سر ورق / افسانہ / علم کی روشنی۔۔ثمن چوہدری

علم کی روشنی۔۔ثمن چوہدری

افسانہ::علم کی روشنی

ثمن چوہدری

شام کے سرمئی سائے ہر طرف اپنے پر پھیلا چکے تھے صحن میں رکھی سلائی مشین پر جھکی خدیجہ کے ہاتھوں میں اور تیزی آ گئی تھی، کل تک سوٹ پورا کر کے راشدہ کے گھر بجھوا دوں گی تاکہ کل ہی پیسے مل جائیں بجلی کا بل دینے والا ہے خدیجہ نے خود کلامی کی

امی جی میں بڑا ہو کر بہت پیسے کماؤں گا پھر آپ کو کام نہیں کرنا پڑے گا پاس بیٹھا ناصر جو کتاب گود میں رکھے کتنی دیر سے اپنی ماں کے چلتے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا تھا بڑی سمجھداری سے بولا

خدیجہ کو اپنے بارہ سالا  بیٹے پر بہت پیار آیا جو پانچویں کلاس کا طالب علم تھا…. پتہ ہے تمہارے نام کا مطلب کیا ہے خدیجہ نے اپنے بیٹے سے سوال کیا؟

ناصر نے انکار میں سر ہلایا… تمہارے نام کا مطلب ہے مدد کرنے والا، اس لئیے بیٹا بڑے ہو کر پیسہ مت کمانا بلکہ دوسروں کی مدد کرنا پیسہ تو سب کماتے ہیں لیکن مدد گار کوئی کوئی بنتا ہے، لیکن امی جی میں پیسوں کے بغیر کیسے مدد کروں گا کسی کی، ناصر نے حیرانگی سے پوچھا

خدیجہ نے ہنستے ہوئے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ناصر بیٹے پیسے کے بغیر بھی ہم لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں علم کی روشنی سے، جب تم پڑھ لکھ جاؤ تو ان بچوں کو پڑھانا جنہیں پڑھانے والا کوئی نہیں ہے جن کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ کام کرنے میں خراب ہو جاتے ہیں، جن کا بچپن اخباریں بیچتے، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے یا سڑکوں پر پھول بیچتے گزر جاتا ہے اس بات پر خدیجہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے انہوں نے دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھیں صاف کیں، وہ بہت حساس دل کی مالک تھیں شادی کے 10 سال بعد ان کے شوہر دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو گئے تھے ان کی صرف ایک ہی اولاد تھی ان کا اکلوتا بیٹا ناصر جو ان کی شادی کے 5 سال بعد پیدا ہوا تھا اور جب ناصر پانچ سال کا تھا تب ان کے شوہر چل بسے….شوہر کی وفات کے بعد خدیجہ نے سلائی، کڑھائی کر کے اپنے بیٹے کو پالا تھا ان کے شوہر کپڑے کی دوکان پر ملازم تھے خدیجہ کے پاس صرف گھر اور اپنے بیٹے کے سوا کچھ نہیں تھا

ناصر کے ننھے ذہن میں امی جی کی آدھی بات سمائی تھی لیکن اس نے فرمانبرداری سے سر ہلا دیا تھا

وقت کا پرندہ خاموشی سےاڑان بھر کر  پانچ سال آگے چلا گیا تھا

 خدیجہ ویسے ہی صحن میں مشین پر جھکی ہوئی تھیں ان کے بالوں میں جگہ جگہ سفیدی اتر آئی تھی یہ سفیدی بڑھاپے کی تو نہیں تھی لیکن زندگی کے فکر و غم نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا

اچانک ذور سے دروازہ کھلا، خدیجہ نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا ان کا بیٹا ناصر دوڑتا ہوا ان کے قدموں میں بیٹھ گیا یہ اخبار دیکھیں امی جی، اس کا سانس پھول رہا تھا، چہرہ خوشی کے مارے لال بھبھوکا ہو گیا تھا، یااللہ خیر بیٹا کیا ہے اخبار میں خدیجہ نے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا؟

 ارے امی جی یہ دیکھیں آپ کے بیٹے نےمیٹرک کے امتحان میں پورے بورڈ میں اول پوزیشن لی ہے ناصر نے خبر پر انگلی رکھ کر نشاندہی کی، خدیجہ نے جلدی سے اپنی عینک ٹھیک کر کے خبر پڑھی انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا…. یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے بیشک تو کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا خدیجہ نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا جس نے انہیں اتنی بڑی خوش خبری دی تھی آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے آج یہ آنسو غم کے نہیں، بلکہ خوشی اور شکرانے کے تھے

 امی جی چلیں اٹھیں میں نے آپکو کہیں لے کے جانا ہے ناصر نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا لیکن ناصر بیٹا…. کوئی سوال نہیں امی جی ناصر نے پیار سے انہیں چپ کراتے ہوئے کہا، ٹھیک ہے بیٹا میں نماز پڑھ کے شکرانے کے نوافل ادا کر لوں پھر چلتے ہیں… امی جی آپ مجھ سے پوچھتی تھیں نا کہ میں سکول سے واپس آنے کے بعد سات بجے تک کہاں رہتا ہوں آج میں آپ کو وہیں لے کے جا رہا ہوں ناصر نے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بتایا…. اونچے نیچے راستوں سے ہوتی ہوئی موٹر سائیکل ایک گنجان آباد سے علاقے میں داخل ہوئی اور دو تین گلیاں مڑ کر ایک ٹوٹے پھوٹے کمرہ نما مکان کے آگے جا کر رک گئی…. آئیں امی جی ناصر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اندر لے گیا…… کمرے میں آٹھ، دس چھوٹے چھوٹے بچے بیٹھے تھے

کمرے کی حالت بہت مخدوش تھی، تین، چار پرانی کرسیوں، میز، دیوار گیر الماری میں کتابیں، جس کا دروازہ بھی نہیں تھا اور پنکھے کے علاوہ اس کمرے میں کوئی سامان نہیں تھا…. خدیجہ کو بے طرح حیرت ہوئی، بیٹا یہ بچے؟؟

امی جی یہ وہ بچے ہیں جنکا بچپن اخبار بیچتے، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے یا سڑک پر پھول بیچتے نہیں گزر رہا میں انہیں پڑھا رہا ہوں اور صرف میں ہی نہیں میرا دوست بھی میرے ساتھ اس کارِ خیر میں شامل ہے میں انہیں یہاں پڑھاتا ہوں اور ان کی رہائش میرے دوست کے ہوٹل میں ہے میں ان بچوں کو اچھا مستقبل دوں گا اور آئندہ یہ اپنے جیسے بہت سارے بچوں کا بچپن ضائع ہونے سے بچائیں گے انہیں اچھا مستقبل دوں گا اور آئندہ یہ اپنے جیسے بہت سارے بچوں کا بچپن ضائع ہونے سے بچائیں گے انہیں اچھا مستقبل دیں گے

ناصر کی آواز میں جوش کے ساتھ ساتھ خوشی چھلک رہی تھی…. خدیجہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا جو بات انہوں نے بارہ سال کے ناصر کو سمجھائی تھی وہ آج سترہ سال کے ناصر نے سچ کر دکھائی تھی

خدیجہ وہیں کمرے کے فرش پر سجدہ ریز ہو گئیں یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے میرے دعاؤں کو رائیگاں نہیں جانے دیا…. انہوں نے اٹھ کر اپنے پیارے بیٹے کا ماتھا چوما جو آج ان کا فخر تھا جس شمع کو خدیجہ نے اپنے بیٹے کے دل و دماغ میں روشن کیا تھا اس کی روشنی سے آج بہت ساری زندگیاں روشن ہو گئی تھیں اور انہیں یقین تھا کہ یہ سلسلہ اب جاری و ساری رہے گا انشاءال

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے