سر ورق / افسانہ / سات سو جالیس روپے میں عمرہ۔ بابا جیونا

سات سو جالیس روپے میں عمرہ۔ بابا جیونا

جب سے ماں نہیں دنیا میں

میں چاند سا پیارا نہیں لگتا ۔ بابا جیونا۔

ماں ایک ایسی ہستی ہے جس پہ دنیا کے قائم ہونے سے لے کر آ ج تک ہزاروں ،لکھاریوں ،ادیبوں ، شعراء،اور اہل علم لوگو ں نے ،مضامین لکھے ، ،نظمیں ،اور تعریفی کلمات قلم بند کیے ،مگر ماں کی شخصیت کو کوئی بھی الفاظ کی تسبیح میں مکمل نہیں پِرو سکااور نہ ہی کوئی ماں کے مقام کی اپنے الفاظ میں عکاسی کر سکا ۔ماں کا وجود کائنات کی خوبصورتی میں ہزاروں چاند لگا تا ہے ،ماںوہ ہستی ہے جس کے بارے سرکار سرور کائنات ﷺکا فرمان عظیم ہے کہ ”میں نماز کی حالت میں ہوں اور ماں مجھے آواز دے تو میں نماز چھوڑ کے ماں کی بات سنوں“اس فرمان اعلیٰ سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ماں کی شان کیا ہے ،جس گھر میں ماں نہیں ہوتی وہ گھر کسی ویران کھنڈر کے جیسا ہوتا ہے ماں کئی شان کیا کہیے ،چڑیا عقابو ںسے الجھ جاتی ہے ،امام الانبیا ءوجہ ءدوجہان کا فرمان عالی شان ہے کہ” جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے “۔مجھے آج بھی یاد ہے ہمارے گھر مفلسی نمبر دار ہوا کرتی تھی ،ہما را کچا گھر تھا ،والد صاحب محنت مزدوری کیا کرتے تھے ،امی جان کوروپیہ دور وپے روزانہ خرچہ ملتا تھا ،امی بتاتی ہیں بیٹا ہم نے کبھی سو کا نوٹ نہیں دیکھا تھا ۔مہینے میں کبھی کبھاہمارے گھر گوشت یا چاول پکا کرتے تھے ،ہم پودینے کی چٹنی ،لسی ،اور بینگن کا بھُڑتا ہی زیادہ تر کھایا کرتے تھے ،یا سرسوں کا ساگ کئی کئی روز تک کھایا جاتا ،ہم عید ،یا کسی شادی بیاہ پہ ہی نئے جوتے اور کپڑے خریدا کرتے تھے ،تمھارے والد کے جوتے دس دس جگہ سے ٹوٹے ہونے کے باوجود موچی سے مرمت کروا کر پہنے جاتے ،ہمارے گھر ایک بھینس ہوا کرتی تھی جس کے جسم سے بھی ہمارے گھر کی مفلسی صاف چھلکتی تھی۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے گورنمنٹ رضویہ اسلامیہ ہائی سکول ہارون آباد میں جب میں زیر تعلیم تھا تو مجھے فٹ بال کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ،چند دنوں کی محنت سے میں سکول کی ٹیم کا کپتان مقرر ہوگیا ،ہمارے سپورٹس انچارج ملک شریف صاحب نے حکم دیا کہ بیٹا تم اب ہمارے سکول کی ٹیم کے کپتان ہو لہذا کل سے تم ٹریک سوٹ میں آیا کرو گے ،ٹراﺅزر شرٹ اور جوگر بوٹ کا انتظام کر و ،میں بہت پریشان ہوا ،میرے دل میںہزاروں سوال اور وسوسے خودرو کانٹے دار جھاڑیوں کی طرح کونپلیں نکالنے لگے،میں سوچ رہا تھا کہ اگر کسی سکول کے ایک کھلاڑی کو جوگر ،ٹراﺅزر ،شرٹ اپنے پیسوں سے ہی خرید کر سکول کے لیے کھیلنا ہے تو پھر ہمارے سکول کا سپورٹس فنڈ کہاں جاتاہے ،میرے معصوم سے دل اور دماغ میں ناجانے کتنے بڑے بڑے خیالات کسی آتش فشاں پہاڑکے دھکتے ابلتے لاوے کی طرح میرے جذبات کی دھرتی کو چیرتے ہوئے میںمیرے سینے سے باہر نکلنے کی کوشش کررہے تھے،میری آنکھوںکے سامنے بار بار اپنے گھر کے حالات آرہے تھے میرے کانوں میں ابو کے سبزی کے بوجھ سے لدے سائیکل کے پیڈلوں کی چاں چاں کسی پرسوز دھن پہ بجتے نغمے کی طرح افسردگی انڈیل رہی تھی ،میری پڑھائی میرے امی ابو کا وہ خواب تھا جو کبھی کبھی مفلسی اور محرومیوں کے سخت رویوںاور حالات کے تپھیڑوں کا درد سہنے سے قاصر آجاتا،ہر دن حصول علم کے راستے میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آن کھڑی ہوتی ،لیکن میری امی جان اور اباجان کے ارادے کسی سنگلاخ چٹان سے بھی زیادہ مضبوط تھے ،سوچا اب کیا کروں ،گھرپہنچاشام تک اسی سوچ میں مارا مارا پھرتا رہا، میں بستی کی کرکٹ ٹیم کا بھی کپتان تھا ،فرداََ فرداََ کرکٹ ٹیم کے تما م ممبر ز کے گھر گیا تاکہ کسی سے ٹریک سوٹ اور جوگر مل سکیں مگر مایوسی ہوئی ،آخر میرے ایک بہت قریبی دوست تملی نے محض اس شرط پہ ٹراﺅزر شرٹ دی کہ میں سکول کے ٹورنا منٹ کے بعد اسے اسی حالت میں اس کا ٹراﺅزر اور شرٹ واپس کردوں گا ،مگر کوئی بھی جوگر دینے کو تیار نہ ہوا ،ہر کسی کا یہ خیال تھا کہ جب یہ جوگر پہن کر فٹ بال کھیلے گا تو جوگر کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے بات کسی حد تک سچ بھی تھی ،بہرحال مجھے کل جو گر پہن کر ہی جانا تھا ،،گھر گیا دیے کی مدہم سی سوگوار ٹم ٹماتی روشنی میں جو ذرا ساہوا جھونکا آتا تو لگتا ابھی دیا بجھ جائے گا مگر لڑکھڑاتی ہوئی لائٹ پھر سنبھل جاتی، امی جان گھاس پھوس کے چھپر کے نیچے بیٹھی مٹی کے بنے چولہے میں بھینس کے گوبر کی بنائی گئی تھاپیوں پہ دودھ گرم کرنے میں مصروف تھیں ،دھوئیں سے لال آنکھوں کو ہاتھوں کی پشت سے ملتے ہوئے میری طرف ایک مسکراہٹ سے دیکھا جیسے معصوم کا بچہ صبح اٹھتے ہی آنکھیں مسلتے ہوئے اپنے اکلوتے اور قیمتی کھلونے کی طرف دیکھے ،میں نے امی جان سے بات کی امی جان نے گلہ ڈال رکھا تھا ،امی نے میری بات سنتے ہی صندوق سے نکال کر اپنا مٹی کا گلہ زمین پہ مارکر توڑ دیا، گلے میں سے تین سو اسی روپے سکوں کی شکل میں نکلے اللہ جانے کب سے امی جان سکے اس گلے میں ڈال رہی تھیں ،خیر میری بات بن گئی ،امی جان نے وہ پیسے ابا جی کو دیے اور کہا کہ اس کے جوگرخریدنے کے بعد جو پیسے بچ جائیں ،میرے لیے ایک شال لیتے آنا ،اور اپنے لیے ایک چپل بھی ضرور لے لیجیے گا ،ابا جان نے پہلے تو مجھے ڈانٹا کہ کن فضولیا ت میں تم حصہ لے رہے ہو ،ہم نے تمھیں سکول پڑھنے بھیجا ہے تم ،آوارہ ہونا چاہتے ہو،کوئی جوگر شوگر نہیں ہیں ،آرام سے گھر بیٹھو اور اپنی کتابوں میں دھیان دو ،لیکن میں امی جان کے گلے سے لپٹ کر یہی کہتا رہا امی ابوسے کہیں نا میرے ساتھ چلیں ،میری ٹیم کیا سوچے گی ،میرے استاد کیا سوچیں گے ،میرے سکول کی عزت کا سوال ہے میں اچھا کھیلتا ہوں ،میں سکول کی ٹیم کا کپتان ہوں،مجھے نہیں پتا بس مجھے جوگر لے کر دیں ،خیر امی جان نے اباجی کو منا ہی لیا ،میں اباجان کے ساتھ سائیکل پہ بیٹھا اور ہم ہارون آباد فوارہ چوک سروس کی دکان میں چلے گئے ،دکان میں داخل ہوتے ہی میری نظر ایک لال رنگ کے ڈبے پر پڑی جس پر چیتا بنا ہوا تھا ،میں نے فوراََ دکان دار سے کہا چاچا اوہ ڈبہ وکھا،وہ کالے رنگ کے جوگر ہوا کرتے تھے جن پہ پاور لکھا ہوتا تھا اور دونوں سائیڈوں پہ چیتے کی تصویر بنی ہوتی تھی ،میںنے اباجان سے کہا بس یہی جوگر لے دیں ،قیمت پوچھی تو تین سو پچاس روپے ،دکان دار سے میں نے بہت بحث کی لیکن دکاندار بضد تھا کہ ہمارے فکس ریٹ ہوتے ہیں ہم کمی بیشی نہیں کرتے یہ سروس والوںکی اصلی دکان ہے بیٹا آپ بحث نہ کریںقیمت کم نہیںہوگی،جب میں گھر سے آیا تھا تو میں نے دیکھا تھا امی کا دوپٹہ سر کے اوپر سے پھٹا ہوا تھا ،امی کی چپل کے تلوے میںسوراخ تھا ،امی نے کبھی چوڑیا ں نہیں پہنی تھیں ،امی کی قمیض پہ ہاتھ والی سوئی سے کتنے ہی پیوند لگائے ہوئے تھے ،اباجان کی پلاسٹک کی چپل جگہ جگہ سے سلائی کروائی ہوئی تھی ،ابا جان کو ریڈیو سننے کا شوق تھا جو آج بھی ہے ابا جان ڈیڑھ سو کا ریڈیو خریدنا چاہتے تھے، اور آج بھی اباجان ٹی وی کیبل سب ہونے کے باوجود بی بی سی پہ خبریں سننا پسند کرتے ہیں ،اباجان کو ریڈیو پہ فوجی بھائیوں کا پروگرام سننے کا بہت شوق تھا ،کیوں کہ اباجان بھی چند سال آرمی میںرہے تھے ،داداجان کی بیماری کی وجہ سے اباجان کو آرمی چھوڑنا پڑی ،جب دکاندا ر نے ایک روپیہ بھی کم نہ کیا تو میںنے افسردہ دل کہا ٹھیک ہے اباجان کوئی اور جوتے لے لیتے ہیں کسی اور دکان میں چلتے ہیں جو قیمت کم بھی کر یں ،میرے دماغ میں اباجان کا ریڈیو ،امی کی شال ، اور ابو کی چپل آرہی تھی ،میں چاہتا تھا تین سو اسی روپوں میں ہم سب کچھ خرید لیں ،جب اباجان نے میرا اترا ہواچہرہ دیکھا تو دکاندار سے کہنے لگے ٹھیک ہے بھائی یہی جوگر دے دو ،میں مایوس دل سے نا ، نا ، کر تا رہا لیکن ابا جان نے تین سو پچاس سکے گن کر دکاندار کو دے دیے ،ہم اور کوئی بھی چیز خریدے بغیر گھر چلے گئے ،گھر پہنچ کر ابو نے ساری بات امی کو بتائی تو امی نے کہا چلو کوئی بات نہیں میرا لال توخوش ہوگیا ہے نا،اب تو تیرے ماسٹر اور سکول والے کچھ نہیں کہیں گے ناں؟میں نے بولے بغیر سر ہلایا ہاں اب کچھ نہیں کہیں گے،امی نے مجھے بازو سے پکڑ کر گلے لگا لیا اور میری پیشانی پہ بوسہ دیامیری آنکھوں میں مفلسی کے آنسو امنڈ آئے میری آنکھیں کسی ماتمی کے سینے کی طرح سرخ ہو کر دہکنے لگیں بڑی مشکل سے میں نے آنسوﺅں کے بپھرے سیلاب کو جذب کیاآنسو میری پلکو ںپہ ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے انار کے سرخ پھولوں پہ بارش کے موتیوں جیسے دھکتے رقصاں قطرے ،میری پیشانی پہ امی جان کا بوسہ مجھے زندگی بھر یاد رہے گا ،میں نے میڑک کاا متحان دیااب میں فارغ تھا ،میں نے بھی اباجان کا ہاتھ بٹانے کا فیصلہ کیا ،اب میں فرید کریانہ سٹور پہ بطور سیلز مین کام کرنے لگا ،میرے اس فیصلے کی وجہ گھر کے حالات تو تھے ہی لیکن میرے ایک ماموں زاد بھائی کی وہ بات تھی جو اس نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر سیب کھاتے ہوئے مجھے دیکھ کہی تھی ،اس نے کہا تھا،”باپ سارادن گلیوں میں دھکے کھاتا ہے آکو اور پیاز سے لدی سائیکل کھینچتا ہے اور بیٹا دیکھوکسی نواب زادے کی طرح بیٹھا سیب کھا رہا ہے ،اس کی بات سن کر میری پیشانی پہ تریلی آگئی تھی مجھے لگا سیب کا کوئی ڈکرامیرے گلے میں اٹک گیا ہے ،میری حالت اچانک چھوئی موئی کے اس پودے جیسی ہوگئی تھی جسے ابھی ابھی کسی نے ہاتھ لگایا ہو ،میں ایک اچھا کھلاڑی اوربہترین ایتھلیٹ تھا لیکن اس دن میرے ہاتھ سے کرکٹ کا بلا اور پاﺅں سے فٹ بال ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جد اہوگئے ،اب میں صبح فجر کے وقت اٹھتا نما ز پڑھ کر اسٹیڈیم چلا جاتا دوڑ لگاتا اورگھر واپس آکر ناشتہ کرتا اور پھر فرید کریانہ سٹور پہ جاکر سامان اپنی سائیکل پر لوڈ کرتا اور شہر میں نکل جاتا ،ہر آئیٹم پہ مجھے ایک روپیہ کمیشن ملتا ،اور بارہ سو روپے میری تنخواہ تھی ،شروع شروع میں مجھے کافی دکت کا سامنا رہا کیوں کہ دکاندار نئے سیلز مین سے بڑی مشکل سامان خریدتے ہیں ،دکانداروں کے پکے سیلز مین لگے ہوتے ہیں، ویسے بھی میں طبیعت سے کچھ کم گو اور موڈی تھا ،اور جہاں تک سیل مینی کا تعلق ہے سیل مین ایک باتونی بندہ ہوتا ہے ،مٹی کی تعریف کرنے لگے تو سونے کو پیچھے چھوڑ دے ، ،خیر میں بھی کچھ نہ کچھ ہاتھ پیر مارنے لگا تھا ،فرید کریانہ سٹو ر پہ ایک پرانا سیل میں تھا کلیم،کلیم کافی اچھا اور سمجھدار لڑکا تھا ،دبلاپتلا کسی انتہائی غریب گھر کا چشم و چراغ،خوراک کی کمی نے کلیم کو پھلنے پھولنے نہیں دیا تھا،اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ کسی ریڈی میڈ کی دکان پہ کھڑا پُتلا ہے جس پہ دکاندار نمائش کے لیے کٹ پیس لٹکاتے ہیں،کچھ ہی دنوں میں کلیم میر ادوست بن گیا اس کو ہمیشہ میں نے ایک ہی آسمانی رنگ کی شلوار قمیض میں دیکھا جس پہ مختلف رنگوں کے دھاگوں سے مختلف سائز کے بٹن لگے ہوئے تھے یا شائد اس کے سارے سوٹ ہی آسمانی رنگ کے ہوں گے اور سب کے سب پر ہی مختلف رنگوں کے دھاگوں سے بنت ہوئی ہو ہوگی ،اس نے پھر مجھے سیل مینی کے تمام گُر سکھائے ، کلیم نے مجھے سکھایا کہ کس طرح اپنی اشیائے فروخت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے کلابے ملانے ہیں ،کس طرح بچوں کے پاپڑ نمکولولی پاپ اور ٹافیاں بیچنی ہیں ِ، کلیم جب دکان دار کے سامنے ان چیزوں کی تعریف کرتا تو کبھی کبھی میرا دل للچانے لگتا ،دل کرتا فوراََبند پیکٹ کھول کر ذرا چکھ کر تو دیکھوں کہ آیا سچ مچ ایسا ہی ہے جیسا کلیم بتا رہا ہے ،بہر حال وہ سب جھوٹ ہوتاتھا ،چند ہی دنو ں میں میں ایک اچھا سیل مین بن گیا ،میر ادسویں جماعت کا نتیجہ آیاتو میں اچھے نمبروںسے پاس ہوگیا تھا،میرے گھر والے چاہتے تھے کہ میں کالج چلا جاﺅں آگے مزید پڑھوں لیکن میں نہیں چاہتاتھا کہ میرے اباجان کی بوڑھی اور دکھتی ہڈیوں کی صدائیں سائیکل کے پیڈلوں اور خشک گراریوں کی بے سری اور بے ڈھب آواز میں دب کر رہ جائیں، میں ان صدائیں دیتی ہڈیوں کے نوحے بند کر نا چاہتا تھامیں اپنے بوڑھے باپ کا بوڑھاپا،غربت کی چکی کے بے رحم پُڑوں میں پِستا ہو ا نہیں دیکھ سکتا تھامجھے اپنے مستقبل سے زیادہ اپنے امی ابوکے بوڑھاپے کا خیال تھا ،میں اپنے اباجان کو آرام دینا چاہتا تھا ،میں نے سیلز مینی کے ساتھ ساتھ اخبارات کا مطالعہ شروع کردیا میں صرف نوکریوں کے اشتہار پڑھا کرتا ،ایک دن سخت دوپہر کو جب میں بوجھ سے لدا ہو اپسینے سے شرابور ہانپتا ہوا خشک ہونٹوں کے ساتھ گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو امی جان ظہر کی نماز ادا کررہی تھیں ،امی جان نے سلام پھیرا تو سیدھی نظر مجھ پہ پڑی میں نے ہنسنے کی کوشش کی مگر میری آنکھیں سب کچھ ایک ہی لمحے میں امی سے کہہ گئیں ،امی جان اسی وقت پھر سجدے میں چلی گئیں ،اور مجھے ہو بہو یاد ہے کہ امی کی آنکھوں سے آنسو جائے نماز پہ گر رہے تھے یقینا امی جان نے میری نوکر ی کی دعا کی ہوگی ،جو اللہ نے قبول کرلی اور چند دن بعد پولیس میں بھرتی کا اشتہار آگیا ،اور میں اللہ کے فضل و کرم سے پولیس میں کنسٹیبل بھرتی ہوگیا ،مجھے یاد ہے جب ہم پولیس میں بھرتی کے لیے بہاولپور جایا کرتے تھے تو میری جیب میں کرایہ بھی نہیں ہو ا کرتا تھا ،بس کنڈکٹروںسے لڑتے الجھتے ہم بہاولپور پہنچتے ،جس دن ہماری دوڑہوئی ایک افسر نے اعلان کیا کہ کل صبح سات بجے آپ لوگوں کے قد چھاتی کا امتحان ہے جو امیدوار صبح دیر سے آیا اسے پنڈال میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا ،اتنا سخت حکم سن کر میں نے آج بہاولپور ہی رات رہنے کا فیصلہ کیا وہ سرد رات گراﺅنڈ میں میں نے کیسے گزاری میرے بعد اللہ ہی جانتا ہے ،میں کسی بھی صورت یہ بھرتی کا چانس ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ،آدھی رات تک میں گراﺅنڈ میں لیٹا رہا جب سردی برداشت سے باہر ہوگئی تو اٹھ کر مسجد میں چلاگیا مسجد کے کمرے کو تالا لگا ہوا تھا ،ادھر ادھر دیکھا تو صحن کے ایک کونے میں صفیں پڑی نظر آئیں ،ایک صف کو بچھایا دوسری کو اوپر لے کر لیٹ گیا ،غلطی میں نے یہ کی کہ جو صف اوپر لی اسے جھاڑنا بھول گیا ،صف میں موجود ساری مٹی میرے منہ ،سر ،آنکھوں ،اور کپڑوں میں رچ بس گئی ،لیکن سردی میں ٹھٹھرنے سے صفوں میں سونا کئی درجے میرے حق میں تھا ،مجھے پتہ ہی نہ چلا کب مولوی صاحب نے آکر اللہ اکبر کی صدا لگائی اور میری آنکھ کھلی ،اب نہانا میرے لیے بہت ضروری ہوگیا تھا ،مسجد کے باتھ روم میں پڑے لوٹے سے میں نے اپنے بدن پہ ٹھنڈے پانی کے لوٹے بھر بھر کر انڈیلے ،میرے ہاتھ پیر سُن ہوگئے میرے ہونٹ نیلے ہوگئے تھے ،بغیر صابن نہانے کا یہ میرا پہلا اورآخری تجربہ تھا ،جب تک سورج کی کرنوں نے میرے بدن اور ہڈیوں میں رچی اس ٹھنڈ کو نکال نہ دیا میں حالت ِسرد میں مبتلاءرہا ،اگلی رات پھرمجھے بخار اور نزلے نے آن لیا ،امی نے کئی کاڑھے اور قہوے بنا بنا کر مجھے دیے ،دو رضائیاں اور ڈالیں ،پھر کہیں جا کر طبیعت سنبھلی ،پولیس کی بھرتی کا باقی امتحان میں نے بخار میں ہی دیا تھا،

گرمیوں کے دن تھے ،گندم کی کٹائی کا موسم تھا،امی جان کی دمے کی بیماری گندم کی کٹائی کے دنوں میں بہت زور کر جاتی ہے ،میں ان دنوں پولیس کی ٹریننگ کر رہا تھا موبائل کا دور نہیں تھا ،پی ٹی سی ایل کے فون ہو ا کرتے تھے ،ہمارے ٹریننگ سکول میں بھی ایک پی سی او تھا جسے ہم نیم سرکاری کہہ سکتے ہیں ،کیوں کہ وہ پرائیویٹ آدمی چلا رہا تھا ،اس کا فائدہ یہ تھا ایک تو اس نے تمام ٹرینیز کے کھاتے بنائے ہوئے تھے اورپیسے تنخواہ آنے پر ہی لیتا تھا دوسرا یہ کہ وہ سارا دن ٹرینی لڑکوں کے گھروں سے آئے پیغامات اپنے پاس ڈائری میں لکھتا رہتا اور شام کو جب ہماری رول کال ہوتی تو وہ بھی فالنی میں آجاتا اور سب کے پیغام بتاتا آج اس نے مجھے پیغام دیا کہ تمھارے گھرسے فون آیا ہے گھر بات کر لو ،میں نے اپنے محلے میں بنے پی سی او پہ کال کی اور کہا میرے گھر سے کسی کو بلادیں ،محلے کے پی سی او والا کسی کے گھر جاکر پیغام دینے کے پانچ روپے لیا کرتا تھا ،اس نے مجھے آدھے گھنٹے بعد فون کرنے کا کہا اور ہمارے گھر پیغام پہنچادیا ،آدھے گھنٹے بعد میں نے فون کیا تو اباجان آچکے تھے ،ان سے بات ہوئی حال احوال لیااوردیا زیادہ لمبی بات کرنا بہت مشکل ہوتاتھا کیوں کہ پیسے یونٹ کے حساب سے دینے پڑتے تھے اس لیے مختصر بات ہوئی اباجان نے پیغام دیا کہ تمھاری امی کی طبیت کافی خراب ہے ہر طرف گندم کی کٹائی ہو رہی ہے جو مٹی اور خصاراڑتاہے وہ تمھاری امی کے سانس میں رکاوٹ کا سبب بن رہا ہے تمھیں فون کرنے کا مقصد ہے کہ تم سُکھے کی والے حکیم بشیر سے رابطہ کرواوراسے کہو کہ حافظہ آباد والی بس پہ تمھاری امی کی دوائی رکھ دے ہم لاری اڈے سے وصول کرلیں گے اسے پیسے بھی بھیج دینا ،اچھا اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ،پیسے تو میںنے پہلی تاریخ کو گھر بھیج دیے تھے میرے پاس تو صرف سات سو چالیس روپے تھے ،ابھی تنخواہ آنے میں تو سترہ دن پڑے ہیں گزارا کیسے ہوگا ،بہر حال امی کی دوائی تو بہت ضروری تھی ،میں نے اباجان سے بات کرنے کے بعد سکھے کی والے حکیم سے بات کی اورکہا کہ میں پیسے آپکو منی آڈر کررہا ہوں آپ امی کی دوائی حافظہ آباد والی بس پہ رکھ دیں ،حکیم صاحب آٹھ سو کا تقاضا کر رہے تھے ،لیکن میرے پاس سات سوچالیس روپے تھے ،میں نے تنحواہ آنے پہ باقی پیسے بھیجنے کا وعدہ کر کے حکیم صاحب کو دوائی بھیجنے پہ رضا مند کرلیا ،اور اپنے پاس موجود سات سو چالیس روپے حکیم صاحب کو منی آڈر کردیے ،پیسے بھیجتے ہوئے مجھے ذرا بھی پریشانی نہ ہوئی کہ میرا مہینہ کیسے گزرے گا ،میر خرچہ کیسے پورا ہوگا ،اللہ نے مجھے ہمت دی اور میں نے سارے پیسے بھیج دیے ،رات کو جب سارے دن کی ٹریننگ سے تھکا ہارا ،چارپائی پہ گِرا تو پتہ نہیں کب مجھے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا ،میںخواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں خانہ کعبہ میں ہوں اور عمرہ کر رہا ہوں ،میں بڑا حیران بھی ہو رہاہوں اور طواف بھی کر رہا ہوں ،میرے پاس ایک بزرگ آتے ہیں اور پوچھتے ہیں بیٹا پریشان کیوں ہو ،میں نے جواب دیا بابا جی میرے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں تھا پھر میں عمرے پہ کیسے آگیا ،میرا کرایہ کس نے دیا ،میں یہاں کیسے پہنچا ،بابا جی مسکرا کر بولے بیٹا تو نے سات سو چالیس روپے ادا کردیے تھے ،تم یہ عمرہ ان سات سو چالیس روپوں کے عوض ادا کررہے ہو ،میری آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے میرے دل سے رونے کی ایسی دھاڑ نکلی کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں کیا دیکھتا ہوں کہ سچ مچ میری آنکھوں سے آنسو نکلے ہیں اورمیں نے اٹھ کر بستر کی چادر سے اپنے آنسو صاف کیے ،اس کے بعد پوری رات میں سو نہیں سکا ،اور اللہ کا شکر ادا کرتا رہا ،میرا دل چاہ رہا تھا کہ مجھے پرلگ جائیں اور میں اڑکر امی جان کے پاس پہنچ جاﺅں ،اور امی کے گلے سے لپٹ کر سارا خواب انھیں جا کر سناﺅں ۔

ماں کی گود کاطلسم یکسر عجیب ہے ،

سر رکھتا ہوں تو رنج اوالم سب بھول جاتاہوں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

لچھی کی کرسی ابصار فاطمہ جعفری سکھر ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر ۔62 لچھی کی کرسی ابصار فاطمہ جعفری سکھر ۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے