سر ورق / کہانی / جگر ہو جائے گا چھلنی !!…. ثمینہ طاہر بٹ  

جگر ہو جائے گا چھلنی !!…. ثمینہ طاہر بٹ  

    ” کیا کروں۔؟ ایک ہی ایک داماد ہے تو کیا اسے سر پر بٹھا لوں۔؟ ارے، ایسے ایسوں کو تو میں جوتی کی نوک پر رکھتی ہوں۔ یہ ہے کیا چیز۔؟ خود کو سمجھتا کیا ہے آخر ۔؟ “ ماتھے پر ہزاروں بل لیئے، وہ ہاتھ نچا نچا کر دل کی بھڑاس نکال رہی تھی اور گھر میں موجود مہمان حیرت کی تصویر بنے اسکی صورت دیکھے جا رہے تھے۔

    ” باجی۔!! ہو کیا گیا ہے آپکو۔؟ بس کردیں اب۔ بہت ہو گیا تماشہ۔موقع محل تو دیکھ لیاکریں آپ۔یعنی کی حد ہی ہوگئی۔ بیٹی داماد شادی کے بعد پہلی بار آپ کے گھر آنے والے ہیں اور آپ ہیں کہ۔۔۔!! “

    ” تو۔۔؟ میں نے بلایا تھا انہیں۔؟ میں تو ایسے ایسوں کو منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتی۔ ارے، جن کے دل میں میری کوئی عزت نہیں۔ میں بھی انہیں جوتیوں کے قابل ہی سمجھتی ہوں۔سمجھے۔ اور تم میرے سامنے اس ”کالے بینگن“ کی سائڈ لینے کی کوشش مت کرنا۔ میرے بھائی ہو تم۔ اس کلو کے نہیں کہ انکی ہمدردی میں مرے جا رہے ہو۔“ بھائی نے اسے سمجھانا چاہا، مگر وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے اسے بھی لپیٹے میں لیتی چلی گئی ۔ نہ اسے گھر آئے مہمانوں کا کوئی خیال تھا اور نہ ہی سامنے بیٹھی اپنی بوڑھی ماں کا جو دکھ اور حیرت سے خاموش بس اسے ہی دیکھے جا رہی تھیں۔

         *******************

    راشد اور مسرت کے چار بچے تھے۔ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں۔ وہ خود تو اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے۔ مگر اولاد کو بہت شوق اور محبت سے پڑھایا تھا۔ بڑی بیٹی نوشین نے انگلش میں ایم۔ اے کیا تھا۔اس سے چھوٹا بیٹا اسجد تھا۔ وہ پڑھائی میں تھوڑا ماٹھا ہی رہا تھا۔کچھ تو اکلوتا اور کچھ خاندان بھر کا لاڈلا ہونے کی وجہ سے اس کا رجحان پڑھائی کی طرف سے ہٹتا چلا گیا۔ اور پھر وہ باپ کا بازو بھی بننا چاہتا تھا۔ اسے اچھی طرح احساس تھا کہ اسکی تین تین بہنیں ہیں، اور آج کے دور میں ایک بیٹی کا بار اٹھانا مشکل ہے ، اسکے باپ کو تین بیٹیوں کو بیاہنا تھا۔ اسی لیئے وہ ایف اے کے بعد سے ہی باپ کے ساتھ انکا ہاتھ بٹانے لگا تھا ۔حالانکہ مسرت اور نوشین نے اسے منع بھی کیا تھا، مگر وہ نہیں مانا۔ راشد بیٹے کی فرمانبرداری سے خوش بھی ہوئے تھے، اور اسکی تعلیم ادھوری رہ جانے پر رنجیدہ بھی۔

   ” ابوجی۔!! آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ میں آپکا بازو بننا چاہتا ہوں، آپ پر بوجھ نہیں۔ اس ملک میں کتنے ہی پڑھے لکھے ، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بےروزگار پھر رہے ہیں، اندازہ ہے ناں آپکو۔دور کیوں جائیں، پھپھو جان کے جاسم بھائی کو ہی دیکھ لیں۔ بےچارے ایم بی اے کی ڈگری ہاتھ میں لیئے کتنا عرصہ نوکری کے لیئے دھکے کھاتے رہے ہیں، اور آخر کار ہار مانتے ہوئے انہیں پھوپھا جان کی دکان ہی سنبھالنی پڑی ناں۔ تو میں کیوں انکی طرح آپکا پیسہ اور اپنا وقت برباد کروں۔؟ جب مجھے پتا ہے کہ میں جوبھی ڈگری لے لوں، انجام کار مجھے آپکا بزنس ہی سنبھالنا ہے تو میں ابھی سے آپکے ساتھ فیکٹری کیوں نہ جوائن کر لوں۔؟ “ راشد کے اصرار پر اسجد نے انہیں اس طرح قائل کیا کہ خوشی کے مارے انکی آنکھیں بھر آئیں۔

   ” میرا بیٹا ، میری جان۔ مجھے تم پر فخر ہے اسجد۔ میری دعا ہے کہ اللہ تمہیں ہمیشہ خوشیوں اور کامیابیوں سے نوازے۔ تم نے باپ کا کلیجہ ٹھنڈا کیا ہے۔ اللہ تمہاری زندگی کو پھولوں سے بھر دے ۔“

   ” آمین۔!! میں نہیں کہتی تھی، میرا بیٹا ہیرا ہے ہیرا۔ لیکن آپ میری سنتے ہی کہاں تھے۔ اب یقین آ گیا ناں آپکو۔؟ “ راشد نے بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے اسے دعائیں دیں تو پاس بیٹھی مسرت کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ انکی تو جان ہی بیٹے میں اٹکی رہتی تھی،لیکن جب نوشین یا راشد اس کی توجہ پڑھائی کی طرف نہ پا کر اسے ڈانٹنے یا سمجھانے کی کوشش کرتے تو وہ بیٹے کی حمائت میں بول پڑتیں اور اکثر اسی بات کو لے کر انکی میاں اور بیٹی سے جھڑپ بھی ہو جاتی۔ مگر آج اسجد نے جس طرح باپ اور بہن کا قائل کیا تھا، ان کا سر فخر سے بلند ہو رہا تھا۔ راشد کی سمجھ میں بھی اسجد کی بات آ گئی، سو انہوں نے اس کے انٹر کے ایگزامز کے فوراً بعد اسے اپنے ساتھ فیکٹری لے جانا شروع کر دیا۔ انکی اسپیر پارٹس بنانے کی فیکٹری تھی۔جس میں ہر طرح کے اسپیر پارٹس بنتے تھے۔ اسجدسے چھوٹی ماہین اور اس سے چھوٹی عینی بھی پڑھ رہی تھیں۔ اسجد کا دماغ کام میں بہت تیز تھا۔ وہ جلد ہی سارا کام سمجھ گیا اور بہت جلد اس نے ثابت کر دکھایا کہ اس کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا۔ ادھر وہ بزنس میں دن بدن ترقی کر رہا تھا، تو دوسری طرف اسکی بہنیں پڑھائی کے میدان میں معرکے مار رہی تھیں۔

   نوشین نے جیسے ہی ایم اے کے پیپرز دئے ، بڑی پھپھو اپنے بیٹے کا رشتہ لیئے چلی آئی۔ جاسم نے بھی اس عرصے میں خود کو منوا لیا تھا۔ اس نے باپ کے جنرل اسٹور کو ترقی دے کر شاپنگ مال میں بدل دیا تھا۔ یہ سب راتوں رات نہیں ہو گیا تھا، اس کے لیئے جاسم اور اسکے بھائیوں نے کڑی محنت کی تھی۔ سوئے اتفاق جاسم کو دبئی میں جاب کی آفر آئی۔ اسکا دوست پہلے ہی وہاں سیٹلڈ تھا، اسکی کمپنی میں جابز نکلیں تو اسے فوراً جاسم کی جگہ بنا دی۔ وہ سب کے مشورے سے دبئی چلا گیا۔ وہاں اس نے ایمانداری اور محنت سے کام کیا تو یہاں اسکے باپ نے سمجھداری اور عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اپنے اسٹور کو وسعت دینی شروع کی، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انکا اسٹور شاپنگ مال کی صورت اختیار کر گیا۔ اب جاسم اس قابل تھا کہ نوشین کا ہاتھ مانگ سکتا، سو اسنے دل کی بات ماں سے کی، اور ماں تو پہلے ہی دل سے راضی تھیں۔ سو ، چند ہفتوں کے اندر اندر نوشی دلہن بن کر پھپھو کے آنگن میں جا اتری۔ ماہین ان دنوں بی اے فائینل میں تھی۔ نوشی کی شادی میں کئی نگاہیں اس پر بھی ٹہری تھیں۔سو، ادھر وہ رخصت ہوئی، ادھر ماہین کے لیئے رشتوں کی لائن لگ گئی۔

     ” پھر کیا سوچا آپ نے ماہین کے بارے میں۔ ؟ میں ان لوگوں کو کیا جواب دوں۔؟ ” مسرت بیٹی کے لیئے آنے والے تابڑتوڑ رشتوں سے بوکھلا سی گئی تھیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیسے ہاں کہیں اور کسے ناں۔سب لڑکے بھی اچھے لگ رہے تھے، اور سب لوگ بھی ۔ مگر مسلہٰ تو یہ تھا کہ ان میں سے صرف ایک کو ہی منتخب کیا جاسکتا تھا، اور وہ لوگ ابھی کسی نتیجے تک پہنچ نہیں پا رہے تھے۔

   ” میں اپنی طرف سے چھان بین کر رہا ہوں۔ اسجد اور جاسم بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ تم ابھی انہیں ٹال دو۔ جو رشتہ ہمیں سب سے زیادہ مناسب لگے گا، ہم بس اسی کو ہاں کہیں گے۔ “ راشد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو مسرت انکی بات سن کر الجھ سی گئیں، مگر شوہر سے بحث کی عادت نہیں تھی، اسلئے خاموش ہو گئیں۔ پھر جیسے ہی ماہین کا رزلٹ آیا، راشد اور اسجد نے جاسم کے مشورے سے زعیم کے رشتے کو اپرو کر دیا۔ نوشین تو ایم اے کرنے میں کامیاب ہو گئی، مگر ماہین کو اسکا موقع نہیں مل سکا اور چند ماہ میں ہی اسکی بھی شادی کر دی گئی۔ اسجد اور راشد کا بزنس خوب پھل پھول رہا تھا۔ اب انکی ایک نہیں دو دو فیکٹریاں تھیں۔ گھر کو بھی گذرتے وقت کے ساتھ جدید طرز آرائیش دے دی گئی تھی۔ بیٹیوں کی رخصتی سے پہلے ہی مسرت کی مدد کے خیال سے دو ملازمائیں رکھ لی گئیں تھیں، جو گھر کا سارا کام انجام دیتیں۔ بس کھانا مسرت خود بناتی تھیں، یا پھر عینی دو چار ہاتھ مار کے کچھ الٹا سیدھا بنا لیتی۔ مسرت کی طبیعت اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ وہ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تو شروع سے ہی تھیں، مگر اب انہیں جگر کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ جلد از جلد بیٹیوں کے فرائض سے فارغ ہوجانا چاہتی تھیں۔ اور اللہ نے انکی یہ خواہش پوری بھی کر دی تھی۔ مگر اب وہ عینی کے لیئے فکر مند ہوتی رہتیں تھیں۔ حالانکہ، وہ سب سے چھوٹی ، ابھی تھرڈ ایر میں ہی تھی ، مگر مسرت کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسکے ہاتھ پیلے کر کے اسے بھی رخصت کروا دیتیں۔ عینی انکی باتوں پر اکثر جھنجھلا جاتی، مگر پھر انکی طبیعت کو دیکھتے ہوئے خاموش ہو جایا کرتی۔

   ” بھائی۔!! آپ امی کو سمجھائیں۔ مجھے اپنی پڑھائی تو مکمل کر لینے دیں۔ ہر وقت ایک ہی قصہ لے کر بیٹھی رہتی ہیں۔ اپنی بھی طبیعت خراب کرتی ہیں اور میری اسٹڈی پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔پلیز بھائی۔ انہیں صرف آپ ہی سمجھا سکتے ہیں۔ آپ ان سے بات کریں ناں۔ “ مسرت نے عینی کے لیئے کئی رشتہ کروانے والیاں ہایئر کر لیں۔ وہ پروفیشنل عورتیں گھر آتیں، کھاتی، پیتیں اور الٹے سیدھے رشتے بتا کر مسرت کو اچھا خاصا لوٹ کر غائب ہو جاتیں۔ کئی ایک تو لڑکوں کی ماو ¿ں، بہنوں، بھابھیوں کی فوج بھی ساتھ لے آتیں۔ انکی خاطرداریاں الگ سے کرنی پڑتیں۔ مگر بات کہیں بھی نہ بن پاتی۔ کیونکہ عینی کا رنگ سانولا تھا، نین نقش تو بہت پیارے تھے، مگر فربہی مائل وجود کی وجہ سے بات بنتے بنتے رہ جاتی۔ اس پر اسکے تاثرات رہی سہی کسر نکال دیتے تھے۔ وہ اب روز روز کی اس پریڈ سے تنگ آ چکی تھی، مگر مسرت کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھیں۔

   ” اچھا ناں۔ تم پریشان مت ہو۔ میں بات کرتا ہوں امی سے۔ منع کر دونگا کہ اب کسی کو بلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور تم بھی زیادہ ہائپر مت ہوا کرو۔ صحت کے لیئے اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا۔ “ عینی کی برداشت ختم ہوئی تو اسنے اسجد کو سب بتا دیا۔ پہلے تو وہ سن کر حیران رہ گیا، کیونکہ نوشی اور ماہی کی بار تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ رشتے خود چل کر انکی دہلیز پر آگئے تھے، تو پھر اب ایسا کیا ہو گیا کہ امی ان رشتہ کروانے والیوں کے چکر میں پڑ گئیں۔

   ” ارے بیٹا۔!! میں جو کر رہی ہوں، سوچ سمجھ کر ہی کر رہی ہوں۔نوشی اور ماہی کی بات اور تھی۔ وہ دونوں تو سمجھو اپنے ہی خاندان میں بیاہی گئیں۔ مگر عینی کے لیئے ابھی تک کسی نے اشارہ بھی نہیں دیا تو ایسے میں میرے پاس اسکے سوا کوئی اور راستہ بچتا ہی نہیں کہ میں خاندان سے باہر کوئی رشتہ تلاش کروں اپنی بچی کے لیئے۔“ عینی کوتو اسجد نے سمجھا دیا تھا، مگر ماں کو کیا کہتا۔ انکی بات میں بھی وزن تھا۔ وہ خود سوچ میں پڑ گیا۔

   ” بلکہ میں نے تو تمہارے لیئے لڑکی دکھانے کا بھی کہا ہے ان سے۔ اب میں بھی بہو لانا چاہتی ہوں۔ چاند چہرہ ستارہ آنکھوں والی بہو۔ جس کے قدم پڑتے ہی میرا آنگن روشنیوں سے بھر جائے ۔ “ مسرت کے لہجے میں ایسی خوشی، ایسا ارمان چھپا تھا کہ اسجد بس منہ کھولے انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔

        *************************

   لینا تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔اسکی ماں رانی اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑی تھیں، اس لیئے انکا ہولڈ بھی سب پر تھا۔ ڈھیر سارے بھائی بہنوں پر رعب جماتے جماتے انکی طبیعت میں ایک خاص قسم کی حاکمیت اور خود پسندی رچ بس چکی تھی۔ گھر کی بڑی بیٹی تھی، اس لیئے شادی بھی سب سے پہلے ہوئی۔ بھرے پرے گھر سے آئی تھیں، آگے سسرال بھی بھرا پرا ہی ملا۔ مگر یہاں وہ بڑی بہو نہیں تھیں۔ ان سے بڑی ایک بہو پہلے سے گھر میں موجود تھیں۔ دوبیاہی نندیں تھیں، تو دوکنواری گھر بیٹھی تھی۔ دیور بھی ابھی ویٹنگ لسٹ میں لگے تھے۔ سو یہاں انکا وہ رعب اور دبدبہ نہ چل سکا۔ جابر پر البتہ انکی گرفت شروع سے ہی مضبوط ہو چکی تھی۔ پھر قسمت نے یاوری کی اور شادی کے سال بھر بعد ہی لینا انکے آنگن کی رونق بن کر آگئی۔ مگر یہاں بھی وہی بات کہ لینا سے پہلے ہی جیٹھانی صاحبہ کے بچے آنگن کو رونقیں بخش چکے تھے، اس لیئے انہیں لگتا کہ انکی بیٹی کو وہ پروٹوکول نہیں ملتا، جو اس حق تھا۔ ہاں البتہ ننھال میں اسکی خوب سنی جاتی۔ یہاں وہ گھر کی پہلی بچی تھی۔ ماسیوں، ماموو ¿ں کی لاڈلی، نانا ، نانی کی جان۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ لینا کو اپنے پاس ہی رکھ لیتے۔ رانی کا بھی دل سسرال میں کم کم ہی لگتا تھا۔ میکہ بھی نزدیک ہی تھا، سو وہ ہر دوسرے دن ماں کی طرف پہنچی ہوتیں۔ اس دوران انکی باقی بہنوں اور بھائیوں کی شادیاں بھی ہو چکی تھی، اور انکے بچے بھی دنیا میں آچکے تھے، مگر جو مقام لینا کو حاصل تھا، وہ کوئی اور بچہ نہیں پا سکا تھا، حتیٰ کی اسکے اپنے بھائی بھی نہیں۔

   رانی نے اپنے سسرال والوں کے ساتھ روئیہ عجیب سا رکھا تھا۔ نندوں جیٹھانی، دیورانیوں کی کوئی بات بری لگتی، تو خود تو منہ پر جواب دیتی ہی تھیں، جابر کو بھڑکا کر انکی بھی بھائی بہنوں سے لڑائی کروا دیتیں۔حالانکہ ان کی امی انہیں لاکھ سمجھاتی، خود پر قابو رکھنے کا کہتیں، مگر وہ رانی ہی کیا جو کسی کی بات مان لیتں۔ سو، انکی زندگی اسی طرح اپنے اردگرد رہنے والے اپنوں سے لڑ بھڑ کر گذر رہی تھی۔ لینا نے بچپن سے یہی سب دیکھا تھا۔ماں کی اکلوتی بیٹی تھی، اس لیئے ماں اسے سہلیوں کی طرح ٹریٹ کرتیں۔ دونوں ماں بیٹی اپنے گھر ہوتیں تو مامیوں کی غیبتیں کر کے اپنا دل ٹھنڈا کرتیں اور جب نانی کی طرف جاتیں تو پھپھیوں اور تائی، چاچیوں کے خلاف باتیں کر کر کے سب کو ان سے بد زن کر دیتیں۔

   ” بے چاری میری رانی۔!! جب سے بیاہ کے گئی ہے۔ ایک پل سکون کا سانس نصیب نہیں ہوا اسے۔ توبہ، ایسی نندیں، اور ایسی جیٹھانی، دیورانیاں اللہ کسی دشمن کو نہ دے۔ آفرین ہے میری بیٹی پر صبر اور حوصلے سے گذارا کر رہی ہے۔کوئی اور ہوتی تو ان سب کو لگا پتا دیتی۔!! “ بھولی نانو، بیٹی اور نواسی کے منہ سے نکلنے والی ہر بات کو سچ مانتے ہوئے گہرے دکھ اور تاسف کا اظہار کر رہی تھیں ، اور سامنے بیٹھے بیٹوں سے اپنی ہنسی چھپانا مشکل ہو رہا تھا کیونکہ وہ باہر پھرتے، باجی کے گھر کے سب حالات جانتے تھے۔ انہیں پتا تھا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ مگر امی کو سچ بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیئے خاموشی سے بیٹھے ماں کی باتیں سن رہے تھے۔

   ” او۔ رہنے دے رانی کی ماں۔!! اب اتنی بھی بھولی اور معصوم نہیں ہے تمہاری بیٹی۔ ساری سسرال کو آگے لگا رکھا ہے اس نے اور تم ہو کہ اسی کے قصیدے پڑھتی رہتی ہو۔ “ سوئے اتفاق ابا جی بھی وہیں موجود تھے۔ انہیں بھی سب حالات کی خبر تھی۔ جابرکے بھائی اکثر بھائی بھاوج کے تلخ رویوں کی شکائت لیئے انکے پاس چلے آتے تھے۔ وہ تحمل سے انکی بات سنتے، اپنی طرف سے معذرت کرتے اور انکی بھرپور تسلی کروا کر واپس بیھج دیتے، مگر بیٹی اور داماد کو کیا کہتے، وہ تو کبھی انکے ہتھے چڑھے ہی نہیں تھے۔اور اب بیوی کے منہ سے بیٹی کی مظلومیت کی داستان سن کر انہیں غصہ ہی آ گیا۔

   ” لے ۔!! میں کوئی جھوٹ بول رہی ہوں۔؟ مجھے خود رانی اور لینا نے بتایا تھا کہ۔۔۔!! “ امی کو اباجی کا ٹوکنا برا لگاتھا، اسی لیئے وہ اپنے تئیں صفائی دینے لگی تھی کہ اچانک بجنے والی فون کی گھنٹی نے انکی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی۔

   ” امی۔!! میں باجی کی طرف جا رہا ہوں۔ وہاں بہت بڑا پھڈا ہو گیا ہے۔ باجی نے ہمیں فوراً بلایا ہے۔ “ ان کے بیٹے نے رسیور رکھتے ہوئے پریشانی سے کہا تو ان کے بھی حواس معطل ہو گئے۔

    ” آئے ہائے۔!! اب کیا کر دیا ان لوگوں نے۔؟ میں نے کہا تھا ناں کہ میری بچی بڑی مشکل میں۔۔!! “

   ” انہوں نے کچھ نہیں کیا امی۔ آپکی لاڈلی لینا بی بی نے فرائینگ پین مار کر اپنے چچا کا سر پھاڑ دیا ہے۔ انہوں نے پولیس کال کر لی ہے، اور اب باجی کا حکم ہے کہ ہم لینا کو کچھ دنوں کے لیئے یہاں چھپا کر رکھیں گے۔ میں اسے لینے جا رہا ہوں۔ اور ہاں، یہ انکے گھر کا معاملہ ہے۔ میں کسی بات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا۔ پلیز آپ بھی خود پر قابو رکھیں۔ وہ سب خود ہی ہینڈل کر لیں گے۔ “

امی بےچاری تو گم صم بیٹے کی بات سنتی رہ گئیں اور وہ تیزی سے دروازہ پار گیا۔

   ” لینا۔!! میری دھی رانی۔ تجھے ضرورت کیا تھی چاچے پر ہاتھ اٹھانے کی۔؟ تجھے ماں نے بڑے چھوٹے کا ادب لحاظ نہیں سکھایا کیا۔ ؟ اتنی پڑھی لکھی ہو کے یہ کیاحرکت کی تو نے ۔؟ “

    ” نانو۔!! آپکو نہیں پتا۔ وہ اسی قابل تھے۔ میری ابو، امی کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ ابو کو گالیاں دے رہے تھے۔ بس، مجھ سے برداشت نہیں ہوا، میرے ہاتھ میں جو بھی آیا، میں نے اٹھا کر دے مارا انہیں۔ ابھی تو شکر کریں کہ میرا نشانہ ذرا چوک گیا، اور انکا صرف سر ہی پھٹا، اگر کہیں فرائینگ پین ٹھیک نشانے پر لگ جاتا تو انکا بھیجہ ہی باہر آ جانا تھا۔ آئے بڑے میرے ابو، امی کو باتیں لگانے والے۔“ نانو نے اپنے طور پر اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی، مگر اسکے جواب نے انہیں جامد چپ سی لگا دی تھی۔وہ کوئی چھوٹی سی دودھ پیتی بچی نہیں تھی کہ رشتوں کی نزاکت کا اسے احساس نہ ہوتا۔ بی اے فائینل ایر کی اسٹوڈنٹ تھی، اور دنیا کے ہر موضوع پر سیر حاصل بحث کر سکتی تھی۔ کندھ ذہن اور غبی بھی نہیں تھی کہ ایک بات کو بار بار سمجھانا پڑتا، تو پھر کمی کہاں رہ گئی تھی، جو اس نے اتنا بڑا قدم اٹھالیا، اور اب اس پر پشیمان ہونے کی بجائے خود کو حق پر سمجھ رہی تھی۔ نانو کی سوچیں گہری ہوتی جارہی تھیں ، مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔

   ” چھوڑیں امی۔ آپ پریشان مت ہوا کریں۔ جابر نے اسے ہر طرح کی آزادی دے رکھی ہے۔ وہ تو بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں برداشت کر سکتے، تو پھر بیٹی کیوں باپ کے خلاف کچھ سنے۔ اس نے جو کیا ٹھیک کیا۔ جابر کہتے ہیں، لینا نے اپنا فرض ادا کیا، ایک بیٹی کو ماں باپ کے لیئے ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ اس نے ہماری بیٹی ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔“ رانی کی جوشیلی تقریر نے جہاں نانو کے پیروں تلے سے زمین نکالی تھی، وہیں لینا کا سر بھی فخر سے بلند ہو گیا تھا۔

   ” یہ کیا کہہ رہی ہو رانی۔!! تم نے کیا اسے اگلے گھر نہیں بھیجنا۔؟ یہ ساری عمر تو تمہاری دہلیز پر بیٹھی، بیٹی ہونے کا حق ادا نہیں کر سکتی ناں، اسے کل کو کسی کی بہو بننا ہے، کسی کی بیوی، کسی کی بھابھی، اور کسی کی ماں۔ تو کیا یہ وہاں بھی اسی طرح کا روئیہ رکھے گی سب کے ساتھ۔؟ سر پھاڑتی پھرے گی لوگوں کا۔اور تم یوں ہی اسکی تعریفیں کرتی چلی جاو ¿ گی۔ حد ہوتی ہے کسی بات کی ۔“ نانو کو سخت غصہ آرہا تھا، مگر یہاں انکے غصے کی پرواہ کسے تھی۔ رانی اچھی طرح سے جانتی تھی کہ ماں کو ہینڈل کس طرح کرنا ہے ۔

   ” امی جی۔!! یہ آپکی نواسی ہے۔ اور آپکی نواسی اب اتنی بھی پاگل نہیں کہ سسرال والوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے، اسے پتا ہی نہ ہو۔ یہ سب جانتی اور سمجھتی ہے۔ اور پھر سب سے بڑی بات، جابر اسے ترجمے کے ساتھ قران پڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قران کی وہ تمام سورتیں اپنی بیٹی کو ترجمے کے ساتھ پڑھوائیں گے، جن میں عورتوں کے حقوق کا بیان کیا گیا ہے۔ تاکہ کل کو کوئی ہماری بیٹی کا حق نہ مار سکے۔ اسے جب اپنے حقوق کا پتا ہوگا تو یہ انہیں منوا بھی لے گی اور اچھے طریقے سے حاصل بھی کر لے گی۔“ نانو تو پہلے ہی ان ماں بیٹی کی منطقوں کو سمجھنے سے قاصر تھیں، اب یہ نئی منطق ان کی سمجھ میں آئی تو نہیں، مگر وہ خاموش ہو گئی کہ جب ماں باپ خود بچی کو غلط راہ پر لگا رہے ہیں تو وہ کیا کر سکتیں تھی۔ بچی کو اسکے حقوق باور کروائے جا رہے تھے، مگر اسکے فرائض کیا ہونگے۔ کسی کو اسکا خیال بھی نہیں آ رہا تھا۔

       **********************

   مسرت کی زندگی میں ایک پر مسرت موقع چپکے سے وارد ہوا تھا۔ عینی کے لیئے انکے بھانجے کا رشتہ آیا تھا۔ انہیں اپنے ہائی کوالیفائڈ، فارن ریٹرن بھانجے سے محبت تو بہت تھی، مگر یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا کہ عابس انکی بیٹی کا نصیب بن جائے گا۔ جیسے ہی آپا نے انکے سامنے جھولی پھیلائی، انہوں نے رسماً بھی سوچنے کا وقت نہیں لیا، اور فورا ہاں کر دی۔ عابس کو امریکہ واپس جانا تھا، لہذا اس کا اور عینی کا نکاح کر دیا گیا تاکہ وہ اگلی بار آئے تو عینی کے کاغذات ساتھ لیتا آئے۔ ابھی وہ اس طرف سے فارغ نہیں ہوئیں تھی کہ انہیں اسجد کے لیئے ایک لڑکی پسند آ گئی۔ نوشی کہ بچپن کی سہلی کی چھوٹی بہن کی شادی تھی۔ نوشی اور عالیہ کے مراسم پرانے ہی سہی، مگر بہت اچھے تھے۔ وہ عالیہ کہ بہن کی شادی میں گئی تو زبردستی ماں کو ساتھ لے گئی، اور وہیں انہیں وہ” گوہر نایاب“ دکھائی دیا جس کی تلاش میں وہ کنوو ¿ں میں بانس تک ڈلوا چکی تھی۔ وہ لڑکی دلہن کی سہیلی تھی۔ بہت شوخ و چنچل۔ بات بات پر قہقہے لگاتی سیدھی مسرت کے دل میں اترتی چلی گئی۔ دودھیا شہابی رنگت،سفید موتیوں جیسے ہموار دانت، بوٹا سا قد اور نازک سا سراپا۔ شانوں تک آتے بالوں کی اونچی پونی کیئے ، اور بہت پیاری لگ رہی تھی۔

   ” نوشی۔!! عالیہ سے پوچھو ، یہ لڑکی کون ہے۔؟ اسکی کہیں بات وات تو طے نہیں ہوئی ابھی۔“ مسرت کا بس نہیں چل ررہا تھا کہ اس مومی گڑیا کو ابھی اٹھا اپنے ساتھ لے جائیں۔ نوشی ان کے اوتاو ¿لے پن پر حیران بھی تھی اور خوش بھی۔ لڑکی اسے بھی بہت اچھی لگی تھی۔ خوش اخلاق بھی اور ملنسار بھی۔ کیونکہ وہ سب سے ہنس ہنس کر بہت اچھی طرح بات چیت کر رہی تھی۔

   ” امی۔!! ایکبار پھر سوچ لیں اچھی طرح سے۔ ہماری لینا تو چاند کا ٹکڑا ہے ، اور وہ اسجد اماوس کی کالی رات۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حور کے پہلو میں لنگور والی بات سچی ثابت ہو جائے ۔“ نوشی نے عالیہ سے اس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا اگلوا لیا تھا،اور اسی کا نتیجہ تھا کہ شادی ختم ہونے کے ٹھیک دو دن بعد ہی وہ لوگ جابر اور رانی کے سامنے جھولی پھیلائے بیٹھے تھے۔ جابر نے یہ ذمہ داری بھی ساس سسر اور سالوں پر ڈال دی کہ وہ لڑکے اور اسکے گھر والوں کی اچھی طرح چھان بین کر یں۔ اپنے بہن بھائیوں پر نہ تو اسے بھروسہ تھا، اور نہ ہی رانی کی طرف سے اسکی اجازت۔ اسی لیئے جیسے ہی نانو اور مامووں کی طرف سے سب ٹھیک ہے کا سگنل ملا ، جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی تیاریوں شروع ہو گئیں۔ان تیاروں میں نانو اور ماموں پیش پیش تھے۔دودھیال والوں کو تو ایک گھر میں رہتے ہوئے کسی بات کی بھنک نہیں لگنے دی گئی تھی۔ لینا اور اسجد کی منگنی بھی نانو کے گھر ہوئی اور شادی تک رابطہ پل یہ نانو کا گھر ہی بنا رہا تھا۔جیسے جیسے شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے، رانی کو عجیب و غریب سے وہم ستانے لگے تھے۔ اسے اسجد شروع سے ہی پسند نہیں آیا تھا۔ وہ خوبصورت بھی تھی اور حسن پرست بھی۔ اسکی ناپسندیدگی کی وجہ اسجد اور اسکی فیملی کا دبتا ہوا گہرا سانولا رنگ تھا۔ اسجد کی بہنیں تو پھر بھی کچھ گذارا ہی تھیں، مگر مسرت بیماریوں کی وجہ سے اپنا رنگ روپ کھو چکی تھی۔ اسجد اور راشد کا رنگ بھی پکا سانولا ہی تھا، اور رانی کو یہی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔

   ” لو بھلا۔!! ایک ہی ایک داماد اور وہ بھی الٹے توے جیسا کالا۔ میری بیٹی بھلا کیسے برداشت کرے گی اس کو۔ امی کچھ تو سوچیں آپ ۔؟ “ وہ لوگ شادی کی ڈیٹ فکس کرنے آ رہے تھے اور رانی بیگم کو ہول اٹھ رہے تھے۔

    ”امی۔!! آپ ہی سمجھائیں اس پاگل کو۔ میں تو اسے سمجھا سمجھا کر عاجز آ گیا۔ آپ ہی بتائیں ، بھلا مردوں کی شکلیں کون دیکھتا ہے۔ ان کی تو جیبیں دیکھی جاتی ہیں۔ اسٹیٹس دیکھا جاتا ہے۔اور اسجد اس کیٹگری پر پورا اترتا ہے۔ باپ کی جائیداد کا اکلوتا وارث ہے۔ بہنیں بیاہی ہوئی اپنے اپنے گھر بار والی، پیچھے رہ کون گیا، ایک ساس جو بےچاری بیمار ہی رہتی ہے۔ جانے کب اس کا بلاوہ آجائے اور ایک سسر۔ خود سوچیں امی۔ ہماری لینا تو راج کرے گی راج۔اور یہ پاگل ہے کہ۔۔!! “ نانو کے کچھ بولنے سے پہلے ہی جابر کی طرف سے تفصیلی جواب آیا تو رانی بھی اتنے مالی فوائد کا سن کر خاموش ہوگئی۔ لینا اور اسجد کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔دونوں طرف اکلوتے پن کا سوال تھا، سو جی بھر کے ارمان پورے کیئے گئے۔ لیکن ان رسومات کے دوران ہی رانی بی بی کا مزاج بگڑنے لگا۔ انہیں لگ رہا تھا سمدھانے کی طرف سے انہیں وہ پروٹوکول نہیں مل رہا، جو انکا حق تھا۔ مایوں،مہندی، بارات ہر فکنشن میں اسجد لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی لیٹ ہوتے رہے، اور پھر رہتی کسر ولیمے پر نکل گئی۔ ہال شائد چھوٹا تھا، اور مہمان زیادہ۔ اسی ہڑبونگ میں اسجد کو شائد خیال نہیں رہا کہ ساس کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھ کر فوٹو سیشن بھی کروانا چاہئے اور مووی بھی بنوانی چاہئے۔ وہ دوسرے مہمانوں میں گھرا ایک بار بھی اسٹیج پر نہیں آیا اور یہیں سے رانی بیگم کا پارا ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔ اور کھانا کھائے بغیر ہی بیٹے کو ساتھ لیئے گھر واپس آ گئیں۔ ان کے اس طرح بغیر کسی سے ملے واپس چلے جانے پر سب ہی پریشان ہو گئے ۔ لینا بھی ماں کی نبض شناس تھی، فوراً سمجھ گئی کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ مگر سچوئیشن ایسی تھی کہ کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔اس نے اپنی خالہ اور ماموں سے بات کی تو وہ بھی فوراً باجی کے پیچھے بھاگے، مگر باجی اب کسی کے ہاتھ کہا ں آنے والی تھیں۔ وہ گھر آئے مہمانوں کا لحاظ کیئے بغیر نئے نویلے داماد کے بخئے ادھیڑنے بیٹھ گئیں۔

   ” رانی۔!! بس کردو اب۔ بہت بول چکی ہو تم۔ ارے اس غریب نے کیا کیا ہے، کچھ بتاو ¿گی تو ہمیں پتا چلے گا ناں۔ َ بس، ایسے ہی بولے چلی جارہی ہوبیوقوفوں کی طرح ۔“ نانو کی برداشت بھی جواب دے گئی تو وہ غصے سے بولیں تھیں، مگر انکا بولنا اسے اورآ گ لگا گیا۔

  ” آپ تو چپ ہی کر جائیں امی۔ یہ سب کیا دھرا آپکا اور آپکے بیٹوں کا ہی ہے۔ میں جب کہہ رہی تھی کہ مجھے یہ رشتہ نہیں پسند، نہیں پسند، تو پھر آپ لوگوں نے زبردستی اس کالے کلوٹے کو میرے سر کیوں منڈھا۔َ ساری دنیا میں یہ ایک ”ماجھا“ ہی رہ گیا تھا میرا داماد بننے کو۔ حد ہوتی ہے کوئی زیادتی کی بھی۔ یہاں تو میری اپنی سگی ماں نے میرے ساتھ ہاتھ کر دکھایا۔ ان بدتمیز ، جاہل پینڈوں میں میری پڑھی لکھی اکلوتی بیٹی ڈبو کر رکھ دی۔“ وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں تھی۔ اس وقت اس پر جانے کونسا جنون سوار تھا کہ اپنی ہی ماں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔ نانو بےچاری تو دانت پر دانت جمائے، بمشکل امڈ امڈ کر آنے والے آنسو پینے کی کوشش میں بے حال ہو رہی تھیں۔

   ” باجی بس۔!ً جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب اٹھیں اور بیٹی داماد کے استقبال کی تیاریاں کریں۔ !! “ بھائی کا دل تو چاہ رہا تھا کہ ایک الٹے ہاتھ کی لگا کر باجی صاحبہ کا دماغ تو ٹھکانے پر لے آئے، مگر امی نے اشارے سے کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اب رانی بیگم کا دماغ الٹ چکا ہے۔ وہ اب سیدھی بات کا بھی الٹا مطلب نکالے گی اور پھر اپنی مرضی کا الٹا ہی جواب دے گی۔ اسی لیئے وہ خود بھی خاموش تھیں اور باقی سب کو بھی چپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔ پھر سب نے جانے کن دقتوں سے باجی صاحبہ کا موڈ بحال کیا اور لینااور اسجد کے آنے سے پہلے ماحول کو قدرے بہتر بنانے کی کوشش کی، مگر بات نہیں بنی تھی۔ اسجد کو سب کچھ بناوٹی سا لگ رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر واپسی کے لیئے اٹھ گیا ، اور اس بات کا بھی رانی بیگم نے اچھا خاصا برا منایا تھا۔

        *************************

   لینا خیر سے دلہن بن کر اسجد کے گھر آنگن میں اتر آئی۔ پہلے پہل تو نئی دلہن کے خوب چاو ¿ چونچلے اٹھائے گئے، پھر آہستہ آہستہ روٹین لائف شروع ہو گئی۔ اسے اس گھر میں کوئی مسلہٰ نہیں تھا، مگر اصل مسلہٰ ہی یہ تھا کہ اسے کوئی مسلہٰ کیوں درپیش نہیں۔ َ؟ اسکا جب بھی میکے میں چکر لگتا، رانی اور جابر کرید کرید کر اس سے اسکے ساس ، سسر اور نندوں کے بارے میں پوچھتے۔ اسجد کے رویئے کے بارے میں الٹے سیدھے اندازے لگاتے اور ایسے ایسے سوال کرتے کہ اس کی سمجھ میں ہی نہ آتا کہ ماں باپ کو مطمعین کیسے کرے ۔اور جب انہیں اطمینان نہ ہوتا تو وہ بیٹی کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھانے لگتے۔ وہ بھی آخر انکی ہی بیٹی تھی، کیسے نہ انکے دکھائے راستے پر چلتی۔

   ” اپنی ماں کو سمجھالیں اسجد۔ میرے معاملے میں بولنے کی کوشش مت کیا کریں۔ میرا جو دل چاہے گا، میں وہی کرونگی۔ جہاں دل چاہے گا جاو ¿نگی اور جو دل چاہے گا پہنوں گی۔ انہیں میری کسی بات پر اعتراض ہے تو سو دفع ہوا کرے۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ سمجھے آپ ۔“ شادی کو ابھی چھ سات ماہ ہی ہوئے تھے کہ لینا کو ساس کی روک ٹوک زہر لگنے لگی ۔ حالانکہ وہ اسکے بھلے کے لیئے ہی اسے کچھ کہتی تھیں۔ وہ امید سے تھی، اور یہ انکے گھر کی پہلی خوشی تھی۔ وہ چاہتیں تھیں کہ ان کی بہو اور آنے والے بچے کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، اسی لیئے وہ اسے اپنے تجربے کی روشنی میں قیمتی مشوروں سے نوازتی رہتیں۔ مگر لینا کو تو ان سے چڑ ہو چکی تھی۔ جہاں وہ اسے کچھ کہنے کی کوشش کرتیں ، وہیں وہ انہیں ٹکڑا توڑ جواب دے کر لاجواب کر دیا کرتی۔ اور اس دن تو حد ہی ہوگئی۔ مسرت کی طبیعت صبح سے خراب تھی، وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں کہ لینا نک سک سے تیار اونچی ہیل کا جوتا پہنے انکے کمرے میں چلی آئی۔

   ” امی۔!! علی مجھے لینے آ رہا ہے۔ آج ہمیں نانو کی طرف جانا ہے۔ اسجد شام میں مجھے خود ہی پک کر لیں گے۔ آپ لوگ کھانا کھا لیجئے گا۔ہمیں دیر ہوجائے گی۔ ہمارا انتظار مت کیجئے گا۔“ اس نے کھڑے کھڑے ساس کو بتایا اور انکا جواب سنے بغیر ہی واپس مڑ گئی، مگر مسرت اسے ٹوکے بغیر نہ رہ سکیں۔

   ” لینا۔!! بیٹی، تم سو بار اپنی ماں کی طرف جاو ¿۔ مگر یہ ہیل والا جوتا اتار کر۔ اس حالت میں تمہیں اتنی لمبی ہیل نہیں پہننی چاہئے۔ بچے کے لیئے نقصان دہ ہے ۔“

   ” آپ۔۔آپ ناں، اپنے کام سے کام رکھا کریں۔ میرا بچہ ہے، میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس کے لیئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ اونہہ، خود کا خیال تو رکھ نہیں سکتیں اور چلی ہیں مجھے ہدائیتیں کرنے۔کالی کلوٹی کہیں کی ۔“ شدید غصے کے عالم میں پیر پٹختے ہوئے اس نے ایک سانس میں ساس کو ہزار باتیں سنا ڈالیں،اور جاتے جاتے اسکے رنگ روپ پر بھی گہری چوٹ کرتی گئی۔ حالانکہ یہ طعنہ اسنے ہلکی آواز میں ہی دیا تھا، مگر مسرت کے کانوں سے ہوتا ہوا انکے دل میں ترازو ہو گیا۔ لینا تو بھائی کے ساتھ میکے روانہ ہوئی اور مسرت ٹینشن کے مارے بیہوش ہی ہوگئیں۔ ملازمہ نے جو انکی یہ حالت دیکھی تو گھبرا کر فیکٹری فون کر دیا۔ راشد اور اسجد فون سنتے ہی بھاگے چلے آئے۔ مسرت کو ہاسپٹلائز کر دیا گیا۔ ملازمہ کی زبانی اسجد کو جب ساری صورتِ حال کا علم ہوا تو اسے سخت دکھ ہوا۔ لینا کو بھی ساس کے ہسپتال جانے کی خبر مل چکی تھی، مگر وہ ماں باپ کی شہہ پر الٹا اسجد سے ناراض ہو کر بیٹھ گئی کہ وہ اسکے میکے کی دعوت چھوڑ کے ماں کو ہسپتال کیوں لے گیا۔اسجد جب اسے لینے گیا تو رانی اور جابر نے اسکی الٹا کلاس لے ڈالی۔ وہ اس صورتِ حال سے پریشان ہو گیا۔ اسنے باپ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے صبر اور حوصلے سے کام لینے کا درس دیا ۔ اسجد چند دن تو سوچتا رہا پھر اس نے بہت سوچنے کے بعد لینا کی خالہ سے رابطہ کیا۔ یہ خالہ لینا کے بہت قریب تھیں۔ سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے بھی فیملی میں ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔

   ” خالہ۔!! آپ لینا کو سمجھائیں۔ وہ مجھے چاہے کچھ بھی کہہ لیا کرے، مگر میری امی کے ساتھ بدتمیزی مت کیا کرے۔ اس نے انکے رنگ پر بھی چوٹ کر دی۔ انہیں انکے منہ پر ہی کالی کلوٹی کہہ دیا۔ آپ خود بتائیں، کوئی ساس اپنی بہو کے منہ سے یہ سب برداشت کر سکتی ہے۔؟ نہیں ناں۔ مگر میری ماں نے برداشت کر لیا، خود پر سہہ لیا سب کچھ اور مجھے اپنی قسم دے دی کہ میں لینا یا اسکے امی ابو سے کوئی بات نہیں کرونگا اس بارے میں۔اب آپ اسے سمجھائیں کہ پرانی باتیں بھول جائے اور اپنے گھر واپس آجائے۔ “ اسجد رو دینے کو تھا اور خالہ کا حیرت سے برا حال کہ کریں تو کیا کریں۔ انہوں نے اس وقت تو اسے سمجھا بجھا کر واپس کیا اور اپنے خالہ ہونے کے حق کو استعمال کرتے ہوئے لینا کو سمجھانے کے لیئے اسے فون کر بیٹھیں۔ بس، رانی اور جابر کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی۔ وہ تو سوچ رہے تھے کہ اسجد خود انکے پاس آئے گا ۔ بار بار آئے گا۔ انکے پیروں میں گر کر معافی مانگے گا اور لینا کو عزت کے ساتھ واپس اپنے گھر لے جائے گا، مگر یہ سب تو الٹا پلٹا ہی ہوگیا۔ وہ تو خالہ کے پاس جاپہنچا،یعنی کہ انکے گھر کی بات پورے خاندان میں پھیل گئی۔ ان دونوں نے اسی وقت خالہ کے گھر کی راہ لی اور وہاں جا کر جو انکے دل میںآیا بولتے چلے گئے۔خالہ اور خالو حیران پریشان بس انہیں دیکھتے ہی چلے گئے۔

   ” میں تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں ۔ آئیندہ ہماری بیٹی اور داماد سے دور ہی رہنا۔ یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے، ہم خود ہی سلجھا لیں گے۔ تمہیں یا کسی اور کو پریشان ہونے کی کوئی ضروت نہیں سمجھیں تم ۔“ اچھی طرح سے دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد جب وہ واپس جانے لگے تو جاتے جاتے جابر نے مڑ کر لاڈلی سالی کو لاسٹ وارننگ دیتے ہوئے اس انداز سے کہا کہ وہ جل بھن کر راکھ ہی ہو گئی۔وہ دونوں تو واپس چلے گیئے اسے جلتے توے پر بٹھا گئے۔ وہ بھی رانی کی ہی بہن تھی، انکی بات کیسے سنتی، اس نے سب سے پہلے ماں کو فون کھڑکایا اور رو رو کر ساری بات انہیں بتائی، پھر باقی کی بہنوں اور بھائیوں کو سب بتایا، سب کی ہمدردیاں اپنی طرف کر کے ہی اسے چین آیا۔ اس سارے کھڑاگ کا ایک فائدہ ہوا کہ لینا خود ہی گھر واپس چلی آئی۔ اس کا خیال تھا کہ شائد اس سے کوئی سوال جواب، کوئی پوچھ گچھ ہو گی، مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ اسے کسی نے کچھ بھی نہیں کہا اور وہ اتنے میں ہی شیر ہو گئی۔

   ” اسجد۔!! آپ امی کو کہہ دیں ۔مجھے ہر وقت کی روک ٹوک پسند نہیں۔ میں ایسے روئیوں کی عادی نہیں ہوں، اس لیئے پلیز، انہیں کہہ دیں کہ میرے معاملات سے دور رہا کریں۔ “ اسجد نے کافی دنو ں کے بعد ہلکے پھلکے انداز میں اسے سمجھانا چاہا تھام مگر وہ تو کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھی۔ اس کی اپنی ہی منطق تھی، اور اپنے ہی کنسرن۔ اسے کسی کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی، اور اس کے اسی روئے کو دیکھتے ہوئے مسرت نے اسے کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا۔ وہ سب کچھ خاموشی سے دیکھتی رہتیں اور صبر سے برداشت کیئے جاتیں۔ لینا کی بدتمیزیاں اور خود سری بڑھتی جا رہی تھی اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے ملنے والی پہلی خوشی ہی اس سے واپس لے لی گئی۔ یہ قدرت کا فیصلہ تھا۔ اس نے ایک ماں کا دل دکھایا اور بار بار دکھایا، اس لیئے اب قدرت نے اسکے دل پر وار کیا تھا۔ اسکا مس کیرج ہو گیا۔ اسجد کا دکھ کے مارے برا حال تھا تو، مسرت یہ خبر سنتے ہی مرنے والی ہوگئیں تھی۔ پوتا ، پوتی کو کھلانے کا انکا دیرینہ خوب چکنا چور ہو چکا تھا، اور اس پر ستم یہ کہ اس حادثے کو بھی انکے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ رانی اور لینا کا کہنا تھا کہ مسرت کی روک ٹوک اور انکی بیماری کے اثرات کی وجہ سے لینا کا بچہ ضائع ہو گیا۔ اسجد نے بڑی مشکل سے حالات کو قابو کیا تھا۔ اس میں راشد اور نوشی نے اسکا بڑا ساتھ دیا تھا۔ حالات ایکبار پھر معمول پر آگئے۔ اب لینا کا پہلے سے زیادہ خیال رکھا جانے لگا۔ شہر کی سب سے بڑی گائینی اسپیشلسٹ سے اسکا علاج شروع ہوا اور پھر سب کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ مس کیرج کے پانچ ماہ بعد وہ پھر سے امید سے ہوئی۔لیکن اس بار وہ زیادہ تر اپنی ماں کی طرف ہی رہتی۔ پہلے تین ماہ تواس نے رانی کی چھتر چھایا میں ہی گذارے تھے۔ مگر ، پھر اسے واپس اپنے گھر تو جانا ہی تھا۔سو وہ اپنے گھر واپس آ ہی گئی، مگر ڈھیروں نصیحتوں اور ہدائیتوں کے ساتھ۔

        ***************************

   ” کیا ہے۔؟ مسلہٰ کیا ہے آپکے ساتھ۔؟ کیوں مجھے چین سے نہیں رہنے دیتیں آپ۔؟ جب دیکھو ، یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، یہاں نہ بیٹھو،وہاں نہ لیٹو۔ ایسے اٹھو، ویسے بیٹھو۔؟ کیا ہے یہ سب۔؟ کیا چاہتی ہیں آپ ۔؟ آج تو مجھے بتا ہی دیں۔ میں اس روز روز کی بک بک سے عاجز آ چکی ہوں۔ “ لینا کی لمحہ بہ لمحہ اونچی ہوتی آواز مسرت کو سن کرتی جا رہی تھی۔جب سے انہیں دوبارہ دادی بننے کی خوشخبری ملی تھی، انکے تو پاو ¿ں ہی زمین پر نہیں پڑتے تھے۔ انہیںلگتا تھا کہ انکی آدھی بیماری ختم ہوگئی ہو۔ راشد اور اسجد بھی بہت خوش تھے۔ لینا کا بھرپور خیال رکھا جارہا تھا۔ دو، دو جز وقتی ملازماو ¿ں کے ہوتے ہوئے بھی ایک کل وقتی ملازمہ صرف اس کے لیئے رکھی گئی تھی تاکہ اسے ہر طرح کا آرام مل سکے۔وہ اس پروٹوکول پر خوش تھی، بہت خوش۔ مگر ایک نامعلوم سا وہم بھی اسے ستاتا رہتا تھا، اور یہ وہم اسکے دل و دماغ میں ڈالنے والے جابر اور رانی ہی تھے۔

  ” کب تک پڑی رہو گی ان کالے کلوٹو ں کے بیچ۔ دن رات انہیں ہی دیکھتی رہتی ہو، دیکھ لینا، تمہار بچہ بھی ان جیسا ہی کالا ناگ پیدا ہو گا۔ اور میں کہے دے رہی ہوں۔ اگر تمہارا بچہ اپنی دادی یا باپ پر گیا، تو پھر مجھ سے کوئی امید مت رکھنا۔ میں اسے اٹھانے والی نہیں۔ بلکہ، میں تو اسے اوون ہی نہیں کرونگی۔ یاد رکھنا میری بات۔“ اس کا ساتواں مہینہ شروع ہی ہوا تھا کہ جابر اور رانی اسے لینے پہنچ گیئے۔ راشد اور مسرت نے بہت سبھاو ¿ سے انہیں منع کردیا کہ ابھی تو بڑا وقت پڑا ہے۔ جب ٹائم آئے گا دیکھی جائے گی۔ رانی کو اس بات کا بہت غصہ تھا۔ وہ بیٹی کی برین واشنگ تو پہلے بھی کرتی رہتی تھیں، مگر اب تو اس کی رفتار تیز ترین ہو گئی تھی۔ انہوں نے اپنی بہنوں کو بھی ساتھ ملا لیا،اور اب سبکی یہی کوشش تھی لینا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے فوری طور پر ماں کے پاس چلی آئے۔وہ شائد خود بھی یہی چاہتی تھی۔ مگر اسجد کی محبت اور اپنے گھر کا سکھ اسکے پیروں کی زنجیر بن جاتا۔ ماں اور ماسیوں کی باتیں علیحدہ دماغ میں ہلچل مچاتی رہتیں تو، دل چاہتا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے کہیں دور نکل جائے، جہاں مسرت کا سایہ بھی اس پر یا اسکے بچے پر نہ پڑ سکے۔

   ” دیکھ لینا۔ !! باجی بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔ تیری ساس تو ہے بیماریوں کی پوٹ۔ اور تو چاہتی ہے کہ تیرا بچہ پیدا ہوتے ہی اس بیمار عورت کی گود میں چلا جائے۔ سوچ لے، ہم تیرے یا تیرے بچے کے دشمن نہیں ہیں۔ تیرا بھلا ہی چاہتے ہیں۔ خود کو اپنے بچے کو اگر ان خطرناک بیماریوں سے بچانا چاہتی ہے تو فوراً میکے چلی آ ۔“ منجھلی خالہ کا یہ کوئی د سواں فون تھا، اور ہر بار وہ ایک ہی بات گھما پھرا کر کر رہی تھیں۔اس کا ذہن بہت الجھا ہوا تھا، اسی الجھن میں وہ کمرے سے باہر آئی اور لاونج میں پڑے صوفے پر جا بیٹھی۔ مسرت کی ان دنو ں واقعی طبیعت بہت خراب تھی۔ وہ دو دن ہسپتال رہ کر رات ہی گھر لوٹیں تھیں اور اب لاونج میں پڑے دیوان پر لیٹی آرام کر رہی تھیں۔ لینا نے اپنی سوچوں میں الجھے ہوئے انہیں دیکھا ہی نہیں ، مگر وہ اسے دیکھ رہی تھی، سو جیسے ہی وہ بے ڈھنگے انداز میں بیٹھی ، انہوں نے اسے ٹوک دیا کہ پاو ¿ں مت لٹکا کر بیٹھو۔ پیروں پر ورم آ جائے گا۔ بس، اتنی سی بات کرنے کی دیر تھی کہ لینا بارود کے ڈھیر کی طرح پھٹی اور پھر جانے انہیں کیا کیا سناتی چلی گئی۔ مسرت حیرت سے گنگ اپنی پڑھی لکھی، خوش اخلاق اور تمیزدار بہو کازہریلا روپ دیکھ رہی تھیں، ۔انہیں یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ وہی لینا رانی ہے، جسکی تعریفیں کرتے انکے لب نہیں سوکھتے تھے، اور وہ کیسے لمحوں میں انہیں بے وقعت کر کے رکھ گئی تھی۔

   ” امی۔!! آپ ابھی آئیں اور مجھے لے جائیں یہاں سے۔ میرا اب دم گھٹتا ہے یہاں۔ میں ان پابندیوں سے تنگ آ چکی ہوں۔ نہ اپنی مرضی سے کچھ کھا سکتی ہوں۔ نہ کہیں آ جا سکتی ہوں۔ آپ فوراً آئیں اور مجھے لے کر جائیں یہاں سے ۔ “ وہ ابھی ساس پر ہی چیخ چلا رہی تی کہ ہاتھ میں پکڑا موبائل بج اٹھا۔ ماں کی کال اس نے جھٹ سے رسیو کی اور بغیر سلام دعا کے شروع ہو گئی۔ماں تو شائد پہلے سے ہی منتظر تھی، فوراً باپ کے ساتھ آن پہنچیں اور مسرت کے لاکھ روکنے پر بھی بیٹی کو لے کر چلتی بنیں۔

۔   ” امی۔!! آپ نے انہیں جانے کیوں دیا۔مجھے ایک فون کر دیتیں، میں فوراً آجاتا، اور پھر دیکھتا کہ کون میری بیوی کو یہاں سے لےجاتا ہے۔ “ اسجد کو ساس سسر کی اس حرکت پر سخت تپ چڑھی تھی، مگر راشد اور مسرت نے اسے کسی نہ کسی منا ہی لیا۔

    ” ٹھیک ہے امی۔ آپ کہتیں ہیں تو میں ان سے کوئی بات نہیں کرونگا۔ مگر یہ طے ہے کہ اگر آئیندہ انہوں نے ہمارے گھر کے کسی معاملے میں دخل اندازی کی تو پھر میں خاموش نہیں رہونگا۔ “ ماں کے سمجھانے ، منتیں کرنے پر اس نے بھی اپنی اناکے سر پر پیر رکھ دیا تھا اور لینا سے ملنے جانے لگا تھااور بچہ ہونے تک اسے ماں کے پاس رہنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔ رانی اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی۔ داماد کو پیروں میں جھکا کر اسے دلی مسرت حاصل ہورہی تھی۔ وہ بیٹی کو بھی ایسے ایسے گر سکھاتی کہ وہ ایک لمحے کو تو دنگ ہی رہ جاتی ۔ مگر بیٹی تھی، ماں کی ہر بات شربت کی طرح گھول کر پی جاتی۔اللہ اللہ کر کے ڈلیوری کا وقت آیا اور لینا نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ کیس سیزرین تھا، اور کریٹکل بھی۔ حالانکہ اس نے پورے نو ماہ صرف آرام کیا تھا، یا پھر ماں اور ماسیوں کے ساتھ مل کر ساس نندوں کی برائیاں کی تھیں۔ ڈاکٹر بھی پریشان تھی کہ اچھی بھلی نارمل ڈلیوری عین ٹائم پر سزیرین کیسے ہوگئی۔ اور اس پر بچے کی حالت دیکھ دیکھ کر سب ہول اٹھے تھے۔وہ بچہ نہیں، ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔

   ” دیکھا لینا۔!! دیکھ لیا ناں تو نے۔ میں تجھے غلط نہیں کہتی تھی۔ ہائے۔ دادی کی ساری بیماریاں لگ گئی تیرے بچے کو۔ دیکھ اب اپنی آنکھوں سے ماں کی بات نہ ماننے کا نتیجہ۔ وہ ”کالی آندھی“ کھا گئی میری بچی کی خوشیوں کو۔ ارے ایسے بیمار اور کمزور بچے کی جگہ تو کوئی پتھر ہی پیدا کر لیتی، تیری ساس نندوں کے سر پھاڑنے کے کام ہی آ جاتا۔ کمبخت، نامراد ، منحوس کہیں کے۔ پیچھے ہی پڑے رہے میری بچی کے۔ “ ایسے بیمار اور کمزور بچے کی پیدائش ہی کیا کم صدمہ تھی کہ اب رانی بیگم کا واویلا بھی شروع ہو چکا تھا۔ وہ ہر بات کا الزام اسجد اور اسکے گھر والوں پر ڈال رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کہ اللہ کی رسی دراز ضرور ہے، مگر بے لگام نہیں۔ جب وہ رسی کھنچنے پر آتا ہے، ایسے ہی معجزے دکھاتاہے۔ لیکن انسان، ناسمجھ، خطا کا پتلا۔نہیں سمجھ پاتا، اور اپنی غلطیاں کبھی اللہ کے تو کبھی اسکے بندوں کے کھاتے میں ڈالنے کی ناکام کوشش کرتا چلا جاتا ہے۔مسرت ، جو اپنی شدید بیماری کو بھول کر پوتے کی خوشخبری ملتے ہی نوشی، ماہی کے ساتھ ہسپتال بھاگی آئیں تھیں، یہاں کی صورت ِ حال دیکھ کر سٹپٹا گئیں۔ انہیں زور کا چکر آیا، اگر جو بیٹیاں انہیں بروقت سنبھال نہ لیتیں تو شائد وہ بے ہوش ہو کر وہیں گر جاتیں۔

  ” لے لینا۔!! آگئی تیری ساس تجھے مبارکباد دینے۔ اسکی دلی مراد جو پوری ہوگئی۔ اپنی بیماریاں پوتے کو سونپ کر کیسے ہٹی کٹی بھاگی چلی آ رہی ہے۔ میں اس عورت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔ میں باہر جا رہی ہوں، ایسے ہی میرے منہ سے کچھ الٹا سیدھا نکل گیا تو سارا الزام مجھ غریب پر ہی آ جائے گا۔ “ مسرت کو دیکھتے ہی رانی کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی، اور اس نے بنا سوچے سمجھے یہ آگ اگل بھی دی، اور آخر میں خود کو معصوم ظاہر کرتی روتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

   ” لینا۔!! میری بچی۔ میں نے کبھی بھی ایسا نہیں چاہا تھا۔ تمہاری امی کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ بھلا کوئی دادی بھی اپنے پوتے کو بددعا دے سکتی ہے۔؟ نہیں بیٹی۔ میں تو تم لوگوں کی صحت سلامتی کے لیئے ہمیشہ دعا ہی کرتی ہوں۔لیکن۔۔۔!! “

 ۔   ” لیکن آپکی دعائیں بھی مجھے بدعا بن کر لگ گئیں۔ اب تو آپ خوش ہیں ناں۔ جائیں اپنے پوتے کو اٹھائیں، اسے چومیں ، اسے کھلائیں کیونکہ وہ آپ کے جیسا ہی ہے۔اس پر حق بھی صرف آپکا ہی ہے۔“ لینا کو شدید ڈپریشن کا دورہ پڑا تھا۔ کچھ تو بچے کی حالت اور کچھ ماں کا واویلا۔وہ سارے ادب لحاظ، حتیٰ کہ اپنی حالت کو بھی فراموش کر بیٹھی اور مسرت پر چڑھ دوڑی۔ نوشی اور ماہی روتے ہوئے ماں کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگیں اور لینا زور زور سے روتے چلاتے ہوئے خود بھی بےہوش ہو گئی۔

        **************************

    مسرت کا انتقال ہو گیا۔ وہ اپنے پوتے کو ہنستا کھیلتا دیکھنے کی چاہ دل میں ہی لیئے اس جہاں کو ہمیشہ کے لیئے چھوڑ گئیں۔جس ”چاند چہرہ اور ستارہ آنکھوں “والی بہو کی چاہ میں وہ ساری عمر ترستی رہیں، اسی چاند چہرے نے اپنے لفظوں کے بھالے مار مار کر انکا جگر ایسا چھلنی کیا کہ وہ خون تھوکتی ہوئی مرگئیں۔ اسجد کے لیئے یہ دہرا صدمہ تھا۔ اس کی ماں بھی چلی گئی اور مان بھی۔ وہ لینا سے ناراض ہونا چاہتا تھا۔ اسے اسی طرح برا بھلا کہنا چاہتا تھا، جس طرح اسنے اور اسکی ماں نے مسرت کو برا بھلا کہا تھا۔ مگر وہ ایسا نہیں کر پایا۔ کیونکہ اس کی نہ تو یہ فطرت تھی، اور نہ ہی اسکے والدین کی تربیت۔ اس پر اسکے بیٹے کی بھی وفات ہو گئی۔ ایسے بچے کم ہی بچتے ہیں، اور اگر بچ بھی جائیں تو وہ کبھی بھی نارمل زندگی نہیں گذار پاتے۔ اسجد نے اس دہرے دکھ کو سینے میں اتار لیا۔ اس نے نہ تو لیناکو کچھ کہا، اور نہ ہی رانی کو۔ اور اسکی یہی چپ اس کی بہنوں کو مار گئی۔

   کہتے ہیں کہنے والا کہہ کر اور سہنے والا سہہ کر جب خاموش ہوجائے تو معاملہ اللہ کی عدالت میں چلا جاتا ہے۔ اور جب کوئی معاملہ اللہ کی عدالت میں چلا جائے تو پھر فیصلہ اللہ کا ہی ہوتا ہے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔مسرت بڑے ارمانوں سے چاند چہرہ ، ستارہ آنکھوں والی بہو گھر لائی تھیں، مگر اس چاند چہرے کے پیچھے دل کیسا ہے۔ یہ وہ جان ہی نہ پائیں، اور دلوں کے بھید بھی کبھی کوئی جان پایا ہے۔ دلوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔یا وہ جو اس دل کے مالک ہوتے ہیں۔ ماں کے مرتے ہی بیٹیوں کے لیئے انکا میکہ بھی پرایا ہوا اور بھائی بھی۔ اس کا کچھ کچھ اندازہ تو انہیں ماں کی زندگی میں ہی ہو چلا تھا، مگر اصل صورتِ حال اسوقت سامنے آئی جب مسرت کی وفات کے چند ماہ بعد ہی ماہی کو اپنی بال بچوں سمیت کچھ عرصے کے لیئے میکے آنا پڑا۔ اسکی سسرالی گھر کا بٹوارہ ہو گیا تھا، اور زعیم ان دنوں کئی طرح کی مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ اسجد سے بہن کی حالت دیکھی نہیں گئی تو وہ اسے اپنے ساتھ ہی لے آیا، اور لینا نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ وہ اب اس گھر کی بلا شرکت غیر مالک تھی۔ ماہی کی آمد نے اسکے مالکانہ حقوق کو سخت ٹھیس پہنچائی تھی۔اور اس کی روز روز کی چخ چخ نے ماہی سمیت باقی دونوں بہنوں کو بھی الرٹ کر دیا۔ زعیم بھی اس صورتِ حال پر بہت پریشان تھا۔ وہ تو مورل اسپورٹ کے لیئے اسجد کے بصد اصرار پر اسکے ساتھ چلا آیا تھا، مگر اب لینا کا رویہ دیکھ دیکھ کر پچھتانے لگاتھا۔

   ” ماہی۔!! بھابھی کے ہاتھوں یہ دن رات کی ذلت برداشت کرنے کی بجائے اچھا تھا کہ ہم کوئی چھوٹا موٹا کرائے کا گھر ہی دیکھ لیتے۔ کم از کم اس روز روز کی ذلالت سے تو بچ جاتے۔ بچوں کے ذہنوں پر الگ برے اثرات پڑ رہے ہیں، اور ہماری وجہ سے اسجد کی زندگی بھی اجیرن ہو رہی ہے۔ میں تو کہتا ہوں، ابھی بھی وقت ہے۔ چلو۔ چلتے ہیں یہاں سے۔ اسی میں ہماری عزت ہے۔“ زعیم نے تھک ہار کر ایک فیصلہ کر ہی لیا تو ماہی کو بھی اس سے آگاہ کردیا۔ وہ کیا کہتی، بھائی پر جو مان تھا، وہ تو پہلے ہی متزلزل ہو چکا تھا، اب شوہر سے بحث کر کے اپنی اور اسکی رہی سہی عزت کیوں گنواتی،سو چپ چاپ اٹھ کر اپنا سامان سمیٹنے لگی۔

   ” ماہی، زعیم۔!! یہ تین لاکھ ہیں، تم آج ہی یہ اپنے بھائی کو دے دو اور اس سے اپنا گھر واپس لے لو۔ میں اب اپنی بہن اور اسکے بچوں کو مزید پریشان اور رلتا نہیں دیکھ سکتا۔ “ اسجد نے ان دونوں کی باتیں سن لی تھیں۔ وہ اسی وقت پیسے لے کر انکے پاس چلا آیا۔

  ” بھائی۔!! ہم یہ پیسے نہیں لے سکتے۔ بھابھی کو بہت برا لگے گا۔ آپ یہ پیسے انہیں دے دیں۔ آپ پر اور آپکی ہر چیزپر اب صرف بھابھی کا حق ہے۔ کسی اور کا نہیں۔ ہمارا بھی نہیں۔“ ماہی کو جانے کیا ہوا کہ بے اختیار رونے لگی۔ زعیم بھی سر جھکائے بیٹھا رہا۔ اسجد کو خود پر غصہ بھی آرہا تھا، اور بہن بہنوئی کے سامنے شرمندگی بھی ہو رہی تھی، مگر کیا کرتا۔ وہ کچھ تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا، اور کچھ ماں سے کیے گیئے وعدے کا پابند کہ اسکی چاند چہرہ بہو کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دے گا۔وہ اپنا وعدہ پوری ایمانداری سے نبھا رہا تھا، مگر اس کا کیا علاج کہ لینا اور رانی نے اسے اسکی کمزاری ہی سمجھ لیا تھا۔

  ماہی واپس اپنے گھر چلی گئی۔ نوشی اور عینی نے بھی میکے آنا بہت کم کردیا تھا۔ راشد اور اسجد کا جب دل چاہتا خود ان سے ملنے چلے جاتے، مگر لینا رانی کو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا۔کیونکہ اسے نہ تو نندوں کا اپنے گھر آنا پسند تھا، اور نہ ہی خود انکی طرف جانا۔ وہ اب پوری کی پوری ماں کے نقشِ قدم پر چل رہی تھی۔ جیسا سلوک رانی نے ساری عمر اپنی نندوں اور بھابھیوں کے ساتھ روا رکھا، وہی سلوک اب لینا اپنی نندوں اور بھابھی کے ساتھ کر رہی تھی۔یہ دنیا کا عجیب ہی دستور ہے۔ کہیں ساسیں اور نندیں، بہووں اور بھابھیوں کا ناطقہ بند کیئے رکھتی ہیں تو کہیں لینا اور رانی جیسی بھابھیاں اور بہوو ¿یں اپنی نندوں اور ساسوں کو تل تل مارتی، ان کے جگر چھلنی کر کے رکھ دیتی ہیں۔ سچ ہی کہتے ہیں عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔اور لینا اور رانی جیسی عورتیں تو خود اپنے ساتھ بھی دشمنی کر جاتی ہیں۔ اس چار روزہ زندگی کے معمولی سے فائدوں کے لیئے اپنی آخرت بھی خراب کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی غلط تربیت کر کے انکی دین و دنیا بھی تباہ کر ڈالتی ہیں۔

    *****************************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے