سر ورق / کہانی / دئیے جلائے ہیں۔۔ عروسہ وحید قسط نمبر1

دئیے جلائے ہیں۔۔ عروسہ وحید قسط نمبر1

دئیے جلائے ہیں

عروسہ وحید

”لائبہ کی بچی، تم سی ڈی کاریپر دیکھ کر ہی آنکھیں سینکتی رہنا ،فلم نہ لگانا۔“سمن نے جھنجھلا کر کرینہ کاپورسٹر دیکھتی لائبہ کو کندھے سے تھام کر زور سے جھنجھوڑ ڈالا۔

”ذرا تم میں صبر ہو۔تم نے تو جانوروں جیسے ناخن میرے نازک کندھوں میں گاڑ دیئے ہیں۔ ،لگا ہی رہی ہوں ،مری تو نہیں جارہی ہو تم۔“لائبہ اپنا کندھا سہلاتے ہوئے دھاڑی۔

”اوہو۔! تمہاری بکواس میں پہلے ہی اتنا ٹائم ضائع ہو چکا ہے۔اب جلدی سے فلم لگاﺅ۔“سمن نے اسی کی کسی بھی بات کا نوٹس نہ لیتے ہوئے اطمینان سے کہا۔لائبہ کو اس کا اطمینان دیکھ کر مزید تاﺅ آ گیا۔

”بے فکر رہو سمن!ملک الموت تمہیں یہ فلم دیکھ لینے کے بعد ہی یہاں سے لے کر جائے گا۔ویسے بھی اللہ تعالیٰ اپنے پاس نیک لوگوں کو بلاتے ہیں۔ تمہارے جیسے بے ہدایتوں کو نہیں بلاتے۔اور ویسے تم میں اب شرم و حیا دید لحاظ جیسی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔دادی کی سگی خالہ زاد فوت ہو گئی ہے۔وہاں سب رو رہے ہوں گے ۔تم یہاں پر بجائے افسوس کرنے یا سپارہ پڑھنے کے فلم دیکھنے کے لیے تڑپ رہی ہو،شرم آنی چاہئے تمہیں سمن۔“لائبہ نے اسے پھر سے شرمندہ کرنا چاہا۔

”تم اپنی بکواس بند کرکے فلم لگا رہی ہو یا نہیں!“سمن یکدم غصے میں آئی۔

” سچی سمن تمہیں دادی کے مرنے کا ذرا افسوس نہیںہے؟“اس نے حیرت سے پوچھا

”میں کیوں دادی کے مرنے پر ”افسوس“ کروں ۔دنیا میں رہ کر اس نے کون سے کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔بلکہ لوگوں کے گھر اجاڑنے میں اس نے پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ویسے تم بڑی ”دکھی“ ہو، دادی کے مرنے پر۔بڑی جلدی بھول گئی وہ جب تم اس کے گھر میلاد پر گئی تو سلام نہیں کیا تھا۔اور اس دادی نے سارے خاندان کے سامنے تمہارے خوب ”لتے“ لیے تھے۔اتنی بے عزتی کی تھی تمہاری کہ تم رونے لگ گئی تھی پھر بھی اس نے تم پر ترس نہ کھایا۔اوپر سے دادی نے علیحدہ تمہاری طبعیت صاف کی کہ تم میں ”آداب “بالکل نہیں ہیں۔“سمن نے لائبہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔اُسے معلوم تھا کہ کہ یہ بات جب بھی لائبہ کو یاد دلائی جاتی تو اس کا سینہ ”دھونکنی “کی طرح چلنے لگتا اور آنکھوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جاتا۔”یاد آیا یا کوئی اور ایسی بات یاد کرواﺅ ں جس سے تمہارا غم دادی کے لیے کم ہو جائے۔“سمن نے تمسخر اڑاتے ہوئے نداز میںکہا۔

ایہ بات سن کر لائبہ کی آنکھوںمیں خون اتر آیا۔اسے جب بھی وہ وقت یاد آتا تو اس کے دل سے دادی کے لیے ایک بد دعا نکلتی اور اب لائبہ نے دل ہی دل میں سمن کو بے شمار بد دعائیں دے ڈالی ۔ جس میں یاداشت ”معطل“ہونے کی بد دعا سر فہرست تھی۔سمن کی ہنسی زہریلے تیروں کی طرح اس کے جسم میں پیوست ہو رہی تھی۔لائبہ چند لمحے خاموشی سے گہرے گہرے سانس لیتی رہی گویا ہوا سے توانائی کشید کر رہی ہو اور پھر بڑے پر سکون لہجے میں بولی۔

”گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا حاصل ہو گا۔چلووہ بزرگ تھی، اگر انہوں نے مجھے کچھ کہہ دیا تو کیا ہوا ۔اب وہ اس دنیا سے جا چکی ہیں ۔مٹی ڈالو اس معمولی سی بات پر۔چلو میں تمہیں فلم لگا دوں کب سے تم کہہ رہی ہو۔“لائبہ نے انتقام کی لہر دل میں دباتے ہوئے خاصی دقت سے یہ فقرے کہے۔سمن نے حیرت سے اسے دیکھا۔لائبہ اور ایسا ٹھنڈا میٹھا انداز۔چند لمحے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا تھا۔لائبہ کی یہ خوش مزاجی حلق سے اتر نہیں رہی تھی۔کچھ تھا ضرور مگر کیا تھا؟ اس کا اندازہ اسے نہیں ہو رہا تھا۔لائبہ نے سی ڈی کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے کہا۔

”مجھے تو یہ کسی نقلی کمپنی کی لگ رہی ہے!دیکھو کیسے کاغذ کی طرح پتلی سی ہے اس کو تو پکڑنے سے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں ٹوٹ ہی نہ جائے۔“

 ”آرام سے کہیں توڑ ہی نہ دینا۔“سمن نے فکر مندی سے کہا۔لائبہ نے سی ڈی کو یوں پکڑ رکھا تھا جیسے اس کے اصلی یانقلی ہونے کا معائنہ کر رہی ہو۔دیکھتے دیکھتے اس نے سی ڈی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا۔

”خدا غارت کرے تمہیں“‘لائبہ ´کے ہاتھ سے سی ڈی کے ٹکڑے چھینتے ہوئے اس پر جھپٹی اور زور زور سے چلانے لگی۔”اللہ کرے ہاتھ ٹوٹے تمہارے لائبہ۔ اس لیے مکر کر رہی تھی تم؟۔میں بھی کہوں یہ بھولپن کس لیے دکھایا جا رہا ہے۔مجھے پہلے ہی شک تھا کہ اس میں ضرور تمہاری کوئی چال پوشیدہ ہے۔“سمن کی آنکھیں سی ڈی کے ٹکڑوں کو دیکھ کر پانیوں سے لبریز ہو چکی تھی۔ہوتی بھی کیوں نہ، اس نے کالج کی ایک لڑکی کو منتیں کر کے فلم کی سی ڈی منگوائی تھی۔تین ماہ پہلے لائی گئی سی ڈی، اس نے دادی کی نظروں سے چھپا کر رکھی تھی۔ وہ کسی ایسے موقعے کی تلاش میں تھی جب دادی گھر پر نہ ہو او ر وہ آرام سے فلم دیکھے۔آج بہت اچھا موقع تھا ۔نہ دادی تھیں نہ ہی امی، توآج لائبہ نے وہ سی ڈی توڑ کر اسے جیتے جی موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔وہ کسی سے شکایت بھی نہیں کر سکتی تھی اُلٹا اس کی بے عزتی ہو جاتی۔اس لیے وہ لائبہ کو باتیں سناتی ٹی وی لاﺅنج سے واک آوٹ کر گئی۔

٭٭٭

زاہدہ خاتون سخت مزاج اور اصول پسند تھی۔سخت مزاجی کے باوجود خاندان اور محلے میں اس کے اچھے تعلقات تھے۔چند سال قبل ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ان کے تین بچے،اعزاز،مراد، کلثوم ہیں۔بڑے بیٹے اعزاز کے تین بچے ہیں۔سب سے بڑا بیٹا ابرار اس کے بعد دو بیٹیاں سمن اور شزا، بیوی آمنہ تھی۔دوسرے نمبر پر مراد جن کے دو بچے ہیں۔لائبہ اور زین۔ان کی بیوی کا انتقال اپنے چھوٹے بیٹے زین کی پیدائش کے وقت ہو گیا تھا۔آمنہ بیگم نے رفعت کے انتقال کے بعد دونوں بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پالا۔ان کو کبھی بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ ان کی ماں اس دنیا میں نہیں ہے۔بچے بھی آمنہ کو تائی وغیرہ کہنے کی بجائے ان کے اپنے بچوں کی طرح امی ہی کہتے تھے۔مراد اپنی بیوی رفعت سے شدید محبت کرتے تھے اور مرنے کے بعد بھی وہ ان سے اتنی ہی محبت کرتے رہے اسی وجہ سے انہوں نے دوسری شادی نہ کی۔پھر کلثوم ہیں جو شادی کر کے اسلام آباد چلی گئی۔اپنے میکے وہ کم کم ہی آئی کیونکہ ان کے سسرال والے لڑکی کا بار بار میکے جانا پسند نہیں کرتے۔زاہدہ خاتون پرانے خیالات کی مالک تھی۔اپنی تینوں پوتیوں کی تربیت انہی پرانے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی۔بچپن سے ہی ان پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔بچپن میں لڑکے لڑکیاں گلی میں اکھٹے کھیلا کرتے ،تویہ تینوں ان کو کھیلتا دیکھ سکتی تھیں۔ان کے ساتھ کھیلنے کی جرات ان میں ہر گز نہ تھی۔عمر کے ساتھ ساتھ ان کی پابندیاں بھی بڑھتی چلی گئیں۔سکول کالج میں ان کی سہلیاں بنانے کی اجازت نہ تھی بعقول دادی سہلیاں شیطان کی چیلیاںہوتی ہیں۔اور کوئی سہیلی نہ ہونے کے باوجود وہ بڑے ذوق شوق سے کالج جایا کرتیں تھیں ۔جس دن چھٹی ہوتی وہ ان کو کسی آزمائش کا دن ہی لگا کرتا۔اس طرح ان کا شمار کالج کے لائق فائق سٹوڈنٹس میں ہوتا۔سمن اورلائبہ نے بی اے کے پیپر دیئے جبکہ شزا اب بھی کالج جاتی تھی۔دادی خاندان سے باہر تو بہت دور کی بات خاندان میں بھی ان کے پردے کا سخت خیال رکھتیں ۔اور رکھتیں بھی کیوں نہ وہ تینوں بے حد حسین تھیں لیکن ان میں سب سے زیادہ خوبصورت سمن ہی تھی۔

٭٭٭

                ساتھ والے گھر شادی تھی اور آج مہندی کا فنگشن ہے۔ان لوگوں نے محلے میںکسی کو بھی نہیں بلایا کیونکہ ان کا اپنا خاندان ہی کافی تھا۔عام حالات میں ان کا گھر ایسا لگتا ہے کوئی بارات آئی بیٹھی ہو یار سم ”قل “ وغیرہ کی تقریب ہو۔ان لوگوں نے صرف تینوں لڑکیوں کو بلایا وہ بھی صرف مہندی کی تقریب پر اور ساتھ ان کی کام والی یہ بھی کہہ گئی کہ تم تینوں ہی آ سکتی ہو گھر کا دوسرا کوئی فرد نہ آئے پہلے ہی بہت سارے مہمان ہیں مزیدکی کوئی گنجائش نہیں۔ان لوگوں کی کام والی اس وقت کہہ کر گئی جب گھر میں امی اور دادی موجود نہیں تھیں۔ورنہ دادی ان لوگوں کی ایسی طبعیت صاف کرتی کہ ان کی ساتھ پشتیں کانپ اٹھتیں۔وقتی طور پر تو ان تینوں کو بھی غصہ آیا۔پھر انہوں نے سوچا یہ فنگشن فضول سا ہی کیوں نہ ہو ہم ضرور جائیں گے۔کم ازکم وہاں پر عجیب و غریب شخصیات دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے ہی مگر اپنا دل تو بہلالیں گی۔ان لوگوں کی خاندان والے رَجّ کے عجیب تھے کہ انسان انہیں دیکھ کر ہنس ہنس کر ”دوہرا“ ہو جائے جو اپنی زندگی میں صرف رویا ہی ہو ہنسا کبھی نہ ہو۔وہ تینوں عجیب و غریب مخلوق دیکھنے کے لیے بے چین ہو گئیں۔ اس لئے انہوں نے چپ رہنے میں عافیت سمجھی۔

                اب مسئلہ اجازت کا تھا، جو آمنہ نے بڑی خوش اسلوبی سے حل کر دیا، یہ کہہ کر کہ بچیاں کہیں بھی آتی جاتی ہیں نہیں او ر انہوں نے کون سا دور جانا ہے ساتھ والا گھر ہی تو ہے۔دادی نے ان کو جانے کی اجازت تو دے دی ۔مگراس قسم کی وارننگ کے ساتھ کہ وہ لوگ اپنا دوپٹہ سر پر جمائے رکھے گیں۔جب کوئی لڑکا اندر آئے تو اس کوحقارت سے دیکھ کر منہ دوسری جانب پھیر لیں اور کسی بھی عورت کو منہ نہ لگائیں۔سب سے پچھلی نشست پر بیٹھیں۔ آدھے گھنٹے میں رینا کو مہندی لگا کر واپس آ جائیں۔اس اجازت کو انہوں نے غنیمت سمجھا اور مہندی میں جانے کے لیے تیاری شروع کر دی۔

٭٭٭

”اگر تم دونوں تیار ہو گئی ہو تو چلیں اس چڑیا گھر میں؟“ سمن نے پوچھا۔

”ہاں چلو ان لوگوں کے گھر سر پر کفن باند ھ کر ہو آئیں“ شزا بولی۔

”فی الحال تو تم اپنے سر پر کفن باندھنے کی بجائے پونی باندھ لو تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ جیسا تمہارا ہیر سٹائل ہے دیکھنے والوں کی چیخیں نکل جائیں گی ۔وہ لوگ بھی تمہیں دیکھ کر بے ہوش ہو جائیں گے جن کو دیکھ کر آئینہ ڈر کے مارے ٹوٹ جاتاہے۔مجھے تو یہ فکر ہے تمہارے گھونسلے جیسے سر میں کوئی چڑیا انڈے ہی نہ دے جائے اور تم ان کو فرائی کر کے کھا ہی نہ جاﺅ۔“لائبہ نے شزا کے کندھوں تک آتے کرلنگ بالوں کا مذاق اڑایا۔

”واہ جی واہ ۔صدقے جاﺅں تم پر لائبہ مہارانی۔اپنی ناک دیکھی ہے تم نے ”تیر“ کی طرح لمبی ہے کہیں جاتی تو آدھا گھنٹہ تمہاری ناک اندر جانے میں لگا دیتی ہے اور بعد میں تم کہیں داخل ہوتی ہو۔“شزا نے اس کی تھوڑی سی لمبی ناک کا زیادہ سارا مذاق اڑایا۔

”چپ کر و ذلیلو“۔سمن ایک دم غصے سے بولی۔”تم شزا کی بچی تیری تو عقل ہی الٹی ہے اگر تمہیں کسی شادی میںجانا ہوتا ہے تو تمہیں کفن کفور اور اگر بتیاں یاد آ جاتی ہیں۔اور کسی مرگ میں جاتے وقت مچینگ چوڑیاں جوتیاں تمہیں چین نہیں لینے دیتی“۔

”اور تم!“سمن نے لائبہ کی طرف اشارہ کیا۔”تمہیں سوائے بکواس کے اور کچھ نہیں آتا۔تم اپنی زبان کو اپنے دانتوں تلے دبا کر رکھا کرو ورنہ کوئی کاٹ کر کسی کتے کو کھلا دے گا۔تمہاری بکواس میں پہلے پانچ منٹ ضائع ہو چکے ہیں اور دادی ہمیں جانے سے پہلے ہی کہہ دے گی کہ تمہارا وقت ختم۔ اب جانے کی کوئی ضرورت نہیں اور میں وہ شکلیں دیکھنے سے محروم ہو جاﺅں گی جن کو دیکھ کر میں نے اپنا مائنڈ فریش کرنا تھا۔اب جلدی کرو خبیثوں پچیس منٹ باقی ہیں۔“

وہ دونوں بھی سب بھول بھال کر جانے کے لیے تیار ہو گئی وہ دبے پاﺅں پہلے اپنے کمرے اور پھر گیٹ سے باہر نکل گئیں۔تاکہ ان کی تیاری دادی نہ دیکھ لیں آخر ان کالی پیلی چڑیلوںمیں ان کو پریاں بن جوکر جانا تھا۔

٭٭٭

                وہ تینوں رینا کے گھر داخل ہوئیں ۔برآمدے کے آگے سٹیج بنایا تھا تا کہ اندر آیا جا سکے۔اردگرد کرسیاں جوڑی تھیں اور درمیان سے جگہ خالی تھی گزرنے کے لیے۔محلے والوں میں سے کوئی موجود نہیں تھا ساری کرسیوں پر رینا کی خاندان کی عورتیں اور بچے براجمان تھے۔دادی کی دعا تھی یا کیا تھا ان تینوں کو سب سے آخر پر جگہ ملی ۔جہاں پر وہ باآسانی سے چھپکلیوں کے گانے جو وہ اکثر رات کو گاتیں سن سکتی تھیں۔

                سمن نے رینا کی سب سے چھوٹی بہن ملائکہ کو بلایا۔جس نے بلیک اینڈ وائٹ لاننگ والا پرنینڈڈ سوٹ پہنا تھا جو سنڈے مارکیٹ میں ڈیڑھ ڈیڑھ سو میں بکتا ہے۔اسے پہن کر وہ بالکل چتکبری سنڈی لگ رہی تھی۔

”رینا کہاں ہے؟“

تو اس سنڈی نے اس کی بات کا جواب دینا بھی گوارہ نہ کیا اور یوں گردن اکڑا کر وہاں سے چلی گئی جیسے اس کی بہن کی شادی ا س کے مامے کے کالے کلوٹے ٹھنگنے بیٹے سے نہیں سلمان خان سے ہو رہی ہو۔ سمن غصے سے لال ہو گئی

”اس سنڈی کو تو میں دیکھ لوں گی۔یہ سمجھتی کیا ہے خود کو۔بس ایک دفعہ رینا کی شادی ہولے پھر میں اپنے پاس سے جلیبیاں منگو کر محلے کے بچوں میں تقسیم کروںگی اور جب یہ لینے آئے گی تو اسے ”ٹھینگا “ دے کر بھیجوں گی بلکہ تم دوسرے بچوں کو زیادہ زیادہ دے کر اسے ترساﺅں گی تم دیکھنا۔“سمن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس سنڈی کو اپنے پیروں تلے کچل ڈالے۔

”ارے یار بس بھی کرو۔“لائبہ کے لہجے میں بیزاری ہی بیزای تھی۔”تم کون سی اس ملک کی پریذیڈنٹ ہو جو تمہاری توہین ہو گئی ویسے بھی ہمارے ملک کے پریذڈنٹ کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا چاہئے جو مرضی کہہ لو اس کو۔ویسے ایک بات کہوں تمہیں۔تم میں او رکچھ ہو نہ ہو ایک بات تم میں ضرور ہے تم دشمنی بڑے اچھے طریقے سے نبھاتی ہو۔مجھے تو یہ حیرت ہو رہی ہے تم ہمارے گھر کس طرح پیدا ہو گئی تمہیں تو کسی گجر کے گھر پیدا ہونا چاہئے تھا۔بلکہ ایک گجر ہی ہونا چاہئے تھا۔میں تمہاری آنکھوں میں وہی قہر دیکھ رہی ہوں جو پنجابی فلموں کے گجروں کی آنکھوں میں ہوتاہے۔اور آج تو تم نے دشمنی نبھانے کے لیے ساری حدیں توڑ دیں تم نے اپنی کنجوسی کو پیچھے چھوڑدیا۔واہ ،اپنے پاس سے جلیبیان منگواﺅ گی واہ بھئی واہ!ورنہ تم تو اپنا گناہ بھی کسی کو نہ دو۔‘

سمن نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور جن نظروں سے وہ اسے گھور رہی تھی ۔وہ اسے مستقبل کے حالات سمجھانے کے لیے کافی تھیں۔لائبہ کھسیانی ہنسی ہنس کر خاموش ہو گئی اور بات کو پلٹ دیا۔

”ارے ہم کون سی فضول باتوں میں پڑ گیں۔دفعہ کرو ان کو۔وہ دیکھو رینا کے خاندان کی عورتیں کتنی ہونق لگ رہی ہیں۔میک اپ نے ان کے چہروں کو سنوارنے کی بجائے مزید بگاڑ ڈالا ہے۔“

سمن بھی سب چھوڑ کر ان کی جانب متوجہ ہو گئی جن کی مزاح سے بھر پور شکلیں دیکھنے کے لیے وہ صبح سے ترس رہی تھی۔

”ارے ہاں وہ دیکھو رینا کی چاچی جام چھیٹھی۔بھلا بتاﺅ ٹھیگنی ہونے کے باوجود اس نے فرشی غرارہ پہنا ہے بھئی بڑی ہمت ہے ا س کی بالکل لڈو کی گوٹ ہی لگ رہی ہے۔“وہ دونوں کھی کھی کر کے ہنسنے لگی۔

”ارے ارے وہ دیکھو ایک اور عجوبہ !“سمن جوش کے ساتھ بولی”ارے وہ رینا کی شیخوپورہ والی خالہ جو آٹھ سال پہلے یہاں سے شفٹ ہوئی تھی خالہ ملکہ!

یہ خالہ ملکہ تو آج کسی فرعون کی ہی ملکہ لگ رہی ہے اس کو کیا بنی لگتا ہے دماغ چل گیا ہے جو اپنے لمبے پتلے او ر نسواری منہ پر تاج لگا کر بیٹھی ہے۔ایسے سنگار تو فرعون کی ملکائیں ہی کرتی تھیں۔“

”اس فرعون کی ملکہ کی بیٹی صائمہ کو دیکھا ہے تم نے !یہ بھی اللہ کی شان ہے جو یہ باندری سے انسان بن گئی ہے کیسے سب اسے” جوان کھادی جواں کھادی“ کہہ کر چھڑتے تھے۔“لائبہ نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا تو سمن کی زبان پر بھی کھجلی ہوئی

”ٹھیک کہا تم نے یار۔جتنے پوری کائنات میں ستارے ہیں اتنی ہی اس کے سر میں جوئیں اور لکھئے ہو اکرتی تھیں اور جوئیں اس کے سر میں ایسے ٹمٹماتی تھیںجیسے ستارے آسمان پر ٹمٹماتے ہیں۔لگتا ہے شاعر حضرات بھی اس جیسی لڑکیوں کے بالوںکو رات سے تشبہہ اور لیکھوں کو تاروں سے تشبہہ دینے ہوں گئے کہ ،سیاہ رات جیسی کالی زلفیں۔۔۔اور زلفوں میں تاروںجیسی جوئیں۔“

”اور تمہیں پتا ہے یہ خالہ ملکہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھی کہ اس کی جوﺅں کا علاج بتائیں۔ تو ڈاکٹر نے بغیر فیس لیے خالہ ملکہ کو اپنی طرف سے مفت مشورہ دیا اور تمہیں پتا ہے وہ مفت مشورہ کیا تھا۔۔۔۔”ٹینڈ“

ان دونوں کی ہنسی کیسی بھی طرح روکنے کو نہ آ رہی تھی ۔

”اب دیکھو کیسے شوخی بنی بیٹھی ہے کسی کو لفٹ بھی نہیں کروا رہی یوں ظاہر کر رہی ہے جیسے کسی دوسرے سیارے سے آئی ہو۔اور کیسے اپنے بالوں میں بار بار ہاتھ

 پھیر کر ہیروئن بننے کی کوشش کر رہی ہے۔“لائبہ نے اس کا مذاق اڑایا توسمن نے ا س کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا

”تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ ہیروئن بننے کی کوشش کر رہی ہے؟ہو سکتا ہے آج بھی اس کے سر میں جوئیں موجود ہوں جو اسے اب بھی چین لینے نہ دے رہی ہوں۔اس وجہ سے وہ بار بار اپنا سر کھجانے کے لیے اپنا ہاتھ سر میں سجاتی ہو۔تمہیں بھلا کسی کی مجبوری کا کیا علم ۔ “

دونوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔

”تم لوگ کیوں ہنس رہی ہو ؟مجھے تو اپنی ہنسی میں شریک کرو۔“اپنی طرف سے اس نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ دیوار سے پرے ہٹ کر بیٹھیں۔مگر شزا نے کچھ زیادہ ہی پھرتی دکھائی۔ اسے اپنی مہارت سے پرے دھکیل کر خود کرسی پر گری کہ لائبہ فقط کوسنے دیتے رہ گئی۔

”اللہ کرے اس کرسی کے نیچے بم ہو تمہارے پرخچے اڑ جائیں۔“

مجبوراً اسے کچی اینٹوں سے بنی دیوار کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھنا پڑا جس سے کیڑے مکوڑے اور سانپ بچھوں نکلنے کے قوی امکان موجود تھے۔

٭٭٭

                ریناکی کزنوں نے سٹیج کے سامنے فرشی دری بچھائی اور ڈھولک لے کر بیٹھ گئیں۔پھر انہوں نے ایسی ایسی ڈراونی آوازوں میں گانے گائے جن کو سن کر قبرستان کی بدروحیں بھی ڈر کے مارے رونے لگیں۔

”او بند کرو اپنی بکواس !‘اچانک گرج دار لہجے میں کہا گیا۔

”کیوں تم نے اپنی شروع کر نی ہے؟“سمن نے سرگوشی کی جو صرف لائبہ نے ہی سنی۔

”بند کرو ووووو!“ پھر سے دھاڑ ہوئی اچانک ہر سو گہری خاموشی چھا گئی۔یہ سکون لانے والی اور کوئی نہیں بلکہ رینا کی اکلوتی پھپھو نصرت تھی۔جو باقیوں کا تو پتا نہیں اپنے بھائی (رینا کے ابا) کی لاڈلی بہن ضرور تھی۔اور اس بھائی کی بہن تھی جو بات بات پر گردن مروڑنے پر تیار ہو جاتاہے۔وہاں پر سب کو ہی اپنی”گرنیں “بڑی پیاری تھیں تو اسی وجہ سے خاموش ہو گئیں۔پھر سب کو چپ کروانے کے بعد اس نے وہ کیا جیسے دیکھ کر دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔اس نے ایسا ڈانس کیا کہ کیا ہی وحشی آگ کےک گرد ”چھنگا لا،لا،ہو،ہو“ گاتے ہوئے موت کا رقص کرتے ہوں گے۔

”پھپھوآدم خورنے تو وحشیوں کو بھی مات دی ڈالی تھی۔“

رینا کی دادی نے جھڑک کر اپنی صاحبزادی سے کہا

”اے بند کرو یہ خوفنا ک فلم بچوں کو ڈرا رہی ہو۔اللہ توبہ کرنے کی تیری عمر ہے اور تو کمر ہلا ہلا کر ناچ رہی ہے ۔چولیں ڈھیلی کرنے کا ارادہ ہے تیرا ۔کم از کم اپنی عمر کا ہی نہیں اپنے چٹے دودھ ہوتے بالوں کا نہیں ،جن کو تونے کالے کولے سے چھپانے کی نا کام کوشش کی ہے۔اپنی بہو کی گود میں پڑی ہوئی پوتی کا ہی لحاظ کر لیتی اور اگر تجھے اتنی ہی خوشی ہے رینا کی شادی کی تو تب کیا تکلیف ہوئی تھی جب میں نے اس کا رشتہ تیرے بیٹے سے طے کیا تھا۔“آج رینا کی دادی کو بھی اچھا موقع مل گیا تھا اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کا۔انہوں نے بڑے مان کہا تھا سارے خاندان کے سامنے میں رینا کی شادی آصف سے طے کرتی ہوں۔پر نصرت خاتون نے اپنی ماں کی بات کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے صاف ستھرا واشنگ پاﺅڈرسے دھویا ہوا انکار پیش کر دیا کہ میں بیٹے کی شادی خاندان سے باہر کروں گی۔اور آج دادی نے اسی خاندان کے سامنے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے لیا تھا اسے بوڑھا کہہ کر۔خون کا رشتہ اپنی جگہ ،دشمنی اور بدلہ ایک طرف ۔۔پھپھو نصرت ایک جانب شرمندہ ہو کر بیٹھ گئی۔

                رینا کی کزنیں دوبارہ زور شور سے کاٹ دار بولوں والے گیت الاپ رہی تھیں۔اچانک دادی جلال میں آ گئیں۔

”بند کرو یہ بہودگی۔غضب خدا کا ہمارے زمانے میں کیسے اچھے اچھے گیت گائے جاتے تھے۔پر یہ آج کے گانے ”توبہ“نری بے حیائی۔ارے وہ ٹپے گاﺅ جو ہمارے زمانے میں گائے جاتے تھے۔کسی رشتے کی خالہ نے وہی پرانے زمانے والاٹپہ گانا شروع کر دیا۔شائد وہ خود بھی پرانے زمانے کی تھی اس وجہ سے۔چیٹا ککڑ بنیرے تے ۔۔۔چیٹا ککڑ بنیرے تے۔۔۔“

چیٹا کوکڑ تو بنیرے پر موجود نہیں تھا بلکہ کوے جیسا کالا سیاہ اختر نائی ضرور موجود تھا۔جو پتا نہیں کب سے بنیرے پر لٹکا ہوا زیور سے لدی پھدی موٹی موٹی بھوتنیوں ٹائپ عورتوں کو تاڑنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا۔حالانکہ ان کے میک تھپے چہروں کو دیکھ کر ہی کلیجہ منہ کو آ جاتا تھا۔

”نی کاسنی دوپٹے والیے۔۔۔۔منڈا عاشق تیرے تے۔۔“

اب اس فقرے پر رینا کی ایک دور کی کزن شرما شرما کر دوہری ہوئی جا رہی تھی۔کیونکہ اس نے کاسنی رنگ کا دوپٹہ اوڑھا ہوا ہے۔شائد اسے یہ خوش فہمی لا حق ہو گی کہ کاسنی دوپٹے کی وجہ سے کوئی تو ایسا ہو گا جس کی عقل پر پردہ پڑ جائے اور وہ اس پر عاشق ہو ہی جائے گا۔لیکن اسے کوئی بتائے کاسنی دوپٹے میں لپیٹ کر جیسی وہ لگ رہی ہے کوئی منڈا تو دور کی بات کوئی بڈھا بھی عاشق نہ ہو گا۔

٭٭٭

                ناچنے گانے کا سلسلہ ختم ہوا تو رینا کو سٹیج پر لا کر بیٹھایا گیا جو بیوٹی پالر سے تیار ہو کر آئی۔اس کے چہرے پر معصومیت بھولپن میکے سے بچھڑ جانے کا دکھ نام کی کوئی بھی چیز موجود نہیں ۔وہ آنکھیں پھاڑے ادھر ادھر دیکھنے میں مصروف تھی اور زبان بھی ٹرین کی طرح پڑ پڑ چل رہی تھی۔اسے صرف ایک ہی دکھ ہے کہ اس کی ماں نے جہیز میں اے سی نہیں دیا ۔جب بھی اسے جہیز میںنہ ملنے والا اے سی یاد آتا تو وہ رو پڑتی پر جب کوئی کزن وغیرہ سسرال کا حوالہ دے کر چھڑتی تو منہ پھاڑے بے شرموں کی طرح دانت نکالنا شروع کر دیتی۔سمن کو تو وہ رینا کم اور وینا ملک زیادہ لگی ویسی ہی نوٹنکی ہے یہ۔ایک پل روتی ہے تو دوسرے پل پاگلوں کی طرح ہنسنا شروع کر دیتی ہے۔

”ارے آج یہ رینا روز کی نسبت کچھ بہتر نہیں لگ رہی۔“شزا نے لائبہ سے کہا۔

”اچھی تو اس نے لگنا ہی ہے سارا دن پارلر میں ہی گھس رہی ہے اور ویسے گدھی پر بھی روپ آ جاتا ہے جب اس کی شادی ہو تی ہے یہ توپھر بھی انسانوں میں شمار ہوہی جاتی ہے۔ویسے مجھے تو نہیں لگتا کہ اس پر کہیں بھی روپ آیا ہے ۔“سمن بولی۔

روپ تو شرم وحیا ہونے سے آتا ہے اور شرم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ تو حد سے زیادہ بے شرم ہے۔اس کی بے شرمی تو پورے کالج میں مشہور تھی کیسے غلطی کر کے آخرپر بے شرموں کی طرح دانت نکالتی تھی۔اب بھی اس کی پہلی والی حرکات ہیں فطرت بھی کبھی بدل سکتی ہے بھلا۔دلہنوں والی کوئی بات سرے سے موجود نہیں ۔کیسے منہ پھاڑ پھاڑ کر قہقے لگا رہی ہے۔ایسی ہوتی ہیں دلہنیں۔اچانک سمن کو یاد آیا تو اس نے جھٹ پوچھا۔

”ٹائم کیا ہو ا ہے؟“

جب لائبہ نے ٹائم دیکھا تو اس کے چیخ نکل گئی ان کا ٹائم گذرنے کا پتہ ہی نہ چلا آدھے گھنٹے کی اجازت ملی تھی اور انہیں یہاں آئے دو گھٹنے ہو گئے تھے۔

”دادی تو ہمیں ہلاک کر دے گی ۔صبح اس کی ڈولی جائے گی اور ہم تینوں کا جنازہ اٹھایا جائے گا۔“انہوں نے اپنے گرد چادر لیتے ہوئے گھر کو دوڑ لگائی۔تو ان کا ٹکراﺅرینا کی ماں سے ہو گیا۔

”کیسے بھاگی چلی آ رہی ہو تم لوگ؟ شادی والا گھر نہ ہوا گراﺅنڈ ہو گیا۔“خالہ شہناز نے مگر مچھ کی طرح منہ پھاڑ کر ان تینوں کو لتاڑنا شروع کر دیا کہاں جا رہی ہو اتنی تیزی میں کہ سامنے والا نظر نہیں آ رہا تم کو۔

”وہ خالہ ہم گھر جا رہی ہیں۔ہمیں آئے کافی دیر ہو گئی ہے دادی بھی پریشان ہو رہی ہو گی اب ہمیں اجازت دیں۔“سمن بولی

”ہاں ہاں جاﺅ میں نے کب روکا ہے تم لوگوں کو پرجھوٹ تو نہ بولو۔کہ تمہاری دادی پریشان ہو رہی ہوں گی بلکہ پریشانی تو تم لوگوں کے چہروں پر واضح دکھائی دے رہی ہے تمہاری دادی کے خوف سے۔سارا محلہ جانتا ہے تمہاری دادی ہر وقت تم لوگوں پر ننگی تلوار بن کر لٹکی رہتی ہے۔ادھر تم لوگ باہر جاﺅ ادھر وہ تمہاری گردنیں کاٹ کر تمہیں مار ڈالیں۔ہائے ہائے بڑا ترس آتا ہے تم بیچاریوں پر بڑے ہی سفاک قبیلے سے تعلق ہے تمہاری دادی کا۔“وہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔

”بڑی ہی خبیث ہے یہ خالہ منہ پھٹ ذرا جو ان لوگوں میں دید لحاظ ہو صبح ان کی نوکرانی منہ ماری کر گئی اور اب یہ خالہ کھوسٹ۔“وہ تینوں بڑبڑاتے ہوئے ان لوگوں کا دروازہ پار کر گئیں۔

٭٭٭

                وہ تینوں ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوئیں۔ سامنے ہی دادی بڑے خطرناک تیور لیے کھڑی تھیں۔

”آگئیں تم لوگ؟میں نے بھیجا تھا آدھا گھنٹہ بیٹھ کر آ جانا پر کہاں گھنٹوں بیت گئے۔یوں جم کر بیٹھ گئی تھی وہاں جیسے سب گھر والوں کو دفنا آئی ہو کوئی پوچھنے والا پیچھے نہیں رہا۔اب منہ سے کچھ پھوٹوکہ کیوں دیر کی یا اٹھاﺅں چپل۔۔“دادی کی آواز کی گرج لخطہ بہ لخطہ بڑھتی جا رہی تھی۔آخر سمن نے ہمت کر کے کچھ بتانا چاہا۔

”وہ دادی !ہم لوگ تو آنے ہی والے تھے مگر خالہ شہناز نے روک لیا کہ رینا کی مہند ی لگا کر جانا۔رینا تھوڑی دیر پہلے ہی تیار ہو کر آئی تھی ہم نے اسے مہندی لگائی اور گھر آ گئے۔دادی خالہ شہناز آپ سے ناراض ہے وہ کہہ رہی تھی آپ او رامی کیوں نہیں آئی۔آپ کو تو بہت زیادہ پوچھ رہی تھیں۔“سمن نے دودھ کی طرح سفید جھوٹ بولا۔

”اچھا اچھا مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں میں جانتی ہوں شہناز میری بڑی عزت کرتی ہے۔میں اسے خود ہی منا لوں گی ۔پر تم لوگوں کی یہ آخری باری تھی اب میں تم لوگوں کو کہیں بھی جانے سے پہلے اجازت کے وقت تقریباً سو بار سوچوں گی۔جاﺅ اب تم لوگ اپنی شکلیں گم کرو۔“

ان تینوں نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور اپنے مشترکہ کمرے کی جانب چل دیں۔

٭٭٭

”آمنہ او آمنہ کہاں ہو بھئی؟“دادی نے پکار۔

جی امی!“انہوں نے سعادت مندی سے جواب دیا۔

”ارئے بھئی کلثوم آ رہی ہے ۔“انہوں نے جوش اور خوشی کے ملے جلے تاثر سے بتایا

”ارے واہ!یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے۔کب آ رہی ہیں کلثوم باجی؟“

”آج ہی آ رہی ہے میری بیٹی۔ دس سال کے بعد وہ یہاں آ رہی ہے ۔اس نے نا مراد سسرال والوں نے اسے قیدی بنا کر رکھا ہو اتھا۔ہم سال میں ایک دو بار جائیں تو جائیں ان خبیث لوگوں کو تو فیق نہ ہوئی کہ ایک بار میری بچی کو یہاں بھیج دیں۔بتائیں کن تیلی تمبولی لوگوں سے پالا پڑ گیا تھا میری بچی کا۔اللہ کا بڑا کرم ہو گیا ہے اس کے بیٹے احسن کی نوکری اسلام آباد سے یہاں لاہو ر میں ہو گئی ہے۔اب وہ یہاں ہی رہے گی۔احسن کی کمپنی والوں نے اسے گاڑی اور گھر بھی دیا ہے۔

تم لڑکیوں سے کہو وہ کھانے اور صفائی وغیرہ کا انتظام کریں۔سارا کھانا میری بیٹی کی پسند کے مطابق پکنا چائےے۔آخر وہ دس سال بعد آ رہی ہے۔“

”جی اچھا امی میں سار کھانا ان کی پسند کے مطابق بنواﺅں گی ۔آپ فکر نہ کریں۔“وہ خوش دلی سے کہتی ہوئی باہر چلی گئیں۔

دادی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پھوپھو کلثوم کے آنے کی خوشی میں میٹھایاں تقسیم کرنا شروع کر دیں ۔کرتی بھی کیوں کہ آخر ان کی اکلوتی لاڈلی بیٹی اتنے سالوں بعد آ رہی تھی۔

٭٭٭

                آمنہ نے لڑکیوں کو پھوپھو کلثوم کے آنے کے بارے میں بتایا وہ بھی یہ سن کر حیران ہو گئیں کہ پھوپھو اتنے سالوں بعد آ رہی ہیں۔آمنہ نے لائبہ کے ذمے گھر کی صفائی ،سمن اور شزا کو کھانا بنانے کی ذمہ داری سونپی۔لائبہ نے اپنے ساتھ رینا لوگوں کی کام کرنے والی کو لگایا اور ایک ہی گھنٹے میں سارے گھر کو چمکا ڈالا۔عام روٹین میں بھی ان کا گھر ہمیشہ صاف ستھر ارہتا اس لیے اُسے زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔لائبہ نے ایک تفصیلی نگاہ ڈرائنگ روم اور دوسرے کمروں میں دوڑانے کے بعد سب کچھ ٹھیک ہے کہہ کر کچن کی جانب چل دی۔

”کھانے میں کہا ہے؟“لائبہ نے کچن میں اکیلی کام کرتی سمن سے پوچھا۔

”سب کے لیے بریانی ،کوفتے ،پسندوں کے کباب،فرنی او ربھی بہت کچھ ہے ۔لیکن تمہارے لیے خاص طور پر سانپ کے زہریلے انڈے کا حلوہ بنایا ہے جو تمہیں بہت پسند ہے کھاﺅ گی؟۔۔توبہ۔ایک تو گرمی اوراوپر سے ہڈ حرام کام چور اور ڈھیٹ قسم کے لوگ آ کر پوچھتے ہیں کھانے میں کیا ہے؟اور یہ شزا پتہ نہیں کہاں مر کھپ گئی ہے۔اسے کیاری سے دھنیا لانے کو کہا تھا حرام خور دھنیا اگانے بیٹھ گئی ہے۔ایک تو اس گھر میں حد سے زیادہ ڈھیٹ لوگ بستے ہیں ۔چاہئے ان کی جتنی مرضی بے عزتی کر لولیکن ان کے کان پر جو تک نہیں رینگتی بے شرمی کی بھی حد ہوتی ہے۔“سمن نے تیکھے پن سے کہا۔یہ سب اس نے لائبہ کو سنانے کے لیے کہا لیکن اس کی جانب سے کسی بھی قسم کا جواب نہ پا کر خاموشی اختیار کر لی۔پھر کچھ دیر بعدسمن ہی نے اسے پکارا۔”اے لائبہ !ذرا یہ گوشت تو دھو کر دو بریانی کے لیے۔“

”میں نے پہلے تمہاری بات کا جواب اس لئے نہیں دیا کہ پاگلوںکی کسی بھی بات کا برانہیں منایا جاتا اور رہی بات گوشت دھونے کی تو وہ تمہارا کام ہے میرا نہیں۔کیونکہ میں اپنے حصے کا کام کر چکی ہوں۔“لائبہ نے پانی پیتے ہوئے نہایت آرام سے جواب دیا۔

”ٹھیک ہے دفع ہو جاﺅ یہاں سے میں اکیلی کر لوں گی سب۔مجھے کسی کی مدد نہیں چاہیے۔میں اکیلی ہی کافی ہوں “سمن نے چلاتے ہوئے کہا۔

”تم جیسی ڈائنیں اکیلی ہی کافی ہوتی ہیں۔“لائبہ نے اس سے زیادہ بلند آواز میں چلاتے ہوئے کہا

”کیوں تم دونوں نے کچن کو مچھلی بازار بنایا ہوا ہے؟“ دھنیا لے کر آتی شزا نے دونوں کو گھرکا۔

”کہاں پھڑک گئی تھی تم؟“سمن نے اس کی بات کانوٹس نہ لیتے ہوئے کہا۔

”جلدی سے گوشت دھو کر دو مجھے میں نے اس خبیث لڑکی سے کہا تو صاف جواب دے دیا۔بڈ حرامی تو ختم ہے اس لڑکی پر۔“

”ارے دو بج گئے جلدی کرو۔وہ لوگ بس آنے ہی والے ہیں۔“دادی ہانپتی کانپتی کچن میں داخل ہوئیں۔

”باقی سب کچھ ہو گیا ہے دادی بس بریانی رہ گئی ہے۔وہ بھی تھوڑی دیر میں ہو جائے گی آپ فکر نہ کریں۔“ سمن نے انہیں بتایا۔

”ٹھیک ہے اور تم لائبہ میرے کپڑے استری کر دو میں تب تک نہا لوں۔“لائبہ دادی کے کپڑے پریس کرنے چل دی اور سمن جلدی جلدی بریانی کی تیاری کرنے لگی۔

٭٭٭

”اے سمن پھو پھو لوگ آ گئے ہیں۔“شزا نے بریانی کے آخری مراحل طے کرتی سمن سے کہا۔

”تو میں کیا کرو ڈھول بجاﺅ پھول پتیاں لے کر ان کے استقبال کو پہنچ جاﺅں ایک تو اتنی گرمی میں مجھ سے اتنا سارا کھانا بنوایا ۔تم بجائے میری مدد کرنے کے ساری چیزیں جوٹھی کرنے میںمصروف رہی یہ تو میں نے تمہیں روک رکھا ورنہ مہمانوںکے آنے سے پہلے ہی سارا صفایا کر ڈالتی تم۔اور وہ لائبہ اس بد ذات کو تو اللہ ہی پوچھے گا اس کو تھوڑا سا گوشت دھونے کے لیے کیا کہہ دیا سو سو بکواس سنا کر گئی ہے۔اور جب سب کچھ پک جائے گا تو سب سے پہلے وہ بھکارن اپنا کشکول اٹھا کر کہے گی۔”مائی روٹی دے دیں“وہ مڑے بغیرہی بولے جا رہی تھی شزا تو اسے پھوپھو کی آمد کے بارے میں بتا کر وہاں سے کب کی جا چکی تھی۔تمہیں کیوں سانپ سونگھ گیا ہے ۔کچھ منہ سے بکو کون کون ہے ۔پھوپھو کے ساتھ؟“اس نے بریانی کو دم پر رکھتے ہوئے کہا۔شزا سے کسی بھی قسم کا جواب نہ پا کر جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔تو سے دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔جس کو وہ شزا سمجھ کر بڑے استحقاق سے باتیں سنا رہی تھی اس کی صورت دیکھ کر اس کی سانس حلق میں اٹک گئی ۔وہاں پر ایک لمبا چوڑا چھ فٹ کا شاندار لڑکا کھڑا اسے اپنی بھوری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔”میں۔۔میں سمجھی کہ آپ وہ شز۔۔۔شزا ہیں۔“اسے خشمگیں نظروں سے اپنی طرف گھورتے پا کر اس پر شدید بوکھلاہٹ کا غلبہ ہو گیا تھا اور زبان غوطے پہ غوطہ کھانے لگی۔

”آپ نے کیا گھورنا شروع کر رکھا ہے؟“اس کی دبی دبی مسکراہٹ نے اسے سبکی کا احساس دلایا تو اس کی آواز کچھ سنبھلی۔”ایسا کیا قصور ہو گیا مجھ سے جو آپ ایسی نظروں سے مجھے دیکھ رہے ہیں ۔اگر آپ کو شزا سمجھ کر کچھ باتیں کر لی اور اتنی گرمی میں اگر میںنے اپنے سرکا بوجھ ہلکا کر لیا تو کون سا گنا ہ ہو گیا۔“

خفت مٹانے کے لیے اسے یہی بہانہ سوجھا کہ فریق مخالف کو جارحیت کے پھیر میں الجھا دیا جائے۔”نجانے کیا ہو گیا ہے ۔اس دنیا کو چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنا ڈالتے ہیں۔آپ مجھے کیوں ایسے گھو رہے ہیں۔جیسے قصائی چھراپھیر نے سے پہلے بکرے کو دیکھتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں آخر یہ کہاں کی انسانیت ہے۔“بولتے ہوئے اچانک اسے محسوس ہوا کہ سامنے کھڑے شخص نے اپنے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکالا اور اس طرح اپنے ہونٹوں کو بھنچے ہوئے تھا جیسے مشکل سے اپنی ہنسی کو دبا رہا ہو۔

اس کی دبی ہوئی ہنسی کو دیکھ کر ایک بار تو سمن کا دل چاہا کہ اپنا سر دیوار سے ٹکرا دے یا پھر اس شخص کی آنکھوں میں لال مرچ ڈال کر وہاں سے بھاگ جائے۔لیکن وہ شدت سے چاہنے کے باوجود ان دونوں خواہشات پر عمل نہ کر سکی۔پھر اس نے سوچا یہ شخص ہے کون جو اسے اپنے ہی گھر میں چور بنائے تھانے داروں کی طرح تفتیشی نظروں سے گھور رہا ہے۔ابھی وہ اپنی یہ سوچ اس شخص پر عیاں کرنے ہی والی تھی کہ زین آ گیا۔

”ارے ا حسن بھائی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“زین نے اس شخص کو احسن بھائی کہہ کر مخاطب کیا۔”دراصل احسن بھائی اس جگہ کو کچن کہتے ہیں جہاں آپ کھڑے ہیں واش روم تو وہاں کارنر پر ہے۔“زین نے ہنستے ہوئے ا س شخص کو بتایا۔اور یہ میری سب سے بڑی آپی ہیں سمن۔“زین نے تعارف کروایااور آپی یہ پھوپھو کلثوم کے بیٹے ہیں احسن بھائی۔“

پھو پھو کا بیٹا۔اس کے پاﺅں تلے زمین نکل گئی ابھی ابھی جو گفتگو اس نے ان موصوف کے ساتھ ملاخطہ فرمائی تھی اگر وہ جا کر دادی کو بتا دے تو وہ اس کا قیمہ بنا کر چیل کو کھلا دے گی بلکہ ان کو بھی کھلا دے جو قیمہ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

”پتا نہیں کب ٹلے گا یہ“۔سمن نے اس کی طرف دیکھ کر سوچا۔وہ بھر پور نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔بے اختیار اس نے اپنی پلکیں نیچے جھکالیں۔

”چلیںاحسن بھائی“۔زین نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔

”ہاں چلو۔“اتنا وقت گزرنے کے بعد وہ پہلی بار بولا تھا۔اس نے سمن پر اپنی بولتی ہوئی آنکھوں سے ایک بھر پور نظر ڈالی اور زین کے ساتھ چل دیا۔

٭٭٭

                سمن نے کھانا بنانے کے بعد آمنہ کے کہنے پر کپڑے بدلنے اپنے کمرے میں چلی گئی۔لائبہ اور شزا نے مل کر کھانا لگا دیا تھا۔جب وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو تمام لوگ کھانا کھا رہے تھے۔

”اسلام علیکم!“سمن نے نہایت معصومیت سے پھوپھو اور پھوپھا جی کو سلام کیا۔

”وعلیکم اسلام!“ نہایت پیار سے جواب دیا گیا۔”ماشااللہ ،ارے بھی یہ اتنی پیاری بچی کون ہے؟پھوپھو نے دادی سے پنک کلر کا سوٹ پہنے چہرے پر معصومیت اور بلا کی سادگی لیے ہوئے گلابی رنگت والی سمن کے بارے میں پوچھا۔

ارے کلثوم یہ سمن ہے اعزاز کی بڑی بیٹی۔“دادی نے خوش ہوتے ہوئے بتایا۔

”ارے بیٹا وہاں کیوں کھڑی ہو میرے پاس آﺅ بیٹھو۔“پھوپھو نے اسے اپنے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔جس کرسی پر وہ بیٹھی، اس کے بالکل سامنے والی کرسی پر احسن بیٹھا تھا اور اس نے پھر اسے گھورنا شروع کر دیا۔

”بچپن میں تو سمن خاصی شرارتی ہوا کرتی تھی۔اب تو بالکل چھوئی موئی سی ہو گئی ہے۔“

”چھوئی موئی یا پھر منہ وائی(زبان دراز) ،یہ ضرور سامنے بیٹھے پھوپھو کے بیٹے احسن سے سوچا ہو گا کیونکہ کچھ دیر پہلے وہ اس کی چھوئی موئی طبعیت دیکھ چکا تھا۔“سمن نے بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے سوچا۔

”ہاں پھوپھو جی بچپن میں یہ سمن بہت ہی شرارتی ہوا کرتی تھی۔ایک دفعہ اس نے دادا مرحوم اللہ ان کی مغفرت کریں (آمین) ان کے نقلی دانت اس نے نالی میں پھینک دیئے تھے۔ سارا گھر ان کے دانت ڈھونڈتا رہا، پر وہ کہیں نہیں ملے ۔بیچارے دادا نے اس دن صرف دلیے پر گزارہ کیا۔ جب سب کو پتہ چلا کہ یہ حرکت سمن کی ہے تو اس کی بڑے ابو سے خوب پٹائی ہوئی تھی۔“لائبہ نے سب کو بتایا۔

”لعنت ہو تمہاری شکل پر لائبہ اللہ کرے منہ پر تم بے دھیانی میں ماسک کی بجائے تیزاب لگا لو۔جس سے تمہاری شکل ڈراﺅنی فلم کی کسی چڑیل جیسی ہو جائے۔یہ بھلا کوئی جگہ ہے بچپن کی شرارت بتانے کی ۔“سمن نے کلس کر سوچا۔کیونکہ سب ہی ہنسنے لگے تھے ۔

” بیٹا بچپن میں تو سب ہی شرارتیں کرتے ہیں۔“پھوپھو نے سمن کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے لائبہ سے کہا۔

”بریانی تو بڑی اچھی بنی ہے بھئی یہ کس نے بنائی ہے ۔“پھوپھا جی نے بریانی کی تعریف کی۔

”سمن نے ہی بنائی ہے وہی سارا دن کچن میں لگی رہی ہے۔“دادی نے کہا۔

”بریانی کے لیے پیاز اور ٹماٹر میںنے کاٹے تھے۔ پھوپھا جی اور گوشت بھی میں نے ہی دھو کر دیا تھا۔اور میں نے ہی سمن کو بتایا تھا کہ دم کے دقت لیموں کاٹ کر ڈالنے سے اس کی لذت میں اضافہ ہو جاتاہے۔“ اچانک شزا بول پڑی۔

”فٹے منہ۔یہ کوئی موقع تھا اپنے احسانات گنوانے کا۔“سمن کو اس کی زبان درازی ایک آنکھ نہ بھائی۔

”چاہئے جو مرضی ہو اگر ہاتھ میں ذائقہ ہو تو کھانا اچھا ہی بنتا ہے اور اگر نہ ہو تو چاہئے جتنے مرضی مشوروں پر عمل کر لو کھانا بد ذائقہ ہی بنتا ہے۔“پھوپھو کی اس طرف داری پر سمن تو نہال ہی ہو گئی اور اس کا دل چاہا وہ بھنگڑا ڈالنا شروع کر دے تا ہم لائبہ اور شزا کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئی تھیں۔پھوپھو ان دونوں سے تو بس سلام دعا کے بعد سرسری سی باتیں کرتی رہی تھیں لیکن سمن ڈرائنگ روم میں آئی تھی وہ اسی کے نام کی گردانیں کیے جا رہی تھیں ۔کبھی اس کے پیار ے ہونے کے گن گائے جا رہی تھیں تو کبھی اس کے سگھڑاپے کے۔پھوپھو ایسے ہی اس سے ادھر ادھر کی باتیں کر رہی تھیں اچانک سمن نے اپنے سامنے بیٹھے احسن کی جانب دیکھا۔وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کا دل زور زور سے دھڑک اٹھا۔اس کی لو دیتی گہری بھوری آنکھیں سمن کو خائف کر رہی تھیں۔اس نے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا۔تاہمکسی اور طرف دیکھنے کے باوجود وہ اس کی نظریں خود پر محسوس کر سکتی تھی۔اس لیے اس نے وہاں سے اٹھ جانے میں ہی عافیت جانی۔

”میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔“ وہ کہتے ہوئے باہر چلی گئی اور اس کے پیچھے لائبہ اور شزا بھی چلی گئیں۔

٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے