سر ورق / ناول / عورت ذات۔ قسط نمبر 6 امجد جاوید

عورت ذات۔ قسط نمبر 6 امجد جاوید

قسط نمبر 6

 وہ دونوں صحن میں پھر رہے تھے ۔نینا تیزی سے سوچ رہی تھی کہ ان کے ساتھ کس طرح نپٹا جائے۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ۔ اسے کچھ فاصلے پر لوہے کا ایک سریا دکھائی دیا۔ اس نے تیزی سے بڑھ کر وہی اٹھا لیا۔ تبھی ا س نے للکار نے والے انداز میں پوچھا

” کون ہو تم لوگ؟“اس کے یوں کہنے پر وہ دونوں ایک دم ٹھٹک گئے ۔ انہوںنے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ وہ صحن میں چند قدم آگے بڑھے تو نینا نے پھر اسی طرح للکارنے والے انداز میں پوچھا،” میں پوچھتی ہوں ،کون ہو تم لوگ؟“

اس پر وہ چند لمحے ٹھٹکے اور پھر تیزی سے واپس پلٹ گئے ۔ وہ بالکل سامنے کے دروازے سے باہر نکلے تھے ۔ وہ چلے گئے تو اس نے ایک طویل سانس لی ۔ اسی وقت اس کی منہ بولی خالہ نے دوسرے کمرے سے آواز دی ۔

” کون تھا پتر ؟“

” پتہ نہیں خالہ کون تھے ۔“ اس نے کہا

”سو جاکوئی چور ہوں گے ، تیرے آواز سن کر بھاگ گئے ۔“خالہ نے نیند بھرے لہجے میںکہا تو نینا نے کوئی بحث نہیںکی ۔ چپ چاپ اپنی چار پائی پر آ بیٹھی ۔اس کی آنکھوں میںتو نیند پہلے ہی نہیںتھی۔اس لئے اس نے سونے کا ارادہ ترک کر دیا۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ کون ہو سکتے ہیں۔ اگر تو وہ پولیس کی طرف سے تھے ، تو یہی دیکھنے آئے تھے کہ نینا اس گھر میںموجود ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے شہر میں ایک جوئے باز کا قتل ہو چکا تھا، جو کم ازکم پولیس کے لئے ایک اہم بندہ تھا۔ دوسرے اگر وہ مٹھن خان کی طرف سے آ ئے تھے تو صرف یہی یقین کرنا تھا کہ وہ اگر یہاں پر ہے تو پھر قتل کس نے کیا؟ دونوں صورتوں میں نینا ہی کا فائدہ تھا۔

صبح کی تیز دھوپ نے پورا شہر روشن کر رکھا تھا۔ نینا تیار ہو کر شہر جانے والی سڑک پر آگئی ۔وہ ایک عام سی وین میںبیٹھ کر شہر جا پہنچی ۔ اس کا رُخ ڈی ایس پی آ فس کی طرف تھا ۔ جہاں عملے کے لوگ اپنے اپنے کاموں میںمصروف تھے۔وہ وہاں جا کر بیٹھ گئی ۔ اسے وہاں کچھ دیر بیٹھنا پڑا۔ جیسے ہی وہ ڈی ایس پی سے ملنے کی اجازت ملی ، اس نے دیکھا۔ وہی سفید کپڑوں والے وہاں پر آگئے ۔وہ دونوں لمبے قد کے تھے، انہوں نے سیاہ چشمے لگائے ہوئے تھے ۔ وہ آفس میںداخل ہوئی تو وہ بھی وہیںآ گئے ۔ اس نے ڈی ایس پی کو سلیوٹ کیا تو اتنے میں وہ بھی کمرے میںداخل ہو گئے ۔

” ہاں بھئی کیسے آئی ہو ؟“

” سر ۔! رات میں جس گھر میںتھی ، وہ کچھ لوگ چار دیواری پھلانگ کر آ گئے۔ اگر وہ پولیس کے لوگ تھے تو کیوں؟ اور اگر وہ کوئی غیر تھے ،تو بھی مجھے حفاظت چاہئے۔“ اس نے مودبانہ لہجے میںکہا تو ایک سفید کپڑے والا جواس کے پیچھے ہی کھڑا تھا، بڑے سکون سے بولا

” وہ ہمارے لوگ تھے ۔ صرف یہ دیکھنے گئے تھے کہ آپ کہاں ہو ۔مطلب جن لوگوں کو یہ شک تھا کہ ان کی مطلوبہ عورت آپ ہو ، انہیں یقین دلانے کے لئے ہم نے ایسا کیا۔ سوری آپ رات بھر پر یشان رہیں۔آپ جا سکتی ہیں۔ اب آپ کو کوئی پریشان نہیںکرے گا۔“

” تھینک یو ۔“ نینا نے ڈی ایس پی کی طرف دیکھ کر کہاتو ڈی ایس پی ہی اشارہ کرتے ہوئے بولا

” تم جا سکتی ہو۔“نینا نے سنا ، سلیوٹ کیا اور آفس سے نکلتی چلی گئی ۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ نگرانی میںہے۔ اسے یونہی نہیں چھوڑا جائے گا۔ وہ سیدھی کوارٹر چلی گئی ۔ آپی فوزیہ ڈیوٹی پر تھی ۔ وہ ایک بستر پر لیٹ کر سکون سے سو گئی ۔اس نے سوچ لیاتھا کہ اب اس نے وہی کچھ باور کرانا ہے ، جو وہ خود چاہتی ہے۔

٭….٭….٭

شام ڈھلے وہ کوراٹر سے نکلی اور گاﺅں کی طرف چل نکلی ۔اس نے یہ محسوس کیا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے کہ نہیں؟ وہ ایک تربیت یافتہ لڑکی تھی۔ کوارٹر سے گاﺅں کی سڑک پر اترنے تک اس نے یقین کر لیا کہ کوئی بھی اس کے تعاقب میں نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد وہ خالہ کے گھر آ پہنچی۔اس کا لباس بری طرح مسلا ہوا تھا۔لیکن وہ یہاں رکنا نہیںچاہتی تھی۔ وہ اسی گھر میںجانا چاہتی تھی ، جہاں شعیب نے اسے رکھا تھا۔ یہاں آنے کا صرف ایک ہی مقصد تھا۔ اس کے فون ابھی تک یہیں خالہ کے گھر میںپڑے ہوئے تھے ۔ وہ کچھ دیر خالہ سے باتیں کرتی رہی ۔تب تک اندھیرا چھا گیا۔ جب اسے اچھی طرح یقین ہو گیا کہ وہ کسی کی نگاہوں میںآئے بغیر یہاں سے نکل سکتی ہے تو وہ وہاں سے نکل پڑی ۔ وہ سڑک پر آئی ، ایک عام وین میںبیٹھ کر شہر جا پہنچی ۔وہاں سے رکشہ لیا، اس نے رکشے ہی میںچادر بدلی اور اسی بنگلے میںجا پہنچی ۔وہاں صرف باغ علی تھا۔ باقی ملازمین وہاں نہیں تھے ۔وہ سیدھی اپنے کمرے میںگئی ۔ شاور لے کر اس نے لباس پہنا اور سکون سے بیڈ پر لیٹ گئی ۔زیادہ وقت نہیںگذرا تھا کہ شعیب بھی وہیں آ گیا ۔ جیسے ہی وہ کمرے میںداخل ہوا ، نینا نے لیٹے لیٹے اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ وہ چند لمحے دیکھتا رہا،پھر ہولے ہولے اس کے پاس آ کر ایک دم سے اس پر گر گیا۔ نینا یچیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔

 ”کیسی ہو جاناں؟“ اس نے اسے بانہوں میںبھنچتے ہوئے پوچھا تو نینا نے مسکراتے ہوئے کہا

” ابھی تک تو بچی ہوئی ہوں۔“

” لیکن اب میرے ہاتھوں سے نہیںبچ پاﺅں گی ۔“ اس نےنا کو اپنے اوپر سے نیچے کی طرف کرتے ہوئے کہا

” سچ….؟“ وہ حیرت اور شوخی سے بولی

” میں تمہیںآ ج نہیںچھوڑوں گا۔“ اس نے گھمبیر لہجے میںکہا تو نینا نے ایک دم سے اپنا وجود ڈھیلا چھوڑ دیا اور پھر آ نکھیںبند کر کے بولی

” میں منتظر ہوں میری جاں۔آﺅ مجھے فتح کر لو ۔“اس نے کہا ہی تھا کہ شعیب نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا

”اُو چل ،فتح کر اسے بڑی آئی جیسے کوئی ملک ہے۔“

وہ اس سے ذر افاصلے پر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیاتو نینا اٹھتے ہوئے بولی

”آئے ہائے ،مجھ پر چڑھائی تو سکندر کی طرح کی تھی ،یہ بھیگی چڑی بن کر کیوں بیٹھ گیاہے یہاں؟“

” تجھ پر پیار آ رہا تھا، بہت پیار، لیکن توجھٹ کچھ دوسرا سوچ لیتی ہے ، جس سے مجھے بڑی چڑ ہے۔ خیر۔! مجھے یہ بتا یہ تو نے کیا سوچا کہ سیدھی تھانے جا پہنچی، ان کی ناک کے نیچے جا کر بیٹھ گئی ۔ اگر تفتیش میںکچھ ہو جاتا تو….؟“ شعیب نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا تو چند لمحے اسے دیکھتی رہی ، پھر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر پر سکون انداز میںبیٹھ کر بولی

” یار ، جن دنوں میںٹرنینگ کر رہی تھی، انہیںدنوں میں نے ایک مجرم کی نفسیات پڑھنے کی کوشش کی ہے ۔فائلوں میںکتابوں میں بہت کچھ پڑا ہوا ہے۔ یہ سب ایک طرف، میں تجھے ایک اور بات بتاتی ہوں ۔“

” وہ کیا بات ہے؟“ اس نے پوچھا

”انسان کے اپنے سوچنے کی ایک حد ہے ۔ یہ حد بھی اس نے خود ہی لگائی ہوئی ہے ورنہ قدرت نے اسے یہ صلاحیت دی ہوئی ہے کہ وہ اپنے ذہن کو جس قدر چاہئے وسعت دے دے ۔ لیکن ہم اپنی معاشرتی قدروں کے تحت اجتماعی ہسٹیریا کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم وہی سوچتے ہیں، جو بنی بنائی سوچ ہمیں دی جاتی ہے اور اس پر کولہو کے بیل کی مانند چلتے رہتے ہیں۔ کبھی اس سے ہٹ کر نہیںسوچا۔ قدرت نے ہمارے سوچنے پر پابندی نہیںلگائی ، ہم ہر طرح کا سوچ سکتے ہیں۔ لیکن کیوں نہیںسوچتے ؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اور یہی دراصل سوچنے والی بات ہے۔ ہم یہ سوچ کیوں رکھتے ہیں ۔“ نینا نے یوں کہا جیسے وہ بہت گہری بات کر رہی ہو ۔

” میں تمہاری بات نہیںسمجھا؟“ وہ بولا

”سامنے کی بات ہے ،ہمارے ہاں یہ طے ہو چکا ہے کہ مجرم پولیس سے بھاگتا ہے۔وہ حوصلہ نہیںکرتا کہ فورسز کا سامنا کر سکے۔ میرے بارے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیںتھا ، صرف شک تھا۔کوئی یہ نہیںسوچ سکتا کہ میں ان کا سامنا کر لوں گی ۔میں نے حوصلہ کیا اوریہ سارا کھیل حوصلے کا ہے میری جان ، ایک حد سے زیادہ کا حوصلہ ، عام ذہن اسے پاگل پن یا جنون کہے گا۔ لیکن میں نے اسی کا فائدہ اٹھایا ۔“

” تمہارے ذہن میںیہ بات آ ئی کہاں سے ؟“ اس نے پوچھا تو وہ بولی

” ایک بلی ہے ، نیلے رنگ کی ۔میں اس سے باتیںکر رہی تھی کہ مجھے اچانک خیال آ یا اور میںنے اس پر عمل کر لیا۔“

” بلی؟ نیلے رنگ کی ؟“ شعیب نے حیرت سے پوچھا

” تم اپنا دماغ مت کھپاﺅ۔“ نینا نے لاپرواہی سے کہا

”تو کیا کروں ، تیرے پاگل پن کو سمجھوں نا۔“ اس نے اکتاہٹ سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی

” تم صرف اتنا سوچو کہ ہم نے اب کر نا کیا ہے؟“

” جب تک سامنے رہے، ان کا شک ختم نہیںہونے والا اور ہم نے ہاتھ پر ہاتھ تو نہیںدھر کر بیٹھنا۔“ وہ بولا

” تو کیا چھپ جائیں؟“ اس نے پوچھا

” فی الحال تو یہی کرنا ہوگا۔“ اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا تو وہ بولی

” نہیںاب ہی تو وقت آیا ہے۔میں نے سوچا ہے کہ کیا کرنا ہے۔“ نینا نے سوچتے ہوئے کہا

” کیا سوچا ، ذرا میںبھی تو سنوں۔“ شعیب نے گہری سنجیدگی سے کہا تو و ہ بولی

”مٹھن خان کا بڑا بیٹا، ارمان خان ، اسے ….“ اس نے کہنا چاہا تو شعیب نے حیرت سے کہا

” اتنی جلدی اسے …. نہیں، وہ گھیر لیںگے ۔“

” پوری بات سنتے ہیں سوھنا،اتنی جلدی نہیںکرتے ۔“ نینا نے مسکراتے ہوئے کہا، جس پر وہ خاموش رہا تو وہ بولی ،”ابھی صرف اسے ارمان خان کو گھیرنا ہے ، اسے مارنا نہیں، اس کا کوئی قصور بھی نہیں ابھی تک ، ہاں اگر وہ سامنے آیا ، یا اس نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی تو پہلا نشانہ وہی ہوگا۔“

” اسے گھیرو گی کیسے ؟“ اس نے پوچھا

” نیلی بلی کے ذریعے گھیروں گی ۔اب پوچھو گے وہ کون ہے تو وہ فون کی دنیا سے ہے ۔ ظاہر ہے اب اسے رقم دینا ہے ،اس کا اکاﺅئنٹ تو چاہئے ، رابطہ ہوگا تو پتہ چل جائے گا۔“ نینا نے کہا تو شعیب نے مسکراتے ہوئے کہا

” تم اس کا نمبر دو، میں بتاتا ہوں کہ وہ کس پانی میںہے۔“

” اچھا….!“ وہ حیرت اور تجسس سے بولی

”ہاں ، سب پتہ چل جائے گا۔“ اس نے کہا تو نینا چند لمحے خاموش رہی پھر بولی

” تاجاں کو تحفظ دینا ہے۔اس وقت وہ پتہ نہیںکہاں ہوگی ۔اس نے رابطہ بھی نہیں کیا ابھی تک۔“

” تاجاںسے رابطہ کرو۔ اور بلیو کیٹ سے بھی ۔ لیکن ایک بات سنو ۔“ شعیب نے گہری سنجیدگی سے کہا تو خاموش رہی ، تب وہ لمحہ بھر سانس لے کر بولا،” میں ایک بہت ضروری کام سے دوبئی جا رہا ہوں۔ دو یا تین دن لگیں گے۔ تم یہ دو تین دن یہاں رہو گی، اس طرح کہ جیسے تم اس زمین پر ہو ہی نہیں۔ بعد میںآ کر ساری تفصیل بتاتا ہوں۔“

” اوکے ، میںبھی تھوڑا آرام کر نا چاہتی ہوں۔“ نینا نے کہا

” میں چلتا ہوں۔چند گھنٹوں بعد میری فلائیٹ ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھا اور چل دیا۔

وہ کمرے میںتاریکی کر کے سکون سے پڑی موجودہ حالات کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔ اس کا دماغ اس بات کو قبول نہیںکر رہا تھا کہ پولیس اسے یوں آ سانی سے چھوڑ دے ۔ان کے پاس تو ایسے حربے ہوتے ہیں کہ وہ کسی ایسے بندے سے بھی وہ سب منوا لیں جو اس نے کیا ہی نہ ہو ۔ اس نے بہت سوچا،کئی کچھ ذہن میں آیا پھر خود ہی اس نے رَدّ کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ سکون سے سو گئی ۔

٭….٭….٭

دو دن اور دو راتیں وہ خوب آرام کر نے کے بعد خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔ یہی وہ دن تھے ، جب اس نے پوری توجہ سے اپنے انتقام کے بارے میں سوچا تھا۔ اسے اپنی قوت کا اندازہ تھا اور وہ مٹھن خان کی طاقت کو بھی جانتی تھی ۔ اگر صرف مٹھن خان کو قتل کرنا ہوتا تو وہ اب تک کر چکی ہوتی ۔ مگر وہ تو اسے جڑ سمیت ختم کرنے کا ضد لئے ہوئے تھی ۔پہلے پہل تو یہ سب کچھ اس نے زندگی کا سب سے مشکل ترین مرحلہ سمجھا ۔ اب اسے اس کھیل میںمزہ آ نے لگ گیا تھا۔اس کے دماغ نے نجانے کیسے کیسے راستے دکھائے تھے۔ان میںکچھ ممکن اور کچھ ناممکن دکھائی دے رہے تھے۔وہ اسی ممکن اور نامممکن میںالجھی رہی۔اس دوران اس نے فون کی دنیا میںنجانے کہاں کہاں تک رسائی کی بلیو کیٹ تو اس کی طرف سے کسی کام کی منتظر تھی ۔ اس نے کام دینے کا وعدہ کر لیا۔ بہت سارے رابطوں میں اسے ایک پرانی سہیلی بھی ملی۔جو اپنی عادتوں کے حساب سے تو انتہائی وحشت ناک تھی ۔ اسے یہ کریز رہتا تھا کہ کون لڑکی اس کے ساتھ کتنا وقت گذار سکتی ہے ۔ اپنی اسی عادت کے سبب اگر وہ وحشت ناک تھی تو دوسری جانب وہ شہر کے پوش علاقے میں پروڈکشن ہاﺅس چلا رہی تھی ۔ جہاں مختلف ڈاکومنڑیز، ڈرامے اور مختلف پروڈکشن ہوتی تھی ۔اس لئے اس کی رسائی بہت سارے ایسے لوگوں سے تھی،جو جرائم کی دنیا میں بہت آگے نکل گئے ہوئے تھے۔نام تو اس کا کچھ اور تھا لیکن وہ خود کو ”سورتی “ کہلانا پسند کرتی تھی ۔ سورتی نے نینا میں اس لئے دلچسپی لی تھی کہ نینا اسے اپنے مطلب کی لگی تھی ۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد اسے پتہ چلا کہ نینا اس سے بھی آ گے کی شے ہے ۔ جلدہی بات ناولوں سے کہانیوں کی طرف چلی گئی ۔سورتی اس سے اپنے پروفیشن کی باتیں کرنے لگی۔وقت گذرنے کے ساتھ یہ دلچسپی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھتی گئی ۔نینا نے اس کے کئی کام کئے ۔اب وقت اور حالات بدل چکے تھے۔ نینا کی باتوں میں واضح فرق آ چکا تھا ۔ اس بار سورتی نے نینا سے ملنے کی خواہش کی، جسے وہ ٹال گئی ۔

 اس شام وہ بنگلے کے عقب میںبنے باغ میںتھی۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان صاف تھا۔ وہ پودوں کے درمیان سفید کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے ہلکے سبز رنگ کا شلوار قیص پہنا ہوا تھا۔جس کے ساتھ سفید آنچل اس کے گلے میں تھا۔ وہ موسم کا لطف لینے نکلی تھی لیکن ذہن میں وہی باتیںگونج رہی تھیں، ایک سے ایک نیا خیال ابھر رہا تھا۔ لیکن ایک سوال ایسا تھا ، جو اس کے دماغ میں چبھ رہا تھا ۔ ایسے میں وہ یہی سوچ رہی تھی کہ بی بی صاحب سے بات کرے۔ وہ اٹھی اور آہستہ آہستہ بیڈ روم میںجا پہنچی۔ اس نے فون آن کیا اور بی بی صاحب کے نمبر ملا دئیے۔چند لمحوں بعد اس کی کال رسیو کر لی گئی ۔ حال احوال کے بعد اس نے وہ سوال دہرا دیا جو اس کے دماغ میںچبھن بنا ہوا تھا۔

” نینا۔! تم نے اس پر سوچا تو میں بتا دیتی ہوں۔ وہ دو نوں سفید کپڑوں والے اپنے ہی لوگ تھے۔ انہی کی وجہ سے یہ سارا معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے۔ “ بی بی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میں اسے بتادیا۔

” میںبھی یہی سمجھ رہی تھی ورنہ ….“ نینا کہتے کہتے رک گئی تو بی بی صاحب بولیں۔

”فکر نہیں کرو، پولیس اب تمہیں کچھ نہیںکہے گی ۔ اب تمہارے ذمے ایک کام ہے، لیکن پہلے صورت حال سمجھ لو ۔“

” جی فرمائیں۔“ اس نے تیزی سے کہا

” صورت حال اب یوں ہو گئی ہے کہ اعجاز اب تم سے شادی نہیں کر رہا ہے ۔ کیونکہ اس کے والدین نہیںمان رہے ہیں۔ وہ کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیںکرنا چاہتے جو جرائم کی دنیا سے منسلک رہی ہو ۔ اس وجہ سے وہ روٹھ کر دوبئی چلا گیا ہے ۔ اب تمہارے پاس کرنے کو کچھ نہیں۔ سو تم نے فاخرہ درانی کے ہاں نوکری کر لی ہے۔“ بی بی صاحب نے کہا تو اس نے ساری صورت حال سمجھتے ہوئے پوچھا

” وہی فاخرہ درانی، جو عورتوں کے حقوق کی تنظیم چلاتی ہے اور بزنس مین درانی کی بیوی ہے؟“

” ہاں وہی ، وہ وہاں کام کرنے کی جو بھی تفصیل بتائے ، سکون سے سن لینا،مگر جو کرنا ہے ، وہ تمہیں بعد میںپتہ چل جائے گا۔“ بی بی صاحب نے کہا تو نینا کو ایک دم ایسا لگا جیسے وہ اسے اپنے مقصد سے کہیں دور لے جانا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد تو مٹھن خان کو ختم کرنا تھا ۔ لیکن یہ کس کام پر لگایا جا رہا تھا؟ کہیں اس پر احسان کر کے اس سے اپنی مرضی کے کام تو نہیں لئے جائیںگے؟ کیا اب اسے بلیک میل کیا جائے گا؟ کیا اسے ابھی سے بتا دینا چاہئے ؟ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسے بی بی صاحب کی آواز سنائی دی،” کیا سوچ رہی ہو ؟“

” کک …. کچھ نہیں، آپ کی بات سن رہی ہوں۔“ اس نے تیزی سے کہا، وہ اپنی بات کہہ نہ سکی

” دیکھو نینا۔! یقین سب سے بڑی دولت ہو تی ہے۔ تم شاید نہیںجانتی ہو کہ تم کیا کرنے جا رہی ہو ۔ کسی پر نہیںخود پر یقین رکھو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ بی بی صاحب نے کہا

” جی میں صبح ہی ان سے مل لوں گی ۔“ وہ تیزی سے بولی

” ہاں کل مل لینا۔“ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا

” جی ٹھیک ہے۔“ نینا نے کہا تو الوادعی کلمات کے ساتھ کال بند کر دی گئی ۔فطری طور پر وہ بہت کچھ سوچتی رہی ۔ اسے یوں لگا جیسے وہ اپنے ٹریک سے ہٹ گئی ہے ۔ بہت سارے خیال اس کے ذہن میں آئے ۔ جس سے اس کی بے چینی بڑھنے لگی ۔ کچھ دیر بعد ایک دم سے اس نے وہ سب کچھ دماغ سے نکال دیا جو اسے پر یشان کرنے کے درپے ہو گیا تھا۔

اس وقت شام پھیل چکی تھی ، وہ منتشر دماغ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی کہ اسے پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی ۔ وہ اٹھی اور کھڑکی تک چلی گئی ۔ جہاں سے اسے دکھائی کچھ نہ دیا۔ وہ پلٹ کر بیڈ تک آئی ہی تھی پھر کچھ سوچ کر کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی ۔اس نے اوپر سے دیکھا، لاﺅنج میں شعیب کھڑا باغ علی سے باتیںکر رہا تھا۔ اسے ان دونوں کی باتوں کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔شعیب کے چہرے پر پریشانی پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے پوری بات سنی اور پھر یونہی اوپر کسی کا احساس کرکے دیکھا تو اسے نینا کھڑی دکھائی دی ۔جیسے ہی اس پر نگاہ پڑی اس نے نینا کو نیچے آ نے کا اشارہ کیا۔ وہ اسی لمحے نیچے کی جانب چل پڑی ۔ ا س دوران باغ علی اسے اپنی بات کہتا رہا۔ نینا جیسے ہی شعیب کے قریب گئی ، باغ علی خاموش ہو گیا ۔ نینا نے شعیب کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا

” کب آ ئے ؟“

” سیدھا ائیر پورٹ سے آ رہاہوں۔“ اس نے نینا کے چہرے پر دیکھتے ہوئے زبردستی کی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا تو نینا نے پوچھا

” خیریت ہے شعیب؟“

”نہیں، خیریت نہیں ہے۔ آج صبح مٹھن خان کے لوگوں نے بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا ہے اور وہ اس وقت ہسپتال میں ہے،۔ ان کی حالت تشوش ناک ہے ۔مجھے ابھی باغ علی نے بتایا ہے۔ مجھے کسی نے اطلاع نہیں دی تھی۔“ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے تیزی سے بتایا تو باغ علی نے شرمندہ سے لہجے میں دھیرے سے کہا

” بابا سائیں نے سختی سے منع کیا تھا۔“

” اب کیسی حالت ہے ، چلو اس کے پاس چلتے ہیں۔ “ نینا نے بے تابی سے کہا

” نہیں،تم میرے ساتھ نہیںجاﺅ گی ، اس طرح اس کا شک یقین میںبدل جائے گا۔جہاں تک میرا خیال ہے وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح سامنے آ جاﺅ ، یا تمہارا تعلق مجھ سے ثابت ہو جائے ۔“

” لیکن میں ان کے سامنے ….“ اس نے کہنا چاہا تو شعیب نے سختی سے کہا

” ایسا بالکل بھی نہیںکرنا، میں جارہا ہوں، مگرتم نے کسی بھی حال میںمجھ تک نہیںپہنچنا، جب تک میں نہ کہوں، سامنے نہیں آنا، سمجھ گئی ہو نا میری بات ؟“

” سمجھ گئی ۔“ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا

” میں فون پر رابطہ رکھوں گا۔“ اس نے کہا ، چند لمحے اس کی آ نکھوں میںدیکھتا رہا پھر خود پر قابو پاتا ہوا فوراً ہی پلٹ گیا۔ باغ علی اسے پورچ تک چھوڑنے گیا۔

شعیب کے چلے جانے کے بعد اس نے باغ علی کو بلایا ۔ وہ اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تو اس نے کہا

” پوری بات بتاﺅ ۔“

” بی بی جی، مجھے تو بابا سائیں کا فون آ یا تھا۔ انہوں نے یہ واقعہ ہو جانے کے بارے میںبتایا اور آپ سے ذکر تک نہ کر نے کا سختی سے حکم دیا تھا۔“

” کیسے ہوا ، کچھ پتہ چلا؟“ نینا نے ایک طویل سانس لے کر دھیرے سے پوچھا

” وہ فارم ہاﺅس کی طرف جا رہے تھے ۔گارڈ بھی ساتھ تھے۔ کچھ لوگ ان کی گاڑی کے تعاقب میں آئے۔ انہوں نے ایک دم سے گاڑی پر حملہ کر دیا۔ان کے دونوں گارڈ اور ڈرائیور موقع پر مارے گئے ، وہ شدید زخمی ہیں۔“ باغ علی نے افسردہ لہجے میںبتایا

” ٹھیک ہے تم جاﺅ ۔“ اس نے کہا اور اٹھ کر اپنے بیڈ روم کی طرف چل دی ۔

یہ کوئی نئی یا انہونی بات نہیںتھی ۔ ان کی دشمنی چل رہی تھی ۔ مٹھن خان کے لوگوںکو موقعہ ملا اور انہوں نے وار کر دیا۔  یہ فطری سی بات بھی تھی کہ مٹھن خان ان دنوں شدید دباﺅ کا شکار تھا۔ ایک طرف اس کے اپنوں کی لاشیں اٹھ رہی تھیں تو دوسری جانب علاقے میں جو اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی، وہ ختم ہو رہی تھی۔ تیسرا اسے یہ سراغ نہیں مل رہا تھا کہ اس کے بندے جو مار رہی ہے اصل میں ہو ہے کون ؟

یہ ساری باتیں اس وقت نینا کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں تھیں، اہم بات یہ تھی کہ شعیب کا رد عمل کیا ہوگا؟شعیب اس کے اتنا کام آیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسی کی وجہ سے وہ مٹھن خان کو اتنا نقصان پہنچا چکی ہے تو یہی سچ تھا۔ اب وہ اُس کے کتنا کام آ سکتی ہے ؟نینا کے لئے اصل امتحان اب یہی تھا۔اس کے لئے اسے کیا کرنا ہوگا، یہ بھی نیناکو نہیںمعلوم تھا۔وہی سوچتی جا رہی تھی کہ باغ علی کمرے میں آ گیا۔ اس نے افسردہ سے لہجے میں کہا۔

” وہ چھوٹے سائیں اب اس دنیا میں نہیں رہے۔“

” اوہ ۔!“ نینا کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔پھر چند لمحوں بعد بولی،” ٹھیک ہے۔میں….“

” بی بی جی ، آپ نے کہیں نہیںجانا، شعیب بابا نے سختی سے کہا ہے ۔وہ رابطہ کریں گے ۔“ باغ علی نے دھیمے سے کہا

” اوکے ، میں یہیں ہوں۔“ اس نے جواب دیا اور اٹھ کر بیڈ پر جا بیٹھی ۔اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔ وہ ان لمحات میں شعیب کے لئے کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسے سورتی یاد آ گئی ۔ اس نے چند لمحے سوچا اور اسے کال کر دی

”تو مجھ سے ملنے کا پلان کر لیا تو نے ؟“ سورتی نے پوچھا

” ارے نہیں، صرف ایک ٹپ دے رہی ہوں، اگر اس پر کام کرو تو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔“ نینا نے کہا

” فائدے کی بات ذرا جلدی بولو۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا تو نینا نے بڑی سنجیدگی سے بتایا

” ایم این اے مٹھن خان کے علاقے میں انہی چند مہینوں میں کئی ساری وارداتیں ہو چکی ہیں، جانتی ہو؟“

” ہاں یار ،ایک دم سے وہاں سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔“وہ دلچسپی سے بولی

” کیوں ہو گیا یہ سلسلہ؟ اس پر نہیںسوچا؟“اس نے کہا

” بات تو سوچنے کی ہے؟“ وہ بولی

”یہ ایک بڑی رپورٹ بنتی ہے۔ مٹھن خان یہ سب کروا رہاہے۔کیونکہ اسے کسی گولی نام کی عورت سے خطرہ ہے جو اسے مارنے کے لئے کہیں سے آ گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی عورت نے اس کے بیٹے کو بھی مارا ہے ۔ جس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔سمجھ رہی ہو کہ فائدہ کیا لینا ہے ؟“نینا نے کہا تو سورتی چونکتے ہوئے بولی

” ارے واہ۔! لمبی رقم….“ یہ کہہ کر اس نے پوچھا ،” اور تمہارا کیافائدہ ہو گا؟ “

” اس کی سیاسی ساکھ تباہ کرنے کے لئے جتنی معلومات مل جائے ۔“ اس نے کہا

” مل جائے گی ۔“ سورتی نے کہا پھر تھوڑی معلومات کے بعد فون بند کر دیا۔

٭….٭….٭

اگلے دن کی شام ڈھل رہی تھی۔جب شعیب آ گیا۔ وہ سیدھا اس کے پاس بیڈ روم ہی میں آیا۔ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہی اس نے بڑے اعتماد کے ساتھ نینا کو بتایا۔

” یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ حملہ مٹھن خان نے ہی کروایا ہے ۔ جو بندے بھیجے تھے ، ان کا بھی پتہ چل گیا ہے۔ ایف آ ئی آر درج نہیںکروائی ۔“

” ہاں، اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوناتھا؟“ نینا نے پوچھا

” تم جانتی ہو ،۔“ اس نے تلخی سے کہا

” پھر کیا ارادہ ہے ؟“نینا نے یوں پوچھا کہ شعیب کو اس کی سوچ کے بارے میںاحساس ہو گیا۔

” نہیں، تم نہیں اور نہ ابھی ۔ کیونکہ وہ تمہیں بل سے نکالنا چاہتا ہے اور یہ حملہ اس نے کیا ہی اسی لئے ہے ۔یہ تم بھی سمجھتی ہو ۔مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ وہ اگلا حملہ مجھ پر کروائے گا، میں مر گیاتو….“ اس نے کہنا چاہا تو نینا نے تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ یہ انتہائی لاشعوری میں ہوا تھا۔ شعیب اپنی بات بھول گیا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ نینا کو بھی احساس نہیںتھا کہ اس نے کیا کیا، جیسے ہی اسے احساس ہو ا۔ وہ ایک دم سے چور سی بن گئی ۔ پھر چہرہ ایک طرف کر کے ، اس سے نگاہیں چراتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی ۔ اسے یوں بھینچ لیا جیسے وہ کہیں دور جا رہا ہے ۔ تبھی شعیب نے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

” ریلیکس ، نینا۔آئندہ ایسے نہیںکہوں گا۔“تبھی نینا الگ ہوتے ہوئے اس سے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولی

”  کب تک ، شعیب کب تک میں باہر نہیںنکلوں گی ۔تم مجھے بتاﺅ ،کہاں ملیں گے وہ ۔انہیں ختم کرنا تو….“ وہ دانت پیستے ہوئے کہہ رہی تھی کہ وہ بات کاٹتے ہوئے وحشت ناک لہجے میں بولا

”آج رات تیار رہنا، بتاﺅں گا کیا کرنا ہے ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ نینا نے شعیب کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہاجہاں انتہائی درجے کی سختی تھی ۔

” چلتا ہوں۔“ وہ اٹھتے ہوئے بولااور پھر نکلتا چلا گیا۔ وہ اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔ اس نے یہ بھی نہیںپوچھا کہ پلان کیا ہے اور کیا کرنا ہے؟

شام ڈھل کر رات میں بدل گئی تھی۔ شعیب کا دُور دُور تک کہیں پتہ نہیںتھا۔وہ انتہائی بے چینی سے بیڈ روم تک محدود تھی ۔ اس کا بس نہیںچل رہا تھا کہ وہ ابھی نکلے اور ان سب کو ختم کر دے ، جنہوں نے اس کی محبت شعیب کو دکھ دیا تھا۔ کئی بار اس نے فون پکڑا اور شعیب کو کال کرنے کے لئے نمبر بھی ملائے ،لیکن ہر بار وہ رُک جاتی ۔ نجانے وہ کس مسئلے میں پھنسا ہوا تھا ۔کیا کر رہا تھا۔ اس نے سختی سے منع کیا ہوا تھا۔ اس لئے اس نے خود کو روک کر رکھا ہوا تھا۔ وہ اسی انتظار میں تھی کہ سورتی کی کال آ گئی ۔ذہنی دباﺅ کے اس ماحول میں اُسے سورتی کی کال آنے پر اچھا نہیںلگا۔وہ کال سننا نہیںچاہتی تھی ۔ ایک بار کال آ کر ختم ہو گئی ۔ ذرا سی دیر سکون ہوا ، پھر فون بج اٹھا۔ اس نے کال رسیو کر لی ۔

”یار وہ لوگ تو بڑے سیانے نکلے ، منٹوں میں ہی لائین پر آگئے ،“ اس نے حیرت بھرے لہجے میںبتایا

” کیا ہوا؟“ اس نے پوچھا

” میں نے ان سے بات کرنے سے پہلے تھوڑا ہوم ورک کیا، تو مجھے یہ کام کچھ بڑا لگا، میں اپنی کہانی بنائی اور ڈا ل دی کہانی ، اس پر فوراً ہی انہوں نے ڈیل کرنے کی بات کی ۔“ اس نے بتایا لیکن حیرت اب بھی اس کے لہجے میںتھی۔

” کیسی ڈیل؟“ نینا نے پوچھا

” وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔سمجھانا چاہتے ہیں،یہ کام ان کا نہیںوہ تو مظلوم ہیں۔ فوراً ± ملنا چاہتے ہیں۔“اس نے بتایا

” کہاں ملنا چاہتے ہیں اور کون ملے گا؟ کیا خود مٹھن خان بات کرے گا؟“ نینا نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا

” نہیں ، اس کا بیٹا ہے ارمان خان ، اس نے ساری بات کی ہے اور وہی ملے گاکسی ہوٹل یا ریستوران میں، کہہ رہا ہے کہ ابھی بتائے گامجھے۔“ سورتی نے کہا ہی تھا کہ نینا نے پوچھا

” وہ تو ٹھیک ہے ، مگر مجھے کیوں کال کی ؟“

” یہ پوچھنے کے لئے کہ وہ ارمان خان کیسا بندہ ہے،تاکہ میں پھر ُاسے، اُسی کے حساب سے ڈیل کروں نا، میں اکیلی چلی جاﺅں اور وہ اپنے بندے ساتھ لے آ ئے اور پھر….“ وہ کہتے کہتے ہوئے رُک گئی ۔ وہ اپنی ساری بات کہہ گئی تھی ۔

” دیکھو، وہ تھوڑا عرصہ پہلے ہی باہر سے آ یا ہے ، میرے خیال میںلندن سے ، وہیںکہیںپڑھ رہا تھا۔اس لئے دیسی بدمعاشی نہیںکر رہے گا، یا پھر ٹریپ بھی کر سکتا ہے ، یاکچھ بھی کیونکہ میں اس کے بارے میں نہیںجانتی ،اور نہ کبھی اس سے سامنا ہوا ۔“ نینا نے گول مول سی بات کی

” مطلب رسک ہے؟“ سورتی نے کہا

” دیکھ لو ،تم اپنا تحفظ کر لینا نا ،پھر ملنا، اسے اپنی جگہ پر بلاﺅ ،اس کی جگہ پر کیوںجاﺅ۔“ نینا نے مشورہ دیا

” بالکل ، میں اسے فائیو سٹار میںہی بلاتی ہوں۔وہیں بات کرتے ہیں۔“سورتی نے کہا

”ٹھیک ہے ، بتانا پھر۔“ نینا نے کہا

” بتاتی ہوں کہ کیا ہوا ۔ پھر اسی حساب سے معلومات بھی تو لوں گی نا تم سے ، اوکے پھر….“ سورتی کہتے ہوئے رُک گئی

” اوکے۔“ نینا نے کہا اور فون بند کر دیا۔ اسی لمحے اس کا دروان خون تیز ہونا شروع ہو گیا تھا۔ وہ اس موقعہ کو ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتی تھی۔وہ بے چین ہو گئی ۔ اسی بے چینی میں اس نے خود سے طے کر لیا کہ اگر اگلے دس منٹوں میں شعیب نہ آیا تو وہ خود نکل پڑے گی۔

اس نے تنگ نیلی جین کے ساتھ سیاہ کرتا پہن لیا۔اس کے ساتھ بڑا سارا رومال لے کر اسکارف کے انداز میں سر پر باندھ لیا۔ جس سے کافی حد تک اس کا بھاری سینہ ڈھک گیا تھا۔اس نے خود کو آ ئینے میںدیکھا، پھر جیسے ہی اس کی نگاہ اپنی سینے پر پڑی، وہ ذرا چھنب گئی ۔ اس نے الماری میں سے جیکٹ نکالی اور پہن لی ۔ تب اسے کافی حد تک سکون محسوس کیا ۔الماری کے ایک خانے میں پسٹل پڑا تھا، وہ اس نے نکالا اور جیکٹ کی جیب میںڈال لیا۔پھر جو اس سے جیکٹ میں رکھا جا سکتا تھا ، وہ رکھ کر مڑی ہی تھی کہ اسے پورچ میںکار رکنے کی آواز آ ئی ۔ اس نے جلدی سے فون الماری میںرکھے اور ایک فون اٹھا کر جیب میںڈال لیا۔تبھی فون بج اٹھا۔ اس نے دیکھا،شعیب کی کال تھی۔

” ہاں بولو۔“ اس نے کال رسیو کر کے تیزی سے پوچھا

” جلدی سے نیچے آ جاﺅ فوراً ، میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔ ‘ ‘ اس نے کہا اور کال بند کر دی ۔ نینادو منٹ سے بھی کم عرصے میں پورچ میںآ پہنچی تو اسے دیکھ کر شعیب بولا،” اتنی جلدی ، کچھ زیادہ ہی جلدی….“

” میں پہلے ہی سے تیار تھی ۔“ نینا نے ساتھ والی پسنجر سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا تبھی شعیب نے کار بڑھا دی۔سڑک پر آ کر نینا نے پوچھا” ہم کدھر جا رہے ہیں؟“

” یہاں سے تقریباً نو دس کلو میٹر پرایک علاقے میں ڈیرہ ہے ، وہاں پر مٹھن خان کے وہ لوگ موجود ہیں، جنہوں نے بھائی پر حملہ کیا ہے ، پوری تصدیق کے ساتھ یہ خبر ہے ۔“ وہ اسے سمجھانے والے اندازمیںبولا

” اور اگر میں یہ کہوں کہ وہ لوگ اب وہاں پر نہیںہوں تو ….؟“ وہ ڈرامائی اندازمیںبولی تو شعیب نے اس کی طرف دیکھے بنا سکون سے پوچھا

” تمہیں کیسے معلوم ؟“

” وہ لوگ چاہیں ہوں گے بھی ادھر لیکن اگر میںیہ کہوں کہ گیدڑ کے شکار سے زیادہ اگر نیل گائے کا شکار کر لیا جائے تو کیسا رہے گا ….؟“

” زبردست۔“ شعیب نے ذرا سی حیرت سے کہا

” تو چلو پھر کار فائیوسٹار ہوٹل کی جانب لے چلو ، ہمارا شکار وہیں جائے گا۔“ نینا نے تھرتھراتے ہوئے لہجے میںیوں کہا جیسے وہ خود پر قابو نہ پا رہی ہو ۔

” میںجانتا ہوں کہ تم یونہی نہیںکہہ رہی ہو ، لیکن اگر یہ ہمارے لئے ٹریپ ہوا تو ؟“ اس نے پوچھا

”تو دیکھا جائے گا ۔آر یا پار ۔“ نینا نے لا پرواہی سے کہا اور سڑک پر دیکھنے لگی ، جہاں دور تک کار کی ہیڈ لائیٹس کی روشنی جا رہی تھی ۔وہ دونوں خاموش ہو گئے ۔ دونوں ہی آ نے والی صورت حال کے بارے میںسوچ رہے تھے ۔

وہ فائیو سٹار ہوٹل کے پاس پہنچ جانے والے تھے ۔ نینا سوچ رہی تھی کہ اس نے نہ سورتی کو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی ارمان خان کو ۔مگر وہ ان کے سامنے نہیں جا سکتی تھی ۔ ممکن ہے وہ نینا کو ایک لیڈی کانسٹیبل کے طور پر جانتے ہوں ۔ ارمان خان نے کہیںدیکھا ہو ؟ سورتی نے کہیںکوئی تصویر دیکھی ہو ۔ مگر اسے خود پر بھروسہ تھا۔ وہ کافی حد تک بدلی ہوئی تھی ۔وہ اسے یوںنہیںپہچان پائیں گے ۔

” کیا خیال ہے ، اندر جایا جائے یا یہیں کہیں باہر ہی اس کا انتظار کیاجائے ۔“ شعیب نے ہلکی سی آواز میںپوچھا

” ہاں ، وہ تمہارے ہی انتظار میںہو گا نا ، کہ آﺅ میںباہر آ رہاہو، مجھے پکڑ لو ، ارے بدھو، وہ اپنے ساتھ لوگ لائے گا، میںیہاں صرف انہیں دیکھ رہی ہوں۔“ نینا ہنستے ہوئے بولی

” میںبھی اپنے ساتھ لوگ لایا ہوں۔“ شعیب نے بتایا

” کہاں ہیں؟“ اس نے ادھر ادھر دیکھے بنا پوچھا

” وہ میرے ارد گر د ہیں، فکر نہ کرو، وہ مجھے ہر لمحہ دیکھ رہے ہیں۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا تو بولی

” تم کار پورچ میں لے جاﺅ گے اور مجھے اتار کر کہیںبھی انتظار کرو گے ۔ہمارے درمیان فون پر رابطہ رہے گا ۔“

” اوکے ۔“ شعیب نے کسی بحث کے بغیر کہا اور فائیوسٹار ہو ٹل آ جانے پر نینااس ہو ٹل کی عمارت دیکھنے لگی ۔

شعیب اسے پورچ میں اتار کر چلا گیا۔ نینا اپنا پرس جھلاتی لاﺅنج میں گئی اور پھر گھوم کر ایک ایسی میز پر جا بیٹھی جہاں سے داخلی دروازے پر نگاہ رکھی جا سکتی تھی ۔ وہاں بیٹھ کر اس نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ اسے ایک میز پر ایک اکیلی بیٹھی ایک عورت دکھائی دی ، جو کافی ماڈ دکھائی دے رہی تھی ۔ اس نے سلیو لیس شرٹ کے ساتھ ٹائیٹ ٹراوزر پہنا ہوا تھا، اس کے بال بوائے کٹ تھے۔ تیکھے نین نقش اور ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی ۔اس کے کانوںمیں بندے اور شفاف گردن میں ہلکی سی چین پہنی ہوئی تھی ۔ نجانے کیوں اسے لگا کہ وہی سورتی ہے۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی ، پھر اس نے فون کر دیا۔ دوسری طرف اسی نے فون اٹھا لیا۔

” کہاں ہو تم ؟“ نینا نے پوچھا

” یار میں نے اپنی جگہ پر اسے بلایا تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں پہنچ پایا۔ پتہ نہیںکیا بات ہو گئی ۔“اس نے اکتاہٹ سے کہا تو نینا سوچتے ہوئے بولی

”میرے ذرائع نے یہ بتایا ہے کہ وہ یہیں کہیں کسی الجھن میںپھنس گیا ہے ، یا وہ کچھ اور ہی کر رہا ہے ۔اتنی دیر کرنے میں کوئی نہ کوئی بات تو ہوگی۔“ نینا نے یونہی بات بڑھا دی ۔

” دیکھتےں ہیں۔میں بس چند منٹ مزید بیٹھوں گی ، پھر چلی جاﺅں گی ۔“اس نے اکتاہٹ سے کہا

” اوکے ۔ “ جانے لگو تو مجھے بتانا۔“ نینا نے کہا ہی تھا کہ اسے لگا جیسے اس کے فون پر کال آ رہی ہے ۔ اس نے کال بند کر دی۔اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھی وہ خوبصورت سی خاتون ہی سورتی ہے۔ اس نے اسکرین پر دیکھا شعیب کی کال تھی ۔ اس نے کال رسیو کی تو وہ بولا

” ارمان آ گیا ہے ۔“

” اوکے ۔“ اس نے کہا اور کال ویسے ہی چلنے دی ۔ اتنے میں ایک وجہہ نوجوان داخلی دروازے سے اندر آ گیا ۔ اس کا گول چہرہ ، کلین شو، بڑی بڑی آنکھیں، بال پیچھے کی طرف بنائے ہوئے ، سرخ گالوں والا فربہ مائل تھا۔ اس نے سیاہ ڈریس پتلون کے ساتھ سفید چیک والی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔اس نے کف اُڑسے ہوئے تھے ، بائیں کلائی پر قیمتی گھڑی بندھی ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے ہی دو لوگ اندر آ کر ایک طرف چل دئیے ۔ بلاشبہ وہ اس کے ساتھ تھے ۔اس نے ہال پر ایک نظر دوڑائی اور اپنا فون نکال کر کال کی ۔ فون سورتی نے اٹھا لیا۔ دونوں میں بات ہوئی تو وہ سیدھا اس کے پاس آ گیا۔ وہ سورتی کے چہرے پر دیکھتا ہوا ،اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ان میں باتیں ہونے لگیں۔

ان کی باتوں کا دورانیہ تین منٹ سے زیادہ کا نہیں رہا تھا۔انہی لمحات میں نجانے کب ایک بوائے کٹ بالوں والی لڑکی ہال میں داخل ہوئی اور سیدھی انہی کی میز تک آن پہنچی ۔ وہ سورتی سے باتیں کرنے لگی تھی ۔یہاں تک کہ اس کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی ۔تبھی سورتی کے چہرے پر خوف پھیل گیا،اس کی آنکھوں میں موت کا ڈر ٹھہر گیا تھا۔تبھی ارمان خان نے ہونٹوں پر ہلکی سے مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔پھر اس نے کوئی بات کی ، اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ سورتی بھی لرزتے قدموں سے اٹھ گئی ۔ نینا سمجھ گئی کہ وہاں کیا ڈرامہ ہو گیا تھا ۔ وہی ہوا تھا ، جو اس نے سوچا تھا۔اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی ۔ وہ بھی اٹھ گئی ۔اس نے یہ صورت حال شعیب کو بتا دی ۔نینا سمجھ رہی تھی کہ اب باہر کیاہوگا۔

فائیو سٹار ہوٹل کی پارکنگ چار دیواری کے اندر تھی ۔باہر کون کون تھا، نینا کو یہ بالکل پتہ نہیںتھا۔ وہ دھیمے انداز میں چلتی ہوئی داخلی دروازے سے باہر نکل گئی ۔اس وقت ارمان خان کی کار پورچ میں آ چکی تھی ۔ارمان خان پسنجر سیٹ پر بیٹھ رہا تھا۔اس لڑکی نے پہلے سورتی کو بٹھایا ، پھر خود بیٹھ رہی تھی کہ نینا نے اُسے دھکا دیا وہ اندر گر گئی ۔ اسی لمحے نینا نے بھی کار میں جا بیٹھ کر دروازہ بند کر دیا اور جیکٹ میں ہاتھ ڈال کے پسٹل نکال لیا ۔ ڈرائیور نے گئیر لگا دیا تھا ۔نینا نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پسٹل ارمان خان کی گدّی پر رکھ دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی لفظ منہ سے کہتا نینا نے سرد سے لہجے میںکہا

” رُکنا مت، نکلتے چلو ۔“

”کون ….ہو ….تم ؟“ وہ دھیمے سے بولا

” موت،اگر میری بات مانتے رہو گے تو زندگی ۔“ اس نے اسی لہجے میںکہا۔ تب تک کار گیٹ کراس کر گئی تھی ۔

 ” تم جو بھی ہو ، بہت غلطی کی ہے یہاں میرے ساتھ کار میں بیٹھ کر، میں اس بلیک میلر کو ….“

”بکو مت ،ورنہ میں تمہیں زندہ چھوڑنے کا ارادہ بدل بھی سکتی ہوں۔“ پھر لمحہ بھر رُک کر کہا،” سورتی ۔! کار رُکتے ہی نکل جانا، روکو کار۔“ اس نے آخری تحکمانہ لہجے میں کہے ۔اس کے ساتھ ہی اس نے پسٹل کا دباﺅ بڑھا دیا۔

” کار روکو۔“ ارمان خان بولاتبھی ڈرائیور نے کار روک دی ۔ سورتی اترنے لگی تو نینا نے لڑکی کو کالر سے پکڑتے ہوئے کہا

”پسٹل سورتی کو دے دو ، ورنہ پہلے تم مرو گی ۔“

لڑکی نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پسٹل سیدھا ہی کیا تھا کہ نینا نے اس کی کلائی پر ہاتھ مار دیا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ لڑکی گولی چلانے لگی ہے۔کار میں فائر گونج گیا ، گولی چھت میں سے نکل گئی تھی ۔ پسٹل ان دونوں کے پاﺅں میںآ گر۔تب تک سورتی کار سے باہر نکل چکی تھی ۔ وہ رُکی نہیں بلکہ سڑک پر اترتے ہی بھاگ گئی ۔ لڑکی نے نینا کی گردن دونوں ہاتھو ں سے پکڑنا چاہی تبھی ارمان خان لرزتے ہوئے لہجے میںبولا

”رُک جاﺅ ۔“

لڑکی وہیں تھم گئی ۔نینا بولی

”ڈرائیور چلو۔“

ڈرائیور نے کار بڑھا دی ۔ اسی لمحے شعیب نے انہیں کراس کیا۔ اس کے ساتھ ہی دو مزید کاروں نے انہی اوور ٹیک کر دیا۔نینا پوری صورت حال کو سمجھ رہی تھی ، اسے سب سے زیادہ خطرہ ساتھ تھا۔ اسے یہ بھی احساس تھا کہ شعیب اس کی بات فون پر سن رہا ہے ۔ اسی لئے اس نے کہا

” ارمان خان ۔! اس لڑکی نے اگر اب ذرا سی بھی حرکت کی تو میں اسے مار دوں گی ۔“

” میں تمہاری …. “ لڑکی نے انتہائی نفرت سے کہا تو نینا کو امید تھی کہ وہ ردعمل ضرور دے گی۔ وہ پہلے سے تیار تھی ، اس لئے پوری قوت سے کہنی اس کے منہ پر دے ماری ۔وہ پیچھے ہٹی تو ارمان خان چیخ پڑا۔

” پسٹل چل سکتا ہے بے غیرت ۔“

لیکن وہ لڑکی نہیںرُکی اس نے پھر نینا پر وار کیا تو نینا نے ہاتھ گھمایااور اس کی گردن پکڑ لی ۔ لڑکی اپنی گردن چھڑانے لگی

” کار روکو ۔“ارمان خان چیخا۔

کار رُکی ہی تھی کہ سامنے جاتی ہوئی شعیب کی کار بھی رک گئی ۔یہ بالکل اس کی کار کے پاس رکے ۔ وہ سڑک بھلے اتنی مصروف نہیںتھی لیکن تھوڑی بہت ٹریفک تو گذر ہی رہی تھی ۔ وہاں اگر ہنگامہ ہوتا تو وہاں پر رش لگنے میں دیر نہیں لگنا تھی ۔ جو نینا سوچ رہی تھی ، اس کے لئے یہ جگہ مناسب نہیںتھی ۔ اچانک ہی سامنے کی تینوں کاروں سے لوگ نکلے ، تب تک پیچھے بھی دو کاریں آ ن رکیں۔

” کار سے مت نکلنا ، پیچھے ارمان کے بندے ہیں۔“ ایک دم سے نینا نے زور سے کہا،پھر اسی کے ساتھ ہی ڈرائیور سے بولی ،”باہر نکلو جلدی ۔“ پہلے تو وہ ہچکچایا ، پھر جب سامنے سے دو بندے آ نے لگے تو وہ ہاتھ اوپر کئے کار سے باہر نکل گیا ۔ اس نے اپنے ہاتھ سر پر رکھ لئے ہوئے تھے ۔لیکن دونوں طرف سے آمنے سامنے لوگوں نے ہتھیار تان لئے تھے۔ نینا نے ایک ہاتھ سے لڑکی کی گردن پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے ارمان خان کی گردن پر پسٹل رکھا ہوا تھا۔ صورت حال گھمبیر ہوگئی تھی ۔ نینا اس معاملے کو طول نہیںدینا چاہتی تھی ۔ اس نے چشم زدن میں پسٹل والا ہاتھ گھمایا اور پوری قوت سے لڑکی کے سر پر دے مارا۔ وہ پہلے ہی گردن کے دباﺅ سے بے ہوش ہو نے کو تھی ، وہیںلڑھک گئی ۔اس دوران ارمان نے گھوم کر پلٹنا چاہا ،مگر نینا نے اس کے سر پر پسٹل رکھ دیا۔

” جلدی سے آﺅ ، ڈرائیور کی جگہ ۔“ نینا نے تیزی سے کہا ہی تھا کہ سامنے سے شعیب اُتر کر تیزی سے ان کی کار کی جانب بڑھا ۔ اس نے عقل مندی یہ کی کہ وہ بالکل سیدھا نہیںبڑھا تھا ، بلکہ کافی حد تک جھک کر کار کی آ ڑلے کر آیا تھا ۔ وہ آ تے ہی کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیاتو نینا بولی،” اب نکل ، اسے لے کر باقی آ جائیں گے ۔“

” دیکھو، مجھے نقصان پہنچا کر تمہیںکچھ نہیںملے گا ۔ سورتی کو غلط فہمی ہو گئی تھی ۔اس لیئے میں….“

” بکو مت، خاموش رہو ۔“ نینا نے اسے جھڑک دیا۔ اس دوران شعیب کار کو گئیر لگا چکا تھا۔ اس نے سامنے کی کاروں سے بچ کر نکلا اور ایک دم سے رفتار بڑھا دی ۔

تقریباً بیس پچیس منٹ تک کار پوری رفتا ر سے چلتی رہی ۔ وہ شہر سے ہٹ کر مضافات میں پہنچ گئے تھے۔ وہاں اُجاڑ زمین تھی ، جو کاشتکاری کے قابل نہیںتھی ۔ایک طرح سے چٹیل میدان تھا۔شعیب نے وہاں جا کر کار روکی ہی تھی کہ نینا کار سے باہر نکل آ ئی ۔اس نے ارمان کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ وہ خوف زدہ ہو گیا تھا۔کار میںبیٹھا رہنا چاہ رہا تھا۔

” دیکھو ، غلطی ہو گئی ، جو سورتی کہے گی ، وہی ہوگا۔“

”باہر نکل ۔“ نینا نے تحکمانہ لہجے میںکہا۔ اتنے میں وہاں ارد گرد پانچ کاریں آ ن رکیں ،۔ ان میں دو ارمان خان کے ساتھ کی تھیں اور تین شعیب کے ساتھ تھیں۔ وہ سبھی اپنی اپنی کاروں سے باہر نکل آئے تھے ۔ اتنے میں شعیب بھی کار سے باہر نکل آیا۔ وہ ارمان خان کے بالکل پیچھے کھڑا تھا ۔ ارمان خان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ جو کہہ رہی ہے، وہ کر دے گی ۔ پھر بھی اس نے آ خری کوشش کرتے ہوئے باہر نکل کر کہا

” جب میںنے مان لیا کہ میں اب سورتی ….“

” ایک شرط پر ۔“ اس نے حتمی لہجے میںکہا

” شرط، کیسی شرط؟“ اس نے پوچھا تو وہ بولی

”وہ بندے کہاں ہیں ، جنہوں زوہیب کو قتل کیا ہے ؟“ نینا نے یہ کہتے ہوئے پسٹل اس کی کنپٹی پر رکھ دیا ۔ اگرچہ ارمان خان کو گمان نہیںتھا کہ معاملہ کیا ہو سکتا ہے ۔ لیکن پھر بھی اس نے حوصلہ رکھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کے سامنے کون ہو سکتی ہے ۔ وہ چند لمحے رُکا اور پھر سرسراتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا

”گولی؟“

” ہاں ، گولی ، بتاﺅ کون ہیںوہ ؟“

” میرے ساتھ ہیں۔“اس نے ہلکے سے کہا

” قربانی دو گے ان کی ؟“

” اگر مجھے چھوڑ دو ۔“ اس نے ایک دم سے ڈیل کر لی۔

” ٹھیک ہے زندہ چھوڑ دوں گی اور اگر، تم نے غلط بندوں کو مروا دیا تو سمجھو پھر نہیںبخشوں گی ۔“ نینا نے سرد لہجے میںکہا

” ڈن۔“ وہ تیزی سے مگر ہلکے سے لہجے میںبولا،پھر اس نے اپنے لوگوں کی طرف منہ کر کے اونچی آواز میںکہا،” ہتھیار پھینک کر پاس آ جاﺅ ۔“ان سب نے پہلے تو ایک دوسرے کی جانب دیکھا، پھر اپنے اپنے ہتھیار کار میںپھینک کر آ گے آ گئے ۔ وہ آٹھ تھے ۔ارمان خان نے ان کی طرف دیکھا اور کہا،” تم میں سے زوہیب کو مارنے کے لئے کون کون گئے تھے ؟“

” خیر تو ہے خان جی ؟“ ان میں سے ایک نے پوچھا

” خیر ہی ہے ۔بولو۔“ اس نے کہا

”ہم چار گئے تھے ۔ “ اسی نے جواب دیا تو ارمان خان نے باقی کو پیچھے ہٹ جانے کا اشارہ کیا۔ وہ پیچھے ہٹ گئے تو نینا نے ان سے پوچھا

”پیچھے والے چاروں اپنے سروں پر ہاتھ رکھ لو ، اور یہ سمجھ لو ، جس نے بھی ہاتھ نیچے کئے ، مارا جائے گا۔“ یہ کہہ کر اس نے آ گے آ نے والوں سے پوچھا،” کیسے کیا تھا قتل ؟“

” بڑے خان کا حکم تھا۔ ہم ایک ہفتے سے اس کی ریکی کر رہے تھے۔ اس دن وہ ہمارے ہتھے چڑھ گیا۔ ہم نے سیدھے سیدھے اُسے مار دیا۔“ اسی نے بڑے اکھڑ لہجے میں جواب دیا ، جس سے ایک بار تو نینا کے دماغ کو چڑھی ،لیکن خود پر قابو پا کر ایک قدم آ گے بڑھی اور اس کے پاس جا کر پوچھا

” مطلب تمہاری کوئی ذاتی دشمنی نہیںتھی ؟“

” نہیں، میری ذاتی نہیں، لیکن جو بھی خان صاحب کی طرف آ نکھ اٹھا کر دیکھے گا، وہ زندہ نہیں رہے گا۔“ اس نے نینا کی طرف دیکھ کر کہا تو نینا نے بڑے اطمینان سے پسٹل نکالا اور اس کے ماتھے پر رکھ کر بولی

” اور جس نے بھی گولی کے بارے میںغلط سوچا ، وہ اسی سوچ کو ختم کرنے بھجے میںاُتر جاتی ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے ٹرائیگر دبا دیا۔ اس کی بھیانک چیخ سنائی دی اور اُلٹ کر پیچھے جا گرا ، پھر زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ اسی لمحے ایک بندہ نینا پر حملہ کرنے کے لئے آ گے بڑھا ہی تھا کہ شعیب نے اس پر فائرنگ کر دی۔وہ وہیں گر گیا۔

” تم زوہیب کو مارو گے اور تمہیںکوئی پوچھنے والا نہیں۔“ شعیب نے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا تو نینا بولی

” سن لو۔! یہ جو تمہارا خان ہے اس نے اپنی زندگی بچانے کے لئے میرے ساتھ تم لوگوں کی موت کا سودا کیاہے ، میں اپنا وعدہ پورا کروں گی ، چھوڑ دوں گی زندہ اسے ، لیکن تم لوگوں کی زندگی کیا ہے، ان لوگوں کے پاس کتوں کی طرحہو ، دوسروں پر بھونکتے ہو ، لوگوں کو کاٹتے ہو ۔ تم لوگ ان کے لئے لوگوں کو قتل کرتے ہو اور یہ تم لوگوں کو اپنے لئے مار دیتے ہیں۔ مار دو ان کو ۔“ نینا نے کہا تو شعیب نے آ گے بڑھ کر دونوں کھڑے لوگوں پر گولیاں برسا دیں، وہ چیختے ہوئے زمین پر گر کر تڑپنے لگے ۔ شعیب نے ان چاروں پر پورا میگزین خالی کر دیا ۔ باقی چاروں کے چہروں پر کیا تھا ، ملجگا اندھیرا ہو نے کی وجہ سے وہ دیکھ نہ سکی ۔ وہ پوری طرح محتاط تھی ، ان کے پاس اسلحہ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ ان کی حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے تھی ۔وہ رسک نہیںلینا چاہتی تھی ۔ اس کے سامنے بندے تڑپ رہے تھے۔ تبھی نینا نے شعیب سے کہا

” انہیں باندھ دو۔“

اس کے ساتھ ہی اس کے بندے ان لوگوں کے پاس گئے اور انہی کے کپڑوں سے انہیںباندھنے لگے ۔ اس میں چار پانچ منٹ سے زیادہ نہیں لگے ۔ نینا زیادہ دیر نہیںلگانا چاہتی تھی ۔ اسے معلوم تھا کہ فون ٹریکنک کے علاوہ کار ٹریکنک سے ان کی لو کیشن کا فوری پتہ لگ سکتا ہے ۔ انہیں وہاں پر آ ئے ہوئے دس منٹ سے زیادہ ہوگئے تھے۔ جب وہ انہیں باندھ چکے تو نینا نے دو قدم پر کارکے اندر پڑی لڑکی کو اٹھایا اور لا کر باہر پھینک دیا۔ وہ اب تک بے ہوش تھی ۔ تبھی اچانک نینا نے اپنے پیچھے کھڑے ارمان خان سے کہا

” جاﺅ ، چلے جاﺅ۔“

پہلے تو اس نے حیرت سے نینا کی طرف دیکھا، پھر جانے کے لئے قدم بڑھائے ہی تھے کہ شعیب نے کہا

” یہ ایسے کیسے جا سکتا ہے ، زوہیب کو مارا ہے انہوں نے ، اس کے باپ کوپتہ چلنا چاہئے ، جب اس کا لا ش کو وہ تلاش کرے گا۔ “

” میں اس سے وعدہ کر چکی ہوں ۔جاﺅ چلے جاﺅ۔“ نینا نے کہا تو ارمان پیچھے مڑا، گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر گیا، ایسے ہی وقت میں وہ لڑکی کسی چھلاوے کی طرح اٹھی اور سیدھی نینا پر آ گری ۔ وہ اسے لیتے ہوئے زمین پر گر گئی تھی ۔نینا کے ہاتھ میںپکڑا ہوا پسٹل چھوٹ گیا۔وہ دو ہاتھ کے فاصلے پر تھا۔ تبھی اس لڑکی نے وہ پسٹل اٹھا لیااور چشم زدن میں نینا کی گردن پر رکھتے ہوئے نفرت سے بولی

” زندہ نہیںچھوڑوں گی تمہیں، میرے فرحان خان کو مارا ہے تم نے ، بوٹی بوٹی کر کے ماروں گی۔“

” دیکھو۔! میں نے ارمان خان کو چھوڑ دیا ہے ، تم لوگ جا سکتے ہو ، میں نے وعدہ پورا….“ نینا نے کہنا چاہا تو وہ چیختے ہوئے نفرت سے گالی دیتے ہوئے بولی

” تیرے وعدے کی….“‘

اس نے ایک غلیظ گالیدیتے ہوئے پوری قوت سے ٹھوکر اس کی پسلی میں دے ماری ۔تبھی ارمان خان آ گے بڑھا اور اس نے آ کر نینا کو مخاطب کر کے کہا

” اب بتاﺅ ، افسوس ہو رہا ہے مجھے چھوڑنے پر ؟“

” چھوڑ دو اسے ؟“ شعیب نے کہا

” نہیں، میں اسے ساتھ لے کر جاﺅں گی ، وہیں ڈیرے پر ، وہاں اس کے ساتھ جو میںکروں گی نا وہ یہ یاد رکھے گی ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے پھر پوری قوت سے نینا کی پسلی میںٹھو کر ماری ۔ نینا یوں ہو گئی جیسے تکلیف بر داشت نہ کر پارہی ہو۔

” چلو پھر ڈالو اسے کار میں ۔“ ارمان خان نے کہا

”تم ایسا نہیں کر سکتے ۔“ شعیب آ گے بڑھا تو ارمان خان نے اپنے بندوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا

” انہیں پکڑو ، اور اگر کوئی حرکت کریں توبے شک مار دو ، اب گولی کا مرنا تومیرے ہاتھوں ہی لکھا ہے ۔“

 ” نہیں، اسے میں ماروں گی۔“ اس لڑکی نے انتہائی نفرت سے کہا اور پوری قوت سے پسٹل اس کے سر پر مارنے کے لئے ہاتھ بلند کیا ہی تھا کہ نینا ایک طرف ہٹ گئی ۔ لڑکی کا ہاتھ پوری قوت سے نیچے آ یا تو نینا نے نیچے سے گھونسا اس کے منہ پر دے مارا۔ وہ الٹ کر پر جا گری ۔نینا نے چھلانگ لگائی اور اس پر جا پڑی ، پھر اس کو بالوں سے پکڑ کر بولی

” پسٹل میں کوئی بلٹ نہیںہے۔ میں نے آخری گولی بھی ٹائر پر مار دی تھی ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے قہقہ لگایا اور بولی ،” کیسا ہے انسان،جلد باز ی میں اپنی ہی موت کو دعوت دینے والا ،“ یہ کہہ کر اس نے شعیب کی طرف دیکھا اور اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔وہ قریب آ یا تو ا س نے اس کا پسٹل پکڑا، اور لڑکی کی ٹانگوں میں دے مارا، وہ وہیں پڑی تڑپنے لگی ۔ پھر اس نے پسٹل شعیب کو تھما دیا اور ارمان خان کی جانب بڑھی ۔ بالکل قریب جا کر اس نے پوری قوت سے پاﺅں کی ٹھوکر اس کی ٹانگوں کے درمیان ماری ، وہ چیختا ہوا دہرا ہو گیاتونینا نے اپنا گھٹنا اس کے منہ پر مارا۔ وہ الٹ کر گرا۔ پھر شعیب کی طرف منہ کر کے بولی

” وقت نہیںہے، اسے مارنا نہیں ، لیکن بے کار کر دو۔“

شعیب تیزی سے آ گے بڑھا اور ارمان خان کے سامنے جا پہنچا۔ اس کے چہرے پرانتہا کا غصہ تھا۔

” زوہیب کو مارا ، تیرے باپ نے بندے بھیج کر ، لیکن میں اسے ماروں گا، خود اپنے ہاتھوں سے ، جانتے ہو کیسے ماروں گا؟“ شعیب کا لہجہ خوف ناک ہو گیا تھا

” دیکھو، میں نے کچھ نہیںکیا، میں ایسی سیاست کا قائل ہی نہیںہوں، میںنے بابا کو بھی سمجھایا ہے ۔“ ارمان خان تیزی سے کہنا لگا مگر شعیب سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا

” پتہ ہے گولی کیسے چلتی ہے ، ایسے چلتی ہے ۔“ یہ کہتے ہی اس نے ارمان خان کے دونوں گھٹنوں پر فائر کر دئیے ۔ اس کی چیخیں فضا میں بلند ہو گئیں۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گر گیا۔ اس کی آ نکھوں میں خوف سمٹ آ یا تھا۔وہ چیختے ہوئے معافی مانگ رہا تھا۔ تبھی نینا نے کہا

” بس ، یہ اب زندگی بھر اپنے قدموں پر نہیںچل سکتا، اس کا باپ اسے دیکھ دیکھ کر مرے گا ، یہ بہت بڑی سزا ہے ، چل نکل ، اب وقت نہیں۔“

شعیب واپس جانے کے لئے مڑا، پھر نجانے اس کے دل میںخیال وہ پلٹا، اس نے پھر سے گولیاں اس کی ٹانگوں پر دے ماریں۔ نینا کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکی تھی ۔ وہ سب ان کی چیخوں کو سننے کے لئے وہاں نہیںرُکے ، بلکہ تیزی سے اپنی اپنی کاروں میںبیٹھے اور جس طرف سے آ ئے تھے اس کی مخالف سمت میں چل پڑے ۔ اگلے دو کراس تک وہ سب الگ الگ رہے پھر آگے جا کربکھر گئے۔رات کا دوسرا پہر شروع ہونے کو تھا ، وہ گھر کے قریب آن پہنچے ۔

” میں گھرجاتاہوں ۔“ شعیب نے کہا

” میں بھی ….“ نینا نے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولا

” نہیں تم ادھر ہی رُکو ۔“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ پھر تیزی سے بولا،” چل ٹھیک ہے ، میںتھوڑی دیر رکتا ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے کھلے ہو ئے گیٹ کی طرف دیکھا ، جو باغ علی نے کھول دیا تھا۔ وہ کار سمیت اندر چلے گئے ۔ پورچ میں رکتے ہی شعیب اتر کر داخلی دروازہ تیزی سے پار کر گیا ۔ نینا کا ر پورچ ہی میںچھوڑ کر اندر چل دی ۔

 جس وقت نینا پوری طرح فریش ہو کر باتھ روم سے نکلی ۔ تب تک شعیب بھی کسی دوسرے کمرے سے نہا کر اور کپڑے تبدیل کر کے آ گیا ہوا تھا۔ وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اپنے بال تولیئے سے خشک کرتی ہوئی اس کے پاس آ گئی ۔ وہ سوچوں میں گم تھا۔ وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی

” کیا بات ہے ، کیاسوچ رہے ہو؟“

” تم نے مجھے ارمان کو مارنے نہیںدیا۔“ اس نے انتہائی شکوہ بھرے لہجے میں کہا تو نینا کو ایک دم سے اس پر پیار آ گیا۔ وہ اس کے ساتھ لگ کر بیٹھتے ہوئے بولی

” لیکن ۔! یہ زیادہ بڑی سزا ہے ۔ عبرت کا نشان بنا دیا ہے ، ساری زندگی وہیل چیئر پر دیکھے گا اپنے لاڈلے کو ، سوچو ، کس قدر اذیت میں رہے گا وہ مٹھن خان۔“

” اس کا مطلب ہے تم مٹھن خان کو مارنا نہیںچاہتی ہو ۔ کتنا وقت دینا چاہتی ہو اُسے ، کتنی دیر تک دکھانا چاہتی ہو بیٹے کو ؟۔“ وہ غصے میں بولا تو نینا مسکراتے ہوئے بولی

” میرا بس چلے تو میں ابھی اور اسی وقت مٹھن خان کو گولی ماردوں، لیکن۔! جب تک وہ نہیںملتا، تب تک ، وہ جتنا چاہئے جی لے ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ خوش جیئے؟“

” بہت اچھا موقعہ ملا تھا۔اب شاید نہ ملے ۔“ شعیب نے انتہائی حسرت سے کہا تو نینا اس کی طرف چند لمحے دیکھتی رہی پھر ایک عزم سے بولی

” چل پھر اٹھ ، اسے کسی نہ کسی ہسپتال میں ہی لے گئے ہوں گے ، وہیں مارتے ہیں، مارو گے تم ہی اُسے ۔“

” اُو چل ، اب وقت گذر گیا، اب نہیں۔“ شعیب نے اکتائے ہوئے انداز میںکہا تو نینا اس کے دائیںجانب سے اس کے اوپر گرتے ہوئے بولی

”فکر نہ کر ، تیرا شکوہ دور کر دوں گی ۔“

شعیب نے مزاحمت نہیں بلکہ ایک طرف گرتا چلا گیا۔ نینا اس کے اوپر جیسے لَد گئی ۔نیناکے بھیگے گیسو اس کے چہرے پر پھیل گئے ۔ وہ آ نکھیں بند کر کے پڑا رہا ۔ نینا ساکت سی ہو کر اس کا چہرہ دیکھنے لگی ۔ پھر اپنی پوروں سے اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے خوف زدہ لہجے میںبولی

” مجھے صرف تم سے ڈر لگتا ہے شعیب، تم کہیں مجھ سے بچھڑ نہ جانا ، ورنہ میں مر جاﺅں گی ۔“

” ایسی باتیں نہیںکرتے ۔“ شعیب نے کہا پھر اسے پیار سے ایک طرف کرتے ہوئے اٹھ گیا۔

” صرف تمہارا دکھ مجھ سے برداشت نہیںہوتا ۔“ وہ بولی

” چھوڑو سب ، آ ﺅ کھانا کھائیں ۔“ شعیب نے اٹھتے ہوئے کہا اور بیڈ پر بیٹھے ہی اپنے چپل تلاش کرنا لگا۔ نینا پیچھے کی طرف جھکی اور اس کے چپل اس کے پاﺅں کے پاس کر دئیے ۔ اس پر شعیب نے اس کی طرف دیکھا، پھر اسے اپنے بازﺅں کے حصار میں لے کر بیڈ پر گرا دیا۔ اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولا

” مت چاہو مجھے ، ورنہ میں اپنی راہ کھوٹی کر لوں گا۔“

” تیری چاہت ہی تو میری زندگی ہے ۔ تو ہی میرا سب کچھ ہے ، پیار سے بولو گے تو زندہ ہو جاﺅں گی ۔“ اس نے انتہائی جذباتی لہجے میںکہا تو شعیب مسکرا دیا۔ وہ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا ، پھر اسکے لبوں پر پیار کی مہر لگا دی ۔کچھ دیر تک انہیںہوش نہیںرہا کہ وہ کہاں پر ہیں۔

٭….٭….٭

سورج سارا جہان روشن کر دینے کے لئے بےتاب تھا۔نینا کب کی جاگ چکی تھی ۔رات دیر سے آنے کے باوجود اسے نیند کا بس جھپاکا سا آیا تھا۔ شعیب کھانا کھاتے ہی نکل گیا تھا ۔ اس نے کچھ دیر ورزش کی اور پھر نیچے لان میں چلی گئی ۔ وہاں سے پلٹ کر کچن میں آ ئی تو باغ علی ناشتہ بنا رہا تھا۔ اس نے بیڈ روم میں ناشتہ لانے کو کہا اور اوپر چلی گئی ۔ وہ اخبار لے کر بیٹھ گئی ۔رات والے واقعے کی کہیں کوئی خبر نہیںتھی ۔اس نے اٹھ کر اپنا سیل فون لیا اور سورتی کو کال کر دی ۔ بیل جاتے ہی اس نے کال رسیو کرتے ہوئے تشویش زدہ لہجے میں کہا

” خدا کا شکر ہے تم نے کال کی ، ورنہ میں توپاگل ہو رہی ہوں ، مجھے پتہ نہیں چل رہا ….“

” کس بات کا پتہ نہیںچل رہا ؟“ نینا نے پوچھا

” تمہارا ، اور کس کا ، میں توسوچ سوچ کر پاگل ہو گئی ہوں ، میںاب تک نہیںسو پائی ہوں۔ تم نے کمال کر ….“ سورتی نے کہنا چاہا تو نینا اس کی بات کاٹے ہوئے سکون سے بولی

” وہ میںنہیںتھی ، میرے بھیجے ہوئے لوگ تھے ۔“

” کیا؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” ہاں ، میرے لوگ تھے ۔“ اس نے یقین دلایا

”یار تم تو بڑے کام کی چیز ہو ۔تم چاہو تو ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔“ اس نے جوش بھرے لہجے میںکہا

” مثلاً کیا کر سکتے ہیں۔“ اس نے پوچھا

” میرے پاس کچھ لوگوں کے سیکرٹ ہیں ، جو منظر عام پر آ ئے تو غضب ہو جائے ۔مگر منظر عام پر لانے کا ہمیںکیا فائدہ ؟ میں اس لئے کچھ نہیں کر پارہی ہو کہ میرے پاس وہ طاقت نہیں ہے ، جو تمہارے پاس ہے ۔ اگر ہم مل جائیں….‘ ‘ وہ کہتے ہوئے رک گئی ۔

”فائدہ ، لیکن شاید تم نہیںجانتی ، میں روپے پیسے کا فائدہ نہیں دیکھتی ۔“ اس نے جان چھڑانے کے لئے کہا ،وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے استعمال کے لئے اسے ترغیب دے رہی ہے ۔

” دوسروں کا بھلا بھی ہو گا ، دولت بھی آتی کیا بری لگتی ہے؟“ اس نے پر جوش انداز میں کہا

” دوسروں کا بھلا ، وہ کیسے ؟“ نینا نے تجسس سے پوچھا

” یہی بہت ساری لڑکیاں ، بہت سارے بے غیرتوں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔انہیں بس سبق دینا ہے ۔“ سورتی نے نفرت بھرے لہجے میںکہا

” اچھا ، کرتے ہیں بات ، تم سو جاﺅ ، فریش ہو جاﺅ ، پھر بات کرتے ہیں۔“ نینا نے ایک دم سے جان چھڑا لینا چاہی ، وہ تو کچھ دوسرا پوچھنا چاہتی تھی ۔ تبھی سروتی بولی

” ٹھیک ہے ، میںبعد میں بات….“

” وہ ارمان خان کہاں ہے ؟ مٹھن خان کا فون آ یا؟“

” وہی تو، وہی بتانے لگی تھی ۔“ اس نے تیزی سے کہا ، پھر سانس لے کر بولی ،” فون آ یا تھا اس کا ، اس نے کوئی دھمکی نہیں دی ، کچھ نہیں کہا سوائے اس کے ، وہ تمہارا پتہ پوچھ رہا تھا، بہت بڑی رقم کی آ فر بھی کی اس نے ۔“

” پھر ؟“ نینا نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا

” پھر کیا، میں نے کہہ دیا کہ پتہ بھی ہوتا تو نہ بتاتی ۔اب تمہارے بارے ایساکچھ بناﺅں گی کہ یاد رکھو گے کیونکہ اب تم لوگوں نے اعتماد کھو دیا ہے ۔ میری جان لینے کی کوشش کی ؟ اتنے بڑے بدمعاش ہو ۔ میں جو کچھ بھی کہتی رہی ، اس نے توجہ نہیں دی ، بس تمہارے بارے میں پوچھتا رہا۔ اس نے کوئی دوسری بات ہی نہیںکی ۔ میںنے ایک لفظ بھی نہیں بتایا اسے ۔“ سورتی نے پر جوش لہجے میں کہا

” تو پھر اب تم بچ کر رہنا اس سے ، فورسز سے ، کہیںبھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ، اپنے گرد حفاظت کر لو ۔“ نینا نے سمجھایا

” ٹھیک ہے ۔“ اس نے ایک دم سے کہا تو نینا نے کال بند کر دی ۔ پھر اس نے فون ایک طرف رکھتے ہوئے سوچا ۔ وہ سمجھ گئی تھی اب مٹھن خان پوری جان لڑا دے گا۔

نینا یہ جاننا چاہتی تھی کہ ارمان خان کو کہاں رکھا گیا ہے ۔ اس نے کافی دیر تک کوشش کی لیکن اسے پتہ نہیں چلا۔اسے جس جگہ بھی رکھا گیا تھا، وہ انتہائی خفیہ تھی ۔یہ تو طے تھا کہ ایک لمبے عرصے کے لئے ارمان خان بذات خود کچھ بھی نہیںکر سکتا تھا۔ لیکن بیڈ پر پڑا، احکامات تو دے سکتا تھا۔اس کی سوچ یہی سے متھن خان کے بارے میں بہہ گئی ۔ وہ جو اتنا طاقتور تصور کیا جاتا تھا، اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود ابھی تک نہ تو وہ اُسے پکڑ پایا تھا ، بلکہ اس کا نقصان کہیں زیادہ ہو گیا تھا۔ وہ کیا سوچ رہا ہے؟ کس کا انتظار ہے اُسے؟ یا پھر صرف غبارے میں ہوا ہی بھری ہوئی تھی ؟ اس کے پاس طاقت نہیںہے؟ اگر ہے تو وہ اب تک کیا سوچ رہا ہے ؟وہ یہی سوچتی چلی جا رہی تھی کہ شعیب کا فون آ گیا۔

” کیاکر رہی ہو؟“ اس کا لہجہ تھوڑا بدلا ہوا تھا

” میں تیار ہو رہی ہوں ، وہ تجھے بتایا تھا نا میں نے فاخرہ درانی کے پاس جانا ہے ۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا  پھر اس کے لہجے کو سوچ کر بولی،” خیر تو ہے نا؟“

” خیر نہیں ہے، اسی وجہ سے ابھی فون کیا ہے؟“

”مٹھن خان نے بابا سائیں کو دھمکی دی ہے ۔ اگر گولی اور شعیب کو شام تک ان کے حوالے نہ کیا گیا تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔“ اس نے غصے اور نفرت ملے لہجے میںکہا

” یہ کیسے ….؟“ نینا کے منہ سے لاشعوری طور پر فقط اتنا ہی نکل سکا تو وہ بولا

”اس میں گھبرانے کی ضرورت نہیں، یہ ہونا ہی تھا۔اب دیکھنا،اس نے یہ جو کچھ بھی کہنے کی جرات کی ہے نا،آئندہ نہیںکرے گا۔“ اس نے نفرت سے کہاتو وہ تیزی سے بولی

” دیکھو تم فورا یہاں آ جاﺅ یا پھر مجھے اپنے پاس بلا لو ، دیکھ لیتے ہیں وہ کیا کرتا ہے ۔“

”کچھ نہیںکر سکتا وہ ، میںچاہتا ہوں کہ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہتا ہے ، کرے ۔“ وہ ہٹ دھرم لہجے میں بولا پھر چند لمحے رک کر کہا،” تم جاﺅ فاخرہ درانی کے پاس ، دیکھو کیا کہتی ہے ۔“

” اوکے ، لیکن ایک بار مل لو ۔“ اس نے لجالت سے کہا

” نہیں نا ، اس وقت میری ہر حرکت پر نگاہ ہو گی ، بابا بھی پریشان ہیں، میرا ان کے پاس ہو نا بہت ضروری ہے۔“ اس نے کہا تو نینا سکون سے بولی

” اوکے ۔“

یہ سنتے ہی شعیب نے فون کال بند کر دی ۔

٭….٭….٭

فاخرہ درانی کا بڑا سا بنگلہ پوش علاقے میںتھا۔نینا اس بنگلے کے سامنے ایک رکشہ میں پہنچی ۔ اس نے رکشے والے کو کرایہ دیا تو وہ چل دیا۔ نینا نے اپنی چادر سنبھالی اور گیٹ پر جا پہنچی ۔ اس سے پہلے کہ وہ کال بیل دیتی ، فوراً ہی چھوٹا گیٹ کھل گیا۔ اس میں سے ایک گن بردار نے جھانک کر پوچھا

” جی بولیں ، کیا بات ہے ۔“

” مجھے فاخرہ درانی صاحبہ سے ملنا ہے ۔“ اس نے عام سے انداز میںکہا تو گارڈ بولا

” آپ کا نام ، پہلے وقت لیا ہے؟“

” تم صرف میرا نام بتاﺅ ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا نام بتا دیا۔تو وہ گارڈ اُسے رکنے کا اشارہ کر کے وہیں کھڑا رہا۔ ممکن ہے دوسرا کوئی یہ پیغام فاخرہ درانی تک پہنچا رہا ہو۔ چند منٹ بعد اسی گارڈ نے راستہ دیتے ہوئے کہا

” جی آئیں۔“

وہ اندر گئی تو اس کے ساتھ ایک گارڈ چل پڑا۔سامنے پورچ میں ایک لڑکی نمودار ہوئی ۔ اس نے جینز اور شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔ وہ انہی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ جیسے ہی پورچ میں پہنچی تو اسی لڑکی نے آ گے بڑھ کر کہا

” خوش آ مدید ، میڈم آپ کا انتظار کر رہی ہیں، آئیں۔“

” بس مجھے ذرا سی دیر ہو گئی ۔“ نینا نے کہا اور اس کے ساتھ چل دی ۔ ساتھ چلتے ہوئے اس نے کہا

” میرا نام زرینہ ہے ، نک نیم زری ہے ، میں میڈم کی پر سنل سیکریٹری ہوں۔“

” بہت اچھا نام ہے ۔“ نینا نے تکلف سے کہا ۔

زری اسے سیدھا سٹڈی روم ہی میں لے گئی ، جہاں ایک بھاری صوفے پر ایک پتلی سی ادھیڑ عمر خاتون بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس کے سر کے سارے بال کھچڑی تھے، جن میں سیاہ بال زیادہ تھے۔ اس کا چہرہ ٹین ایج لڑکیوں کی طرح فریش تھا۔ اس کا کشادہ ماتھا ، بڑی بڑی سیاہ چمک دارآ نکھیں، تیکھا ناک ، پتلے ہونٹ ، لمبی سی شفاف گردن،چوڑے شانے اورہلکا سا سینہ، یوں تھا جیسے دکھائی ہی نہ دینے والا ہو ۔ وہ تن کر بیٹھی ہوئی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔اس کے چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی تاثر نہیںتھا۔

” محترمہ فاخرہ دارنی ، اور یہ ….“ زری نے کہنا چاہا تو اس نے ہاتھ سے ہلکا سا اشارہ کیاتو وہ خاموش ہو گئی ۔پھر پاس ہی پڑی ایک کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا

” بیٹھو۔“نینا اس کرسی پر بیٹھ گئی تو اس نے زری سے مخاطب ہو کر کہا،” چائے لاﺅ ۔“

” جی اچھا۔“ زری نے مودب لہجے میںکہا اور واپس پلٹ گئی ۔ فاخرہ دارنی اس وقت تک نہیںبولی ،جب تک وہ سٹڈی روم سے باہر نہیں چلی گئی ۔

” کیسی ہو ؟“ فاخرہ دارانی نے پوچھا

” ٹھیک ہوں۔بتائیے ، مجھے ….“ نینا نے کہنا چاہا تو وہ اس کی سُنے بغیر دھیمے سے لہجے میںبولی

”صبح سے شہر میں اک نیا کہرام مچا ہوا ہے ۔ رات مٹھن خان کے بیٹے ارمان خان کو کسی نے شدید زخمی کر دیا۔اور ان کا شک صاحبزادہ پر جا رہا ہے کہ اس کے بیٹے شعیب اور کسی گولی نامی لڑکی نے یہ سب کیا؟“

” کہرام، شہر میں نہیں میڈم، مٹھن خان کے گھر میں ہوسکتا ہے ۔اور باقی رہی صاحبزادہ عبدالکریم کے بیٹے کی بات، اگر اس نے ایسا کیا ہے تو بدلہ لیا ہے ،کیا انہوں نے ان کے بیٹے زوہیب کو نہیںمارا چند دن پہلے ؟“ نینا نے کہا

” مجھے اُن سے غرض نہیں،میری دلچسپی اس میںہے کہ چند دن پہلے ہی تجھے گولی سمجھا جاتا رہا ہے ، پولیس نے باقاعدہ تفتیش کی ۔“ فاخرہ دارانی نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا تو نینا مسکراتے ہوئے بولی

” لیکن میںتو میں ہی رہی، گولی نہیں ملی ۔“

”ٹھیک ہے ،مجھے بھی نہیںمعلوم کہ گولی کون ہے؟“ یہ کہہ کر وہ ایک لمحہ کے لئے رکی پھر بولی،”اب میں تمہیں وجہ بتاتی ہوں ، جس کے لئے تمہیں یہاں بلایا گیا ہے ۔ “

” جی میں پوری توجہ سے سُن رہی ہوں۔“ نینا نے کہاتو وہ یوں سوچ میںپڑی گئی ، جیسے سو چیں مجتمع کر رہی ہو ۔پھر پر سکون سے لہجے میں بولی

” میں نے اس علاقے سے الیکشن لڑنا ہے ۔ جیتنا یاہارنا میرا مقصد نہیں ہے ۔میرا مقصد کچھ اور ہے ۔وہ میں اس وقت بتا دوں گی ، جب ضرورت پڑی ۔خیر ۔! اسی الیکشن کی تیاری کے لئے میں چند لڑکیوں کو اپنی مدد کے لئے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں۔ ان میں سے ایک تم بھی ہو ۔ کیا میرے پاس رہنا پسند کرو گی ؟“

”میں یہاں کیوں آئی ہوں؟“ نینا نے پوچھا

” ہوں ، بی بی صاحب میرا بہت خیال رکھتی ہیں۔ ٹھیک ہے ، آج سے تم یہی رہو ۔بہت سارے کام ہیں۔“

” لیکن مجھے کبھی کبھی باہر جانا ہوتا ہے ، کئی ضروری کام ہو تے ہیں،اور میں….“

” کسی سے بھی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ممکن ہو تو بتا دینا، ورنہ کوئی روکنے والا نہیںہوگا ، جو دل چاہے کرو ۔“فاخرہ درانی نے کسی تاثر کے بغیر کہا تو نینا بولی

” ٹھیک ہے ۔جو کرنا ہوگا ، وہ آپ مجھے بتا دیں۔“

” جو کرنا ہوگا ، وہ تجھے خود ہی معلوم ہو جائے گا۔ بس یہاں رہنا، میں جہاں جاﺅں میرے ساتھ رہنا، مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شہر کا ماحول کیا ہے ۔ کہاں سانپ ہے اور کہاں بچھو ہے۔تم اچھی طرح سمجھتی ہو اور….“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی ، شاید ان کے درمیان مزید بات چلتی اتنے میں زری واپس آ گئی ۔ اس نے آتے ہی کہا

” چائے آ رہی ہے ۔“

تبھی فاخرہ درانی نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا

”تمہارا کام میرے ساتھ ہے جب میں یہاں سے نکلوں تو اسے دیکھنا ، یہاں جو لوگ ہیں، انہیں دیکھتے رہنا۔تم کسی کو جواب دہ نہیں ہو ۔“

نینا سمجھ گئی کہ زری سے بہت کچھ چھپانا ہوگا۔ اس کے اور فاخرہ درانی کے درمیان جو بھی بات ہوئی ، اصل بات وہ ہے ، باقی سب دکھاوا کرنا ہے۔اصل بات کیا ہے ؟ فاخرہ درانی اب بھی چھپا گئی تھی ۔ نینا کو یقین تھا کہ اب مزید بات نہیں ہوگی ۔ زری نے چائے بنائی تو فاخرہ درانی اٹھ گئی ۔وہ خاموشی سے چائے پیتی رہی ۔

” آئیے میں آپ کو کمرہ دکھا دوں۔“ زری نے اٹھتے ہوئے کہا جب اس نے خالی پیالی واپس رکھی ۔ وہ کچھ پوچھے بنا اس کے ساتھ چل دی ۔ لاﺅنج کے ساتھ ہی ایک کمرہ تھا ، جو باہر کی جانب بھی کھلتا تھا۔ زری اسے وہاں لے گئی ۔سامنے لان تھا۔ اس کمرہ میںہر طرح کی سہولیات تھیں۔ باہر والے دروازے میں سے اس نے جائزہ لیا۔ پھر پلٹ کر زری کو دیکھ کر مسکرا دی ۔ بیڈ سے ذرا فاصلے پر پڑے صوفوں میں سے ایک پر بیٹھتے ہوئے زری نے پوچھا

” میں تمہیں یہاں کے بارے میں بریف کر دوں؟“

” بولو۔“ نینا نے کہا

” یہاں میڈم اکیلی ہی رہتی ہیں، میرا مطلب ان کے شوہر درانی صاحب نہیںہوتے ، وہ اکثر باہر رہتے ہیں، اور جب آ تے ہیں تو یہ سب اپنے آ بائی گاﺅں چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ہر طرح کے ملازم ہیں، ان میں بیس سے زیادہ سیکورٹی گارڈز ہیں۔شام تک میں ان سب سے آپ کا تعارف کرادوں گی ۔“

” اوکے ۔شکریہ ۔“ نینا نے اختصار سے کہا۔ وہ چاہ رہی تھی کہ یہ زری کسی طرح اٹھ کر یہاں سے چل جائے تاکہ وہ شعیب کو فون کر کے صورت حال کے بارے میں جان سکے ۔

”آپ کے لئے ایک ملازمہ مخصوص کر دی جائے گی ، جو آپ کے کام کرے گی ، مزید یہ بیل دے دیا کریں،یہاں سے کچن بھی نزدیک ہی ہے ۔“ زری نے کہا تو پھر وہ بولی

” شکریہ ۔“

زری اس کی سرد مہری سے سمجھ گئی تھی کہ وہ مزید بات نہیں کرنا چاہ رہی اس لئے دوبارہ شام کو ملنے کا کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔ تبھی نینا نے شعیب کو کال ملا دی ۔ تمہیدی باتوں کے بعد اس نے بتایا

” درمیان میںکچھ لوگ پڑ گئے ہیں۔یوں سمجھ لو کہ مٹھن خان کی مخالف قوتیں ایک طرف اور ان کی حمایت والی ان کی طرف ہو گئی ہیں۔ پولیس نے اوپر تک الرٹ کر دیا ہے ۔ علاقے کا ڈی ایس پی ابھی اٹھ کر گیا ہے ۔“

” کوئی بندو بست…. “ نینا نے پوچھنا چاہا تووہ بولا

” پورا بندو بست ہے ۔فکر نہ کرو۔“

” میں آ رہی ہو ں ، اب تم مجھے مت روکنا۔“ نینا نے کہا

” ابھی ضرورت نہیں ہے ۔“اس نے روکا

”تو پھر کب ہو گی ، اور جب ضرورت ہو گی تب ہی بلاﺅں گے ، اس وقت بلا پاﺅ گے ؟“ اس نے ایک دم سے غصے میںکہا

” تم تو وہ فاخرہ درانی کے پاس نہیںہو ۔“ شعیب بولا

” ادھر ہی ہوں۔ لیکن تمہارا معاملہ مختلف ہے ، میں نہیں رک سکتی ۔“ اس نے تیزی سے کہا

” اوکے ، آ جاﺅ ، پھر کوئی پلان کرتے ہیں۔“آخر کار شعیب نے اسے اپنے پاس بلا ہی لیا۔ وہ اٹھی اور باہر جانے کو بے تاب ہو گئی۔ وہ لاﺅنج میں آئی تو سامنے ہی زری بیٹھی ہوئی تھی ۔ اسے دیکھ کر نینا نے کہا

” میں ذرا جا رہی ہوں۔ میڈم صاحبہ کو بتا دینا۔ جلدی آ جاﺅں گی ۔“

اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی، وہ لاﺅنج سے نکلتی چلی گئی ۔ زری اس کے پیچھے لپکی ۔

” سنیں آ پ کو ڈرائیور چھوڑ آ تا ہے ۔“

” نہیں میں چلی جاﺅںگی ۔“ اس نے کہا داخلی دروازہ پار گئی ۔تو زری نے اونچی آواز میںکہا

” آپ کے لئے کار دے گئی ہے ، آپ خود لے جائیں۔“

یہ سن کر وہ رُک گئی ۔ تھوڑ ی دیر بعد کار آ گئی ۔وہ اس میں بیٹھی اور گیٹ سے نکلتی چلی گئی ۔

٭….٭….٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے