سر ورق / سفر نامہ / مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق میاں

مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق میاں

سر تھامس میور کا ”یوٹوپیا“۔1

                وہ دن بڑا خوب صورت تھا یا پھر مجھے لگ رہا تھا۔ چھٹی ہونے کی وجہ سے میں بھر پور نیند کے بعد ناشتے کی میز پر تھا۔مسیولینی کا اصرار تھا کہ جوس پیا جائے جبکہ مجھے کافی کی طلب ہو رہی تھی۔

                خلافت توقع وہ جلدی مان گیا اور مجھے کافی کا مگ تھماتے ہوئے میرے عین سامنے بیٹھ گیا۔ کافی دیر خاموش رہنے کے بعد اچانک بولا”یار تمہیں کچھ پتا ہے؟“

                ”نہیں مجھے کچھ پتہ نہیں“ میں نے مگ سے اٹھتی ہوئی بھاپ میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔

                ”ہم جو اس خواب جزیرے پر رہ رہے ہیں ۔ اس کے بارے میں پتہ ہے؟ ” اس نے خیالوں میںکھوئے ہوئے کہا۔

                ”بھئی کیا پتہ ہے؟“ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا

                ”یہی کہ کب سے آباد ہے۔تاریخ کے کس دور سے گذرا۔ چشم فلک نے یہاں کے لوگوں کو کن کن حالت میں دیکھا۔ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے تاریخ بنائی اور……

                ”کہیں تمھارا یہ تو نہیں کہ آج کا دن گھر میں گذاریں ، باہر کہیں نہ جائیں یا تمہیں اپنی کہی ہوئی بات سے دلچسپی ہے۔“میرے اس طرح کہنے پر اگرچہ اسے بد مزہ ہو جانا چاہیے تھا لیکن وہ خاموش رہا اور مسلسل میری جانب دیکھتا رہا۔ اس صورت حال میں مجھے یقین ہو گیا کہ وجہ کچھ بھی رہی ہو ، مجھے بہر حال بتانا پڑے گا۔ میں نے کرسی پر پھیلنے ہوئے کہنا شروع کر دیا۔

                ”اس خواب جزیرے کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ لوگوں نے یہاں پر باقاعدہ طور پر کب سے رہنا شروع کیا۔ انہوں نے فصلیں بھی لگائیں اور جانوروں کو بھی پالا۔ وہ ایک خاص چمکدار پتھر سے اوزار اور ہتھیار بناتے تھے۔آہستہ آہستہ انہوں نے پتھر کی جگہ ایک مخصوص قسم کی دھات کا استعمال شروع کر دیا۔مورخ نہیں جانتے کہ یہ استعمال انہیں کس نے سکھایا۔

                مورخین کے خیال میں سل ٹس (CEL TS) 600 قبل مسیح میں اس جزیرے پر وارد ہوئے۔ یہ لوگ محنتی ،جفاکش اور جنگجو تھے۔ یہ لوگ قبائل کی صورت میں آباد تھے اور فطری چیزوں کی پرستش کر کے اپنے من کو سکون دینے کی کوشش کرتے تھے۔انہوں نے اونی کپڑے تیار کئے اور انہیں مختلف رنگوں میں رنگ کر اپنے ذوق کو تسکین دی۔ یہ لوگ اس جزیرے سے باہر تجارت بھی کرتے تھے۔

                جولیس سیریزنے بحر اوقیانوس کوعبور کر کے اپنے تجسس کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔پھر رومن شاہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اس جزیرے کو فتح کر ہی لیا جائے۔انہوں نے اپنے عزائم کے مطابق سل ٹس قبائل کو شکست دے کر شمال اور مغرب میں دھکیل دیا۔انہوں نے اس ملک کی بنیاد نئے سرے سے رکھی۔کئی شہر بسائے۔ قلعے تعمیر کروائے اور سڑکوں کے جال بچھائے تا کہ آمدورفت میں آسانی رہے۔ 400ءمیں رومن سپاہی برطانیہ سے واپس منگوائے گئے تا کہ بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جو لوگ برطانیہ میں رہ گئے تھے وہ سکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ کے حملہ آوروں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اینگلز (ANGLES)سیکسون اور جوٹس قبائل نے بھی بچھے کچھے رومنز حکمران پر تابڑ توڑ حملے کئے اور لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا۔450ءمیں انہی تینوں قبائل نے مستقل سکونت اختیار کرنا شروع کر دی۔ جوٹس برطانیہ کے جنوب مشرق میں آباد ہو گئے۔ سیکسون ملک کے شمالی علاقوں میں اور اینگلزشمال مشرقی حصوں میں پھیل گئے۔کوئی نہیں جانتا کہ سارے جزیرے کو اینگل لیند کب سے جانا گیا۔ یہاں عیسائیت کا چرچا ہوا اور آہستہ آہستہ اس ملک کا شمار امیر ملکوں میں ہونے لگا۔800ءمیں ڈینش حملہ آوروں نے اس جزیرے پر ہلہ بول دیا۔

                ویسکس(WESSEX)کے بادشاہ الفریڈ نے انہیں پسپا کر دیا۔ ا س زمانے میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت جزیر ہ دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

                الفریڈ نہایت زیرک اور معاملہ فہم بادشاہ تھا۔اس نے ہمیشہ چرچ کی حمایت کی‘ علم کے حصول پر زور دیا اور پہلا انگریزی جنگی بحری بیڑا تیار کیا۔لیکن الفریڈ کی وفات کے سو سال بعد اینگلوسیکس بادشاہت بہت کمزور ہو گئی۔ڈینش لوگوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈینش قوانین متعارف کروائے اور گیارویں صدی عیسوی کے شروع ہی میں ڈینش شہنشاہ کینوٹ (CANUTE)نے برطانیہ کا تحت و تاج سنبھال لیا اور تقریبا بیس سال تک حکومت کی۔ اس کی وفات کے بعد سلطنت کمزور ہو گئی ۔ ایڈورڑ جو کہ بنیادی طور پر ایک پادری تھا اس جزیرے کا آخری اینگلو سیکسون بادشاہ تھا۔

                1066ءمیں شہنشاہ ایڈورڈ نے وفات پائی تو انگریز امراءنے ایڈورڈ کے برادر نسبتی ہیرلڈ کو بادشاہ چن لیا۔ لیکن ایک نارمن نواب ولیم نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فوج کی مددسے 1066ء میں ہیرلڈ کو شکست دے کر تحت و تاج پر قبضہ کر لیا۔ ولیم نے خدمات کے اعتراف میں لوگوں کو زمین اور قطعات دینا شروع کر دیے اور نارمن فرنچ زبان کو متعارف کرایا۔اس نے ایک مضبوط مرکزی حکومت کی بنیاد رکھی۔یوں برطانیہ جنگجو سرداروں ، پادریوں ،غلاموں اور بادشاہوں کے ساتھ ایک جاگیردرانہ معاشرہ بن گیا۔1085ءمیں شہنشاہ ولیم نے پورے برطانیہ کا سروے کر دیا۔ اسی سال ایک کتاب تیار کروائی گئی جو DO-MESDAY کے نام سے آج بھی ان کے ورثہ میں محفوظ ہے۔ اس کتاب میں بہت سی ملکیتی معلومات اور وہاں پر رہنے والے باشندوں کے مختلف طبقات کی تفصیل رقم ہے۔

                نارمن قوم کی حکمرانی کے باوجود اینگلو سیکسون نے اپنی زبان اور رسم و رواج پر گرفت رکھی۔یہ ہی وجہ ہے کہ انگریزی زبان میں اکثر دو طرح کے الفاظ پائے جاتے ہیں ایک نارمن اور دوسرا اینگلو سیکسون۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ یہ ایک قوم بن گئے اور ان کی نئی زبان ”مڈل انگلش“ قرار پائی۔یہ کافی حد تک قدیم انگریزی سے ملتی جلتی ہے۔

                ہنری اول کے زمانے میں جزیرے کے اکثر نوابوں نے اپنے قلعے تعمیر کرنے شروع کر دیئے۔ وہ خود مختارانہ حاکمیت کے خواہش مند تھے۔ہنری اول نے بادشاہت کو تقویت دینے میںکوئی کسر نہ چھوڑی۔ شہنشاہ سٹیفن کے دور میں بادشاہت ایک دفعہ پھر کمزور پڑھ گئی۔ہنری دوئم نے اپنے دور شہنشاہت میں ہنری اول کی طرز کی بادشاہت قائم کی۔ ہنری دوئم نے اپنا زیادہ تروقت فرانس میں صرف کیا۔وہ قانون اور اس کی بالادستی کا قائل تھا۔ چرچ اور عدالت کے درمیان اختیارات کا تنازعہ اسی دور میں شروع ہوا تھا۔ چرچ سے متعلقہ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ سزاﺅں کا اختیار چرچ کے پاس ہونا چاہیے۔جبکہ ہنری چاہتا تھا کہ یہ سارے اختیارات شاہی عدالتوں کے پاس ہونے چاہیں۔

                اسی تنازعہ میں تھامس بیکٹ(THOMES BEEKET)کا تاریخی قتل ہوا۔ اینگلو سیکسون دور میں بادشاہ، پادریوں اور نوابوں کو دعوت دیا کرتا تھا۔پادری اور نواب ایک جگہ اکٹھے ہوتے تا کہ جزیرے میں در پیش مسائل پر بات ہو سکے۔1265ءمیں سائمن (SIMON)نے جنگجو سرداروں کو بادشاہ کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔ سائمن نے تمام سرداروں اور نوابوں کو ایک جگہ جمع ہونے کے لئے بلا بھیجا۔ جیسے بعد میں ”پارلیمنٹ“ کا نام دے دیا گیا۔ یہ پارلیمنٹ ایڈورڈاول کے زمانے میں مضبوط ترین ادارہ بن گیا۔

                ایڈورڈاول ایک عقل مند اور انصاف پسند بادشاہ تھا۔ اس نے 1282ءمیں ویلیز (WALES) کو انگریزی کنٹرول میں لے لیا۔ بعد میں اس نے ”پرنس آف ویلیز “ کا اعزاز اپنے بیٹے کو عطا کر دیا۔ اس نے سکا ٹ لینڈ پر بھی قبضہ جمانے کی کوشش کی لیکن غیور سکاٹش اپنی آزادی کی جنگ میںکامیاب رہے۔ اس نے پارلیمنٹ کے سائز کو بڑا کیا اور مزید سرداروں اور نوابوں کو شامل کیا۔ چرچ سے متعلقہ افراد کو کم از کم نمائندگی دی۔ 1295ءمیں اس نے ایک ماڈل پارلیمنٹ کی بنیاد رکھی۔

                تیرھویں صدی میں برطانیہ علمی لحاظ سے مرکز بنتا جا رہا تھا۔ روجر بیکن (ROGER BACON) اور جان ڈن(JOHN DUNS)اس زمانے کے قابل مفکر اور فلسفی مانے جاتے تھے۔

                1337ءسے لے کر 1453ءتک ایک صدی پر محیط جنگ جو برطانیہ اور فرانس کے درمیان لڑی گئی ، ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ایڈورڈسوئم نے فرانس کی بادشاہت پر اپنا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی فوج کے ساتھ نارمنڈی پر چڑھائی کر دی اور اپنی حکمت عملی کے باعث اس کا پلہ بھاری رہا۔اس دوران 1349ءمیں برطانیہ میں ایک وبائی مرض پھیلا۔ یہ طاعون کے وبا کی طرح ایک بیماری تھی۔ جس نے برطانیہ کی آبادی کے آدھے سے زیادہ نفوس کو ہڑپ کر لیا۔

                وبائی بیماری اور طویل ترین جنگ کے ستائے ہوئے لوگوں نے جنگ کی مخالفت کرنا شروع کر دی۔ وہ جنگ کی بناءپر بھاری ٹیکس ادا کرنے سے قاصر تھے۔رچرڈ دوئم کے وقت میں ایک واٹ ٹیلر نامی لوہار نے باغی کارکنوں کی قیادت کی۔ یہ بغاوت جو بلوہ گیری کی بنیاد پر تھی ‘جلد یہ مشرقی حصے میں پھیل گئی۔ باغیوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے گھروں اور اہم دستاویزات کو نذر آتش کیا اور قیدیوں کو رہائی دلائی۔ان بلوہ گیر باغیوں نے بہت جلد اپنی قوت کو منوالیا۔یہاں تک کہ چند سرداروں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے ان کی حمایت کی۔واٹ ٹیلر نے بادشاہ وقت کو ایک یادداشت پیش کی۔ جس میں جبری مشقت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔رچرڈ نے اپنا سنگھاسن ڈولتے ہوئے دیکھ کر باغیوں کی ساری خواہشات کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن اگلے ہی دن واٹ ٹیلر کو قتل کر دیا اور پھربغاوت کچل دی گئی۔

                رچرڈ دوئم ایک آمر بادشاہ تھا۔ اس نے اعلان کر دیا کہ وہ پارلیمنٹ کے بغیر حکمرانی کرے گا۔ اسی سے ظاہر تھا کہ وہ من مانی چاہتا ہے۔ اس نے ریاست کے امور کچھ اس طرح چلائے کہ کسی کو بھی پسند نہ آئے۔بالآخر اسے اس بات پر مجبور کر دیا گیا کہ وہ تحت و تاج چھوڑ دے۔ پارلیمنٹ نے لنکاسٹر کے ایک نواب کو شہنشاہ برطانیہ چن لیا۔ جو تاریخ میں ہنری چہارم(HANERY-iv)کے نام سے مشہور ہوا۔

                ہنری چہارم کا زیادہ تر وقت چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں گذر گیا۔ لیکن اس کے بیٹے ہنری پنجم نے فرائس میں اپنی مہم کے باعث بہت شہرت پائی۔اس نے 1415ءمیں ایجن کورٹ (AGIN COURT)کے مقام پر عظیم فتح حاصل کی۔اس نے فرانس کے بادشاہ کواس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اسے نائب اور وارث کے طور پر قبول کرے۔ ہنری پنجم کی وفات کے بعد فرانسیسیوں نے انگریزوں کو شکست دے ڈالی۔جان آف آرک (JHONE OF ARC)جس نے فرانسیسیوں کی قیادت کی تھی‘ انگیریزی اتحادیوں کے ہاتھوں پکڑی گئی۔ جنہوں نے اسے آگ میں جلا ڈالا۔

                ایک صدی پر محیط جنگ اپنے اختتام کے قریب تھی کہ برطانوی تخت و تاج چھیننے کی ایک اور کوشش کی گئی۔ ہنری ششم ایک کمزور حکمران تھا۔ یارک کے نوابوں نے اس کے خلاف متحد ہو کر ایک محاذ کھڑا کر دیا۔ یہ جنگیں ”پھولوں کی جنگ“ کے نام سے یاد کی جاتی ہیں۔ یہ اس لئے کہ یارک کے نواب ایک سفید پھول جبکہ لنکا سٹر والے ایک سرخ پھول کو علامت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ایڈورڈ چہارم نے 1461ءمیں تاج طرطانیہ ہنری ششم سے چھین لیا اور حکومت کرنی شروع کر دی لیکن ہنری نے 1470ءمیں چھینی ہوئی حکومت واپس لے لی مگر اس پر زیادہ دیر قابض نہ ہو سکا۔ایڈورڈ پھر دوسری دفعہ بادشاہ بن گیا۔ اس کی اولاد نے ابھی شعور نہیں سنبھالا تھا کہ وہ اس جہاں فانی سے کوچ کر گیا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بھائی رچرڈ پہلے نگران بنا لیکن پھر دعویٰ کر دیا کہ میں ہی حاکم وقت ہوں۔ تاریخ میں اس نے رچرڈ سوئم کا نام پایا۔ کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یتیم شہزادوں کا قاتل بھی یہی تھا۔1485ءمیں رچرڈ سوئم اپنے انجام کو پہنچا۔ میدان جنگ میں اسے زبردست شکست ہوئی اور وہ بوزورتھ(BOSWORTH)کے مقام پر مارا گیا۔

                چودھویں اور پندرویں صدی عیسوی سیاسی سر گرمیاں تک محدود نہیں تھی۔ اس دور میں انگریزی شاعری نے پہلی بار مناسب مقام حاصل کیا۔ولیم لینگ لینڈ (WILLIAM LENGLADN)نے مشہور زمانہ”THE VISION OF PIERS FPOW MAN“ لکھی۔جسے انگریزی ادب میں اب پہلی مشہور نظموں کا مجموعہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جفری چاسر (GEOFFERY CHAUCER) جو انگریزی شاعری کا باپ مانا جاتا ہے‘ نے بھی اسی دور میں کنٹربری ٹیلز (CANTERBURY TALES)لکھ کر انگریزی ادب کو شاہکار دیا۔ 1496ءمیں ولیم کیکٹسن(W. CAXTON) نامی ایک شخص نے ویسٹ منسٹر کے مقام پرا یک چھاپہ خانہ کی بنیاد رکھی۔

                ٹوڈر (TUDOR)کا دور جاگیردرانہ نظام کے زوال کا دور تھا۔ اس کے دور میں بڑی سرعت سے تبدیلیاں رونما ہوئیں۔اون اور کپڑے کی تجارت نے کافی ترقی حاصل کی۔ تاجروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جلد ہی نوابوں پر دولت اور اثر رسوخ میں سبقت حاصل کر لی ۔ اسی دور میں پانی اور فضا میں راستے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہنری ٹورڈ (HENRY TUDEO)ہنری ہفتم کے نام سے جانا گیا۔ ہنری ہفتم بے پناہ وقت رکھنے والا بادشاہ تھا۔ اس نے برطانیہ کو ایک مظبوط قوم کے طور پر پیش کیا۔ اس نے نوابوں کے درمیان جاری لڑائیوں کو ختم کر وایا اور نوابوں کو پر امن رکھنے کے لئے سخت طریقے بھی اختیار کئے۔اس نے یارک کی نواب زادی سے شادی کی۔ ہنری میں انفرادیت تھی کہ پارلیمنٹ کے ساتھ کام کرتا تھا اور ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کے معاملات اور دلچسپیوں سے چشم پوشی نہیں کرتا تھا۔یہ بات اسے دوسرے حکمرانوں سے ممتاز کرتی تھی۔ہنری نے اپنی بیٹی سکاٹ لینڈ کے بادشاہ سے اور اپنے بیٹے کو کتھرین آف آرگن (CATHERINE OF AROGON)سے بیاہ کر ا پنی پوزیشن کو مظبوط کر لیا۔

                ہنری ہشتم (Henry-viii)منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا۔جب اس نے عنان حکومت سنبھالی تو ورا ثت میں اسے بہت بڑا خزانہ ملا۔ہنری ہفتم مالیات کا جادوگر تھا۔ ہنری ہشتم بھی اگرچہ عقل رکھتا تھا لیکن وہ خود غرض بے جا خرچ کرنے والا او کھیل و تفریح کا دلدادہ تھا۔جب اس نے اپنی چھ بیویوں میں سے کیتھرائن آف آرگن کو طلاق دینا چاہی تو پوپ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تب اس بادشاہ وقت نے اسے اپنی نافرمانی سمجھتے ہوئے پارلیمنٹ کو حکم دیا کہ پوپ کی بجائے بادشاہ وقت ہی کیتھولک چرچ کا ناظم اعلیٰ ہو گا۔ اس نے چرچ سے وابستہ مذہبی خدمت گاروں کی جائیدادیں ضبط کر لیں۔ انگریز پادریوں نے رومن کیتھولک میں تبدیلیاں کیں جو بعد میں چرچ آف انگلینڈ کہلائے۔ایسے پادری جنہوں نے انکار کیا بادشاہ وقت نے ان کے سر قلم کروادیئے۔مقبول عام سر تھامس میور مشہور یوٹوپیا کے خالق کا سرنافرمانی کرنے پر تن سے جدا کر دیا۔ ہنری نے خود سری کرتے ہوئے خود کو آئر لینڈ کا بادشاہ بھی کہلوانا شروع کر دیا۔ لیکن آئرش قوم نے اسے کبھی تسلیم نہ کیا۔ ہنری کے اکلوتے بیٹے ایڈورڈ ششم کے دور میں بھی چرچ آف انگلینڈ ترقی کرتا گیا۔ایڈورڈ کی بہن اور کتھیراین آف آرگن کی بیٹی ”میری‘ ‘ بھی اپنی ماں کی طرح رومن کیتھولک پر ہی کابند رہی۔ 1553ءمیں جبکہ وہ ملکہ برطانیہ بنی تو میری نے رومن کیتھولک کو دوبارہ ریاست کا مذہب قرار دے دیا۔ اس شاہی فرمان کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے سر تن سے جدا کر دیے گئے۔ شاید بادشاہوں کی سرشت میں یہ شامل ہے کہ وہ نافرمانی پسند نہیں کرتے۔ الزبتھ(ELIZABETH)نے 1558ءمیں اپنی بہن میری کی وفات کے بعد عنان اقتدار سنبھالا۔ یہ سنہری دور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ الزبتھ پرٹسٹنٹ(PROTESTANT)تھی۔ انگریز قوم میری کو اس لیے نا پسند کرتی تھی کہ اس کی ماں ہسپانوی تھی۔ الزبتھ نے چرچ آف انگلینڈ کی نئے سرے سے تعمیر کی۔ وہ ایک چاک و چوبند حکمران تھی۔وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ کھیلتی رہی۔ فرانس اور سپین کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیا۔ اس نے اپنی حکمت عملی روائتی قسم کی رکھی۔اس طرح طرطانیہ قدم بہ قدم خوشحالی کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اس کے دور میں برطانیہ انگریزی موسیقاروں ، شاعروں ،فلسفیوں اور فنکاروں کی آماجگاھ بن گےا۔

                1588ءمیںہسپانیہ کے بادشاہ فلپ دوئم نے برطانیہ کو للچائی نظروں سے دیکھا اور بڑا جنگی بیڑا حملے کے لئے روزانہ کر دیا۔ لیکن وطن پرست انگریزوں نے اپنے ہلکے بحری جہازوں کی مدد سے ہی اس جنگی بیڑے کو شکست دے دی۔ جب کہ سمندری طوفانوں نے بچھے کچھے جہازوں کو تباہ کر دیا۔ اس فتح کے بعد برطانیہ ایک مضبوط بحری فوج والا ملک مانا جانے لگا۔ ہسپانوی بحری بیڑے آرمڈا (ARMADA)کی شکست کے بعد برطانیہ نے ہر میدان میں ترقی کی۔ انگریزاپنی بیوی اپنی ملکہ اور اپنے ملک پر فخر کرتے ہیں۔ 1600ءمیں برطانوی تاجروں نے ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کی بنیاد رکھی۔

                1603ءمیں ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سکاٹ لینڈ کے شہنشاہ جیمس ششم انگریزی تخت و تاج کے جانشین تھے ۔ وہ برطانیہ میں جیمس اول کہلائے گئے۔ ان کی والدہ میرکو انگریزی تاریخ میںخاصا عزت افزا مقام حاصل ہے۔ تاریخ میں یہ بڑا دلچسپ واقعہ ہے کہ دو مختلف قوموں کا ایک بادشاہ ہو جبکہ دونوں امارات کے امور علیحدہ علیحدہ سر انجام دئے جاتے تھے۔جیمس اول ایک غیر مقبول بادشاہ تھا۔اس نے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپانیہ کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھے اور یوں پارلیمنٹ کو شدید ناراض کیا۔ اس نے شاہی خزانے کا بے جا استعمال کی۔وہ امور سلطنت چلانے میں ماہر نہیں تھا۔اس کی نادانی کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دفعہ پرٹسٹنٹ اور کیتھولک دونوں کو سزائیں دے کر انگریز قوم کی ناراضگی مول لی۔جس کے نتیجے میں 5نومبر1605ءمیں گائے فاکس (GUY FAWKES)اور دوسرے کتھولک پیروکاروں نے بادشاہت اور پارلیمنٹ ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس خفیہ تحریک کو آج بھی ”گن پاوڈر“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

                1607ءمیں انگریز آباد کاروں نے امریکہ میں ورجینیا کے مقام پر پہلی کالونی بنائی۔ جیمس کے ظلم و ستم اور سیاہ کاریوں سے بچنے کے لئے پرٹسٹنٹوں کا ایک مظلوم گروپ 1620ءمیں امریکہ چلا گیا۔ مذہب کی خاطر تقل مکانی کرنے والوں کو تاریخ میں پیلی گرام فیتھو(PILGRIM FATHEVS)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

                جیمس کے بیٹے چارلس اول کے زمانے میں بادشاہت اورپارلیمنٹ کے درمیان اخیتارات کی کھنچاتانی شدت اختیار کر گئی۔ پارلیمنٹ نے 1628ءمیں چارلس کو مجبور کیا کہ وہ بنیادی حقوق کی درخواست کے ساتھ متفق ہو۔ وہ ذہنی طور پر راضی ہو گیا کہ سماعت کے بغیر کوئی سزا نہیں ہو گی اور کسی قسم کا ٹیکس پارلیمنٹ کی مرضی کے بغیر لاگو نہیں ہو گا۔ لیکن چارلس اورل نے اسے بعد میں نظر انداز کر دیا۔

                1642ءمیں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ پروٹسٹنٹ پارٹی کے ارکان نے پارلیمنٹ کے حق میں گہری گرم جوشی کا ثبوت دیا۔ پروٹسٹنٹ پارٹی کے ارکان ”گول سروں والے“کے نام سے مشہور ہوئے۔ (کیونکہ انہوں نے اپنے اطراف سے بال انتہائی چھوٹے کروالئے تھے) انہوں نے سخت قسم کے نظریات کا اعلان کر دیا ۔ اور لیورکرام ویل (OLIVER CROMWELL)ایک اہم پارلیمانی لیڈر جس نے بہت سی فتوحات حاصل کیں۔ چارلس اول قید ہو اور 1649ءمیں اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا ۔ اس طرح ایک آمر بادشاہ اپنے انجام کو پہنچا۔

                برطانیہ اس وقت ایک جمہوری مملک اور دولت مشترکہ کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ جسے پارلیمنٹ کے کچھ منتخب ارکان چلا رہے تھے۔ اولیورکرام ویل نے 1653ءمیں پارلیمنٹ کا مواخذہ کرتے ہوئے دولت مشترکہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔وہ اپنے آپ کو محافظ کہتا تھا حالانکہ وہ ایک آمر تھا۔نام نہاد محافظ نے آئر لینڈ کے حصول کے لئے قتل عام کی ابتدا کی۔ اس کی اس حرکت نے انگریزوں کوانتہائی غیر مقبول بنا دیا۔

                1658ءمیں اولیوکرام ویل کی موت کے بعد اس کا بیٹا رچرڈ کرام ویل محافظ چنا گیا لیکن رچرڈ سے امور سلطنت نہ چلائے جا سکے ۔ 1660میں سٹورٹس (STUARTS)دوبارہ حکمران بن گیا۔ یہی زمانہ تھا جب ملک میں پروٹسٹنٹ پیروکاروں اور ان کے سخت عقائد کے خلاف ایک لہر اٹھی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ٹوریز (TORIES) اور ہگز(WHIGS)کے نام سے سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔

                چارلس کے بھائی جیمس دوئم کی خواہش تھی کہ کسی طرح رومن کیتھولک کی بحالی ہو جائے اور بادشاہ وقت کو پھر سے یہ قوت میسر آجائے۔ اس مقصد کے لئے اس نے عوام کی اکثریت کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔ اسے یہ امید تھی کہ اس کی پروٹسٹنٹ بیٹیاں”میری “اور ”این“اسے کامیاب کروائیں۔ اس طرح کیتھولک اور پروٹسٹنٹ قوتیں اس کی حمایت میں آ جائیں گی۔ مگر اس مقصد کے لئے سخت جدوجہد کی ضرورت تھی۔ لوگ ایک اور خانہ جنگی نہیں چاہتے تھے۔ بالآخر 1688ءمیں جیمس دوئم فرانس چلا گیا۔ پارلیمنٹ نے میری اور اس کے خاوند ولیم آف اورنج کو بادشاہت کے لئے بلا بھیجا۔ ولیم آف اورنج اس وقت ہالینڈ کا بادشاہ تھا۔ یہ دورانیہ انگریزی تاریخ میں شاندار انقلابی دور کے نام سے جانا جاتا ہے۔برطانیہ میں اس وقت کے بعد کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کردیا کہ برطانیہ کی ملکہ اور بادشاہ چرچ آف انگلینڈ کے بھی رکن ہوں گے۔

                1689ءمیں پارلیمنٹ نے بل آف رائٹس کے نام سے ایک بل منظور کی۔ جس میں لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی یقین دہانی کروائی گئی۔ اس دور میں پارلیمنٹ ملک میںغیر متنازعہ قوت کے طور پر ابھری۔

                سٹیورٹ (STUART)کی آخری ملکہ ”ملکہ این“کے دور کو روم کے حکمران آگسٹس(Augustus)کے دور سے مشابہ قرار دیا جاتاہے۔ جیےس ایگزنیڈرپوپ ’جوناتھن سوفٹ اور جوزف ایڈیسن ‘ نے انگریزی ادب میں ایک عالی شان او رکے طور پر پیش کیا۔ برطانیہ میںمعاشی خوشحالی نے اسی دو ر میں کروٹ لی۔ بنک آف انگلینڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ برطانیہ اور سکاٹ لینڈ تقریباً سو سال تک ایک ہی بادشاہ کے زیر سایہ پروان چڑھتے رہے۔ تاہم دونوں امارات میں کئی دفعہ لڑائیاں بھی ہو گئیں۔1707ءمیں پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا اسے ایکٹ آف یونین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت برطانیہ سکاٹ لینڈ اور ویلیز کا استعمال کر دیا گیا۔ اس طرح ایک نئی سلطنت وجود میں آئی جیسے عظیم برطانیہ(Great Britain) کہا جاتا ہے۔

                میں نے اتنا کچھ کہنے کے بعد مسیولینی کی طرف دیکھا جو بڑے غور سے باتیں سن رہا تھا۔ پھر اچانک اٹھ کھڑا ہوا تو میں نے پوچھا ”ارے کہاں چلے؟“

                ”تمھارے لیے کافی لینے۔آج رات کا کھانا باہر سے کھائیں گے۔“ اس نے بڑے نیاز مندانہ انداز میں کہا تو میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

                ”اتنی نیاز مندی کا ہے کو؟“

                ”یہ سب تو کرنا پڑے گا۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

                ”وہ کیوں؟“ میں نے تجسس سے پوچھا۔

                ”جہاں تک تم نے بات چھوڑی ہے وہاں سے آج تک کی بات نہیں سننی کیا۔“ اس نے آنکھوں میں مسکراتے ہوئے کہا۔

                ”او! لیکن آج تو نہیں“ میں گبھراگیا۔

                ”اگلے چھٹی والے دن“۔ یہ کہہ کر وہ کچن کی طرف چلا گیا۔

سرتھامس میور کا ”یوٹوپیا“۔2

                اس دن مسیولینی ناشتہ بنانے میںبڑی گرم جوشی کا مظاہر کر رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے بیڈ ٹی دے کر گیا تو موسم کی صورت حال کے ساتھ ساتھ ناشتے میں ملنے والی مزیدار چیزوں کے بارے میں بھی اشارہ د ے گیا۔ناشتہ ختم کر کے اس نے اسی انداز میں کافی کا مگ تھماتے ہوئے کہا۔”اچھا تو پھر کیا ہوا؟“

                ”کیاہوا ‘کیا مطلب؟“ میں نے حیرانگی سے پوچھا۔

                ”وہ آپ کہہ رہے تھے نا، اس خواب جزیرے کے بارے میں “ مسیولینی نے بڑے ہی ادب سے مجھے یاد دلایا تو میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا میں نے دیکھا وہ ہمہ تین گوش ہے تو میں نے مگ میں سے آخری سپ لیا اور کہنا شروع کر دیا۔

                ملکہ این کا قریبی پرٹسٹنٹ رشتہ دار ایک جرمن شہزادہ تھا جو کہ 1714ءمیں برطانیہ کا بادشاہ بنا ۔ وہ تاریخ میں جارج اول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ باد شاہ انگریزی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اسے ملکی امور سے لگاﺅ تھا۔ اسی باعث اس نے ہر معاملہ وہگ (WHIG) پارٹی پر چھوڑ رکھا تھا۔ سررابرٹ والپول جو کہ پارلیمنٹ کے سربراہ تھے۔ انہوں نے وزرا پر مشتمل ایک کابینہ تشکیل دی۔ انہیں برطانیہ کا پہلا وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جارج دوئم کا دور برطانیہ کے لئے نو آباد کاری کے معاملہ میں صف اول پر رہا۔ جارج دوئم کو بھی اپنے باپ کی طرح انگریزی آتی تھی نہ ملکی کاروبار میںکوئی دلچسپی تھی۔ ذمہ داریوں کا سا را بوجھ اس وقت کے وزیراعظم ولیم بٹ (سینئر) کے سر تھا۔نو آباد کاری جنگ میں فرانس پہت پیچھے رہ گیا۔ برطانیہ کی اہم ترین کالونیوں کے علاوہ کینیڈا، جزائر غرب الہند اور ہندوستان بھی شامل تھیں۔

جدید سرمایہ دارانہ نظام اصل میں صنعتی انقلاب کا نتیجہ تھا۔ جس نے برطانوی لوگوں کی زندگی تبدیل کر کے رکھ دی۔ مشینری زیادہ سامان تیار کرنے لگی۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر کوئلے کی کانوں میں اضافہ ہوا۔ کاشت کاری کے لئے لوہے کاہل اور کیمیائی کھادیں استعمال ہونے لگیں۔جدید طریقہ کاشت کے باعث بہت سے مزدور کام نہ ملنے کی وجہ سے شہروں کا رخ کرنے لگے۔ شہروں میں انہیں آسانی سے کام مل جاتا۔ جارج سوئم نے 1760ءمیں تخت و تاج سنبھالا۔ پارلیمنٹ میں ٹوری پارٹی اس کی پسندیدہ جماعت تھی۔اس لیئے اس نے ہمیشہ ٹوری پارٹی کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ جب بادشاہ وقت نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ نو آبادکاروں کی طویل لڑائیوں سے جو بڑے قرضے ہیں‘ وہ امریکی کالونیاں ادا کریں گی۔ تب امریکی کالونیوں نے اپنا مضبوط موقف اختیار کیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ پارلیمنٹ میں نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موقف صریحاً ٹیکس سے انکاری تھا۔ جس پر جنگ چھڑ گئی۔فرانسیسی عوام نے نو آبادکاروں کا ساتھ دیا۔ وہگ پارٹی کے لیڈرولیم پٹ(جونیئر)نے اس طویل جنگ کی مخالفت کی۔ پھر جیسے ہی وہگ پارٹی کو پارلیمنٹ میں برتری ہوئی۔ انہوں نے امریکہ کی خودمختاری کو منظور کر لیا۔ امریکہ کا ہاتھ سے چلے جانا برطانیہ کے لئے دھچکا تھا‘ تاہم برطانیہ نے اپنی مہم جوئی جاری رکھی۔ 1770ءمیں جیمس کک (James Cook)نے آسٹریلیا دریافت کر لیا۔

                برطانیہ میں صنعتی انقلاب نے ایک نئے طبقے کو جنم دیا۔ یہ مزدوروں کا طبقہ تھا۔ ان کے کام کی شرائط انتہائی ناقص تھیں۔ مزدورں کو بارہ سے پندرہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔اور اجرت بہت کم دی جاتی۔ بہت سی مزدور تنظیمیں قائم ہوئیں لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ مزدور تنظیموں میں مزدوروں کی شمالیت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

                1793ءمیں فرانس نے برطانیہ کے کچھ علاقے چھیننے کی دھمکی دے دی۔ جس پر فرانس کی انقلابی حکومت سے جنگ چھڑ گئی۔ 1802ءاور 1803ءمیں تھوڑا ساامن وقفہ ہوا مگر جنگ تھی کہ جاری رہی۔1805ءمیں ایڈمرل نیلسن نے نپولین کے خلاف عظیم برتری حاصل کی۔ بالآخر 1814ءمیں برطانیہ اور اس کےک اتحادیوں نے فرانس کو زبردست شکست دے دی۔ نپولین کو ایلبا(Elba)کے جزیرے میں جالا وطنی کے دن گزارنے پر مجبور کر دیا۔ مگر وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔ اس نے اپنی بچھی کچھی طاقت کو مجتمع کی اور پھر سے جنگ شروع کر دی۔ اتحادی فوج کے قائد ڈیوک آ ولنگٹن نے نپولین کو واٹرلو(Waterloo)کے مقام پر نتیجہ خیز شکست دی۔ اور اس طرح یہ جنگیں اپنے اختتام پہنچیں۔

                فرانس کے ساتھ جنگ کے دوران آئیر لینڈ کی عوام میں بغاوت کی لہر اٹھی۔ یہ اٹھارویں صدی کے آواخر کا واقعہ ہے کہ برطانوی راہنماﺅں نے یہ فیصلہ کیا کہ آئیر لینڈ کو برطانیہ کا حصہ قرار دے دیا جائے۔1800ءمیں برطانوی پارلیمنٹ نے ”ایکٹ آف یونین“کے نام سے ایک قانون پاس کیا۔ اس وقت آئرش عوام کی بڑی تعداد رومن کیتھولک تھی۔ برطانوی قوانین کے مطابق کیتھولک کو رائے شماری اور سرکاری ملازمت کا حق حاصل نہیںتھا۔ یہی وجہ تھی کہ آئیر لینڈ ہمیشہ بدامنی کا مرکز رہا۔ اس دوران اولیورگولڈ سمتھ کا ناول (THE VICAR OF WAKE FIELD) 1777ءمیں شائع ہوا۔ جس نے نہ صرف انگریزی ادب میں ایک خاص مقام حاصل کیا بلکہ عوام میں بھی اپنے گہرے تاثر چھوڑے۔ اس ناول میں اعلیٰ طبقے کے رہنے سہنے او ر ان کے رویوں کے بارے میں تنقید کی گئی تھی اگرچہ فرانس کے ساتھ لڑائی سے قبل ہی ولیم پٹ (جونیئر) نے پارلیمنٹ میں رائے شماری کے عمل کو بہتر بنانے کے لےے کچھ بل متعارف کروادیئے تھے۔لیکن زمانہ جنگ کے دوران اس طرف کوئی توجہ نہ رہی کہ صنعتی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی نمائندگی سے محروم ہے۔ جنگ کے اختتام پر ان صنعتی علاقوں کی حالت بد تر تھی۔ بے روزگاری عام ہو گئی ۔ چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ کساد بازاری نے معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔بہت سے غریب مزدوروں کو فاقوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ٹریڈیونینز وجود میں آئیں۔ ہڑتولوں کا سلسلہ شروع ہوا لیکن سرکار نے سب کچھ غیر قانون قرار دے دیا۔ اس دوران ”LUDDITES“ کے نام سے ایک خفیہ تنظیم بھی بن گئی۔ جس نے راتوں رات ساری جدید مشینری کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ لیکن جس طرح یہ تنظیم آناً فاناً اٹھی تھی اس قدر جلد ہی اپنا وجود کھو بیٹھی۔ ملک غربت اور افلاس کے دہانے پر جا کھڑا ہوا۔

                وہگ پارٹی نے درمیانے طبقے کو رائے شماری کا حق دینے کے لےے ایک قانونی مسودہ تیار کیا۔ 1832ءکو یہ مسودہ ”دارالعوام“ میںپیش ہوا۔ جسے جلد ہی پاس کر دیا گیا۔ ”دارالامرائ“ میں اس بل کے خلاف محاز کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن وہگ پارٹی کی حکمت عملی اور ولیم چہارم کے باعث یہاں کوئی رکاوٹ پیدانہ کی جا سکی۔اس بل میں پہلی مرتبہ برطانوی نو آبادکار علاقوں میں غلامی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ یوں اس سے ایک سال بعد چائلڈ لیبر اوعر فیکٹریوں میں حفاظتی قوانین وضع کئے گئے۔

                ویلشن مین رابرٹ ۔۔۔۔ ! جو صنعت کاری میں اپنا انفرادی نام رکھتا تھا۔ اس نے مزدوروں کے لئے بڑے ہمداردانہ اصول متعارف کروائے۔ اس نے معاشرہ میں سوشلسٹ نکتہ نظر کا پرچار کیا۔ برطانیہ ،سکاٹ لینڈ اور امریکہ میں ایسی سوچ کے طبقے موجود تھے لیکن یہ زیادہ عمر نہ پا سکے۔ اس سلسلہ کی سب سے بڑی تحریک ”CHARTISM“ کہلاتی ہے۔ جس سے 1837سے 1848تک خاصا زور پکڑے رکھا۔ اس کے عوامی اصول چھ نکات کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔خفیہ رائے شماری ان نکات میں اہم نکتہ تھا۔اس تنظیم کے بانیان کے خیالات اور نظریات میں وحدت نہ تھی۔ قیادت کے فقدان کے باعث یہ تحریک جلد ہی اپنا وجود کھو بیٹھی۔1837ءسے ملکہ وکٹوریہ کا دور شروع ہوا۔ اس وقت ملکہ کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی۔اسی دور میںبرطانوی تاج و تخت نے اپنی عظمت اور کامیابی کی بلندیوں کو چھوا۔ جبرالٹر،قبرص،سنگاپور،ہانگ کانگ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اسی دور میں برطانیہ کے زیر تسلط آئے۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے نہر سویز کی وجہ سے مصر پر قبضہ کیااور انڈیا کا قبضہ مضبوط تر کر لیا۔

                ملکہ وکٹوریہ کے دور میں دانشور اوربلند پایہ وزیراعظم نے حکومت کی قیادت کی۔ سررابرٹ پیل نے پولیس کی بنیاد رکھی۔ یہ وجہ ہے کہ پولیس کواکثر ”بوبی“کے نام سے پکارا جاتا ہے۔(کیونکہ رابرٹ پیل کو ”بوبی“ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔) اس نے آئیرلینڈ کی عوام کی بھی مدد کرنا چاہی لیکن وہ اس سلسلہ میں ناکام رہا۔ 1846ءسے لے کر 1850ءتک کا دور آئیرلینڈ کی تاریخ کا سیاہ دور تھا۔اس نے آئیرلینڈ کی تاریخ کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔تقریباً ایک ملین افراد لقمہ اجل ہوئے اور تقریباً اتنے ہی افراد اپنے وطن کو چھوڑ کر امریکہ جا کے آباد ہو گئے۔ سر رابرٹ کے دور میں ہی پارلیمنٹ دو پارٹیاں ”کنررویٹووز“(CONSERVATIVES ) اور لبرلز (LIBERALS)کے نام سے پہچانی جانے لگیں۔

                1854ءسے 1856ءکی کرائیمین جنگ کے دوران لارڈپالمرسٹون نے حکومت کی قیادت کی۔ اس جنگ میں برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ طور پر روس کے خلاف محاذ آرائی کی۔ اس جنگ کے دوران بہت سا برطانوی جانی نقصان ہوا۔ اسی دور میں بڑھتی ہوئی جنگی ضرورت کے پیش نظر فلورنس نائٹ انگیں نے جدید نرسنگ کی بنیاد رکھی۔1857ءمیں جب ہندوستان میں جنگ آزادی لڑی گئی تو اس کے اختتام پر یالمرسٹون نے ہندوستان کا پوری طرح کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1867ءمیں پنجمن ڈسرائیل نے پارلیمنٹ میں دوسرا ترمیمی بل پیش کیا اس بل کی وجہ سے بہت سے فیکٹری مزدوروں کو رائے شماری کے حقوق مل گئے۔ اسی دو رمیں پہلی باضابطہ ٹریڈ یونین کی بنیاد ڈالی گئی۔ 1884ءمیں ولیم گلیڈ سٹون (W. Glad Stone) نے پارلیمنٹ کی قیادت کرتے ہوئے ایک تیسرا ترمیمی بل منظور کیا۔ اس بل میں رائے شماری کے لئے جائیداد کی شرط میں تخفیف کر دی گئی۔اکیس سال کی عمر کے نفوس ووٹ کے لئے اہل قرار دیئے گئے۔ایک سال بعد ہی مشہور زمانہ فابین(FABIAN) سوسائٹی وجود میں آئی۔ انگریزی ادب کے مشہور عالم ادیب جارج برنارڈشا بھی اس سوسائٹی کے رکن تھے۔ اس کے ارکان عمومی طور پرقابل قدر اور سوشلسٹ خیالات کے لوگ تھے۔ولیم گلیڈ کی یہ خواہش تھی کہ آئیرلینڈ کو مکمل خود مختاری دے دی جائے لیکن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اسے بھاری اکثریت سے نا منظور کر دیا۔ ولیم کی وفات کے بعد 1899ءسے 1902ءتک جاری وہے والے بوئر(BOER) جنگ کے حق میں اکثریت حاصل کر لی جو جنوبی افریقہ پر برطانوی قبضہ کی یقینی کیفیت تھی۔

                صنعتی انقلاب آہستہ آہستہ ترقی کرتا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ کے طویل ترین دور میں برطانوی معاشرت میں نمایاں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ انیسویں صدی کے آغاز میں بھاپ والے بحری جہاز اور ریلوے انجن آمدورفت میں استعمال ہونے لگے۔بہت سی شاہراہوں اور نہروں کی تعمیر ہوئی۔ انیسویں صدی کے وسط تک پورے ملک میں سڑکوں ، نہروں اور ریلوے کا نظام پھیل چکا تھا۔ اہم شہروں کے درمیان ٹیلی فون اور تار سے رابطہ تھا۔1851ءکی عظیم نمائش نے حیرت انگیز ایجادات، سائنس اور صنعت کی دنیا میں بہت ساری ممکنات نے خلق خدا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ڈاک ٹکٹ ، زیر زمین ریل کا نظام اور جدید کھیلوں کے مقبول سلسلے اسی دور میں شروع ہوئے۔ چارلس ڈکنز ، تھامس ڈی ہارڈی، رابرٹ لوئیس ، بائرن اور شیلے بلاشبہ وکٹورین عہد کا عظیم ورثہ ہیں۔ جن کے خیالات کو ہر نسل نے ہر دور میں اپنے خیالات میں سمونے کی کوشش کی ہے۔

                1906ءکے انتخابات میں لبر لز نے دھماکہ خیز برتری حاصل کی۔ اسی انتخابات میں انتیس لیبر ارکان نے جیت کر یہ ثابت کر دیا کہ لیبر پارٹی ایک سنجیدہ قوت ہے۔اس بنا پر لبرلز نے معاشرتی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی ۔ بوڑھے لوگوںپینشن سکیم کا اجزاءبیماری اور بے روزگاری کی صورت میں نیشنل انشورنس کے قیام نے لبرل پارٹی کی مقبولیت میں اور اضافہ کر دیا۔

                ملکہ وکٹوریہ کے جانشین شہنشاہ ہفتم کو برطانیہ میں مقبولیت کے ساتھ ساتھ فرانس میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اس نے پیرس کا دورہ کیا۔ اس کی حکمت عملی اور خوش مزاجی نے ایک بار پھر برطانیہ فرانس اتحاد کی حوصلہ فزائی کی۔ ایڈوڈ ہفتم کے دور میں برطانیہ ایک دفعہ پھر معاشی بدحالی کے کنارے تک آ پہنچا۔جرمنی کی صنعتی میدان میں تیز رفتاری کے باعث برطانیہ اس میدان میں اجارہ داری قائم نہ رکھ سکا۔ مگر اس کے باوجود برطانیہ بین الاقوامی تجارت، بحری جہازوں کے کاروبار ، بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری اور نوآبادیاتی نظام میں صف اول میں رہا۔انہی دنوں پوری دنیا میں تجارتی مرکز مانا جاتاتھا۔ اسی دوران ڈیوڈلائیڈ کا پیش کردہ نیا مالیاتی بجٹ ”لارڈز“ نے نا منظور کر دیا۔ معاشی تناﺅ اور دستوری بحران کے پیش نظر پارلیمنٹ کا مواخذہ کر دیا گیا۔آئندہ عام انتخابات کے بعد 1911ءمیں پارلیمنٹ ایکٹ کے نام سے ایک قانون پاس کیا گیا۔ اس قانون میں بہت ساری تبدیلیاں کی گئیں۔ لارڈذ کو کسی قسم کا معاشی بل رد کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ حتکہ اگر کوئی دوسرا عوامی بل لارڈز مسترد کر دیں اور دارالعلوم اسے تیسری دفعہ پیش کر دے اور دو سال کا عرصہ بھی گزر جائے تو خود بخود قانون بنا جائے گا۔اس صورت حال میں دارالامراءکے اختیارات محض نام کے رہ گئے۔

                1914ءسراجیو کے مقام پر آرچ ڈیوک فرڈینیڈ(ARCH DUKE FERDINAND)بہیمانہ قتل پر بالکز ممالک میں فسادات نے جنگ کی شکل اختیار کر لی۔جنگ کے شعلوں نے بہت جلد کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس عالمی جنگ کے شروع ہونے کی دوسری بڑی وجہ جرمنی کی بڑھتی ہوئی طاقت تھی۔دنیا بھر میں نو آبادکاری کے شوق میں اسے بھی بحری بیڑا تیار کرنے پر مجبور کیا۔ جیسے ہی جرمنی نے بیلجیم اور فرانس پر حملے کا اشارہ دیا۔ برطانیہ نے اس جارحیت پر جرمنی ، آسٹریا، ہنری اور ترکی کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ یہ ساری ریاستیں مرکزی طاقت کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ جب کہ ان کے مقابلہ میں برطانیہ ،فرانس اور روس اتحادی کہلاتے تھے۔جنگ کی شروعات کے کچھ ہی عرصہ بعد جاپان ،اٹلی اور امریکہ بھی اتحادیوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہو گئے۔اس عالمی جنگ میں ٹینکوں ، زہریلی گیسوں ،لڑاکا طیاروں اور آبدوزوں کا کثرت سے استعمال ہوا۔ مورچہ بندی کی جنگ انتہائی ناقص تھی۔بالخصوص دریائے سومی کی لڑائی میں بہت جانی نقصان ہوا۔ برطانیہ نے جرمن آبدوزوں سے خاصا نقصان اٹھایا۔ 1917ءمیں امریکہ کے اعلان جنگ نے برطانیہ کی خاصی مدد کی۔ بر طانوی فوجوں نے ترکوں کو فلسطین اور عراق کے مقام پر زبردست شکست سے ہمکنار کیا۔

                ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 90لاکھ سپاہی اس جنگ کی نظر ہوئے ان میں 10لاکھ کے لگ بھک کا تعلق برطانیہ سے تھا۔ ان کے ناموں کی فہرستیں آج بھی گلیوں اور بازاروں کی دیواروں پر کندہ ہیں۔یہ شہریوں کی طرف سے ان سپاہیوں کے لئے عقیدت کا اظہار ہے۔ یہ جنگ 1918ءمیں جرمنی کے ہتھیار ڈالنے پر ختم ہوئی۔ روس نے اپنے اندر اٹھنے والے سو شلسٹ انقلاب کے باعث جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

                جنگ عظیم اول کے دوران ڈیوڈ لائیڈ جارج (David Loloyd Gearge) برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ ورسیلز(Versailles) امن کانفرنس میں انہوں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی ۔ برطانیہ اس وقت بحری فوج کے حوالے سے طاقتور ترین خیال کیا جاتاتھا۔جنگ کے اختتام پر مشرق بعید اور امریکہ میں جرمن کالونیوں پر قبضے ایک نئی کامیابی تھی۔مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی معاشی طاقت کھو چکا تھا۔اس زمانے میں امریکہ نے باقی دنیا کوا قتصادی مات دے دی تھی۔ بیسویں صدی کے شروع میں لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ ایک نئے دور میں آ گئے ہیں جو بہت ساری معاشرتی ،مذہبی اور روائتی پابندیوں سے آزاد ہے۔ یہ تمام تر محسوسات اس وقت کے ادب میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ڈی۔ایچ لارنس (D.H. Lawrnce) کی ماضی میں مسترد کاوشوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھنا جانے لگا۔ نوسٹرومو(Nostromo)کو اس دور کا بہترین ناول نگار قرار دیا گیا۔

                پہلی جنگ عظیم کے بعد بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ آئیرلینڈ کے حریت پسند سپوتوں نے 1918ءمیں ڈبلن میں پارلیمنٹ بنالی اور لندن جانے سے انکاری ہو گئے۔ تاہم شمالی آئیرلینڈ نے 1919ءمیں ہوم رول بل قبول کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ بالآخر 1921ءمیں برطانیہ نے جنوبی آئرلینڈ کوایک علیحدہ آزاد خود مختار ریاست قبول کر لیا۔ دوسری نمایاں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عورت کو حق رائے دہی مل گیا۔ 1920ءمیں کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔نئی لیبر پارٹی نے دودفعہ عنان اقتدار سنبھالی۔ نئے علاقوں میں نئی صنعتیں کاریں ، برقی آلات کے کارخانوں کا قیام عمل میں آیا۔ جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ہی جنگی سازوسامان بنانے والے کارخانے بند ہوگئے۔ اور ملک کوایک مرتبہ پھر بے روزگاری کے سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 1929ءکے اوائل میں پوری برطانوی قوم اضطراب کی کیفیت میں تھی۔1931ءتک بے روزگاری کی یہ انتہا تھی کہ ہر چار لوگوں میں ایک بے روزگاری تھا۔

                1931ءمیں تاج برطانیہ کو برٹش کامن ویلتھ آف نیشنز کا نام دے دیا گیا۔ اس میں قرار پایا کہ شامل ممالک آسریلیا ، کینیڈا ، آئرلینڈ ، نیوزی لینڈ، ساﺅتھ امریکہ کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔شہنشاہ جارج پنجم 1936ءمیں انتقال کر گئے۔ ان کے مقبول فرزند ایڈورڈ ہشتم تخت وتاج کے حقدار ٹھہرے۔ ایڈورڈ ہفتم ایک امریکی طلاق یافتہ عورت سے شادی کا خواہش مند تھا۔ وہ مسز ڈبلیو سمپسن(W. Simpson)کی زلف کا اسیر تھا۔ محبت کی اس جنگ میں اس نے برطانوی تخت و تاج کو ٹھکرا کر پوری دنیا کوا نگشت بد نداں کر دیا۔ بعد میں تاج برطانیہ اس کے چھوٹے بھائی جارج ششم کے سر پر رکھ دیا۔اسی دوران ہٹلر نے جرمنی کا کنٹرول حاصل کر تے ہی ملک کو جنگی سازوسامان سے لیس کرنا شروع کر دیا۔ ہٹلر ایک آمر حکمران تھا۔ لیکن برطانیہ آنے والے خطرات کو وقت سے پہلے نہ بھانپ سکا۔1937ءمیں وزیراعظم مسٹر نیول چیمبرلین (Neville Chamberiain)علاقے میں امن کو برقرار رکھنے کے عزائم کی وجہ سے جرمنی ، اٹلی اور جاپان کے جارحانہ انداز کو نظرا نداز کیا۔ برطانوی لوگ اس وزیراعظم کی پالیسیوں کو پسند کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔

                1938ءمیں ہٹلر نے چیکو سلواکیہ کے ایک حصے کا مطالبہ کر دیا۔ جنگ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر امن پسند وزیراعظم چیمبرلین فوراً میونخ روانہ ہو اگئے اور ہٹلر کے مطالبات پر راضی ہو گئے۔ لیکن ہٹلر نے علاقائی امن کی پرواہ کئے بغیر 1939ءمیں چیکو سلواکیہ کے باقی ماندہ حصے پر بھی قبضہ کر لیا۔برطانیہ نے جرمنی کی اس حرکت کی کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔جونہی جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا۔ برطانیہ اور فرانس نے جرمنی پر اعلان جنگ کر دیا۔ برطانوی لوگوں نے نازی ازم کے خلاف لڑائی میں مثالی جرا ¿ت اور حاصلے کا مظاہرہ کیا۔

                1940ءمیں جنگ کے دوران ہی ونسٹن چرچل کر برطانیہ کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ نسٹن چرچل برطانیوں ہر دل عزیز حکمران تھے۔انہوں نے ساری جنگ کے دوران عوام کی نمائندگی کی۔ اس نے قوم کو فتح جیسے اعتماد سے ہمکنار کروایا۔ فرانس کی تباہ کن بربادی کے بعد برطانیہ نے تنہا اٹلی اور جرمنی کا مقابلہ کیا۔ 1940ءسے لے کر 1941ءتک یہ جنگ زیادہ تر برطانوی جزائر پر لڑی گئی۔ بہت سارے مقبوضہ ملکوں کے ہوا بازوں نے برطانوی ہوابازوں کا ساتھ دیا۔ جن میں ایک بڑی تعداد چیکو سلواکیہ کے ہوابازوں کی تھی۔چرچل نے قوم کو جوش دلایا کہ یہ ان کا بہترین وقت ہے۔برطانوی کسی وقت بھی چڑھائی کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے گلیوں کے نشان مٹا دیے اور دشمن کو مخمعے میں ڈالنے کے لئے ر استوں کے اشارات کو الٹ پلٹ کر دیا۔ پارکوں، باغیچوں اور چراگاہوں میں فصلیں بیج دیں۔ تا کہ خوراک کی کمی کو دور کیاجا سکے۔ لندن میں بہت سے لوگوں نے انڈرگراو ¿نڈ اسٹیشنوں میں پناہ لے رکھی تھی۔ سختی سے بلیک آو ¿ٹ پر عمل درآمد کروایا جاتا۔روشنی صرف اینٹی ائیرکرافٹ توپوں اور جلتی ہوئی عمارات سے آتی تھیں۔ برطانیہ میں صنعتی علاقوں میں ”کوڈنٹری“ سب سے زیادہ جرمن نمبار طیاروں کو نشانہ رہا۔ برطانوی نیوی نے بڑی دلیری سے جرمن آبدوزوں کا مقابلہ کیا۔

                بالآخر تین بڑے چرچل، روز ویلٹ اور سٹالن متحد ہو گئے۔ 1941ءمیں جرمنی نے سوویت یونین اور جاپان نے پرل باربرنامی امریکی بندرگاہ پر حملہ کر دیا۔ دونوں ملک جنگ میں شامل ہو گئے۔ اتحادیوں نے یورپ میں محاذ کھولنے کا فیصلہ کر کے جرمنی اور اٹلی کے خلاف افریقہ میں فیصلہ کن جنگیں لڑیں۔ فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ مغربی اتحادی اور ”ریڈ آرمی“ جرمنی کے مقام ایلب(Elbe) تک پہنچ گئے۔ 8مئی 1945ءکو جرمنی اس جنگ سے دستبردار ہو گیا۔ برطانیہ اس جنگ میں تین لاکھ ساٹھ ہزار افراد سے محروم ہو گیا اور تقریباً اتنے ہی افراد زخمی ہوئے۔ ایک لاکھ پنتالیس ہزار شہری لقمہ اجل ہوئے۔

                ڈی۔ایچ۔ لارنس کے بے باکانہ اظہار کا عکس اس کے جونئیر ہم عصر ”ہکسلے“ کی تحریروں سے بھی ملتا ہے۔ ٹی ۔ایس ۔ ایلٹ جسے مقبول شاعر اور تنقید نگار بھی اسی دور میں گزرے۔ 1948ءمیں انہیں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔

                1945ءکے انتخابات میں لیبرل پارٹی نے اپنے سوشلسٹ پروگرام کے ساتھ برتری حاصل کی۔ لیبر پارٹی کے راہنما کلامنٹ ایٹلی(Clement Attleee) وزیراعظم بن گئے۔ اگلے چھ سالوں میں اس حکومت نے بنک آف انگلینڈ ،کوئلے کی کانیں ، لوہا سازی کی صنعت ، ریلوے ، ذرائع نقل و حمل اور عوام کی آسائیوں کو قومیا لیا۔1948ءمیں جھولے سے کر قبر تک معاشرتی تحفظ کے نظام کے نام سے ایک قانون متعارف کروایا۔ اس قانون کی رو سے مفت طبی علاج اور ضرورت مندوں کو انشورنس جیسے فوائد حاصل ہوئے۔ہندوستان ، پاکستان اور اس کے بعد سیلون(سری لنکا) کو خوس مختاری دے دی گئی۔ برطانیہ نے فلسطین سے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا۔ اور اس طرح اسرائیل کے نام سے ایک نئی ریاست اس دنیا میں ابھری۔1949ءکو ناٹو(Nato) کا قیام عمل میں آیا اور برطانیہ اس کے قیام میں آتے ہی اس کا ممبر بن گیا اور ہمیشہ سے امریکہ کا قابل اعتماد ساتھی رہا تھا۔ برطانیہ نے جنوب مشرقی اقتصادی علاقائی تنظیم (SEATO) بنانے میں بھی مدد دی۔ لیبر حکومت نے بکھری ہوئی اقتصادی حالت کو سنبھالنے کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی ۔ قوم نے عالمی منڈی میں جو سرمایہ کاری کی اس کا حاصل مثبت نہ تھا۔ ونسٹن چرچل اور کنزرویٹو پارٹی 1951ءمیں ایک دفعہ پھر سے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے لوہا سازی کی صنعت اور ٹراسپورٹ انڈسٹری پھر سے نجی ملکیت میں دے دی۔

                1950ءکے عشرے میں نہر سویز اور ایران کے ساتھ آئل انڈ سٹری کے مسائل تھے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جلد ہی آدھے منافع پر برطانیہ ’آئل انڈسٹری ‘چلانے پر رضا مند ہو گیا۔نہر سویز کا قبضہ چھڑانے کے لےے برطانیہ پر شدیدعالمی دباﺅ رہا۔اسی دوران برطانیہ کی فوجوں نے کوریا کی جنگ میں بھی حصہ لیا۔1952ءمیں جارج ششم کی وفات کے بعد ان کی بیٹی الزبتھ دوئم تخت و تاج کی وارث ٹھہریں۔ 2جون 1953ءمیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ تاج پوشی کی تقریب دیکھنے لندن کی سڑکوں پر نکل آئے۔پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس تخت و تاج کے وارث ہیں۔اسی شاہی خاندان نے سابقہ بادشاہوں کے برعکس قومی معاملات میں کچھ زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے ملک اور قوم کے لئے لمبے لمبے سفر کئے اور دنیا میں برطانیہ کے سفیر کہلائے۔انہوں نے بہت سارے خیراتی اداورں کے لئے ایک علامت کا کردار بھی ادا کیا۔الزبتھ دوئم ایک ہر دلعزیز مکہ ہیں۔اس بات کا اندازہ 1977ءمیں کی سلور جوبلی تقریبات سے ہوتا ہے جو نہایت عقیدت اور جوش جذبے سے منائی گیئں۔اس دور میں ملک نے دن دوگئی رات چوگنی ترقی کی۔ اعلیٰ تعلیم کے بہت سے تعلیمی ادارے وجود میں آئے۔1950ءکے آواخر تک تقریباً ہر خاندان کے پاس کاریں ،ریفریجریٹرز(فریج) ٹیلی ویژن اور واشنگ مشینوں کا استعمال تھا۔ 1958ءمیں ایک قانون پس کیا گیا۔جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ خواتین بھی دارالامراءکی رکن بن سکتیں تھیں۔سابقہ کالونیوں کو خود مختاری دینے کے عمل کو تیز تر کر دیا۔1960ءسے 1970ءکے درمیانی عشرے میں تقریباً تمام ممکنہ کالونیوں کو خود مختاری دے دی گئی۔ ایٹمی اسلحہ کے خلاف کامیاب تحریک چلائی گئی۔1960ءمیں سزائے موت ختم کر دی گئی۔ تھیٹر پر سنسر شپ ہٹا دی گئی۔ اور اوپن یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔رائے دہی کے لئے عمر کی حد 21سال سے 18سال کر دی گئی۔ خوش قسمتی کی بات تھی کہ 1970ءمیں توانائی کے بحران سے قبل ہی شمالی سمندر سے تیل دریافت کر لیا گیا۔1970ءکے اواخر میں بڑھتی ہوئی ہڑتولوں نے لوگوں کے دلوں میں ٹریڈیونینز کے خلاف نفرت پیدا کر دی۔1979ءمیں کنزویٹو پارٹی دوبارہ اقتدار میںآگئی۔ اس کی قیادت محترمہ مارگریٹ ٹیچر کر رہی تھیں۔جنہیں یہ شرف بھی حاصل تھا کہ وہ برطانیہ کی پہلی وزیراعظم تھیں۔ مارگریٹ ٹھیچر اپنی فیصلہ کن پالیسیوں او ر ہاک لینڈ سے ارجنٹائن فوجوں کے انخلا کی وجہ سے آہنی خاتون کے لقب سے مشہور ہو ئیں۔

                1968ءمیں آئیر لینڈ میں اندرونی خلفشار شروع ہوگیا۔ شمالی آئیرلینڈ کی کیتھولک اقلیت سخت نا خوش تھی۔ پروٹسٹنٹ اکثریت نے تعصب برتتے ہوئے کیتھولک اقلیت کے ساتھ ہاﺅسنگ اور ملازمتوں میں امتیازی سلوک کیا۔ پولیس کی سفاکی نے بحران میں شدت پیدا کر دی۔ دونوں اطراف سے پر تشد د واقعات کے نتیجے میں برطانیہ نے اپنی فوجیں اتار دیں۔ جواب تک پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے میں وقتی طور پر تو کامیاب ہو جاتیں ہیں لیکن مستقل امن و امان دینے سے قاصر ہیں کیونکہ کیتھولک لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں دوبارہ جنوبی آئیرلینڈ کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔جب کہ شمالی آئیرلینڈ میںپہلے سے بننے والے یا پھر بعد کے پروٹسٹنٹ نو آباد کار اس کو برطانیہ ہی کا حصہ قرار دینے پر مصر ہیں۔ اسی وجہ سے آئے دن آئیرش ریپبلکن آرمی (I.R.A) اور حکومتی قانون نافذ کر نے والے اداروں میں آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔ جوابی کاروائیوں کے طور پر کیتھولک آئیرش کئی دفعہ انگلینڈ میں تخریب کاری کر چکے ہیں۔

                پورے برطانیہ کو چھ سو انتظامی یونٹس میں بانٹ دیا گیاہے۔ محص لند ن میں 33یونٹ ہیں۔ ہر یونٹ کو باروز(Baroughs) کہا جاتا ہے۔ لندن باورز آف ولتھم فارلیٹ کی آبادی دو لاکھ بیس ہزار ہے جس کے57منتخب کونسلر صاحبان ہیں۔ اس کا ایک میئر اور چیف ایگزیکٹو ورکس ، صحت ، ہاﺅسنگ اور صفائی وغیرہ کے ذمہ دارہیں۔عدالتیں ، پولیس اور سرکاری محکمے علیحدہ ہیں اور عوام کو سنٹرل لندن نہیں جانا پڑتا۔دس ہزار ملازمین ہیں اور کونسل میں برسر اقتدار پارٹی کے محص 16ممبر ہیں مگر کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کیا جاتا۔ اپنے مسائل ، وسائل اور عوامی رائے سے حل کئے جاتے ہیں۔ سنٹرل لندن کا میئر لارڈ میئر کہلاتا ہے۔ اور باقی32میئر صاحبان ہیں۔ اسی طرح کاﺅنیٹرکی تعداد بھی اس طرح ہے کہ انتظام بہتر سے بہتر ہو۔

                ایک عام آدمی کے لیے آج کے برطانیہ کو سرتھامس کو سرمیور کا یوٹوپیا کہا جائے تو بے جانہ ہو گا۔اس نے اپنے فلسفہ میںزندگی کا حفظ ، عزت، نفس ، انصاف اور اس کا آسان حصول ، روز مرہ کی جدوجہد میں برابری ، زندگی بسر کرنے کے لئے چند ضروری آسائشیں ، اپنے عقائد اور کلچر پر قائم رہنے کی گنجائش ہی کی تصویر کشی کی ہے۔جو آج کے برطانیہ میں واضح نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہی سر تھامس میور کا یوٹوپیا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

”میرے بابا جی“                 اکثر اوقات جب مجھے لائبریری جانے کا اتفاق ہوتو تو وہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے