سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 16 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 16 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 16

تحریر: سید انور فراز

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اقبال کاظمی ادارے کے اہم ترین مصنفین میں شامل تھے، ادارے سے ان کی وابستگی خاصی قدیم تھی، ایک بار انھوں نے ہمیں بتایا کہ جب میں کوئٹہ میں تھا اور جاسوسی ڈائجسٹ بھی نہیں نکلا تھا تو میں معراج صاحب کے والد عبدالغفار شیخ صاحب کے لیے ابن صفی صاحب کے کرداروں پر ناول لکھا کرتا تھا، ظاہر ہے یہ ناول اقبال کاظمی کے بجائے این صفی، نجمہ صفی، نغمہ صفی وغیرہ جیسے ناموں سے شائع ہوئے ہوں گے لیکن جاسوسی ڈائجسٹ کے ابتدائی شماروں میں اقبال کاظمی دور دور تک کہیں نظر نہیں آتے، انھوں نے جاسوسی اور سسپنس کے لیے کب لکھنا شروع کیا ، ہم اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے،جب ہم ادارے میں آئے تو وہ بہر حال بھرپور طریقے سے ادارے کے لیے قلم کاری کر رہے تھے لیکن زیادہ تر ترجمے کا کام ان کے ذمے تھا، انھوں نے طبع زاد بہت کم لکھا ہے۔

اقبال کاظمی کا تعلق پنجاب کے کسی شہر سے تھا، اردو پر مکمل عبور کے باوجود وہ اپنے لب و لہجے سے پنجابی ہی محسوس ہوتے تھے، ان کی شادی کراچی ہی میں مشہور افسانہ نگار، صحافی اور جون ایلیا کی بیگم زاہدہ حنا کی بڑی بہن سے ہوئی تھی،یہ شادی کیسے ہوئی ، اس کے بارے میں بھی ہمیں کچھ نہیں معلوم،اقبال کاظمی کا ذریعہ معاش صرف اور صرف قلم کاری تھا، ساری زندگی کرائے کے مکان میں گزری ان کی بیگم انتہائی سادہ مزاج، صابر و شاکر خاتون تھیں، کھانے بہت اعلیٰ درجے کے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پروفیشنل باورچیوں کے مقابلے کے بنانا جانتی تھیں اور بہاری کباب کی اسپیشلسٹ تھیں، دو بار ان کے ہاتھ کے بنائے ہوئے بہاری کباب کھانے کا اتفاق ہوا، ایک بار کامریڈ جام ساقی (مرحوم) بھی ہمارے ساتھ تھے ، وہ بھی حیران تھے کہ ایسے بہاری کباب اس سے پہلے نہیں کھائے تھے،اب ایک طویل عرصہ گزر گیا، خدا معلوم بھابھی اور ان کے بچے کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، کبھی زاہدہ حنا صاحبہ سے بھی ملاقات نہیں ہوتی، وہ یقیناً ان کے حال سے واقف ہوں گی۔

اقبال کاظمی بڑے صاف گو اور کھرے انسان تھے جو صحیح سمجھتے ، لگی لپٹی رکھے بغیر منہ پر کہہ دیتے تھے، چناں چہ اکثر لوگ برا مان جاتے، بڑے حساس اور جذباتی انسان تھے، بہت جلدی غصے میں آتے اور غصہ بھی ایسا کہ پھر آسانی سے ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا، جن لوگوں سے ان کا دل مل جاتا، ان سے دائمی تعلقات قائم ہوجاتے اور پھر کبھی ختم نہ ہوتے، ہمارا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں ایک طویل عرصے تک معلوم ہی نہ ہوسکا کہ وہ جون ایلیا کے ہم زلف ہیں، ایک بار انھوں نے اپنے گھر پر بہاری کباب کی دعوت کی تو وہاں بھی ایسی کوئی بات نہیں نکلی جس میں جون بھائی یا زاہدہ حنا صاحبہ کا کوئی ذکر ہوتا، خود اقبال کاظمی کی زبان سے بھی ہم نے کبھی جون ایلیا یا ان کی بیگم کا ذکر نہیں سنا، اتفاق یہ ہوا کہ دوسری بار جب بہاری کباب کی دعوت موصول ہوئی اور شام کو ہم ان کے گھر پہنچے تو وہاں کامریڈ جام ساقی بھی موجود تھے ۔

سیاسی ملنگ

جام صاحب بھی ہم سے محبت و شفقت کا رویہ رکھتے تھے، ان سے مراسم ایک طویل بائیو گرافیکل انٹرویو کے دوران میں استوار ہوئے تھے،یہ انٹرویو ماہنامہ سرگزشت کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا اور انٹرویو لینے والے ہمارے بہت ہی عزیز دوست انور سن رائے تھے، اس کے بعد جام صاحب پابندی سے دفتر آنے لگے تھے،انھوں نے طویل عرصہ سیاست کے خارزار میں گزارا (جام صاحب کا زمانہ ء سیاست ایک خارزار تھا، آج کی طرح باغ و بہار نہیں تھا) افسوس کہ وہ انٹرویو ماہنامہ سرگزشت میں شائع نہیں ہوسکا، البتہ بعد میں روزنامہ جرأت کراچی میں قسط وار شائع ہوا۔

جام صاحب سیاست کے ملنگ تھے، وہ حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سیاست کے میدان میں آئے تھے، اس حوالے سے انھوں نے مقتدر قوتوں کی ایسی سختیاں برداشت کیں جو بیان سے باہر ہیں، ان کی محبوب بیوی نے خودکشی کرلی، ساری زندگی نہایت تنگ دستی سے گزاری، جن دنوں ہمارے پاس آیا کرتے تھے تو معاشی حالات بہت خراب تھے، ہم نے ان کی تھوڑی بہت مدد کی خاطر ان سے کہا کہ سندھی کے اعلیٰ ادب سے کہانیاں اردو میں ترجمہ کرکے ہمیں دیں، اس طرح یہ سلسلہ سسپنس ڈائجسٹ میں شروع ہوا، ہر مہینے ایک سندھی کے اہم ادیب کی کہانی جو دو چار پانچ صفحے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، وہ ہمیں لاکر دیتے اور اس زمانے میں ایک کہانی کا معاوضہ ایک ہزار روپے ہم انھیں ہاتھ و ہاتھ دلا دیا کرتے تھے،معراج صاحب نے اس سلسلے میں کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ایک بار یہ بھی کہا کہ جام صاحب سے پوچھ لینا کہ اگر کوئی مالی مشکل درپیش آئے تو بلا جھجک بتادیں، ہم نے یہ بات جام صاحب سے کہی تو وہ مسکرائے اور کہا’’ اتنا کافی ہے کہ میں جو کام کرکے دوں اس کا معاوضہ مجھے بروقت مل جائے‘‘

یہ ایک سچے ، کھرے انسان کی انا تھی جو اپنے بدترین حالات میں بھی کسی اہل ثروت کی مدد قبول کرنے کا قائل نہیں تھا، ایسی ہی ادا ہم نے حبیب جالب صاحب میں بھی دیکھی تھی، اس کا آئندہ کبھی ذکر ہوگا۔

شاید پیپلز پارٹی کا دوسرا دور حکومت تھا، جب ہم نے سنا کہ جام ساقی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور انھیں کوئی عہدہ وغیرہ بھی دے دیا گیا ہے،کافی عرصے تک وہ دفتر نہیں آئے پھر معلوم ہوا کہ وہ فارغ کردیے گئے ہیں، ایک روز دفتر آئے تو ہم نے پرتپاک انداز میں استقبال کیا اور کہا ’’ہمارے بھاگ کے اب اس کمرے میں وزرا و امرا بھی آنے لگے ہیں‘‘

جام صاحب نے ایک بھرپور قہقہ لگایا اور بولے ’’تھوڑے دن کے لیے جو تہمت سر لی تھی اس سے نجات پاکر آپ کے پاس آیا ہوں‘‘

ہم نے ازراہ تفنن کہا

’’تھوڑے عرصے میں ہی حالات تو بہتر ہوگئے ہوں گے؟‘‘

جواباً فرمایا ’’جیسے گئے تھے ویسے ہی آگئے ہیں اور جہاں تھے ، وہیں ہیں‘‘

دیکھنے سے اندازہ بھی ہورہا تھا کہ وہی درویشانہ انداز ہماری نظروں کے سامنے تھا اور ہم یہ بھی جانتے تھے کہ ان جیسا آدمی جسے ایوب خان نہیں خرید سکا، کوئی اور بھی اسے اپنے مقاصد کے لیے کیسے استعمال کرتا، بلکہ خرابی یہ ہوگئی ہوگی کہ جس محکمے میں بھی انھیں بٹھایا گیا ہوگا ، اس محکمے کے تمام چھوٹے بڑے افسران پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہوں گے کہ یہ کون سی مصیبت نازل ہوگئی ہے اور پھر کوشش کرکے انھیں فارغ کرایا گیا ہوگا، ہمارے کریدنے اور ٹٹولنے کے باوجود اس حوالے سے جام صاحب نے خود کوئی اظہار خیال نہیں کیا، البتہ محترمہ بے نظیر کی تعریف کی۔

جام صاحب نے دوبارہ سندھی ادب کے تراجم کا کام شروع کردیا، ایک روز وہ آئے تو ان کی باتوں سے ہمیں کچھ ’’تصوف کی بو‘‘محسوس ہوئی،ہم بڑے حیران ہوئے اور پوچھا ’’خیریت تو ہے سائیں! آپ جیسا کامریڈ یہ کس راستے کی طرف مڑ رہا ہے؟ اکثر کامریڈ بعد میں تصوف کی طرف ہی راغب ہوتے ہیں‘‘

جام صاحب مسکرائے اور کوئی واضح جواب دینے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ سندھ اہل تصوف کی دھرتی ہے،اس بات کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

اس ملاقات کو شاید پندرہ دن ہی گزرے ہوں گے کہ خبرآئی ، جام صاحب ہارٹ اٹیک کے بعد اسپتال میں داخل ہیں، اس وقت وہ کراچی ہی میں تھے، ہم فوراً اسپتال پہنچے تو ان کی حالت اطمینان بخش تھی، یہ جام صاحب سے ہماری آخری ملاقات تھی، وہ حیدرآباد چلے گئے اور کہانیوں کا سلسلہ بھی رک گیا، بہت عرصے تک ان کی کوئی خیر خبر نہیں ملی، بالآخر گزشتہ سال ان کے انتقال کی خبر آگئی، ؂ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

تذکرہ کسی کا ہو ، تیرا دھیان رہتا ہے

ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا

کچھ ایسا ہی حال ہمارا ہے، ذکر ہورہا تھا اقبال کاظمی کا کہ درمیان میں جام ساقی آگئے اور ایسے آئے کہ ان کے ذکر خیر سے صَرف نظر کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں رہا، اقبال کاظمی کے گھر میں جام صاحب کو دیکھ کر ہم چونکے لیکن ہمیں دیکھ کر وہ صرف مسکرائے اور بولے ’’آپ ہی کا انتظار تھا‘‘

ہم نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے ؟ اور کاظمی صاحب سے کیا تعلقِ خاطر ہے؟

تب انھوں نے بتایا کہ میں کراچی آیا تو زاہدہ حنا صاحبہ کے گھر بھی گیا کیوں کہ اکثر کراچی آتا ہوں تو ان سے بھی ملاقات کرتا ہوں اور ان ہی کے ذریعے سے کاظمی صاحب سے مراسم ہیں، ہم نے کہا کہ ’’ذریعہ‘‘ وضاحت طلب ہے، تب جام صاحب نے یہ انکشاف فرمایا کہ زاہدہ حنا کی سگی بہن اقبال کاظمی صاحب کے گھر میں ہیں اور ہم ہونقوں کی طرح ان کی شکل دیکھنے لگے اور اپنا سر سہلانے لگے۔

بعد میں ہم نے کاظمی صاحب سے شکایت کی کہ بھائی آپ نے کبھی بھی جون صاحب سے اپنے رشتے کے سلسلے میں نہیں بتایا تو ان کا جواب بھی سونے پر سہاگا تھا، بولے ’’ کیا جون صاحب نے کبھی ہم سے اپنے رشتے کے بارے میں آپ کو کچھ بتایا؟‘‘

ہم نے کہا ’’جون بھائی ہمیشہ اپنی مستی میں مست رہنے والے انسان ہیں، وہ دوسروں کے بارے میں کہاں بات کرتے ہیں؟‘‘

کاظمی صاحب نے اس کے بعد موضوع ہی بدل دیا ، گویا وہ اس سلسلے میں زیادہ بات کرنا نہیں چاہتے تھے، ویسے بھی ان دنوں جون بھائی اور زاہدہ حنا صاحبہ کے درمیان علیحدگی تھی یعنی جون بھائی الگ کہیں رہتے تھے اور ظاہر ہے کہ بڑی بہن کی حیثیت سے کاظمی صاحب کی بیگم اور خود کاظمی صاحب بھی جون صاحب سے خوش نہیں ہوں گے۔

ماہنامہ سمندر

سال ہمیں یاد نہیں آرہا ان دنوں سب رنگ کی حد سے زیادہ تاخیر کے سبب شاید شکیل عادل زادہ صاحب کچھ مالی پریشانیوں کا شکار تھے، ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے اشتراک سے انھوں نے ایک نئے ماہنامے کے اجرا کا پروگرام بنایا جس کا نام سمندر رکھا گیا، خیال یہ تھا کہ سب رنگ صرف اور صرف اس لیے تاخیر کا شکار ہوتا ہے کہ بازی گر شکیل صاحب کو لکھنا ہوتی ہے اور وہ اس یادگار کہانی کے حوالے سے کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہتے، انھیں اس کہانی سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے، ہم نے یہ بھی سنا کہ بعض اوقات وہ اپنے لکھے ہوئے صفحات صرف اس وجہ سے پھاڑ کر پھینک دیا کرتے تھے کہ جیسا وہ چاہتے ہیں ویسا لکھ نہیں سکے گویا اس معاملے میں وہ زیادہ ہی حساس ہوگئے تھے، کئی کئی مہینے گزر جاتے اور وہ ایک قسط مکمل نہ لکھ پاتے، اس مسئلے کا حل یہی تھا کہ آئندہ جو پرچا نکالا جائے اس میں شکیل صاحب کوئی کہانی نہ لکھیں اور جیسا کہ دیگر ڈائجسٹ دوسرے مصنفین سے کہانیاں لکھواکر بروقت شائع ہورہے ہیں، یہی طریقہ اختیار کیا جائے چناں چہ اس منصوبے پر نہایت تیزی سے کام شروع ہوگیا، کہانیاں جمع کی جانے لگیں اور کچھ نئے لوگ بھی اس پرچے کے حوالے سے رکھے گئے،ان میں اقبال کاظمی بھی شامل تھے اور شاید انھیں کچھ انتظامی ذمے داریاں بھی سونپ دی گئیں تھیں۔

اقبال کاظمی ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے مکمل طور پر علیحدہ ہوگئے، یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کا معراج صاحب برا مناتے لیکن اپنی انتظامی ذمے داریوں کے تحت کاظمی صاحب نے جاسوسی سسپنس کے مستقل رائٹرز کو سمندر میں لکھنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی،معراج صاحب سے زیادہ معاوضہ دینے کی پیش کش کی گئی اور ان مصنفین میں الیاس سیتا پوری ، محی الدین نواب، عبدالقیوم شاد وغیرہ شامل تھے، یہ بات معراج صاحب کے لیے ناقابل برداشت تھی، انھوں نے بہر حال اپنے مصنفین کو جانے نہیں دیا لیکن اقبال کاظمی کے انتہائی خلاف ہوگئے،گویا ان کا نام اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا۔

محی الدین نواب اور عبدالقیوم شاد ان لوگوں میں تھے جنھوں نے اقبال کاظمی کی پیش کش کو نہ صرف رد کیا بلکہ معراج صاحب کو بھی اس صورت حال کی اطلاع دی، اس طرح خاصے طویل وقفے کے لیے کاظمی صاحب کا رابطہ ادارے سے کٹ گیا، مزید خرابی یہ ہوئی کہ سمندر کا منصوبہ بھی پایہ ء تکمیل تک نہیں پہنچ سکا اور یہ پرچا کبھی نہیں نکل سکا، اب اقبال کاظمی کے لیے خاصی پریشان کن صورت حال تھی، انھوں نے بھی گزر اوقات کے لیے مختلف کام شروع کیے ، مسٹری میگزین اور دوسرے ڈائجسٹوں میں لکھنا شروع کیا لیکن دوسری جگہ سے معاوضہ بہت ہی کم ملتا تھا، مزید یہ کہ دوسرے پرچوں میں مواد کی کھپت بھی زیادہ نہیں ہوتی تھی، معراج صاحب کی طرف سے تو یہ آزادی حاصل رہتی تھی کہ مصنف جتنا بھی لکھے ، سب قبول کرلیا جاتا تھا اور معاوضہ بھی بروقت مل جاتا تھا، دوسرے پرچوں میں ایک قید یہ بھی ہوتی تھی کہ کہانی شائع ہونے کے بعد معاوضہ دیا جاتا اور بعض جگہ وہ بھی بروقت نہیں ملتا تھا، اس صورت حال میں اقبال کاظمی کی معاشی حالت بہت ہی خراب ہوگئی،ان کی بیماریوں نے بھی زور پکڑ لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کاظمی صاحب سے اولین ملاقات کے بعد سے ہی ہم نے انھیں بیمار دیکھا، شوگر ، السر یہ دو مسئلے تو مستقل تھے، اکثر بلڈپریشر ہائی ہونے کی شکایت ہوجاتی تھی، معاشی بدحالی نے ان بیماریوں کو مزید بڑھا دیا، اس زمانے میں ان کا بڑا بیٹا جو شاید 13,14 سال کا تھا ، معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہوا، کاظمی صاحب کی بیگم کچھ ایسے پکوان تیار کرتیں جو بازار میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے، کاظمی صاحب بیٹے کے ساتھ انھیں سپلائی کرتے، ایک بار ملاقات ہوئی تو بڑے خوش تھے، کہنے لگے کہ اس کام میں زیادہ آمدن ہورہی ہے اور میں بہت خوش ہوں لیکن صحت خاصی خراب تھی، بیٹے کے بغیر اکیلے گھر سے نہیں نکلتے تھے، ساتھ میں پانی کی بوتل ہوتی تھی، دو تین مہینے میں کبھی دفتر بھی آجاتے تو ہم سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی۔

واپسی

ادارے سے جانے والوں میں سب سے پہلے وصی بدایونی صاحب کی واپسی ہوئی اور پھر اقبال کاظمی اور ابو ضیا اقبال واپس آئے، وصی صاحب نے آئل سے متعلق جو کاروبار شروع کیا تھا وہ کامیاب نہیں ہوا اور مزید یہ کہ ان کی بیگم کا انتقال ہوگیا، یہ خبر جب دفتر میں آئی تو دفتر کے تمام ساتھی جنازے میں شرکت کے لیے ان کے گھر گئے ، ہم نے بھی وہاں پہنچنے میں کوئی تاخیر نہیں کی،وصی صاحب نے ہمیں دیکھا اور چند لمحوں تک خاموشی سے دیکھتے رہے پھر تیزی سے آگے بڑھے اور گلے لگ کر رونے لگے، ہماری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے،بہر حال اس طرح ان کا دل ہماری طرف سے صاف ہوگیا، بعد میں وہ دفتر آنے جانے لگے، بیگم کا انتقال ہوچکا تھا، بچے چھوٹے تھے، روزگار کوئی نہیں تھا، دفتر کے ہمارے ساتھی محمد رمضان نے اس امکان پر بات شروع کی کہ وصی صاحب کو کیسے واپس لایا جائے؟ کیوں کہ معراج صاحب ان سے سخت ناراض تھے، بہر حال سب کی مشترکہ کوششوں سے معراج صاحب راضی ہوگئے لیکن کسی پرچے کی مکمل ذمے داری ممکن نہ تھی لہٰذا جاسوسی اور سسپنس کے اضافی کاموں میں وہ ہاتھ بٹانے لگے۔

سال 1990 ء جاری تھا، مہنگائی اس ملک میں ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے اور اسی تناسب سے ہر شخص اپنی آمدن میں اضافے کے لیے فکر مند رہتا ہے، ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی تھی تو تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ شروع ہوتا تھا اور اس کی ابتدا ہمیشہ سرکولیشن ڈپارٹمنٹ سے ہوتی، سرکولیشن ڈپارٹمنٹ میں بالکل ابتدائی زمانے کے ایک ساتھی سید مزمل حسین شاہ تھے ، معراج صاحب ان کا خصوصی خیال رکھتے تھے اور جو بات کہنے کی کسی میں ہمت نہ ہو، وہ بھائی مزمل کے ذریعے ان تک پہنچادی جاتی تھی، ایک روز معراج صاحب نے ہم سے کہا کہ کاغذ بہت مہنگا ہوگیا ہے اور دیگر اخراجات بھی روز بہ روز بڑھ رہے ہیں، اس حالت میں تم لوگ تنخواہیں بڑھانے کی بات کر رہے ہو، ہمیں تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا لہٰذا ہم نے اطمینان سے انکار کردیا تو وہ حیرت سے ہمیں دیکھنے لگے پھر بولے ’’مزمل میرے پاس آئے تھے اور ان کا کہنا تو یہ تھا کہ پورا دفتر اس معاملے میں یک آواز ہے‘‘

ہم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’وہ صرف سرکولیشن ڈپارٹمنٹ کو پورا دفتر سمجھتے ہیں، ہمارے ایڈیٹوریل سیکشن میں تو اس نوعیت کی کوئی بات ہی سننے میں نہیں آئی‘‘

معراج صاحب مسکرائے اور پھر وہی مہنگائی کا ذکر شروع کردیا ، ہمیں نامعلوم کیا سوجھی ، ہم نے کہا ’’آپ ایک پرچا اور کیوں نہیں نکال لیتے؟‘‘

چونک کر ہمیں دیکھا اور کہا ’’ اب کسی پرچے کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘

ہم نے انھیں یاد دلایا کہ آپ خان آصف کے ساتھ عالمگیر کس بنیاد پر نکالنے کے لیے تیار ہوگئے تھے؟‘‘

کہنے لگے ’’وہ خان آصف کی ضد تھی اور میرا شوق تھا، میں چاہتا تھا کہ ایک پرچا ایسا بھی ہو جو موجودہ پرچوں سے بہت مختلف ہو، اس کی ادبی حیثیت بھی نمایاں ہو اور میں سمجھتا تھا کہ خان صاحب ایسا پرچا نکال سکتے تھے‘‘

ہم نے عرض کیا ’’کیا اب ایسا پرچا نہیں نکل سکتا؟‘‘

ایک لمحے کو انھوں نے کچھ سوچا اور پھر بولے ’’نکل سکتا ہے‘‘

ہم نے کہا ’’تو پھر نکالیے، وصی صاحب بھی واپس آچکے ہیں، اب ہمارے پاس ایک بہت اچھی مضبوط ٹیم موجود ہے، مزید اسٹاف کی ضرورت نہیں ہوگی‘‘

اچانک جیسے ان کے ذہن میں کوئی اسپارک ہوا، کہنے لگے ’’ایک نام مجھے بہت پسند ہے ’’سرگزشت‘‘ میں چاہتا ہوں کہ ایسا پرچا نکالا جائے جس میں حقیقی کرداروں کی کہانیاں ہوں اور اس کے لیے سرگزشت سے بہتر نام نہیں ہوسکتا‘‘

ہم نے کہا ’’تو پھر ڈکلیریشن کے لیے درخواست دے دی جائے‘‘

بولے ’’ اس نام سے ایک ڈکلیریشن ایک صاحب کے پاس ہے‘‘پھر فوراً ان کا ہاتھ گھنٹی کی طرف بڑھا اور لمحہ بھر بعد ہی اختر بیگ کمرے میں داخل ہوئے، معراج صاحب نے ان سے کہا کہ معلوم کرو سرگزشت کس کے پاس ہے اور اس کا ڈکلیریشن مل سکتا ہے یا نہیں ؟

عزیزان من! یہ وہ گفتگو ہے جسے ماہنامہ سرگزشت کا آغاز سمجھنا چاہیے، شاید ایک ہی مہینے بعد معراج صاحب نے بتایا کہ ان صاحب کا انتقال ہوچکا ہے جن کے نام سرگزشت کا ڈکلیریشن تھا لہٰذا اس نام سے نیا ڈکلیریشن حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع ہوچکی ہے۔

یہ تاریخ ہم بھول نہیں سکتے، 31 جولائی 1990 ء جب معراج صاحب نے اپنے کمرے میں بلایا اور ماہنامہ سرگزشت کا ڈکلرییشن ان کی ٹیبل پر رکھا تھا، بہت خوش نظر آرہے تھے، مسکراتے ہوئے بولے ’’لو بھئی! تیار ہوجاؤ ، سرگزشت کا ڈکلیریشن آگیا ہے اور میرا خیال ہے کہ جنوری 1991 ء کا شمارہ پہلا شمارہ ہونا چاہیے جو 10 دسمبر 1990 ء کو مارکیٹ میں آنا چاہیے‘‘ہمیشہ سے تمام پرچوں کے مارکیٹ میں آنے کی تاریخیں مقرر تھیں، سسپنس 20 تاریخ کو، پاکیزہ 25 اور جاسوسی پہلی تاریخ کو مارکیٹ میں آتا تھا لہٰذا سرگزشت کے لیے 10 تاریخ مقرر کی گئی۔

ہمیں بھی بہت خوشی ہوئی اس طرح ایک نئے انداز سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے، اب مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ مصنفین جاسوسی اور سسپنس کی ذمے داریاں بہ احسن و خوبی نبھا رہے تھے ، سرگزشت کے لیے کیا ان ہی مصنفین پر مزید بوجھ ڈالا جائے یا نئے مصنفین لائے جائیں؟

نئے مصنفین کا ہمیشہ سے کال رہا ہے، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر لکھنے والا اعلیٰ درجے کی کہانیاں لکھ سکتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ، ایک مصنف کو کسی اعلیٰ مقام تک پہنچنے کے لیے بہت قلم گھسنی کرنا پڑتی ہے تب کہیں جاکر اس کی تحریر اپنا رنگ جماتی ہے،بے شک تخلیق کاری کا ٹیلنٹ بائی برتھ ہوتا ہے،اگر یہ ٹیلنٹ نہ ہو تو آپ صاحب تحریر تو ہوسکتے ہیں لیکن تخلیق کار نہیں بن سکتے، یہ بھی ذہن میں رہے کہ ایک مترجم کے لیے بھی تخلیقی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے ورنہ وہ اصل مصنف کے کام کابھی ستیا ناس کردے گا اور ایسا ترجمہ کرے گا کہ اصل تخلیق غارت ہوجائے گی، اس کا ہمیں ذاتی تجربہ ہے،بعض مترجم اور بعض مصنف ایسے ہی تھے، ان کی تحریر عجب خشک یا بنجر قسم کی ہوتی تھی لہٰذا کہانی میں وہ تاثر پیدا ہی نہیں ہوتا تھا جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔

معراج صاحب سے زیادہ ان مسائل کو کون سمجھ سکتا تھا اور وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے کہ جاسوسی اور سسپنس کے مصنفین پر مزید بوجھ ڈالا جائے ان کا خیال تھا کہ اس طرح ان پرچوں کا معیار بھی متاثر ہوگا، البتہ یہ طے ہوا کہ بہت زیادہ لکھنے والے مصنفین سے کبھی کبھی کچھ لکھوا لیا جائے گا، باقی نئے لوگوں سے رابطے کیے جائیں گے۔

ایسی ہی ایک دوسری نشست میں سرگزشت کے لیے سلسلے وار کہانی پر بات شروع ہوئی ، ہم نے یہ آئیڈیا دیا کہ مجاہد کو سرگزشت میں ٹرانسفر کردیا جائے اور جاسوسی میں نئی قسط شروع کی جائے ، معراج صاحب کو یہ آئیڈیا فوری پسند آگیا اور انھوں نے دوسری قسط کا مسئلہ بھی اسی وقت حل کردیا، انھوں نے بتایا کہ محمود احمد مودی صاحب ایک سلسلے وار کہانی بہت عرصے سے لکھ رہے ہیں اور اس کی کئی قسطیں موجود ہیں، آخر اس کہانی کو بھی کہیں نہ کہیں تو شائع ہونا ہے،بس جاسوسی میں شروع کردیتے ہیں، چناں چہ اگست 1990 ء سے جاسوسی ڈائجسٹ میں سرکش کا آغاز ہوگیا، دوسری طرف قدسی صاحب سے یہ طے ہوا کہ وہ کہانی کا اختتام اس طرح کریں کہ پھر اسے سرگزشت میں دوبارہ شروع کیا جاسکے۔

نئے مصنفین کے حوالے سے ہم نے چند نام پیش کیے جن پر معراج صاحب نے فوری ناک بھوں چڑھالی کیوں کہ یہ نام ان کے ناپسندیدہ یا بلیک لسٹ مصنفین کے تھے جن میں سرفہرست اقبال کاظمی تھے اس کے علاوہ احمد صغیر صدیقی کی ترجمہ کہانی ان سے پڑھی نہیں جاتی تھی، تیسرا نام ابو ضیا اقبال کا تھا ، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی اقبال کاظمی یا ابو ضیا اقبال سے ناراضی اپنی جگہ لیکن کیا اس ناراضی کی خاطر ایک اچھے لکھاری کو ضائع کردیا جائے، دوسری بات یہ کہ سرگزشت کے لیے بہت کچھ انگریزی ادب سے بھی لینا پڑے گا اور کاظمی یا ابو ضیا بہت تیز اور عمدہ ترجمہ کرنے والوں میں سے ہیں، ابو ضیا سے اتنا ناراض نہیں تھے جتنا اقبال کاظمی سے تھے لہٰذا صرف اتنا کہا ’’میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا، تم خود ہی اس سے رابطہ رکھنا ‘‘ہمارے لیے یہ اجازت کافی تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے