سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ ۔۔۔ رضاالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ ۔۔۔ رضاالحق صدیقی

اجنبی شہر میں عید

پاکستان سے ہم بائیس روزے گذار کر چلے تھے،باقی روزے یہاں بچوں کے ساتھ رکھے لیکن یہ روزے بڑے پھیکے پھیکے تھے، نا اذان کی آواز، نا نزدیک کوئی مسجد، بس فون پر سیٹ کی ہوئی واشنگٹن کے وقتِ سحرو افطار پر ابھرنے والی اذان ربورٹ کی طرح سحری اور افطاری کرا دیتی تھی،سچ مانیں اپنا پاکستان بہت یاد آیا،یوں ایک ہفتہ اسی حالت میں گذرا اور پھر عید کا دن آ پہنچا۔

پاکستان میں تو عیدبڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے لیکن یہاں وہ نظارے کہاں،چاند رات کو دو آپشن تھے ایک تو یہ کہ چاند رات میلے میں چلے جاتے،جہاں کھانے پینے کے سٹال لگے ہوتے اور پاکستان یا ہندوستان کا کوئی تھکا ہوا گلوکار آپ کو بوریت کی انتہا کو پہنچا دیتا دوسرا آپشن عدیل نے ہمارے سامنے رکھا کہ چلیں واشگٹن ڈی سی چلتے ہیں جہاں امریکہ کے کچھ مقامات دیکھ لیں گے،ہمیں چاند رات میلے میںتو کوئی دلچسپی نہیں تھی سو فیصلہ یہ طے پایا کہ واشنگٹن کی سیر کی جائے،

واشنگٹن ڈی سی میں عدیل نے موونومنٹ کے نزدیک پارکنگ ایریا تلاش کرکے گاڑی پارک کی ۔ امریکہ کا کوی ¿ی بھی شہر ہو پارکنگ تلاش کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ سڑک سے موونومنٹ تک خاصی چڑھائی ہے ،وہاں پہنچ کر عدیل نے ہمیں ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس جانب امریکہ کے پہلے صدر کی سمادی ہے،میں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں دفن ہے ،اس نے بتایا کہ نہیں دفن تو وہ کسی قبرستان میں ہی ہو گا یہاں اس کا دیوقامت مجسمہ رکھا ہوا ہے ،یہ اس کی یادگار ہے۔موونومنٹ سے چاروں جانب ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر یادگاریں ہیں،ابراہم لنکن میموریل کے بالمقابل یو ایس کیپٹل ہے جسے عموماََوائیٹ ہاوس سمجھا جاتا ہے لیکن یہ امریکی حکومت کے قانون ساز ادارے کانگرس کی اسمبلی ہے،یہ عمارت دو سو پندرہ سال پرانی ہے اس عمارت کی تعمیر 1793میں شروع ہوئی اورسن1800میں اسے استعمال کے لئے کھول دیا گیااسے روسل سینٹ آفس بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے ۔سن1800میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو اس وقت اس عمارت کے اوپر نظر آنے والا گنبد تعمیر نہیں ہوا تھا بعد میں اس کے توسیعی منصوبے کے تحت اس میں ایک بڑے گنبد(ڈوم) کا اضافہ کیا گیا۔اس عمارت کو نیوکلاسیکل سٹائل میں سفید بیرونی منظر کے ساتھ تعمیر کیا گیا۔اس عمارت کے اگرچہ دو فرنٹ ہیں لیکن اس کا مشرقی فرنٹ ہی وفود کے استقبال کے لئے استعمال ہوتا ہے۔یہ عمارت گذشتہ دو سو سال میں کئی بار تباہ ہوئی لیکن اس کی ساتھ ساتھ مرمت اور تزئین و آرائش کا کام جاری رہتا ہے۔اب بھی ایسا ہی کچھ کام ہو رہا ہے جس کے لئے اس کے گنبد کے ارد گرد سٹیل کے مچان اور سہارے لگائے گئے ہیںسن2014سے شروع ہونے والا یہ کام سن2017کے اوائل میں مکمل ہو سکے گا۔

عدیل کو یہاں آئے چار پانچ سال ہو گئے ہیں اس لئے اسے اب یہاں کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔ جب وہ یہ سب کچھ مجھے بتا چکا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اگر یہ وائیٹ ہاوس نہیں ہے تو وائیٹ ہاوس کدھر ہے،موونومنٹ پر کھڑے کھڑے اس نے کہا کہ دو اطراف کا تو میں نے آپ کو بتا دیا اب وہ تیسری جانب دیکھئیے وہ رہا وائیٹ ہاوس ، درختوں کی اوٹ سے ایک سادہ سی عمارت اپنی ہلکی سی جھلک دکھا رہی تھی ا ور چوتھی طرف امریکہ کے تیسرے صدر جیفرسن کی سمادی نظر آ رہی تھی،مجھے وائیٹ ہاوس دیکھنے کا شوق تھا لیکن رات کافی ہو گئی تھی اور اگلے روز عید تھی اس لئے ہم نے واپسی کی راہ لی۔

گھر پہنچ کر ہمارا چائے کا مطالبہ زور پکڑ گیا اس لئے خواتین آتے ہی کچن میں چلی گئیں۔اور عدیل بتانے لگا کہ یہاں عید کی نماز کے تین ٹائم ہیں،ایک صبح سات بجے،دوسرا ساڑھے دس بجے اور تیسرا ساڑھے گیارہ بجے۔اب ایسا ہے پاپا،عدیل نے کہا کہ آفس سے آنے کے بعد ابھی ہم واشنگٹن کا چکر لگا کر آئے ہیں۔ اور میں بہت تھک گیا ہوں سات بجے والی نماز کے لئے پانچ بجے اٹھنا پڑے گا جو میرے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ایسا کرتے ہیں ساڑھے دس بجے والی نماز پڑھ لیتے ہیں،میں نے کہا چلو ٹھیک ہے،کہاں ہوتی ہے نماز،مسجد کدھر ہے،یہاں مسجد تو نہیں ہے،مسلم کیمونٹی کوئی ہال کرایہ پر لے لیتی ہے اور وہاں نماز کی ادائی ہوتی ہے۔یہاں سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ورجینیا میں مسلم کیمونٹی والوں نے عید کی نماز کا انتظام کیا ہے،اور بھی ایک دو جگہ ہے لیکن ہم وہیں پڑھیں گے وہاں احرار بھائی وغیرہ بھی آ جائیں گے،مجھے نام تو معلوم نہیں تھا میں نے پوچھا یہ احرار کون؟۔عدیل نے کہا آپ شازیہ باجی کو جانتے ہیں نارابعہ کی کزن جو یہاں ہی ہوتی ہیں،میں نے ہاں میں سر ہلا دیا،تو احرار بھائی ان کے میاں ہیں، اوہ اچھا،میں نے کہا۔

میری لینڈ،واشنگٹن اور ورجینیا ،راولپنڈی اسلام آباد کی مانند جڑواں اسٹیٹس ہیں۔عدیل میری لینڈ کے شہر سلور سپرنگ میں واشنگٹن کے بارڈری علاقے میں رہتا ہے وہاں سے پہلے واشگٹن میں داخل ہوتے ہیں اسے کراس کرتے ہوئے ورجینیا پہنچ جاتے ہیں انٹرسٹیٹ ہائی وے نمبر495ان اسٹیٹس کو ملانے والی شاہراہ ہے۔

عید کے روز ہم تقریباََ ساڑے نو بجے گھر سے نکلے اور اس ہال میںپہنچ گئے جہاں نماز کا اہتمام تھاوہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا جس سے لگ رہا تھا کہ واقعی عید ہے،ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ لوگ پکنک منانے کے سے انداز میں وہاں آئے ہوئے تھے،مرد ،عورتیں،بچے سبھی وہاں تھے،زیادہ تر لوگ مغربی لباس میں ہی تھے لیکن بہت سی فیملیز پاکستان کے قومی لباس میں بھی تھیں جن میں ہم بھی شامل تھے،آٹھ دس دن کے بعد شلوار کرتے میں امریکہ میںپھرنا اچھا لگ رہا تھا،

ہال کے اگلے حصے میں مردوںکا انتظام تھا درمیان میں ایسے افراد کے لئے جو بیٹھ کر نماز ادا نہیں کر سکتے ،کرسیوں کا انتظام تھا پیچھے عورتیں نماز کے لئے موجود تھیں۔ہ سب کچھ اپنی جگہ تھا لیکن عید کی نماز پڑھنے کا مزا اپنے پاکستان میں ہی آتا ہے یا ہمیں پاکستان میں ادا کی جانے والی نماز کا انداز پسند ہے،یہاں جماعت کھڑی کرنے سے پہلے خطبے کی بجائے مسلم کیمونٹی کے لئے کام کرنے والے خواتین وحضرات کے تعار ف کا ایک سلسلہ ہوا،جو صفوں کے سامنے قطار میں کھڑے تھے،پھر مختلف اعلانات کئے گئے اور پھر جماعت کھڑی کر دی گئی۔

پاکستان سے امریکہ آ بسنے والی اداکارہ ریما بھی خواتین والے حصے میں موجود تھی،جب ہم نماز کے بعد وہیں ایک حلال ریستوران میں لنچ کرنے جا رہے تھے تو ہماری بہو نے ہمیں بتایا۔بڑی سادہ سی لیکن اچھی لگ رہی تھی ریما اس نے بتایا۔

ریستوران میں احرار اور شازیہ نے منع کرتے کرتے نجانے کیا کچھ منگو ا لیا۔

کھانے کے بعد سلفیوں کا ایک دور چلا،یہ سیلفی کلچر نجانے ہم میں کہاں سے آ ٹپکا ہے لیکن اچھا لگتا ہے،

—0—0—

تاریخ اور سائنس کی دنیا میں

واشنگٹن ڈی سی میں سے گذر کر ورجینیا جانا کئی بار ہو چکا تھااور ایسا شام کے وقت عدیل کے آفس سے آنے پر ہوتا تھا،رات کے وقت جگمگاتی روشنیوں میں امریکہ کا دارالحکومت بڑا خوش رنگ نظر آتا تھالیکن کوئی قابلِ دید چیز اندر سے نہیں دیکھی جا سکتی تھی،عدیل ہمیں وہاں کے بہت سے مقامات کی سیر کرا چکا تھا۔عید کے روز ہمیں نماز کی ادائی کے لئے پھر ورجینیا جانا تھا۔وہاں سارا امریکہ کھلا ہوتا ہے کہ عید ان کا تہوار نہیں ہے لیکن مسلمان ملازمین اپنے تہواروں پر چھٹی کر سکتے ہیں۔عید کے لئے عدیل نے بھی چھٹی کی ہوئی تھی۔چاند رات کو بھی ہم واشنگٹن گئے تھے،بہت سے مقامات اس روز دیکھ لئے تھے،اب پروگرام یہ بنا کہ ورجینیا میں نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا وہیں کھانے کے بعد واپسی پر واشنگٹن کے باقی ماندہ مقامات کی سیر کر لی جائے۔

نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم تاریخی ایئر کرافٹ اینڈ سپیس کرافٹ کا دنیا بھر میں سب سے بڑا اور نادر نمونہ ہے۔اسے ہسٹری اور سائینس آف ایوی ایشن اور سپیس فلائیٹ کے علاﺅہ پلینٹری سائینس کی تحقیق کے مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔اسے سن 1946میں قائم کیا گیا اور اس کی مین بلڈنگ کو تیس سال بعد سن 1976میںعوام کے لئے کھولا گیا۔سن2014میں اس میوزیم کو67لاکھ افراد نے دیکھا جس نے اسے دنیا میں سب سے دیکھا جانے والا پانچواں میوزیم بنا دیا ہے ۔

سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ہسٹری اور سائنس میں کبھی دلچسپی نہیں رہی اور نا میں سائنس کا طالب علم رہا ہوں،مجھے آثارِ قدیمہ اور عجائب گھروں میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔عدمِ دلچسپی کی وجہ تو شاید نوعمری میں ہڑپہ کے تاریخ ساز کھنڈرات سے کھدائی کے دوران پرآمد ہونے والی اشیاءپر مشتمل میوزیم کی بے ثباتی دیکھ کر ہوئی،اس میوزیم میں کھدائی کے وقت جو کچھ دریافت ہوا،وہ موجود رہا ہو گا لیکن جب ہم نے اسے دیکھا تو وہ اجڑی ہوئی دلی کی مانند نظر آیا۔

یہ امریکہ ہے،یہاں کے لوگ اپنی تاریخ بنانا بھی جانتے ہیں اور سنبھالنابھی،اسی چیز نے مجھے نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم دیکھنے پر اکسایا۔میوزیم کے باہر میں نے عدیل سے کہا بھی کہ کہیں اور چلتے ہیں یہاں کیا دھرا ہو گا،لیکن وہ کہنے لگا آپ چلیں تو سہی اور ہم میوزیم میں داخل ہو گئے۔اندر کی دنیا ہی عجیب تھی،ایک جانب چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان اور چاند پر جانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تاریخ مجسم کی گئی تھی،ایک حصہ آسمان پر چمکنے والے سیاروں اور ستاروں کے بارے میں تھا ۔

ارے یہ کیا؟ سائیکل کی ایجاد اور اس کے موجد کی سائیکل کمپنی کا حصہ،ہمیں ہنسی آ گئی کہ بھلا اس کا حصہ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔عدیل کہنے لگا یہی تو اس میوزیم کی خاص چیز ہے۔رائیٹ برادران کی سائیکل کمپنی،جس نے انسانی تاریخ بدل کر رکھ دی۔

رائیٹ برادران؟وہی جنہوں نے جہاز بنایا لیکن سائیکل کمپنی؟

میں نے خود سے با آوازِ بلند سوال کیا؟

یہ شاید زمانہِ طالب علمی میں سطحی طور پڑھی ہوئی باتوں کا لاشعور سے شعور میں آنے کا عمل تھا جس نے مجھ سے سوال کرا دیا۔

جی پاپا ،وہی رائیٹ برادران،عدیل کا تازہ علم میرے لاشعور کی تائید کر گیا۔

اورول رائیٹ اور ولبر رائیٹ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے پہلی بار زمین کی بیڑیوں کو اتار پھینکا اور ستاروں کی جانب چھلانگ لگائی تھی۔انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا تھا،تہذیبِ انسانی اس کار نامے کے بعد ایک انقلاب سے گذر ی۔

وہ تاریخ کا ایک عظیم دن تھا جب اورول رائیٹ نے اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں واقع ایک لائبریری میں قدم رکھا،کتابوں کی الماری کی جانب بڑھا اور ایک کتاب اٹھائی۔یہ کتاب ایک جرمن باشندے لیلیئن تھل کی داستانِ حیات تھی جس نے ایک بڑی پتنگ کے ذریعے اڑنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا،

میں شیشے کے فریم میں لکھی یہ داستاںِ عظیم پڑھ رہا تھاجس میں آگے ان بھائیوں کے کارنامے کی مزید تفصیلات درج تھیں،

عدیل نے کہا پہلے اندر آ نہیں رہے تھے اب یہاں سے ہل نہیں رہے ہیں،آپ آرام سے پڑھیں ساری چیزوں کو دیکھیںہم یہیں میوزیم میں ہی ہیں۔لیکن اتنی دیر بھی نہ لگا دینا کہ باقی چیزیں دیکھنے سے رہ جائیں،میوزیم چھ بجے بند ہو جاتا ہے۔

میں ہنس دیا اور پھر پڑھنے لگا ،مجھے پھر پتہ نہیں لگا کہ وہ کس وقت وہاں سے چلے گئے۔

اس داستانِ عظیم میں درج تھا کہ اس جرمن باشندے نے انجن استعمال نہیں کیا تھا لیکن اڑا ضرور تھا۔وہ ایک تاریخ ساز رات تھی جس میں اورول رائیٹ ،لیلیئن تھل کی داستان میں کھویا اس بات پر غور کرتا رہا کہ وہ اڑا کیسے تھا۔اس رات کے غور و فکر نے تہذیبِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔اورول نے اپنے بھائی ولبر رایٹ کے دل میں بھی شوق کی چنگاری جگا دی تھی اور پھر رائیٹ برادران ایک ایسے کام میں جت گئے جو ہوائی جہاز کی ایجاد پر منتج ہوا اور ان کا نام لافانی کر گیا۔

اوہائیو میں اس وقت اسے ایک چھوٹا سا کام سمجھا گیابلکہ ان کی کوششوں کو ناممکن بتایا گیا،لیکن ساتھ ہی ساتھ لوگوں میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ رائیٹ برادران نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان اڑ سکتا ہے۔

پھر وہ دن آ گیا،لوگ ان کے دعویٰ کو ناممکن ہوتا دیکھنے اور پھر ان کا مذاق اڑانے کے لئے جمع ہو چکے تھے لیکن یہ کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے،صرف پانچ افراد تھے جن میں ایک فوٹو گرافر بھی تھا جس نے انسان کی پہلی اڑان کی تصویر بنائی تھی۔اور یہ واقعہ تھا 17دسمبر1903کا۔صبح کے دس بج کر پینتیس منٹ پر اورول رائیٹ گرجتے جہاز پر سوار ہوا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا اور تار کھیچ کر اس نے اپنے فلائر کی بریکیں اٹھا دیں۔ان کی یہ فلائنگ مشین غرائی اور کھانستی ہوئی ہوا میں بلند ہوئی۔انجن کے ایگزاسٹ سے شعلے لپک رہے تھے،مشین صرف بارہ سیکنڈ کے لئے نیچے ، اوپر ہچکولے کھاتے آگے بڑھی اور120فٹ تک اڑنے کے بعد زمیں پر گر گئی۔اس پرواز کی رفتار صرف 6.8 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد اگلی دو پروازوں میں فاصلہ 175فٹ اور200فٹ رہااور ان کی سطح زمین سے بلندی 10 فٹ رہی۔ان کی چوتھی پرواز852فٹ تک گئی اور یہ 59سیکنڈز تک اڑتی رہی۔

سن1903کی پہلی کامیاب پرواز کے بعدرائیٹ برادران کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے اور ان کی جدوجہد جاری رہی۔سن1905میں وہ ایسا جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے جو ایک وقت میں آدھ کھنٹے تک اڑ سکتا تھا۔سن1908میں اورول رائیٹ نے دنیا کی پہلی پرواز ورجینیا کے فورٹ میئر میں امریکن آرمی کو دکھانے کے لئے کی۔امریکن آرمی نے رائیٹ برادران کے جہاز کو دنیا کا پہلا فوجی جہاز قرار دے دیا۔اسی سال رائیٹ برادران نے لی منز،فرانس کے نزدیک سو پروازیں کیں جس میںسب سے لمبی پرواز نے31 دسمبر کو اڑان بھری جس کا دورانیہ 2گھنٹے اور19منٹ تھا۔

ابھی میں نوٹس لے ہی رہا تھا کہ عدیل نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس محویت سے نکالا اور کہنے لگا،آپ نے ابھی تک میوزیم کا یہ حصہ بھی مکمل نہیں دکھا ہم پورا میوزیم گھوم آئے،میں نے انہیں کہا بس تھوڑی دیر اور۔۔۔

میںپلٹ تو گیا ہی تھا،میں نے دیکھا کہ اس جہاز کا ریپلیکا سامنے رکھا ہوا تھا اس میںاورول رائیٹ اسی طرح لیٹا دکھایا گیا تھا جیسا کہ تاریخ میں بتایا جاتا ہے،میں جہاز کے ریپلیکا کے سامنے جا کھڑا ہوا،اب اورول رائیٹ میرے سامنے تھا،میں نے اسے سلیوٹ کیا اس کے کارنامے پر،اگر اس نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو میںپاکستان سے8ہزار میل کا سفر طے کر کے امریکہ کیسے پہنچتا۔

وہاں سے نکلے تو ساتھ ہے سیاروں اور ستاروں کی دنیا آباد تھی،اس دنیا میں داخل ہوئے تو ایک گلیکسی ہمارے سامنے تھی ۔ہر سیارے کو اس کی جسامت کے مطابق دکھایا گیا تھا۔ان سیاروں کی ترتیب میں ہماری چھوٹی سی دنیا بھی نظر آ رہی تھی جو غالباََ اپنی جسامت کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے۔یہاں بھی چاند پر جانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ریکارڈ بتایا گیا تھا۔ خلا بازوں کے لباس بھی سجے ہوئے تھے۔میں میوزیم کے اس حصے میں آ کر سوچ رہا تھا کہ اس حصے کا مطالعہ تو مریم کو کرنا چاہیئے تھا۔

مریم سلطانہ ہماری بھانجی ہے۔کراچی میں اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے ابھی گذشتہ سال ہی اس نے ایڈوانس اسٹروفزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہے اور وہ پہلی خاتون ہے جس نے یہ ڈگری حاصل کی۔میوزیم کا یہ حصہ اس کے بڑے کام کا تھا۔ہمیں اسٹرو فزکس کا تو کوئی اتنا خاص علم نہیں ہے، ہاں اسٹرالوجی میں کچھ شدبد کی وجہ سے یہ حصہ بھی ہماری دلچسپی کا مرکز تھا،کبھی کبھی ستاروں کی چال دیکھ کر ملکی سیاست کا جائزہ ضرور لے لیا کرتے ہیں،2013کے انتخابات سے پہلے ہمارا اسی حوالے سے جائزہ تھا جو ایک کالم کی شکل میں ایک اخبار میں شائع بھی ہوا تھا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے ستارے جون 2017کے بعد عروج پر ہوں گے اس سے پہلے ان کی تمام کوششیں سعیِ لا حاصل ثابت ہوں گی اور وقت نے ہماری بات کو درست ثابت کیا ہے۔

وہاں سے نکلے تو سامنے ہی شہرہ آفاق ڈرون کا سامنا ہو گیا۔ڈرون طیارہ اس وقت بڑی معصومیت سے لٹکا ہوا تھا۔اسے دیکھتے ہوئے ہم نے دل ہی دل میں کہا اچھا یہ ہے وہ ڈرون جس نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میںاس ڈرون نے جو تباہی مچائی اس سے پاکستانی قوم شدید نالاں رہی ہے۔پاکستانی دفترِ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2004سے اب تک پاکستان میں 330 ڈرون حملے کئے گئے جن میں2200 سے زائد افراد جان بحق ہوئے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز سن 2004میں ہوا اس سال صرف ایک حملہ ہوا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔سن2005 میںتین حملے ،13افرادہلاک،سن2006 میں چار حملے 7جاں بحق،سن 2007 میں چار حملے ہوئے جن میں 48افراد،سن2008 میں ڈرون حملوں میں اضافہ ہو گیا اور36حملوں میں 219افراد جاں بحق ہوئے،2009میں54حملے350افراد جبکہ سن2010میں سب سے زیادہ یعنی122ڈرون حملے ہوئے جس سے608افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ سن2011میں72حملوںمیں256افراد،سن2012 میں48حملے۔222ہلاکتیں،جبکہ رواں سال کے ماہ اپریل تک بارہ ڈرون حملے ہوئے جن میں62افراد لقمہِ اجل بنے۔صدر بش کے زمانے میں پاکستان میں52ڈرون حملے جبکہ اوباما کے برسرِاقتدار آنے کے بعد314ڈرون حملے ہوئے۔

اب تو ہم خود ڈرون کے معاملے میں خود کفیل ہو چکے ہیں،فوج دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے جس میں پاکستانی ڈرون بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ہم نے ابھی کچھ دیر پہلے رائیٹ برادران کو سلیوٹ پیش کیا تھاکہ اگر انہوں نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو ہم تاریخ میں آج کس مقام پر کھڑے ہوتے۔لیکن ڈرون بھی تو ایک طیارہ ہی ہے،اگر طیارہ مسافروں اور سامان کوادھر سے ادھر لے جانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا مثبت استعما ل ہے اور اگر ہیرو شیما اور ناگا ساقی پر اٹیم بم گرانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا منفی استعمال ہے۔میں ڈرون کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھاکہ کیا طیارے کو ڈرون کی شکل دینے پر رائیٹ برادران کو کیا جانے والا سلیوٹ واپس لے لینا چاہیئے؟

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

”میرے بابا جی“                 اکثر اوقات جب مجھے لائبریری جانے کا اتفاق ہوتو تو وہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے