوگی-“ راجو تھانے سے باہر نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا-

راجو جیپ میں بیٹھ کر وردا کے آفس کی طرف روانہ ہوا- ”اس وقت تو وہ آفس میں ہی ہوگی- پتہ نہیں مجھے دیکھ کر ان کا کیا ردعمل ہوگا- مگر یہ پولیس کی گولی والا معاملہ تو اور بھی زیادہ الجھا ہوا ہے- آخر میڈم کا مطلب کیا تھا اس بات سے— کیا وہ درندہ کوئی پولیس والا ہے؟—یا پھر وہ بلیک مارکیٹ سے پولیس کی گولیاں خرید کر استعمال کر رہا ہے- صرف پولیس کی گولی ہونے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ وہ پولیس والا ہے-

جو بھی ہو- یہ معاملہ ہے بہت پیچیدہ- مجھے الرٹ رہنا ہی ہوگا- میرے ہوتے ہوئے کوئی بھی وردا جی کو خراش تک نہیں پہنچا سکتا-“

”کل خون کس جگہ ہوا تھا-“ وردا کے آفس پہنچ کر اس نے ڈیوٹی پر موجود سپاہی سے پوچھا-

”سر جہاں آپ کھڑے ہیں- بالکل اسی جگہ لاش ملی تھی-“

”کیا کہا-“ راجو فوراً اس جگہ سے ہٹ گیا-

”تم لوگوں نے دیکھا تھا کچھ؟-“

”سر ان میڈم کے چلے جانے کے بعد ہم بھی چلے گئے تھے- ہم نے کچھ نہیں دیکھا-“ سپاہی بولا-

”اب میری ڈیوٹی بھی میڈم کی حفاظت پر لگا دی گئی ہے- مجھے بتائے بنا ادھر ادھر مت جانا- میرا موبائل نمبر لے لو- کوئی بھی بات ہو تو فوراً مجھے کال کر دینا-“

”اوکے سر-“ دونوں سپاہیوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا-

راجو نے آفس کے باہر اچھی طرح معائنہ کیا- پھر پہلے تو وردا کی وجہ سے اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی آفس کے اندر جانے کی مگر پھر ہمت کر کے اندر چلا ہی گیا-

”کوئی اور راستہ ہے آفس میںآنے کا-“ اس نے چوکیدار سے پوچھا-

”نہیں صاحب- بس یہی ایک راستہ ہے- جہاں سے آپ اندر آئے ہیں-“ چوکیدار نے جواب دیا-

”پیچھے کی طرف تو کوئی دروازہ نہیں ہے نا؟-“

”نہیں صاحب- پیچھے کی طرف کوئی دروازہ نہیں ہے-“

راجو چوکیدار سے باتیں کرتا ہوا اندر آرہا ہے اور سامنے سے وردا فائل ہاتھ میں لئے اپنے باس کے کمرے کی طرف بڑھ رہی ہے-دونوں کا ایک دوسرے پر دھیان نہیں تھا – اور اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے- وردا کی نظر راجو پر پڑ گئی-

”تم آفس میں کیا کر رہے ہو؟-“

”وردا جی- آپ کے حفاظتی انتظامات کے لئے آفس کا معائنہ کر رہا ہوں- میں نے چیک کر لیا ہے- اندر آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور باہر ہم موجود ہیں-“

”اچھی بات ہے- اس کا مطلب ہے تم باہر ہی رہو گے- شکر ہے-“ وردا نے کہا-

”ہاں میں باہر ہی رہوں گا- اگر کوئی بھی بات ہو تو آپ مجھے فون کر دینا-“

”ہاں یہ ٹھیک ہے- باہر ہی رہو تم- بار بار اندر مت آنا- آفس کے کام میں خلل پڑتا ہے-“

”آپ بے فکر رہیں وردا جی- میری وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی-“ یہ کہہ کر راجو آفس سے باہر آگیا اور آفس کے سامنے کھڑی اپنی جیپ میں بیٹھ گیا-

”وردا جی تو آج بھی بہت حسین لگ رہی تھی- مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر غصہ کیوں آجاتا ہے— پتہ نہیں حسین لوگوں کی ناک پر اتنا غصہ کیوں دھرا رہتا ہے-“ راجو یہ سوچتے ہوئے مسکرا رہا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

چاروں طرف اندھیرا تھا- گھنگھور اندھیرا- اس کی آنکھ کھلی تو وہ بہت گھبرا گئی- پہلے تو اسے لگا کہ یہ ایک خواب ہے- لیکن یہ خواب نہیں تھا- وہ اندھیرے میں ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ گئی-

”کہاں ہوں میں-“ اس نے سوچا-

وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے ادھر ادھر بھٹک رہی تھی- اچانک وہ کسی سے ٹکرا گئی-

ِ”کک – کون ہے-“ اور وہ وہاں سے پیچھے ہٹ گئی-

”پہلے تم بتاﺅ تم کون ہو-“ اسے آواز سنائی دی-

”یہ کیا مذاق ہے- میں یہاں کیسے آئی؟-“

”کیا تمہاری آنکھ بھی یہیں کھلی ہے- مجھے بھی ابھی ہوش آیا تو خود کو اس اندھیری جگہ پر پایا-“

تب کمرے میں ایک بلب روشن ہوا جس سے تھوڑی دیر کے لئے ان کی آنکھیں چندھیا سی گئیں- پھر انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا- لڑکی جوان تھی- عمر یہی کوئی اکیس بائیس سال کے لگ بھگ رہی ہوں- آدمی چالیس پینتالیس سال کا ادھیڑ عمر تھا- انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کئی سوال ان کے دل میں ابھر آئے-

”ویلکم ہیئر- تم دونوں کو یہاں خوش آمدید کہا جاتا ہے-“ کرسی پر بیٹھا ہوا نقاب پوش گویا ہوا-

اس آواز کو سن کر وہ حیران رہ گئے- انہیں لگا تھا کہ وہ دونوں یہاں اکیلے ہیں-

”تم کون ہو بھائی- اور ہمیں یہاں کیوں لایا گیا ہے؟-“ آدمی نے پوچھا-

”درندہ صفت سیریل کلر سے اس کی پہچان پوچھتے ہو- زیادہ سوال کرو گے تو ابھی کاٹ ڈالوں گا-“ درندہ غرایا-

یہ سنتے ہی دونوں بری طرح کانپنے لگے-

”آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟-“ آدمی نے پھر پوچھا-

”تم اس لڑکی کا ریپ کرو- اور یہ لڑکی تم سے بچنے کی کوشش کرے گی- تم ریپ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو تمہیں چھوڑ دوں گا اور اس لڑکی کو کاٹ ڈالوں گا— اگر یہ لڑکی خود کو ریپ ہونے سے بچا لے گی تو اسے یہاں سے جانے دوں گا اور تمہیں کاٹ ڈالوں گا-سمپل گیم ہے- چلو شروع ہوجاﺅ-“ درندے نے حکم دیتے ہوئے کہا-

دونوں یہ حکم سن کر بھونچکا سے رہ گئے-

”یہ کیا بکواس ہے – تم ہمارے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے-“ لڑکی نے تھراتے ہوئے کہا-

”تم دونوں کے پاس یہ کھیل کھیلنے کے لئے صرف ایک گھنٹے کا وقت ہے- نہیں کھیلو گے تو دونوں مرو گے- لیکن کھیل کے نتیجے میں کسی ایک کی جان بچ سکتی ہے-“ درندے نے کہا-

”میں ایسا نہیں کر سکتا- پلیز ہمیں چھوڑ دو-“

درندے نے پستول اٹھائی اور آدمی کا نشانہ لیا-

”رک— رکو— میں کوشش کرتا ہوں-“ آدمی نے جان کے خوف سے جلدی سے کہا-

”کیا – تم اس درندے سے ڈر کر میرا ریپ کرو گے- میں یہ ہرگز نہیں ہونے دوں گی-“ لڑکی بولی-

”ہا ہا ہا- یہی تو ساری گیم ہے- یہ لڑکی تو بڑی جلدی سمجھ گئی-“ درندہ بے رحمی سے ہنستے ہوئے بولا- ”وقت برباد مت کرو- ورنہ دونوں مارے جاﺅ گے-“

آدمی تیزی سے لڑکی کی طرف بڑھا اور اسے دبوچ لیا-

”مجھے یہاں سے زندہ نکلنا ہے-“

لڑکی نے زور کا دھکا دیا جس سے وہ دور جا گرا-

”پاگل مت بنو- یہ ویسے بھی ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا-“ شاید لڑکی اس درندے کی فطرت کو سمجھ گئی تھی-

لیکن وہ آدمی بات ان سنی کرتے ہوئے دوبارہ لڑکی پر ٹوٹ پڑا اور اسے بری طرح سے مارنے لگا- یہاں تک کہ وہ لڑکی غش کھا کر زمین پر گئی-

”مجھے معاف کر دینا- میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا- لیکن صورتحال ہی ایسی ہے- ہرانسان کو اپنی جان زیادہ پیاری ہوتی ہے“

یہ کہہ کر وہ آدمی لڑکی پر حاوی ہونے لگا- لڑکی خود کو چھڑانے کی جدوجہد کرنے لگی تو آدمی نے تین چار تھپڑ اور جڑ دیئے-

ِِ”سمجھنے کی کوشش کرو- میں مرنا نہیں چاہتا-“

”بہت خوب- مجھے لگتا ہے کہ تم ہی یہاں سے باہر نکلو گے-“ درندے نے اسے شاباشی دیتے ہوئے کہا-

آدمی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکی کو بے لباس کر دیا اور ادھر کمرے میں لڑکی چیخ گونجی ادھر وہ آدمی بھی بری طرح سے چیخ پڑا-

”نہیں-“

درندے نے اپنا خنجر اس کی گردن میں گھونپ دیا تھا-لڑکی نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ماجرا دیکھا تو خوف کی شدت سے وہ بے ہوش ہوگئی-

”یہ پلان اچھا ہے— شکار کو اٹھا کر یہاں لاﺅ اور آرام سے جب دل کرے سکون سے کاٹ ڈالو- لڑکی تو شاید بے ہوش ہوگئی- بہت کام آئے گی یہ- ہی ہی ہی-“

٭٭٭٭٭٭٭

شہلا اپنے آفس میں فون پر کسی سے بات کر رہی تھی- اس کے چہرے سے پریشانی چھلک رہی تھی- فو ن رکھ کر اس نے بیل بجائی-

”جی میڈم-“ سپاہی اندر آکر بولا-

’انسپیکٹر چوہان کو بلاﺅ- جلدی-“ شہلا نے کہا-

”اوکے میڈم-“سپاہی سلیوٹ مار کر نکل گیا اور تھوڑی ہی دیر میں چوہان تقریباً بھاگتا ہوا اندر آیا-

”یہ میڈم- آپ نے بلایا-“

”ہمارے اس حلقے کے جو ایم پی ہیں ان کی بیٹی نشاءکو درندے نے اغواءکر لیا اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ وردا شمسی کو اس کے حوالے کر دیا جائے ورنہ وہ نشاءکو مار ڈالے گا-“

”اس درندے نے تو جینا دوبھر کر دیا ہے-“ چوہان نے کہا-

”جب ہمارا محکمہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرے گا تو یہی ہوگا— کل جنگل میں بھی بیس منٹ کا بول کر ایک گھنٹے میں پہنچی تھی تمہاری کمک- تم سب ایک نمبر کے نکمے ہو-“ شہلا نے طیش میں آکر کہا-

”سوری میڈم- لیکن سب کو اکٹھا کرنے میں وقت تو لگتا ہی ہے-“

”میں کچھ نہیں سننا چاہتی- جاﺅ – یہ پتہ کرو کہ اس درندے نے فون کہاں سے کیا تھا ایم پی صاحب کے گھر- کچھ کرو – ورنہ ہم سب کی نوکری خطرے میں ہے-“

”آپ فکر نہ کریں میڈم- میں پوری کوشش کروں گا- مجھے اجازت؟-“

”ٹھیک ہے جاﺅ- لیکن میں رزلٹ چاہتی ہوں-“ شہلا نے کہا-

چوہان کے جانے کے بعد شہلا سر پکڑ کر بیٹھ گئی- ”میرے علاقے میں ہی ہونا تھا یہ سب-“

٭٭٭٭٭٭٭

”نشائ— میری پیاری نشائ— اٹھ جاﺅ کب سے تمہارا انتظار کر ررہا ہوں- اٹھو نا-“ درندے نے نشاءکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا-

لگتا تھا نشاءکو بہت گہر ا صدمہ پہنچا تھا وہ سب خون خرابہ دیکھ کر‘ اسے اب تک ہوش نہیں آیا تھا- درندہ بڑی بے صبری سے اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا-

وہ نشاءکے گالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا- ”اٹھو نشائ—- اٹھو— میں تمہاری ان پیاری آنکھوں میں بسا ہوا خوف دیکھنا چاہتا ہوں- اتنا حسین خوف بار بار کہاں دیکھنے کو ملتا ہے- جب میں نے لائٹ آن کی تھی تو تمہارے چہرے پر پھیلے ہوئے خوف سے بہت لطف اندوز ہوا تھا میں— دوبارہ وہ خوف مجھے دکھاﺅ نا-اٹھونا-“ درندہ کسی ضدی بچے کی طرح بے چین ہو رہا تھا-

ایسا لگتا تھا جیسے لاشعور میں نشاءنے اس کی بات سن لی ہو- اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں- لیکن درندے کو پاس بیٹھا دیکھ کر تھر تھر کانپنے لگی- اس کا ڈر اپنی انتہا کو چھو رہا تھا-

”اٹھ گئی میری پیاری نشائ-“ درندہ خوش ہوتے ہوئے بولا- ”گڈ- اب مزا آئے گا-“

”مجھے جانے دو پلیز—- مجھ پر رحم کرو- –میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے-“ نشاءرو پڑی-

”میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا- اگر سب پر رحم کرنے لگوں گا تو پھر کاٹوں گا کس کو- تم بات کو سمجھنے کی کوشش کرو-“ درندہ بڑی رسانیت سے بولا- جیسے وہ کسی کو مارنے کی نہیں کھانے پینے کی بات کر رہا ہو-

اب نشاءنے غور کیا تو اسے لگا کہ وہ اس پہلی جگہ پر نہیں ہے جہاں اس کی آنکھ کھلی تھی- اس کمرے میں کوئی بیڈ نہیں تھا- لیکن اس وقت وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور وہ درندہ اب اس کے بیڈ کے پاس کھڑا ہوگیا تھا-لیکن یہ کمرہ بھی اس پہلے والے کمرے سے ملتا جلتا ہی تھا-

”کیا دیکھ رہی ہو چاروں طرف- چلو ایک اور کھیل کھیلتے ہیں- یہ خنجر دیکھو- کتنا تیز ہے-اور میں— تم نے دیکھ ہی لیا کہ میں بھی کتنا تیز ہوں- اب تمہیں بتانا ہے کہ تمہیں کس کی تیزی پسند ہے- میری یا اس خنجر کی- اگر خنجر کہو گی تو یہ خنجر آرام سے تمہارے اس خوبصورت بدن کی کھال کو کاٹتا ہوا اندر کا گوشت باہر نکال لائے گا- اور میں پسند ہوں- تو— تو پھر میں وہی کروں گا جو ایک مرد کو تم جیسی حسین لڑکی کے ساتھ کرنا چاہئے- “

”مجھے کوئی کھیل نہیں کھیلنا- تم ایسا کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ- پلیز مجھے چھوڑ دو-“ نشاءپھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-

”فنکار ہوں میں فنکار— قتل کرنا بھی ایک فن ہے- بہت ہی آرٹسٹک طریقے سے مارتا ہوں میں لوگوں کو- مرنے والوں کو تو فخر ہونا چاہئے کہ وہ میرے فن کا حصہ بنے- تم نے دیکھا نہیں تھا کہ میں نے اس آدمی کو جو تمہارا ریپ کرنے والا تھا‘ کتنے خوبصورت انداز سے مارا تھا— کتنا خوبصورت پوز بنا تھا- تاریخ میں سنہرے لفظوں میں لکھے جانے کے لائق— وہ تمہارے اوپر تھا- تم اس کے نیچے اور پیچھے سے میں نے اس کی گردن کاٹ دی- واہ- ایک قاتل کو اتنا ہی اسٹائلش ہونا چاہئے— تم نے دیکھا نہیں کہ ریپ کا پورا منظر تیار تھا لیکن صرف میں- صرف میں نے اس کمینے کو یہ حرکت کرنے سے پہلے ہی تمہیں اس سے نجات دلا دی— کیوں— اس لئے کہ بھئی ریپ کرنا بہت بری بات ہے— اس آرٹسٹک قتل میں‘ میں نے لوگوں کو یہی پیغام دیا ہے- وہ نئے لوگ جو قتل کی فیلڈ میں آنا چاہتے ہیں- انہیں اس بات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا- اب تم بتاﺅ کہ تمہیں کیا پسند ہے- خنجر یا میں— فیصلہ تم نے کرنا ہے- جلدی سے بتاﺅ ورنہ میں خود کوئی نہ کوئی فیصلہ کرلوں گا اور ہوسکتا ہے میرا فیصلہ تم کو پسند نہ آئے- اور ہاں زبان سے بولنا ہے- خنجر یا درندہ“ درندہ مزے لے لے کر نشاءکا خون خشک کر رہا تھا-

نشاءبیچاری کرتی بھی تو کیا- اس نے روتے ہوئے درندے کی طرف ہاتھ اٹھا دیا-

”بولے گا کون— تیرا باپ بولے گا کیا؟-“ درندہ پھر غرایا-

”درندہ-“

”یعنی تم مجھے وہ سب کرنے کی اجازت دے رہی ہو جو ایک مرد کسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ کرتا ہے-“

”ہا— ہاں-“ نشاءنے جیسے تیسے یہ ایک لفظ ادا کیا-

”تم جیسی بے شرم لڑکی تو میں نے آج تک نہیں دیکھی-“ درندہ غصے سے بل کھاتا ہوا بولا- ”پہلے تم نے اپنے کنوارے بدن پر اس آدمی کو حاوی ہونے دیا اور اب مجھے کھلے عام دعوت دے رہی ہو— تم نے تو ایک ہی دن میں طوائف بننے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے- اب تمہارے جسم میں یہ خنجر ہی جائے گا- سمجھ لو—مجھے تم جیسی بے شرم لڑکیاں بالکل اچھی نہیں لگتیں- یہ خنجر تمہارے گوری چمڑی کے پار جائے گا تو آرٹ کا ایک اور شاہکار وجود میں آئے گا—— ہی ہی ہی— لیکن ابھی نہیں— ابھی کچھ انتظار کرنا ہوگا- تمہارے بدلے میں نے وردا شمسی کو مانگا ہے- اس سالی وردا شمسی نے میرا چہرہ دیکھ لیا تھا- اس وقت سے میں ہوشیار ہوگیا ہوں- اب میں یہ نقاب پہن کر اپنا فن دکھاتا ہوں- میرے جیسا فنکار گمنام ہی رہے تو اچھا ہے- کیوں ٹھیک کہہ رہا ہوںنا میں-“

”جب وہ وردا شمسی تمہیں مل جائے گی تو تم مجھے چھوڑ دو گے نا-“ نشاءنے سبکتے ہوئے پرامید لہجے میں پوچھا-

”اپنا اصلی کھیل میں کسی سے ڈسکس نہیں کرتا- — اس آدمی کو بھی یہ امید تھی کہ وہ تمہارا ریپ کرے گا تو بچ جائے گا—- لیکن میرا کھیل یہ تھا کہ جیسے ہی وہ تم پر حاوی آئے گا میں اس کی گردن کاٹ دوں گا— بہت باریک بینی کا کام ہے یہ فن بھی— ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے—- بس ایک بار وردا مل جائے— اس کے بعد تمہارے ساتھ کیا ہوگا- — یہ صرف میں ہی جانتا ہوں- ہی ہی ہی-“ اور کمرے میں درندے کے بھیانک قہقہے گونجنے لگے-

”تم جو چاہو میرے ساتھ کر لو- لیکن پلیز مجھے مت مارو- میں مرنا نہیں چاہتی-“ نشاءنے کہا- اس کا گلابی چہرہ ڈر کے مارے سفید پڑنے لگا تھا- اسے اپنی زندگی میں کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا-

”یہی تو وہ خوف ہے- جس کی پرچھائیں میں تمہارے دمکتے ہوئے چہرے پر دیکھنا چاہتا ہوں— واہ – شاندار— انتہائی خوبصورت-“ درندہ نشاءکے خوف سے محظوظ ہوتا ہوا بول رہا تھا اور نشاءکو اپنی زندگی کے لمحات کم ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے-

٭٭٭٭٭٭٭

شہلا احمد بہت پریشانیوں میں گھری ہوئی تھی- اسے اوپر سے بار بار فون آرہے تھے- اس کی تو جان پر بن آئی تھی- ایک ایم پی اے کی بیٹی کا اغواءکوئی معمولی بات نہیں تھی— اس وقت شہلا پر بہت زیادہ سیاسی دباﺅ تھا- سینئر آفیسروں کی ڈانٹ الگ کھانی پڑ رہی تھی- اس پر یہی دباﺅ ڈالا جا رہا تھا کہ وردا شمسی ایک عام لڑکی ہے- اسے چپ چاپ درندے کو سونپ کر ایک سیاسی شخصیت کی بیٹی کو بچا لیا جائے-کیونکہ ایک عام شہری لڑکی کے مقابلے میں وی وی آئی شخصیت کی بیٹی کی زندگی زیادہ قیمتی تھی-

کچھ سوچ کر شہلا نے راجو کو فون کیا-

”جی میڈم- بولیئے-“

”وہاں سب ٹھیک تو ہے نا؟-“

”سب ٹھیک ہے میڈم- میں آفس کے باہر موجود ہوں- میری نظر اس کے آفس پر ہی ہے-“

”آفس پر نظر رکھ کر کیا کرو گے بے وقوف— وردا کے پاس رہو— اس پر نظر ہونی چاہئے تمہاری— بات بہت سیرئیس ہوتی جا رہی ہے-“

”کیا بات ہے میڈم- آپ کے لہجے سے لگتا ہے کہ جیسے آپ بہت پریشان ہیں-“ راجو نے پوچھا-

”بات ہی پریشانی کی ہے-“ یہ کہہ کر شہلا نے راجو کو ساری بات بتا دی-

”اوہ میرے خدا— اس درندے کی ہمت تو بڑھتی ہی جا رہی ہے-“

”جب پولیس کچھ نہیں کر پائے گی تو اس کا انجام یہی ہونا ہے— تمہیں بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے-“

”میڈم- کیا ہم وردا کو اس درندے کے حوالے کر دیں- صرف اس لئے کہ ایم پی اے صاحب کی بیٹی کو بچانا ہے-“ راجو نے بھرے ہوئے لہجے میں کہا-

شہلا کچھ نہیں بولی- اس کے پاس راجو کی اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا-

”میڈم اگر ایسا ہو تو میں یہ ملازمت ہی چھوڑ دوں گا— مجھے نہیں کرنی ایسی نوکری جہاں زندگی کے معاملے میں بھی امتیاز برتا جائے-“ راجو بہت زیادہ جذباتی ہو رہا تھا-

”پاگلوں جیسی باتیں مت کرو— کیا یہ وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا— میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا— ایک بات اور سن لو— اگر اس درندے کے مطالبے کے آگے ہمارے محکمے کو جھکنا پڑا تو میں بھی استعفیٰ دے دوں گی— وہ درندہ بہت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے-“

شہلا کی باتوں سے راجو کا حوصلہ بڑھ گیا- ”آپ بے فکر رہیں میڈم— میں اپنی ڈیوٹی پوری ایماندار ی سے انجام دوں گا-“

جیسے ہی راجو نے فون بند کیا اسے وردا آفس کے گیٹ سے باہر آتی ہوئی دکھائی دی- اور راجو کی آنکھیں اس پر چپک کر رہ گئیں- وہ ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا- دیکھتے دیکھتے راجو کی آنکھیں چھلک آئیں-

”میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا وردا جی- کچھ نہیں ہونے دوں گا-“

وردا کے کچھ ضروری کاغذات کار میں رہ گئے تھے وہ انہیں لینے آئی تھی- کاغذات لے کر جب وہ آفس جانے کے لئے مڑی تو اس نے راجو کو اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھا- یہ دیکھتے ہی وردا کی آنکھوں میں جیسے شعلے اتر آئے- وہ تپتی ہوئی تیزی سے اس کے قریب آئی اور اسے آتے دیکھ کر راجو کی حالت غیر ہونے لگی-

”تم خود کو سمجھتے کیا ہو— کیوں گھور رہے تھے مجھے— تمہیں یہاں میری حفاظت کے لئے رکھا گیا ہے- مجھے گھورنے کے لئے نہیں— آئندہ ایسا کیا تو تمہاری شکایت کردوں گی تمہاری میڈم سے-“ وردا نہایت غصے سے بول رہی تھی-

راجو بیچارے سے کچھ بولے نہیں بن رہا تھا- وہ ویسے بھی اس وقت وردا کے لئے جذباتی ہو رہا تھا- ایسی حالت میں اسے وردا کی پھٹکار بھی ایسے لگ رہی تھی جیسے کوئی اس پر پھول برسا رہا ہو- اس حالت میں بھی وہ ورد ا کو بس دیکھتا ہی رہ گیا-

”بہت بے شرم ہو تم- ابھی بھی گھور رہے ہو مجھے-“ وردا کا غصہ اور بڑھ گیا-

راجو کو جیسے ہوش آگیا- ”اوہ سوری— آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں-“

”غلط نہیں- میں تمہیں بالکل ٹھیک سمجھ رہی ہوں- اس طرح ٹکٹکی لگا کر مجھے گھورنے کا مطلب کیا ہے؟-“

”ڈی ایس پی صاحبہ کا حکم ہے کہ آپ پر نظر رکھوں- اگر آپ کو برا لگا ہے تو سوری-“ راجو بولا-

”آئندہ ایسے کیا تو خیر نہیں تمہاری-“ یہ کہہ کر وردا پاﺅں پٹختی ہوئی چلی گئی-

”وہ ڈانٹ رہی تھی مجھے اور میں سمجھ ہی نہیں پایا- مجھے لگا کہ وہ پیار سے بات کر رہی ہیں-“ خود بخود راجو کے ہونٹوں سے یہ الفاظ ادا ہونے لگے-

وردا آفس کی طرف جا رہی تھی اور اس کی ہرنی جیسی چال راجو کے دل پر ستم ڈھا رہی تھی-

”کاش میں آپ کو اپنے دل کی بات کہہ پاتا- مگر جو بات ممکن نہیں‘ اس کے کہنے سے بھی کیا فائدہ- خدا آپ کو صحیح سلامت رکھے وردا جی— میری عمر بھی آپ کو لگ جائے- آپ سب سے الگ ہیں- کوئی لڑکی آپ کی برابری نہیں کر سکتی-“ راجو کے دل سے یہی آواز اٹھ رہی تھی-

درندے نے وردا کو اس کے حوالے کرنے کے لئے چار دن کی ڈیڈ لائن دی تھی- اور اس بات سے پورے محکمے میں ایک افراتفری کا عالم تھا- درندے کو ٹریس کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن ہر کوشش ناکام رہی- سب سے زیادہ دباﺅ کا شکار شہلا احمد تھی- اسے ہی اعلیٰ حکام کی طرح طرح کی باتیں سننا اور برداشت کرنا پڑ رہی تھیں- ادھر راجو بھی وردا کے لئے بہت فکرمند تھا‘ وہ الجھن کا شکار تھا کا اس کا محکمہ وردا کے مستقبل کے بار ے میں کیا فیصلہ کرتا ہے-وہ سارا دن وردا کے آفس کے باہر بیٹھا رہتااور شام کو اسے گھر تک پہنچاتا- کیونکہ اس کی تو چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی لگی تھی وردا کی حفاظت کے لئے-

”وردا جی آپ کسی بات کی فکر مت کریں- میں ہوں نا یہاں ہر وقت-“

”تم ہو – تبھی تو فکرمند ہوں-“ وردا نے آہستہ سے کہا-

ِِ”کچھ کہا آپ نے؟-“

”کچھ نہیں-“ یہ کہہ کر وردا اپنے گھر میں داخل ہوگئی- اور راجو باہر اپنی جیپ میں بیٹھ گیا- چاروں سپاہیوں کو اس نے الرٹ رہنے کا کہہ دیا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے دس بج رہے تھے اور ایک ٹرین کراچی کی طر ف بڑھ رہی تھی- اس ٹرین کو صبح سات بجے کراچی پہنچنا تھا-

ایک حسین اکیس سالہ لڑکی سیٹ پر بیٹھی کوئی ناول پڑھ رہی تھی-ناول کا نام تھا ”بلاوا“- اس ایئرکنڈیشنڈ کوپے میں وہ اکیلی ہی تھی اور پوری طرح سے ناول کے دلچسپ واقعات میں کھوئی ہوئی تھی-

ایک اسٹیشن پر ٹرین رکی اور کوپے کی خاموشی ٹوٹ گئی- ایک پچیس چھبیس سالہ لڑکا ڈھیر سارا سامان لے کر چڑھ آیا-

”اف اتنا سارا سامان کہاں ایڈجسٹ ہوگا- “ ٹرین چل پڑی اور وہ لڑکا سامان ترتیب سے رکھنے میں مصروف ہوگیا- اور اس کوشش میں اس نے کافی ہڑبونگ مچا رکھی تھی-

”ایکسکیوز می- یہاں کوئی اور بھی ہے— آپ مجھے ڈسٹرب کر رہے ہیں-“ لڑکی نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”آپ پہ تو سب سے پہلے نظر گئی تھی- سوری سامان کچھ زیادہ ہے- لیں ہوگیا ایڈجسٹ- آپ سکون سے ناول پڑھ سکتی ہیں- ویسے مجھے رفیق کہتے ہیں- رفیق مغل- کراچی جا رہا ہوں- کیا آپ بھی وہیں جا رہی ہیں-“ رفیق نے خود ہی اپنا تعارف کراتے ہوئے پوچھا-

”جی ہاں- اب ڈسٹرب مت کرنا- مجھے ناول پڑھنے دو-“

”ہاں بالکل-“ رفیق نے ہنس کر کہا-”اوہ بلاوا پڑھ رہی ہیں آپ-میں بھی یہ ناول پڑھ چکا ہوں نئے افق ڈائجسٹ میں- بہت دلچسپ کہانی ہے- ہندو مائتھا لوجی کو بہت خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا ہے مصنف نے-“

لڑکی نے رفیق کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور ناول پڑھنے میں مگن ہوگئی- ”اسٹیوپڈ“ اس نے دل ہی دل میں کہا-

”شکر ہے میرے پاس بھی ناول ہے- میں بھی سیوک پڑھتا ہوں بیٹھ کر- آپ بھی پڑھیئے میں بھی پڑھتا ہوں-“ یہ بول کر رفیق لڑکی کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا-

”آپ سیوک پڑھ رہے ہیں-“ لڑکی نے تجسس کے مارے پوچھ بیٹھی- لگتا تھا وہ کتابوں کی بہت بڑی عاشق تھی- ورنہ عام طور پر تو آج کل مطالعے کا شوق ختم ہی ہوتا جا رہا ہے-”کس بارے میں ہے یہ؟-“

 ”یہ ناول ایک معصوم سی لڑکی کے بارے میں ہے جس کی جنات سے دوستی ہوجاتی ہے- سادہ سی کہانی ہے- بس سسپنس ہے اس میں-“ رفیق نے ہلکی سی کہانی سناتے ہوئے کہا-

”ارے ہاں- اب یاد آیا- میں نے بھی پڑھی ہے یہ کہانی- بہت اچھی کہانی پڑھ رہے ہیں آپ-“

”واہ – تو آپ نے بھی پڑھی ہے— اس میں سب سے اچھا کردار کون سا لگا آپ کو-“ رفیق شاید باتوں کے موڈ میں تھا-

”آپ کہانی پڑھیں اور مجھے بھی پڑھنے دیں-“ لڑکی نے خشک لہجے میں کہا-

”آپ کا نام جان سکتا ہوں- ہمسفر کی حیثیت سے کم از کم اتنا جاننا تو میراحق بنتا ہے-“

”ریما-“ لڑکی نے جواب دیا-

”اوہ مائی گاڈ- کہیں آپ فلمسٹار ریما تو نہیں-“ رفیق نے پوچھا-

”جی نہیں- کیا میں آپ کو اتنی عمر کی نظر آتی ہوں؟-اب پلیز کیا آپ مجھے سکون سے ناول پڑھنے دیں گے-“ ریما نے کہا-

”میں نے ابھی اس ناول کا پہلا باب ہی پڑھا ہے – کچھ ڈسکس کریں اس بارے میں- آ پ کو کیا لگتا ہے کہ -“

”آپ اپنا ناول پڑھیں اور مجھے اپنا ناول پڑھنے دیں-“ ریما نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا-

”ارے بھئی باتیں کریں گے تب ہی تو ہماری دوستی آگے بڑھے گی نا-“ رفیق بھی باز آنے والا نہیں تھا-

”ایسا سوچنا بھی مت- میرے بھیا پولیس میں ہیں- اندر کروا دوں گی-“

”سوری سوری میں تو مذاق کر رہا تھا- آپ تو ناراض ہو رہی ہیں-“ رفیق جلدی سے بولا-”ویسے میں نے کئی ناولوں میں ایسی سچوئشن پڑھی ہے کہ لڑکا لڑکی اکیلے سفر کر رہے ہیں اور باتوں ہی باتوں میں ان کا ٹانکا جڑ جاتا ہے-“

”یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ؟-“

”کیا آپ نے ناولوں میں پیار محبت کی باتیں نہیں پڑھیں؟-“ رفیق نے پوچھا

”پڑھی ہیں- لیکن میں آپ کے منہ سے کیوں سنوں یہ سب-“ یہ کہہ کر ریما دوبارہ ناول میں مشغول ہوگئی-

رفیق چپکا ہوکر کہانی پڑھنے لگا- اور اس کے چہرے کی بیچارگی دیکھ کر ریما مسکرا دی-

”یہ تو مجھے دیکھ دیکھ کر ہنس رہی ہے- مذاق بنا لیا ہے اس نے مجھے-کچھ کرنا پڑے گا-“یہ سوچ کر رفیق برتھ سے اٹھ گیا-

”کیا ہوا؟-“ ریما نے پوچھا-

”کچھ نہیں- مجھے آپ کے سامنے نہیں بیٹھنا- کہیں اور بیٹھ کر پڑھتا ہوں- آپ تو مجھے کارٹون سمجھ کر ہنسے جا رہی ہیں-“

”جیسے آپ کی مرضی- سوری اگر میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا ہو تو-“

رفیق آکر ریما کے برابر میں بیٹھ گیا-

”آپ کا ایسے مسکراتے ہوئے دیکھنا مجھے تڑپا رہا ہے- میں بہک گیا تو خود کوسنبھالنا مشکل ہوجائے گا-“

”اب نہیں مسکراتی- آپ پڑھ لیجئے-“

”بہت بہت شکریہ آپ کا -“ رفیق نے ایسے کہا جیسے ریما نے اس پر بہت بڑا احسان کیا ہو-

”آپ شادی شدہ ہیں-؟-“ ریما نے پوچھا-

”بس چھبیس سال کا ہوں- ابھی میرے ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں- فی الحال شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے- کیا آپ کی شادی ہوگئی؟-“

”میں بیس اکیس کی ہوں- کیا شادی شدہ لگتی ہوں تمہیں-“

”لگتی تو نہیں ہیں- ویسے ہی پوچھ رہا تھا- چلیں شادی نہیں ہوئی- تو کیا کنواری بھی ہیں اب تک-“

”کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے-“ حالانکہ عام لڑکی ایسا سوال سن کر بھڑک سکتی تھی- لیکن لگتا تھا کہ ریما کوئی عام لڑکی نہیں تھی-

”کوئی فرق نہیں پڑتا- لیکن کوئی کنواری کسی چکر میں پھنس جائے تو پھر وہ گئی کام سے- بگڑ جاتی ہیں لوگ-“

”جیسے آپ بگڑے ہوئے لگتے ہیں-“ ریما نے مسکرا کر کہا-

”ہاں بالکل- میں تو واقعی بگڑ چکا ہوں- کسی اورکو کیا بگاڑوں-ویسے حیرت ہے- آپ اتنی حسین ہیں اور اکیلی ہیں-“

”میرا ایک بوائے فرینڈ ہے- “

”پھر بھی کوشش کرتا رہوں گا شاید میرا کوئی چانس بن جائے-“

”مجھے تو مشکل ہی لگ رہا ہے—“ریما نے کہا-

 اچھا تمہارے بھیا کا نام کیا ہے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”راحت چوہان- – کیوں؟-“ ریما بولی-

”بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا-“

اس طرح ریما اور رفیق کی باتوں کا سلسلہ چل نکلا اور جب بات چل نکلی تو بات پہنچی ریما کی جوانی تک- اب یہ رفیق کا فن تھا یا ریما کی اپنی خواہش کی وہ اس کم وقت میں دوستی کی آخری حدوں تک پہنچ گئے-

سات بج رہے تھے جب ٹرین کراچی کے کینٹ اسٹیشن کے پلیٹ فارم میں داخل ہوئی- رفیق اور ریما نے ایک دوسرے کو بائے کہا اور اپنے اپنے راستے پر چل پڑے-

٭٭٭٭٭٭٭

ٹھیک دس بج رہے تھے جب رفیق مغل تھانے میں داخل ہوا-

”آگئے آپ؟-“ چوہان نے کہا-

”جی ہم آگئے-“

”ڈی ایس پی صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی ہیں- سنبھل کر رہنا- قیامت ہے قیامت— میری تو جان چھوٹی آپ کے آنے سے- اب اس درندے کا کیس آپ سنبھالیں گے-“

”کوئی بات نہیں- اس درندے کو بھی دیکھ لیں گے کہ اس کے دانت کتنے تیز ہیں- میں میڈم سے مل کر آتا ہوں-“انسپیکٹر رفیق مغل مسکراتا ہوا شہلا کے کمرے کی طرف چل دیا-

”اب پتہ چلے گا اسے کہ پولیس کی نوکری کیا ہوتی ہے- رفیق مغل- ہونہہ-“ چوہان بڑبڑایا-

رفیق نے شہلا کے کمرے میں داخل ہو ا-شہلا فون پر مصروف تھی‘ رفیق چپ چاپ اندر آکر ان کی میز کے سامنے کھڑا ہوگیا- شہلا نے فون رکھا اور بولی- ”جی- آپ کون؟-“

”میں رفیق — – رفیق مغل-“

”اوہ ہاں- آج ہی آگئے تم-“

”اب جب آپ نے میری معطلی ختم کروا دی تو آنے میں دیر کیوں کرتا-“ رفیق نے جواب دیا-

”گڈ— بیٹھو— میں نے تمہارا سروس ریکارڈ دیکھا ہے- میں تمہیں ایک بہت الجھا ہوا کیس دینا چاہتی ہوں- ہینڈل کر لو گے-“

”بیشک میڈم- آپ حکم کریں- اچھا کام کرنے پر ہی میں معطل ہوا تھا- ایک سیاستدان کے بیٹے کو ریپ کیس میں اندر کر دیا تھا میں نے- اسے سزا بھی دلوا دیتا- اور اسے سزا ملنے سے پہلے ایوارڈ کے طور پر معطلی کا انعام مل گیا-“ رفیق نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا-

”بس بس زیادہ کہانیاں مت سناﺅ- میں سب جانتی ہوں تب ہی تو تمہیں دوبارہ لیا گیا ہے محکمے میں-“ شہلا نے ٹوکتے ہوئے کہا-

”واقعی بہت کڑک ہے بھئی یہ تو-“ رفیق نے سوچا-

”سیریل کلر کا کیس اب تم دیکھو گے- اور مجھے ہر حال میں رزلٹ چاہئے- اوپر سے بہت دباﺅ ہے-“

”میں اپنی پوری کوشش کروں گا میڈم- آپ کو مایوس نہیں کروں گا-“ رفیق نے کہا-

”اب تم جا کر چوہان سے اس کیس کا سارا ریکارڈ اپنی کسٹڈی میں لے لو- اس قاتل نے ایم پی اے صاحب کی بیٹی کو اغوا کر لیا ہے اور بدلے میں وردا کا مطالبہ کر رہا ہے- ہمیں ایم پی اے صاحب کی بیٹی کو بھی اس کے چنگل سے چھڑانا ہے اور وردا کو بھی اس کے حوالے نہیں کرنا- اب تم نے دیکھنا ہے کہ تم کیا کر سکتے ہو- میں جلد سے جلد اس درندے کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں-“ شہلا نے ہدایت دیتے ہوئے کہا-

”میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا میڈم-“

” تمہارے پاس دوسرا کوئی آپشن بھی نہیں ہے- کیونکہ اگر تم کچھ نہیں کر پائے تو پھر سے معطل ہوجاﺅ گے- از دیٹ کلیئر؟-“ شہلا نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا-

”سب کچھ کلیئر ہوگیا میڈم اب تو-“

”گڈ- اب جاﺅ اور اپنی ڈیوٹی انجام دو- اور اب مجھے اسی وقت اپنی شکل دکھانا جب تم کچھ کرلو-“

رفیق کچھ بولنا چاہتا تھا مگر اسے لگا کہ اس کا گلا سوکھ گیا ہے-

”اب تم جا سکتے ہو-“ یہ کہہ کر شہلا نے ایک فائل کھول لی-

رفیق باہر آیا تو اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں-

”باپ رے باپ- صحیح کہتا تھا وہ چوہان- یہ تو سچ میں قیامت ہے- حالت خراب کر دی میری-“ رفیق بڑبڑایا-

رفیق نے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور چوہان کے کمرے کی طرف چل دیا-

”گڈ مارننگ سر-“ باہر کھڑے بھولو نے رفیق کو دیکھ کر بتیسی نکال کر کہا-

”مارننگ—- ارے بھولو- کیسے ہو تم؟-“

”ٹھیک ہوں سر- آپ کو دوبارہ دیکھ کر اچھا لگ رہاہے-“ بھولو نے کہا-

رفیق کمرے میں داخل ہوا تو وہ چائے پی رہا تھا-

”آپ یہاں بیٹھ کر چائے پیتے رہتے ہیں تب ہی تو مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں-“ رفیق بولا-

”زیادہ بکواس مت کرو- تم ابھی نئے نئے ہو پولیس میں- دیکھتا ہوں کیا کرلو گے- اگر زیادہ ہی دم ہے تو پکڑو اس درندے کو جس نے شہر میں دہشت پھیلا رکھی ہے-“

”اس کا پورا کیس ریکارڈ تو دو مجھے- اس کے بغیر کیا گھنٹا پکڑوں گا اسے-“ رفیق بولا-

”دیتا ہوں- پہلے چائے تو پی لوں— میرے ساتھ زیادہ پنگا مت لیا کرو- بڑی مشکل سے نوکری پر بحال ہوئے ہو- پھر سے سسپینڈ ہوسکتے ہو- تم جانتے نہیں ہو کہ میں کون ہوں؟-“ چوہان نے اپنا رعب جماتے ہوئے کہا-

”اس کو اگر پتہ چل جائے کہ ٹرین میں میرا اور اس کی بہن کا کیا سلسلہ بن چکا ہے تو پھر اس کا کیا ردعمل ہوگا-“ رفیق یہ سوچتے ہوئے ہنسنے لگا-

”کیا ہوا- ہنس کیوں رہے ہو؟-“ چوہان نے پوچھا-

”کچھ نہیں- آپ مجھے ریکارڈ دے دیں- وقت کم ہے میرے پاس- کچھ نہیں کیا تو پھر سے سسپینڈ ہوجاﺅں گا-“

”وہ تو تمہیں یہ کیس کروا ہی دے گا- فکر نہ کرو-“ چوہان نے طنز کرتے ہوئے کہا-

چوہان نے سارا ریکارڈ رفیق کے حوالے کر دیا اور وہ بڑی باریک بینی سے اس کا مطالعہ کرنے لگا-

”ایک بات ہے— اس قاتل کا کوئی پیٹرن نہیں ہے- جسے سمجھ کر ہم کچھ نتیجہ اخذ کر سکیں- یا پھر پیٹرن ہے- جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہا— یہ کے کے کون ہوسکتا ہے— اف اتنا مشکل کیس اور اتنا کم وقت- رفیق بیٹا تمہاری معطلی تو پھر سے پکی ہے-“ رفیق نے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اپنے کیبن سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ شہلا اپنے چہرے پر شکنیں سی لئے اپنے کیبن سے باہر نکل رہی ہے-

”تم نے کیس اسٹڈی کر لیا؟-“ وہ رفیق سے مخاطب ہوئی-

”یس میڈم- کرلیا-“ رفیق نے ادب سے کہا-

”ایس پی صاحب نے بلایا ہے مجھے- تم بھی ساتھ چلو-“

”اوکے میڈم-“ رفیق نے کہا-پھر دل میں سوچا- ”شاید اب میڈم کو ڈانٹ پڑے گی- کیونکہ وہ کمینہ ڈانٹنے کے لئے ہی بلاتا ہے-ایک بار اس نے مجھے بھی بلا کر بہت ڈانٹا تھا-“

”میڈم کیا آپ پہلے ملی ہیں ایس پی صاحب سے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں ملی ہوں- جب یہاں جوائن کیا تھا تب ہی ملی تھی- آج انہوں نے پہلی بار بلایا ہے-“

”برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں-“ رفیق بولا-

”اپنا منہ بند رکھو- مجھے زیادہ بکواس سننا اچھا نہیں لگتا-“ میڈم کا اکھڑ جواب سن کر رفیق کی تو بولتی بند ہوگئی-

ایس پی صاحب کے کمرے کے پاس پہنچ کر شہلا نے کہا- ”تم یہیں رکو- میں مل کر آتی ہوں- کوئی بھی ضرورت ہوئی تو تمہیں بلا لوں گی-“

”ٹھیک ہے میڈم- میں یہیں کھڑا ہوں-“

شہلا نے اس کی بات سنی اور اندر داخل ہوگئی – وہ کافی تناﺅ کا شکار لگ رہی تھی-

”آئیں آئیں ڈی ایس پی صاحبہ- کیا ہوا اس سیریل کلر والے کیس کا- ایم پی اے صاحب کی بیٹی کا کچھ پتہ چلا- کچھ کر بھی رہی ہیں آپ یا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں-“ ایس پی صاحب کا لہجے قدرے تیز تھا-

”سر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں-“ شہلا نے دھیمے لہجے میں جواب دیا-

”کیا کوشش کر رہی ہو تم- چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہوگئے ہیں ایم پی اے صاحبہ کی بیٹی کو اغوا ہوئے- تم نے اب تک کچھ نہیں کیا- اوپر والوں کی ساری باتیں تو مجھے سننی پڑتی ہیں-“

”سر ہم اپنی بہترین کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں-“

”بل شٹ—- اگر بہترین کوشش کی ہوتی تو تمہارے پاس اس کا کوئی رزلٹ بھی ہوتا- تمہیں تو پولیس میں آنے کی بجائے ماڈلنگ کرنی چاہئے تھی- تم وہاں زیادہ کامیاب رہتیں- پتہ نہیں کیا سوچ کر تم نے پولیس جوائن کی ہے- اب جاﺅ اور کچھ کرو ورنہ اپنی جاب ختم سمجھو- جا کر گھر بیٹھو- چولہا ہانڈی سنبھالو- یہ پولیس کا محکمہ تمہارے بس کا روگ نہیں ہے-“ یہ ایس پی کچھ زیادہ ہی بدتمیز ٹائپ کا تھا-

شہلا کو اس طرح کی ڈانٹ کا اندازہ نہیں تھا- وہ کچھ بھی نہیں بول پائی-

”مجھے وہ درندہ چاہئے- زندہ یا مردہ- نشاءاور وردا دونوں کو کچھ نہیں ہونا چاہئے – جاﺅ اب یہاں سے – کھڑی کھڑی کیا سوچ رہی ہو-“ ڈانٹ کا ایک اور وارہوا-

”تھینک یو سر-“ صرف یہی بول کر شہلا چپ چاپ باہر نکل گئی- جب وہ باہر آئی تو اس کی آنکھیں نم تھیں-

رفیق‘ شہلا کو دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ خوب ڈانٹ پڑی ہے- اس نے شہلا سے کچھ نہیں پوچھا – کیونکہ خطرہ تھا کہ اندر کی ڈانٹ کا بدلہ کہیں وہ اس کے سر پر نہ اتارے-

٭٭٭٭٭٭٭

لنچ بریک میں وردا اپنی ایک ساتھی کے ساتھ باہر ٹہلنے کے لئے نکلی تو راجو کی بانچھیں کھل گئیں- وہ ٹہلتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا-

”ورد ا جی- زیادہ دور مت جانا- یہیں آس پاس ہی رہنا-“ راجو نے کہا-

وردا نے کوئی جواب نہیں دیا مگر اس کی ساتھی بولی- ”اوہ تو یہ ہیں وہ جو تمہاری حفاظت پر مامور ہیں-“

”ہاں یہ وہی ہے- ویسے اس نے ایک بار ڈر کے مارے میرے سامنے پیشاب کر دیا تھا- پتہ نہیں کیسی حفاظت کرے گا یہ میری-“ وردا کی بات سن کر اس کی ساتھی بے تحاشہ ہنسنے لگی-

راجو کا چہرہ اتر گیا- وہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیا کرے- پھر وہ بولا- ”ہاں یہ پرابلم ہے میرے ساتھ- وہ اچانک ڈر گیا تھا میں اس دن- ویسے بچپن میں بھی ایک بار ایسا ہوا تھا- علاج بھی کروایا میںنے- ٹھیک بھی ہوگیا تھا- مگر اس دن پھر سے ایسا ہوگیا-“

”وردا یہ بہت بری بات ہے- یہ تو میڈیکل پرابلم ہے او ر تم مذاق بنا رہی ہو ان کا-“

راجو کی بات سن کر وردا بھی چپ ہوگئی تھی- اب اسے احساس ہوا کہ اس نے اپنی آفس فیلو کے سامنے ایسی بات کیوں کہہ دی-وہ اپنی ساتھی سے بولی- ”تم جاﺅ- میں ابھی آتی ہوں-“

”کیا بات ہے— لیٹ مت ہوجانا- ورنہ باس سے ڈانٹ پڑے گی-“

”ہاں- میں بس آرہی ہوں-“ وردا نے کہا-

اس کے جانے کے بعد وردا بولی- ”سوری راجو- پتہ نہیں میں نے ایسا کیوں بول دیا- مجھے واقعی بہت افسوس ہے اس بات کا- میں نے ایسی میڈیکل پرابلم کے بارے میں سنا تو تھا- مگراب یقین ہوا کہ ڈر کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے-“

”کوئی بات نہیں وردا جی—- بہت سالوں بعد ہوا ہے ایسا—-چلو اچھی بات ہے نا کہ میری وجہ سے کسی کے ہونٹوں پر ہنسی تو آئی- کیا یہ کم بڑی بات ہے– – اب آپ جائیں- لیٹ ہوجائیں گی-“

”آئندہ سے میں ایسے نہیں ہنسوں گی-“

”آپ ہنسیئے- مشکل کیا ہے-میری وجہ سے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے تو یہ میری خوش نصیبی ہے-“راجو بولا-

”بس بس – اب فلرٹ شروع مت کرو- چلتی ہوں میں-“ یہ کہہ کر وردا آفس کی طرف مڑ گئی-

دونوں کو ذرا برابر بھی خبر نہیں تھی کہ دور سے دو خونخوار آنکھیں مسلسل انہیں دیکھ رہی ہیں-

”دیکھتا ہوں- کب تک بچو گی تم—تمہارے لئے تو ایسا آرٹسٹک پلان ہے میرا کہ تمہیں فخر ہوگا کہ تم میرے ہاتھوں ماری گئیں- ہی ہی ہی-‘ ‘ درندے کی ہنسی میں غراہٹ کا عنصر نمایاں تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے