سر ورق / کہانی / کالا جادو ۔۔۔ سید بدر سعید

کالا جادو ۔۔۔ سید بدر سعید

درندہدرنرررد

مسیحا ہی قاتل بن جائیں تو انسانیت پر سے اعتبار اٹھنے لگتا ہے۔ یہ کسی گا ¶ں کی کہانی نہیں ہے۔ ظلم اور بربریت کی یہ داستان لاہور جیسے بڑے شہر کے سرکاری ہسپتال سے لپٹی ہوئی ہے۔ ان دنوں میں لاہور کے ایک اخبار کے انویسٹی گیشن سیل سے منسلک تھا۔ میری عادت تھی کہ میں چھٹی کے بعد داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ اور گرا ¶نڈز میں کچھ دیر کے لیے ضرور جاتا تھا۔ یہاں مختلف شہروں سے آئے غریب افراد بھی بیٹھتے تھے اور شہر میں مزدوری کرنے والے پردیسی بھی یہیں رات گزارتے تھے۔ یہ جگہ جرائم پیشہ افراد کا اڈا بھی تھی اور بچے اغوا کرنے والے مافیا کے لوگ بھی یہیں چکر لگاتے رہتے تھے۔ پہلی نظر میں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فٹ پاتھ پر بھکاریوں نے قبضہ جما رکھا ہے لیکن جیسے جیسے میں اس دنیا سے آشنا ہوتا گیا ویسے ویسے مجھ پر اس کے راز کھلتے چلے گئے۔ یہاں کچھ ”بابے“ میرے دوست بن گئے تھے۔ ہم اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے اور تاش کھیلتے تھے۔ اس دوران میں نہ صرف ان سے مختلف واقعات پوچھتا رہتا بلکہ مجھے زیرزمین مافیا کی خبریں بھی ملتی رہتی تھیں۔ میں نے انہیں بتا رکھا تھا کہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں چھوٹی موٹی نوکری کرتا ہوں۔ میرے لیے یہ جگہ میری خبروں کا ”سورس“ تھی۔ اگر انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ میرا تعلق اخبار سے ہے تو پھر یقیناً وہ یوں کھل کر مجھ سے بات نہ کرتے یا پھر مجھے اپنے ”ٹولے“ میں بیٹھنے کی اجازت ہی نہ دیتے۔

                                مجھے اخبار کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت نہیں تھی کہ میں یہاں جا ¶ں لیکن ایک استاد مجھے بتا گیا تھا کہ اگر اچھا صحافی بننا ہے تو پھر اس جگہ کو کبھی نہ بھولنا۔ صحافت میں وہی شخص کامیاب سمجھا جاتا ہے جس کی خبر یا فیچر نہ صرف لوگوں کو چونکنے پر مجبور کر دے بلکہ دوسروں سے ہٹ کر بھی ہو۔ میرے بوڑھے استاد نے نصیحت کی تھی کہ اگر آنکھ اور کان کا استعمال کرو تو یہ جگہ تمہیں حیرت انگیز خبریں فراہم کرے گی۔ ابتدا میں میرے لیے یہاں جانا اور وقت گزارنا بہت مشکل کام تھا۔ میں گھنٹوں اکیلا ہی ٹہلتا رہتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ میرے دوست بننے لگے اور میرے لیے یہاں دلچسپی کے کئی پہلو نکل آئے۔ میں جس گروپ یا ”ٹولے“ کا رکن بنا اس میں بھکاری اور جیب کتروں سے لے کر مزدور تک شامل تھے ۔ یہ پندرہ سے بیس افراد کا گروپ تھا۔ یہیں تاش کی بازی لگاتے ہوئے مجھے معلوم ہو جاتا کہ بھکاریوں کی کمیونٹی میں کیا چل رہا ہے اور جیب کتروں کے لیے کونسی جگہ ”جنت“ ہے۔ کس تھانے کا انچارج کس مزاج کا ہے اور کون کتنی منتھلی لیتا ہے۔ یہ سب باتیں مجھے یہیں فٹ پاتھ سے معلوم ہوئیں۔ فٹ پاتھ پر بیٹھے یہ لوگ ممنوعہ بور کے اسلحہ سے لے کر چوری کی گاڑیوں اور جعلی کرنسی تک کا لین دین بھی کرتے تھے۔ عام طور پر ان کا کردار کمیشن ایجنٹ کا سا ہوتا تھا۔

                                ایک شام میں داتا دربار کے سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ ایک شخص کہنے لگا: شاہ! آج کل بہت عجیب و غریب کام ہو رہا ہے۔ اس کا انداز اور لہجہ ایسا تھا کہ میں چوکنا ہو گیا لیکن بظاہر لاپروائی کے انداز میں کہا: کیوں؟ ایسا کیا ہو گیا ہے؟ حکومت نے ہمارے لیے مفت گھر بنانے شروع کر دیئے ہیں؟ میری بات سن کر اس نے نفی میں سر ہلایا اور کہنے لگا: نہیں گھر تو نہیں بنائے لیکن ہمارے مزدور غائب ہو رہے ہیں۔ یہ سن کر تو میں جیسے اچھل ہی پڑا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ ایک بڑی اور اہم خبر میری منتظر ہے کیونکہ ابھی تک کسی اخبار میں مزدوروں کے غائب ہونے سے متعلق کوئی خبر نہ آئی تھی اور نہ پریس کلب میں کسی صحافی نے ایسے کسی واقعہ کا ذکر کیا تھا۔ وہ شخص کہنے لگا: یہ تو تمہیں معلوم ہے کہ صبح ہوتے ہی ہم مزدور سڑک کنارے لائن میں بیٹھ جاتے ہیں۔ لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر آتے ہیں اور جسے کسی مزدور کی ضرورت ہو وہ بات چیت کر کے مزدور کو ساتھ لے جاتا ہے۔ وہاں ہم کام کرتے ہیں اور شام کو دیہاڑی لے کر واپس اسی جگہ آ جاتے ہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا:ہاں یہ تو مجھے پتا ہے۔ اس شخص نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: نہ ہم لیجانے والے کو جانتے ہیں اور نہ وہ ہمیں جانتا ہے۔ اب کچھ روز سے ایسا ہو رہا ہے کہ اس طرح جانے والے مزدوروں میں سے ایک آدھ واپس اڈّے پر نہیں آتا۔ نہ ہم اسے دوبارہ کہیں دیکھ پاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ یہاں فٹ پاتھ پر رہنے والے مزدوروں کا ہمیں معلوم ہے کہ ان پردیسیوں کا اور کہیں ٹھکانہ نہیں ہے۔ ہم اسی فٹ پاتھ پر رہتے ہیں اور یہیں لنگر سے کھانا کھا لیتے ہیں۔

                                میں نے سوال کےا،اب تک کتنے مزدور ایسے ہیں جو کام پر جانے کے بعد اب تک نہیں لوٹے؟ اس نے انگلیوں پر شمار کرنے کے بعد بتایا کہ لگ بھگ 10یا اس سے زائد افراد کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ غائب ہونے والوں سے کسی کا بھی کوئی رابطہ نہیں ہو پاتا۔ وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ وہ نہ فٹ پاتھ پر پہنچتے ہیں اور نہ ہی اپنے گا ¶ں جاتے ہیں۔ میں نے دیگر مزدوروں سے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ غائب ہونے والے مزدوروں کے نام اور کوائف حاصل کیے اور خبر بنا دی کہ شہر سے مزدور پراسرار طور پر غائب کیے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ خبر مکمل تھی لیکن میرے نزدیک یہ آغاز تھا ۔ابھی یہ جاننا بہت ضروری تھا کہ غائب ہونے والے مزدور کہاں جا رہے ہیں۔ انہےں اغوا کیا جا رہا ہے یا کوئی ایسی پرکشش آفر کی جا رہی ہے جس کے بعد وہ منظر سے ہی غائب ہو کر کہیں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میرے ذہن میں یہ بھی تھا کہ ممکن ہے شہر میں کوئی ایسا سیریل کلر ہو جو مزدوروں کو قتل کر رہا ہو۔ اس کیس کا اہم نقطہ یہ تھا کہ غائب ہونے والے مزدوروں کی لاشیں بھی نہیں ملی تھیں۔ میں نے اس سلسلے میں بہت کوشش کی۔ ہسپتالوں اور تھانوں کے ریکارڈ دیکھے لیکن نامعلوم لاشوں میں بھی یہ مزدور نہیں تھے۔ ان سب کے پیچھے جو بھی گینگ یا گروہ تھا وہ انتہائی محتاط اور شاطر افراد پر مشتمل تھا جو اپنا کوئی سراغ نہیں چھوڑ رہاتھا۔

                                مزدوروں کی پراسرار گمشدگی اہم خبر تھی لیکن میڈیا سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ یہاں کسی خبر کی تلاش میں باقی کام چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے۔ میں بھی روزمرہ کی صحافتی ذمہ داریوں میں مصروف ہو گیا ۔ کئی اہم خبروں اور اسائنمنٹ کی وجہ سے میرا دھیان بٹ گیا۔ کچھ دن بعد پولیس نے ایک شخص کو قبرستان میں ایک لاش دفن کرتے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ یہ خبر لاہور کی نہیں تھی۔ ایک چھوٹے شہر کے نامہ نگار کی بھیجی یہ خبر محض کرائم نیوز کے سیکشن میں چھاپ دی گئی۔ ایک آدھ دن بعد اسی نامہ نگار کا فون آیا تو کہنے لگا: شاہ! ہمارے علاقے کی خبر تمہارے شہر سے ہو کر گزرتی ہے۔ آج لاش دفن کرنے والے شخص کو پولیس لاہور لے کر آئے گی۔ فون بند ہونے کے بعد میں نے کڑیاں ملانی شروع کیں تو مجھے لگا کہ اس کے پس منظر میں کوئی اچھی خبر دریافت ہو سکتی ہے۔ ایک شخص کسی دوسرے شہر میں ایک لاش دفن کرتا پکڑا جاتا ہے اور اب پولیس اسے لاہور لے کر آ رہی ہے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی اہم وجہ ہو گی۔ میں نے لاہور میں موجود پولیس ذرائع سے رابطہ کیا اور اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ آہستہ آہستہ کڑیاں ملنے لگیں اور پھر میں نے اس گرفتار ملزم سے بھی جا کر ملاقات کی۔اس ملاقات میں انکشاف ہوا کہ وہ شخص قاتل نہیں تھا۔

                                ملزم سے گفتگو ، مختلف ریکارڈز اور بیانات کے بعد جو کہانی میرے سامنے آئی وہ بہت بھیانک تھی۔ لاش کو خفیہ طور پر ٹھکانے لگانے والے ملزم کا کہنا تھا کہ وہ قاتل نہیں ہے۔ اس کو صرف لاش لاہور سے باہر لے جا کر ٹھکانے لگانے کے لیے رقم دی گئی تھی۔ اس سے جب قاتل کا نام پوچھا گیا تو اس نے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر فواد کا نام بتایا۔ پولیس نے اپنی تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فواد نے اپنے دو اور ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر ایک گھر میں نجی اور خفیہ آپریشن تھیٹر بنا رکھا تھا۔ یہ تینوں بظاہر انسان دوست ڈاکٹر تھے لیکن اس ڈاکٹری کی آڑ میں گردوں کی خرید و فروخت کا گھنا ¶نا دھندہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف طریقے اپنا رکھے تھے۔ یہ سرکاری ہسپتال میں آنے والے غریب افراد پر نظر رکھتے تھے اور جسے مناسب سمجھتے اسے اپنے اس خفیہ آپریشن تھیٹر کی جانب روانہ کر دیتے۔ مریض کو بتایا جاتا تھا کہ یہاں اس کا مفت علاج کروایا جائے گا۔ اسے آپریشن کا بھی بتایا جاتا تھا۔ مریض کے نزدیک یہ آپریشن ضروری ہوتا تھا اور اسے لاحق پیٹ درد کی وجہ گردے کی خرابی بتائی جاتی تھی۔ دوسری جانب سچ یہ تھا کہ ایسے مریضوں کی اکثریت بازاری کھانے یا کسی اور وجہ سے پیٹ درد کی عمومی بیماری میں مبتلا ہوتی تھی۔ اپنے نجی آپریشن تھیٹر میں یہ مریض کا گردہ نکال لیتے تھے اور چند دن وہیں رکھنے کے بعد اسے واپس بھیج دیتے تھے۔ یہ عموماً پردیسی مزدوروں کو شکار کرتے تھے کیونکہ ایسے لوگ نہ تو ان کا نجی آپریشن تھیٹر تلاش کر پاتے تھے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی کارروائی کے قابل ہوتے تھے۔ اسی طرح ضرورت پڑنے پر یہ فٹ پاتھ پر رہنے والے مزدوروں سے بھی بات کرتے تھے۔ ان مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ ایک گردے کے بدلے پچاس ہزار ادا کیے جاتے تھے۔ روزانہ سو دو سو روپے کی دیہاڑی اور اکثر فاقوں پر گزارہ کرنے والے مزدور کے لیے پچاس ہزار قارون کے خزانے سے کم نہیں ہوتا تھا۔ یہ ان کے گردے نکال لیتے اور انہیں پچاس ہزار ادا کر دےتے۔ ایک گردہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ مزدور سخت مشقت کے قابل نہیں رہتے تھے۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید اتنی بھیانک نہ ہوتی لیکن ایک گرفتار ملزم نے بتایا کہ جو مزدور انکار کرتے انہیں زبردستی بے ہوش کر کے گردے نکال لیے جاتے تھے۔ ان مزدوروں کو تلاش کرنے والا یہاں کوئی نہ ہوتا تھا اور نہ ہی کسی کو علم ہوتا تھا کہ وہ کس گاڑی میں بیٹھ کر گئے ہیں۔ لالچ اور ہوس اس قدر بڑھ گئی کہ یہ صرف گردوں تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے مزدوروں اور لاوارث افراد کو اسی طرح اغوا کر کے ان کے جسم کا ہر وہ حصہ نکال لیا جس کی قیمت لگ سکتی تھی۔ ان کے ایسے تجربات کے نتیجے میں اغوا شدہ مزدور مارا جاتا تھا اور پھر یہ اسی طرح اس کی لاش ٹھکانے لگوا دیتے تھے۔

                                میں اس کیس پر کام کر رہا تھا۔ ڈاکٹر فواد کو بروقت اطلاع مل گئی تھی کہ اس کا راز فاش ہو گیا ہے۔ وہ مفرور ہو چکا تھا جبکہ اس کے ساتھی ڈاکٹر پکڑے جا چکے تھے۔ جب میں نے ڈاکٹر فواد کے حوالے سے مزید تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ وہ تین سال قبل بھی گردے چرانے کے جرم میں گرفتار ہو چکا تھا۔ ناقص تفتیشی نظام اور دولت کی چمک اس کے کام آئی اور اس کی ضمانت ہو گئی۔ وہ وکیل خریدنے کے فن سے بھی واقف تھا اس لیے دوبارہ سرکاری سرجن کے عہدے پر آگیا۔ ایک بار پھر سرکاری سرجن بننے کے بعد بھی اس کے منہ کو لگا خون خشک نہ ہوا۔ اس نے دوبارہ اپنا پرانا دھندہ شروع کر دیا اور درجنوں افراد کو اغوا کروا کر ان کے جسمانی اعضا نکال کر بیچے۔ گا ¶ں سے خوشیوں کی تلاش میں شہر آنے والے یہ مزدور پھر کبھی واپس نہ جا سکے۔ انہیں ایک درندہ نما سرجن کھا گیا لیکن مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ اس کا اصل ذمہ دار کون تھا۔ ڈاکٹر فواد جو سرجن بنا اور اس نے اپنے پیشے کا غلط استعمال کیا یا وہ پولیس اور وکیل جنہیں عزت ملی لیکن انہوں نے سزا دلوانے کی بجائے دولت کی چمک دیکھ کر اس درندے کو دوبارہ اس کے پہلے مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ معصوم انسانوں کے گردے چوری کرتا تھا

 

کالا جادو

                                ان دنوں میں ایک مقامی اخبار کے انویسٹی گیشن سیل میں تھا۔ بنیادی طور پر میرے ذمہ کرائم رپورٹنگ ہی تھی لیکن اخبار کے مالک نے مجھ سمیت دو اور رپورٹرز پر مشتمل انویسٹی گیشن ٹیم بنا دی تھی۔ اب روٹین کی خبروں کے ساتھ ساتھ ہفتہ میں دو سے تین بار سنسنی خیز رپورٹس دینا بھی ہماری ذمہ داری تھی۔ اخبار کی ساکھ اور بجٹ اتنا ہی تھا جتنا عموماً درمیانے درجے کے لوکل اخبارات کا ہوتا ہے۔ اس لئے اندرونی حالات بھی ویسے ہی تھے۔ ہم ہفتے میں دو تین بار عام سی خبروں کو ہی مرچ مصالحہ لگا کر سنسنی خیز کہانی کی شکل دے دیا کرتے تھے جسے خصوصی اہتمام کے ساتھ اخبار میں شائع کر دیا جاتا تھا۔ یہی ہمارا انویسٹی گیشن سیل تھا جس کی بنیاد پر اخبار کا مالک اپنے کاروباری حریفوں پر رُعب جمایا کرتا تھا۔

                                ایک دن ہمیں حکم ملا کہ روٹین کی ساری خبریں چھوڑ کر ساری توجہ شہر میں موجود عاملوں اور ڈبّہ پیروں پر مرکوز کر دو۔ اخبار کے موٹے مالک نے منہ سے جھاگ اُڑاتے ہوئے مکہ لہرایا اور کہا: ”مجھے ہر روز ان کے خلاف دھانسو قسم کی سٹوری چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کی تصویریں بھی ہوں۔“ اسی دن اخبار کے پہلے صفحے کا ایک چوتھائی حصّہ ان سٹوریز کےلئے مختص ہوگیا جو ہم تین رپورٹرز پر مشتمل ”انویسٹی گیشن سیل“ نے دینی تھیں۔ اس ساری صورت حال کا پس منظر ہمیں اگلے دن معلوم ہوا۔ ہمارے مالک کی بیوی کسی پیر سے متاثر تھی۔ پیر صاحب کے مطابق وہ کالے اور نوری دونوں علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ مالک کی بیوی کو ان بابا جی سے اس کی ہمسائی نے متعارف کروایا تھا۔ بابا جی اس کے گھرآئے تو ہمارے اخبار کا مالک بھی ان کا مرید بن گیا۔ اس پیر نے ایک ہفتہ اخبار کے چیف ایڈیٹرکے گھر ڈیرہ لگائے رکھا اور ہمارے اخبار کو پاکستان کا سب سے بڑا اخبار بنانے کے لئے وظائف کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد معلوم ہوا کہ وہ جعلی پیر تھا کیونکہ وہ اچانک اس گھر سے غائب ہو چکا تھا۔ اگر بات صرف ”پیر صاحب“ کے غائب ہونے تک محدود رہتی تو شاید معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا لیکن بابا جی جاتے جاتے گھر میں موجود رقم اور زیور بھی لے اُڑے تھے۔ جس کی وجہ سے شہر بھر کے ”پیروں“ کی کمبختی آ گئی تھی۔

                                اب صورت حال یہ تھی کہ ہم روز کسی نہ کسی عامل، پیر، سادھو یا طوطا فال والے کو جا پکڑتے۔ اس کی تصاویر بناتے اور اس سے کچھ سوال و جواب کرتے۔ اس کے بعد ایک ایسی سٹوری لکھی جاتی جس کے مطابق شہر بھر میں ہونے والے جرائم کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہو۔ اگلے دن یہ خبر دھوم دھام سے شائع ہوتی۔ ہم جب بھی کسی عامل کی تصاویر لاتے ہمارا مالک سب سے پہلے بغور ان تصاویر کا جائزہ لیتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے اس کا خیال ہو کہ کسی دن اس کے قابل رپورٹر اسی عامل کا پتہ چلا لیں گے جو اسے لوٹ کر فرار ہوا تھا۔ ابتداءمیں تو میں اس نئی مصیبت سے تنگ آ گیا۔ روٹین کی خبریں چھوڑ کر روز کسی نہ کسی عامل یا جادوگر کو تلاش کرنا اور اس کے خلاف لگ بھگ پچھلے دن جیسی کہانی لکھنا میرے نزدیک وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔

                                میرے ساتھ دیگر دو رپورٹرز میں شرافت شاہ اور مجیب ریاض شامل تھے۔ مجیب ریاض تو اس صورت حال پر باقاعدہ رپورٹنگ روم میں بیٹھ کر موٹے سیٹھ کو بُرا بھلا کہتا تھا جس کی وجہ سے ہم کرائم بیٹ سے کٹ آﺅٹ ہونے کی وجہ سے اپنی گرفت کھوتے چلے جا رہے تھے۔ البتہ مجھے اور شرافت شاہ کو اب اس اسائمنٹ میں بھی مزا آنے لگا تھا۔ ہم نے اپنی دلچسپی کے راستے تلاش کرلئے تھے۔ صبح گیارہ بجے رپورٹرز کی میٹنگ کے بعد ہم سیدھے کسی ایسے جعلی عامل کے اڈے پر پہنچ جاتے جس کے بارے میں ایک روز قبل ہی فیصلہ کر لیا ہوتا تھا۔ وہاں جا کر چند تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ اردگرد کے لوگوں سے اس کے بارے میں سوالات کرتے اور اپنی سٹوری مکمل کرنے کے بعد ایسی جگہوں کی خاک چھاننے لگتے جہاں سچ میں عملیات ہوتے ہوں۔ چند ہفتوں میں ہی مجھے معلوم ہو گیا کہ شہر میں کہاں کہاں کون کون سے عامل یا جادوگر موجود ہےں اور کس کا کیا پس منظر ہے۔ اسی طرح عملیات کے طریقہ ¿ کار، چوکی لگانا اور ہانڈی اڑانا جیسے کاموں کے بارے میں بھی میرے پاس سیر حاصل معلومات اکٹھی ہوگئیں۔ میرے ساتھ ساتھ شرافت شاہ بھی اس سارے سلسلے میں برابر کا شریک تھا جبکہ مجیب ریاض اپنی سٹوری بنانے کے بعد یا تو دفتر بیٹھا رہتا یا پھر پریس کلب چلا جاتا۔ وہ یہ اسائنمنٹ مجبوری کے عالم میں ہی پوری کررہا تھا لہٰذا روز اس پیر کو کوستا جو ہمارے مالک کے گھر کا صفایا کر گیا تھا۔

                                میری کئی عاملوں اور جادوگروں سے دوستی ہو چکی تھی جن سے کوئی نہ کوئی نئی بات معلوم ہو جاتی تھی۔ انہی میں سے کالے جادو کے ایک ماہر نے بتایا کہ اکثر عامل اولاد کے لیے خواتین کو ایک ایسا عمل بتاتے ہیں جس میں تازہ مُردے کی قبر پر بیٹھ کررات کے وقت نہانا شرط ہے۔ اس میں بھی بعض اوقات بہتر نتائج کے لیے شرط لگا دی جاتی ہے کہ قبر ایک سال سے کم عمر کسی ایسے بچّے کی ہو جسے مرے 24 گھنٹے پورے نہ ہوئے ہوں۔ اس عمل کے دوران یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر عمل کرنے والی خاتون کو اس طرح قبر پر بیٹھ کر نہاتے کوئی دیکھ لے تو عمل ادھورا رہ جاتا ہے۔ اسی طرح متعدد شرائط کے ساتھ یہ عمل اولاد نرینہ کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ کھلم کھلا قبر کی توہین ہے۔ دراصل کالا جادو سارا ہی شیطان کی عبادت اور اسلامی تعلیمات کی توہین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے کرنے والے کو کافر کہا جاتا ہے۔ ایسے عملیات کرنے والوں میں گورکن اور قبرستان انتظامیہ کے افراد بھی شامل ہوتے ہیں اور اپنا حصّہ لے کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

                                ایک دن دفتر آتے ہوئے میں نے ایک جنازہ دیکھا۔ اس جنازے کے آگے آگے ایک آدمی کفن میں لپٹی کسی بچے کی مےّت کو ہاتھوں میں اٹھائے چلا آرہا تھا۔ میں عادت کے مطابق جنازے کے احترام میں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ جنازہ گزرنے کے بعد میں دفتر آگیا لیکن کچھ ہی دیر بعد ذہن میں خیال آیا کہ ضرور اس بچے کی قبر پر بھی کسی کی نظر ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی قبر پر کالے جادو کے ماہرین کی خاص نظر ہوتی ہے اور وہ اس کے انتظار میں رہتے ہیں۔ بچے کی روح معصوم ہوتی ہے اس لیے ان کے ہاں یہ بات عام ہے کہ بچے کا ہمزاد قابو آجائے تو وہ طاقتور ترین موکل ثابت ہوتا ہے۔ ان باتوں میں کس قدر سچ ہے اس سے قطع نظر میری دلچسپی صرف ایک دھماکہ خیز سٹوری تک تھی۔ میں نے شرافت شاہ سے بات کی تو وہ بھی اس بات پر رضامند ہو گیا کہ ہم آج رات قبرستان میں گزاریں گے اور اگر کوئی عامل اس قبر تک آیا تو اس کو رنگے ہاتھ پکڑ کر ایک بھرپور خبر تیار کرلیں گے۔ اس شام میں اور شرافت شاہ مغرب کے فوراً بعد ہی قبرستان پہنچ گئے اور بچے کی قبر سے کچھ ہی دُور ایک پختہ قبر کی اوٹ میں بیٹھ گئے۔

                                چاندنی رات کی وجہ سے قبرستان ہر روز کی طرح مکمل اندھیرے میں نہیں ڈوبا ہوا تھا۔ کچھ دُور تک کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔ ہم کافی دیر تک بچے کی قبر پر نظریں جمائے بیٹھے رہے لیکن وہاں کوئی نہ آیا۔ آدھی رات کے بعد شرافت شاہ نے سرگوشی میں کہا۔ شاہ! میرے خیال میں اب چلتے ہیں۔ یہاں کوئی نہیں آنے والا۔اس کی بات سن کر میں نے چند لمحے کے لیے سوچا اور پھر فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ آدھا گھنٹہ اور دیکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد چلے جائیں گے۔ابھی میری بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ہمیں پائل کی جھنکار سنائی دینے لگی۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ اُٹھی۔ بچپن میں چڑیلوں کے بارے میں سنی سبھی کہانیاں ذہن میں تازہ ہونے لگیں۔ آدھی رات کو قبرستان میں پائل کی جھنکار مضبوط سے مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو بھی لمحہ بھر کے لیے ڈگمگانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم حوصلہ ہار بیٹھتے ہمیں ایک خاتون اسی جانب آتی نظر آئی۔ اس نے ہاتھ میں ایک بالٹی اُٹھا رکھی تھی۔ اردگرد سے بے خبر وہ سیدھی بچے کی قبر کے پاس آئی اور اس پر بیٹھ گئی۔ وہ وہاں بےٹھ کر نہارہی تھی۔ کچھ دیر بعد پانی کے گرنے کی آواز تھمی تو ہم اس قبر کی اوٹ سے نکل کر اس خاتون کے سامنے آگئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ نہ صرف گھبرا گئی بلکہ قدرے پریشان بھی ہو گئی۔ وہ جان گئی تھی کہ ہماری موجودگی کی وجہ سے اس کا یہ عمل تو ناکام ہوا ہی ہے لیکن اب ہم اس کی بدنامی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ شرافت شاہ نے اپنے کیمرے سے اس کی تصاویر بنانا شروع کیں تو وہ مزید خوفزدہ ہو گئی۔ ہم نے اسے روایتی صحافیانہ انداز میں کہا کہ اگر وہ ہمیں اصل کہانی سے آگاہ کردے تو اس کا نام کہیں نہیں آئے گا بصورت دیگر اس کی تصاویر اور اس حرکت کے بارے میں اخبار میں سٹوری چھاپ دی جائے گی۔ کچھ پس و پیش کے بعد وہ ہمیں اصل کہانی سنانے پر آمادہ ہو گئی۔ وہ اولاد نرینہ کے لیے ہی یہ عمل کر رہی تھی۔ اس کی مجبوری اور اس عمل کی وجہ ایک الگ کہانی ہے اس لیے وہ پھر کسی وقت سنا ¶ں گا۔ بہرحال اس سے ہمیں اس عامل کا بھی معلوم ہو گیا جس نے اسے یہ عمل کرنے کا کہا تھا۔

                                اگلے دن دوپہر کے وقت شرافت شاہ کہنے لگا کہ ہم اس عامل سے ملتے ہیں اور پھر کل رات والی کہانی اور اس عامل کی کہانی کو ملا کر زبردست رپورٹ بن جائے گی۔ میں نے اسے منع کرتے ہوئے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق وہ عامل واقعی کالا جادو کرتا ہے اور اسے اس حوالے سے ماہر جادوگر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کے منہ متھے لگ کر کسی مصیبت کو دعوت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ شرافت شاہ نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا اور اکیلا ہی اس عامل سے ملنے چلا گیا۔ اگلے دن اس نے اس عامل کی تصاویر اور یہ پوری کہانی شائع کروا دی البتہ اس خاتون کی تصاویر میرے کہنے پر شائع نہیں کیں۔ یہ سٹوری بہت مشہور ہوئی اور بچے کے لواحقین نے قبر کی اس طرح بے حرمتی کروانے پر عامل کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ شرافت شاہ کے بقول جب وہ عامل کی تصاویر بنا رہا تھا تو اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ تم مجھے نہیں جانتے۔ مجھ سے پنگا لو گے تو خون تھوکتے مرو گے۔ شرافت شاہ نے اس کی یہ بات نظرانداز کر دی۔ ہم چونکہ ایسی جگہوں پر علاقائی پولیس کو ساتھ لے کر جاتے تھے اس لیے ان عاملوں کی جانب سے نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس عامل سے ملنے کے بعد جب شرافت شاہ واپس دفتر آیا تو ہنستے ہوئے اس کی نقل اُتارتے کہہ رہا تھا کہ وہ پولیس کے سامنے بھیگی بلی بنا ہوا تھا۔ دو پولیس والوں کو تو جلا کر راکھ کر نہیں سکا البتہ مجھے موت کی خبریں سنا رہا تھا۔

                                کچھ دن یونہی گزر گئے پھر ایک دن شرافت شاہ دفتر نہ آیا۔ اس کے گھر فون کیا تو معلوم ہوا کہ رات اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی جس پر اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ ہم بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچے ۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ شرافت شاہ کو ہیپاٹائٹس سی سمیت متعدد بیماریاں لاحق ہیں۔ اس کے سبھی ٹیسٹ مختلف بیماریوں کو ظاہر کر رہے تھے۔ مجھے حیرت تھی کہ جس شخص کو کبھی سر درد تک نہیں ہوا وہ اچانک اتنی بیماریوں کا شکار کیسے ہو گیا۔شرافت شاہ کو ایمرجنسی میں رکھا گیا تھا۔ وہ مسلسل خون کی اُلٹیاں کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کے جسم میں خون کی کمی بھی ہو گئی تھی۔ اسے خون کی بوتل لگائی جا رہی تھی ۔ شرافت شاہ ایک ہفتہ اسی طرح ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رہا اور خون کی اُلٹیاں کرتا رہا۔ ایک ہفتہ بعد اس کے بھائی کا فون آیا وہ روتے ہوئے بتا رہا تھا کہ ”شرافت شاہ مر گیا ہے“۔

                                ےہ مےرے لےے انتہائی المناک اور افسردہ کردےنے والی خبر تھی۔ ایک ہنستا مسکراتا صحت مند صحافی چند ہی دنوں میں جان لیوا بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ اسی دن مجھے اجنبی نمبر سے فون آیا۔ فون کرنے والے نے اپنا تعارف ایک عامل کے طور پر کروایا اور کہا: اس دن تم نے میری بالکی کی عزت بچائی تھی اور اس کی تصویر شائع ہونے سے روکی تھی اس لیے تم بچ گئے ہو۔ جس نے میرے علم کا مذاق اُڑایا اس کا انجام تمہارے سامنے ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی سوال کرتا اس نے کال منقطع کر دی اور وہ نمبر بھی بند ہو گیا۔ جہاں تک میڈیکل سائنس کہتی ہے۔ شرافت شاہ ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماری کی آخری سٹیج پر تھا۔ یہ بیماری اندر ہی اندر اس کے جگر کو تباہ کرتی رہی لیکن بظاہر اس کے اثرات واضح نہ ہوئے۔ شرافت شاہ کو بھی اس کا علم تب ہوا جب اس کا معدہ خون سے بھرنے لگا اور وہ خون کی اُلٹیاں کرنے لگا۔ اس بیماری نے جہاں ہزاروں پاکستانیوں کی جان لی وہیں شرافت شاہ بھی اس کا شکار ہو گیا۔

دوسری جانب ہمارے دفتر کے عملے سمیت متعدد دوستوں کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس محض ایک بہانہ تھا ورنہ شرافت شاہ کو کالے جادو کے ذریعے قتل کیا گیا ہے۔ اس عامل نے بھی یہی کہا تھا کہ تم خون تھوکتے مرو گے اور پھر واقعی چند دن کے اندر اندر شرافت شاہ خون تھوکتے مر گیا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے