سر ورق / کہانی / مائی کا ڈرامہ ۔۔ سید بدر سعید

مائی کا ڈرامہ ۔۔ سید بدر سعید

خون کے دھبّے

                                کبھی کبھی ہماری زندگی میں ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جن کے بارے میں اگر کوئی اور نہ بتائے تو خود ہمیں بھی یقین نہ آئے۔ مافوق الفطرت واقعات بھی اسی دنیا میں ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہر شخص کو ان سے واسطہ نہیں پڑتا اس لئے تب تک یقین نہیں آتا جب تک ذاتی تجربہ نہ ہو جائے۔

                                ان دنوں میں ڈگری لے کر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوا تھا۔ یونیورسٹی چھوڑی تو وہ ہاسٹل بھی چھوڑنا پڑا جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں ہم پانچ دوست رہتے تھے۔ سونے پہ سہاگہ اکثر کوئی نہ کوئی مہمان بھی آیا ہوتا جس کے لئے جگہ بنانے کے لئے ہم سب کو اپنے اپنے بستر ساتھ جوڑنے پڑتے۔ صبح جس کی کلاس سب سے پہلے ہوتی وہ دوسروں کو پھلانگتا ہوا دروازے تک پہنچتا اور پھر یونیورسٹی کی کینٹین سے ناشتہ کرنے چلا جاتا۔ یونیورسٹی کے زمانے میں تو بے فکری کا عالم تھا لیکن ڈگری ملنے کے بعد خیال آیا کہ اب سر چھپانے کےلئے کہاں جائیں گے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہاسٹل خالی کرنے کا تیسرا نوٹس جاری کر دیا تو ہم کوئی سستا سا فلیٹ تلاش کرنے لگے۔ ہم پانچوں دوستوں میں سے کسی کا بھی گاﺅں لوٹ جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ سبھی شہر میں قسمت آزمانا چاہتے تھے۔ شہر میں رہنے کے لئے سر چھپانے کا ٹھکانہ ضروری تھا۔ اس وقت ہم سب کی مالی حالت پتلی ہی تھی کیونکہ سبھی بے روزگار تھے اور گھر سے آنے والی لگے بندھے خرچے پر” عیش“ کر رہے تھے۔بدقسمتی سے شہر میں فلیٹ کے کرایے اتنے بھی کم نہ تھے کہ ہم بخوشی ادا کر سکتے۔

                                 جب ہوسٹل میں وارڈنز سے جھگڑے تک کی نوبت آ گئی تو ہم نے اپنی تلاش میں مختلف پراپرٹی ڈیلرز کو بھی شامل کرلیا۔ اکثر پراپرٹی ڈیلر تو ہماری رینج دیکھ کر ہی مسکرانے لگتے تھے۔ بعض نے صاف انکار کر دیا کہ اس شہر میں اتنے کم پیسوں میں کوئی فلیٹ نہیں مل سکتا۔ ہماری اپنی مالی مجبوریاں تھیں اس لئے ہم درمیانے درجے کے عام فلیٹ کا کرایہ بھی نہیں دے سکتے تھے۔ تلاش بسیار کے بعد جب ہم مایوس ہونے ہی والے تھے کہ ایک دن ایک دوست نے ہماری مرضی کے کرایہ میں مکان دلوانے کا کہہ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس مکان میں کچھ ایسا ہے کہ یہاں آنے والے زیادہ دیر نہیں رہتے اس لئے مالک مکان کم کرایہ لینے پر بھی رضا مند ہے تاکہ اس کی ساکھ بحال کی جا سکے۔ ہمارے لئے اتنے کم کرایہ میں پانچ مرلہ کا پورا گھرکسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اس لئے فوراً ہی معاملہ طے پاگیا اور ہم اس گھر مےں منتقل ہوگئے۔ ہمارے اس گروپ میں میرے علاوہ احمد کمال، شہزاد جٹ اوراشرف علی شامل تھے جبکہ عرفان نے ہمارے ساتھ رہ کر شہر کی خاک چھاننے کی بجائے واپس گاﺅں چلے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ہاسٹل کے ایک کمرے سے پانچ مرلے کے نئے گھر میں منتقل ہونے کے بعد یوں لگتا تھا کہ جیسے ہم کسی عالی شان محل میں آگئے ہیں۔ زیادہ تر گھر خالی ہی تھا کیونکہ ہمارے پاس جتنا بھی سامان تھا وہ ایک کمرے میں ہی سما سکتا تھا اور مزید سامان خرید کر گھر بھرنے کی نہ ہمیں ضرورت تھی اور نہ ہی جیب اس کی اجازت دیتی تھی۔ ہمیں صرف باورچی خانے کے لئے کچھ اضافی برتن خریدنے پڑے۔

                                نئے گھر منتقل ہونے کے بعد ہم سب نوکریوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ میں اخبارات کے دفاتر کے چکر کاٹنے لگاجبکہ باقی سب بھی میری طرح مختلف اداروں میں دھکّے کھانے لگے۔ ہم ہر اتوار کے اخبار میں سے نوکریوں کے مختلف اشتہارات پر دائرے لگاتے اور پھر پورا ہفتہ وہاں ملازمت حاصل کرنے کے لئے کوششیں کیا کرتے تھے۔ اس دوران کچھ پیسے گھر سے آ جاتے تھے اور کچھ ہم چند بچوں کو پڑھا کر کما لیتے ۔ اس کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علموں کے لئے پریکٹیکلز کی کاپیاں اور اسائنمنٹ بنا کر بھی تھوڑے بہت پیسے مل جاتے تھے۔ یہ زندگی کا سخت دور تھا لیکن دوستوں کے ساتھ اور کچھ کر گزرنے کا جنون ان سختیوں کے احساس کو کم کر دیتا تھا۔ ایک اتوار میں حسب معمول اخبار سامنے رکھے مختلف اشتہارات پر دائرے لگا رہا تھا تاکہ بعد میں نوٹ کر سکوںکہ اچانک کسی کام سے اُٹھنا پڑا۔ میں اخبار یونہی چھوڑ کر چلاگیا۔ کچھ دیر بعد واپس آیا تو مجھے شدید جھٹکا لگا۔ میں نے ایک اخبار کی جانب سے شائع کردہ اشتہار پر دائرہ لگایا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ وہاں قسمت آزمائی کروں گا۔ اب اسی اشتہار پر خون کے دھبّے تھے۔ جس پوسٹ کے لئے انہیں ملازم چاہیے تھے وہ پوسٹ بھی خون کے دھبّے کی وجہ سے مکمل چھپ چکی تھی۔ اس دن ہم سب نے مل کر گوشت پکانا تھا۔ اس لئے میرے ذہن میں آیا کہ شاید میرے جانے کے بعد کوئی آیا ہو اور اس کے ہاتھ میں گوشت ہو جس سے اخبار پر بھی خون لگ گیا ہو۔ میں نے خوف کو ذہن سے جھٹکا اور دوبارہ اخبار پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد شہزاد کمرے میں آیا اور کہنے لگا۔

”شاہ گوشت لینے کون جائےگا؟“ اس کی بات سن کر میں چونک گیا۔

”کیا مطلب؟ گوشت آ نہیں گیا؟“

”کوئی جائے گا تو آئے گا نا؟“ میری بات سُن کر وہ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔

                میں نے اخبار کا صفحہ اُلٹ کر دیکھا وہاں ابھی بھی خون کے دھبے موجود تھے۔ شاید کسی نے مجھ سے مذاق کیا ہو۔ میں نے اپنے آپ کو تسلی دی اور دوبارہ اخبار پر جھک گیا۔ بہرحال میں نے ملازمت کے لئے درخواست بھیج دی۔ کچھ دن بعد مجھے بلا لیا گیا۔ مختصر سے ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد مجھے ملازمت مل گئی۔ اخبار کا ماحول ٹھیک تھا پہلی ملازمت ہونے کی وجہ سے میں بھی خوب محنت کر رہا تھا۔ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کا احساس اُڑائے پھرتا تھا ۔چند ہی روز میں باقی سب کو بھی کہیں نہ کہیں ملازمت مل گئی۔ ہم سب صبح اپنے اپنے دفتر روانہ ہو جاتے اور شام کو لگ بھگ ایک ساتھ ہی گھر لوٹتے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا لیکن اخبار پر خون کے وہ دھبّے میرے ذہن سے محو نہ ہو سکے۔ کبھی کبھی خیال آتا کہ آخر خون کے وہ دھبّے کہاں سے آئے تھے اور پھر کیا یہ بھی محض اتفاق تھا کہ جس ادارے میں مجھے ملازمت ملنی تھی اسی کے اشتہار پر وہ منحوس دھبّے لگنے تھے۔ تیسرا اتفاق یہ تھا کہ اخبار میں مجھے کرائم رپورٹر کے اسسٹنٹ کے طورپر رکھا گیا تھا۔ اسے جونیئر کرائم رپورٹر بھی کہا جاتا تھا۔ سینئر کرائم رپورٹر ہماری راہنمائی کرتا اور ہم دو جونیئر کرائم رپورٹر اس کی دی ہوئی لائن پر کام کرتے تھے۔ اس ملازمت میں روز مُردہ خانہ جا کر لاشوں کی معلومات لینی ہوتی تھی یعنی روز خون کے دھبّے دیکھنے پڑتے تھے۔

                                اخبار میں دئیے گئے اشتہار میں صرف رپورٹنگ کے لئے امیدواروں سے درخواستےں مانگی گئی تھیں۔ وہاں یہ کہیں نہیں لکھا گیا تھا کہ انہیں کرائم رپورٹنگ کے لئے رپورٹر بھرتی کرنے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ اخبار کے اشتہار پر نظر آنے والے خون کے دھبّوں سے لے کر کرائم رپورٹنگ کے لئے منتخب ہونے تک کئی بھید چھپے ہوئے ہیں۔ میںیہ معمہ حل کرنے کی جتنی کوشش کرتا اتنا ہی اُلجھتا چلا جاتا تھا۔ کبھی خیال آتا کہ خون کے وہ دھبّے اس بات کی علامت تھے کہ مجھے یہ ملازمت مل جائے گی لیکن مجھے روز خون اور لاشیں دیکھنی پڑیں گی تو کبھی خیال آتا کہ ان دھبّوں کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ یہاں ملازمت کے دوران میرے ہاتھوں کسی کا خون ہوگا یا پھر میرا خون بہے گا۔ ایسے ہی نامکمل اور الجھے ہوئے خیالات بعض اوقات خوفزدہ کر دیتے تھے لیکن حالات ایسے تھے کہ میں یہ نوکری چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ ہم سب کو جو نوکریاں ملیں ان کی تنخواہ اتنی ہی تھی کہ بمشکل گزارہ ہو سکتا تھا۔ اس لئے بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ یہ بچے چونکہ اردگرد کے گھروں سے آتے تھے اس لئے ا نہیں وقت تبدیل کرنے سے خاص فرق نہ پڑا۔

                                مجھے پہلی تنخواہ قدرے تاخیر سے ملی۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اکثر اخبارات کی روایت ہے اور نچلے درجے کے اخبارات میں تو بعض اوقات چھ چھ ماہ تک تنخواہ نہیں مل پاتی۔ پہلی تنخواہ کا نشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس تنخواہ کا بھی مجھ پر ایسا ہی نشہ طاری ہوا۔ میں نے راستے سے مٹھائی اور سموسے خریدے تاکہ آج ہم سب میری پہلی تنخواہ کا جشن منا سکیں۔ گھر کے پاس پہنچا تو راستے میں ہی احمد، شہزاد اور اشرف بھی مل گئے۔ تنخواہ ملنے کا سُن کر وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ ہمارا حساب کتاب سانجھا تھا اس لئے بعض ضروری اقدامات کے بعد بچنے والے پیسے ہم سب کے ہی تھے۔ ایسا ہی ان کے گھر سے آنے والے منی آرڈر یا تنخواہ کے پیسوں کے ساتھ بھی ہوتا تھا کہ جس کو ضرورت پڑی اس نے کام چلالیا۔ باقی لین دین آنے والے وقتوں پر ڈال دیا جاتا جو کہ کبھی نہیں آتا تھا۔

                                ہم چاروں گھر پہنچے اور یونہی قہقہے لگاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ کمرے کے اندر کا منظر دیکھ کر ہم سب کے قہقہے تھم گئے۔ ہم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اندر کا منظر دیکھ رہے تھے۔ تمام چیزیں بکھری ہوئی تھیں اور کمرے کے عےن درمےان ہم سے پڑھنے کے لئے آنے والے ایک بچے کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ اس کے گرد خون کا دائرہ سا بن چکا تھا۔ اس انہونی صورت حال نے ہم سب کو بوکھلا دیا۔ قصّہ مختصر پہلے محلّے داروں اور پھر پولیس کو بلایا گیا۔ ہمارے کردار کی گواہی دینے کےلئے محلّے دار موجود تھے لیکن اس سے بھی انکار ممکن نہیں تھا کہ لاش ہمارے گھر میں ہی تھی اور وہ بچّہ ہم سے پڑھنے آتا تھا۔ اس کے والدین پر غشی طاری تھی اور ہم اس کے قتل کے الزام میں گرفتار ہو چکے تھے۔

                                 ہمارے یہاں کے روایتی نظام کی وجہ سے ضابطے کی کارروائی چلتی رہی۔ لگ بھگ 7 ماہ بعد یہ ثابت ہوگیا کہ قتل کے وقت ہم سب ہی گھر میں نہیں تھے ہماری اپنے اپنے دفاتر میں موجودگی ثابت ہو چکی تھی۔ اسی طرح فرانزک رپورٹس بھی آ چکی تھیں۔ ناکافی شواہد کی بنا پر ہماری ضمانت ہوئی اور پھر کچھ عرصہ بعد ہمیں اس کیس سے بری کر دیاگیا۔ رہائی ملنے کے فوراً بعد ہم نے وہ گھر تبدیل کر لیا۔ شہزاد اور اشرف اس حادثے سے اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ عرفان کی طرح گاﺅں لوٹ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ میں اور احمد البتہ اسی شہر میں رہے کہ ہمیں اور کہیں مستقبل نظر نہ آ رہا تھا۔ ہم نے جو کرنا تھا اسی شہر میں رہ کر کرنا تھا۔ اس مقدمے کی کارروائی کے مطابق کوئی درندہ صفت شخص بچے کو ہمارے گھر لے گیا اور اپنی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ وہاں کسی قدر مزاحمت بھی ہوئی اور پھر اس نے بچے کو قتل کر دیا۔ یہ سیدھا سادا ایک گھناﺅنا جرم تھا جس کا ملزم گرفتار نہ ہو سکا لیکن آج بھی میرے ذہن سے اخبار کے اشتہار پر پڑنے والے وہ منحوس خون کے دھبّے نہیں نکل سکے۔ خون کے دھبّوں والے اشتہار سے شروع ہونے والے اس سلسلے کی آخری کڑی یہ تھی کہ بچّے کا قتل بھی ٹھیک اس دن ہوا جب مجھے اس ملازمت کی پہلی تنخواہ ملی۔ اس کے بعد وہ ملازمت بھی چھوٹ گئی اور مکان بھی۔

مائی کا ڈرامہ

                                اس 70سالہ بوڑھی خاتون کو جب میں نے آخری بار دیکھا تو اس کا چہرہ تیزاب سے جل چکا تھا۔ کرائم رپورٹنگ کے دوران انتہائی بھیانک لاشیں دیکھنا تو معمول کی بات ہے کہ ہسپتالوں کے مُردہ خانے ان سے بھرے رہتے ہیں۔ اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب آپ ان افراد سے ملیں جو زندہ ہوتے ہوئے بھی کسی لاش سے کم نہ ہوں۔ کرائم رپورٹنگ کے دوران میں ایسے کئی افراد سے مل چکا ہوں جنہیں ان کے مخالفین نے عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایسے ہی ایک شخص کو اس کے مخالفین نے اغوا کرنے کے بعد انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کا دائیاں ہاتھ اور بائیاں پا ¶ں کاٹ دیا گیا تھا جبکہ ایک کان بھی جڑ سے اکھیڑ دیا گیا تھا۔ یہ سب اس کو ہوش و حواس میں رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ وہ شخص کبھی گا ¶ں میں اکڑ کے چلتا تھا لیکن اب قابل رحم حالت میں ہے۔ ایسے ہی کئی واقعات مجھے آج بھی سیاق و سباق سمیت یاد ہیں لیکن مجھے اعتراف ہے کہ 70سالہ مختارہ مائی کو دیکھ کر میں لرز اُٹھا تھا۔ اس کے بال کاٹ دیئے گئے تھے اور چہرہ تیزاب سے جلا ہوا تھا۔

                                مختارہ مائی کا تعلق پنجاب کے نواحی علاقے سے تھا۔ کہانی تب شروع ہوئی جب اس کے بیٹے کو گا ¶ں کی ایک لڑکی سے عشق ہو گیا۔ اس عشق کی داستان مجھے معلوم نہیں لیکن جتنی معلومات مل سکیں ان کے مطابق لڑکا تعلیم حاصل کر رہا تھا جبکہ لڑکی پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد گھر بیٹھ چکی تھی۔ گا ¶ں میں ایک دوسرے سے ملنا جتنا آسان تھا چھپ چھپ کر ملنا اتنا ہی مشکل تھا۔ اس کے باوجود یہ عشق دھیمی آنچ پر پکتا رہا۔ مختارہ مائی کا بیٹا میٹرک کے بعد لاہور آ گیا اور اس نے کچہری کے قریب ہی موجود ایک کالج میں داخلہ لے لیا۔ یہاں اس کی کچھ وکیلوں سے دوستی ہو گئی جبکہ دوسری طرف وہ ایک طلبا تنظیم سے بھی منسلک ہو گیا۔ وہ طلبا تنظیم کی کارروائیوں میں بھرپور شرکت کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ اس تنظیم کے مرکزی عہدے داروں کی نظر میں بھی آ گیا۔ اسے چند ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ ایک طرف وہ شہر میں ہنگامہ خیز زندگی گزار رہا تھا تو دوسری طرف گا ¶ں میں موجود اپنے محبوب سے بھی رابطے میں تھا۔ اس خفیہ محبت اور رابطوں کا علم مختارہ مائی کے بیٹے اور اس کے چند شہری دوستوں کے سوا کسی کو نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ بات گا ¶ں میں پھیل نہ سکی۔

                                مختارہ مائی کے بیٹے کو اس کے وکیل دوستوں نے مشورہ دیا کہ اگر وہ اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے شہر لے آئے۔ یہاں ان کی کورٹ میرج کروا دی جائے گی کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کر سکا تو پھر اس لڑکی کے والدین اس کی شادی کہیں اور کر دیں گے۔ ان دنوں لڑکی کے ایک دو رشتے آئے ہوئے تھے اور لگ رہا تھا کہ اس کے گھر والے اپنے قریبی عزیزوں میں سے کسی کے گھر شادی کے لئے ہاں کر دیں گے۔ لڑکا اور لڑکی دونوں اس صورت حال پر خاصے پریشان تھے۔ مختارہ مائی کے بیٹے نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا۔ وکیل دوستوں نے تو اسے قانونی پٹی پڑھائی اور کورٹ میرج کا کہا ہی جبکہ دوسری طرف طلبا تنظیم کے دوستوں نے بھی کھل کر اس کی حوصلہ افزائی کی اور شادی کی صورت میں تحفظ دینے کی ضمانت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گا ¶ں میں لڑکی کے گھر والے چاہے جتنے بھی بااثر ہوںلیکن شہر میں ان کی تنظیم کی ہی حکومت چلتی ہے۔ یہاں کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

                                کچّی عمر کا عشق، جنون، طلبا تنظیم کی سپورٹ، اسلحہ اور وکیلوں کی دوستی نے لڑکے کا دماغ خراب کر دیا۔ وہ دیکھ چکا تھا کہ اس کے دوستوں کے پاس بھی اسلحہ ہے اور وہ جب چاہیں سڑکوں پر ہنگامہ کر کے حکومت تک کو مجبور کر سکتے ہیں۔ وہ خود بھی چند دوستوں کے ساتھ ایڈونچر کے طور پر اسلحہ دکھا کر لوگوں کو لوٹ چکا تھا۔ خیالی دنیا میں ہی سہی لیکن وہ لاہور کا بے تاج بادشاہ تھا۔ اس نے پورا منصوبہ تیار کیا۔ لاہور میں ایک فلیٹ کرایہ پر لیا اور لڑکی کو بھگا کر شہر لے آیا۔ یہاں آتے ہی انہوں نے کورٹ میرج کی اور فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔ اس نے لڑکی کا موبائل نمبر تبدیل کروا دیا اور خود بھی نئی سم خرید لی۔ بظاہر وہ کامیاب ہو چکا تھا اور کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ قانونی طور پر لڑکی اس کی بیوی تھی۔ انہیں وکیلوں اور طلبا تنظیم کے ساتھیوں کی پشت پناہی بھی حاصل تھی یعنی دیگر الفاظ میں وہ قانون اور بدمعاشی دونوں طرف سے میدان مار چکا تھا۔ اس خوشی میں وہ یہ بھول گیا کہ آتے ہوئے وہ اپنے پیچھے گا ¶ں میں ایک بوڑھی ماں اور جوان بہن چھوڑ آیا تھا۔

                                لڑکی والوں کو اگلے دن صبح معلوم ہوا کہ لڑکی گھر سے غائب ہو چکی ہے۔ جب کڑیاں ملائی گئیں تو یہ بات کھل گئی کہ ایک دن قبل مختارہ مائی کا بیٹا گا ¶ں آیا تھا اور اگلی صبح لڑکی کے ساتھ ساتھ وہ بھی گا ¶ں میں موجود نہیں ہے۔ لڑکی کی قریبی سہیلیوں پر سختی کی گئی تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس لڑکی اور مختارہ مائی کے بیٹے کے درمیان کوئی تعلق موجود تھا۔ گا ¶ں کے بااثر خاندان کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔ انہوں نے مختارہ مائی کے گھر چڑھائی کر دی۔ مختارہ مائی کو اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ وہ اپنے بڑے بیٹے، بہو اور چھوٹی بیٹی کے ہمراہ گھر میں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر اسے کچھ معلوم ہوتا تو وہ اپنے بیٹے کو منع کرتی یا کم از کم اس کے ساتھ ہی گا ¶ں چھوڑ کر چلی جاتی۔ وہ یہ بھی کہتی رہی کہ گا ¶ں میں اس کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اس کارروائی کا علم نہیں تھا۔ بااثر خاندان اس وقت کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ انہوں نے اپنا ”مجرم“ پیش نہ کرنے کی پاداش میں مختارہ مائی سمیت سب کو خوب پھینٹی لگائی۔ مختارہ مائی کے بڑے بیٹے کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ باقی سب کو بھی تھپڑ اور گھونسے مارے گئے۔ لڑکی والوں نے انہیں 24گھنٹے میں لڑکی اور ”مجرم“ حاضر کرنے کا حکم دیا۔ اس دوران وہ بھی پاگلوں کی طرح لڑکے کو تلاش کرتے رہے لیکن لڑکا کہیں نہ ملا۔ کالج وہ ویسے ہی طلبا تنظیم میں اُٹھنے بیٹھنے کے لئے آتا تھا اور کلاسز میں جانا چھوڑ چکا تھا۔ اب نئی نئی شادی اور فتح کا خمار لئے اپنے فلیٹ تک محدود تھا۔

                                اگلے روز لڑکی کے گھر والے پوری برادری کے ساتھ مختارہ مائی کے گھر آئے اور ان سب پر تشدد شروع کر دیا۔ اس کے بڑے بیٹے کی ٹنڈ کر دی اور مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ دوسری طرف مختارہ مائی کی بہو اور بیٹی کے ساتھ بھی درندگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہاں تک کہ 70سالہ مختارہ مائی بھی اس درندگی سے محفوظ نہ رہ سکی۔ وہ چلّا چلّا کر دہائی دیتی رہی لیکن وہاں اس کی اور اس کی بہو، بیٹی کی عزت کا کوئی رکھوالا نہ تھا۔ اس کا بیٹا مار کھا کھا کر نیم بے ہوش ہو چکا تھا اور چند افراد اسے گا ¶ں کی گلیوں میں گھسیٹ رہے تھے۔ اس کا دوسرا بیٹا اس وقت لاہور کے کسی خفیہ فلیٹ میں اپنی دلہن کے ساتھ فتح کا جشن منا رہا تھا۔ مختارہ مائی کے گھر پر دھاوا بولنے والوں نے اجتماعی درندگی کے بعد اسے اور اس کی بہو بیٹی کو بھی گا ¶ں کی گلیوں میں گھسیٹنا شروع کر دیا۔ ان کی عزت کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی تار تار ہو چکے تھے۔ کئی گھنٹوں تک گا ¶ں کی گلیوں میں یہ وحشیانہ کھیل کھیلا جاتا رہا اور پورا گا ¶ں تماشا دیکھتا رہا۔

                                مختارہ مائی اپنے زخمی بیٹے کے ساتھ لاہور آئی اور اس نے میڈیا سے مدد کی درخواست کی۔ لاہور پریس کلب کے باہر ہم نے اس کی کہانی سُنی اور اپنے اپنے اخبارات میں یہ خبر چھاپ دی۔ اس خبر کا بھی وہی حال ہوا جو عموماً صفحہ دوپر شائع ہونے والی خبروں کا ہوتا ہے۔ میں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ اس بوڑھی خاتون کو انصاف دلانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ہم نے اس کے علاقے کے اخباری نمائندوں سے رابطہ کیا اور کچھ سیاست دانوں کو بھی اس سانحے کا بتایا۔ ان سیاست دانوں کا تعلق اسی کے علاقے سے تھا اور صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی ان کا خاصا عمل دخل تھا۔ میرا موقف یہ تھا کہ اگر کوئی جرم ہوا ہے تو وہ مختارہ مائی کے مفرور بیٹے اور لڑکی والوں کی مفرور بیٹی نے کیا ہے۔ اس سلسلے میں قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے لیکن جس درندگی کا مظاہرہ ایک 70سالہ خاتون اور اس کی بہو، بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی صورت کیا گیا وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ آخر کب تک بیٹے یا بھائی کے ”جرم“ کی سزا ماں اور بہن کو ملتی رہے گی؟ اسی طرح یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ لڑکے نے گا ¶ں کی لڑکی بھگا کر جو جرم کیا اس میں اتنا ہی حصّہ لڑکی کا بھی ہے۔ یہ بات ایسے بھی ہو سکتی ہے کہ لڑکی نے لڑکے کو راضی کیا ہو اور اس کے ساتھ بھاگ گئی۔ ہم لوگ مختارہ مائی کا ہاتھ پکڑے اسے ان سیاست دانوں کے پاس لے کر گئے جو اس کے علاقے کی سیاست میں عمل دخل رکھتے تھے۔ پولیس کے پاس ہمارے سوالوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ”پولیس ابھی تفتیش کر رہی ہے“ جبکہ سیاست دانوں کا کہنا تھا ”مائی جھوٹ بولتی ہے“۔

                                ہر طرف سے ناامید ہو کر مختارہ مائی واپس اپنے گا ¶ں چلی گئی۔ اسے لاہور نے انصاف مہیا نہ کیا اور دوسری طرف وہ یہاں رہنے کے اخراجات بھی ادا نہ کر سکتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد میں نے مختارہ مائی کے بڑے بیٹے کو سرکاری ہسپتال میں دیکھا۔ اس کے ساتھ ایک ایسی خاتون تھی جس کا آدھے سے زیادہ چہرہ جل چکا تھا۔ گا ¶ں والوں نے لاہور جا کر انصاف مانگنے کے جرم میں اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر واپس گا ¶ں جا رہی تھی۔ زخموں کی جلن کچھ کم ہو چکی تھی لیکن جلا ہوا چہرہ اب ہمیشہ ایسے ہی رہنا تھا۔

                مختارہ مائی کا اس وقت تک اپنے چھوٹے بیٹے سے رابطہ ہو چکا تھا لیکن گا ¶ں جانے کی صورت میں اس کی لاش واپس آتی۔ اس بیٹے کے چھوٹے سے فلیٹ میں بھی ماں اور بھائی کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ میں نے مختارہ مائی کو گاڑی میں بٹھایا اور اپنے دفتر لے آیا۔ دفتر آ کر اس کے علاقے کے ایک بااثر سیاست دان کو فون کیا۔ پنجاب اسمبلی کا سیشن ختم ہو رہا تھا اور دفتر بھی اسمبلی سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا لہٰذا وہ سیاست دان میرے دفتر چلا آیا۔ میں نے مختارہ مائی کو اس کے سامنے کیا اور کہا: ”جناب کیا آپ قانون بنانے والے اسے انصاف مہیا کر سکتے ہیں؟“ سیاست دان نے ایک نظر مختارہ مائی کی طرف دیکھا اور کہا: یہ مائی جھوٹ بولتی ہے۔ یہ میرے علاقے کا مسئلہ ہے اور مجھے اس کی تفصیل معلوم ہے۔ اس نے خود اپنے چہرے پر تیزاب ڈالا تھا تاکہ مظلوم بن سکے۔ سیاست دان کے لہجے میں وڈیرہ پن واضح تھا۔ میں نے خون کے گھونٹ پیتے ہوئے دفتر آنے پر اس وڈیرے کا شکریہ ادا کیا اور خاموشی سے مختارہ مائی اور اس کے بیٹے کو لے کر لاری اڈّے چلا آیا۔ انہیں گا ¶ں جانے والی بس پر سوار کروایا اور اس وقت تک وہاں کھڑا رہا جب تک ان کی بس لاہور سے باہر جانے والے راستے کی طرف نہ مڑ گئی۔ کچھ دن بعد مختارہ مائی کے بیٹے کا فون آیا ۔ اس نے بتایا کہ مختارہ مائی مر گئی ہے۔ میں چند لمحوں کے لئے سکتے کی سی حالت میں بیٹھا رہا پھر جانے کس کیفیت کے تحت اس کے علاقے کے سیاست دان کو فون کر کے کہا: ”جناب مبارک ہو۔ مائی کا ڈرامہ ختم ہو گیا“۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے