سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

 

 

آکر مری آنکھوں کو ذرا دیکھ ستمگر

ہیں تیری محبت میں ابھی خشک، ابھی تر

قاصد بھی ہے پیغام رسانی سے گریزاں

آنکھوں کو ہے طوطے کی طرح پھیرے کبوتر

بدلے میں وفا کے مجھے کیا دو گے بتادو!

یہ فیصلہ ہو جائے ابھی اور یہیں پر

پوچھا کہ عدو لینے کو آتا ہے بھلا کیا

منہ پھیر کے وہ غصے سے بولے کہ ”ترا سر“

میخانوں میں اعمال کی ہو کیوں نہ درستی

ناصح کو ملے قوتِ گویائی وہیں پر

ہم اُن کی گلی جان لٹانے کو جو پہنچے

بولے ”ہمیں بدنام نہ کر، اور کہیں مر“

تو کس لئے ٹالے ہے بھلا کل پہ مرا کام

گر قتل ہی کرنا ہے کر آج، ابھی کر

شوکت جمال

دُھلی ہیں اُن کی جُرّابیں نہ جانے ورنہ کیا ہوتا

مہک جو سونگھ لیتا بس وہ کومے میں پڑا ہوتا

پڑوسن تیری چنچل ہے ، تجھے اُلو بناتی ہے

جو آتا اُس کا گھر والا ، کچن میں تو چھپا ہوتا

ہزاروں باتیں سُن کے بھی وہ گھس جاتا بلا کھٹکے

رقیبوں کی طرح وہ بھی اگر چکنا گھڑا ہوتا

نہ جانے حال کیا ہوتا تری اِس توند کا لیڈر !

سری پائے ، نہاری سے جو اِس کو بھر لیا ہوتا

دیا فتویٰ نہ مرضی کا ، پریشاں لوگ ہیں سارے

پھسلتے مولوی صاحب اگر حلوہ ملا ہوتا

پسند آتی ہے چرسی کو بہت پٹرول کی خوشبو

غٹا غٹ اس کو پی جاتا جو شربت کا مزا ہوتا

پھنسا تھا جال میں جب شیر ، چوہے نے کتر ڈالا

 نہ ہوتی دوستی ان میں ، نہ گل کوئی کھلا ہوتا

وہ قسمت سے بچا اب تک وگرنہ یہ یقینی تھا

وہ چوہے دان میں پھنستا یا بلے کی غذا ہوتا

شرارت کی چمک ایسی تھی پھول ! اُن شوخ آنکھوں میں

خجل ہوتا یقیناَ گر وہاں بلا کھڑا ہوتا

تنویر پھول

اور ہیں جو کما کے کھاتے ہیں

مولوی تو دبا کے کھاتے ہیں

چار کھاتے ہیں ہاتھ منہ دھو کر

چھے پراٹھے نہا کے کھاتے ہیں

جب سے معدہ ہوا خراب اپنا

خوب ہم بھی چبا کے کھاتے ہیں

مار کھاتے ہیں اس کے ہاتھوں کی

روٹیاں خود بنا کے کھاتے ہیں

اپنا اپنا چکن مٹن ہو تو

دال ہو تو ملا کے کھاتے ہیں

پہلے پہلے چھپا کے کھاتے تھے

اب تو رشوت دکھا کے کھاتے ہیں

مہ جبینوں سے ان کمینوں سے

بچ! یہ الو بنا کے کھاتے ہیں

محمد عارف

اگر تم چیک پہ تھوڑا سا لکھا تبدیل کر لیتے

تو ہم بھی پارٹی یہ اے ہمنوا تبدیل کرلیتے

بیماری کے بہانے پر ابھی یورپ کو ہو آتے

منسٹر ہوتے تو آب و ہوا تبدیل کرلیتے

کسی لیڈر کی طرح جھوٹ ہم کہتے تو پھر شاید

”مکاں اپنا وہی رکھتے پتہ تبدیل کر لیتے“

ہمیں اخبار اتنے چٹ پٹے معلوم نہ ہوتے

اگر اخبار نہ ہر واقعہ تبدیل کر لیتے

تمہارے بھائیوں کی فوج گر معلوم ہوتی تو

بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے

خاوری

آج بھی چلتی ہے آدم کے زمانے کی مشین

کار ہے اُن کی پرانے کارخانے کی مشین

ایک بھی مچھر نہیں آتا ہے میرے آس پاس

مل گئی جب سے مجھے مچھر بھگانے کی مشین

ہو گئی غائب نہ جانے آج وہ دھوبن کہاں

آگئی کم بخت یہ دھونے دھلانے کی مشین

جب سے شادی ہو گئی یہ حال میرا ہو گیا

بن گیا ہوں دوستو کھانا پکانے کی مشین

چھت پہ وہ آتا نہیں ہے زلف بکھرائے ہوئے

مل گئی ہے یار کو زلفیں سکھانے کی مشین

مل رہا ہے وہ رقیبوں سے گلے بے اختیار

یار نے گویا چلا دی دل جلانے کی مشین

گنگنائے جا رہے ہیں اپنی دھن میں آج وہ

کان سے اُن کے لگی گانے بجانے کی مشین

سُن کے میری شاعری یہ کہہ رہے ہیں سامعیں

یار یہ شانہ تو ہے ہنسنے ہنسانے کی مشین

اقبال شانہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محمودہ۔۔۔سعادت حسن منٹو

محمودہ سعادت حسن منٹو مستقیم نے محمودہ کو پہلی مرتبہ اپنی شادی پر دیکھا۔ آر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے