سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 17 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 17 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 17

تحریر: سید انور فراز

ماہنامہ سرگزشت کے اجرا کی خبر تیزی سے پھیلی ، لوگ حیران تھے کہ معراج صاحب جو اپنے تینوں پرچوں سسپنس، جاسوسی اور پاکیزہ سے پوری طرح مطمئن تھے اور یہ ملک کے کثیرالاشاعت ماہانہ میگزین تھے ، اب کسی نئے پرچے کی انھیں کیا ضرورت محسوس ہورہی ہے؟ اکثریت کا اندازہ یہ تھا کہ نیا پرچا بھی حسب سابق دیگر پرچوں کی طرح ایک فکشن میگزین ہوگا، پرچے کی بنیادی پالیسی فی الحال صیغہ ء راز میں تھی، اس حوالے سے یقیناً معراج صاحب اپنے بہت ہی قابل اعتماد احباب سے مشورہ کرتے ہوں گے یا پھر ہم سے بات ہوتی تھی کیوں کہ یہ طے تھا کہ جاسوسی کے علاوہ سرگزشت بھی ہماری ذمے داری ہوگا، جمال احسانی بھی آفس میں موجود تھے اور وہ سسپنس کو دیکھ رہے تھے، ان سے بھی مشورے ہوتے رہے لیکن جمال کا خیال تھا کہ نیا پرچا نکالنا کوئی دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہے،موجودہ پرچوں کے لیے معیاری مواد کا حصول ویسے ہی مشکل ہے،ادارے سے وابستہ نامور مصنفین پر مزید بوجھ ڈالنا ، دیگر پرچوں کے معیار پر بھی اثر انداز ہوگا لہٰذا جمال احسانی کی رائے یہ تھی کہ پہلے مصنفین کی نئی ٹیم تیار کی جائے اور جمال نے اس سلسلے میں کوشش بھی کی۔
غلام قادر ان کے دوستوں میں تھے، ان کا مشغلہ سیاست تھا، تازہ تازہ اسلام آباد سے کراچی آئے تھے کیوں کہ 6 اگست 1990 کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوگئی تھی، غلام قادر محترمہ بے نظیر بھٹو کے پی اے کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے،محترمہ سے بہت قریب تھے،جمال نے انھیں کہانی لکھنے کا مشورہ دیا اور سسپنس کے لے شاید دو تین کہانیاں لکھوائیں جو معیاری تھیں، قادر اگرچہ انگلش میڈیم بندہ ہے لیکن کراچی یونیورسٹی ہی سے ادبی حلقوں میں اٹھنا بیٹھنا رہا، خاص طور سے عبید اللہ علیم سے قربت رہی اور اردو ادب کا مطالعہ بھی جاری رہا لہٰذا کہانی لکھنے میں انھیں کوئی دشواری نہیں ہوئی، اگر دشواری ہوئی تو تحریر کے حوالے سے ہوئی کہ موصوف کی اردو تحریر بہت ہی خراب اور ناکارہ تھی لہٰذا پینسل سے لکھا کرتے تھے ، اگر کوئی لفظ غلط لکھ دیا تو ربر سے صاف کرکے دوبارہ لکھ لیا۔
اسی زمانے میں ساجد امجد جو جمال احسانی کے بچپن کے دوست یعنی لنگوٹیے تھے، جمال سے ملاقات کے لیے دفتر آنے لگے تھے لیکن بنیادی طور پر کہانی کے آدمی نہیں تھے، اردو میں پی ایچ ڈی تھے، بہت اچھے شاعر تھے، مضمون نگار تھے، سٹی کالج کراچی میں پڑھاتے تھے،جمال انھیں بھی کہانی لکھنے کا مشورہ دے چکے تھے لیکن اس کی ابتدا کچھ دیر سے ہوئی۔
ایک لڑکی آسیہ کی کہانی جمال کو بذریعہ ڈاک ملی، کہانی میں بڑی جان تھی، فوری طور پر سسپنس میں شائع کردی گئی اور یہ تلاش شروع ہوئی کہ یہ کون بندی ہے اور کہاں ہے؟ بہر حال اس کا سراغ مل گیا اور اس نے مزید بھی کہانیاں لکھیں لیکن وہ خود ایک کہانی تھی، تھوڑے ہی دنوں بعد معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہوگئی ہے اور وہ کچھ نئے مسائل میں گھر چکی ہے،ہم اس کی کہانی فی الحال بیان نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ اس میں بڑے اتار چڑھاؤ ہیں، اس لڑکی نے بہت سے عذاب جھیلے، آخر شوہر سے طلاق لی، بہر حال اب ایک جوان بیٹے اور بیٹی کی ماں ہے،زندگی سکون سے گزر رہی ہے۔
ہم نے سب سے پہلے اقبال کاظمی، ابو ضیا اقبال، احمد صغیر صدیقی ، انور فرہاد، ایم الیاس اور دیگر لکھنے والوں سے رابطہ کیا اور اپنے طور پر ان سے معاملات طے کیے،اتفاق سے ان دنوں ایران سے فرار ہونے والی ایک خاتون کی بائیوگرافی اقبال کاظمی کو مل گئی تھی، انھوں نے ہم سے مشورہ کیا اور ہم نے اسے پسند کرلیا، یہ کہانی سرگزشت کے پہلے شمارے میں ’’آزادی کا فرار‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔
علیم الحق حقی اس کار خیر میں کیسے پیچھے رہتے، ان کا ایک پسندیدہ شعبہ اسپورٹس تھا لہٰذا انھوں نے محمد علی کلے کی کہانی لکھنے کی ذمے داری اٹھالی، ایک روز معراج صاحب نے کہا کہ اس پرچے میں سفر نامہ بھی ہونا چاہیے، ہمارا مشورہ تو یہی تھا کہ بے شمار سفرنامے اردو اور انگریزی میں لکھے گئے ہیں لہٰذا کوئی انگریزی زبان کا سفر نامہ منتخب کرکے اس کا ترجمہ کرالیا جائے گا لیکن معراج صاحب کی سب سے بڑی خوبی جو ہم نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ وہ اپنے شعبے کے حوالے سے بہت ہی باخبر رہنے والے انسان تھے، بہت زیادہ مطالعہ کرتے تھے(یہ بیماری ہمیں بھی لاحق تھی)،دنیا بھر کے میگزین ہر ماہ ان کے پاس آتے تھے ، وہ جانتے تھے کہ کون سا رائٹر کیا لکھ سکتا ہے اور کیا نہیں لکھ سکتا، انھوں نے ہماری رائے سے اختلاف کیا اور ہم سے کہا کہ معلوم کرو علی سفیان آفاقی کہاں ہیں؟
ہم نے پوچھا کہ آفاقی صاحب سے کیا کام آن پڑا؟ تو انھوں نے کہا کہ اگر علی سفیان آفاقی ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں تو دو بہت بڑے مسئلے حل ہوجائیں گے ، اول سفر نامہ اور دوسرے فلمی دنیا پھر ہمیں بتایا کہ جس زمانے میں آفاقی صاحب امریکا میں تھے تو ان کا سفر نامہ روزنامہ جنگ میں شائع ہوتا تھا اور بہت اعلیٰ اور رواں دواں ، دلچسپ انداز میں لکھتے تھے، ہم نے اس سے پہلے آفاقی صاحب کی فلمیں تو ضرور دیکھی تھیں لیکن ان کی کوئی تحریر نہیں پڑھی تھی،معراج صاحب ہی نے ہمیں یہ بتایا کہ وہ ایک زمانے میں لاہور سے ایک ماہنامہ بھی نکالتے تھے ، اب آفاقی صاحب کو تلاش کرنا ہماری ڈیوٹی تھی، ہم نے لاہور میں اپنے بعض احباب کو فون کیے لیکن کہیں سے آفاقی صاحب کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
انہی دنوں پہلی مرتبہ جناب اختر حسین شیخ دفتر آئے، وہ طویل عرصہ مڈل ایسٹ میں رہے تھے، بنیادی طور پر انجینئر تھے لیکن مزاج ابتدا ہی سے ادب و شعر کا تھا، سب رنگ ، سسپنس، جاسوسی وغیرہ برسوں سے پڑھ رہے تھے، ان کی مستقل رہائش لاہور میں تھی،انھوں نے بتایا کہ وہ کہانیاں لکھنا چاہتے ہیں، ہمیں یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ ساری زندگی ایک شخص نے انجینئر کی حیثیت سے زندگی گزاری اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد اسے کہانی پڑھتے پڑھتے لکھنے کا خیال آگیا ہے،یقیناً وہ یہ کام محض تفریح طبع کے طور پر کرنا چاہتے ہیں، گفتگو کے دوران میں ہم نے انھیں بتایا کہ ادارہ ایک نیا پرچا سرگزشت بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں ضروری تیاریاں ہورہی ہیں، شیخ صاحب مزید پرجوش ہوگئے اور کہا کہ آپ بتائیں میرے لائق اگر کوئی کام ہے، خدا معلوم ہماری زبان پر کس طرح یہ جملہ آیا کہ فی الحال تو علی سفیان آفاقی کی تلاش ہے، شاید ان دنوں آفاقی صاحب ہمارے ذہن پر سوار تھے، یہ سنتے ہی شیخ صاحب نے کہا ’’وہ نوائے وقت میں ہیں اور ایک ویکلی فیملی میگزین نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں‘‘
ہم گویا اچھل پڑے اور پوچھا کیا آپ کے پاس ان کا فون نمبر وغیرہ ہے تو شیخ صاحب نے بتایا کہ فی الحال ان کا نمبر نہیں ہے لیکن میں آج ہی شام لاہور واپس جارہا ہوں اور کوشش کروں گا آفاقی صاحب سے آپ کا رابطہ ہوجائے۔
دوسرے دن ہی شیخ صاحب نے آفاقی صاحب کا فون نمبر ہمیں فون پر بتادیا ، ہم نے یہ نمبر معراج صاحب کے حوالے کیا اور پہلی بات چیت آفاقی صاحب سے معراج صاحب نے ہی کی، انھیں کراچی مدعو کیا، اپنی فیملی میگزین کی مصروفیت کے باعث انھوں نے فوراً آنے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی، البتہ یہ وعدہ کیا کہ جلد ہی رابطہ کرکے آپ کو اطلاع دوں گا کہ میں کب اور کتنے دن کے لیے کراچی آسکتا ہوں، مزید یہ کہ کراچی میں میرے قیام کا بندوبست آپ کو ہی کرنا ہوگا، معراج صاحب نے ان کی ہر شرط نہایت خوش دلی سے قبول کی، یہاں تک کہ جب انھوں نے بتایا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں تو ہمیشہ تاج ہوٹل میں ٹھہرتا ہوں(اب یہ ہوٹل نام کی تبدیلی کے بعد ریجنٹ ہوچکا ہے)
ایک روز معراج صاحب نے بتایا کہ آفاقی صاحب آرہے ہیں اور تاج ہوٹل میں ان کے لیے کمرہ بک ہے، انھیں پی آئی اے کا ریٹرن ٹکٹ بھیج دیا تھا، صبح کی پہلی فلائٹ سے وہ کراچی پہنچیں گے اور خود ہی ہوٹل چلے جائیں گے مگر ہوٹل سے دفتر انھیں تم لاؤگے، ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا تھا، دوسرے روز تقریباً صبح دس بجے ہم معراج صاحب کے ڈرائیور کے ساتھ تاج ہوٹل پہنچ گئے، اندر داخل ہوئے تو آفاقی صاحب وہیں ٹہل رہے تھے، ہم نے با آسانی انھیں اس لیے پہچان لیا کہ ان کی تصاویر ہم ویکلی نگار میں دیکھتے رہے تھے، فلم و صحافت سے ایک گہرا اور طویل تعلق رکھنے کے باوجود علی سفیان آفاقی کی تصویریں بہت ہی کم ، نہ ہونے کے برابر اخبارات و رسائل میں شائع ہوئی ہیں۔
معراج صاحب سے آفاقی صاحب کی پہلی ملاقات ون ٹو ون رہی پھر لنچ ٹائم پر ہم بھی شریک ہوئے، انھوں نے بتایا کہ مجید نظامی صاحب نے فیملی میگزین شروع کرنے کی ذمے داری ان کے سپرد کی ہے اور بہت جلد یہ میگزین اشاعت شروع کردے گا، یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی ذمے داری کو چھوڑ دیں اور صرف ہمارے لیے کام کریں، البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر ماہ ایک سفر نامہ اور ایک فلمی مضمون لکھ کر بھیجتے رہیں، سفر نامے پر ان کا ہی نام جائے گا لیکن فلمی شخصیات کی کہانیوں پر وہ اپنا نام نہیں دینا چاہتے تھے کیوں کہ جس نوعیت کی کہانی معراج صاحب چاہتے تھے اس میں نجی زندگی کے معاملات بھی زیر بحث آنا تھے، چناں چہ طے یہ ہوا کہ ایک فرضی نام طے کرلیا جائے جو فلمی شخصیات کی کہانیوں پر دیا جائے گا ، یہ نام ’’آشنا کے قلم سے ‘‘ تجویز ہوا، مزید یہ بھی طے ہوا کہ مرکزی کردار کا نام بھی تبدیل کردیا جائے تاکہ کسی مقدمے بازی کا امکان نہ رہے،پہلی فلمی شخصیت کے طور پر اداکارہ رانی کی کہانی طے ہوئی، کہانی میں اس کا نام ’’شہزادی‘‘ رکھا گیا۔
یہ بھی طے ہوا کہ ہر ماہ کسی سیاسی یا ادبی شخصیت کا بائیو گرافیکل انٹرویو بھی ہونا چاہیے، بہت سے لوگ ایسے موجود تھے جنھوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور اپناکوئی منفرد مقام بنایا ہے،اس انٹرویو میں ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی سوالات کیے جائیں اور ان کے کرئر کے بارے میں بھی بات کی جائے، آفاقی صاحب نے یہ ذمے داری بھی قبول کرلی ، ابتدائی طور پر چند مشہور شخصیات کے ناموں پر اتفاق رائے ہوگیا اور آفاقی صاحب نے انٹرویو کرکے روانہ کرنے کا وعدہ کرلیا، سرفہرست ڈاکٹر مبشر حسن کا نام تھا، اس کے بعد حبیب جالب ، سیف الدین سیف، قتیل شفائی، ملک معراج خالد وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل تھے ۔
آفاقی صاحب نے سب سے پہلے سفر نامہ بھیج دیا ، پھر اداکارہ رانی کی کہانی بھی روانہ کردی اور ڈاکٹر مبشر حسن کا انٹرویو بھی ، یاد رہے کہ مبشر حسن صاحب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں وزیرخزانہ رہے تھے اور پھر بھٹو صاحب سے اختلاف کے بعد اپنے عہدے سے استعفا دے کر گھر بیٹھ گئے تھے ، اس حوالے سے ان کا شمار سیاست کے صاحب کردار حقیقی شرفا میں کیا جاتا ہے۔
آفاقی صاحب صرف دو روز کراچی میں رہے ، معراج صاحب سے اور ہم سے دو دن ہی میں ایسے بے تکلف ہوگئے جیسے پرانی شناسائی ہو، شاید اس کی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ باہمی دلچسپی کے موضوعات میں بڑی یکسانیت تھی، معراج صاحب کو دنیا گھومنے کا اضافی شوق تھا اور وہ ہر سال کسی نہ کسی ملک کا دورہ کرتے تھے، آفاقی صاحب بھی بڑی دنیا گھوم چکے تھے چناں چہ جب دونوں دنیا کے کسی بھی ملک یا شہر کے بارے میں گفتگو کرتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس شہر کے چپے چپے سے واقف ہیں، اس موقع پر ہم تو دونوں کا منہ ہی تکا کرتے تھے البتہ فلم یا ادب کے حوالے سے بات چیت میں ضرور حصہ لیتے تھے لیکن وہ بھی اس حد تک کہ ہماری معلومات میں اضافہ ہو، فلمی دنیا کی اندر کی باتیں آفاقی صاحب سے زیادہ کون جانتا تھا اور کمال یہ ہے کہ ان کی یادداشت بھی خوب تھی، لاہورفلمی دنیا کا مرکز تھا اور آفاقی صاحب نے بالکل ابتدا سے اس چمکتی دمکتی دنیا کو بہت قریب سے دیکھا تھا، کس اداکار و اداکارہ ، ہدایت کار، فلم ساز، موسیقار یا دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں سے ان کے ذاتی مراسم یا لڑائی جھگڑے کم نہیں رہے تھے۔
بعد میں یہ معمول بن گیا کہ ہم لاہور جاتے یا آفاقی صاحب کراچی آتے تو ہمارا کام یہی تھا کہ ان سے فلمی دنیا کی پس پردہ کہانیاں سنتے اور سمجھتے رہتے، بہت سی ایسی باتیں بھی ہوتی تھیں جن کا وہ مصلحتاً ذکر نہیں کرتے تھے تو ہم بعد میں انھیں ٹٹولتے کہ جناب فلاں واقعہ آپ نے کچھ گول مول کرکے بیان کردیا ہے اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ اور جب اصل کہانی سامنے آتی تو بڑی حیرت ہوتی۔
ایک واقعہ ایسا ہوا کہ آفاقی صاحب کا تاج ہوٹل میں قیام ختم کرنا پڑا، وہ کراچی آئے ہوئے تھے اور حسب معمول تاج ہوٹل میں انھیں ٹھہرایا گیا، رات میں آفاقی صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ پریشان ہوکر کمرے سے باہر نکل آئے، پہلے گیلری میں ہی ٹہلتے رہے پھر نیچے آگئے اور اسی طرح شدید بے چینی اور اضطراب میں رات گزر گئی، صبح انھوں نے فوراً ہی ہمیں فون کیا کہ آپ جلد از جلد ہوٹل پہنچیں ، ہم نے معراج صاحب کو اطلاع دی چناں چہ انھوں نے گاڑی بھیج دی اور ہم انھیں دفتر لے آئے، تب آفاقی صاحب نے بتایا کہ مجھے ’’خفقان‘‘ کا مرض لاحق ہے اور کبھی کبھی نہایت شدت اختیار کرجاتا ہے، کل رات بھی یہی ہوا کہ مجھے اچانک خیال آیا کہ اس ہوٹل میں سیڑھیاں نہیں ہیں، اگر ہوٹل میں آگ لگ جائے اور بجلی چلی جائے تو لفٹ بھی استعمال نہیں ہوسکے گی،میں کیسے باہر نکل سکوں گا؟یہ خیال ذہن میں آنا تھا کہ طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی اور اس کے بعد ہی وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئے۔
معراج صاحب نے سوال کیا ’’جہاز میں سفر کے دوران اگر آپ کو اس نوعیت کا دورہ پڑ جائے تو آپ کیا کریں گے؟‘‘
آفاقی صاحب نے اطمینان سے جواب دیا کہ جہاز میں یا گاڑی میں ایسی کیفیت کبھی نہیں ہوئی پھر اس موضوع پر بات ہونے لگی کہ آخر اس بیماری کا کوئی علاج تو ہوگا اور آفاقی صاحب نے اس سلسلے میں کیا علاج کیا ، اس کی تفصیل بہت طویل تھی کیوں کہ علاج معالجہ بھی آفاقی صاحب کا پسندیدہ موضوع تھا، لاہور کا کوئی ڈاکٹر، حکیم، ہومیوپیتھ ایسا نہیں تھا جس سے آفاقی صاحب کی واقفیت نہ ہو، خود وہ ہومیو پیتھک علاج کو پسند کرتے تھے اور آدھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے،گھر میں بے شمار ہومیو پیتھک دوائیں موجود رہتیں،ہماری، معراج صاحب کی اور آفاقی صاحب کی ایک مشترکہ دلچسپی یہ بھی تھی، ہم نے آفاقی صاحب سے وعدہ کیا کہ آپ کی اس بیماری کا علاج ہم آپ کو کل بتادیں گے۔
اسی روز ہم نے اپنے ہومیوپیتھک استاد ڈاکٹر اعجاز حسین (مرحوم) کو فون کیا اور ساری صورت حال بتائی تو انھوں نے فوراً دوا کا نام اور پوٹینسی ہمیں بتادی، نیٹرم میور 200۔
ہم نے آفاقی صاحب کو بتایا تو بڑا خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ بھئی ! اپنے استاد صاحب سے ہمیں بھی ملوائیں، معراج صاحب نے فوراًآؤٹ ڈور کلرک کو آرام باغ بھیجا جہاں ہومیوپیتھک دواؤں کی بہت بڑی مارکیٹ ہے،تھوڑی دیر میں مطلوبہ دوا آفاقی صاحب کے سامنے رکھی تھی ، ایک خوراک فوراً ہی لے لی گئی، بعد میں بھی انھوں نے یہ دوا استعمال کی اور یہ مرض ختم ہوگیا کیوں کہ پھر کبھی انھوں نے اس بیماری کا تذکرہ نہیں کیا لیکن اس واقعے سے جو نئی صورت حال پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ معراج صاحب نے کہا کہ آئندہ آپ ہوٹل میں قیام نہیں کریں گے بلکہ جب بھی کراچی آئیں گے تو آپ کا قیام میرے گھر پر ہوگا، ساتھ ہی ہماری یہ ڈیوٹی لگادی گئی کہ جتنے دن بھی آفاقی صاحب کراچی میں ان کے گھر پر رہیں گے، ہم بھی وہیں رہیں گے لہٰذا آخری وقت تک یہ سلسلہ جاری رہا، ڈیفنس میں معراج صاحب کا شاندار مکان ہے،ان کی فیملی کی رہائش گراؤنڈ فلور پر ہے اور فرسٹ فلور عموماً خالی ہی رہتا ہے البتہ اس کے کچھ حصے میں معراج صاحب کی لائبریری تھی، اس طرح ہمیں مزید موقع ملا کہ ہم آفاقی صاحب سے فلمی، ادبی ، سیاسی اور تمام موضوعات پر گھنٹوں گفتگو کیا کرتے،عام طور سے رات کے کھانے میں معراج صاحب بھی شریک ہوتے اور تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد نیچے چلے جاتے پھر ہم ہوتے اور آفاقی صاحب ہوتے لیکن وہ 12 بجے سونے کے لیے لیٹ جاتے اور پابندی سے فجر کی نماز کے لیے اٹھتے، آفاقی صاحب پنج وقتہ نمازی تھے، مذہبی ذہن رکھتے تھے ، سیاسی طور پر پرانے مسلم لیگی تھے لیکن مذہب میں کسی انتہا پسندی کے قائل نہیں تھے، شاید اسی وجہ سے فلمی دنیا میں وہ اس گروپ سے زیادہ قریب رہے جو سوشلسٹ یا لبرل کہلاتا تھا، انھوں نے پہلی فلم حافظ قرآن شباب کیرانوی کے لیے لکھی ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ اور بعد میں بھی شباب کیرانوی کے بہت قریب رہے،فلمی دنیا کے لبرل گروپ میں ریاض شاہد ، خلیل قیصر، حسن طارق ، علاؤ الدین ، طالش وغیرہ شامل تھے لیکن حسن طارق کے ساتھ آفاقی صاحب نے اپنی پہلی فلم ’’کنیز‘‘ بنائی، ہم نے ایک بار ان سے یہ سوال کیا تھا جس کا جواب یہی تھا کہ ہمارے تعلقات تو سب سے اچھے ہی رہے، کسی کے نظریات سے ہمیں کیا لینا دینا ، ہاں اگر کوئی اپنے نظریات ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا تو پھر اس سے اختلاف ہوجاتا تھا جیسے ایک بار اداکار دلجیت مرزا نے شراب کی محفل میں آفاقی صاحب کو زبردستی پلانے کی کوشش کی اور پھر شراب کی بوتل سر پر الٹ دی تو جواباً آفاقی صاحب نے اس کی پٹائی کردی۔
ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جو دلچسپ بھی ہیں اور عبرت اثر بھی ، ہم آفاقی صاحب سے پوچھتے رہتے تھے اور وہ کھلے دل سے سناتے رہتے تھے، آفاقی صاحب کا ذکر چھڑا تو ہمارا ذہن بھی بھٹکنے لگا۔

سرگزشت کی تیاری

ماہنامہ سرگزشت کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، پرچے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا، پہلاحصہ مشہور شخصیات کی کہانیوں پر مشتمل تھا، دوسرے حصے میں سلسلے وار کہانی ’’مجاہد‘‘ اور عام لوگوں کی آپ بیتیاں جس کے لیے ہم نے ’’سچ بیانیاں‘‘ کا عنوان مقرر کیا، خطوط کے صفحات کے لیے ’’شہرِ خیال‘‘ کا عنوان رکھا گیا۔

احمد صغیر صدیقی فطری طور پر ایک شاعر تھے، گہرا تخلیقی شعور رکھتے تھے، بہت کثیرالمطالعہ شخص تھے ، فکشن پر بھی ان کی گہری نظر تھی، اس کے علاوہ نفسیات اور پامسٹری یا دیگر اکلٹ سائنسز میں بھی دخل رکھتے تھے، معراج صاحب سے زیادہ ان کے چھوٹے بھائی اعجاز رسول کے بہت قریب تھے، انھوں نے اعجاز صاحب کے لیے بہت سی کتابیں بھی تصنیف کیں، جب تک احمد سعید صاحب جاسوسی کی ادارتی ذمے داریاں ادا کرتے رہے، صدیقی صاحب کی کہانیاں بھی جاسوسی ڈائجسٹ میں شائع ہوتی رہیں، اس کے علاوہ ماہنامہ پاکیزہ میں بھی ایک مستقل سلسلہ احمد صغیر صدیقی ہی لکھتے رہے، شاید اس سلسلے کا نام ’’زندگی کی کہانیاں‘‘ تھا۔
شافع صاحب کی ادارے سے علیحدگی کے بعد بھی ماہنامہ پاکیزہ میں وہ لکھتے رہے، اسی زمانے میں ہماری ان سے شعر و ادب کے حوالے سے راہ و رسم پیدا ہوئی لیکن ملاقات بہت کم ہوتی تھی کیوں کہ وہ زرعی بنک میں ملازم تھے اور کراچی سے دور ان کی پوسٹنگ تھی لہٰذا دو تین مہینے میں جب کراچی آنا ہوتا تو دفتر کا چکر لگاتے بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ تمام ہی ملنے جلنے والوں سے ملاقات کرتے، سب رنگ ، مسٹری میگزین، عمران ڈائجسٹ اور نئے افق جاتے اور دوسرے احباب سے ملتے، اس دوران میں جو کہانیاں لکھتے وہ متعلقہ افراد کے حوالے کرجاتے، ہم نے انھیں سرگزشت کے لیے لکھنے پر آمادہ کرلیا تھا ، ایک روز دفتر آئے تو بولے ’’آپ کے سرگزشت کے لیے خاصے کی چیز لایا ہوں‘‘ پھر چند صفحات ہمیں دیے’’اسے پڑھیں اور معراج صاحب کو بھی پڑھوادیں، یہ سرگزشت کی یک صفحی پہلی کہانی ہے‘‘
بے شک ایک صفحے میں مختصر مختصر کسی مشہور اور نامور شخصیت کی زندگی کے اہم حالات و واقعات کو اس طرح بیان کرنا کہ آخری سطور سے پہلے اس کا نام ظاہر نہ ہو، ایک دلچسپ سلسلہ تھا جو آج تک سرگزشت میں جاری ہے لیکن اسے شروع کرنے کا سہرا جناب احمد صغیر صدیقی کے سر ہے،گزشتہ سال نومبر میں ان کا انتقال ہوا تو ہم نے صدیقی صاحب پر ایک مضمون لکھا تھا جو اپنی فیس بک پر شیئر بھی کیا تھا اور امجد جاوید صاحب کو بھی بھیج دیا تھا۔

منظر تین

شاید انہی دنوں کی بات ہے یا سرگزشت شروع ہوچکا تھا کہ ایک روز سجاد میر صاحب کا فون آیا، دو چار ادھر اُدھر کی باتیں انھوں نے حسب عادت کیں، جمال احسانی کی خیر خیریت پوچھی اور پھر ہمیں بتایا کہ منظر امام آج کل بہت پریشان ہیں، میں انھیں تمھاری طرف بھیج رہا ہوں، نیا پرچا بھی نکال رہے ہو تو کیا منظر کے لیے تمھارے پاس کوئی کام نہیں ہے ؟

ہم نے کہا کہ بھائی وہ بندہ ہمارے ہاتھ ہی کب آتا ہے ، اب آپ نے بھیج دیا ہے تو دیکھیں کب تک پہنچتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر منظر امام دوسرے روز ہی ہمارے سامنے بیٹھے تھے، ہم نے پہلا ٹارگٹ تو انھیں سچ بیانیوں کا دیا، اس کے علاوہ بھی ان سے کہا کہ جو دل چاہے لکھیں۔
ہمارے احباب میں تین منظر شامل رہے ہیں، اول منظر علی خان منظر جو حبیب بنک میں ایک اعلیٰ عہدے پر تھے، شاعر بھی تھے اور ادیب بھی، کئی کتابوں کے مصنف رہے ، عمر میں ہم سے بہت بڑے تھے، شاید 50 یا 55 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک کے سبب اللہ کو پیارے ہوئے، دوم منظر امکانی ، یہ بھی شاعر و ادیب تھے اور عمر میں ہم سے چھوٹے تھے لیکن یہی کوئی چار پانچ سال کا فرق ہوگا، روزنامہ جنگ میں ادبی صفحے پر انچارج تھے، بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ، مہینے میں کم از کم دو چکر ہمارے دفتر کے بھی ضرور لگاتے، شادی نہیں کی تھی پھر ایک مرحلہ ایسا آیا کہ شادی کے لیے تیار ہوگئے، خواتین پرچوں کی معروف ادیبہ اور کالج کی لیکچرار سیما سراج سے شادی کرلی اور گویا انھیں ایک نئی زندگی مل گئی، دونوں بہت خوش اور باہم بے حد محبت کرنے والے لیکن چشم فلک کو شاید ان کی یہ تھوڑے دن کی یک جائی پسند نہیں آئی، ان کے گھر کے قریب ہی ایم کیو ایم (حقیقی) کے رہنما کامران رضوی بھی رہتے تھے، کامران بھی شاعر ہیں اور اچھا ادبی ذوق رکھتے ہیں لہٰذا فارغ اوقات میں منظر امکانی ان کے گھر چلے جاتے اور کامران صاحب سے گفت و شنید ہوتی رہتی، شادی کے شاید چند ہی ماہ بعد ایک روز جب منظر امکانی کامران رضوی کے گھر پر لان میں بیٹھے تھے تو اچانک مخالف گروپ کے لوگوں نے حملہ کردیا ، شدید فائرنگ شروع ہوگئی، کامران رضوی بھی زخمی ہوئے لیکن منظر امکانی کو لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی، اس واقع کی اطلاع ہمیں دوسرے روز اخبار کے ذریعے ملی اور ہماری یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہم تعزیت کے لیے کس کے پاس جائیں، سیما سراج کی حالت یقیناً ایسی نہیں رہی ہوگی کہ ان سے تعزیت کی جاتی، مزید یہ کہ وہ فوری طور پر عدت کے مراحل میں داخل ہوگئی ہوں گی، منظر امکانی کے کسی قریبی عزیز رشتے دار سے ہم واقف نہیں تھے، بہت دنوں کے بعد جب انجم انصار صاحبہ کی صاحب زادی کی شادی ہوئی تو وہاں سیما سراج سے ملاقات ہوئی لیکن سلام دعا کے سوا کوئی بات نہ ہوسکی، اب وہ پروفیسر ہیں اور ان کی دوسری شادی بھی ہوگئی ہے۔
منظر امام سے ہماری شناسائی اگرچہ بہت پرانی تھی کیوں کہ منظر امام ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہمارے بہت محترم دوست احمد جاوید کے انتہائی قریب رہے ہیں، قریب تو وہ اور بھی بہت سے ہمارے جاننے والوں کے رہے ہیں لیکن احمد جاوید کی ان سے محبت کے ہم عینی شاہد ہیں، وہ جب کے پی کے میں تھے اور وہاں افغانستان سے آئے ہوئے ایک بزرگ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے تو سب سے پہلے کراچی سے اپنے قریبی احباب میں سے جن دو افراد کو ان بزرگ سے بیعت کے لیے نوشہرہ لے گئے، ان میں سلیم فاروقی (مرحوم) اور شوکت عابد کا نام سر فہرست تھا، دونوں جب کراچی واپس آئے تو سب نے دیکھا کہ اچانک ہی دونوں صاحب ریش ہوچکے ہیں گویا ایک ہی ملاقات میں دونوں کی کایا پلٹ ہوگئی، کچھ یہی حال احمد جاوید کا بھی ہوا تھا جس کی تفصیل انھوں نے ایک بار ہمیں سنائی تھی۔
احمد جاوید کا دوسرا ہدف ہم اور منظر امام تھے، وہ دل سے چاہتے تھے کہ ہم بھی ان کے پیر و مرشد کے ہاتھ پر بیعت کرکے اپنی زندگی میں تبدیلی لے آئیں اور راہ سلوک کے سچے مسافر بن جائیں، ہم نے یا منظر امام نے ان کی اس خواہش کا ہمیشہ احترام کیا اور کبھی ان سے نہیں کہا کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن ان کے ساتھ نوشہرہ جانے کا پروگرام کبھی نہ بن سکا پھر ایک بار وہ کراچی آئے ، ان کا پورا نام سیف اللہ اخوندزادہ تھا، کراچی میں وہ شوکت عابد کے گھر پر ٹھہرے (شوکت عابد خود بھی شاعر ہیں اور مشہور شاعر ثروت حسین کے چھوٹے بھائی ہیں) جاوید نے نہایت اصرار اور سختی کے ساتھ ہمیں اور منظر امام کو پابند کیا کہ فلاں روز آپ دونوں کو شوکت عابد کے گھر پہنچنا ہے لیکن ہم نہیں پہنچ سکے اور اس سعادت سے محروم رہے، منظر سے کبھی ہم نے پوچھا نہیں کہ تم گئے تھے یا نہیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد بھی منظر امام کے طور طریقوں میں ہمیں کوئی ایسی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی جیسی کہ سلیم فاروقی اور شوکت عابد یا خود احمد جاوید میں نظر آرہی تھی۔
منظر امام کی احمد جاوید سے قربت کا اندازہ اس واقع سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا سارا شگفتہ سے نکاح منظر کے گھر پر ہوا تھا، دونوں کے پاس قاضی صاحب کی فیس دینے کے لیے پیسے نہیں تھے ، یہ ذمے داری سجاد میر نے اٹھائی گویا اس نکاح میں منظر امام کے علاوہ سجاد میر بھی موجود تھے ، بعد میں جو کچھ ہوا وہ ایک لمبی کہانی ہے جس کا کچھ حصہ ہم ابتدا میں بھی بیان کرچکے ہیں اور اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، پی ٹی وی کا ایک ڈراما بھی اس موضوع پر بن چکا ہے، ہم نے ماہنامہ سرگزشت کے لیے سارا شگفتہ کی سرگزشت لکھوائی تھیں جسے اس تمام واقعے سے بہ خوبی واقف اور عینی شاہد انور سن رائے نے لکھا تھا، معراج صاحب کو یہ کہانی پسند نہیں آئی، انھوں نے مصنف کا معاوضہ تو ادا کردیا لیکن اس سرگزشت کو شائع نہیں کیا، کئی سال اس کا مسودہ ہمارے پاس پڑا رہا، آخر انور نے فرمائش کی کہ اگر معراج صاحب اسے شائع نہیں کرنا چاہتے تو مسودہ مجھے واپس کردیں تاکہ میں اصل نام تبدیل کرکے ناول کے طور پر شائع کردوں، چناں چہ معراج صاحب کی اجازت سے مسودہ انور سن رائے کو واپس دے دیا گیا اور پھر یہ ناول ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
منظر امام کی آمد ہمارے لیے نہایت دل خوش کن تھی کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ وہ ایک فطری کہانی کار ہے اور ہم نے اسے ’’ماسٹر آف شارٹ اسٹوری‘‘ کا خطاب بھی دے رکھا ہے،یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ منظر جتنی اعلیٰ درجے کی مختصر کہانی لکھتے ہیں اتنی اعلیٰ طویل کہانی ان سے نہیں لکھی جاتی، حالاں کہ انھوں نے ڈائجسٹوں میں بہت لکھا اور سلسلے وار کہانیاں انداز ڈائجسٹ میں بھی لکھتے رہے لیکن ہم نے جب بھی انھیں کسی طویل کہانی کی طرف لگایا تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس سے جان چھڑانے کی کوشش میں مصروف ہیں یا اسے مختصر کر رہے ہیں، جاسوسی کے سرورق کی کہانیوں میں سب سے مختصر کہانی منظر امام ہی کی ہوتی تھی یا اثر نعمانی صاحب کی ، اثر نعمانی تو خیر ایسے منجھے ہوئے پختہ کہانی کار تھے کہ وہ کہانی کو جتنا چاہیں بڑھاسکتے تھے اور جب چاہیں ختم کرسکتے تھے لیکن منظر کا معاملہ بہت مختلف تھا، اگرچہ کمرشل رائٹرز کی تو خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ صفحات میں کہانی کو پھیلائیں تاکہ اس کے معاوضے میں اضافہ ہو لیکن منظر امام کو اس کی کبھی پروا نہیں رہی، سچ بیانیوں میں ان کی بعض کہانیاں دو تین صفحات کی بھی ہوتی تھیں اور ہم نے دیکھا کہ ایسی کہانیاں نہایت پراثر اور گہرا تاثر چھوڑنے والی ہوتیں۔
آخر کار ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ منظر امام فطری طور پر ایک شاعر ہیں اور شاعر بھی غزل کا، غزل میں صرف دو مصرعوں میں بات کہہ کے سمندر کو کوزے میں بند کردیا جاتا ہے، منظر امام نے اپنے ادبی کرئر کا آغاز ہی غزل گوئی سے کیا تھا، لڑکپن کے زمانے میں منظر امام اور احمد جاوید کھوکھراپار کراچی میں رہا کرتے تھے اور ادبی مشاعروں میں ساتھ ساتھ شرکت کرتے، ایسے لوگوں کے ساتھ کچھ غیر شاعر بھی شامل ہوجاتے ہیں یعنی ان کے حلقہ ء احباب میں آجاتے ہیں اور وہ انھیں بھی شاعر بنادیتے ہیں یعنی غزل کہہ کر دے دی اور مشاعرے میں پڑھوادی، ایسے ہی ایک شاعر کا قصہ ایک بار ہمیں منظر نے سنایا تھا جسے وہ غزلیں کہہ کر دیا کرتے تھے ، ایک طرحی نعتیہ مشاعرے کے موقع پر اس غیر شاعر کے پاس نعت نہیں تھی اور منظر امام کا موڈ نہیں تھا کہ اپنی نعت کے علاوہ اس کے لیے نعت کہیں لہٰذا منظر کی رگِ شرارت پھڑکی اور اسے مشورہ دیا کہ بھائی آپ کی وہ فلاں غزل جو ہے اس کی ردیف بدل کر ’’مدینہ‘‘ کرلو تو وہ نعت بن جائے گی، وہی پڑھ دینا، یہ سن کر وہ غیر شاعر صاحب بہت خوش ہوئے اور جواباً فرمایا ’’یار منظر! تمھیں میرا کلام بہت یاد رہتا ہے‘‘
منظر امام شاعر بہت اچھے ہیں یا کہانی کار، یہ فیصلہ ہم نہیں کرسکتے کیوں کہ شاعری انھوں نے زیادہ پابندی سے نہیں کی اور افسانہ نگاری میں وہ کمرشل رائٹنگ کی طرف چلے گئے، سکہ بند ادبی نقاد ان کی بہترین کہانیوں کو بھی کوئی ادبی مقام دینے پر تیارنہیں ہوں گے، بہر حال منظر امام کے دو نعتیہ شعر جو ہمیں بہت پسند ہیں ، آپ بھی سن لیں ؂

میں کتّا تِرے در کا ھُو

تو آقا آقا آقا ھُو

میں منگتا تِرے چوکھٹ کا

تو داتا داتا داتا ھُو

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    قسط نمبر پندرہ سے پہلی والی قسطیں پڑھنے کے لئے کون سا جادو کرنا پڑےگا ؟ ان کے لنک دینے میں کیا ہرج ہے ؟َ اور یہاں فیس بک سے ہی براہ راست کمنٹ کیوں نہیں پوسٹ ہو رہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے