سر ورق / کہانی / عکاسی سروجنی ساہو/عامر صدیقی

عکاسی سروجنی ساہو/عامر صدیقی

جب وہ پہنچے ، تب نیپا اپنے معمولات میں انتہائی مصروف تھی۔ ایک ہاتھ میں اس کے ٹوسٹ تھا، تو دوسرے ہاتھ میں پانی کا گلاس۔ ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑی ہوکر، وہ کسی بھی طرح ٹوسٹ کو ڈکار لینا چاہتی تھی۔ اس طرح اس نے صبح کا ناشتا ختم کر لیا۔ پھر شیلف سے نکال کر چپلیں پہن لیں، ہاتھ پرگھڑی باندھ لی، نوکرانی کو دو چار کاموں کے بارے میں حکم بھی دے دیئے اور سونے کے کمرے کا تالا بھی لگا دیا۔

اب وہ سوچ رہی تھی کہ گھر سے نکل کر ڈیوٹی پر چلے جانا چاہیے۔ ایسی جلد بازی کے وقت میں، جسم کے مقابلے میں دل کچھ زیادہ ہی چلتا ہے۔ دل کے ساتھ مناسبت ملا کر کام کرتے وقت، اگر کوئی اس کو روک دے، یہاں تک کہ اگر ٹیلیفون کی گھنٹی بھی بج اٹھے، تو اس کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، وہ فوری طور پر ہی پریشانی سے دوچار ہو جاتی ہے اور دل ہی دل میں ناراض ہو اٹھتی ہے اور اندر کا یہ احساس اس کے بیرونی رویے میں بھی چھپائے نہیں چھپتا۔ کبھی کبھی تو وہ اتنی جھنجھلا اٹھتی ہے کہ نوکرانی کو ہی رسیور اٹھانے کیلئے بول دیتی ہے اور خود کام پر نکل جاتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے، جب اچانک رسیور اٹھا لینے پر ادھر ادھر کی بے کار باتیں کرکے، جلدی جلدی کام کیلئے نکلنا پڑا ہے۔

لیکن وہ دن کچھ اور تھا۔ دہلیز پر انہیں کھڑا دیکھ کر نیپا باہر نکل نہیں پائی۔نمسکار کے ساتھ ان کا سلام کیا، اپنے کندھے پر لٹکے پرس کو اتار کر سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیا اور بولی۔

’’آئیے، پدھاریئے۔‘‘

’’کیا آپ آفس جا رہی تھیں؟‘‘

’’جی، جی ہاں۔‘‘

’’دیواکر گھر میں نہیں ہے کیا؟‘‘

’’بس پندرہ منٹ ہوئے، آفس چلے گئے ہیں۔‘‘

’’آپ کے آفس کا بھی وقت ہو گیا ہو گا، کہیں اس وقت آکر آپ کو پریشان تو نہیں کر رہا؟‘‘

’’نہیں۔‘‘ نیپا ہنس کر بولی۔

اس ’’نہیں‘‘ کے کئی مطالب ہو سکتے تھے، جیسے انہوں اس وقت آکر کوئی غلطی نہیں کی تھی یا نیپا کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی، یا تہذیب کا لحاظ کرکے ’’نہیں‘‘ بولنا ہی پڑتا ہے تو اسی انداز سے اس نے بھی بول دیا۔ وہ ان کے کوئی سگے سمبندھی نہیں تھے اور اس کے یا دیواکر کے باس بھی نہیں تھے۔ یہاں تک کہ، دونوں کے خاندان والوں میں بھی کوئی خاص اپنائیت کا رشتہ بھی نہیں تھا۔ ا ن سب کے باوجود بھی ،وہ کبھی کبھی ان کے گھر ملنے آتے تھے، بیٹھ کر بات چیت کرتے تھے، چائے پیتے تھے اور پھر لوٹ جاتے تھے۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے نیپا انہیں جانتی تھی۔ نیپا نے پھر پوچھا۔

’’چائے پئیں گے؟‘‘

’’چائے بنائینگی؟ آپ تو آفس جا رہی تھیں نا؟‘‘

’’ ہاں جانا تو تھا، پر چائے بنا دیتی ہوں۔‘‘

نیپا باورچی خانے میں جا کر چائے کے لئے پانی گرم کرنے لگی۔ جتنی جلدی وہ کر سکتی تھی اس نے کیااور چائے، چینی اور دودھ ایک ساتھ ملا کر ایک کپ چائے بنا دی۔ چائے کے ساتھ کچھ بسکٹ اور نمکین بھی ٹیبل پر رکھ دیئے۔ گرم چائے انہوں نے فوری طور پر نہیں پی۔ ٹیبل پر ٹھنڈی ہونے کیلئے رکھ دی تھی۔ دل مسوس کر نیپا سامنے والے سوفے پر بیٹھ کر انکی چائے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

’’بچے دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟‘‘

’’اسکول گئے ہیں۔ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘اس نے پوچھ تو لیا، مگر بعد میں اس کو افسوس ہونے لگا کہ کہیں اس نے غلطی تو نہیں کی۔ اس وقت اس کو بات آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع نہیں کرنا چاہئے تھا۔ پہلے ہی اسے دیر ہو رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ جیسے ہی ان کی چائے پوری ہو جائے گی، ویسے ہی وہ چلی جائے گی۔

’’طبیعت تو ٹھیک ہی ہے ،پر بائیں پاؤں اور کمر میں جھنجھناہٹ رہتی ہے۔‘‘ بولتے وقت ان کی زبان تالو سے لگ رہی تھی، اس لئے ان کا تلفظ واضح نہیں تھا۔ وہ بول رہے تھے۔

’’میں گاؤں چھوڑ کر چلا آیا۔‘‘

’’ ہاں آپ کے بھائی صاحب نے فون پر بتایا تھا۔‘‘

’’فون کیا تھا؟ کیا کہہ رہے تھے؟‘‘وہ حیرت زدہ ہوکر پوچھنے لگے تھے۔

’’آپ کے بچوں کو سمجھانے کے لیے کہہ رہے تھے۔‘‘

’’کون؟ آپ سمجھائیں گی؟‘‘

’’ ہاں، ایسا ہی تو کہہ رہے تھے دیواکر۔‘‘

وہ ہنسنے لگے تھے۔ چائے کے ساتھ بسکٹ ڈبو ڈبوکر کھا رہے تھے اور آہستہ آہستہ چسکی لیتے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ نیپا دیوار کی گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ گھڑی کا کانٹا دیکھتے ہی اس کا دل پریشان ہو اٹھا۔ آج ضرور آفس پہنچنے میں دیر ہو جائے گی۔ پھر سوانئی بابو، ضرور دو چار باتیں سنائیں گے۔

’’صرف پروموشن مانگنے سے نہیں ہو گا، مسز مونہنتی۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو آپ کو، وقت کا پکا ہونا پڑے گا، صحیح وقت پر آنا ہوگا، کام میں باقاعدہ ہونا ہوگا۔ اور مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آپ مجھے بتائے بغیر ہی، براہ راست منیجنگ ڈائریکٹرسے اپنے پروموشن کے لئے کہہ رہی تھیں۔‘‘

وہ ہاتھ میں کپ لے کر چائے پینے لگے۔ ان کا ہاتھ کمزوری سے کانپ رہا تھا، اس لئے کپ بھی ہل رہا تھا۔ نیپا کو دل ہی دل میں بڑا خراب لگنے لگا۔ چہرے پر پسینے کے قطرے بھی نمودار ہو گئے۔ اس نے اپنے پرس کی زپ کھول کر رومال نکالا اور منہ پوچھنے لگی۔ کام کا بہانہ کر کے باورچی خانے کے اندر چلی گئی۔ پھر کچھ دیر بعد باہر لوٹ آئی۔ اس وقت تک انہوں نے چائے پی لی تھی، مگر وہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ یہ دیکھ کر نیپا سے رہا نہیں گیا اور بولی۔

’’لگتا ہے آپ تھکے ہوئے ہیں، تھوڑا سا آرام کر لیجئے۔ آفس میں مجھے ضروری کام ہے، اب جانا ہوگا۔ میری میز پر ایک اہم فائل آئی ہوئی ہے۔ اس کو آج ہی منیجنگ ڈائریکٹر کے پاس بھیجنا ہے تو، مجھے جانے کی اجازت دیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے، میں بھی جا رہا ہوں۔‘‘

’’کہاں جائیں گے آپ؟‘‘

’’کہاں جاؤں گا؟‘‘وہ ہنس دیئے تھے۔

’’آپ کہیں مت جائیے۔ آپ یہیں رک جائیے۔ دیواکر دوپہر میں کھانے کے وقت گھر آتے ہیں۔ آپ سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، آپ دونوں لنچ بھی لے لیجئے گا۔ ٹھیک ہے تو اب میں چلوں؟‘‘

وہ سینٹرل ٹیبل پر رکھے اخبار کو اٹھا کر پڑھ رہے تھے۔ نیپا پورچ سے اپنی اسکوٹی نکال کر آفس جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ تب بھی وہ وہیں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نیپا کو انہیں ایسے اکیلے چھوڑ کر جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا، مگر اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ بھی تونہیں تھا۔ اسے یاد آیا کہ کچھ دیر بعد گھر کے کام نپٹاکر ماسی بھی چلی جائے گی، پھر وہ گھر میں بالکل اکیلے بیٹھے رہیں گے۔ اس لئے اسے گھر پر تالا نہیں لگانا چاہئے۔ ویران گھر میں اکیلے بیٹھ کر وہ کیا کریں گے؟ نیپا تصور کرنے لگی کہ گھر میں وہ اکیلے خاموشی سے بیٹھے ہیں۔ ایک ہی اخبار کو شروع سے لے کر آخر تک، اوپر سے نیچے تک، دو تین بار پڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ ڈرائنگ روم میں ٹیلی ویژن ہے، مگر انہوں نے ٹیلی ویژن اسٹارٹ تک نہیں کیا ہے۔

بڑھاپا آنے پر انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے۔ ان کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یہ آخری وقت، کیا صرف موت کی فکر میں گزر جائے گا؟ یا ایک گائے کی مانند اپنی پرانی یادوں کی جگالی کرتے کرتے باقی بچا وقت پار ہو جائے گا؟ دوپہر کو دیواکر ہر دن کی طرح ضرور گھر آئیں گے۔ مائکرو ویو میں کھانا ضرور گرم کریں گے۔وہ دیواکر سے اپنے سکھ دکھ کی باتیں کریں گے۔ دیواکر کے پاس تو کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا، وہ تو صرف ایک اچھے سامع بن کر بس سنتے رہیں گے۔

یہ الگ بات ہے کہ آج کل وہ نیپا کے گھر پہلے جتنا نہیں آتے تھے۔ بس سال میں ایک آدھ بار آکر خیر خیریت پوچھ کر چلے جاتے تھے۔ مگر نیپا کو یہ اچھی طرح یاد ہے کہ جب وہ شادی کر کے نئی نئی آئی تھی، وہ ہفتے میں اکثر ایک دو بار آ ہی جاتے تھے۔ ایک کپ چائے لے کر پیتے پیتے ایک گھنٹہ تو کبھی دو گھنٹے تک بھی بیٹھ جاتے تھے ،گپ شپ کرنے کیلئے۔

ان کی گپ شپ میں گھر، خاندان یا بال بچوں کے بارے میں ذرا سی بھی بات نہیں ہوتی تھی، صرف سیاست سے متعلق ہی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس وقت جتنے بھی نامی گرامی لیڈر تھے، ان کی اچھائیاں برائیاں، ان کے اندھیرے اجالے، ہر سمت پر تفصیل سے باتیں کرتے تھے۔ کبھی کبھی نیپا بھی اپنا کام کاج چھوڑ کر ان کی باتیں سننے کے لیے بیٹھ جاتی تھی۔ سیاست میں اونچی جان پہچان رکھنے کے باوجود بھی، وہ الیکشن میں کبھی کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ وہ دوسرے لیڈروں کی طرح بھی نہیں تھے، جو موقعے کا فائدہ اٹھا کر اپنے کام بنا لیتے تھے۔ ایک بار نیپا کو ان کے گھر جانے کا موقع ملا تھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ بیٹھنے لیٹنے کیلئے بچھی ہوئی تھی بان والی ایک چارپائی وہ بھی بنا کسی بستر کے۔ اس چارپائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ پاس میں تھی پتھر کی مورت بنی بیٹھی ایک ادھیڑعمر کی عورت۔ خوشی غمی کے ہر احساس سے محروم،خالی ذہن لئے خلاؤں میں گھورتی۔ وہ ان کی دھرم پتنی تھیں۔ دس، بارہ، چودہ اور سولہ سال کی عمروں کے بچے آنگن میں ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ کوئی کوئلے کی انگیٹھی جلا رہا تھا تو کوئی برتن مانجھ رہا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک بچہ مہمانوں کے سامنے دو کپ چائے رکھ کر چلا گیا تھا۔

بعد میں نیپا کو پتہ چلا تھا کہ اس کی بیوی کا دماغ خراب ہو گیا تھا، اس لئے ان کو بھاری بھاری دوائیاں کھانی پڑتی تھی۔ انہی دواؤں کی وجہ سے آہستہ آہستہ وہ اتنی غیر فعال ہو گئی تھیں، گویا وہ زندہ لاش ہوں۔ بچے ہوٹلوں سے آلو چوپ یا وڑا منگا کر کھاتے تھے، کیونکہ اکثر ان کے والد صاحب وہاں نہیں رہتے تھے۔ اور ماں کا تو کہنا ہی کیا؟ وہ تو زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ حالت میں تھی۔ اس دن کے بعد نیپا کبھی بھی ان کے گھر نہیں گئی تھی۔ بچے خود ہی اپنا جدوجہد کرتے کرتے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے۔ اخبار میں اشتہارات کے ذریعے انہوں نے اپنے جیون ساتھی بھی منتخب کر لئے تھے۔ بس ایک آدھ بار دعوت پر گئی تھی، نیپا ان کے گھر۔

چار پانچ سال ہوئے ہوں گے، ان کے ایک تاجر لڑکے نے پرانے گھر کو تڑواکر نیا آشیانہ بنوایا تھا۔ اُس وقت تک بھی وہ بھونیشور میں ’’ایم ایل اے کوارٹر‘‘ میں رہتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کے ساتھ کبھی بھی ملاقات نہیں ہو پاتی تھی۔ دوبارہ جب الیکشن کا وقت آیا، تو وہ واپس آئے تھے۔ کبھی کبھار راستے میں ان سے ملاقات ہو جاتی تھی، لیکن وہ اتنے مصروف نظر آتے تھے کہ بات کرنے کا وقت بھی نہیں مل پاتا تھا۔ اکثر اس وقت وہ کسی نہ کسی سیاسی شخصیت سے گھرے رہتے تھے۔

دیواکر ان کا کوئی لنگوٹیادوست نہیں تھا، اس لئے بھونیشور سے آنے کے بعد ،وہ ان کے گھر ملنے بھی نہیں آئے۔ لیکن اس بار ان کی پارٹی کی نمائندگی کرنے والے امیدوار ہار گئے تھے اور ان کو بھونیشور جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب وہ کہاں جاتے۔ ملا کی دوڑ مسجد تک۔ اس چھوٹے سے شہر سے اپنے گھر تک وہ محدود ہوکر رہ گئے تھے۔ اسی دوران ان کا سب سے چھوٹا بیٹا بھی جوان ہو گیا تھا۔ بہت ہی بدمعاش نکلاتھا۔ کالج کی پڑھائی درمیان میں چھوڑ کر، دن بھر پان کی دکان پر بیٹھا رہتا۔ وہ اس کو بہت سمجھاتے تھے۔ پرنسپل سے درخواست کرتے ہوئے ایک بار پھر کالج میں داخلہ دلوا دیا تھا۔ وہ کالج تو جانے لگا تھا، مگر بری صحبت میں پھنس کر گانجے اور دارو کا عادی ہو گیا تھا۔ راستے میں جب بھی دیواکر سے ملاقات ہوتی، تو اپنے چھوٹے بیٹے کی حرکتوں کے بارے میں ضرور بتاتے۔ دیواکر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا تھا۔

’’آپ نے کبھی زندگی بھر تو بچوں کے مستقبل کے بارے میں تو سوچا نہیں، اب کیوں اتنا پریشان ہوئے جا رہے ہیں؟‘‘

وہ ہنستے ہنستے کہتے تھے، ’’ٹھیک ہے۔ سب بچے اپنے بل بوتے پر آہستہ آہستہ کھڑے ہوگئے ہیں۔ میرا چھوٹا بیٹا نہیں ہو پایا۔ اسی بات کا مجھے افسوس رہا ہے۔‘‘

گھریلو زندگی میں اس سے بڑھ کر اور کیا فکر ہو سکتی ہے؟ ان کے چھوٹے والے بیٹے نے جیسے ضد پکڑ لی تھی کہ وہ دبئی جائے گا ،اور جائے گاہی۔ اس کیلئے روپے پیسوں کا بندوبست وہ کہاں سے کریں۔ ویزا پاسپورٹ کے بارے میں کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان سب کی آسانی سے جگاڑ کی جا سکتی تھی، وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ ویسے بھی وہ لڑکا روز پچیس تیس روپے مانگ کر لے رہا تھا اور روپے دیتے دیتے وہ تھک گئے تھے۔ ہر قسم کے نشے کا وہ عادی ہو گیا تھا۔ ان کے دماغ میں یہ بھی آ رہا تھا کہ یہ لڑکا باہر جانا چاہتا ہے، تو بھلے ہی جائے۔ دنیا بھر کے لوگ وہاں جا کر کچھ نہ کچھ کام کرتے ہی ہیں، یہ بھی جائے گا تو اپنا پیٹ پال ہی لے گا، لیکن ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جانے کے لیے اتنا سارا روپیہ کہاں سے لایا جائے گا۔

وہ سوچ رہے تھے کہ باقی تین بیٹوں سے تھوڑے تھوڑے روپے مانگ کر چھوٹے بیٹے کو دے دیں۔ انہیں لگا تھا کہ �آسانی سے روپے مل جائیں گے۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ اتنی آسانی سے روپیوں کا بندوبست نہیں ہو پایا۔ دو بڑے بیٹوں کو اس بارے میں خط لکھا تھا، مگر اس کا جواب نہیں آیا۔ فون بھی کیا تھا ان کو، مگر ان کا جواب سن کر وہ مایوس ہو گئے تھے۔ بڑے بیٹے کے مطابق اس کو چوک میں چائے کی دکان کھولنی چاہئے۔ منجھلے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ دبئی جاکر وہ کیا کرے گا؟۔ اسکو کہئے کہ وہ کھیتی باڑی کرے۔ تیسرے بیٹے کی بدمزاجی کو وہ اچھی طرح جانتے تھے، اس لئے اس سے تو بالکل بھی نہیں مانگا۔ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اپنی ایک زمین بیچ دی تھی پچاس ہزار میں اور اس رقم کو چھوٹے بیٹے کو اسکی خواہش کیلئے دے دیا۔

روپے لے کر چھوٹا بیٹاکچھ دنوں کے لیے غائب ہو گیا۔ دو ماہ کے بعد وہ واپس آیا تھا، میلے کچیلے کپڑے پہنے، بنا تیل کے الجھے بال، اس پر پچکا ہوا چہرہ۔ جب کوئی دبئی کی بات پوچھتا تھا، تو ہر کسی کو نئی نئی کہانی سناتا تھا۔’’روپیوں کا کیا ہوا؟‘‘پوچھنے پر ناراض ہو کر جھگڑنے لگتا تھا۔ چھوٹے بیٹے کی اس حرکت سے وہ مکمل طور پر ٹوٹ گئے تھے۔ مگر ان کے اس دکھ سے چھوٹے بیٹے کو دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ وہ ہر روز زبردستی دھمکی وغیرہ دے کر کچھ نہ کچھ روپے مانگ لیتا اور روپے نہ ملنے پر گھر کا سامان جیسے گھڑی، سائیکل، ٹیپ ریکارڈر وغیر بیچ دیتا۔ اس کے اس رویے سے تنگ آکر، سب سے بڑے تاجر بھائی نے آبائی گھر کو چھوڑ دیاا ور دوسری جگہ کرائے پرگھر لے کر رہنے لگا تھا۔ آبائی گھر میں رہ گئے تھے صرف ایک ہونق سی عورت، ایک بوڑھا انسان اور ان کا ایک نالائق بیٹا۔ ان کا چھوٹا بیٹا دن بھر باہر گھومتا رہتا اور رات کو خاموشی سے گھر آکر سو جاتا۔ دن بھر کہاں تھا؟ کھانا کھایا یا نہیں؟ یہ پوچھنے کی ان کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اسی لئے ایک دن انہوں نے طے کر لیا کہ ایک مٹکا پانی اور پلیٹ میں روٹی سبزی ڈال کر اس کے کمرے میں اٹھنے سے پہلے ہی رکھ دیئے جائیں۔ اتنی شدید گرمی کے دنوں میں کس طرح سوتا ہوگا؟ یہی سوچ کر انہیں نیند نہیں آتی تھی، کیونکہ اس لڑکے نے اپنے کمرے کا ٹیبل فین بہت پہلے ہی فروخت کر دیا تھا۔ ان کا دل بہت دکھی ہونے لگا تھا۔ اس وجہ سے ایک چھت کا پنکھاخرید اس کے کمرے میں فٹ کروا دیا تھا۔ مگر ایک دن انہوں نے دیکھا کہ وہ پنکھا بھی وہاں سے غائب ہو گیا ہے۔ اس بار وہ خود کو روک نہیں پائے۔ بیٹے سے پوچھنے لگے، ’’ چھت کا پنکھا کسے دے دیا؟۔ کتنے روپیوں میں دیا؟۔ میں نے تو یہی سوچ کر خریدا تھا کہ تجھے گرمی لگتی ہوگی اور تم نے تو ایک ہی مہینے میں اسے پار لگا دیا۔‘‘

بیٹا بہت ہی غصے بھرے لہجے میں بولا تھا، ’’آپ مجھے جیب خرچ تو دیتے نہیں ہیں۔ اگر پنکھانہیں بیچوں گا تو خرچ کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘‘

وہ غصے سے آگ بگولا ہو گئے تھے، مگر انہوں نے نیل کنٹھ شیو کی مانند غصے کا سارا زہر اپنے اندر ہی پی لیا۔ ایک دو روز تک بیٹے کی طرف دیکھا بھی نہیں، مگر پھر تیسرے دن سے، ان کا دل اس کو دیکھنے کے لئے تڑپنے لگا تھا۔ کچھ نہیں تو، ایک ہاتھ کا پنکھا لاکر اس کے کمرے میں رکھ دیا تھا۔ اس کے کمرے میں کچھ بھی نہیں تھا، بان کی چارپائی اور ہاتھ کے پنکھے کو چھوڑ کر۔ کچھ دن گزرنے کے بعد ،پھر ایک دن انہوں نے دیکھا، ان کا چھوٹا بیٹا ہتھوڑی لے کر کھڑکی توڑ رہا تھا۔ ان سے یہ دیکھ کر رہا نہیں گیا اور پوچھنے لگے۔

’’ کھڑکی کیوں نکال رہا ہے؟‘‘

’’اس کو بیچوں گا۔‘‘

’’تم کیا کنگال ہو گئے ہو جو گھر کی کھڑکی توڑ کر بیچوگے۔ کتنے روپے چاہئے تمہیں؟‘‘

لڑکے نے ان کی بات کو ان سنا کر دیا اورا پنے کام میں لگا رہا۔ کوئی حل نہ پاکر وہ سیدھے تھانے چلے گئے۔ یہ سوچ کر کہ پولیس آکر دھمکائے گی تو شاید ڈر کر کھڑکی توڑنے کا کام بند کر دے گا۔ مگر پولیس نے انہیں ’’یہ گھر کا معاملہ ہے‘‘ کہہ کر سمجھا بجھا کر گھر لوٹا دیا۔ گھر لوٹ کر انہوں نے دیکھا کہ کھڑکی کی جگہ ایک ٹوٹی ہوئی دیوار، ان کا انتظار کر رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے وہ اُس کے کمرے کو باہر سے تالا لگاتے تھے، کہیں ایسا نہیں ہو کہ دوسرا کمرہ بھی محفوظ نہ رہے۔ اس کے بعد سے چھوٹا بیٹا اسی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے سے آتا جاتا تھا۔ رات کے اندھیرے میں گھر گھستا تھا اور صبح ہوتے ہی نکل جاتا تھا۔ ایک دن کسی بات کو لے کر ان کا چھوٹے بیٹے کے ساتھ زوردار جھگڑا ہو گیا تھا۔ اسی دوران وہ بیہوش ہوکر زمین پر گر پڑے تھے۔ یہ دیکھ کر چھوٹا بیٹا کھڑکی سے بھاگ گیا یہ کہتے ہوئے’’بڑھاپے میں بھی بہانے بنانے سے باز نہیں آتے ہیں‘‘آس پڑوس کے لوگ ان کو اٹھاکر ہسپتال لے گئے تھے۔ اپنی حالت زار کے بارے میں سب کواطلاع بھی دے دی تھی، لیکن کوئی بھی ان کو دیکھنے نہیں آیا تھا۔

شہر میں کرائے پر رہنے والے تیسرے بیٹے نے خاندان میں شرمندگی سے بچنے کیلئے، اپنے والد صاحب کی خدمت کچھ دن تک ضرور کی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ موت کے دروازے تک جا کر بھی، دوبارہ اس دنیا میں لوٹ آئے تھے۔ ان کا اس طرح لوٹ آنا اپنے برے دنوں کو بلانا تھا۔ اگر مر جاتے تو شاید اچھا ہوتا۔ جس طرح سے دو ملکوں کی سرحد پر کھڑے رہنے سے جو حالت ہوتی ہے، ایسا ہی حال ان تھا۔ نہ اِدھر کے تھے نہ اُدھر کے، نہ تو دنیا کو چھوڑ پائے تھے، نہ ہی ان کو یہاں شانتی مل پائی تھی۔ ذرا بیماری کا کمبل اوڑھ کر وہ بیٹھے تو بس بیٹھے ہی رہے۔ ایسی ہی بیماری کی حالت میں، ایک دن کانپتے ہوئے وہ نیپا کے گھر آئے تھے۔ ان کا چہرہ سُتا ہوا لگ رہا تھا، بالکل گھسے ہوئے پرانے سکوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ بات بھی واضح طور پر نہیں کر پا رہے تھے۔ وہ دیواکر کے سامنے اپنا دکھڑا سنا رہے تھے۔ نیپا باورچی خانے میں مصروف تھی۔ وہ سوچ رہی تھی، کیا کوئی اور سننے والا نہیں ملتا ہے انہیں؟ جو اتنی دور سے پیدل چل کر آتے ہیں، اپنا دکھ درد سنانے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ دیواکر تو ان کی، کبھی بھی، کسی بھی طرح سے، مدد نہیں کرتے۔ پھر بھی کیوں آتے ہیں؟

وہ کہہ رہے تھے، ’’دنیا میں کوئی کسی کا نہیں ہے۔ بڑے بیٹے کے قریب رہنے کی سوچ رہا تھا، تو وہ کہہ رہا تھا کہ آپ ممبئی جیسے شہر میں نہیں رہ پائیں گے۔ یہاں آکرکافی پریشان ہو جائیں گے۔ منجھلے بیٹے کے گھر میں پانچ دن تک رکا تھا، مگر کسی نے مجھ سے بات تک نہیں کی، نہ بیٹے نے، نہ بہو نے۔ بڑا ہی برا لگ رہا تھا، لہذا واپس چلا آیا۔ رہی چھوٹے بیٹے کی بات، وہ کیا بولتا ہے جانتے ہو، آپ مر کیوں نہیں جاتے ہیں۔آپ کے مر جانے سے زمین پر سے بوجھ کم ہو جائے گا۔ میں تو آپ کو مار بھی دیتا، مگر پولیس مجھے اندر کر دے گی۔ ایک آدمی کو سپاری دے دیتا تو کسی گاڑی کے نیچے دباکر آپ کا کام تمام کر دیتا۔ مگر سپاری دینے کے لیے ،میرے پاس دس پندرہ ہزار روپے نہیں ہیں۔ اچھا صحیح صحیح بتا دیواکر، کیا میں واقعی اس دنیا کے لئے بوجھ بن گیا ہوں؟ میں مرنا چاہتا ہوں، پر چاہنے سے تو موت بھی نہیں آتی۔ خود کشی کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔‘‘

اس دن ان کی باتیں سن نیپا کا دل دہائیوں دینے لگا تھا۔ اس کا دل بہت اداس ہو گیا تھا۔ ان سے ہوئی اس ملاقات کے تین چار دن بعد، نیپا اور دیواکر کی، مارکیٹ میں ان کے تاجر لڑکے سے ملاقات ہو گئی۔ دیواکر اس سے کہنے لگا، ’’تم اپنے پاپا کو اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھتے ہو؟ وہ ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔ رہنے کے لئے ایک کوٹھری بھی نہیں ہے۔ تمہارا چھوٹا بھائی ان کو بہت ستا رہا ہے اور اتنی عمر میں وہ جائیں گے بھی کہاں جائیں گے؟‘‘

’’میرے پاس وہ نہیں رہ پائیں گے۔ میری بیوی کے ساتھ ان کی نہیں بنتی ہے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’ان کو معلوم ہے۔‘‘

’’ارے تم تو ہونا، اگرتمہاری بیوی کے ساتھ نہیں بنتی ،پھر بھی کیا ہے۔ انہیں سمجھا بجھا کر گھر لے آؤ اور ادھر اپنی بیوی کو بھی تھوڑابہت سمجھا دو۔‘‘

’’آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں؟ دوسرے بھائیوں کا کیا کچھ فرض نہیں بنتا ہے؟ بڑا بھائی تو کنی کاٹ رہا ہے، منجھلا بھائی ہمارے ہی شہر میں مکان کرائے پر لے کر رہ رہا ہے۔ وہ دونوں کیوں نہیں رکھتے ہیں پاپا کو؟ جب دل کا دورہ پڑا تھا، اس وقت بھی انہیں فرصت نہیں تھی دیکھنے آنے کی۔ پاپا کو صرف فون پر سمجھا رہے تھے کہ کھانے پینے میں کیا کیا احتیاط برتنی ہیں۔پاپا کیا صرف میرے ہی ہیں؟ ان کے کچھ بھی نہیں ہیں اور ویسے انہوں نے مجھے دیا بھی کیا ہے۔ جب میں چھوٹا تھا، تب میرا بچپن گزرا نیم پاگل ماں کے ساتھ۔ ہوٹلوں سے آلو چوپ، وڈا کھا کر میں اسکول جاتا تھا۔ ایک دن ہیڈ ماسٹر نے میرے پاپا کو اسکول بلایا تھا۔ مگر وہ ایک ماہ تک اسکول نہیں گئے۔ ہیڈ ماسٹر نے مجھے بلا کر کیا کہا تھا کہ جانتے ہو۔ چھوڑیں جی بیتی ہوئی ان باتوں کو۔ یہ ہی نہیں، ایک بار ایک انجان آدمی ہمارے گھر آیا تھا۔ مجھے دیکھ کر پوچھنے لگا تھا کیا یہ آپکا بیٹا ہے؟ کیا نام ہے اس کا؟ پاپا فوری طور پر اس آدمی کے سامنے ہی مجھ سے پوچھنے لگے تھے کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اس دن مجھے ایسا لگا تھا کہ مانو کسی نے میرے گال پر زور دار طمانچہ مار دیا ہو۔ ان کی پارٹی آفس میں چائے بیچنے والے لڑکے سے معمولی سود پر دس ہزار روپے، میں نے قرضے کے طور پر لیے تھے۔ انہی قرضے کے پیسوں سے میں نے یہ دکان کھولی تھی۔ پائی پائی جوڑ کر، بڑے ہی تکلیف کے ساتھ وہ قرض ادا کیا تھا اور جی توڑ محنت کر کے اس دکان کو اتنا آگے بڑھایا ہے۔‘‘

ان کے بیٹے کی یہ سب باتیں سن کر، اس کااندازِ بیاں دیکھ کرنیپا اور دیواکر ذرا بھی غصہ نہیں کر پا رہے تھے۔ پھر وہ لوگ خاموشی وہاں سے چلے آئے تھے۔

بہت دنوں کے بعد وہ پھر آئے تھے ہمارے گھر۔ اسی آفس جانے وقت پر۔ کیا مدد کر پاتی نیپا ؟ کیوں آئے تھے وہ؟اپنے طرح طرح کے دکھوں کی کہانی سنانے کیلئے۔ ان کو ڈرائنگ روم میں ایسے ہی بٹھا کر چلے جانا مناسب نہیں تھا۔ ان کو بھی نیپا کے ساتھ ساتھ چلے جانا چاہیے تھا۔ ادھر ادھر کی ساری باتیں سوچتے ہوئے نیپا کو لگ رہا تھا کہ ان کے پاس کچھ بھی کام نہیں ہے۔ تھوڑی دیر بیٹھیں گے، اخبار کے صفحات کو پلٹیں گے، زیادہ ہوگا تو کچھ جھپکی بھی لگالیں گے، نہیں تو پھر اپنے ماضی کے بارے میں سوچیں گے۔ تب تک تو دیواکر بھی آ جائیں گے۔ اس کے بعد دونوں ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے، گپ شپ کریں گے اور پھر جب دیواکر کے آفس کا وقت ہو گا، تو شاید وہ انہیں راستے میں کہیں چھوڑ تے ہوئے نکل جائے گا۔

آج نیپا واقعی آفس میں لیٹ پہنچی تھی۔ آفس پہنچتے ہی، چپراسی شیو پہلے ہی سے، اس کا راستہ روک کر کھڑا تھا۔

’’میڈم، پانی بابو بہت وقت سے آپکا انتظار کر رہے ہیں؟‘‘

’’اچھا ۔‘‘

’’میڈم، اپنا روپیہ نہیں لیں گی۔ نہیں تو، میری جیب سے دوبارہ خرچ ہو جائے گا۔‘‘

’’کون سا روپیہ؟‘‘حیرت سے نیپا نے پوچھا۔

’’بھول گئیں؟‘‘

’’ارے! جلدی بتاؤ نہ، کون سا روپیہ؟‘‘

’’اکتوبر کے مہینے میں آپ نے جو مجھے قرضہ د یا تھا۔‘‘

’’ارے سچ میں، میں تو بھول ہی گئی تھی۔‘‘

’’اچھا رکھیئے،رکھیئے۔ آپ تو بھول گئی تھیں، آپ کے پاس تو بہت پیسہ ہے۔ ہم غریب لوگ، کہاں بھول پاتے ہیں؟‘‘

چپراسی کی یہ بات نیپا کو اچھی نہیں لگی۔ غریب لفظ بولتے وقت ایسا لگ رہا تھا، گویا اس کا کچھ الگ ہی مطلب نکل رہا ہو۔ جو بھی ہو، جب وہ اپنے کیبن کے پاس گئی، تو وہاں پانی بابو کو کھڑا دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ شیو کے جیب میں روپیہ کہاں سے آیا؟پانی بابو نے نیپا کو سر جھکا کر نمسکار کیا۔ اور کسی ماتحت کی مانند ہنسنے لگے تھے۔ پھر آہستہ سے ایک لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا۔

’’دیکھئے، پانی بابو آپ تو مجھے پہلے سے ہی جانتے ہیں۔ یہ سب چیزیں مجھے قطعی پسند نہیں ہے۔ آپ پہلے اپنا لفافہ یہاں سے اٹھایئے۔ جہاں اس کی ضرورت ہے، وہاں اسے دے دیجیے۔‘‘ پانی بابو لفافہ نہیں لے رہے تھے۔ نیپا سیدھی جاکر اپنے کمپیوٹر کے پاس بیٹھ گئی۔

’’تھوڑا دیکھئے گا، میڈم۔‘‘

لفافہ اٹھاتے ہوئے پیچھے سے بولے تھے پانی بابو۔ پانی بابو کے چلے جانے کے بعد، نیپا ٹیبل پر رکھی فائلوں کو پڑھنے لگی۔ وہ بیچ بیچ میں اپنے ماتحت ملازموں کو شیشے کی دیوار میں سے دیکھ رہی تھی۔ ایک بار شیو کو بلا کر ڈانٹا بھی۔ پھر ڈر کے مارے دبے پاؤں منیجنگ ڈائریکٹرکے چیمبر میں گئی اورجب وہاں سے لوٹی، تو اس کو تین اور کام بھی دیے گئے تھے۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ اگلے ہفتے جو وہ چھٹی پر جانا چاہتی تھی، اب اس کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ اس کا دل دکھی ہو گیا تھا۔ وہ اپنی قسمت اور کام کو کوسنے لگی اور کمپیوٹر میں کام کرنے میں اتنی محو ہو گئی کہ اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ لنچ کا وقت گزر چکا ہے۔ آفس کے دوسرے لوگ لنچ کرنے کے بعد ،اپنی اپنی جگہ پر واپس آگئے تھے۔ اس نے بغیر دل کی مرضی کئے، ایسے ہی اپنے بیگ میں ہاتھ گھسایا، تو پتہ چلا کہ اس میں ٹفن نہیں تھا۔ وہ آج ٹفن لانا ہی بھول گئی تھی۔ چپراسی کو بھیج کر سامنے والے ٹھیلے سے کچھ فاسٹ فوڈ منگوا لیا، مگر اسے بھی کھانے کی خواہش نہیں ہو رہی تھی۔

سوانئی بابو نے اسے دو بارہ اپنے چیمبر میں بلایا تھا۔ سوانئی بابو اسے ٹور پر بھیجنا چاہتے تھے۔ ٹور پر جانے سے نیپا کو گھر چلانے میں دقتیں آتی تھیں، لہذا ٹور کا نام سننے سے اسے ڈر سا لگتا تھا۔ سوانئی بابو کو نیپا کی یہ کمزوری معلوم تھی، اس لئے کوئی بھی مسئلہ ہو جانے پر، وہ ہر بار ٹور کی بات اٹھا دیتے تھے۔ سوانئی بابو، نیپا کی کارکردگی کے بارے میں اتنا بڑھا چڑھا کر بولتے تھے کہ منیجنگ ڈائریکٹر بھی ٹور کے لئے اس کے نام کی تجویز منظور کر دیتے تھے۔چنانچہ ٹور پر جانے کے لیے وہ پابند ہو جاتی تھی۔

سوانئی بابو کے چیمبر سے واپس آنے کے بعد نیپا دکھ اور غصے سے ابلنے لگی تھی۔ ادھر کونے میں بیٹھی ہوئی نندتا یہ سب منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ ہنستی ہوئی اس کے پاس آ گئی اور ٹیبل کے اوپر چاؤمین کا پیکٹ دیکھ کر پوچھنے لگی، ’’کیا تم آج ٹفن لانا بھول گئی ہو؟ کیا چاؤمین باہر کے ٹھیلے سے منگوایا ہے؟ لنچ کے وقت ہمارے پاس کیوں نہیں آئی؟ کیا آج میاں بیوی کے درمیان کچھ ان بن ہو گئی ہے؟ میں نے دیکھا تم سوانئی بابو کے چیمبر سے آ رہی تھی توتمہارا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔ میں نے سوچا، چلو دیکھ آؤں۔ ضرور کچھ نہ کچھ سنایا ہوگا، سوانئی بابو نے۔‘‘

کتنی جلدی نندتا نے، نیپا کی حالتِ زار کو اپنی مختصر سی گفتگو میں کہہ ڈالا۔ اس کو دیکھ کر نیپا کو لگ رہا تھا، کاش وہ بھی نندتا کی طرح ہوشیار ہوتی۔ نیپا ، نندتا کو دو وجوہات کی بنا پر پسند نہیں کر پاتی تھی، پہلی وجہ وہ اس کے ہیڈ سوانئی بابو کی ایک نمبر کی چمچی تھی، دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ اس سے عمر میں چھوٹی اور اس کی ماتحت میں ہونے کے باوجود بھی اوچھے منہ سے ’’تو ،تڑاق’‘‘سے ایسے باتیں کرتی تھی کہ گویا اس کی بہت گہری دوست ہو۔ نیپا نے چاؤمین کا پیکٹ مو ڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا اور کہنے لگی، ’’آج بہت مصروف تھی، اس لئے کھانا نہیں لا پائی تھی۔‘‘

’’میں یہاں آگئی تو تم نے چاؤمین پھینک دیا۔ انڈے والا تھا یا چکن والا؟‘‘نندتا پیپر ویٹ کو ٹیبل پر گھماتے گھماتے پوچھنے لگی تھی ۔

’’یہ سوانئی بابو کوئی اچھا آدمی نہیں ہے۔ بڑا ہی مغرور قسم کا، رعب دکھانے والا آدمی ہے، سیڈکِٹو نیچر کا ہے، دوسروں کو پریشان کرنے میں اسے خوب مزہ آتا ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے رہتے ہیں۔‘‘

نیپا برانچ آفس کے لئے ایک بجٹ بنا رہی تھی، اس لئے وہ احتیاط سے ،مگن ہوکر فائل پڑھ رہی تھی، بولی، ’’چھوڑ نہ، ان باتوں کو۔‘‘

نندتا، نیپا کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر پھر سے بولنے لگی تھی، ’’تم جانتی ہو؟ آفس کے سامنے ایک نمائش لگی ہوئی ہے۔ اس میں ہر قسم کی الیکٹرانک چیزیں سستی داموں میں مل رہی ہے۔ آفس بند ہونے کے بعد تم چلو گی ساتھ میں ؟‘‘

’’ ہاں، ہاں، میں جانتی ہوں، باہر سے دیکھا ہے، اندر نہیں گئی ہوں۔ دیکھتی ہوں، سہولت ہوئی تو چلوں گی۔‘‘

’’اور کتنا کام کروگی؟۔ گھڑی میں ساڑھے تین بج گئے ہیں۔ اب دیکھنا، سب لوگ ایک ایک کر کے باہر نکلنا شروع کر دیں گے۔‘‘

’’مجھے مزید پندرہ منٹ لگیں گے۔ تھوڑا کام باقی ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے، سب سے پہلے تم اپنا کام ختم کر لو، پھر میرے کیبن میں آ جانا۔‘‘

نندتا چلی گئی تھی اپنے کیبن میں۔ نیپا دوبارہ اپنے کام میں لگ گئی۔ وہ اس چیز کو بخوبی جانتی ہے، وہ اچھا کام کرتی ہے تبھی تو منیجنگ ڈائریکٹر اسکو پسند بھی کرتے ہیں۔ نہیں تو، اب تک تو تنکے کی طرح کہاں پھینک دی جاتی، پتہ بھی نہیں چلتا۔ سوانئی بابو کی وجہ سے یا تو وہ کسی قصبے میں بھیج دی جاتی یا پھر نوکری سے ہی نکال دی گئی ہوتی۔ نیپا کو اپنا کام ختم کرنے میں بیس سے پچیس منٹ کا وقت لگا تھا۔ نندتا کب سے اس کا انتظار کر رہی تھی، نیپا کے کیبن میں بیٹھ کر۔ باقی بچے کاموں کو نمٹا کر، وہ دونوں باہر نکل گئیں۔ نیپا نے اپنی کلائی کی گھڑی دیکھی تو اس میں چار بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔ وہ دونوں آفس سے باہر آ گئی تھیں۔

نیپا کو پتہ نہیں کیوں آج اچھا نہیں محسوس ہو رہا تھا۔ کہیں جانے کا موڈنہیں تھا، سیدھا گھر لوٹ جانے کی خواہش ہو رہی تھی۔ پھر بھی وہ نمائش دیکھنے گئی تھی۔ نمائش میں الیکٹرانک چیزوں کو دیکھتے دیکھتے، ایک خوبصورت سی الیکٹرانک گھڑی کی طرف اسکی توجہ گئی تھی۔ اس الیکٹرانک رسٹ واچ کی نیپا نے لائٹ جلا کر دیکھی، الارم چیک کیا، اس میں اس نے اپنا ٹیلیفون نمبر محفوظ کر کے بھی دیکھا۔ اس طرح وہ گھڑی کے ساتھ کچھ دیر تک کھیلتی رہی۔ یہ دیکھ کر نندتا بولی تھی، ’’لے لو، بہت خوبصورت ہے یہ گھڑی۔‘‘ نیپا کے پاس پیسے تو تھے، جو شیو نے اسے لوٹائے تھے۔ وہ گھڑی خریدنا چاہتی تھی، مگر اس نے وہ گھڑی نہیں خریدی۔ اس لمحے اسے لگ رہا تھا، اگر وہ گھڑی کے بدلے ایک سائینٹیفک کیلکولیٹر خریدتی ہے، تو وہ اسکے بیٹے کے کام آئے گا۔ جس کیلئے اسکابیٹا کئی دنوں سے کہہ رہا تھا۔ خرید کر لے جانے سے وہ خوش ہو جائے گا۔ اس کا تو اپنی پرانی گھڑی سے ہی کام چل جاتا ہے۔ زیادہ شوقین ہونے سے کیا فائدہ؟ اسی غور و فکر کے بعد نیپا نے اس رسٹ واچ کو رکھ کر دوسرے کاؤنٹر سے بیٹے کے لئے سائینٹیفک کیلکولیٹر اور بیٹی کیلئے بیٹری سے چلنے اور ناچنے والی ایک گڑیا خرید لی تھی۔ نمائش سے باہر نکل کر وہ دونوں کچھ فاصلے تک ایک ساتھ گئے، پھر آگے جاکر اپنا اپنا راستہ پکڑ لیا۔ گھر پہنچ کر انہیں ڈرائینگ روم میں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئی تھی،’’ارے! آپ ابھی تک یہیں ہیں۔‘‘ نیپا کی بات سن کر وہ بری طرح سکڑ گئے اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کیا نیپا نے کچھ غلط کہہ دیا؟

’’گھر خالی تھا، اس لئے چھوڑ کر نہیں جا پایا۔ یہاں تالا تھا مگر چابی کس کو دوں گا؟ ۔یہ سمجھ نہیں پایا۔‘‘

’’مطلب! دیواکر کے ساتھ آپ کی ملاقات نہیں ہوئی؟‘‘

’’نہیں، وہ تو گھر نہیں آئے۔‘‘

’’اے بھگوان۔ آپ تب سے۔۔۔ سوری، ویری ویری سوری۔ بہت تکلیف ہوئی ہوگی آپ کو؟ بہت بور ہو گئے ہوں گے؟ کیا کریں، ہمارے معمولات ہی کچھ ایسے ہیں۔ بیٹھیے، کھانا کھا کر جایئے گا، صبح سے کچھ نہیں کھایا ہوگا۔ میں جلدی سے کچھ ناشتا بنا دیتی ہوں۔ ناشتا ضرور کرکے جائیے گا۔‘‘

’’نہیں، نہیں، میں جا رہا ہوں۔‘‘

’’صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے، بھوک لگ رہی ہوگی؟‘‘

’’آج کل بھوک کہاں لگتی ہے؟‘‘وہ ہنس دیئے تھے۔

’’دیواکر شاید کسی کام میں پھنس گئے ہوں گے یا کہیں کام سے باہر چلے گئے ہوں گے، ورنہ روز دوپہر میں گھر آکر ہی لنچ کرتے ہیں۔ دیواکر نے فون کیا تھا کیا؟‘‘

’’نہیں، کوئی فون نہیں آیا۔ اچھا تو، اب میں چلتا ہوں۔‘‘

یہ بولتے ہوئے وہ گیٹ کھول کر چلے گئے۔ نیپا چاہتے ہوئے بھی ان کو روک نہیں پائی۔ ندامت کے بوجھ سے اس کا سر پھٹا جا رہا تھا۔ اس سے قبل، ایسی صورت حال کبھی بھی اس کی زندگی میں نہیں آئی تھی۔ وہ پچھتاوے کی آگ میں اندر ہی اندر جل رہی تھی۔ بچے اسکول سے واپس آئے تھے، انہوں نے گھر کے کپڑے بھی پہن لئے تھے۔ پھر بھی نیپا ایسی ہی گم صم بیٹھی رہی۔ بیٹی نے پوچھا تھا ،’’ماں آج کھانے کو کچھ نہیں ملے گا؟‘‘

’’ ہاں کیوں نہیں۔نیچے بیٹھو۔‘‘ فوری طور پر اس کو یاد آ گئی تھیں، نمائش سے خریدی گئیں بچوں کے لئے چیزیں۔ انہیں دکھانے سے پہلے وہ بولی تھی،’’ تم دونوں پہلے اپنی آنکھیں بند کرو، پھر دیکھو، تمہارے لئے میں نے کیا نئے تحفہ خریدے ہیں۔‘‘

’’ دکھائیں۔دکھائیں۔‘‘ کہہ کر وہ دونوں اس کے پاس آ گئے تھے۔ بیٹری سے چلنے والی گڑیا دے دی تھی بیٹی کے ہاتھ میں اور سائینٹیفک کیلکولیٹر پکڑا دیا بیٹے کو۔ دونوں بچے کھانا بھول کر کھیلنے لگ گئے تھے۔ نیپا نے ٹیبل پر ناشتا رکھ دیا۔

’’بہت ہو گیا بچوں، آؤ اب کھانا کھا لو۔‘‘

نیپا نے خود بھی گھر کے کپڑے پہن لئے تھے۔ بچے اب بھی کھیل میں مگن تھے۔ پانچ بار بلانے کے بعد، بچے ٹیبل کے پاس آئے تھے اور کھانا کھانے لگے تھے۔ بیٹا تھوڑا بہت کھا کر اٹھ گیا تھا۔ کھانے میں تھا کیا۔ وہی صبح کے دال چاول اور وہی صبح کی باسی سبزیاں۔

’’ میں اور کھا نہیں پاؤں گی۔‘‘

بھائی کی دیکھا دیکھی بیٹی بھی کھانے کی میز سے اٹھ گئی تھی۔

نیپا نے ان دونوں کو اپنے پاس بلایا، کچھ غصہ بھی دکھایا، کچھ ناراض بھی ہوئی۔ آخر میں تنگ آ کر بولی، ’’کھانا ہے، تو کھاؤ، ورنہ نہیں کھاؤ۔ میں کیا کرتی۔ بولو، میں کیسے کھانا بنا کر رکھتی۔‘‘

بیٹی نے کہا، ’’ماں، میں نے آج اپنا ٹفن نہیں کھایا ہے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’روز روز ایک ہی قسم کا ٹفن اچھا نہیں لگتا ہے نہ۔ وہی بسکٹ، وہی مکسچر کتنے دن تک کھائیں گے؟ آپ دوسرا کچھ بنا کر کیوں نہیں دیتی ہیں؟ ہمارے دوست کبھی پراٹھے، تو کبھی اڈلی تو کبھی اُپما کھاتے ہیں۔ ہر دن کچھ نہ کچھ نئی نئی چیزیں لاتے ہیں کھانے کے لئے۔‘‘

’’میرے پاس اتنا سب کچھ بنانے کیلئے وقت کہاں ہے؟۔ تجھے کیا معلوم نہیں کہ تیری ماں نوکری کرتی ہے۔‘‘

’’کون بول رہا تھا آپ کو نوکری کرنے کے لئے؟ ہم نے تو کہا نہیں تھا؟‘‘بیٹا ناراض ہوکر بولا۔

نیپا بیٹے کی بات سن کر خاموش ہو گئی تھی، کیونکہ بچوں کے منہ سے اس طرح کی باتیں سننے کی وہ عادی تھی۔ کبھی اچھا موڈ ہونے پر وہ ان کو سمجھاتی تھی۔ وہ کہتی، ’’میرے کام سے گھر میں زیادہ آمدنی ہوگی اور ہم سب آرام سے رہیں گے۔‘‘

لیکن اس وقت وہ کچھ بھی سمجھانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ اسکو لگ رہا تھا بچوں کے لیے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی کچھ نہ کچھ کمی رہ ہی جاتی ہے، جس سے بچوں کے تئیں اس کی کوتاہی جھلکتی ہے۔ یہی نہیں، مانو ان بچوں نے اپنے بچپن کی پتلی کاپی میں ٹیڑھے میڑھے حروف سے ماں کی کوتاہی کو درج کر لیا ہو۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی جائے گی، یہ بچے بڑے ہو جاتے جائیں گے۔ جب اس کے بال پک کر سفید ہو جائیں گے، تب وہ مفلوج ہوکر، لاچار بنی، بیٹھی رہے گی۔ ہو سکتا ہے، یہ بچے بہت بڑے انسان بن جائیں، لیکن ان کے سینے میں بچپن میں لکھی گئی اس پتلی کاپی کا صفحہ پھڑپھڑاتے ہوئے پلٹے گا۔

تب شاید اس وقت وہ کہیں گے۔

’’آپ نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ ہمیں بچپنے میں، ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں ماں کی گرم آغوش تک نصیب نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے ہم آج تک نہیں جان پائے ہیں کہ گود کا سکھ کیا ہوتا ہے؟ چھٹیوں کے دنوں میں بھی ہم گھر کو اندر سے بند کر کے رکھتے تھے، تاکہ چور ڈاکو، لچے لفنگے، سانپ بچھوؤں سے خود کو بچا سکیں۔ مگر بھوت، بھوت سے کون بچاتا؟ بھوت تو دیوار پھاڑ کر آ سکتا تھا، زمین توڑکر آ سکتا تھا۔ اس وقت کٹنے والے لمحات کو کس طرح بھول پائیں گے ہم، اے ماں، جنہیں ہم نے ایک چھوٹے سے کوارٹر میں اکیلے میں بِتایا تھا؟ بڑے ہی اذیت ناک دن تھے وہ سب کے سب۔ زیادہ تر دن تو بس انتظار کرتے کرتے ،یوں ہی گزر جاتے تھے۔ ہمیشہ ذہن میں یہی خیال رہتا تھا کہ آپ کب آئیں گی۔ کب گھر صحیح سلامت پہنچیں گی؟ راستے میں اگر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ،تو ہم لوگ کیا کریں گے؟ کس کے پاس جائیں گے؟ کس کو مدد کے لئے پکاریں گے؟ ہم تو یتیم ہو جائیں گے۔ ایسے گھٹن بھرے بچپن میں ہمیں اکیلے چھوڑ کر، اتنا وقت باہر خرچ کرنا، کیا آپ کے لئے مناسب تھا، ماں جواب دیجئے۔‘‘

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے