سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 15

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 15

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 15

تحریر: سید انور فراز

ماہنامہ نفسیات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک نہایت منفرد اور معیاری میگزین تھا، اعجاز رسول صاحب بڑی جاں فشانی اور محنت کے ساتھ یہ پرچا نکال رہے تھے لیکن اس کی ریڈر شپ محدود تھی، ماہنامہ نفسیات کا آغاز جولائی 1989 ء میں ہوا تھا، پرچے کی اشاعت آگے بڑھنے کا نام نہیں لے رہی تھی،اعجاز صاحب چاہتے تھے کہ کم از کم اشاعت اتنی تو ہوجائے کہ یہ اپنا خرچا پورا کرلے اور منافع بخش نہ ہو تو کم از کم نقصان دہ بھی نہ رہے،چناں چہ اعجاز صاحب کی مرضی کے خلاف پرچے میں فکشن کے صفحات کا اضافہ کیا گیا، ایک قسط وار کہانی ’’دیوانہ‘‘ بھی شروع کی گئی جس کا موضوع پراسراریت لیے ہوئے تھا لیکن ہندودیومالا سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، ہمارے ایک پرانے واقف جناب عرفان علی یوسف یہ کہانی لکھ رہے تھے، مزید یہ کہ نفسیات کے لیے نامور اور مشہور مصنفین سے بھی بہت اعلیٰ درجے کی کہانیاں لکھوائی گئیں، محی الدین نواب ، احمد اقبال، علیم الحق حقی اور زاہدہ حنا نے اس پرچے کے لیے لکھا جو بلاشبہ اس دور میں مقبول ترین مصنفین میں شمار ہوتے تھے لیکن پرچے کی اشاعت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، اعجاز صاحب اگرچہ ماہنامہ نفسیات کو صرف نفسیات کے موضوع تک ہی محدود رکھنا چاہتے تھے لیکن ہمارے اور جمال احسانی کے مشورے سے کہانی شائع کرنے پر راضی ہوئے اور اس شرط کے ساتھ کہ کہانی کا موضوع کوئی نفسیاتی مسئلہ ہونا چاہیے۔

ہمارے اصرار پر ایک کالم ’’علم نجوم کی روشنی میں‘‘ بھی شروع کیا گیا جس میں قارئین کے خطوط کے ساتھ ایسٹرولوجیکل رہنمائی کی جاتی تھی اور یہ ذمے داری بھی ہماری تھی مگر ہر تدبیر ناکام ہوتی چلی گئی،اعجاز صاحب ایک بار پھر مالی پریشانیوں کا شکار ہوتے چلے گئے۔

اسی زمانے میں احمد اقبال کے صاحب زادے آفتاب اقبال نے تعلیم مکمل کی اور وہ کسی جاب کی تلاش میں تھے، وہ بھی ماہنامہ نفسیات سے وابستہ ہوگئے اور دفتر آنا جانا بھی شروع کردیا تو ایک بار ہم نے ان سے کہا کہ والد صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ بھی فکشن لکھیں اور انھیں جاسوسی کے سرورق کی ایک کہانی کا ٹارگٹ دے دیا، چند روز بعد آفتاب نے کچھ صفحے ہمیں پڑھنے کے لیے دیے تو ہمیں بڑی خوشی ہوئی، موصوف کے انداز تحریر میں اپنے والد کی جھلک محسوس ہورہی تھی، ہم نے اقبال صاحب سے بھی ذکر کیا تو اقبال صاحب نے کہا کہ جب کہانی مکمل ہوجائے تو مجھے بھی پڑھوادیجیے گا،چناں چہ یہی کیا گیا، اقبال صاحب نے کہانی کے اینڈ میں تھوڑی سی ترمیم کردی، اس طرح یہ کہانی جاسوسی ڈائجسٹ میں شائع ہوئی مگر آفتاب کے نصیب میں شاید فکشن رائٹر بننا نہیں تھی،اسی دوران میں انھیں روزنامہ جنگ میں جاب مل گئی لیکن شاید یہ بھی ان کی منزل نہ تھی اور پھر وہ ایک دوسری ہی دنیا کی طرف متوجہ ہوگئے اور آج تک اسی دنیا میں خوش ہیں، بہت ترقی کی اور ایک اطمینان بخش زندگی گزار رہے ہیں۔

کاتب و کتابت

پبلشنگ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب نمودار ہوا، نوری نستعلیق کی ابتدا تو روزنامہ جنگ سے ہوچکی تھی لیکن ایک نیا پروگرام شاہکار کے نام سے متعارف ہوا جس کے بڑے چرچے ہوئے، اس کا ابتدائی تجربہ ماہنامہ نفسیات میں کیا گیا،دفتر کے قریب ہی بمبئی ہوٹل کے نام سے ایک پرانی عمارت تھی جس میں ہوٹل تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا البتہ چھوٹے چھوٹے اخبارات یا بعض پبلشرز کے دفاتر تھے البتہ اس عمارت سے جڑی ہوئی ایک دوسری کارنر کی بلڈنگ میں شہرہ آفاق ’’کیفِ خیرآباد‘‘ ہوا کرتا تھا جہاں زیادہ تر ادیب و شاعر اور صحافی پائے جاتے تھے۔

بمبئی ہوٹل کی اس عمارت میں ایک خاتون جن کا نام اب یاد نہیں ہے اور ان کے ایک پارٹنر نے آفس کھولا جہاں نئے لڑکوں کو شاہکار پروگرام کے ذریعے کمپوزنگ سکھائی جاتی تھی،مزید یہ کہ وہ دوسرے اداروں کے لیے کمپوزنگ کا کام بھی کرتے تھے ،تجسس ہمیں وہاں لے گیا،خاتون بہت خوش اخلاق اور بامروت تھیں، انھیں معلوم ہوا کہ ہم ایک بڑے ادارے سے وابستہ ہیں تو بڑے تپاک سے ملیں اور خاصی خاطر تواضع بھی کی، آخر میں فرمائش کی کہ ایک پان کھلادیں، ہم چوں کہ پان کھاتے ہیں اور وہ بھی اپنے گھر کا لہٰذا پان کی ڈبیا اور دیگر لوازمات ہمیشہ ہاتھ میں رہتے تھے، ان کی فرمائش پر ہم نے چونک کر انھیں دیکھا، وہ ہر گز پان کھانے والوں میں شمار نہیں ہوتی تھیں، ہم نے پان پیش کیا تو انھوں نے سپاری کے ساتھ تمباکو کی بھی فرمائش کی، اس پر مزید حیرت ہوئی، ہمارے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ ان کی فیملی کا تعلق لکھنو سے ہے اور ان کی والدہ اور نانی پان کھاتی ہیں لہٰذا کبھی کبھی گھر میں وہ بھی کھالیا کرتی تھیں لیکن پان خوری کی عادت بہت زیادہ نہیں ہے،بہر حال اس کے بعد سے جب بھی ہم کسی کام سے ان کے آفس جاتے تو ایک پان ضرور قربان کرنا پڑتا، ان سے مراسم بہت اچھے ہوگئے تو ہم نے وصی بدایونی صاحب کے بھتیجے کے لیے سفارش کی کہ اسے بھی کمپوزنگ سکھائی جائے، انھوں نے ہماری بات مان لی اور اسے رکھ لیا، وصی صاحب اب دفتر میں نہیں تھے لیکن ان کے بڑے بھائی رضی صاحب اور رضی صاحب کا بڑا لڑکا نعیم دفتر میں پروف ریڈنگ کیا کرتے تھے،نعیم اب ڈاکٹر نعیم کے نام سے جانے جاتے ہیں، وہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں اور آج بھی ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں جاب کر رہے ہیں، رضی صاحب کا انتقال ہوگیا، جس لڑکے کو ہم نے کمپوزنگ کے لیے بھیجا تھا اس کا نام اب یاد نہیں رہا،انہی دنوں کی بات ہے کہ علیم الحق حقی نے ایک لڑکے کو ہمارے پاس بھیجا اور اس کے ٹیلنٹ کی بڑی تعریف کی،ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کے حالات بہت خراب ہیں، گھر کا واحد کفیل ہے، کوئی جاب نہیں ہے،اسے کسی طرح ایڈجسٹ کرلیں، اس لڑکے کا فرضی نام آصف انصاری تھا، ہماری ملاقات ہوئی تو اس کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آئیں، خاصا بڑبولا اور کچھ بے چین فطرت کا مالک نظر آتا تھا، اس کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کوئی بہت بڑا تخلیق کار ہے اور تھوڑے ہی دن میں اپنے کمال سے ، غیر معمولی کارنامہ انجام دے کر دنیا کو حیران کردے گا۔

بہر حال معراج صاحب سے بات کرکے اسے پروف ریڈنگ میں لگادیا گیا لیکن چند ہی روز گزرے تھے کہ اس نے دیگر پروف ریڈرز سے بحث مباحثہ شروع کردیا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمیں بھی انٹرکام پر پریشان کرتا، یہ صورت حال دیکھ کر ہم نے حقی سے کہا کہ بھائی! یہ بندہ ہمارے ہاں نہیں چلے گا اور پھر اس کی چھٹی کردی، شاید دو تین روز بعد ہم گھر گئے تو ہماری بیگم نے ایک لفافہ ہمیں دیا اور بتایا کہ کوئی لڑکا آیا تھا اور یہ لفافہ دے گیا ہے،لفافہ کھولا تو اس میں ایک طویل خط موجود تھا جو آصف انصاری نے لکھا تھا، اپنے حالات کی سختی کا ایسے الفاظ میں تذکرہ کیا تھا کہ ہمیں بہت افسوس ہوا، دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم نے اس کی چھٹی کرکے شاید کوئی ظلم تو نہیں کیا، اپنے گھر کی فاقہ کشی کا جو نقشہ اس نے خط میں بیان کیا تھا وہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ تھا لیکن ایک بات خط میں بھی ایسی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خود کو کوئی غیر معمولی شخصیت سمجھتا ہے، اس نے آخر میں لکھا تھا کہ آپ نے میری جاب ختم کرکے مستقبل کے ایک عظیم قلم کار کا خون کردیا ہے اور اس کا گناہ آپ کے سر ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ لفظ بہ لفظ تو اس کا بیان ہمیں اب یاد نہیں لیکن تقریباً اس کی باتوں کا لب لباب کچھ ایسا ہی تھا۔

دوسرے روز ہم نے حقی صاحب کو فون کیا کہ اسے بھیج دیں، کچھ بات کرنی ہے،مزید یہ کہ ہم نے بمبئی ہوٹل میں واقع کمپوزنگ سیکشن میں اس کی جاب کے لیے بات کرلی اور جب موصوف تشریف لائے تو انھیں وہاں بھیج دیا، اس طرح ان کی جاب کا مسئلہ بھی حل ہوگیا تھا۔

ماہنامہ نفسیات کی کمپوزنگ کا کام بمبئی ہوٹل میں ہورہا تھا ، ہم نے اعجاز صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ خود یہ کام شروع کرلیں کیوں کہ دو تین لڑکے ہم نے کمپوزنگ سیکھنے کے لیے ان خاتون کے حوالے کیے تھے جن میں ایک احمد اقبال صاحب کے بڑے صاحب زادے جاوید بھی تھے ، اگر اعجاز صاحب پروگرام خرید کر یہ کام شروع کرتے تو دو تین کمپوزر فوری طور پر دستیاب ہوسکتے تھے۔

اعجاز صاحب اس کام کے لیے راضی ہوگئے کیوں کہ یہ بات انھوں نے سمجھ لی تھی کہ آنے والا دور پبلشنگ کی دنیا میں اسی نئی ایجاد کا ہے،انھوں نے معراج صاحب سے مشورہ کیا اور دفتر ہی کا ایک کمرہ کمپوزنگ سیکشن کے لیے انھیں دے دیا گیا، یہ تیسری منزل پر وہی کمرہ تھا جس میں کاتب بیٹھا کرتے تھے،اس طرح اعجاز صاحب کے کمپوزنگ سیکشن نے باقاعدہ طور کام شروع کردیا اور نفسیات کے علاوہ ادارے کے دیگر پرچوں کا کام بھی ہونے لگا،کمپوزنگ سیکھنے والے لڑکے بھی یہیں آگئے، ان کے ساتھ ہی ایک لڑکی ذکیہ بھی آئی جو اپنے کام میں خاصی مہارت رکھتی تھی لہٰذا اسی کو اس سیکشن کا انچارج بنادیا گیا، آصف ذکیہ کے معاون کے طور پر تھا ، یہاں بھی اس کی دماغی فن کاریاں جاری تھیں اور ایک بار تو اس نے حد کردی، کسی کام کے سلسلے میں ہم نے اس سے باز پرس کی تو اچانک ہی اس کا رویہ انتہائی بے ہودگی کا سامنے آیا، دیگر لوگ بھی یہ دیکھ رہے تھے، ہم نے زیادہ بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور واپس اپنے کمرے میں آگئے، اعجاز صاحب عموماً بارہ ایک بجے تک آفس آتے تھے،انھیں شاید ذکیہ نے یا کسی اور نے یہ بات بتائی، وہ سخت ناراض ہوئے اور فوری طور پر آصف کی چھٹی کردی، ہمیں یہ بات دوسرے دن معلوم ہوئی، ممکن ہے آصف نے یہ خیال کیا ہو کہ ہم نے اس کی شکایت کی ہوگی لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اعجاز صاحب سے یا معراج صاحب سے کوئی شکایت نہیں کی تھی لیکن یہ طے کرلیا تھا کہ آئندہ اس سے کبھی بات نہ کی جائے اس کے بعد بھی وہ اسی بلڈنگ میں قومی اخبار میں کمپوزنگ کرتا رہا، آتے جاتے آمنا سامنا ہوتا تھا لیکن ہم نے اس سے کبھی بات نہیں کی،کچھ لوگ بنیادی طور پر کم ظرف ہوتے ہیں، انھیں اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکال دینا چاہیے،یہ بات ہم اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔

یہ کمپوزنگ سیکشن ایک طویل عرصے اپنی ذمے داریاں پوری کرتا رہا، اعجاز صاحب کے انتقال کے بعد ان کی صاحب زادی نے یہ ذمے داری سنبھال لی تھی،بعد ازاں وہ شادی کے بعد اپنی گھریلو ذمے داریوں کی طرف متوجہ ہوگئیں اور اب یہ ادارے کی ملکیت ہے۔

ہم پہلے تذکرہ کرچکے ہیں کہ ہماری رہائش دفتر کے سامنے ایک گلی میں تھی، یہ ایک تین منزلہ پرانی عمارت تھی،ہر فلور پر ایک چھوٹا سا ڈیڑھ کمرے کا فلیٹ اور کچن باتھ روم وغیرہ ، ہمارے دروازے کے سامنے ہی دوسرے فلیٹ کا دروازہ تھا لیکن ایک بڑی عجیب بات یہ تھی کہ ایک ہی عمارت کے دو مالک تھے،گویا ایک عمارت دو حصوں میں تقسیم تھی، ہم جس حصے میں تھے ، اس میں گراؤنڈ پلس ٹو کی بنیاد پر تین فلیٹ اور اس سے جڑے ہوئے دوسرے حصے میں بھی گراؤنڈپلس ٹو تین فلیٹ ، دونوں حصوں کے مالکان الگ الگ تھے لہٰذا ہمارے گھر کے مقابل دروازہ دوسرے مالک کا تھا، جب ہم وہاں شفٹ ہوئے تو شام کے وقت دروازے پر دستک ہوئی، دروازہ کھولا تو ایک سفید ریش بزرگ صورت شخصیت اور ان کے ہمراہ ایک نوجوان لڑکی ہاتھ میں ایک ٹرے لیے موجود تھے، ٹرے میں اچھا خاصا کھانے کا سامان تھا۔

سلام دعا کے بعد بزرگ وار نے کہا کہ آپ ہمارے نئے پڑوسی ہیں، آج کا کھانا ہماری طرف سے قبول کریں، ان کا یہ اخلاق اور وضع داری ہمارے لیے بڑی اہمیت رکھتا تھا، ہم نے انھیں گھر میں بلالیا اور کچھ دیر بات چیت ہوتی رہی، انھوں نے بتایا کہ اس بلڈنگ کے آدھے حصے کا مالک میں ہوں، اس کے علاوہ جنگ اخبار کی بلڈنگ کے آخر میں ’’پریس چیمبرز‘‘ نامی بلڈنگ بھی میری ہے تو ہم چونکے کیوں کہ پریس چیمبرز کئی منزلہ بہت بڑی عمارت ہے،اسی عمارت میں سب رنگ ڈائجسٹ کے دفاتر ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سے دیگر چھوٹے موٹے پرچوں کے دفاتر اسی بلڈنگ میں رہے ہیں جب کہ گراؤنڈ پر پرنٹنگ پریس ہیں۔

تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ حاجی صاحب اور ان کی فیملی سے ہمارے ایسے مراسم ہوگئے جیسے قریبی رشتے داروں سے ہوتے ہیں، وہ خود اور ان کی بیٹی فاطمہ ہمارے بیوی بچوں کا بہت خیال رکھنے لگے، ممکن نہیں تھا کہ ان کے گھر میں کوئی اچھی ڈش تیار ہو اور وہ ہمیں بھول جائیں، یہی حال ہماری بیگم کا بھی تھا، ہم اس علاقے میں نئے تھے، کسی بات کی زیادہ معلومات نہ تھی، ان کی بیٹی فاطمہ نے ہمارے بیٹے کو اسکول میں داخل کرایا، یہ صورت حال ہمارے اصل مالکان کے لیے سخت ناگوار تھی کیوں کہ دونوں کے درمیان ایک سرد جنگ ہمیشہ سے جاری تھی، اس کی وجہ دونوں کے درمیان جاری مقدمہ بازی تھی، ہمارے مالکان حاجی صاحب کو ’’سفید شیطان‘‘ کے نام سے پکارتے تھے اور ایک دو بار ہمیں تنبیہ بھی کی کہ اس خبیث بڈھے سے دور رہنا۔

حاجی صاحب کی بیٹی فاطمہ نے خود ہمارے مالکان کے کرتوت بیان کیے اور ہمیں خبردار کیا کہ یہ لوگ آئندہ چل کر آپ کو تنگ کرسکتے ہیں اور واقعی بعد میں ایسا ہی کچھ ہوا،اس مرحلے پر حاجی صاحب نے ہماری بڑی مدد کی، بہر حال ہمیں کسی سے کیا لینا دینا تھا لیکن یہ ضرور تھا کہ حاجی صاحب اور ان کی فیملی کا جو سلوک اور رویہ ہمارے ساتھ تھا وہ نہایت شریفانہ اور محبت کا تھا لہٰذا ہم ان سے دور نہیں رہ سکتے تھے جب کہ ہمارے مالک فلیٹ اور ان کے بیٹوں وغیرہ کے خشک اور خود غرضانہ رویے بھی کچھ ہی عرصے میں ہمارے سامنے آچکے تھے۔

ایک روز حاجی صاحب نے ہمیں بلایا اور کہا کہ میں تمھیں اپنے بیٹے کی طرح سمجھتا ہوں، فاطمہ تمھاری چھوٹی بہن ہے،پریس چیمبرز میں آخری فلور پر کئی کمرے خالی ہیں، میں تمھیں اختیار دیتا ہوں کہ تم جسے چاہو بغیر ایڈوانس لیے 600 روپے ماہوار پر دے دو۔

ان کی بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے ہم سکتے میں آگئے، ہم سمجھ ہی نہیں پارہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں کہہ رہے ہیں؟ اس میں ہمارا فائدہ کیا ہے اور وہ ہم پر اس قدر مہربان کیوں ہورہے ہیں؟ بہر حال ہم نے انھیں کوئی واضح جواب نہیں دیا ، صرف اتنا کہا کہ اگر کوئی ضرورت مند ہوگا تو دیکھا جائے گا، حاجی محمد رفیع صاحب تین بیٹیوں کے باپ تھے اور بیٹا کوئی نہیں تھا، زیادہ پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود عدالتی قوانین کی بڑی سوجھ بوجھ رکھتے تھے، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ساری زندگی پراپرٹی سے متعلق مقدمے بازی میں گزری تھی، سب سے چھوٹی بیٹی کو ایل ایل بی کرایا تھا، وہ یقیناً بہت ٹیلنٹڈ لڑکی تھی، ایک بار نیلام گھر میں انعام حاصل کرچکی تھی، وہیں کوئی صاحب اس پر مرمٹے اور نتیجہ شادی کی صورت میں نکلا لیکن یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی اور طلاق ہوگئی،ایک بیٹی کوئٹہ میں بیاہی گئی تھی جب کہ منجھلی بیٹی کی شادی بھی ناکام رہی تھی جس کے باعث اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا تھا اور اسی بلڈنگ میں وہ سب سے اوپر ایک فلیٹ میں رہتی تھی۔

دفتر میں ہم نے جب حاجی صاحب کی اس فراخ دلانہ پیش کش کا ذکر کیا تو اکثر لوگ حیران ہوئے کیوں کہ واضح رہے کہ آئی آئی چندریگر روڈ کا یہ حصہ یعنی روزنامہ جنگ ، جسارت، سب رنگ، جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز، نئے اُٖق پبلی کیشنز، ہمدرد پریس، جاوید پریس اور بے شمار چھوٹے موٹے اخبار و رسائل کے دفاتر اسی حصے میں واقع تھے، یہاں ایک کمرہ بھی حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، اس علاقے میں عام طور پر ’’پگڑی سسٹم‘‘ رائج تھا جس میں خاصی بڑی رقم ایڈوانس کے طور پر دی جاتی ہے اور کرایہ بہت کم برائے نام ہوتا ہے مثلاً ہمارے فلیٹ کا کرایہ 100 روپے ماہوار تھا جب کہ ایڈوانس کی رقم 80 ہزار تھی۔

جب ہم نے یہ تذکرہ کیا تو احمد اقبال بھی موجود تھے ، انھوں نے فوراً کہا ’’ابے! فوراً پکڑ، ایسا موقع کب ملتا ہے؟‘‘

ہم اس الجھن میں تھے کہ آخر حاجی صاحب ہم سے کیا چاہتے ہیں اور یہ کام ہمارے ذریعے کیوں لینا چاہتے ہیں، اسی بلڈنگ میں ان کے دیگر ڈھیروں کرایہ دار موجود تھے جن میں خود شکیل عادل زادہ بھی تھے ، وہ کسی سے بھی کہہ دیتے کہ آخری فلور کے کمرے خالی ہیں، انھیں کرائے پر دے دیں اور بغیر کسی ایڈوانس کے تو لوگ ٹوٹ پڑتے، بہر حال اقبال صاحب نے اس قسم کے سارے اندیشوں پر لعنت بھیج کر ہم سے کہا کہ فوری طور پر ایک کمرا تو مجھے چاہیے چناں چہ ہم نے جاکر حاجی صاحب سے بات کی اور انھوں نے فوری طور پر 600 روپے کرائے کی رسید کاٹ دی اور کمرے کی چابی ہمیں دے دی جو ہم نے اقبال صاحب کے حوالے کی، ایک روز بعد ہی اقبال صاحب نے کہا کہ ایک کمرا میرے بھائی اخلاق احمد کو بھی چاہیے چناں چہ ایک رسید اور کٹ گئی، قصہ مختصر یہ کہ اور بھی بہت سے جاننے والوں کو یہ کمرے تقسیم کردیے گئے، اس زمانے میں جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کی سرخیاں ، انٹروز اور فہرست وغیرہ کا کام اکرام ہاشمی کے ذمے تھا ، وہ اس فن کے بہترین لوگوں میں سے تھے ، ماہنامہ سرگزشت کی موجودہ لوح انھوں نے ہی لکھی تھی، ایک کمرے کا تقاضا انھوں نے کیا، اس طرح پریس چیمبرز کی چھت پر تقریباً تمام ہی کمرے آباد ہوگئے، واضح رہے کہ ان کمروں کی چھت پر اسبسٹاس کی شیٹس تھیں یعنی لینٹر کی چھت نہیں تھی، شاید یہ غیر قانونی طور پر حاجی صاحب نے ایک فلور کا اضافہ کرلیا تھا، اس کے بعد احمد اقبال ہمارے دفتر سے پریس چیمبرز کی چھت پر شفٹ ہوگئے۔

مستقل مصنفین

معراج صاحب اس بات پر زور دیتے تھے کہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے لیے لکھنے والے مصنفین دوسرے پرچوں میں نہ لکھیں ، چناں چہ بعض مصنفین اس امر کی پابندی کرتے تھے، وہ اس بات کی پروا نہیں کرتے تھے کہ کوئی مصنف ہر ماہ کتنا لکھے گا، جن مصنفین پر انھیں مکمل اعتماد تھا اور ان کی تحریر پسند تھی ، وہ جتنا بھی لکھنا چاہیں انھیں مکمل آزادی تھی،چناں چہ اکثر مصنفین کا کام ضرورت سے زیادہ ہونے کی وجہ سے جمع ہوتا رہتا تھا، عام کہانیاں ہوں یا سلسلے وار، معراج صاحب مواد جمع کرتے رہتے تھے،مختلف مصنفین کی کہانیوں کے علیحدہ علیحدہ فائل بنے ہوئے تھے،اس زمانے میں مستقل طور پر ادارے کے لیے لکھنے والوں میں الیاس سیتا پوری ، محی الدین نواب، احمد اقبال، عبدالقیوم شاد، اقبال کاظمی، اثر نعمانی،ش صغیر ادیب، ناہید سلطانہ، علیم الحقی، عزیز الحسن قدسی، اقلیم علیم وغیرہ نمایاں لوگ تھے، محمود احمد مودی بھی پابندی سے لکھتے تھے لیکن وہ مسٹری میگزین کے لیے بھی کام کرتے تھے یعنی انھیں کوئی پابندی قبول نہیں تھی، احمد اقبال نے ابتدا میں یہ پابندی قبول نہیں کی اور وہ اخبار جہاں میں ’’چارلس سوبھراج‘‘ کی کہانی بھی لکھتے رہے، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ادارے سے وابستہ ہونے سے پہلے یہ کہانی لکھ رہے تھے یا شکاری شروع ہونے کے بعد انھوں نے اسے شروع کیا، اس سلسلے میں وضاحت اقبال صاحب یا اخلاق احمد کردیں گے۔

سسپنس میں پہلی تاریخی کہانی اور تصوف کی کہانی الیاس سیتا پوری لکھتے تھے،تصوف کی کہانی پر ان کی بیگم کا نام ضیا تسنیم بلگرامی شائع ہوتا تھا، دیوتا محی الدین نواب اور موت کے سوداگر اقلیم علیم لکھتے تھے،دیگر طبع زاد یا ترجمہ کہانیاں مختلف رائٹرز پوری کرتے تھے،ٹرانسلیشن کا بہت زیادہ کام اقبال کاظمی اور عبدالقیوم شاد کے ذمے تھا، اس زمانے میں مغرب سے انگریزی کہانیوں کے میگزین خصوصی طور پر منگوائے جاتے تھے،خاص طور پر مسٹری کوئن میگزین اور الفریڈ ہچکاک میگزین کے لیے خصوصی مقابلہ ہوتا اور کوشش ہوتی کہ یہ میگزین جیسے ہی مارکیٹ میں آئیں ، فوراً پاکستان پہنچ جائیں(مشہور چور نک ویلوٹ کی کہانی کا حصول اسی ذریعے سے ہوتا تھا) جس ادارے کے پاس پہلے پہنچ جاتے وہ تازہ ترین پرچے میں ان کی تمام کہانیاں استعمال کرنے کی کوشش کرتا، سب رنگ اس مقابلہ آرائی سے نکل چکا تھا کیوں کہ وہ ہر مہینے شائع نہیں ہوتا تھا، مسٹری میگزین اور نئے اُفق کی حد تک یہ مقابلہ جاری رہتا، خصوصاً اس دور میں یہ مقابلہ آرائی زیادہ رہی، جب تک اظہر کلیم نئے افق سے وابستہ رہے، اسی طرح مغرب کے مشہور اور نام ور فکشن رائٹرز کے ناول بھی فوری طور پر منگوائے جاتے، خصوصاً سڈنی شلڈن کے اقبال پاریکھ اور غلام محمد غوری عاشق تھے، ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ سب سے پہلے ان کے پرچے میں شائع ہو، بے شک سڈنی شلڈن ایک فسوں کار فکشن رائٹر ہیں، ان کا ایک ناول اقبال پاریکھ نے ’’جنون‘‘ کے نام سے شائع کیا جو بہت مقبول ہوا اور کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔

اکثر بعض ناولوں کو پاکستانی یا ہندوستانی پس منظر میں اپنایا گیا، معراج صاحب کا خیال تھا کہ لوگ مغربی ماحول اور کرداروں کے مقابلے میں اپنے ماحول اور اپنے کرداروں کو زیادہ پسند کرتے ہیں، چناں چہ بے شمار انگریزی ناول ایڈاپٹ کرکے شائع کیے گئے، علیم الحق حقی کے پسندیدہ مصنف ارونگ ویلس کا ناول المائٹی، مہاتما کے نام سے ایڈاپٹ کیا گیا، اس کہانی پر بعد ازاں انڈیا میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی، اسی طرح ارونگ ویلس ہی کا ایک ناول جس کا اصل نام اب ذہن میں نہیں ہے، یہ امریکا میں ہونے والی ایک آئینی ترمیم کے بارے میں تھا، ان دنوں پاکستان میں آٹھویں آئینی ترمیم کا بڑا چرچا تھا، معراج صاحب چاہتے تھے کہ اسے بھی ایڈاپٹ کیا جائے لیکن حقی اس کے لیے راضی نہیں ہوئے اور بالآخر یہ ’’سلطانی جمہور‘‘ کے نام سے شائع ہوا، غرض بے شمار ناول اور کہانیاں ایسی ہیں جو ایڈاپٹیشن کے بعد شائع ہوئی اور یہ کام اقبال کاظمی، عبدالقیوم شاد، علیم الحق حقی، احمد اقبال، محمود احمد مودی نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا کرتے تھے۔

سسپنس کے آخری صفحات کی کہانی خاصے کی چیز ہوا کرتی تھی، عام یا نئے مصنفین پر معراج صاحب کو اس حوالے سے بھروسا نہیں ہوتا تھا لہٰذا نواب صاحب ، حقی ، احمد اقبال ، عبدالقیوم شاد، محمود احمد مودی ، ناہید سلطانہ ، ش صغیر ادیب، آخری صفحات کے لیے مخصوص تھے۔

جاسوسی ڈائجسٹ میں پہلی کہانی اگر طبع زاد نہ ہوتی تو کوئی معرکہ آرا انگریزی ناول کا ترجمہ بھی قابل قبول تھا، شکاری احمد اقبال لکھ رہے تھے اور مجاہد 1988 ء تک ایم اے راحت نے لکھی اور پھر عزیز الحسن قدسی سے لکھوائی گئی اور انھوں نے ہی اسے آخر تک لکھا ، مجاہد ایسی سلسلے وار کہانی ہے جس کا آغاز جاسوسی ڈائجسٹ میں ہوا اور اختتام ماہنامہ سرگزشت میں۔

جاسوسی میں خاصے کی چیز سرورق کے تین رنگ تھے ، اس سلسلے میں بھی مخصوص رائٹرز مقرر تھے، سرفہرست اثر نعمانی، ان کے علاوہ احمد اقبال (صبا احمد) عبدالقیوم شاد، محمود احمد مودی، محی الدین نواب، علیم الحق حقی اور بھی دیگر مصنفین سرورق کے رنگ لکھتے رہے، جب منظر امام ادارے سے وابستہ ہوئے تو وہ بھی مستقل سرورق کا رنگ لکھتے رہے، آگے چل کر جب ایچ اقبال دوبارہ ادارے سے وابستہ ہوئے تو انھیں بھی یہ ذمے داری دی گئی،کم از کم سرگزشت کے اجرا تک یہی صورت حال جاری رہی، البتہ درمیان میں ایک واقعہ ایسا ہوا جس کی وجہ سے اقبال کاظمی ادارہ چھوڑ گئے اور معراج صاحب کی بلیک لسٹ میں آگئے، ان شاء اللہ یہ قصہ آئندہ بیان ہوگا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کراچی یاترا …امجد جاوید قسط نمبر 01

کراچی یاترا امجد جاوید  کراچی یاترا کے لئے پہلا پڑاﺅ ملتان میں ٹھہرا۔ 5دسمبر2019ءکی دوپہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے