سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

تین زوجاﺅں سے گو دوچار ہے

چار کرنے کو مگر تیار ہے

زن مریدی کی اُسے ڈگری ملی

اپنی بیگم کا جو تابعدار ہے

رو رہا ہے راگ میں بے بی مرا

فن بتاتا ہے کہ یہ فن کار ہے

مانتا ہے بات بیگم کی سدا

اس کے آگ بولنا بے کار ہے

توڑتا ہے دل بھی ظالم اس طرح

جس طرح کہ یہ ثوابِ کار ہے

ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے سچ

ہر طرف ہی جھوٹ کا بیو پار ہے

اس کا رشتہ پھر بھلا کیسے نہ ہو

جاب ہے کوٹھی ہے لمبی کار ہے

فیس بک پر آ ن ہے وہ رات دن

کون کہتا ہے نرا  بے کار ہے

خان صاحب نے بتایا قوم کو

اپنا میزائل یہی نسوار ہے

ہم اسے کھوتا کرولا کیوں کہیں

گیس اور پٹرول کے بن کار ہے

کہہ رہا ہے ایک دولہا نیند میں

ہاں میرا انکار ہے، انکار ہے

ہم لگا دیتے ہیں قلب و جان کیوں

عشق تو مندے کا کاروبار ہے

بات اچھی ہے تری بینا مگر

 زر نہ ہو تو زندگی آزار ہے

روبینہ شاہین بینا

پیر سالی میں غمِ زلفِ گرہ گیر بھی تھا

کسی خاتون کو یوں شکوہء تقدیر بھی تھا

زن مریدی میری فطرت کا تقاضہ ہی نہ تھی

امنِ خانہ کے لئے نسخہء اکسیر بھی تھا

اپنے نسخوں کی ہی ڈوزوں پہ دھرے رکھتے ہیں

میں پئے چارہ گراں صورتِ کشمیر بھی تھا

ایک ہی صف میں کھڑے تھے یہاں محمود و ایاز

زن مریدی میں مریدوں کی طرح پیر بھی تھا

کیپ رکھی تھی جو سر پر تو وجہ تھی یہ بھی

دستِ زوجہ میں شبِ رفتہ کو کفگیر بھی تھا

دل کا اسکین کیا ہے تو کھلا ہے ہم پر

غمِ لیلٰی بھی تھا مجنوں کو غمِ ہیر بھی تھا

آج تک بات نہ مانی تھی کسی کی جس نے

بات بے بات پہ وہ مائلِ تقریر بھی تھا

کوئی بہرہ ہو تو ممکن ہے کہ بے بہرہ ہو

ورنہ شاعر کو جو ٹکرا وہی نخچیر بھی تھا

آپ نے بھانڈ ہی سمجھا تو ظفر کیا کرتا

اِن کا اندازِ سخن یوں تو ہمہ گیر بھی تھا

نویدظفرکیانی

مہنگا بہت برات کا کھانا پڑا ہمیں

کھاتے ہی ہسپتال کو جانا پڑا ہمیں

بس یہ ہوا گٹر کو کھلا دیکھ نہ سکے

صابن سے باربار نہانا پڑا ہمیں

یوں گیارہ سال میں ہوئی کرکٹ کی پوری ٹیم

ہرسال جب کہ ایک "نیانا” پڑا ہمیں

بجلی جب اپنے وقت سے پہلے ہی آگئی

"بستی کا ہرچراغ بجھانا پڑا ہمیں”

افسر کا حکم تھا سو ہمیں ماننا ہی تھا

گاڑی کو اس کی دھکا لگانا پڑا ہمیں

زوجہ جب ان کو چھوڑ کے میکے چلی گئی

بچوں کو پھر پکا کے کھلانا پڑا ہمیں

بے وزن شاعروں نے کیا خوب مضطرب

بزمِ سخن میں خود کو گھلانا پڑا ہمیں

آئی نہ عمر بھر ہمیں سنجیدہ شاعری

سو! بھانڈ پن سے کام چلانا پڑا ہمیں

چند سال میں ہی مالِ وراثت تمام شد

پھریوں ہوا کہ خود سے کمانا پڑا ہمیں

شاپر نہ مل سکا ہمیں خیرات کے لیے

لینے کو اپنا ہاتھ بڑھانا پڑا ہمیں

آئے تھے یار لوگ سبھی ڈفلیوں کے ساتھ

محفل میں اپنا راگ بجانا پڑا ہمیں

کتوں کو خود سے دور جو رکھنا تھا سو نوید

شب بھر دیارِ یار میں گانا پڑا ہمیں

نوید صدیقی

مونڈھ دوں بیوی کے سر کو یہ خیال آتا ہے

کھانا کھاتے ہوئے کھانے میں جو بال آتا ہے

بعد شادی کے الگ ہو گئے دونوں بیٹے

نہ جمال آتا ہے ملنے نہ کمال آتا ہے

نوجواں آج کے ہیں اُردو گھرانے کے مگر

دال لکھنا اُنہیں آتا ہے نہ ذال آتا ہے

جھریاں چہرے کی میک اپ سے نہیں چھپ سکتیں

عمر ڈھلتی ہے تو چہرے پہ زوال آتا ہے

ہٹا کٹا ہے سمجھ میں نہیں آتا پھر بھی

ٹالتا کیوں ہے جو شادی کا سوال آتا ہے

شیر بازار کے دلال اچھلتے ہیں بہت

شیر بازار میں جس وقت اچھال آتا ہے

پول معشوق کا بیوی پہ نہ کھل جائے کہیں

”پھول چُنتا ہوں تو کانٹوں کا خیال آتا ہے“

لوٹتے لوٹتے جاتے ہیں زنانے کی طرف

جب بھی مرشد کو میاں وعظ میں حال آتا ہے

دیکھ کر یوں نہ ہنسو میرے ٹفن کو شاہد

بڑی مشکل سے میاں رزقِ حلال آتا ہے

شاہد عدیلی

ہے پانچویں بیوی جسے ڈر کر نہیں بدلا

اس نے بھی، چھٹا (میں ہوں، جو) شوہر نہیں بدلا

ڈھوتا ہوں اُسی آٹے کی بوری کو ابھی تک

اس نے بھی پرانا (میں) کنستر نہیں بدلا

بیوی سے مری کہتی ہے وہ پہلی ستمگر

سن ساٹھ کا تم نے کلنڈر نہیں بدلا

آفر تھی کہ لے جاؤ نیا دے کے پرانا

شوہر وہ بدل لائی ، کبوتر نہیں بدلا

چمٹا کبھی بیلن کبھی انڈا کبھی ڈنڈا

کیو ں ساز کبھی اس نے ترا سر نہیں بدلا

ساز دہلوی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آم ۔۔۔سعادت حسن منٹو

آم سعادت حسن منٹو خزانے کے تمام کلرک جانتے تھے کہ منشی کریم بخش کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے